Tuesday, January 29, 2013

 

سفر پاکستان سے چند مشاہدات



جنوری اٹھاءیس، دو ہزار تیرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو باءیس

  
 سفرپاکستان سے چند مشاہدات


بہت پہلے کسی جگہ لکھا تھا کہ اگر جہانگردی کا شوق ہو تو آپ کی عمر تو پوری ہو سکتی ہے، آپ سے دنیا پوری نہیں ہوسکتی۔ آپ کبھی یہ دعوی نہ کرپاءیں گے کہ آپ نے دنیا دیکھ لی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قریبا پانچ سال میں ہر جگہ بدل کرایک نیا روپ دھار لیتی ہے۔ چنانچہ ایک ملک کو دیکھ کر جب آپ آگے بڑھ جاءیں گے تو پانچ سال میں وہ ملک پھر سے ایک نیا ملک بن جاءے گا۔  میں تقریبا ہر سال ہی پاکستان جاتا ہوں مگر کراچی میں پلنے بڑھنے کے باوجود اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ آج کا کراچی وہ کراچی نہیں ہے جو میرے ماضی کا تھا۔ آج کا کراچی دنیا کی خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے جہاں اسلحے کی فراوانی ہے اور ہر بے روزگار کے پاس ایسے مواقع موجود ہیں کہ وہ باآسانی اسلحہ حاصل کرے اور اپنے روزگار کا انتظام خود کر لے۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں کراچی جاتا ہوں تو گھر میں مقید ہو کر رہتا ہوں مگر ایسا ضرور ہے کہ باہر نکلتے ہوءے کءی بار سوچتا ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ باہر جانے کی ضرورت کم سے کم پڑے اور اگر باہر جانا ہو بھی تو ایک محفوظ جگہ سے نکل کر جلد از جلد دوسری محفوظ جگہ پہنچ جاءوں۔ یعنی میری یہ آزادی کہ کھل کر آوارہ گردی کروں اور رات گءے تک سڑکیں ناپتا رہوں، اب ماضی کا حصہ بن گءی ہے۔ مگر پورا پاکستان کراچی جیسا خطرناک نہیں ہے۔ پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں کہ خیبر میل سے میرپور ماتھیلو گیا تھا۔ میرپور ماتھیلو میں اپنے جگری دوست غلام نبی کے گھر ٹہرا تھا۔ وہ فوجی کھاد فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور اسی کی ٹاءون شپ میں رہتے ہیں۔ فیکٹری کی وہ ٹاءون شپ پاکستان کا بہترین رہاءشی علاقہ ہے۔ وہاں پانی اور بجلی ہمہ وقت موجود ہے اور ٹاءون شپ کے اندر آپ کو کسی قسم کا ڈر نہیں ہے۔ غلام نبی نے مجھے اپنی گاڑی میں صادق آباد کے بس اڈے پہ چھوڑ دیا تھا۔ اس سفر میں ہم نے سندھ اور پنجاب کی سرحد پار کی اور اس خطرناک راستے سے گزرے جو راہ زنوں میں مقبول ہے۔ میں صادق آباد سے ڈے وو کی بس سے بذریعہ بہاولپور ملتان پہنچا۔ ملتان میں ایک ہوٹل میں رات گزاری اور اندازہ ہوا کہ گرد، گدا، گرما، گورستان کا شہر جنوری کے مہینے میں انتہاءی سرد بھی ہوسکتا ہے۔ ہوٹل کے کمرے میں مجھے بجلی کا ایک ہیٹر دیا گیا تھا مگر اس رات درجہ حرارت نقطہ انجماد کو چھو رہا تھا اور میں ساری رات سردی سے ٹھٹھرتا رہا۔  ملتان پہنچ کر اپنا سامان ہوٹل کے کمرے میں ڈھیر کرنے کے بعد میں دو کیمرے لے کر اندرون شہر گیا تھا۔ وہاں گھنٹہ گھر کی تصاویر کھینچیں اور پھر رکن الدین عالم کے مزار پہ گیا۔ اس زیارت سے نکلنے کے بعد میں نے ایک رکشہ لیا اور رکشے والے سے کہا کہ وہ مجھے کھانے کے لیے کسی اچھی جگہ لے جاءے۔ اس نے مجھے ٹیسٹی ریستوران پہنچا دیا۔ ٹیسٹی کا بالاءی ہال، جو یقینا آرام دہ ہوگا، آل و عیال والوں کے لیے مخصوص تھا۔ چھڑے حضرات نیچے سردی میں کھانا کھا رہے تھے۔ مجھے بھی وہیں بیٹھنا پڑا۔ یوں تو ٹیسٹی کے پاس انواع واقسام کے کھانے تھے مگر بدون گوشت طعام کا انتخاب محدود تھے۔ میں نے شاہی دال نان کے ساتھ کھاءی اور ساتھ چاءے پی۔ ٹیسٹی ریستوراں پہنچنے سے پہلے میں نے رکشے والے سے پوچھا تھا کہ آیا ملتان میں اس طرح رات کے وقت آوارہ گردی کرنے میں کوءی خطرہ تو نہیں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ملتان میں اس قسم کی کوءی لوٹ مار نہیں ہے جیسی کراچی میں ہے۔ اگلے روز ملتان سے لاہور جانا تھا مگر میں نے بارہ بجے والی جس بس کا ٹکٹ لیا تھا وہ میرے بس اڈے پہنچنے سے بہت پہلے نکل چکی تھی۔ یہ قصہ یوں ہے کہ صبح ناشتہ کمرے میں کرنے کے بعد میں ایک دفعہ پھر سیر کے لیے نکلا۔ ملتان کی مرکزی لاءبریری گھنٹہ گھر کی عمارت میں منتقل ہوچکی ہے۔ پہلے اس لاءبریری کو اچھی طرح دیکھا۔ وہاں قطار در قطار اسلامی کتب تھیں۔ اسلام کا سیکشن ختم ہوا تو اقبالیات کا سیکشن شروع ہوگیا اور بس کہانی ختم۔ منتظم سے پوچھا کہ آیا شہر کے اس سب سے بڑے کتب خانے میں اسلام اور اقبالیات کے علاوہ بھی کتابیں ہیں۔ کوءی طبیعیات، کوءی کیمیا، کوءی ارضیات پہ کتاب ہو تو دکھاءو۔ اس نے بتایا کہ ایسی کتابیں مقبول نہیں ہیں۔ اسلام اور اقبال ہی کی مانگ ہے۔ دنیا کے جھمیلوں والی وہ فضول کتابیں کتب خانے کے پچھلے بند کمروں میں موجود تھیں۔ گھنٹہ گھر سے نکلنے کے بعد باغ قاسم کی طرف چلا۔ پہاڑی پہ واقع رکن الدین عالم اور دوسرے مزاروں کو باہر سے دیکھا، ساتھ ہی ملبے کے اس ڈھیر کو بھی دیکھا کہتے ہیں کہ جہاں کبھی ایک خوب صورت ہندو مندر ہوا کرتا تھا۔ وہاں سے نیچے اترا اور پیدل چلتا ہوا شمس تبریزی سبزواری کے مزار پہ پہنچ گیا۔ اس مزار پہ مجھے ایک قوال مل گیا۔ مجھے اس کی آواز پسند آءی چنانچہ میں نے اس کی ویڈیو بنانا شروع کی۔ پھر کیا تھا وہ اور جذباتی ہو گیا اور اس نے مجھے ایک کے بعد ایک مقبول عام قوالی سناءی۔ اب جو گھڑی دیکھی تو گیارہ سے اوپر کا وقت تھا۔ شمس تبریزی سے نکلنے کے بعد ایک رکشہ پکڑا اور ہوٹل کی طرف چلا۔ مگر ملتان چھوڑنے سے پہلے ملتان کی سوغات یعنی سوہن حلوہ خریدنا بھی ضروری تھا۔ سوہن حلوہ خرید کر ہوٹل پہنچا، کمرے سے سامان اٹھایا اور ڈے وو بس اڈے کی طرف چلا۔ مگر کچہری روڈ سے بس اڈے تک پہنچتے پہنچتے سوا بارہ ہوگءے۔ شمس تبریزی کے مزار والے قوال نے میری بس نکلوا دی تھی۔


Tuesday, January 22, 2013

 

علماءے دین کیا کہتے ہیں؟




جنوری اکیس، دو ہزار تیرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو اکیس

  
 علماءے دین کیا کہتے ہیں؟



کچھ دیر پہلے سان ہوزے سٹی ہال سے پلٹا ہوں جہاں مارٹن لوتھر کنگ کے دن یعنی آج پیر، جنوری اکیس کے روز ڈیڑھ سو سے زاءد لوگ جمع ہوءے اور پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ہلاک ہونے والوں کو بالعموم اور جنوری دس کے روز کوءٹہ کے دھماکوں میں سو سے زاءد مارے جانے والوں کو بالخصوص یاد کیا گیا۔  پاکستان میں مذہبی منافرت کا دیو جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ، یہ بات ہر شخص کے لیے تشویشناک ہے۔  نہ جانے کون آپ کو آپ کے مذہبی نظریات کی بنیاد پہ مار دے۔ کس کو خیال ہوجاءے کہ آپ نے اپنے اعمال سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاءی ہے اور اس لیے آپ کا قتل عین ثواب ہے۔ مذہبی شدت پسندی میں وہ گروہ سب سے آگے ہے جسے وہابی کہا جاتا ہے۔ اس گروہ کے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ سب سے صحیح مسلمان ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اپنے مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والوں میں کون واقعی مسلمان ہے اور کون نہیں۔ شدت پسندی کی اس مہم کے باوجود ہمیں وہابی علماءے دین کے خیالات صریحا سننے کو نہیں ملتے۔ پاکستانی میڈیا ان علماءے دین کو ٹی وی پہ بٹھا کر ان سے یہ کیوں نہیں معلوم کرتا کہ ان علما کی راءے میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں کون صحیح مسلمان ہے اور کون غلط۔ اور یہ کہ ان علما کی راءے میں جو لوگ اسلام کی راہ سے بھٹکے ہوءے ہیں کیا ایسے گمراہ لوگوں کو پیار و محبت سے، سمجھا بجھا کر سیدھے راستے پہ لانا چاہیے یا چپکے سے وار کر کے انہیں قتل کردینا چاہیے۔ کیا قیامت کے لیے بھی کچھ بھی چھوڑ دینا چاہیے یا ان راست مسلمانوں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ آج ہی اپنی مرضی سے سزا اور جزا کے سارے معاملات طے نمٹا لیں۔
آءیے کوءی دوسرا موضوع چھیڑیں۔ میں آپ کو ایک اچھی خبر سناءوں۔  پاکستان کے حالیہ سفر میں مجھے ٹرین سے سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے بالاءے سندھ، میرپور ماتھیلو جانا تھا اور وہاں جانے کے لیے سب س موثر سواری ٹرین ہی تھی۔ خیبر میل کراچی کے کینٹ اسٹیشن سے رات دس بجے چلتی ہے اور صبح قریبا پونے ساتے بجے میرپورماتھیلو پہنچا دیتی ہے۔ خیبر میل میں بیٹھنے سے پہلے بہت سے دوستوں نے مجھے ٹرین کا سفر کرنے سے منع کیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ ٹرین محفوظ سواری نہیں ہے، میں ٹرین میں لٹ جاءوں گا؛ کچھ اور کہنا تھا کہ ٹرین عموما بہت لیٹ ہوجاتی ہیں اور میں اس سفر کی طوالت سے تنگ آجاءوں گا۔ پانچ جنوری کے روز میں ان ہی خدشات کے ساتھ خیبر میل میں سوار ہوا تھا۔ میں عموما اپنے سامان میں کمپیوٹر لے کر چلتا ہوں مگر اس سفر میں کمپیوٹر میرے ساتھ نہ تھا کیونکہ میں لٹنے کے لیے ذہنی طور پہ تیار تھا۔ چشم تصور سے میں نے سوچا تھا کہ رات کے اگلے پہر میرے کوپے پہ ایک دستک ہوگی۔ میں پوچھوں گا، 'کون'۔ جواب آءے گا، 'ٹکٹ چیک کرواءیں'۔ میں جیسے ہی کوپے کا دروازہ کھولا گا وہاں ایک شخص پستول ہاتھ میں لیا کھڑا ہوگا۔ یا پھر یوں ہوگا کہ میں چلتی گاڑی میں بیت الخلا کے لیے جاءوں گا اور واپس پلٹوں گا تو اپنے سامان کو غاءب پاءوں گا۔ جب صبح خیبر میل نے مقررہ وقت سے محض چالیس منٹ لیٹ مجھے میرپور ماتھیلو مکمل خیریت کے ساتھ پہنچا دیا تو میری خوشی کی انتہا نہیں رہی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ ڈھیر ساری مشکلات کے باوجود پاکستان میں بہت سی چیزیں صحیح کام کررہی ہیں۔



Wednesday, January 16, 2013

 

لانگ مارچ اور دھرنے


جنوری تیرہ، دو ہزار بارہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو بیس


 لانگ مارچ اور دھرنے

میں اس وقت سینٹا کلارا میں ہوں۔ کراچی سے زندہ بچ کر آ گیا ہوں۔ مجھے اس بات پہ خوش ہونا چاہیے کہ میرے پاکستان میں رہتے ہوءے جن تین سو کے لگ بھگ لوگوں کو ہلاک کیا گیا، میں ان لوگوں میں شامل نہیں تھا۔ بلکہ میں تو اتنا خوش قسمت ہوں کہ ان انیس دنوں میں نہ تو کبھی لٹا، نہ میرا موباءل چھینا گیا، نہ مجھے بندوق کے زور پہ زدوکوب کیا گیا، اور نہ ہی میں نے کسی زوردار دھماکے میں لوگوں کے چیتھڑے اڑتے دیکھے۔ گو کہ ایک بس میں رکھا بم اس جگہ سے چند سو گز کے فاصلے پہ پھٹا جہاں میرا قیام تھا، مگر اس وقت میں جاءے وقوع سے بہت دور تھا اور اس دہشت گردی کی اطلاع مجھے دوسروں سے ہوءی۔  قصہ مختصر یہ کہ میں اس پاکستان سے بچ کر نکل آیا جس سے وہاں مستقل رہنے والوں کا سامنا روز پڑتا ہے۔ اور یہی وہ عذاب پاکستان ہے جس سے تنگ آکر ایک طرف تو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف کراچی کی مصروف سڑکوں پہ دھرنا جاری ہے۔ عوام اپنی حکومت سے تنگ ہیں۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک اچھی حکومت میسر آجاءے جو انصاف سے حکومت کرے، ایسا دور آءے جب ہر کام قانون کے مطابق ہو، اور طاقتور کمزور کو طاقت کے زور پہ نہ دبا دے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی اچھی منتظم، ایمان دار، منصف حکومت ہمیں کیسے میسر آءے گی۔ ہم تو ہم پہلے ہی حکومت سازی کے جدید ترین اور مستند ترین نظام یعنی جمہوریت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جمہوریت اس لیے حکومت سازی کا ایک کامیاب طریقہ ہے کہ اس میں کچھ کچھ عرصے بعد حکمراں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اور انتخابات کا ہر دور احتساب کا دور ہوتا ہے۔ برے حکمرانوں کو ووٹ کے زور پہ نکال باہر کیا جاتا ہے اور نءے لوگوں کو آزمانے کے لیے آگے لایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک جمہوری حکومت ہے۔ یہ حکومت عوام کے اعتماد سے برسر اقتدار آءی ہے۔ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ ایک عرصے سے انحطاط کا شکار ہے۔ ہر دفعہ جب ایک نءی حکومت آتی ہے تو خیال ہوتا ہے کہ جانے والی پرانی حکومت اس نءی حکومت سے تو اچھی تھی۔ پچھلے پانچ سالوں سے موجود پاکستانی حکومت ایک نااہل حکومت ہے کہ اس نے انحطاط پذیر معاشرے کا رخ نہ بدلا اور محض اپنا وقت پورا کیا ہے مگر کیا یہ بات باعث اطمینان نہیں کہ چند ہی ماہ میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ پاکستانی عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ان نااہل لوگوں کو ضرور نکال باہر کریں گے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا طاہر القادری کے لانگ مارچ سے اور شہر شہر دھرنوں سے کیا حاصل ہوگا۔ اگر جمہوری نظام کو نقصان پہنچاءے بغیر ایسا ہو کہ موجودہ حکمراں حرکت میں آجاءیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ مگر لگتا ہے کہ ایسا نہ ہوگا۔ لانگ مارچ اور دھرنوں سے محض افراتفری میں اضافہ ہوگا۔
کراچی میں قیام کے دوران میری کوشش ہوتی تھی کہ میں ایک عمارت سے نکل کر دوسری میں گھس جاءوں اورباہر کم سے کم نکلوں۔ ایسی احتیاط کے باوجود حکیم محمود احمد برکاتی کی نماز جنازہ میں شرکت ضروری تھے کہ وہ میرے بزرگ  تھے اور مجھ سے بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔ اس نماز جنازہ میں جماعت اسلامی کے اہم راہ نما شریک ہوءے تھے اور میں نماز جنازہ پہ فاءرنگ یا بم دھماکے کے اندیشے دل میں لے کر وہاں گیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ عافیت رہی۔ حکیم محمود احمد برکاتی بہت بڑے عالم تھے۔ ایک عالم کی موت ایک دنیا کی موت ہوتی ہے۔ پھر اس چھیاسی سالہ بزرگ کو اس کے مطب میں گھس کر کیوں مارا گیا؟  بتایا جاتا ہے کہ محمود برکاتی کے صاحبزادے مجاہد برکاتی جماعت اسلامی میں بہت متحرک ہیں اور جماعت اسلامی کی طرف سے مختلف علاقوں کی ووٹر لسٹیں جانچنے کا کام کر رہے تھے۔ جس مطب میں بڑے برکاتی صاحب کو مارا گیا وہاں باری لگا کر باپ اور بیٹا دونوں بیٹھا کرتے تھے۔ جس روز محمود برکاتی صاحب کو مارا گیا اس روز مجاہد برکاتی کو مطب میں بیٹھنا تھا۔ خیال ہے کہ مارنے والے مجاہد برکاتی کی جگہ ان کے والد کو قتل کر کے چلے گءے۔ پاکستان میں کون کس کو مار رہا ہے، اس سلسلے میں ایک نقطہ نظر تو سرکاری ہے۔ اخبارات میں اور ٹی وی پہ مستقل نامعلوم حملہ آوروں کا حوالہ آتا ہے۔ دوسرا نقطہ نظر غیرسرکاری ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو پاکستان کے لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں کرتے ہیں۔ میں نے یہی سرگوشیاں ہر قتل، ہر دھماکے سے متعلق، پاکستان میں سنی ہیں۔ یہ سرگوشیاں کہتی ہیں کہ حکیم محمود احمد برکاتی ایم کیو ایم کا نشانہ بنے جسے یہ بات بری لگی کہ کوءی اس کے علاقے میں ووٹر لسٹوں کو جانچے پرکھے۔ اور اسی طرح کی سرگوشیاں کوءٹہ کے حالیہ بم دھماکوں کے متعلق ہیں۔ میڈیا مستقل بتا رہا ہے کہ یہ دھماکے نامعلوم افراد نے کیے مگر سرگوشیوں میں کہا جارہا ہے کہ یہ دھماکے لشکر جھنگوی کا کارنامہ ہیں جس کے راہ نما مستقل یہ دعوی کرتے رہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو شیعہ کافروں سے پاک کر دیں گے۔ سرگوشیوں میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ پاکستان کی پولیس ان قاتلوں کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہے اور پاکستانی فوج ان کے خلاف کارواءی یہ سوچ کر نہیں کرتی کہ یہ عسکری گروہ پاکستانی فوج کا سرمایہ ہیں اور اس علاقے سے امریکہ کی روانگی کے بعد یہ گروہ پاکستانی فوج کے کام آءیں گے۔



 

چار جنوری




جنوری چار، دو ہزار بارہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو انیس



 چار جنوری

چار جنوری کا دن درد ناک یادیں لے کر آتا ہے۔ ایک نہایت پڑھا لکھا شخص جو ایک اعلی عہدے پہ فاءز تھا اور لاکھوں لوگوں کے کام آتا تھا۔ وہ ایسا رحم دل شخص تھا کہ جب ایک کمزور عورت کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا تو وہ شخص اس عورت کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اور دوسری طرف تھا چند جماعتیں پڑھا ایک گمراہ آدمی۔ ایک گھٹیا آدمی کہ جس عالم کی حفاظت کے لیے اسے تعنیات کیا گیا تھا، اپنی گمراہی میں اس نیچ آدمی نے اس عالم کو ہی مار ڈالا۔ لعنت ہے تم پہ ممتاز قادری۔ تم سے بہتر تو کتے ہوتے ہیں کہ جس وسیلے سے روٹی کھاتے ہیں اس سے وفاداری تو کرتے ہیں۔ اور تف ان لوگوں پہ جو اس اصل گستاخ رسول ممتاز قادری پہ پھول نچھاور کرتے ہیں۔ ممتاز قادری اگر ایک ذلیل انسان نہ ہوتا تو سلمان تاثیر سے اپنے نظریاتی اختلاف پہ اپنی نوکری سے استعفی دے دیتا؛ چپکے سے ان پہ وار نہ کرتا۔
دو روز پہلے اپنے لیپ ٹاپ کی بیٹری خریدنے کے لیے کراچی کے ایک بازار میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک دیوار پہ لگے پوسٹر کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ پوسٹر یہاں ملاحظہ فرماءیے:
http://1.bp.blogspot.com/-3IpZTdWYAMs/UOZojTvGptI/AAAAAAAADsE/rC7WCBULH5g/s1600/DSC_0233-shamefl+poster.JPG
 اس پوسٹر پہ درج ذیل عبارت تحریر ہے۔
"یا رسول اللہ ہم شرمندہ ہیں۔ آپ کے گستاخ زندہ ہیں۔
سیدنا امام مالک سے خلیفہ ہارون رشید نے گستاخ رسول کا حکم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔
اس امت کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے کہ جس کے نبی کی توہین کر دی جاءے۔
محبوب سے محبت کرنے والے غیرت مند بھاءیو۔
آءیے ہم اپنا مقصد حیات یہ بنا لیں کہ
میرا سب کچھ آپ پر قربان یا رسول اللہ۔
یاد امت میں آنسو بہانے والے محبوب سے وفا کی خاطر عزم کر لیجیے۔
۱۔ لبیک یا رسول اللہ ریلی کے لیے علما و مشاءخ اہلسنت جب بھی طلب فرماءیں گے ہم فورا حاضر ہو جاءیں گے۔
۲۔ مصطفی کی پسند ہماری پہچان ہو۔ جیسے ایک نماز قضا نہ ہو، داڑھی شریف، پردہ، سچاءی، وغیرہ۔
۳۔ کم از کم ایک بار اپنی مساجد میں درس قرآن پاک کا اہتمام کرواءیں۔
۴۔ میک ڈانلڈ، کے ایف سی، پیٹزا ہٹ، پیپسی، کوکا کولا اور دیگر وہ پراڈکٹس کہ جن کا فاءدہ یہود و نصاری کو ہے ان کا بھی باءیکاٹ کیجیے۔
۵۔ جس نے محبوب سے وفا کی اس غازی ملت ملک ممتاز حسین قادری کے لیے روانہ کم از کم ایک نماز میں دعا کا اہمتمام کرواءیں۔
یا رسول اللہ یہ تحریر ہر مقام کی زینت ہو اور آپ ہمارے تمام گھر والوں کی شفاعت فرماءیں۔
ملنے کا پتہ، جامع مسجد بہار شریعت، بہادر آباد، کراچی۔

درج بالا کس قدر گمراہ عبارت ہے۔ اس پوسٹر میں ایسی اشتعال انگیز زبان استعمال کی گءی ہے کہ اس کو بغیر سمجھے پڑھنے والے نادان لوگ اپنے نبی کی محبت میں ان نوسربازوں کے پیچھے چل پڑیں۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ آواز ہمارے نبی کی نہیں ہے بلکہ ان مداریوں کی ہے جو ہمارے نبی کی عزت کے ٹھیکیدار بن کر خود اپنی دکان چمکانا چاہتے ہیں۔  ہاں، یقینا ہم بھی لبیک یا رسول اللہ کہہ کر اپنے نبی کے راستے پہ چلنا چاہتے ہیں مگر یقینا ان 'علما و مشاءخ' کے پیچھے ہرگز نہیں جو خود گمراہ ہیں۔ جو گاڑی چلا تو سکتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ گاڑی کام کیسے کرتی ہے۔ جو سیل فون تو استعمال کرتے ہیں مگر اس کی ٹیکنالوجی نہیں سمجھتے۔ جو تھوڑی کچی پکی عربی کے علاوہ کوءی علم نہیں جانتے اور اسلام کی سب سے بنیادی تعلیم یعنی علم کی جستجو سے بالکل پرے ہیں۔ ہم یقینا یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے نبی کی پسند ہماری پہچان ہو۔ مگر اس ضمن میں سچاءی، صفاءی، جدید سوچ، اور نظم و ضبط کو سب سے پیچھے نہیں دھکیلنا چاہتے۔ ہم حقوق العباد کو حقوق اللہ سے آگے سمجھتے ہیں کہ ہمارے نبی نے ہمیں یہی سکھایا تھا۔  اور ہم ممتاز قادری کو ہر گز غازی ملت نہیں سمجھتے۔ اس ملعون نے ہمارے نبی سے ہرگز کسی قسم کی وفا نہیں کی ہے۔ اس گھٹیا شخص نے تو اسلام کا اور ہمارے نبی کا نام بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس شخص نے تو وہ کام کیا ہے کہ جس کی ممانعت ہمارے نبی نے خاص طور پہ کی تھی کہ معاشرے میں فساد پھیلانے والے نہ بنو۔ اس شخص نے تو لاقانونیت کی وہ راہ دکھلاءی ہے کہ لوگ اپنی اپنی مرضی سے فیصلہ کریں کہ ان کا اسلام ان کو کیا کرنے پہ مجبور کر رہا ہے اور اس اندرونی آواز کو سن کر جیسی چاہے قتل و غارت گری کریں۔


 

سال کا آخری کالم




دسمبر اکتیس، دو ہزار بارہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو اٹھارہ


 سال کا آخری کالم


دل تو یہ ہے کہ سنہ دو ہزار بارہ کا یہ آخری کالم ہلکا پھلکا ہو مگر کیا کیجیے کہ یہ سال جاتے جاتے بہت سے دکھ دے گیا ہے۔ ایک تو دہلی میں میڈیکل کالج میں پڑھنے والی لڑکی کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کا دلخراش واقعہ ہے۔ فوری سزا تو یقینا ان لوگوں کو ملنی چاہیے جو اس زیادتی میں ملوث تھے، مگر الزام معاشرتی رویوں پہ بھی ہے۔ آج کی مربوط دنیا میں جب کبھی ایک جگہ رہنے والے لوگوں کے رویے عورت کے بارے میں اس قدر مختلف ہوں گے، وہاں اس نوعیت کے واقعات ضرور ہوں گے۔  پھر کچھ ذاتی غم ہیں۔ خاندان میں یکے بعد دیگرے ہونے والی چند اموات کے بعد خاندان کے وہ بزرگ جو ستر اور اسی کی پیٹے میں ہیں، اب زندگی سے مایوس نظر آتے ہیں۔ کوءی بقیہ زندگی کے چار سال گن رہا ہے اور کوءی محض دو۔ ان لوگوں سے میری جرح رہتی ہے کہ موت تو کاءنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے، وہ تو آنی ہی آنی ہے، اس کے انتظار میں دن گننے کا کیا فاءدہ؟  موت جب آنا ہوگی آ جاءے گی۔ اس کے انتظار میں مر مر کر جینے کی کیا تک ہے؟ موت کی حقیقت تسلیم کرنے کے بعد دل کھول کر جیو اور ہر دن یوں گزارو کہ جیسے وہ زندگی کا آخری روز ہو۔ اگر مجھے اپنی موت سے پہلے کہیں ٹہر کر زندگی گزارنے کا موقع ملا تو کوشش کروں گا کہ ایک 'تہوار موت' کی روایت ڈالوں۔ وہ ایسا تہوار ہو جس پہ خاندان والے ایک جگہ جمع ہوں اور ہر جمع ہونے والے شخص کی موت کا تصور کریں۔ ہر چاہنے والے کی موت کا افسوس اس کی زندگی میں ہی کر لیں اور چشم تصور سے خیال کریں کہ جس کی موت کا خیال کیا جارہا ہے اس شخص کی اہمیت آپ کی زندگی میں کس قدر زیادہ ہے۔
یہ کالم کراچی سے لکھا جارہا ہے۔ ویت نام کے سفر کے آخر میں خلیج ہا لونگ جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ جگہ اپنے عجیب و غریب جغرافیے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اونٹ کے کوہان جیسے بڑے بڑے پہاڑ سمندر میں جا بجا کھڑے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ابھی کچھ دیر پہلے ایک دیو ہیکل عفریت سمندر میں کودا ہے اور اس کی پیٹھ کے کب پانی سے باہر نظر آرہے ہیں۔ دراصل یہ پہاڑ کروڑوں سال پرانے ہیں۔ اس قدر پرانے کہ اس وقت یہاں سمندر بھی نہ تھا۔ ان پہاڑوں کے وجود میں آنے کے بہت بعد یہ سمندر وجود میں آیا اور پھر سمندر سے شروع ہونے والی زندگی کا وجود تو اور بھی تازہ واقعہ ہے۔ اور اس تازہ واقعے میں انسان کی آمد تو بالکل ہی نءی بات ہے۔ کاٹ با نامی جزیرے پہ قیام کے دوران دونوں دن ہم کشتی کراءے پہ لے کر خلیج ہالونگ کی سیر کو نکلے اور ان بلا نما پہاڑوں کے درمیان کشتی پہ چلتے رہے۔ ان پہاڑوں کی ڈھیر ساری تصاویر بھی لیں۔ موقع ملا تو ان تصاویر کو کراچی فوٹو بلاگ پہ پیش کروں گا۔
کالم کو ہلکے پھلکے واقعے کے ساتھ ختم کرنے کے لیے آپ کو ساءیگون سے
نیا تران کے سفر کا حال سناتا ہوں۔ وہ ایک لمبا سفر تھا جو ایک ایسی بس میں کیا گیا جسے ویت نام میں سیاحوں کی سہولت کے لیے سلیپنگ بس کہا جاتا ہے۔ شکر ہے کہ بس یا اس کو چلانے والا ڈراءیور نہیں سوجاتا بلکہ اس بس میں سیٹیں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ آپ آرام سے پاءوں پھیلا کر لیٹ سکتے ہیں۔ بس ساءیگون سے چلی اور پھر چلتی ہی رہی۔ پھر بس میں گانے بجنے لگے۔ وہ گانے ایسے تھے جن میں ویت نام کا نام بار بار آتا تھا۔ یقینا وہ ملی نغمے ہوں گے جن میں ویت نام کی بڑاءی بیان کی جارہی تھی۔ بتایا جا رہا تھا کہ ویت نام کس قدر عظیم ملک ہے۔ ویت نام ایک مضبوط قلعہ ہے جس نے بڑی بڑی طاقتوں کے چھکے چھڑا دیے۔ جیسے لوگ ویت نام میں رہتے ہیں ایسے دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔ ویت نام کے لوگ بہت محنتی اور عقل مند ہیں اور مشکل سے مشکل حالات میں اپنی راہ نکال لیتے ہیں۔ ہم اپنی نشست پہ لیٹے لیٹے ویت نام کی یہ بڑاءیاں سنتے رہے اور سوچتے رہے کہ ویت نام کے لوگوں کے مقابلے میں ہم کس قدر نالاءق ہیں۔ یکدم بس میں چلنے والی موسیقی بدلی اور ایک مانوس دھن فضا میں بلند ہوءی۔ اور پھر 'ہوٹل کیلی فورنیا' لگ گیا۔
آن اے ڈارک ڈیسرٹ ہاءی وے؛ کول ونڈ ان ماءی ہءیر۔
ہم نے دل ہی دل میں سوچا، "بیٹا، ویت نام، اب آءے نہ لاءن پہ۔"


This page is powered by Blogger. Isn't yours?