Tuesday, May 19, 2015
جبران ناصر کس کا ایجنٹ ہے؟
مئی سترہ، دو ہزار پندرہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو اکتالیس
جبران
ناصر کس کا ایجنٹ ہے؟
اسلام آباد کی لال مسجد کے باہر مظاہرے کے بعد جبران ناصر راتوں رات شہرت کی
بلندیوں پہ پہنچ گیا۔ دراصل مسجد کے باہر مظاہرہ کر کے جبران ناصر نے وہ کام کیا
تھا جو بہت سے لوگ کرنا چاہتے تھے مگر اپنی کم ہمتی کی وجہ سے کر نہ پائے تھے۔ لوگ
شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے تھے، مذہب کے ٹھیکیداروں سے بغاوت کرنا
چاہتے تھے، طالبان کے ہمدردوں کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر خواہش اور عمل
میں وہی فرق ہوتا ہے جو ایک حسرت بھری زندگی اور ایک عمل سے بھرپور مطمئن زندگی
میں ہوتا ہے۔ جبران ناصر نے مسجد کے باہر مظاہرے کی ابتدا کی تو بہت سے لوگ اس کے
پیچھے چل پڑے۔ اور آج جبران ناصر کا نام زبان عام پہ ہے۔
پچھلے کئی ہفتوں سے جبران ناصر امریکہ میں ہیں۔ وہ امریکہ کی مختلف جامعات میں
جا کر شدت پسندی کے خلاف گفتگو کررہے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے
مسائل پہ بات کرنا دراصل پاکستان کا نام خراب کرنے کے مترادف ہے وہ جبران ناصر سے
خوش نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ آخر جبران ناصر کیا چاہتا ہے؟ جبران ناصر کا
خفیہ ایجنڈا کیا ہے؟ جبران ناصر کی پشت پناہی کونسی طاقتیں کر رہی ہیں؟ جبران ناصر
کس کا ایجنٹ ہے؟ ہر چیز میں سازش تلاش کرنے والے یہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ
سب کچھ کیسے ہورہا ہے کہ جبران ناصر امریکہ کے ایک شہر سے دوسرے شہر جارہا ہے اور
ہر جگہ اس کو سننے والے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ضرور کوئی بڑی
طاقت ہے جو جبران ناصر کے اس تیز گام دورے کا پورا انتظام کررہی ہے۔ لیکن اگر آپ
جبران ناصر سے ملیں اور اس سے اس دورے کی تفصیلات حاصل کریں تو آپ تعجب کریں گے
کہ کس طرح جبران ناصر کا یہ پورا پروگرام نہایت سادہ نوعیت کا ہے اور اس کو سمجھنا
چنداں مشکل نہیں ہے۔ ہر شہر میں مختلف گروہ انفرادی طور پہ جبران ناصر کا پروگرام
منعقد کر رہے ہیں۔ یہی لوگ اپنے شہر میں جبران ناصر کی رہائش اور آمد و رفت کا
انتظام کر رہے ہیں۔ اکثر جگہ جبران ناصر لوگوں کے گھروں میں ٹہر رہا ہے۔ جبران
ناصر کے پیغام سے محبت کرنے والے لوگ ہر طریقے سے جبران ناصر کی مالی مدد بھی کرنا
چاہتے ہیں۔ جبران ناصر کیونکہ جواں سال ہے اس لیے توانائی سے بھرپور ہے۔ جبران بیک
وقت مختلف شہروں میں رہنے والے بہت سے پاکستانی گروہوں سے رابطے میں ہے اور ان سے
بات چیت کر کے مستقل اپنے دورے کی جزئیات طے کر رہا ہے۔
مثلا سنیچر، مئی سولہ، کو مہران ریستوراں میں ہونے والے پروگرام کے بارے میں
ہی جاننے کی کوشش کیجیے کہ آخر دو سو لوگوں کا یہ کامیاب جلسہ کیسے ہوپایا۔ سان
فرانسسکو بے ایریا میں رہنے والے لوگ ذوالقی خان، ظفر جعفری، شہاب حسن، سہیل اکبر،
جاوید الہی، اور صفوان شاہ کے ناموں سے نہ صرف یہ کہ واقف ہیں بلکہ ان سے ملتے بھی
رہتے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ جبران ناصر کے اس دورے کے پیچھے کوئی مضبوط خفیہ
ہاتھ ہے انہیں چاہیے کہ وہ بے ایریا میں رہنے والے ان چھ لوگوں سے پوچھیں کہ انہوں
نے کس خفیہ ہاتھ کے اشارے پہ بے ایریا میں ہونے والے جبران ناصر کے پروگرام میں
بھرپور مالی اعانت کی تھی۔
سو باتوں کی ایک بات یہ کہ جبران ناصر اللہ کا نام لے کر بے خطر اس میدان میں
کود پڑا ہے جہاں ایک طرف شدت پسندی کے دیو ہیں اور دوسری طرف میدان کے اس کونے میں
عام لوگ ڈرے دبکے کھڑے ہیں۔ عمل کے اس میدان میں کودنے کے بعد ہر جگہ جبران ناصر
کے پرحق پیغام سے متاثر ہونے ہزارہا لوگوں کے سر اور کاندھے جبران ناصر کا
سہارا بن گئے ہیں اور جبران ناصر محبت کی
اس سواری پہ لدا آگے سے آگے بڑھ رہا ہے۔
Who is behind Jibran Nasir? What is Jibran Nasir's agenda? Who is paying for Jibran Nasir's US visit? Does Jibran Nasir work for the CIA? Is Jibran Nasir an ISI agent? Is the Pakistan Army supporting Jibran Nasir? Is Jibran Nasir working for RAW? Is Jibran Nasir a double, triple agent working for multiple intelligence agencies?
Labels: Jibran Nasir, Lal Masjid, Maulana Abdul Aziz, Religious Extremism., Taliban
Tuesday, December 30, 2014
پاکستان کی سمت کی جنگ؛ سماجی معاہدہ
دسمبر اٹھاءیس، دو ہزار چودہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو اکیس
پاکستان میں لوگوں کو
'اسلام' کی چھڑی کی مار ماری جاتی ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر کسی ایسے شخص کے خلاف
بات کی جو زور زور سے اسلام کا نام استعمال کررہا ہے تو اس شخص سے مخالفت کو اسلام
کی مخالفت سمجھا جاءے گا۔ لوگ مولویوں اور اسلام کے ٹھیکیداروں سے ڈر کر
رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کو اس وقت حیرت ہوءی جب پاکستان میں شاید پہلی بار کسی مسجد کے باہر مسجد کے مولوی کے خلاف
مظاہرہ ہوا۔ اس بات کا عین امکان ہے کہ بہت سے مولوی پشاور اسکول سمیت طالبان کے
تمام حملوں کے متعلق ایسے ہی خیالات رکھتے ہوں جیسے خیالات لال مسجد کے
ملاعبدالعزیز برقعہ پوش رکھتے ہیں مگر عبدالعزیز کی شامت یہ آءی کہ ٹی وی پہ نظر
آنے کے شوق میں انہوں نے دل کی بات ٹی وی پہ کہہ دی۔ پشاور اسکول حملے کے بعد لوگ
طالبان اور ان کے حمایتیوں سے سخت نالاں ہیں چنانچہ لوگوں کا غصہ عبدالعزیز پہ
نکلا اور ان کی مسجد کے باہر مظاہرہ شروع ہوگیا۔
یہ بات سب پہ واضح ہے کہ اس
وقت پاکستان کی سمت کی جنگ جاری ہے۔ جناح کی رحلت کے فورا بعد پاکستان کی سمت
بدلنا شروع ہوءی اور پاکستان بتدریج مولوی کے اسلام کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
پاکستان اس دلدل میں کتنا اندر ہے؟ کیا اس وقت بھی وہ ملک اس دلدل سے باہر آسکتا ہے؟
کیا یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کا مذہب، لوگوں کا ایمان لوگوں کا ذاتی
معاملہ ہواور ریاست ان معاملات میں اپنی ٹانگ نہ اڑاءے؟ تماشہ آپ بھی دیکھ رہےہیں
اور ہم بھی۔
ہم خیال لوگوں کی جو بستی
کراچی سے باہر بننے جارہی ہے اس کے لیے تعلیمی ویڈیو بنانے کا کام جاری ہے۔ ایک ویڈیو
معاشرے میں نظم وضبط پہ بن رہا ہے۔
کسی بھی شخص کے لیے جس نے
دنیا میں تھوڑا بہت بھی سفر کیا ہو یہ مشاہدہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ جو معاشرے جس
قدر زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ ہیں ان میں اتنا ہی زیادہ نظم و ضبط ہے۔
دراصل صنعتی انقلاب کے بعد
دنیا کی آبادی میں زوردار اضافہ ہوا ہے اور اتنے زیادہ لوگوں سے نمٹنے کے لیے نظم
و ضبط ضروری ہے۔
جب بہت سارے لوگ ایک ہی
جیسی ضرورت رکھتے ہوں
تو اس مجمعے سے کیسےنمٹا جاءے؟
سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ کسی طریقے کا اہتمام نہ کیا
جاءے۔ مجمع لگانے والے سب آپس میں نمٹیں۔ یہ بات واضح ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا۔ نتیجہ
وہی ہوگا جو غیر مہذب جگہوں پہ نظر آتا ہے یعنی چھینا جھپٹی اور دھینگا مشتی۔ جو
سب سے زیادہ طاقتور ہے وہ سب کو مار پیٹ کر ایک طرف کرے گا اور آگے بڑھ کر اپنا
حصہ لے لے گا۔ کمزور پیچھے رہ جاءیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ طریقہ غیر
مہذب کیوں ہے؟ یہ طریقہ غیرمہذب اس لیے ہے کیونکہ اس طریقے میں جنگل کا قانون
کارفرما ہے اور انسان ایک عرصہ پہلے جنگل کے قانون سے نکل آیا ہے۔ ہم ایسے معاشرے
میں رہتے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں جہاں ہمارے ساتھ انصاف ہو۔ انصاف۔ یہ ایک اچھا
لفظ ہے۔ تو پھر جب بہت سے لوگ ایک ضرورت کے تحت جمع ہوں تو ان سے نمٹنے کے سلسلے
میں انصاف کیسے ہو؟ انصاف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے
سلسلے میں کوءی ترتیب استعمال کی جاءے۔ مثلا پہلے آءو، پہلے پاءو کا نظام اچھا ہے
اور اس میں انصاف بھی نظر آتا ہے۔ اب یہ کیسے معلوم ہو کہ پہلے کون آیا تھا؟ اس کی
ترکیب یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے آگے آنے والا سب سے آگے ہو، اور اس کے بعد آنے والے اس
کے پیچھے نفس در نفس کھڑے ہوتے جاءیں۔ اسی عمل کو قطار بنانا کہتے ہیں۔ قطار بھی
مہذب اور غیر مہذب انداز سے بناءی جاسکتی ہے۔ ایک قطار ایسی بھی ہوسکتی ہے جس میں کچھ
لوگ قطار میں سیدھے کھڑے ہوں اور بہت سے اس قطار کے داءیں باءیں کھڑے ہوں۔ لوگوں
کا ایسا مجمع قطار کی شکل سے دور وہی جھمگٹے والی صورت ہے۔ اس میں یہی احتمال ہے
کہ یہ واضح نہ ہوگا کہ کون بعد میں آیا ہے اور کس کے پیچھے ہے اور لوگ داءیں باءیں
سے قطار توڑ کر اس مجمع میں شامل ہوتے جاءیں گے۔ مہذب قطار وہ ہے جو سیدھی ہو اور
بات باکل واضح ہو کہ کس ترتیب سے کس کی باری پہلے آءے گی اور اس کے بعد کس کی۔ اس
مہذب قطار میں لوگ بھی ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پہ کھڑے ہوتے ہیں، اپنے آگے والے سے
بالکل چپک کر نہیں۔ اگر جگہ تنگ ہو اور قطار کو سیدھی لکیر میں بہت آگے تک نہ
بڑھایا جاسکے تو قطار کو تہہ کردیا جاتا ہے اور لوگ تہہ در تہہ قطار میں آگے کی
طرف بڑھتے رہتے ہیں۔ قطار کی ایک بہتر مہذب شکل وہ ہوتی ہے جس میں بوڑھے، نادار،
اور دوسرے کمزور افراد کا خیال کیا جاءے اور ان کو قطار میں اپنی باری سے سوا آگے
آنے کا موقع دیا جاءے۔
[انڈونیشیا سے سنگاپور جانے والا اءیر ایشیا کا ایک جہاز اس وقت غاءب ہے۔ یہ تصویر اءیر ایشیا کی ایک پرواز کی ہے جس سے ہنوءی سے بینکاک کا سفر کیا گیا تھا۔ حال میں کوالالمپور سے جکارتا اور پھر بالی سے کوالالمپور کا سفر بھی اءیر ایشیا سے کیا گیا مگر ان پروازوں کی کوءی تصویر میرے پاس نہیں ہے۔]
Pakistan, Islam, Maulana Abdul Aziz, Red Mosque, Lal Masjid, Islamabad, Protests, Separation between faith and state, Taliban, Air Asia QZ8501, Surabaya, Singapore, Hanoi, Bangkok, Malaysian Airlines, Malaysia, Elmustee, Discipline in dealing with crowds, crowd control, Elmustee Orientation Videos,
Labels: Air Asia, Islam, Islamabad, Lal Masjid, Maulana Abdul Aziz, Pakistan, Protests, Red Mosque, Separation between faith and state, Taliban
