Wednesday, June 06, 2018

 

وعدوں کی رم جھم

وعدوں کی رم جھم

انتخابات کا موسم ہے اور وعدوں کی بارش ہے۔ آپ انتخابات میں ضرور حصہ لیجیے اور اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیجیے مگر اپنے محبوب امیدوار اور چہیتی جماعت کے سامنے اپنی ترجیحات بالکل واضح کردیجیے۔ آپ کی ترجیحات رنگ برنگ ٹرین، بلند عمارتیں، یا چوڑی ہائی وے نہیں ہیں۔ آپ کی ترجیحات بنیادی زندگی سے متعلق ہیں۔

کسی بھی ریاست، کسی بھی حکومت کا سب سے اول کام عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اور آپ کی پہلی ترجیح بھی یہی ہونی چاہیے: آپ کے علاقے میں امن و امان اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت۔ اپنے علاقے سے انتخابات لڑنے والے تمام امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے یہ وعدہ لیجیے کہ منتخب ہونے کے بعد اُن کی پہلی ترجیح علاقے میں امن کا قیام ہوگی۔ کوئی جبری گمشدگی نہیں، کوئی ہجوم کا انصاف نہیں۔ صرف اور صرف قانون کی حکمرانی، بالکل اس طرح جیسے دستور میں طے ہے۔

جان و مال کی حفاظت کے بعد آپ کی دوسری ترجیح تعلیم ہونی چاہیے۔ اپنے پسندیدہ امیدوار اور سیاسی جماعت سے معلوم کیجیے کہ وہ کس طرح آپ کے علاقے میں صد فی صد تعلیم کا ہدف جلد از جلد حاصل کریں گے۔

آپ کی اگلی ترجیح پانی، بجلی، اور کوڑے کے نظام کی فعالی ہونی چاہیے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی کی بعد صاف پانی کا حصول آپ کا حق ہے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی کی بعد بلا تعطل بجلی کی  فراہمی آپ کا حق ہے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی کی بعد علاقے کی صفائی آپ کا حق ہے۔

اور انتخابی وعدوں کے سلسلے میں نوے دن، چھ ماہ، ایک سال کے قصے کو چھوڑیں، تاریخ طے کریں۔ مثلاً، اپنے پسندیدہ امیدوار سے یہ وعدہ لیں کہ اگست ایک، سنہ دو ہزار انیس تک یا اس سے پہلے آپ کے علاقے میں بجلی کا نظام اتنا اچھا ہوجائے گا کہ کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوا کرے گی۔ ستمبر بیس، دو ہزار اٹھارہ تک پانی کی فراہمی کا نظام اتنا اچھا ہوجائے گا کہ علاقے کے ہر گھر میں ہر روز کم از کم دو گھنٹے پانی آئے گا۔

وعدوں کو اہداف میں تبدیل کرنے کے ساتھ اہداف کے حصول کی حکمت عملی پہ بھی دھیان دیجیے۔ اپنے پسندیدہ امیدوار کے ساتھ بیٹھ کر اہداف کی جزئیات میں جائیے۔ مثلاً، اگر وعدہ پانی کی فراہمی کا ہے تو یہ حساب کیجیے کہ آپ جس انتخابی حلقے میں رہتے ہیں وہاں اتنے گھر ہیں۔ ہر گھر فی روز اتنے گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ اس حساب سے روز کُل اتنے گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ جس آبی ذخیرے سے پانی علاقے میں آتا ہے اُس میں اتنا پانی موجود ہے۔ علاقے میں آنے والا موجودہ پانی کا پائپ اتنے قطر کا ہے۔ اس پائپ سے اتنے گیلن فی منٹ پانی آسکتا ہے۔ چنانچہ روزانہ اس پائپ سے اتنے گیلن فی منٹ پانی اگر اتنے گھنٹے آئے تو علاقے کے پانی کی ضرورت پوری ہوجائے۔
علیٰ ہذا القیاس القیاس دوسرے اہداف کی منصوبہ بندی میں بھی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کا ہاتھ بٹائیے۔

یاد رکھیے کہ جمہوریت کا جمہور آپ ہیں، اور کوئی بھی جمہوری نظام صرف اور صرف باشعور عوام کی مدد سے کامیاب ہوسکتا ہے۔

This page is powered by Blogger. Isn't yours?