Tuesday, March 10, 2015
لوک ورثہ، اسلام آباد
مارچ آٹھ، دو ہزار پندرہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو اکتیس
لوک ورثہ، اسلام
آباد
جنوبی ایشیا سے باہر کی پڑھی لکھی دنیا پاکستان
کا تعلق ہندوستان سے جوڑتی ہے۔ دنیا بھر کے وہ لوگ جو تاریخ سے واقف ہیں یہ بات
اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے مضبوط ثقافتی و لسانی رشتہ ہندوستان سے
ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا ہندوستان سے ویسا ہی گہرا ثقافتی ناتہ ہے جیسا
تاءیوان یا ہانگ کانگ کا چین سے ہے۔ مگر پاکستان میں رہنے والے بہت سے لوگ اس رشتے
سے انکاری ہیں۔ یہ لوگ نظریاتی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ وہ لوگ جو سرکاری 'نظریہ
پاکستان' کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں پاکستان کا تعلق وہاں سے مغرب یا شمال میں
موجود خطوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس نظریاتی کنفیوژن کا سب سے بڑا عملی
مظاہرہ لوک ورثہ نماءش [لوک ورثہ میوزیم] اسلام آباد میں نظر آتا ہے۔
وہ جمعرات کا روز تھا۔ اسلام آباد
میں صبح سے بارش ہورہی تھی۔ دس بج چکے تھے مگر لوک ورثہ نماءش دیے گئے وقت کے
مطابق نہیں کھلی تھی۔ میں ہلکی بارش میں بھیگتا ہوا زور زور سے لوہے کا بڑا گیٹ
پیٹتا رہا۔ میں نے گیٹ کی جھری سے اندر جھانکا تو باوردی اہلکار ادھر ادھر جاتے
نظر آءے۔ کچھ دیر بعد ایک اہلکار نے گیٹ کھولا اور میں اندر داخل ہوگیا۔ مگر نماءش
میں پہلی مایوسی اس وقت ہوءی جب ٹکٹ خریدتے وقت مجھے بتایا گیا کہ نمائش گاہ میں
داخل ہونے سے پہلے مجھے اپنے کیمرے باہر چھوڑنے ہوں گے۔ کیوں؟ اس لیے کیونکہ اندر
تصویر اتارنا یا ویڈیو بنانا منع ہے؟ مگر آخر تصویر اتارنا یا ویڈیو بنانا کیوں
منع ہے؟ اندر ایسے کونسے نیوکلیاءی راز موجود ہیں جن کی تصاویر بنانے سے ملکی
سالمیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب وہاں موجود کسی اہلکار کے پاس
نہیں تھا۔ مجھے بہلانے کے لیے ایک بوسیدہ کاغذ دکھایا گیا جس پہ کسی توپ بہادر کا
یہ حکم درج تھا کہ نماءش کے اندر عکس بندی ممنوع ہے۔ میں نے نامرادی کا کڑوا گھونٹ
پی کر اپنے کیمرے استقبالیہ پہ جمع کراءے اور نماءش گاہ میں داخل ہوگیا۔
لوک ورثہ نماءش بہت بڑے رقبے پہ
پھیلی ہوءی ہے۔ اس نماءش میں دستکاری، دھات کے کام، آلات موسیقی سمیت پاکستان کی
جغرافیائی حدود میں رہنے والے انسانی گروہوں کی روز مرہ زندگیوں میں استعمال ہونے
والی بہت سی اشیا کے نمونے ہیں اور یقینا نماءش میں موجود چیزوں کو دیکھ کر بہت
کچھ سیکھا جاسکتا ہے مگر نماءش میں بہت سی اشیا کی غیرموجودگی سے بھی بہت کچھ
سمجھا جاسکتا ہے۔ اس نماءش کو دیکھ کر ذرا سی دیر میں یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ
پاکستان اپنے ہندو ماضی پہ شرمندہ ہے اور کسی طرح اسے چھپانا چاہتا ہے۔
اس نماءش کی سب سے بڑی قباحت واضح
تاریخی شعور کی کمی ہے۔ اتنی بڑی نماءش میں پاکستان میں موجود ہندو، عیساءی، اور
دوسری اقلیتوں کا کوءی ذکر نہیں ہے۔ اگر محمد بن قاسم کا سندھ پہ حملے کا ذکر ہے
تو ساتھ تصویر میں ایک گھڑسوار عرب کو ایک ایسے پیادہ شخص پہ وار کرتا دکھایا گیا
ہے جس کے سر کے پیچھے سے ایک پتلی چٹیا نیچے لٹک رہی ہے۔
پاکستان کی زیادہ تر آبادی دریاءوں
کے آس پاس میدانی علاقوں میں رہتی ہے مگر نماءش میں پاکستان کے شمال میں پہاڑی
علاقے کے لوگوں اور ان کے انداز زندگی کی، کل آبادی میں ان کے تناسب سے کہیں زیادہ
نماءندگی ہے۔ نماءش میں وسطی ایشیا کی نوآزاد ریاستوں کے بھی اسٹال ہیں۔ اور تو اور
اس نماءش میں لشکر سفالین [ٹیراکوٹا فوج، چین] کا بھی ایک سپاہی کھڑا ہے۔ اگر کسی
ملک کا ذکر نہیں ہے تو وہ ہندوستان ہے۔ قصہ مختصر اس نماءش میں یہ ثابت کرنے کے
لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ہے کہ پاکستان کا تعلق ایران اور عرب، اور
افغانستان اور وسطی ایشیا سے ہے۔ شاید اسی جھوٹ کو چھپانے کے لیے نماءش میں عکس
بندی کی ممانعت ہے۔
لوک ورثہ نمائش میں کس تاریخی
حقیقت کا اعتراف نظر آنا چاہیے تھا؟
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اس بات کے بہت پختہ ساءنسی ثبوت ملتے ہیں کہ انسان
اپنی حالیہ شکل میں براعظم افریقہ میں مکمل ہوا۔ دنیا بھر میں پھیلے بھانت بھانت
کے لوگ افریقہ ہی سے نکل کر مختلف خطوں میں پہنچے ہیں۔ انسان کی قدیم نقل مکانی
کھانے پینے کی تلاش میں تھی کہ ہم لاکھوں سال پہلے شکار کر کے اور درختوں سے پھل
جمع کر کے اپنی خوراک کا انتظام کرتے تھے۔ قریبا بیس ہزار سال پہلے جب انسان نے
زراعت ایجاد کی تو اس نے بستیاں بناءیں مگر کسی قدر ٹہر جانے کے باوجود انسان کا
سفر جاری رہا۔ لوگ تجارت کے لیے اور کشورکشاءی کے لیے ادھر ادھر جاتے رہے۔ جنوبی
ایشیا میں بھی انسان افریقہ سے پہنچا اور اس علاقے میں لوگ لاکھوں سال سے رہ رہے
ہیں۔ اس علاقے میں دوسری بڑی نقل مکانی وسطی ایشیا سے قریبا پانچ ہزار سال پہلے
ہوءی۔ جنوبی ایشیا میں اسلام کی آمد ایک بہت نیا معاملہ ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے
اس علاقے کے زیادہ تر لوگ ہندو ہوا کرتے تھے۔ ایران اور وسطی ایشیا میں اسلام کا
تسلط قاءم ہونے کے بعد جنوبی ایشیا میں جو حملہ آور شمال کی طرف سے آءے وہ مسلمان
تھے۔ یقینا ان حملہ آوروں کے ساتھ آنے
والے سپاہی بھی خارجی تھے مگر اس علاقے میں بسنے کے بعد ان بدیسیوں کا خون بھی
یہاں موجود خون کے ساتھ مل گیا۔ آج جنوبی ایشیا میں بسنے والے مسلمانوں میں مشرف
بہ اسلام ہونے والے ہندو [بہت بڑی اکثریت] سے لے کر مخلوط [دوسری بڑی اکثریت] اور نسبتا خالص النسل عرب اور
ایرانی [نہ ہونے کے برابر چھوٹی اقلیت] تک ہرقسم کا خون رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ پاکستان جس
قدر جلد اپنی اس حقیقت کو سمجھ کر اسے قبول کرے گا اس قدر جلد ایک منفی نظریاتی
دلدل سے باہر آ سکے گا۔
Labels: Arya invasion of South Asia, conversion, Groups of people living in Pakistan, Islamabad, Lok Virsa Museum, mixing of blood, Muslim warriors, Pakistan Museum of Ethnology, Traveling human beings
Tuesday, January 06, 2015
جبران ناصر کی عظمت کو سلام
جنوری چار،
دو ہزار پندرہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو باءیس
جبران ناصر کی عظمت کو سلام
جبران ناصر وہ
نوجوان وکیل ہے جو اسلام آباد میں رہنے والے طالبان کے حواریوں کے خلاف مظاہروں کی
قیادت کررہا ہے۔ کچھ دن پہلے فیس بک پہ ایک ایسی ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں جبران
ناصر پاکستانیوں سے مخاطب ہے اور بتا رہا ہے کہ ہر مذہب، ہر فرقے کے لوگوں کے ساتھ
مل کر امن سے رہنا ہی اصل انسانیت ہے۔ جبران ناصر جس دانش مندی سے یہ باتیں کررہا ہے کاش کہ ایسی دانشمندی ہماری
سیاسی قیادت کو بھی آجاءے۔ اس ویڈیو میں سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں جبران بتا رہے
کہ اس کے مخالفین اس پہ قادیانی یا شیعہ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ جبران کا کہنا
ہے کہ اس کے گھر والوں کا مشورہ تھا کہ
جبران کسی سنی عالم دین کے ساتھ بیٹھ کر ایک ویڈیو میں ان جھوٹے الزامات کی تردید
کرے۔ اس کے آگے جبران نے جو بات کہی وہ سونے میں تولنے کے قابل ہے۔ اس نے کہا کہ
وہ تو سنی ہے اور اپنے سنی ہونے کی سند پیش کرسکتا ہے مگر کیا کسی کا قادیانی یا
شیعہ یا غیرمسلم ہونا اتنا بڑا جرم ہے کہ پاکستان میں اس شخص کی جان کے لالے پڑ
جاءیں؟ جبران پوچھتا ہے کہ پاکستان کے رہنے والے وہ قادیانی کہاں جاءیں جو اپنے
قادیانی ہونے پہ فخر کرتے ہیں، اور پاکستان کے عیساءی اور ہندو کیا کریں؟
یہ بات واضح ہے کہ
پاکستانی ریاست کو جلد از جلد مذہبی معاملات سے باہر نکالنا ہوگا۔ مذہب اور
اعتقادات لوگوں کا ذاتی معاملہ ہیں؛ ریاست کو ان معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوءی
ضرورت نہیں ہے۔ کون کافر ہے اور کون نہیں، اس کا فیصلہ روز قیامت ہوگا۔ اگر یہ بات
مولویوں کو سمجھ نہیں آرہی تو نہ آءے۔ لگانے دو ان نادانوں کو ایک دوسرے پہ کفر کے
فتوے، مگر ریاست کو اس گندگی سے دور رکھو۔
درج ذیل اقتباس 'آگ،
ہوا، مٹی، پانی' نامی کتاب سے لیا گیا ہے اور زیربحث موضوع سے متعلق ہے۔
دارالعمل
آنتی گا سے گواتے جاتے ہوئے ایک بار پھر وہ عمارت نظر آئی جس پہ عربی میں کلمہ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے ارادہ کیا کہ اُس روز گواتے سے واپس آتے ہوئے اس جگہ رُ ک کر ضرور معلومات کریں گے ۔ بس نے ہمیں مرکز شہر میں اتار دیا۔ ہمارے پاس گواتے کا نقشہ موجود تھا۔ ڈاکخانہ دو تین میل سے زیادہ دور نہ تھا۔ ہم پیدل اُس طرف چل دیے۔مرکز شہر کے فٹ پاتھوں پر ٹھیلے لگے ہوئے تھے ۔ اُن ٹھیلوں نے لوگوں کے چلنے کی جگہ گھیر لی تھی۔ ہم ایک ایسے علاقے سے گزرے جہاں کھڑکیوں اور دروازوں پر لوہے کی موٹی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ وہ کاروبار یقینا اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتے تھے۔
مرکزی ڈاکخانے کی عمارت بہت بڑی اور پُر شکوہ تھی۔ مگر اتنی بڑی عمارت کے اندر ہمارے نام ایک بھی خط نہیں تھا۔ ہم وہاں سے مایوس باہر نکلے اور شہر کو فتح کرنے کی نیت سے ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔ جب ایک جیسی سڑکوں اورایک جیسی مفلوک الحالی سے دل بھر گیا تو واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ بس میں بہت زیادہ رش تھا۔ میں مستقل کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ مجھے آنتی گوا کے راستے میں پڑنے والی کلمے والی عمارت کی تلاش تھی۔ جیسے ہی وہ عمارت نظر آئی میں نے “روکو، روکو” کا شور مچا دیا۔ گواتے سے آتنی گوا جانے والی بس بیچ راستے میں کہیں نہیں رُکتی تھی۔ جو مسافر گواتے سے چڑھتے وہ آنتی گوا جا کر ہی اُترتے تھے۔ میرے روکو، روکو کے شور پر کچھ دیر تو خوب افراتفری رہی۔ کچھ مسافر میرے ساتھ مل گئے تھے اور بس کو وہاں رُکوانا چاہتے تھے، کچھ دوسرے حیران تھے کہ آخر بس کو یہاں بیچ میں رُکوانے کی کیا تُک ہے۔ تھوڑا سا آگے جانے کے بعد آخر کار بس رُک ہی گئی۔ ہم مسافروں کو چیرتے پھاڑتے بس سے اترے اور سڑک کے ساتھ پیچھے کی طرف چل پڑے۔
ہمارا مطلوبہ احاطہ ایک بہت بڑی اراضی کا حصار کیے ہوئے تھے۔ دیوار پر کلمے کے نیچے ہسپانوی میں "دارالعمل اسلامی مرکز” لکھا ہوا تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی چوکیدار کا گھر تھا۔ گھنٹی بجانے پر چوکیدار کے گھر سے ایک مقامی ہندی لڑکا نکل کر آیا۔ اُس نے بوسیدہ نیکر اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ لڑکے نے ہم سے پوچھا کہ ہم کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ ہم اسلامی مرکز کو اندر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ہماری بات سُن کر واپس گھر میں گھُس گیا۔ ہمیں گھر کے اندر سے اُس لڑکے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لڑکے نے فون پر کسی سے بات کی اور انہیں ہمارے بارے میں بتایا۔ اندر سے اجازت ملنے پر ہمارے لیے گیٹ کھول دیا گیا۔ اسلامی مرکز پہاڑ پر واقع تھا۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں تصور ہے کہ خدا کہیں اوپر کی طرف رہتا ہے۔ چنانچہ مذہبی عمارتیں اور مینار اپنی اونچائی سے آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید اس طرح کا خیال رکھنے والوں کو ہوائی جہاز میں عبادت کرنے کا خاص لطف آتا ہو۔
ہم بڑی بڑی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر عمارت تک پہنچے۔ اسلامی مرکز کی عمارت بہت عمدہ اور جدید انداز کی تھی۔ عمارت کے باہر ایک لڑکا ہمارے انتظار میں کھڑا تھا۔ وہ شکل سے دیسی (برصغیر کا) نظرا ٓتا تھا۔ ہم نے اُس سے اردو میں بات کی۔ وہ اٹک اٹک کر اردو بول رہا تھا۔ ہمیں ایک انتظار گاہ میں لے جایا گیا۔ اُس لڑکے نے بتایا کہ اُس کے والد مرکز کے منتظم اعلی تھے۔
“آپ یہاں انتظار کریں۔ وہ کچھ ہی دیر میں آ جائیں گے،” ہمیں انگریزی میں بتایا گیا۔
اُس انتظار گاہ کی دیواروں پر جو تصویریں لگی تھیں اُن کو دیکھ کر ہمیں فورا اندازہ ہو گیا کہ وہ مرکز قادیانی فرقے کے لوگوں کا تھا۔ پھر وہاں دو آدمی آ گئے۔ انہوں نے گول ٹوپیاں لگا رکھی تھیں۔ میں نے اُن دونوں سے ہاتھ ملایا۔ اگر دنیا کے کسی اور خطے میں میری ملاقات اُن دونوں سے ہوئی ہوتی تو میں اُن کی شکلیں اور حلیہ دیکھ کر شرط لگاتا کہ اُن کا تعلق ملیشیا یا انڈونیشیا سے ہوگا۔ مگر ہم اُس وقت گواتے مالا میں تھے۔ وہ دونوں وہیں کے رہنے والے تھے اور انہوں نے حال میں عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔
میرے ذہن میں خدا کا جو تصور ہے وہ خوبصورتی کا ایک پرتو ہے۔ میرے نزدیک خدا سے تعلق کی بات بہت حسین ہے اور جو لوگ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے آپ کو اپنی طرف بلائیں اُن کی ادائیں، اُن کا ماحول بہت دل کش اور مسحور کُن ہونا چاہیے۔ میں خدا اور خوبصورتی کے اس تصور کے ساتھ جب اُن نام نہاد مذہبی رہنمائوں کی طرف دیکھتا ہوں جو اپنے آپ کو اسلام کا چیمپئین خیال کرتے ہیں اور مستقل دوسروں پر لعن طعن کرتے رہتے ہیں، تو میں اُن رہنمائوں کے اطراف کی بد صورتی سے سخت نالاں ہوتا ہوں۔ مجھے شوق ہے کہ میں مختلف اعتقادات رکھنے والے لوگوں کی عبادت گاہوں کا مشاہدہ کروں۔ میں نے مندروں، گردواروں، کلیسائوں، اورخانقاہوں کا دورہ کیا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ جتنی افراتفری میں نے مسجدوں میں دیکھی ہے اُتنی کسی اور مذہب کی عبادت گاہ میں نہیں دیکھی۔ اس مستقل افراتفری اور بد تمیزی کے باوجود میں نے کسی منبر سے وہ خطبہ نہیں سُنا جس میں کوئی ملا لوگوں کو تمیز کے طریقے سکھا رہا ہو، لوگوں کو بتا رہا ہو کہ وہ قطار بنا کر کیسے مسجد کے اندر داخل ہوں اور وہاں سے باہر نکلیں۔ اسلام کے یہ نام نہاد چیمپئین شاید اپنی ذاتی طہارت کا تو خیال کرتے ہوں مگر اپنی ذات سے باہر ان کو کسی قسم کی صفائی ستھرائی، کسی قسم کی خوبصورتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسی طرح خدا کے رسول کی بتائی ہوئی گہری اور فلسفیانہ باتوں سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا سارا زورنمود و نمائش پر ہے۔ ان کے ماتھے پر کالا گٹا ان کی پارسائی کی مہر ہے۔ اُس مہر سے آگے ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ اپنے حساب سے عقل کی جو باتیں لوگوں کو بتا رہے ہیں اُن باتوں کا موجودہ دور سے اور اس کے مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں نے کسی مذہبی رہنما کو لوگوں کو یہ بتاتے نہیں سُنا کہ وہ لوگ اپنے آس پاس کے ماحول کو، اپنے محلے کو، اپنے دفتر کو، اپنے اسکول کو صاف سُتھرا کیسے رکھیں اور کوڑے کو کس طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ میں دنیا بھر میں بہت سی مساجد میں گیا ہوں، میں نے پاکستان میں بہت سے مدارس کا بھی دورہ کیا ہے، مگر میں نے کوئی مسجدکوئی مدرسہ ایسا نہیں دیکھا جہاں پھولوں کی خوبصورت کیاریاں ہوں، جہاں پودے اور درخت اس ترتیب سے لگائے گئے ہوں کہ انہیں دیکھ کر آپ کا دل خوش ہو جائے۔بات بات پر کفر کا فتوی جاری کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تضادات کی طرف نظر کریں اور دوسروں کو درست کرنے سے پہلے یہ اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔ وہاں بیٹھے ہوئے یہ باتیں میرے ذہن میں اس لیے آئیں کیونکہ اُس قادیانی مرکز کا انتظام کسی بھی مسجد کے انتطام سے ہزار درجے بہتر تھا۔
آنتی گا سے گواتے جاتے ہوئے ایک بار پھر وہ عمارت نظر آئی جس پہ عربی میں کلمہ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے ارادہ کیا کہ اُس روز گواتے سے واپس آتے ہوئے اس جگہ رُ ک کر ضرور معلومات کریں گے ۔ بس نے ہمیں مرکز شہر میں اتار دیا۔ ہمارے پاس گواتے کا نقشہ موجود تھا۔ ڈاکخانہ دو تین میل سے زیادہ دور نہ تھا۔ ہم پیدل اُس طرف چل دیے۔مرکز شہر کے فٹ پاتھوں پر ٹھیلے لگے ہوئے تھے ۔ اُن ٹھیلوں نے لوگوں کے چلنے کی جگہ گھیر لی تھی۔ ہم ایک ایسے علاقے سے گزرے جہاں کھڑکیوں اور دروازوں پر لوہے کی موٹی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ وہ کاروبار یقینا اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتے تھے۔
مرکزی ڈاکخانے کی عمارت بہت بڑی اور پُر شکوہ تھی۔ مگر اتنی بڑی عمارت کے اندر ہمارے نام ایک بھی خط نہیں تھا۔ ہم وہاں سے مایوس باہر نکلے اور شہر کو فتح کرنے کی نیت سے ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔ جب ایک جیسی سڑکوں اورایک جیسی مفلوک الحالی سے دل بھر گیا تو واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ بس میں بہت زیادہ رش تھا۔ میں مستقل کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ مجھے آنتی گوا کے راستے میں پڑنے والی کلمے والی عمارت کی تلاش تھی۔ جیسے ہی وہ عمارت نظر آئی میں نے “روکو، روکو” کا شور مچا دیا۔ گواتے سے آتنی گوا جانے والی بس بیچ راستے میں کہیں نہیں رُکتی تھی۔ جو مسافر گواتے سے چڑھتے وہ آنتی گوا جا کر ہی اُترتے تھے۔ میرے روکو، روکو کے شور پر کچھ دیر تو خوب افراتفری رہی۔ کچھ مسافر میرے ساتھ مل گئے تھے اور بس کو وہاں رُکوانا چاہتے تھے، کچھ دوسرے حیران تھے کہ آخر بس کو یہاں بیچ میں رُکوانے کی کیا تُک ہے۔ تھوڑا سا آگے جانے کے بعد آخر کار بس رُک ہی گئی۔ ہم مسافروں کو چیرتے پھاڑتے بس سے اترے اور سڑک کے ساتھ پیچھے کی طرف چل پڑے۔
ہمارا مطلوبہ احاطہ ایک بہت بڑی اراضی کا حصار کیے ہوئے تھے۔ دیوار پر کلمے کے نیچے ہسپانوی میں "دارالعمل اسلامی مرکز” لکھا ہوا تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی چوکیدار کا گھر تھا۔ گھنٹی بجانے پر چوکیدار کے گھر سے ایک مقامی ہندی لڑکا نکل کر آیا۔ اُس نے بوسیدہ نیکر اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ لڑکے نے ہم سے پوچھا کہ ہم کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ ہم اسلامی مرکز کو اندر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ہماری بات سُن کر واپس گھر میں گھُس گیا۔ ہمیں گھر کے اندر سے اُس لڑکے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لڑکے نے فون پر کسی سے بات کی اور انہیں ہمارے بارے میں بتایا۔ اندر سے اجازت ملنے پر ہمارے لیے گیٹ کھول دیا گیا۔ اسلامی مرکز پہاڑ پر واقع تھا۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں تصور ہے کہ خدا کہیں اوپر کی طرف رہتا ہے۔ چنانچہ مذہبی عمارتیں اور مینار اپنی اونچائی سے آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید اس طرح کا خیال رکھنے والوں کو ہوائی جہاز میں عبادت کرنے کا خاص لطف آتا ہو۔
ہم بڑی بڑی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر عمارت تک پہنچے۔ اسلامی مرکز کی عمارت بہت عمدہ اور جدید انداز کی تھی۔ عمارت کے باہر ایک لڑکا ہمارے انتظار میں کھڑا تھا۔ وہ شکل سے دیسی (برصغیر کا) نظرا ٓتا تھا۔ ہم نے اُس سے اردو میں بات کی۔ وہ اٹک اٹک کر اردو بول رہا تھا۔ ہمیں ایک انتظار گاہ میں لے جایا گیا۔ اُس لڑکے نے بتایا کہ اُس کے والد مرکز کے منتظم اعلی تھے۔
“آپ یہاں انتظار کریں۔ وہ کچھ ہی دیر میں آ جائیں گے،” ہمیں انگریزی میں بتایا گیا۔
اُس انتظار گاہ کی دیواروں پر جو تصویریں لگی تھیں اُن کو دیکھ کر ہمیں فورا اندازہ ہو گیا کہ وہ مرکز قادیانی فرقے کے لوگوں کا تھا۔ پھر وہاں دو آدمی آ گئے۔ انہوں نے گول ٹوپیاں لگا رکھی تھیں۔ میں نے اُن دونوں سے ہاتھ ملایا۔ اگر دنیا کے کسی اور خطے میں میری ملاقات اُن دونوں سے ہوئی ہوتی تو میں اُن کی شکلیں اور حلیہ دیکھ کر شرط لگاتا کہ اُن کا تعلق ملیشیا یا انڈونیشیا سے ہوگا۔ مگر ہم اُس وقت گواتے مالا میں تھے۔ وہ دونوں وہیں کے رہنے والے تھے اور انہوں نے حال میں عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔
میرے ذہن میں خدا کا جو تصور ہے وہ خوبصورتی کا ایک پرتو ہے۔ میرے نزدیک خدا سے تعلق کی بات بہت حسین ہے اور جو لوگ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے آپ کو اپنی طرف بلائیں اُن کی ادائیں، اُن کا ماحول بہت دل کش اور مسحور کُن ہونا چاہیے۔ میں خدا اور خوبصورتی کے اس تصور کے ساتھ جب اُن نام نہاد مذہبی رہنمائوں کی طرف دیکھتا ہوں جو اپنے آپ کو اسلام کا چیمپئین خیال کرتے ہیں اور مستقل دوسروں پر لعن طعن کرتے رہتے ہیں، تو میں اُن رہنمائوں کے اطراف کی بد صورتی سے سخت نالاں ہوتا ہوں۔ مجھے شوق ہے کہ میں مختلف اعتقادات رکھنے والے لوگوں کی عبادت گاہوں کا مشاہدہ کروں۔ میں نے مندروں، گردواروں، کلیسائوں، اورخانقاہوں کا دورہ کیا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ جتنی افراتفری میں نے مسجدوں میں دیکھی ہے اُتنی کسی اور مذہب کی عبادت گاہ میں نہیں دیکھی۔ اس مستقل افراتفری اور بد تمیزی کے باوجود میں نے کسی منبر سے وہ خطبہ نہیں سُنا جس میں کوئی ملا لوگوں کو تمیز کے طریقے سکھا رہا ہو، لوگوں کو بتا رہا ہو کہ وہ قطار بنا کر کیسے مسجد کے اندر داخل ہوں اور وہاں سے باہر نکلیں۔ اسلام کے یہ نام نہاد چیمپئین شاید اپنی ذاتی طہارت کا تو خیال کرتے ہوں مگر اپنی ذات سے باہر ان کو کسی قسم کی صفائی ستھرائی، کسی قسم کی خوبصورتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسی طرح خدا کے رسول کی بتائی ہوئی گہری اور فلسفیانہ باتوں سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا سارا زورنمود و نمائش پر ہے۔ ان کے ماتھے پر کالا گٹا ان کی پارسائی کی مہر ہے۔ اُس مہر سے آگے ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ اپنے حساب سے عقل کی جو باتیں لوگوں کو بتا رہے ہیں اُن باتوں کا موجودہ دور سے اور اس کے مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں نے کسی مذہبی رہنما کو لوگوں کو یہ بتاتے نہیں سُنا کہ وہ لوگ اپنے آس پاس کے ماحول کو، اپنے محلے کو، اپنے دفتر کو، اپنے اسکول کو صاف سُتھرا کیسے رکھیں اور کوڑے کو کس طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ میں دنیا بھر میں بہت سی مساجد میں گیا ہوں، میں نے پاکستان میں بہت سے مدارس کا بھی دورہ کیا ہے، مگر میں نے کوئی مسجدکوئی مدرسہ ایسا نہیں دیکھا جہاں پھولوں کی خوبصورت کیاریاں ہوں، جہاں پودے اور درخت اس ترتیب سے لگائے گئے ہوں کہ انہیں دیکھ کر آپ کا دل خوش ہو جائے۔بات بات پر کفر کا فتوی جاری کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تضادات کی طرف نظر کریں اور دوسروں کو درست کرنے سے پہلے یہ اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔ وہاں بیٹھے ہوئے یہ باتیں میرے ذہن میں اس لیے آئیں کیونکہ اُس قادیانی مرکز کا انتظام کسی بھی مسجد کے انتطام سے ہزار درجے بہتر تھا۔
Labels: Aag Hawa Mattee Panee, Ahmadi, Dar Ul Aml Islamic Center, Guatemala, Islamabad, Lal Masjid, Mohammad Jibran Nasir, Pakistan, Qadiani, Taliban
Tuesday, December 30, 2014
پاکستان کی سمت کی جنگ؛ سماجی معاہدہ
دسمبر اٹھاءیس، دو ہزار چودہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو اکیس
پاکستان میں لوگوں کو
'اسلام' کی چھڑی کی مار ماری جاتی ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر کسی ایسے شخص کے خلاف
بات کی جو زور زور سے اسلام کا نام استعمال کررہا ہے تو اس شخص سے مخالفت کو اسلام
کی مخالفت سمجھا جاءے گا۔ لوگ مولویوں اور اسلام کے ٹھیکیداروں سے ڈر کر
رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کو اس وقت حیرت ہوءی جب پاکستان میں شاید پہلی بار کسی مسجد کے باہر مسجد کے مولوی کے خلاف
مظاہرہ ہوا۔ اس بات کا عین امکان ہے کہ بہت سے مولوی پشاور اسکول سمیت طالبان کے
تمام حملوں کے متعلق ایسے ہی خیالات رکھتے ہوں جیسے خیالات لال مسجد کے
ملاعبدالعزیز برقعہ پوش رکھتے ہیں مگر عبدالعزیز کی شامت یہ آءی کہ ٹی وی پہ نظر
آنے کے شوق میں انہوں نے دل کی بات ٹی وی پہ کہہ دی۔ پشاور اسکول حملے کے بعد لوگ
طالبان اور ان کے حمایتیوں سے سخت نالاں ہیں چنانچہ لوگوں کا غصہ عبدالعزیز پہ
نکلا اور ان کی مسجد کے باہر مظاہرہ شروع ہوگیا۔
یہ بات سب پہ واضح ہے کہ اس
وقت پاکستان کی سمت کی جنگ جاری ہے۔ جناح کی رحلت کے فورا بعد پاکستان کی سمت
بدلنا شروع ہوءی اور پاکستان بتدریج مولوی کے اسلام کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
پاکستان اس دلدل میں کتنا اندر ہے؟ کیا اس وقت بھی وہ ملک اس دلدل سے باہر آسکتا ہے؟
کیا یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کا مذہب، لوگوں کا ایمان لوگوں کا ذاتی
معاملہ ہواور ریاست ان معاملات میں اپنی ٹانگ نہ اڑاءے؟ تماشہ آپ بھی دیکھ رہےہیں
اور ہم بھی۔
ہم خیال لوگوں کی جو بستی
کراچی سے باہر بننے جارہی ہے اس کے لیے تعلیمی ویڈیو بنانے کا کام جاری ہے۔ ایک ویڈیو
معاشرے میں نظم وضبط پہ بن رہا ہے۔
کسی بھی شخص کے لیے جس نے
دنیا میں تھوڑا بہت بھی سفر کیا ہو یہ مشاہدہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ جو معاشرے جس
قدر زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ ہیں ان میں اتنا ہی زیادہ نظم و ضبط ہے۔
دراصل صنعتی انقلاب کے بعد
دنیا کی آبادی میں زوردار اضافہ ہوا ہے اور اتنے زیادہ لوگوں سے نمٹنے کے لیے نظم
و ضبط ضروری ہے۔
جب بہت سارے لوگ ایک ہی
جیسی ضرورت رکھتے ہوں
تو اس مجمعے سے کیسےنمٹا جاءے؟
سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ کسی طریقے کا اہتمام نہ کیا
جاءے۔ مجمع لگانے والے سب آپس میں نمٹیں۔ یہ بات واضح ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا۔ نتیجہ
وہی ہوگا جو غیر مہذب جگہوں پہ نظر آتا ہے یعنی چھینا جھپٹی اور دھینگا مشتی۔ جو
سب سے زیادہ طاقتور ہے وہ سب کو مار پیٹ کر ایک طرف کرے گا اور آگے بڑھ کر اپنا
حصہ لے لے گا۔ کمزور پیچھے رہ جاءیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ طریقہ غیر
مہذب کیوں ہے؟ یہ طریقہ غیرمہذب اس لیے ہے کیونکہ اس طریقے میں جنگل کا قانون
کارفرما ہے اور انسان ایک عرصہ پہلے جنگل کے قانون سے نکل آیا ہے۔ ہم ایسے معاشرے
میں رہتے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں جہاں ہمارے ساتھ انصاف ہو۔ انصاف۔ یہ ایک اچھا
لفظ ہے۔ تو پھر جب بہت سے لوگ ایک ضرورت کے تحت جمع ہوں تو ان سے نمٹنے کے سلسلے
میں انصاف کیسے ہو؟ انصاف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے
سلسلے میں کوءی ترتیب استعمال کی جاءے۔ مثلا پہلے آءو، پہلے پاءو کا نظام اچھا ہے
اور اس میں انصاف بھی نظر آتا ہے۔ اب یہ کیسے معلوم ہو کہ پہلے کون آیا تھا؟ اس کی
ترکیب یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے آگے آنے والا سب سے آگے ہو، اور اس کے بعد آنے والے اس
کے پیچھے نفس در نفس کھڑے ہوتے جاءیں۔ اسی عمل کو قطار بنانا کہتے ہیں۔ قطار بھی
مہذب اور غیر مہذب انداز سے بناءی جاسکتی ہے۔ ایک قطار ایسی بھی ہوسکتی ہے جس میں کچھ
لوگ قطار میں سیدھے کھڑے ہوں اور بہت سے اس قطار کے داءیں باءیں کھڑے ہوں۔ لوگوں
کا ایسا مجمع قطار کی شکل سے دور وہی جھمگٹے والی صورت ہے۔ اس میں یہی احتمال ہے
کہ یہ واضح نہ ہوگا کہ کون بعد میں آیا ہے اور کس کے پیچھے ہے اور لوگ داءیں باءیں
سے قطار توڑ کر اس مجمع میں شامل ہوتے جاءیں گے۔ مہذب قطار وہ ہے جو سیدھی ہو اور
بات باکل واضح ہو کہ کس ترتیب سے کس کی باری پہلے آءے گی اور اس کے بعد کس کی۔ اس
مہذب قطار میں لوگ بھی ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پہ کھڑے ہوتے ہیں، اپنے آگے والے سے
بالکل چپک کر نہیں۔ اگر جگہ تنگ ہو اور قطار کو سیدھی لکیر میں بہت آگے تک نہ
بڑھایا جاسکے تو قطار کو تہہ کردیا جاتا ہے اور لوگ تہہ در تہہ قطار میں آگے کی
طرف بڑھتے رہتے ہیں۔ قطار کی ایک بہتر مہذب شکل وہ ہوتی ہے جس میں بوڑھے، نادار،
اور دوسرے کمزور افراد کا خیال کیا جاءے اور ان کو قطار میں اپنی باری سے سوا آگے
آنے کا موقع دیا جاءے۔
[انڈونیشیا سے سنگاپور جانے والا اءیر ایشیا کا ایک جہاز اس وقت غاءب ہے۔ یہ تصویر اءیر ایشیا کی ایک پرواز کی ہے جس سے ہنوءی سے بینکاک کا سفر کیا گیا تھا۔ حال میں کوالالمپور سے جکارتا اور پھر بالی سے کوالالمپور کا سفر بھی اءیر ایشیا سے کیا گیا مگر ان پروازوں کی کوءی تصویر میرے پاس نہیں ہے۔]
Pakistan, Islam, Maulana Abdul Aziz, Red Mosque, Lal Masjid, Islamabad, Protests, Separation between faith and state, Taliban, Air Asia QZ8501, Surabaya, Singapore, Hanoi, Bangkok, Malaysian Airlines, Malaysia, Elmustee, Discipline in dealing with crowds, crowd control, Elmustee Orientation Videos,
Labels: Air Asia, Islam, Islamabad, Lal Masjid, Maulana Abdul Aziz, Pakistan, Protests, Red Mosque, Separation between faith and state, Taliban

