Tuesday, January 20, 2015
پشاور قتل عام کی ماہ گرہ
جنوری سترہ،
دو ہزار پندرہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو چوبیس
پشاور قتل عام کی ماہ گرہ
سولہ جنوری سے سولہ فروری،
پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کو ایک ماہ گزر گیا۔ اگر وہ بچے سولہ جنوری کے
روز نہ مارے گءے ہوتے تو اس ایک مہینے میں انہوں نے کیا کچھ نہ کیا ہوتا، ننھی
معصوم شرارتیں، تعلیم کے زینے پہ قدم بہ قدم سفر، اور محض اپنے وجود سے ان بچوں نے
اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو مستقل آنکھوں کی ٹھنڈک پہنچاءی ہوتی۔ مگر
افسوس یوں نہ ہوا۔ سولہ جنوری کو انہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ شاعر ہم گونگوں
کو زبان دیتے ہیں، بات کہنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ۔۔ پڑھنے والوں کے
نام ۔۔ جو اصحاب طبل وعلم ۔۔ کے دروں پر
کتاب اور قلم ۔۔
کا تقاضا لیے ، ہاتھ پھیلائے ۔۔
پہنچے مگر لوٹ کر گھر نہ آئے ۔۔ وہ معصوم جو بھولپن میں ۔۔ وہاں اپنے ننھے چراغوں
میں لو کی لگن ۔۔
لے کر پہنچے ۔۔ جہاں بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ ، بے انت راتوں کے سائے۔۔
پاکستان میں موجود نظریاتی
کنفیوژن اور نظریات کی جنگ میں ان ننھے بچوں نے گولیوں کی بوچھاڑ اپنے جسموں پہ
لی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کے وہ لوگ جو اب تک خاموش بیٹھے تھے، جو
قدیانیوں کو مارے جانے پہ چپ رہے، جو ہندوءوں کو زبردستی مسلمان بنانے پہ خاموش
رہے، جو عیساءیوں کو زندہ جلاءے جانے کے واقعات پہ ہونٹ سیے بیٹھے رہے، جو توہین
رسالت جیسے شرمناک قانون کے بے دریغ اور استحصالانہ استعمال پہ منہ بند کیے رہے،
جو شیعہ ڈاکٹروں اور دوسرے لوگوں کے قتل پہ خاموش رہے، جو ہزارہ لوگوں کے مستقل
قتل عام پہ کچھ نہ بولے، جو سیاسی قءدین اور دوسرے عام لوگوں کے قتل پہ زبانیں بند
کیے بیٹھے رہے، وہ پشاور میں مارے جانے والے ان بچوں کے قتل عام پہ غصے میں گھروں
سے نکل آتے۔ کہ خون میں لتھڑے ان ننھے بچوں کی آنکھوں میں انہیں اپنے بچے نظر آتے۔
وہ چیخ چیخ کر کہتے کہ انہیں ایسے لوگوں سے کوءی ہمدردی نہیں ہے جو چھپ کر آءیں،
بچوں کا قتل عام کریں، اور پھر ہمیں تاولیں پیش کریں کہ 'دین اسلام' اس طرح کے قتل
عام کی اجازت انہیں کیونکر دیتا ہے۔ مگر ایسا نہ ہوا؛ پاکستان کے عام لوگ بلبلا کر
سڑکوں پہ نہ آءے۔ اور ایسا یوں نہ ہوا کیونکہ جس ملک گیرنظریاتی کنفیوژن کی بھینٹ
پشاور کے اسکول کے بچے چڑھے تھے اسی نظریاتی کشمکش میں پاکستان کے بہت سے لوگ آج
بھی مبتلا ہیں۔ کچے ذہنوں کے بہت سے لوگ 'اسلام' اور 'شریعت' کا نام سنتے ہی
خاموشی سے سر جھکا لیتے ہیں۔ وہ اتنے بھولے ہیں کہ شہد کی بوتل میں کیے جانے والے
زہر کے کاروبار کو نہیں پہچانتے۔ وہ اتنی سی بات نہیں سمجھتے کہ نہ قرآن بول سکتا
ہے اور نہ اسلام۔ کہ جو شخص ہمیں سکھا رہا ہے کہ قرآن اور اسلام دراصل فلاں فلاں
باتیں بتا رہے ہیں، اس شخص کی ان تشریحات میں اس کا اپنا علم اور اپنے تعصبات ضرور
شامل ہیں۔ پاکستان کے بہت سے بھولے لوگ
نہیں سمجھتے کہ 'اسلام' اور 'شریعت محمدی' کوءی پتھر پہ پڑی لکیریں نہیں ہیں جن کے
بارے میں دنیا بھر کے تمام مسلمان متفق ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں میں اتنے
زیادہ فرقے نہ ہوتے اور ہر فرقہ اسلام کے بنیادی احکامات کے بارے میں جدا راءے نہ
رکھتا۔ وہ بھولے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ دراصل طالبان جب یہ کہتے ہیں کہ وہ 'اسلامی
نظام' کا قیام چاہتے ہیں تو دراصل وہ ایسے نظام کا قیام چاہتے ہیں جس میں طالبان سب کو بتاءیں کہ صحیح اسلام کیا ہے اور کس کے
عقاءد ٹھیک ہیں اور کس کے قابل جرم۔ بھولے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ لوگ ہمیں 'صحیح اسلام' کیا خاک سکھاءیں گے جو خود اتنے کم
تعلیم یافتہ ہیں کہ انہیں کسی دفتر میں چپڑاسی کی نوکری بھی نہ ملے۔
سانحہ پشاور کی ماہ گرہ پہ سان
فرانسسکو میں ایک احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا گیا۔ اس احتجاج کا انتظام طوبیٰ سید اور ان کے
ساتھیوں نے کیا تھا۔ اس جلسے میں جہاں پشاور میں بچوں کے قتل عام پہ غم و غصے کا
اظہار کیا گیا وہیں پاکستان کے ان معدودے عظیم شہریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا
جو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کو کافر قرار دیے جانے سے لے کر ہزارہ لوگوں
کو مارے جانے تک، اور نام نہاد 'توہین رسالت' قانون کی مدد سے لوگوں کے استحصال سے
لے کر پشاور قتل عام تک، یہ سارے واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مگر سانحہ
پشاور کی ماہ گرہ کے جلسے میں کی جانے والی اتنی ساری باتوں کے باوجود یہ وضاحت نہ
تھی کہ پاکستان میں دہشت گردی کے سدباب کے لیے اس وقت کیا اقدامات ضروری ہیں۔
فروری اٹھاءیس کو چاندنی
ریستوراں، نو ارک میں ایک جلسہ اسی موضوع پہ ہورہا ہے کہ ہم نے آنسو تو بہت بہا
لیے، نعرے بھی لگا لیے، اپنا غم و غصہ بھی دکھا دیا، پاکستان میں مقیم باشعور
شہریوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کردیا، موم بتیاں بھی بہت سی روشن کردیں، مگر اصل
میں وہ کونسے کام ہیں جو پاکستان میں کیے جانے چاہءیں جن سے مذہبی شدت پسندی کو جڑ
سے اکھاڑ پھینکا جاءے اور پاکستان کو ایک مہذب اور محفوظ ملک بنایا جاءے۔
Charlie Hebdo, Freedom of Expression, Islam, Shariat, Nizam e Mustufa, Peshawar Army Public School, 16 January, Civil Society, Pakistan, February 8, Vision 2047, Peshawar commemorative program, Chandni Restaurant, Newark, California, Taliban, TTP, Quran, Hadith,
Labels: 16 January, California, Charlie Hebdo, Civil Society, February 8, Freedom of Expression, Islam, Nizam e Mustufa, Pakistan, Peshawar Army Public School, Shariat, Taliban, Vision 2047
Tuesday, January 13, 2015
شارلی ابدو
جنوری گیارہ،
دو ہزار پندرہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو تءیس
شارلی ابدو
کیا آپ کو یہ نہیں محسوس ہوتا کہ دنیا میں ایک طرح کے دہشت
گردی کے واقعات تواتر سے ہورہے ہیں؟ مذہبی شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ یوں تو یہ شدت
پسندی بدھ مت، ہندو مت، اور یہودیت میں بھی بڑھ رہی ہے مگر 'اسلام' کے نام پہ ہونے
والے دہشت گردی کے واقعات نے یقینا باقی مذاہب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مسلمانوں کی
اکثریت باقی دنیا کے ساتھ امن سے رہنا چاہتی ہے مگر واضح ہے کہ مسلمانوں ہی میں
بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو رحمت اللعالمین کے نام پہ زحمت اللعالمین بنے پھرنے
پہ فاخر ہیں۔
جنونیت کا تازہ ترین واقعہ پیرس، فرانس میں ہوا جہاں
شارلی ابدو [دیگر تلفظ: چارلی ہیبڈو، چارلی ہیبدو] نامی جریدے کے دفتر پہ دہشت
گردوں نے دھاوا بولا اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوءے بارہ لوگوں کو قتل کردیا۔
واضح رہے کہ شارلی ابدو رسالے میں مستقل ایسے کارٹون چھپتے تھے جس میں ہر طرح کے
لوگوں کے مذہبی اعتقادات کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور مختلف مذاہب کی محترم ہستیوں
کی بگڑی شکلیں بنا کر پیش کی جاتی تھیں۔
غیر مسلموں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ مسلمان
اپنے رسول کے بارے میں اس قدر جذباتی کیوں ہیں۔ ان کو جب یہ سمجھایا جاءے کہ جس
طرح تم اپنی ماں کی عزت کے بارے میں جذباتی ہو، مسلمان اپنے نبی کے بارے میں اس سے
دس گنا زیادہ جذباتی ہوتے ہیں تو ان کو بات کچھ سمجھ میں آتی ہے۔
شارلی ابدو میں دہشت گردی کے بعد پھر وہی تماشہ ہوا جو
ہر بار اس طرح کی دہشت گردی کے واقعے کے بعد ہوتا ہے۔ مذمتی بیانات کی بوچھاڑ۔ کچھ
لوگوں کا مذکورہ جریدے اور صحافت سے یکجہتی کے لیے کہنا کہ ہم سب شارلی ہیں۔ کچھ
کا کہنا کہ نہیں ہم شارلی ابدو نہیں ہیں کیونکہ شارلی ابدو کے کارٹون نویس جان
بوجھ کر لوگوں کی دل آزاری کرتے تھے۔ مگر وہ لوگ بھی جو کہہ رہے ہیں کہ وہ شارلی
نہیں ہیں، یہ مانتے ہیں کہ لاکھ کوءی شخص بدتمیزی کرے، گستاخ کارٹون بناءے، لوگوں
کے جذبات مجروح کرے، برگزیدہ ہستیوں کے فحش خاکے بناءے، ایک مہذب معاشرے میں اس
شخص اور اس طرح کا مواد شاءع کرنے والے رسالے پہ مقدمہ تو قاءم کیا جاسکتا ہے، اس
پہ یہ الزام تو لگایا جاسکتا ہے کہ یہ معاشرے میں نفرت کو ہوا دے رہا ہے مگر کسی
طور پہ اس بات کو قبول نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ مسلح لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں
لیں اور ایسے شخص کو قتل کردیں۔
پاکستان میں غازی علم دین نامی شخص کا واقعہ بہت فخر سے بیان کیا جاتا ہے۔ مجھ تک وہ واقعہ اس طرح
پہنچا ہے کہ لاہور میں رہنے
والے علم دین
نامی ایک شخص کو خبر ملتی ہے کہ کسی غیر مسلم نے ایک تحریر میں ہمارے پیارے نبی کی
تذلیل کی ہے۔ علم دین جو بظاہر نبی کا عاشق ہے، طیش میں اٹھتا ہے اور مبینہ گستاخ
رسول کو جان سے مار دیتا ہے۔ انگریز کی حکومت ہے۔ علم دین گرفتار ہوتا ہے، اس پہ
قتل کا مقدمہ چلتا ہے، اور اسے پھانسی کی سزا ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں علم
دین نامی یہ شخص بہت عظیم ہے اور شہادت کے عہدے پہ فاءز ہے کیونکہ اس نے بظاہر
ناموس رسول کے لیے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔ دراصل غازی علم دین اسلام کا نادان
دوست ہے،اس شخص کا جذبات کی رو میں بہہ کر کسی آدمی کو مار دینے کا عمل انسانیت کے
نام پہ عموما اور مسلمانوں کے نام پہ بالخصوص ایک سیاہ دھبا ہے۔
یہ واقعہ بیان کرتے ہوءے میں نے ' ہمارے پیارے
نبی کی تذلیل کرنے کی کوشش' کا کلمہ اس
لیے استعمال کیا ہے کیونکہ ہمارے نبی اور عموما انبیا کا تو خیر الگ مقام ہے، اور
بڑے لوگ بھی اپنی عزت یا تذلیل کے لیے دوسروں کی تحریر کے محتاج نہیں ہوتے۔ لوگ
اپنے کاموں سے اپنا اونچا یا نیچا مقام بناتے ہیں، کسی کی اپنے بارے میں تحریر یا
تقریر سے نہیں۔ یہ بات تو ہمیں قرآن بھی بتاتا ہے کہ عزت یا ذلت دینے والی ہستی تو
صرف اللہ کی ہے۔
غازی علم دین
نامی اس گمراہ شخص نے کس عظیم ہستی کی ناموس کی حفاظت کی؟ وہ عظیم آدمی کہ دشمن اس
کا مذاق اڑاتے ہوں، اس پہ پھبتیاں کستے ہوں، اور وہ ان لوگوں کی بات کا ذرا برا نہ
مناءے اور ان کے لیے دعا کرتا ہوا آگے بڑھ جاءے۔ وہ شخص کہ جس پہ مہینوں کسی گھر
سے کچرا پھینکا جاتا ہو اور ایک دن اس عمل میں خلل آجاءے تو وہ مذکورہ گھر کا
دروازہ کھٹکھٹا کر روز کچرا پھینکنے والی عورت کی خیریت معلوم کرے۔ اس عظیم شخص کی
ناموس کا محافظ علم دین نامی یہ کمتر انسان ہو سکتا ہے؟ ذرا سوچیے کہ اگر علم دین
کو ہمارے پیارے نبی کے سامنے پیش کیا جاتا تو ہمارے نبی اس بے وقوف شخص سے کیا
کہتے۔ وہ یقینا کچھ پیار سے اور کچھ غصے سے اس جاہل آدمی کو سمجھاتے کہ ایک عظیم
پیغام اور اس کے پیمبر کی ناموس کی حفاظت کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اس پیغام
کے ماننے والے لوگ ہوش مند ہوں اور بہترین شہری بن کر دکھاءیں۔ وہ جذبات میں آکر
خود انتظامیہ، خود عدالت، اور خود جلاد نہ بن جاءیں۔
Labels: Al Qaeda, Amedy Coulibaly, Charlie Hebdo, Chérif Kouachi, France, ISIS, Islam, Muslims, Paris, Said Kouachi, terrorism
Tuesday, December 30, 2014
پاکستان کی سمت کی جنگ؛ سماجی معاہدہ
دسمبر اٹھاءیس، دو ہزار چودہ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو اکیس
پاکستان میں لوگوں کو
'اسلام' کی چھڑی کی مار ماری جاتی ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر کسی ایسے شخص کے خلاف
بات کی جو زور زور سے اسلام کا نام استعمال کررہا ہے تو اس شخص سے مخالفت کو اسلام
کی مخالفت سمجھا جاءے گا۔ لوگ مولویوں اور اسلام کے ٹھیکیداروں سے ڈر کر
رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کو اس وقت حیرت ہوءی جب پاکستان میں شاید پہلی بار کسی مسجد کے باہر مسجد کے مولوی کے خلاف
مظاہرہ ہوا۔ اس بات کا عین امکان ہے کہ بہت سے مولوی پشاور اسکول سمیت طالبان کے
تمام حملوں کے متعلق ایسے ہی خیالات رکھتے ہوں جیسے خیالات لال مسجد کے
ملاعبدالعزیز برقعہ پوش رکھتے ہیں مگر عبدالعزیز کی شامت یہ آءی کہ ٹی وی پہ نظر
آنے کے شوق میں انہوں نے دل کی بات ٹی وی پہ کہہ دی۔ پشاور اسکول حملے کے بعد لوگ
طالبان اور ان کے حمایتیوں سے سخت نالاں ہیں چنانچہ لوگوں کا غصہ عبدالعزیز پہ
نکلا اور ان کی مسجد کے باہر مظاہرہ شروع ہوگیا۔
یہ بات سب پہ واضح ہے کہ اس
وقت پاکستان کی سمت کی جنگ جاری ہے۔ جناح کی رحلت کے فورا بعد پاکستان کی سمت
بدلنا شروع ہوءی اور پاکستان بتدریج مولوی کے اسلام کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
پاکستان اس دلدل میں کتنا اندر ہے؟ کیا اس وقت بھی وہ ملک اس دلدل سے باہر آسکتا ہے؟
کیا یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کا مذہب، لوگوں کا ایمان لوگوں کا ذاتی
معاملہ ہواور ریاست ان معاملات میں اپنی ٹانگ نہ اڑاءے؟ تماشہ آپ بھی دیکھ رہےہیں
اور ہم بھی۔
ہم خیال لوگوں کی جو بستی
کراچی سے باہر بننے جارہی ہے اس کے لیے تعلیمی ویڈیو بنانے کا کام جاری ہے۔ ایک ویڈیو
معاشرے میں نظم وضبط پہ بن رہا ہے۔
کسی بھی شخص کے لیے جس نے
دنیا میں تھوڑا بہت بھی سفر کیا ہو یہ مشاہدہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ جو معاشرے جس
قدر زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ ہیں ان میں اتنا ہی زیادہ نظم و ضبط ہے۔
دراصل صنعتی انقلاب کے بعد
دنیا کی آبادی میں زوردار اضافہ ہوا ہے اور اتنے زیادہ لوگوں سے نمٹنے کے لیے نظم
و ضبط ضروری ہے۔
جب بہت سارے لوگ ایک ہی
جیسی ضرورت رکھتے ہوں
تو اس مجمعے سے کیسےنمٹا جاءے؟
سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ کسی طریقے کا اہتمام نہ کیا
جاءے۔ مجمع لگانے والے سب آپس میں نمٹیں۔ یہ بات واضح ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا۔ نتیجہ
وہی ہوگا جو غیر مہذب جگہوں پہ نظر آتا ہے یعنی چھینا جھپٹی اور دھینگا مشتی۔ جو
سب سے زیادہ طاقتور ہے وہ سب کو مار پیٹ کر ایک طرف کرے گا اور آگے بڑھ کر اپنا
حصہ لے لے گا۔ کمزور پیچھے رہ جاءیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ طریقہ غیر
مہذب کیوں ہے؟ یہ طریقہ غیرمہذب اس لیے ہے کیونکہ اس طریقے میں جنگل کا قانون
کارفرما ہے اور انسان ایک عرصہ پہلے جنگل کے قانون سے نکل آیا ہے۔ ہم ایسے معاشرے
میں رہتے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں جہاں ہمارے ساتھ انصاف ہو۔ انصاف۔ یہ ایک اچھا
لفظ ہے۔ تو پھر جب بہت سے لوگ ایک ضرورت کے تحت جمع ہوں تو ان سے نمٹنے کے سلسلے
میں انصاف کیسے ہو؟ انصاف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے
سلسلے میں کوءی ترتیب استعمال کی جاءے۔ مثلا پہلے آءو، پہلے پاءو کا نظام اچھا ہے
اور اس میں انصاف بھی نظر آتا ہے۔ اب یہ کیسے معلوم ہو کہ پہلے کون آیا تھا؟ اس کی
ترکیب یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے آگے آنے والا سب سے آگے ہو، اور اس کے بعد آنے والے اس
کے پیچھے نفس در نفس کھڑے ہوتے جاءیں۔ اسی عمل کو قطار بنانا کہتے ہیں۔ قطار بھی
مہذب اور غیر مہذب انداز سے بناءی جاسکتی ہے۔ ایک قطار ایسی بھی ہوسکتی ہے جس میں کچھ
لوگ قطار میں سیدھے کھڑے ہوں اور بہت سے اس قطار کے داءیں باءیں کھڑے ہوں۔ لوگوں
کا ایسا مجمع قطار کی شکل سے دور وہی جھمگٹے والی صورت ہے۔ اس میں یہی احتمال ہے
کہ یہ واضح نہ ہوگا کہ کون بعد میں آیا ہے اور کس کے پیچھے ہے اور لوگ داءیں باءیں
سے قطار توڑ کر اس مجمع میں شامل ہوتے جاءیں گے۔ مہذب قطار وہ ہے جو سیدھی ہو اور
بات باکل واضح ہو کہ کس ترتیب سے کس کی باری پہلے آءے گی اور اس کے بعد کس کی۔ اس
مہذب قطار میں لوگ بھی ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پہ کھڑے ہوتے ہیں، اپنے آگے والے سے
بالکل چپک کر نہیں۔ اگر جگہ تنگ ہو اور قطار کو سیدھی لکیر میں بہت آگے تک نہ
بڑھایا جاسکے تو قطار کو تہہ کردیا جاتا ہے اور لوگ تہہ در تہہ قطار میں آگے کی
طرف بڑھتے رہتے ہیں۔ قطار کی ایک بہتر مہذب شکل وہ ہوتی ہے جس میں بوڑھے، نادار،
اور دوسرے کمزور افراد کا خیال کیا جاءے اور ان کو قطار میں اپنی باری سے سوا آگے
آنے کا موقع دیا جاءے۔
[انڈونیشیا سے سنگاپور جانے والا اءیر ایشیا کا ایک جہاز اس وقت غاءب ہے۔ یہ تصویر اءیر ایشیا کی ایک پرواز کی ہے جس سے ہنوءی سے بینکاک کا سفر کیا گیا تھا۔ حال میں کوالالمپور سے جکارتا اور پھر بالی سے کوالالمپور کا سفر بھی اءیر ایشیا سے کیا گیا مگر ان پروازوں کی کوءی تصویر میرے پاس نہیں ہے۔]
Pakistan, Islam, Maulana Abdul Aziz, Red Mosque, Lal Masjid, Islamabad, Protests, Separation between faith and state, Taliban, Air Asia QZ8501, Surabaya, Singapore, Hanoi, Bangkok, Malaysian Airlines, Malaysia, Elmustee, Discipline in dealing with crowds, crowd control, Elmustee Orientation Videos,
Labels: Air Asia, Islam, Islamabad, Lal Masjid, Maulana Abdul Aziz, Pakistan, Protests, Red Mosque, Separation between faith and state, Taliban

