Friday, May 25, 2018

 

چار دن پہلے کی ڈائری








چار دن پہلے کی ڈائری
اس گھر کا پائیں باغ رقبے میں تو بڑا ہے مگر وہاں سورج کی روشنی کم ہی پڑتی ہے۔ مغرب اور جنوب کی طرف موجود درخت روشنی کا راستہ روک لیتے ہیں۔ پہاڑ پہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی زمین بھی سخت ہے اور کچھ ہی گہرائی پہ پتھر نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ غرض کہ باغبانی سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے کٹھن حالات ہیں۔ پچھلی دفعہ ٹماٹر لگانے کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا۔ کئی ٹماٹر کے پودے ہرن کھا گئے، کئی اپنی موت آپ مرگئے۔ صرف ایک پودا بچا جسے خواب گاہ کی کھڑکی پہ رکھ دیا تھا۔ اس پودے نے اپنی سی پوری کوشش کر کے ایک پھل دیا جسے میں نے ہانگ کانگ جانے سے پہلے کھایا۔ اس ناکام تجربے سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر کوئی پودا لگانا ہے تو وہ اس گھر کے مغربی کونے میں ہی پنپ سکتا ہے اور وہاں بھی اسے اتنی اونچائی پہ رکھنا ہوگا کہ مغرب میں موجود باڑھ کی سطح پہ ہو اور چند گھنٹے سورج کی روشنی کا خوب مزا لے سکے۔ یہی سوچ کر دفتر کی مغربی کھڑکی سے باڑھ تک لکڑی کا ایک پھٹا رکھا اور اس پہ مٹی سے بھرے دو اگتھیلے [گرو بیگ] رکھ دیے۔ اس سال اوپن فورم میں روانگی سے چند دن پہلے ٹماٹر اور کدو کے بیج اگتھیلوں میں لگائے تھے۔ یہ اگتھیلے جہاں ہیں وہاں آمد کا راستہ میں نے جالی کے دو پرانے دروازوں سے بند کیا تھا۔ نہ جانے کب ان دو دروازوں میں سے ایک دروازہ گر گیا تھا۔ میں دفتر کی اس کھڑکی سے باہر سیب کے درخت کو دیکھ سکتا ہوں۔ بہار آئی تو یہ درخت سفید پھولوں سے بھر گیا۔ میں چوکنا ہوگیا کیونکہ آج پھول ہیں تو جلد پھل بھی آئے گا اور پھر ان پھلوں کو کھانے کے لیے ہرن بھی آئیں گے۔ اور جب ہرن ادھر آئے تو وہ اگتھیلوں کی طرف بھی بڑھیں گے اور ان میں اگنے والے ٹماٹر اور کدو کے پودے کھا جائیں گے۔ چنانچہ اگلی بار جب میں گیلا کوڑا دفنانے پائیں باغ میں گیا تو گرے ہوئے جالی کے دروازے کو واپس اپنی جگہ کھڑا کردیا۔ اگتھیلے ہرن کے وار سے تو محفوظ ہوگئے مگر نہ ٹماٹر کے بیج پھوٹے اور نہ ہی کدو کے۔ البتہ مسلسل آبیاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان اگتھیلوں میں اور طرح کے پودے نکل آئے ہیں۔ اب میں ان پودوں کی حفاظت کررہا ہوں اور امید کررہا ہوں کہ شاید وقت سے ٹماٹر اور کدو کے پودے بھی نکل پڑیں۔



This page is powered by Blogger. Isn't yours?