Thursday, February 27, 2014

 

کپڑے سکھانے کا بہتر طریقہ



فروری تءیس،  دو ہزارچودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو ستتر

کپڑے سکھانے کا بہتر طریقہ


پاکستان سے آنے والی بیشتر خبریں خون آلود ہیں۔ اتنے پرتشدد ماحول میں اگر میں کچھ اور نہیں کرسکتا تو کم از کم آنکھیں ضرور موند سکتا ہوں۔ چنانچہ آج کا کالم اسی اجتنابی جذبے کے ساتھ ہے۔
میں جس وقت کوالالمپور ہواءی اڈے میں گیٹ بتیس تک پہنچا تو وہاں 'کلوزڈ' [بند] کا نشان جلایا جا چکا تھا۔ مگر جہاز سے پل [جیٹ برج] اب تک نہیں ہٹا تھا، اور اسی لیے مجھے جہاز میں چڑھنے دیا گیا۔ کچھ دیر بعد جب میں اپنی نشست پہ بیٹھا جہاز سے باہر دیکھ رہا تھا تو اپنی اس کامیابی کا جشن منا رہا تھا کہ میں صرف ایک گھنٹہ اور پچیس منٹ پہلے کوالالمپور شہر کے مرکز میں تھا، جہاں سے ہواءی اڈے کا فاصلہ گھنٹے بھر کا ہے، اور اب یہاں جہاز میں بیٹھا تھا، جب کہ مسافروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی پرواز کے لیے ہواءی اڈے پہ دو سے تین گھنٹے پہلے پہنچیں۔ دراصل میں یہ کام یوں کرپایا کہ چند دن پہلے ہی میں نے کپڑے سکھانے کے بہتر طریقے کے بارے میں سوچا تھا۔ سفر میں میرے پاس بہت کم سامان ہوتا ہے۔ تن پہ جو کپڑے ہوتے ہیں ان کے علاوہ زیرجامے اور موزے تو سامان میں ہوتے ہیں مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ قریبا ہررات کپڑے دھونے ہوتے ہیں تاکہ صبح تک سوکھ جاءیں۔ کبھی میں بہت تھکا ہوا ہوتا ہوں تو جیسے تیسے کپڑے دھونے کا کام کرکے بستر میں دراز ہوجاتا ہوں؛ ایسی صورت میں مجھے اکثر صبح اپنے کپڑے نم ہی ملتے ہیں۔ اور اگر میں تھوڑی سی محنت کروں اور کپڑوں کو دھونے کے بعد انہیں اچھی طرح نچوڑوں اور پھر دیر تک جھٹکوں یہاں تک ہر جھٹک پہ کپڑے سے اڑنے والی چھینٹیں بہت مہین ہوتے ہوتے قریبا بالکل غاءب ہوجاءیں، اور اتنی محنت کے بعد کپڑوں کو سوکھنے کے لیے ڈالوں تو بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ صبح مجھے وہ کپڑے بالکل سوکھے ملیں گے۔ کپڑے سکھانے کے اس انداز میں میرے لیے زندگی بھر کا سبق موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ کوءی بھی کام کرنے کا ٹھانو تو اس کی ازحد تیاری کرو؛ جس کام کی جس قدر زیادہ تیاری کی جاءے گی، اس کی کامیابی کے امکانات اس قدر زیادہ ہوں گے۔ اور کپڑے سکھانے کا یہ سبق میں نے کوالالمپور سے روانگی میں بھی اختیار کیا تھا۔ مگر اس سے پہلے کچھ پرانا حال سن لیں۔ انڈونیشیا میں میرا سفر جکارتا سے جزیرہ جافا کے مشرقی کونے تک تھا، پھر وہاں سے بحری جہاز سے جزیرہ بالی۔ اور سفر کا اختتام اس طرح ہونا تھا کہ بالی سے واپس کوالالمپور آنا تھا۔ اس سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے میں نے بالی سے کوالالمپور کے کراءے دیکھے تو وہ کراءے مجھے بہت مہنگے معلوم دیے۔ پھر غور کیا کہ اگر میں بالی سے جکارتا ایک پرواز سے جاءوں اور جکارتا سے کوالالمپور دوسری سے تو ان دونوں پروازوں کے کراءے کا مجموعہ بالی سے کوالالمپور کے کراءے سے بہت کم تھا۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور بالی سے کوالالمپور پہنچنے کے سفر کو دو حصوں میں توڑ لیا۔ مگر اءیر ایشیا کو میری یہ سہولت ذرا نہ بھاءی چنانچہ سفر سے تین روز پہلے مجھے ایک ای میل موصول ہوءی کہ بالی سے جکارتا جانے والی پرواز منسوخ ہوگءی ہے اور اب مجھے بالی سے جکارتا رات کی پرواز میں سوار کیا جاءے گا۔ قباحت یہ تھی کہ یہ پرواز جس وقت جکارتا پہنچتی تھی، اس سے کءی گھنٹے پہلے میری جکارتا سے کوالالمپور والی پرواز کو روانہ ہونا تھا۔ گویا اءیر ایشیا نے میرا یہ انتظام کردیا تھا کہ میری جکارتا سے کوالامپور والی پرواز نکل جاءے اور اگر میں اس رات کوالالمپور نہ پہنچوں تو پھر سویرے کوالالمپور سے ہانگ کانگ والی پرواز میرے ہاتھ سے نکل جانی تھی۔ اس ای میل کو دیکھ کر میں فورا حرکت میں آگیا۔ پہلے اءیر ایشیا کے نماءندے سے آن لاءن چیٹ کی۔ اس نے مشورہ دیا کہ میں ان سے فون پہ بات کروں، چنانچہ فورا ہی اسکاءپ کے ذریعے ان کے بالی دفتر کو فون ملایا۔ میں اس وقت انڈونیشیا کے قصبے بانیوونگی میں تھا۔ اءیر ایشیا کے نماءندے نے پہلے آنا کانی کی اور کہا کہ وہ مجھے اصل دن سے اگلی صبح، سویرے ہی کوالامپور پہنچا دیں گے۔ مگر میں ایسا کھیل کھیلنے کےلیے تیار نہ تھا۔ میں نے انہیں راءے پیش کی کہ وہ میری دونوں پروازیں مسنوخ کر کے مجھے بالی سے سیدھا کوالالمپور لے جاءیں۔ اگر کرایہ زیادہ ہے تو کراءے کی اضافی رقم کا کچھ حصہ اءیر ایشیا دے، کچھ میں دوں کہ اصل قصور تو اءیر ایشیا کا ہے کہ انہوں نے اپنی پرواز کیوں منسوخ کی۔ نماءندے نے کہا کہ وہ دیکھے کا کہ کیا کیا جاسکتا ہے اور مجھے مشورہ دیا کہ میں شام تک دوبارہ ان سے رابطہ کروں۔ میرے جارحانہ رویے کا یہ نتیجہ نکلا کہ مجھے ان کو دوبارہ فون کرنے کی ضرورت نہ پڑی اور اءیر ایشیا کی طرف سے آنے والی ایک ای میل میں بتایا گیا کہ میری بالی سے براہ راست کوالالمپور کی نشست محفوظ کرلی گءی ہے۔ اور اس طرح میں بالی سے سیدھا کوالالمپور پہنچا۔ اگلی صبح ہی مجھے ہانگ کانگ کے لیے جہاز لینا تھا اور اسی وجہ سے میری خواہش تھی کہ میں ہواءی اڈے پہ ہی کسی ہوٹل میں ٹہرجاءوں مگر ایسا انتظام نہ ہوپایا۔ جب میں مرکز شہر میں ایک ہوٹل میں چیک ان کررہا تھا تو اس وقت رات کے گیارہ بجا چاہتے تھے۔ میرا بالکل دل نہ تھا کہ میں صبح پانچ بجے اٹھوں اور بھاگم بھاگ اپنی پرواز سے دو سے تین گھنٹے پہلے ہواءی اڈے پہنچوں۔ آن لاءن دیکھا تو معلوم ہوا کہ اءیرلاءن کے پاس آن لاءن چیک ان کرنے اور بورڈنگ پاس حاصل کرنے سہولت موجود تھی، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ ہوٹل کے استقبالیہ پہ بورڈنگ کارڈ پرنٹ کروایا اور حساب لگایا کہ جہاز چلنے سے دس منٹ پہلے گیٹ تک پہنچنے کے لیے کس وقت ہواءی اڈے پہنچنا چاہیے اور کس وقت صبح اٹھنا چاہیے۔ حساب کتاب تو تیکھا کیا گیا اور اس منصوبے کے حساب سے کام ہوبھی گیا مگر یہ خیال رہا کہ اگر کسی وجہ سے کوالالمپور سینترال سے ہواءی اڈے جانے والی ٹرین نکل جاتی، یا امیگریشن پہ قطار زیادہ لمبی ہوتی، یا قطار میں موجود لوگ میری درخواست پہ مجھے اپنے سے آگے نہ جانے دیتے، تو میرا جہاز یقینا نکل جاتا۔ کسی بھی کام کو کرنے کے لیے اچھی تیاری ضروری ہے مگر اس منصوبہ بندی میں کچھ اضافی وقت کا حساب رکھنا یقینا عقل مندی ہے۔



Wednesday, February 26, 2014

 

حسن نثار کی شریعت



فروری سولہ،  دو ہزارچودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو چھہتر

حسن نثار کی شریعت


طالبان فتنے سے لڑنے کے لیے جس وسیع عوامی حمایت کی ضرورت ہے وہ شاید اب جا کرپاکستان میں بیدار ہونا شروع ہوءی ہے۔ اور عوام کا ذہن بنانے میں، یا باالفاظ دیگر سیاہ و سفید واضح کرنے میں، پاکستانی میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے۔ حال میں ایک ٹی وی شو میں حسن نثار کا سامنا انصار عباسی اور اوریا مقبول جان سے ہوا۔ انصار عباسی اور اوریا مقبول جان دو ایسے مبصرین ہیں جن کی ہمدردیاں واضح طور پہ طالبان کے ساتھ ہیں۔ طالبان سے ہمدردی رکھنا شاید اتنا برا نہیں ہے جتنا ایک گنجلک سوچ رکھنا۔ یہ دونوں حضرات اپنی گنجلک سوچ سے پاکستان کے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ زیر موضوع ٹی وی شو میں حسن نثار نے ان دونوں حضرات کی اچھی مٹی پلید کی مگر حسن نثار نے ان دو بھٹکے ہوءے مبصرین پہ یہ واضح نہیں کیا ان دونوں کی سوچ میں اصل خرابی کیا ہے۔ ان دونوں کو یہ باور نہ کرایا کہ جس طرح انصار عباسی اور اوریا مقبول جان ایک اسلامی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں اور شریعت محمدی کا نفاذ چاہتے ہیں، حسن نثار سمیت سارے مسلمان بھی بالکل ایسا ہی چاہتے ہیں۔ اختلاف اس بات پہ ہے کہ اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے اور شریعت محمدی کے کیا معنی ہیں۔ اور یہ بہت بڑا اختلاف ہے۔ ہم طالبان کو ہرگز ہرگز اسلام کا ٹھیکیدار نہیں سمجھتے اور لفظ 'شریعت' پہ ان کی اجارہ داری کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم طالبان کو اسلام کا دشمن خیال کرتے ہیں اور دل سے سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ جس نظام کو 'شریعت محمدی' کہہ کر نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل 'شریعت طالبانی' ہے اور ایک شیطانی نظام ہے۔ اور طالبان کو ہم اسلام کا دشمن اس لیے سمجھتے ہیں کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ غیرمسلموں میں اسلام کے خلاف جو نفرت بڑھ رہی ہے وہ طالبان اور ان جیسے گمراہ گروہوں کی وجہ سے ہے۔ جس طرح ایک شخص زہر کی بوتل پہ 'شہد' کا لیبل لگا کر دنیا کو بے وقوف بنا سکتا ہے بلکہ اسی طرح طالبان اپنی گمراہ سوچ اور فکر پہ 'اسلام' کا لیبل لگا کر پاکستانیوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔
اور اگر ہمیں مسلم دنیا میں داءیں سے باءیں پھیلی طرح طرح کی 'شریعت محمدی' میں سے کسی ایک کو چننے کا کہا گیا تو ہم آغاخانیوں کی شریعت محمدی کو طالبان کی فسادی شریعت پہ فوقیت دیں گے۔
دنیا میں بہت سے اسلامی ممالک ہیں اور پاکستان میں رہنے والے لوگ ان ملکوں کو دیکھتے ہوءے اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ہم ملاءیشیا کو سعودی عرب سے زیادہ بہتر اسلامی ملک خیال کرتے ہیں کہ وہاں لوگوں کو اسلامی آزادی ہے کہ وہ اپنے لیے جو راہ چاہیں اختیار کریں؛ کوءی ڈنڈے کے زور پہ لوگوں کو 'صراط مسقیم' پہ نہیں چلارہا۔ ہم پاکستان کو ایک ایسی مضبوط فلاحی اسلامی ریاست کے طور پہ دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ریاست مذہبی معاملات سے مکمل کنارہ کشی کر لے؛ ریاست یہ فیصلے نہ کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ ریاست لوگوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دے اور سارا دھیان امن عامہ اور ایک منصف معاشرے کے قیام کی طرف دے۔ یہ وہ منصف اسلامی معاشرہ ہوگا جہاں تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت میسر ہوگی؛ جہاں  ریاست صحت عامہ کو یقینی بناءے گی؛ جہاں کوءی بھوکا نہ سوءے گا۔ یہ ایک ایسی مثالی ریاست ہوگی جس کے عدل کے چرچے دور دور ہوں گے اور دنیا بھر سے لوگ اس ریاست میں آکر اس کا شہری بن جانا چاہیں گے۔



Tuesday, February 25, 2014

 

کوما اور عدنان









فروری نو،  دو ہزارچودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو پچھتر

کوما اور عدنان



سری لنکا میں کوما کی اور ملاءیشیا میں عدنان کی کہانیاں سن کر میں بہت دیر تک ترک وطن معاملے کے متعلق سوچتا رہا۔ وہ کونسے عوامل ہیں جو لوگوں کو ترک وطن پہ مجبور کرتے ہیں، لوگ اپنی شناخت کیا سمجھتے ہیں، وہ اپنی آباءی جگہ چھوڑ کر نءی جگہ جاءیں تو ان کی شناخت کن مراحل سے گزرتی ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ میرے لیے یہ موضوعات اجنبی نہیں ہیں کہ میں خود بھی تارک وطن ہوں، مگر مجھے دوسرے تارکین وطن کی کہانیاں سننے میں مزا آتا ہے۔ ان کہانیوں کو غور سے سن کر میں ایک نءے زاویے سے خود اپنی زندگی کو دیکھ سکتا ہوں۔
کوما سری لنکا میں سیلزمین کا کام کرتا تھا جب اسے موقع ملا کہ وہ مسقط جا کر اس سے کہیں زیادہ پیسے بنا لے جتنے اسے سری لنکا میں ملا کرتے تھے۔ وہ مسقط چلا گیا۔ وہاں وہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے ساتھ کام کرتا تھا اور اسی لیے اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ تھوڑی بہت ہندی/اردو جانتا تھا۔ مگر جب میں نے اس سے اپنی زبان میں بات کرنے کی کوشش کی تو وہ لفظ 'اچھا' سے آگے نہ بڑھ پایا۔ اس کے باوجود جب ہم مسافر آپس میں اردو میں باتیں کرتے تو وہ خاموش ہو کر ہماری گفتگو سنتا تھا اور مجھے خیال تھا کہ چاہے وہ اردو بول نہ سکتا ہو مگر وہ ہماری زبان اچھی خاصی سمجھتا تھا۔ کوما کچھ ہی عرصہ مسقط میں رہا اور جب سری لنکا میں ایک ایسی آسامی نکلی جس میں کوما مسقط کی ملازمت سے تھوڑی ہی سی کم رقم بنا سکتا تھا تو کوما واپس سری لنکا پلٹ آیا۔ مسقط ہو یا بحرین، عرب امارات ہوں یا سعودی عرب، تیل کے بل بوتے پہ تیزی سے مادی ترقی کرنے والے ان ممالک سے پلٹنا اتنا مشکل فیصلہ نہیں ہوتا کیونکہ ان ممالک میں کسی بھی تارک وطن کا اپنی نءی جگہ سے رشتہ محض ایک نوکری کے توسط سے ہوتا ہے؛ اس ملازمت سے آگے کا کوءی انعام نہیں ہوتا۔ آگے کے انعامات مغربی ممالک کا خاصہ ہیں۔ 
کوالالمپور میں عدنان سے میری ملاقات یوں ہوءی کہ ایک روز میں چھوٹے ہندوستان کی وسیع شاہراہ کو چھوڑ کر اندر کی طرف نکل گیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کوالالمپور جو کچھ سیاحوں کو دکھانا چاہتا تھا، اس کے پیچھے کیا ہورہا تھا۔ میں کءی بغلی روڈوں پہ چلتا ہوا ایک اور وسیع سڑک پہ آگیا۔ یہاں ریل کی پٹری کے اوپر موجود پل پار کرنے کے بعد میں پھر داءیں طرف مڑگیا۔ مجھ سے آگے ایک شخص شلوار قمیض میں ملبوس چلا جا رہا تھا۔ تیز تیز قدم چلتا میں کچھ دیر میں اس تک پہنچ گیا۔ میں نے اس سے اردو میں راستہ پوچھا اور پھر اس کے ساتھ چلنا شروع ہوگیا۔ اس کا نام عدنان تھا اور اس کا تعلق لاہور سے تھا۔ وہ آٹھ جماعتیں پڑھا تھا اور سریے کا کام کرتا تھا۔ ڈاءیوو کمپنی اسے ملاءیشیا لاءی تھی جہاں وہ دو ہزار رنگٹ ماہانہ پہ کام کررہا تھا جب کہ عدنان کے کوالالمپور میں رہنے اور کھانے پینے کے اخراجات چھ سو رنگٹ تھے۔ میں نے حساب لگایا کہ وہ ماہانہ قریبا چودہ سو رنگٹ یعنی پچاس ہزار پاکستانی روپے بچا رہا تھا۔ وہ بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم چلتے چلتے وہاں تک پہنچ گءے جہاں ایک بلند عمارت پہ تعمیراتی کام ہورہا تھا۔ عدنان وہیں کام کرتا تھا۔ سینٹ ریجس ہوٹل کی وہ عمارت جنوبی کوریا کی کمپنی ڈاءیوو انجینءیرنگ اینڈ کنسٹرکشن تعمیر کررہی تھی۔
میں کوالالمپور میں لاہور کے ایک اور نوجوان سے ملا تھا۔ اس صاف رنگ کے دراز قد نوجوان کا نام اذان تھا؛ اس کی خشخشی داڑھی تھی۔ میں جس ہوٹل میں ٹہرا تھا اس کے سامنے، دورویہ سڑک کے پار، ایک ریستوراں تھا جو تامل مسلمان چلاتے تھے۔ اذان وہیں کام کرتا تھا اور تنور پہ روٹیاں لگاتا تھا۔ اس کے پوچھنے پہ جب میں نے اپنا تعلق کراچی سے بتایا تو وہ بہت خوش ہوا۔ اس کی کراچی سے بہت سی اچھی یادیں وابستہ تھیں۔ کراچی میں گزرنے والے وقت کو یاد کرکے اس کی آنکھوں میں چمک آگءی تھی؛ اس نے مجھے بتایا کہ اس نے کراچی کی بہت سیر کی تھی۔ ایک وقت تھا کہ وہ کورنگی پانچ نمبر میں رہتا تھا اور کراچی کے پرانے علاقوں صدر، جوڑیا بازار، کھوڑی گارڈن، وغیرہ میں ہرروزجاتا تھا۔ اسے موسیقی کا شوق تھا۔ وہ ان جگہوں سے گانوں کی سی ڈی لے کر آتا تھا۔ اسے ملاءیشیا آءے پانچ سال ہوگءے تھےمگر وہ یہاں خوش نہیں تھا۔ وہ واپس لاہور کیوں نہیں چلا جاتا؟ شاید اس لیے کہ وہ جب بھی ملاءیشیا سے تنگ ہوکر واپس پاکستان جانے کے بارے میں سوچتا ہوگا تو پاکستان سے بم دھماکے کی کوءی تازہ خبر آجاتی ہوگی اور وہ ملاءیشیا میں سخت زندگی گزار کر جان بچانے کو پاکستان جانے پہ ترجیح دیتا ہوگا۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ شاید بہت طویل عرصے تک۔ پاکستان کی ناعاقبت اندیش قیادت کچھ اپنی کرنی اور بہت زیادہ ناکرنی سے ملک میں مستقل بدامنی کی کیفیت رکھے گی۔ اورعدنان، اذان، اور ان جیسے ناجانے کتنے لوگوں کی جوانیاں ان ہی حالات کی بھینٹ چڑھ جاءیں گی۔



Monday, February 24, 2014

 

منکر نکیر اور کیمرے کی آنکھ


فروری دو،  دو ہزارچودہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو چوہتر

منکر نکیر اور کیمرے کی آنکھ


مجھے بچپن میں بتایا گیا تھا کہ ہر انسان کے تمام اعمال کا مستقل حساب رکھا جارہا ہے۔ یہ حساب دو فرشتے رکھتے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے؛ ایک سیدھے شانے پہ براجمان ہے اور دوسرا باءیں پہ۔ یہ دونوں اکاءونٹینٹ مستقل اپنے غیرمرءی کھاتوں میں ہمارے گناہ و ثواب کو ایک طویل جدول میں لکھ رہے ہیں۔ اس کام کے لیے دو کھاتےدار کیوں چاہءیں؟ ایک سے کیوں کام نہیں چل سکتا؟ شاید اس لیے کہ یہ حساب کتاب بہت اہم ہے اور اس جمع تفریق سے روز قیامت ہماری جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ دو فرشتے یہ حساب رکھیں تو ایک کی غلطی دوسرے کے کھاتے کو دیکھ کر صحیح کی جاسکے گی۔ مگر یہ سارے غیرمرءی کھاتے تو آخرت کے روز کھلیں گے؛ اس دنیا میں قانون کی حکمرانی کیسے قاءم کی جاءے؟ وہ فرشتے کہاں سے آءیں جو لوگوں کی بدی و نیکی پہ مستقل نظر رکھیں؟ انتظار کے لمحات ختم ہوءے؛ اب سرویلینس کیمرے اس کام کےلیے حاضر ہیں۔ موجودہ سفر میں پیش آنے والے دو واقعات ملاحظہ فرماءیے۔
بندراناءیکے ہواءی اڈے پہ چار مسافر کراچی سے پہنچے۔ ان مسافروں کو ہواءی اڈے سے ہوٹل پہنچانے کا انتظام موجود تھا؛ ایک ڈراءیور آمدہال میں خاتون مسافر کے نام کی تختی لیے کھڑا تھا۔ یہ چاروں اس ڈراءیور کے ساتھ چلتے ہوءے ہواءی اڈے کے باہر آگءے۔ سامان وین میں رکھا گیا۔ مسفر سوار ہوءے اور وین وسط شہر میں واقع ایک ہوٹل کی طرف چلنا شروع ہوگءی۔ قریبا پینتالیس منٹ بعد جب وین اپنی منزل پہ پہنچی اور سامان کا حساب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک سوٹ کیس غاءب تھا۔ مسافر پریشان ہوگءے۔ پوری وین کا ازسرنو جاءزہ لیا گیا مگر مذکورہ سوٹ کیس نہ ملا۔ سوٹ کیس یقینا جہاز سے نیچے اتارا گیا تھا اور وین تک لایا بھی گیا تھا۔ پھر کسی طرح وہ سوٹ کیس وہیں رہ گیا تھا۔ راقم وین ڈراءیور کے ساتھ واپس ہواءی اڈے کی طرف چلا۔ ہواءی اڈے کا طویل فاصلہ طے کرتے ہوءے تین صورتیں نظر میں تھیں۔ سب سے بہترین صورت تو یہ ہوسکتی تھی کہ سوٹ کیس بالکل اسی طرح اپنی جگہ موجود ہو جس طرح اسے چھوڑا گیا تھا۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے سوٹ کیس اپنے قبضے میں کر لیا ہو۔ اور تیسری اور سب سے خراب بات یہ ہوسکتی تھی کہ کوءی اچکا وہ سوٹ کیس لے کر چلتا بنا ہو۔ ہواءی اڈے پہ پہنچے تو سوٹ کیس اس جگہ نہ تھا جہاں وین کے قریب تر اسے لایا گیا تھا۔ کچھ فاصلے پہ موجود دو سیکیورٹی اہلکاروں سے معلوم کیا گیا؛ انہوں نے ایک دفتر بھیجا۔ پھر ایک دوسری جگہ بھیجا گیا۔ وہاں موجود پولیس افسر کی ڈیسک کے پیچھے لال سوٹ کیس دیوار سے کھڑا صاف نظر آرہا تھا۔ پریشانی ختم ہوءی۔ پولیس افسر نے شناخت جانچنے کے لیے چند سوالات کیے اور سوٹ کیس میرے حوالے کردیا۔ میں نے وین ڈراءیور سے کہا کہ آج یہ بات ثابت ہوگءی کہ سری لنکا کے لوگ بہت ایماندار ہیں۔ یہی بات میں نے ایک سیکیورٹی اہلکار سے کہی تو اس نے کہا کہ تمھارا سوٹ کیس کہیں نہیں جاسکتا تھا کیونکہ سوٹ کیس جہاں چھوڑا گیا تھا وہاں سامنے کیمرہ لگا تھا۔ کیمرے نے لوگوں کو ایمانداری پہ مجبور کیا تھا۔
دوسرا واقعہ۔ ستاءیس جنوری کا پورا دن میں نے جکارتا کی سڑکیں ناپتے گزارا تھا۔ واپس ہوٹل پہنچا تو فورا ہی بستر پہ ڈھیر ہوگیا اور سو گیا۔ پھر میری آنکھ دروازے پہ ہونے والے کھٹکے سے کھلی۔ کیا  کوءی میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا  رہا تھا؟ میں نے کان لگایا۔ ہاں، کوءی میرا ہی دروازہ آہستہ سے کھٹکھٹا رہا تھا۔ ساتھ ہی کسی نے 'مسٹر، اوپن دا ڈور' کہا۔ یہ کون تھا جو بیچ رات میں میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا، مجھ سے دوازہ کھولنے کو کہہ رہا تھا مگر مدعا نہیں بیان کررہا تھا؟ میں بستر میں چپ چاپ پڑا رہا۔ وقت کے ساتھ کھٹکھٹانے کی آواز بلند ہوتی گءی۔ مگر سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے میرے لیے دروازہ کھولنا مناسب نہ تھا، خاص طور پہ اس صورت میں جب دروازے میں کوءی 'جھانک' [پیپ ہول] نہ تھی اور نہ ہی دروازہ کھٹکھٹانے والا اپنا نام اور آنے کا مقصد بتا رہا تھا۔ یہ پورا سلسلہ قریبا پانچ سات منٹ چلا اور پھر بند ہوگیا۔ جاتے قدموں کی چاپ مدھم ہونے پہ میں نے اپنے فون میں وقت دیکھا۔ صبح کے تین بجے تھے۔ میں کچھ دیر اور سوچتا رہا کہ آخر میرا وہ ملاقاتی کون تھا، اور پھر رفتہ رفتہ دوبارہ نیند کی آغوش میں پہنچ گیا۔ صبح جب میں نیچے گیا تو میں نے استقبالیہ پہ موجود شخص کو پوری روداد سناءی۔ اس نے ایک ملازم کو میرے ساتھ کردیا کہ کیمرے کی فوٹیج دیکھ کر معلوم کیا جاءے کہ رات کو میرا دروازہ کھٹکھٹانے والا شخص کون تھا۔ ہم دونوں اس کمرے میں پہنچے جہاں ہوٹل کے تمام کیمروں کی فوٹیج جمع ہوتی تھی۔ وقت کا تعین پہلے ہی تھا؛ دوسرے مالے کے اس مخصوص کیمرے کی فوٹیج دیکھی گءی جس سے میرا کمرہ باہر سے نظر آتا تھا۔ واقعی وہاں دو لوگ نظر آءے۔ دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جب وہ واپسی کے لیے پلٹے تو ہوٹل کے ملازم نے انہیں شناخت کرلیا؛ وہ ہوٹل ہی کے ملازمین تھے۔ ہم دونوں نیچے استقبالیہ پہ پہنچے۔ وہاں موجود شخص کو ان لوگوں کے نام بتاءے گءے جو کیمرے کی فوٹیج میں نظر آءے تھے۔ دونوں کی طلبی ہوءی۔ کچھ ترجموں کے بعد معلوم ہوا کہ غلطی سے میرے کمرے کا نمبر صبح سویرے ہواءی اڈے کی سواری کے لیے لکھا گیا تھا۔ میرے کمرے سے ناکام ہوکر یہ لوگ نیچے آءے تو دوبارہ سے  مہمانوں کے نام دیکھ کر صحیح کمرے کی طرف گءے۔ میں نے کسی قدر خفگی کا اظہار کیا کہ کھٹکھٹانے کے ساتھ اگر یہ کہہ دیتے کہ 'ہواءی اڈے کی سواری تیار ہے' تو میں اندر سے جواب دے دیتا کہ 'تم غلط کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہو'؛ صرف یہ کہنے سے کہ 'دروازہ کھولو' میں شک میں پڑگیا تھا۔ خیر بات رفع دفع ہوگءی۔ مگر ایک دفعہ پھر ثابت ہوا کہ سیکیورٹی کیمرے منکر نکیر کا کام بخوبی کرتے ہیں اور ان سے حساب کتاب کی طلبی میں آخرت کا انتظار کرنے کی بھی کوءی ضرورت نہیں ہے۔




Sunday, February 23, 2014

 

چھوٹے چین سے چھوٹے ہندوستان تک





جنوری چھبیس،  دو ہزارچودہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو تہتر
چھوٹے چین سے چھوٹے ہندوستان تک



سفر کی ڈاءری۔ جنوری  تین۔ دن رات ابھی تک الٹے چل رہے ہیں۔ میری صبح دن بارہ بجے کے قریب ہوتی ہے۔ میں جس ہوٹل میں ٹہرا ہوں وہ کوالالمپور کے چاءنا ٹاءون میں واقع ہے۔ ہوٹل سے باہر نکلیں تو فورا بازار کی رونق شروع ہوجاتی ہے۔ یہ سڑک صرف پیدل چلنے والوں کے لیے ہے۔ انواع واقسام کا سامان اس سڑک پہ لگے ٹھیلوں پہ ڈھیر ہے۔ یہاں سیاح بھی بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ چھابڑی والے سیاحوں کو مسٹر مسٹر پکار پکار کر ان کی توجہ اپنے سامان کی طرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر سیاح بے اعتناءی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔  ہوٹل سے نکل کر میں اس علاقے کی طرف چل پڑا جسے چھوٹا ہندوستان [لٹل انڈیا] کہتے ہیں۔ اس علاقے میں اپنے لوگوں کی اکثریت ہے اور بڑی تعداد تاملوں کی ہے۔ ایک شخص سے چھوٹے ہندوستان کا راستہ پوچھا تو اس نے سامنے  کھڑی بس کی طرف اشارہ کردیا کہ اس میں بیٹھ جاءو۔ میں نے دو انگلیوں کے اشارے سے پیدل چلنے کا اشرہ کیا تو اس نے کسی قدر حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر راستے کی نشاندہی کردی۔ سفر میں میری حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ میں انگریزی نہ بولوں؛ کچھ اردو، کچھ مقامی زبان، اور کچھ اشاروں سے اپنا کام چلا لوں۔ میرا انگریزی سے کیا لینا دینا کہ دوسرے سیاحوں کی طرح میں بھی انگریزی بول کر انگریزی کی اہمیت اجاگر کروں اور زمانے کو یہ پیغام دوں کہ جو انگریزی نہیں جانتا وہ کسی کام کا نہیں ہے۔
سفر میں کسی نءی جگہ پہنچ کر وہاں پیدل چلنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ چیزوں کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں اور یوں زمین سے آپ کا رشتہ قاءم ہوجاتا ہے۔ چھوٹے ہندوستان کی طرف جاتے ہوءے راستے میں کءی جگہ فٹ پاتھ بالکل تنگ ہوگءی؛ ایک جگہ میں ایسے ہی تنگ راستے سے ایک پل کے نیچے سے گزرا جہاں میرے برابر سے تیز رفتار ٹریفک گزر رہا تھا۔ بہت پہلے مہاتیر نے وژن ۲۰۲۰ کا نعرہ لگایا تھا کہ ملاءیشیا ترقی کرتے کرتے ۲۰۲۰ تک دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ میں اس تنگ راستے پہ چلتا ہوا، جہاں جگہ جگہ کچرا بکھرا ہوا تھا، سوچ رہا تھا کہ ۲۰۲۰ میں صرف چھ سال رہ گءے ہیں۔ کیا ان چھ سالوں میں ملاءیشیا واقعی جاپان اور سوءیڈن کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا؟ مجھے جواب نفی میں ملا۔
آگے جا کر پررونق علاقہ شروع ہوگیا۔ ایک جگہ سڑک پار کرنے کے لیے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اچانک وہاں تین نابینا نمودار ہوءے۔ انہوں نے جارحانہ انداز میں اپنی سفید چھڑیاں داءیں باءیں ہلاءیں۔ ان چھڑیوں کی مار اپنے جوتوں پہ کھا کر باقی لوگ کچھ احترام اور کچھ ڈر سے پیچھے ہٹ گءے اور یہ تینوں نابینا سب سے آگے کھڑے ہوگءے۔ اب ان کو کیسے بتایا جاءے گا کہ 'چلو بھاءی، سڑک پار کرنے کا اشارہ ہوگیا ہے۔' مگر یہ تینوں بہت ہوشیار تھے۔ گاڑیوں کے تھمنے کی آواز سن کر یہ سمجھ  گءے کہ پیدل والوں کے لیے چلنے کا اشارہ ہوگیا ہے، یہ چل پڑے۔
 چھوٹے ہندوستان میں ایک ریستوراں پسند آیا کہ وہاں بہت سے لوگ موجود تھے اور کھانا کھا رہے تھے۔ دکان کے ساءن کے ساتھ ہی کلمہ تحریر تھا۔ یہ خفیہ پیغام تھا کہ ریستوراں چلانے والے لوگ مسلمان ہیں اور وہاں حلال کھانا موجود ہے۔ ان کا مینیو دیکھا مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ ویٹر سےکہا کہ نان لاءو، سالن لاءو۔ کچھ دیر انتظار کے بعد ایک تھالی آگءی جس میں دو طرح کے سالن تھے اور دو تربتر پراٹھے تھے۔ پراٹھے تو ذرا سی دیر میں چٹ پٹ ہوگءے، سالن بچ گیا۔ میں کھانے کے ساتھ سنگترے کا رس کسی قدر احتیاط سے پی رہا تھا کہ اس میں برف پڑی تھی۔ ویٹر سے کہا کہ چاول لے آءو کہ بقیہ سالن اس چاول سے ختم کروں۔ اس نے پوچھا، دال؟ کہا، اچھا دال بھی لے آءو۔ ایک اور تھالی آگءی جس میں چاول کے ساتھ دال، اور سبزی بھی تھی۔ میں نے وہ سب ذرا سی دیر میں ختم کردیا۔ کھانا مزیدار اور خوب مصالحے والا تھا۔ گرمی پہلے ہی خوب تھی، یہ کھانا کھا کر پسینے چھوٹ گءے۔
اس ریستوراں میں چار دیسی نوجوان پہلے سے موجود تھے۔ میرا خیال تھا کہ وہ تامل ہوں گے مگر ان کی گفتگو غور سے سنی تو وہ پنجابی بول رہے تھے۔ ایک شخص کے پاس اس کا سوٹ کیس بھی تھا اور لگتا تھا کہ وہ ابھی کوالالمپور پہنچا تھا۔ پھر کچھ دیر بعد تین اور دیسی میرے سامنے والی میز پہ آگءے۔ یہ پکی عمروں کے تھے۔ ان میں جو وضع قطع سے سکھ معلوم دیتا تھا بہت صاف اردو بول رہا تھا۔ مجھے خیال ہوا کہ سنہ سینتالیس کے فسادات میں اس کے باپ دادا مغربی پنجاب سے دربدر ہو کر یوپی کے کسی شہر  میں پہنچے تھے اور یوپی میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے اس کی زبان گنگا جمنی تھی۔ وہ باقی دو کو مشورے دے رہا تھا کہ 'آپ یہاں جو کرنا چاہیں کریں، میں ہر طریقے سے آپ کی پوری مدد کروں گا۔' غالبا بات یہ ہورہی تھی کہ بقیہ دو میں سے ایک نووارد کو ملاءیشیا میں کیا کام کرنا چاہیے۔ ان تینوں نے لسی پی اور کچھ ہی دیر میں وہاں سے اٹھ گءے۔



This page is powered by Blogger. Isn't yours?