Tuesday, May 19, 2015

 

جبران ناصر کس کا ایجنٹ ہے؟




مئی سترہ،  دو ہزار پندرہ
 
ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اکتالیس

 
جبران ناصر کس کا ایجنٹ ہے؟
 

اسلام آباد کی لال مسجد کے باہر مظاہرے کے بعد جبران ناصر راتوں رات شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ گیا۔ دراصل مسجد کے باہر مظاہرہ کر کے جبران ناصر نے وہ کام کیا تھا جو بہت سے لوگ کرنا چاہتے تھے مگر اپنی کم ہمتی کی وجہ سے کر نہ پائے تھے۔ لوگ شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے تھے، مذہب کے ٹھیکیداروں سے بغاوت کرنا چاہتے تھے، طالبان کے ہمدردوں کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر خواہش اور عمل میں وہی فرق ہوتا ہے جو ایک حسرت بھری زندگی اور ایک عمل سے بھرپور مطمئن زندگی میں ہوتا ہے۔ جبران ناصر نے مسجد کے باہر مظاہرے کی ابتدا کی تو بہت سے لوگ اس کے پیچھے چل پڑے۔ اور آج جبران ناصر کا نام زبان عام پہ ہے۔
پچھلے کئی ہفتوں سے جبران ناصر امریکہ میں ہیں۔ وہ امریکہ کی مختلف جامعات میں جا کر شدت پسندی کے خلاف گفتگو کررہے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے مسائل پہ بات کرنا دراصل پاکستان کا نام خراب کرنے کے مترادف ہے وہ جبران ناصر سے خوش نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ آخر جبران ناصر کیا چاہتا ہے؟ جبران ناصر کا خفیہ ایجنڈا کیا ہے؟ جبران ناصر کی پشت پناہی کونسی طاقتیں کر رہی ہیں؟ جبران ناصر کس کا ایجنٹ ہے؟ ہر چیز میں سازش تلاش کرنے والے یہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہورہا ہے کہ جبران ناصر امریکہ کے ایک شہر سے دوسرے شہر جارہا ہے اور ہر جگہ اس کو سننے والے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ضرور کوئی بڑی طاقت ہے جو جبران ناصر کے اس تیز گام دورے کا پورا انتظام کررہی ہے۔ لیکن اگر آپ جبران ناصر سے ملیں اور اس سے اس دورے کی تفصیلات حاصل کریں تو آپ تعجب کریں گے کہ کس طرح جبران ناصر کا یہ پورا پروگرام نہایت سادہ نوعیت کا ہے اور اس کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ ہر شہر میں مختلف گروہ انفرادی طور پہ جبران ناصر کا پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ یہی لوگ اپنے شہر میں جبران ناصر کی رہائش اور آمد و رفت کا انتظام کر رہے ہیں۔ اکثر جگہ جبران ناصر لوگوں کے گھروں میں ٹہر رہا ہے۔ جبران ناصر کے پیغام سے محبت کرنے والے لوگ ہر طریقے سے جبران ناصر کی مالی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں۔ جبران ناصر کیونکہ جواں سال ہے اس لیے توانائی سے بھرپور ہے۔ جبران بیک وقت مختلف شہروں میں رہنے والے بہت سے پاکستانی گروہوں سے رابطے میں ہے اور ان سے بات چیت کر کے مستقل اپنے دورے کی جزئیات طے کر رہا ہے۔
مثلا سنیچر، مئی سولہ، کو مہران ریستوراں میں ہونے والے پروگرام کے بارے میں ہی جاننے کی کوشش کیجیے کہ آخر دو سو لوگوں کا یہ کامیاب جلسہ کیسے ہوپایا۔ سان فرانسسکو بے ایریا میں رہنے والے لوگ ذوالقی خان، ظفر جعفری، شہاب حسن، سہیل اکبر، جاوید الہی، اور صفوان شاہ کے ناموں سے نہ صرف یہ کہ واقف ہیں بلکہ ان سے ملتے بھی رہتے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ جبران ناصر کے اس دورے کے پیچھے کوئی مضبوط خفیہ ہاتھ ہے انہیں چاہیے کہ وہ بے ایریا میں رہنے والے ان چھ لوگوں سے پوچھیں کہ انہوں نے کس خفیہ ہاتھ کے اشارے پہ بے ایریا میں ہونے والے جبران ناصر کے پروگرام میں بھرپور مالی اعانت کی تھی۔
سو باتوں کی ایک بات یہ کہ جبران ناصر اللہ کا نام لے کر بے خطر اس میدان میں کود پڑا ہے جہاں ایک طرف شدت پسندی کے دیو ہیں اور دوسری طرف میدان کے اس کونے میں عام لوگ ڈرے دبکے کھڑے ہیں۔ عمل کے اس میدان میں کودنے کے بعد ہر جگہ جبران ناصر کے پرحق پیغام سے متاثر ہونے ہزارہا لوگوں کے سر اور کاندھے جبران ناصر کا سہارا  بن گئے ہیں اور جبران ناصر محبت کی اس سواری پہ لدا آگے سے آگے بڑھ رہا ہے۔



Who is behind Jibran Nasir? What is Jibran Nasir's agenda? Who is paying for Jibran Nasir's US visit?  Does Jibran Nasir work for the CIA? Is Jibran Nasir an ISI agent? Is the Pakistan Army supporting Jibran Nasir?  Is Jibran Nasir working for RAW?  Is Jibran Nasir a double, triple agent working for multiple intelligence agencies?

Labels: , , , ,


Tuesday, January 20, 2015

 

پشاور قتل عام کی ماہ گرہ








جنوری سترہ،  دو ہزار پندرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چوبیس
 
پشاور قتل عام کی ماہ گرہ


سولہ جنوری سے سولہ فروری، پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کو ایک ماہ گزر گیا۔ اگر وہ بچے سولہ جنوری کے روز نہ مارے گءے ہوتے تو اس ایک مہینے میں انہوں نے کیا کچھ نہ کیا ہوتا، ننھی معصوم شرارتیں، تعلیم کے زینے پہ قدم بہ قدم سفر، اور محض اپنے وجود سے ان بچوں نے اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو مستقل آنکھوں کی ٹھنڈک پہنچاءی ہوتی۔ مگر افسوس یوں نہ ہوا۔ سولہ جنوری کو انہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ شاعر ہم گونگوں کو زبان دیتے ہیں، بات کہنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ۔۔ پڑھنے والوں کے نام ۔۔ جو اصحاب طبل وعلم ۔۔ کے دروں پر کتاب اور قلم ۔۔ کا تقاضا لیے ، ہاتھ پھیلائے ۔۔ پہنچے مگر لوٹ کر گھر نہ آئے ۔۔ وہ معصوم جو بھولپن میں ۔۔ وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن ۔۔ لے کر پہنچے ۔۔ جہاں بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ ، بے انت راتوں کے سائے۔۔
پاکستان میں موجود نظریاتی کنفیوژن اور نظریات کی جنگ میں ان ننھے بچوں نے گولیوں کی بوچھاڑ اپنے جسموں پہ لی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کے وہ لوگ جو اب تک خاموش بیٹھے تھے، جو قدیانیوں کو مارے جانے پہ چپ رہے، جو ہندوءوں کو زبردستی مسلمان بنانے پہ خاموش رہے، جو عیساءیوں کو زندہ جلاءے جانے کے واقعات پہ ہونٹ سیے بیٹھے رہے، جو توہین رسالت جیسے شرمناک قانون کے بے دریغ اور استحصالانہ استعمال پہ منہ بند کیے رہے، جو شیعہ ڈاکٹروں اور دوسرے لوگوں کے قتل پہ خاموش رہے، جو ہزارہ لوگوں کے مستقل قتل عام پہ کچھ نہ بولے، جو سیاسی قءدین اور دوسرے عام لوگوں کے قتل پہ زبانیں بند کیے بیٹھے رہے، وہ پشاور میں مارے جانے والے ان بچوں کے قتل عام پہ غصے میں گھروں سے نکل آتے۔ کہ خون میں لتھڑے ان ننھے بچوں کی آنکھوں میں انہیں اپنے بچے نظر آتے۔ وہ چیخ چیخ کر کہتے کہ انہیں ایسے لوگوں سے کوءی ہمدردی نہیں ہے جو چھپ کر آءیں، بچوں کا قتل عام کریں، اور پھر ہمیں تاولیں پیش کریں کہ 'دین اسلام' اس طرح کے قتل عام کی اجازت انہیں کیونکر دیتا ہے۔ مگر ایسا نہ ہوا؛ پاکستان کے عام لوگ بلبلا کر سڑکوں پہ نہ آءے۔ اور ایسا یوں نہ ہوا کیونکہ جس ملک گیرنظریاتی کنفیوژن کی بھینٹ پشاور کے اسکول کے بچے چڑھے تھے اسی نظریاتی کشمکش میں پاکستان کے بہت سے لوگ آج بھی مبتلا ہیں۔ کچے ذہنوں کے بہت سے لوگ 'اسلام' اور 'شریعت' کا نام سنتے ہی خاموشی سے سر جھکا لیتے ہیں۔ وہ اتنے بھولے ہیں کہ شہد کی بوتل میں کیے جانے والے زہر کے کاروبار کو نہیں پہچانتے۔ وہ اتنی سی بات نہیں سمجھتے کہ نہ قرآن بول سکتا ہے اور نہ اسلام۔ کہ جو شخص ہمیں سکھا رہا ہے کہ قرآن اور اسلام دراصل فلاں فلاں باتیں بتا رہے ہیں، اس شخص کی ان تشریحات میں اس کا اپنا علم اور اپنے تعصبات ضرور شامل ہیں۔  پاکستان کے بہت سے بھولے لوگ نہیں سمجھتے کہ 'اسلام' اور 'شریعت محمدی' کوءی پتھر پہ پڑی لکیریں نہیں ہیں جن کے بارے میں دنیا بھر کے تمام مسلمان متفق ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں میں اتنے زیادہ فرقے نہ ہوتے اور ہر فرقہ اسلام کے بنیادی احکامات کے بارے میں جدا راءے نہ رکھتا۔ وہ بھولے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ دراصل طالبان جب یہ کہتے ہیں کہ وہ 'اسلامی نظام' کا قیام چاہتے ہیں تو دراصل وہ ایسے نظام کا قیام چاہتے ہیں جس میں طالبان سب کو بتاءیں کہ صحیح اسلام کیا ہے اور کس کے عقاءد ٹھیک ہیں اور کس کے قابل جرم۔ بھولے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ لوگ ہمیں  'صحیح اسلام' کیا خاک سکھاءیں گے جو خود اتنے کم تعلیم یافتہ ہیں کہ انہیں کسی دفتر میں چپڑاسی کی نوکری بھی نہ ملے۔
سانحہ پشاور کی ماہ گرہ پہ سان فرانسسکو میں ایک احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا گیا۔ اس احتجاج کا انتظام طوبیٰ سید اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ اس جلسے میں جہاں پشاور میں بچوں کے قتل عام پہ غم و غصے کا اظہار کیا گیا وہیں پاکستان کے ان معدودے عظیم شہریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا جو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کو کافر قرار دیے جانے سے لے کر ہزارہ لوگوں کو مارے جانے تک، اور نام نہاد 'توہین رسالت' قانون کی مدد سے لوگوں کے استحصال سے لے کر پشاور قتل عام تک، یہ سارے واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مگر سانحہ پشاور کی ماہ گرہ کے جلسے میں کی جانے والی اتنی ساری باتوں کے باوجود یہ وضاحت نہ تھی کہ پاکستان میں دہشت گردی کے سدباب کے لیے اس وقت کیا اقدامات ضروری ہیں۔
فروری اٹھاءیس کو چاندنی ریستوراں، نو ارک میں ایک جلسہ اسی موضوع پہ ہورہا ہے کہ ہم نے آنسو تو بہت بہا لیے، نعرے بھی لگا لیے، اپنا غم و غصہ بھی دکھا دیا، پاکستان میں مقیم باشعور شہریوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کردیا، موم بتیاں بھی بہت سی روشن کردیں، مگر اصل میں وہ کونسے کام ہیں جو پاکستان میں کیے جانے چاہءیں جن سے مذہبی شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاءے اور پاکستان کو ایک مہذب اور محفوظ ملک بنایا جاءے۔


Charlie Hebdo, Freedom of Expression, Islam, Shariat, Nizam e Mustufa, Peshawar Army Public School, 16 January, Civil Society, Pakistan, February 8, Vision 2047, Peshawar commemorative program, Chandni Restaurant, Newark, California, Taliban, TTP, Quran, Hadith,  

Labels: , , , , , , , , , , , ,


Tuesday, January 06, 2015

 

جبران ناصر کی عظمت کو سلام





جنوری چار،  دو ہزار پندرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو باءیس


جبران ناصر کی عظمت کو سلام



جبران ناصر وہ نوجوان وکیل ہے جو اسلام آباد میں رہنے والے طالبان کے حواریوں کے خلاف مظاہروں کی قیادت کررہا ہے۔ کچھ دن پہلے فیس بک پہ ایک ایسی ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں جبران ناصر پاکستانیوں سے مخاطب ہے اور بتا رہا ہے کہ ہر مذہب، ہر فرقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر امن سے رہنا ہی اصل انسانیت ہے۔ جبران ناصر جس دانش مندی سے یہ باتیں کررہا ہے کاش کہ ایسی دانشمندی ہماری سیاسی قیادت کو بھی آجاءے۔ اس ویڈیو میں سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں جبران بتا رہے کہ اس کے مخالفین اس پہ قادیانی یا شیعہ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ جبران کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والوں کا  مشورہ تھا کہ جبران کسی سنی عالم دین کے ساتھ بیٹھ کر ایک ویڈیو میں ان جھوٹے الزامات کی تردید کرے۔ اس کے آگے جبران نے جو بات کہی وہ سونے میں تولنے کے قابل ہے۔ اس نے کہا کہ وہ تو سنی ہے اور اپنے سنی ہونے کی سند پیش کرسکتا ہے مگر کیا کسی کا قادیانی یا شیعہ یا غیرمسلم ہونا اتنا بڑا جرم ہے کہ پاکستان میں اس شخص کی جان کے لالے پڑ جاءیں؟ جبران پوچھتا ہے کہ پاکستان کے رہنے والے وہ قادیانی کہاں جاءیں جو اپنے قادیانی ہونے پہ فخر کرتے ہیں، اور پاکستان کے عیساءی اور ہندو کیا کریں؟
یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی ریاست کو جلد از جلد مذہبی معاملات سے باہر نکالنا ہوگا۔ مذہب اور اعتقادات لوگوں کا ذاتی معاملہ ہیں؛ ریاست کو ان معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوءی ضرورت نہیں ہے۔ کون کافر ہے اور کون نہیں، اس کا فیصلہ روز قیامت ہوگا۔ اگر یہ بات مولویوں کو سمجھ نہیں آرہی تو نہ آءے۔ لگانے دو ان نادانوں کو ایک دوسرے پہ کفر کے فتوے، مگر ریاست کو اس گندگی سے دور رکھو۔
درج ذیل اقتباس 'آگ، ہوا، مٹی، پانی' نامی کتاب سے لیا گیا ہے اور زیربحث موضوع سے متعلق ہے۔
دارالعمل
آنتی گا سے گواتے جاتے ہوئے ایک بار پھر وہ عمارت نظر آئی جس پہ عربی میں کلمہ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے ارادہ کیا کہ اُس روز گواتے سے واپس آتے ہوئے اس جگہ رُ ک کر ضرور معلومات کریں گے ۔ بس نے ہمیں مرکز شہر میں اتار دیا۔ ہمارے پاس گواتے کا نقشہ موجود تھا۔ ڈاکخانہ دو تین میل سے زیادہ دور نہ تھا۔ ہم پیدل اُس طرف چل دیے۔مرکز شہر کے فٹ پاتھوں پر ٹھیلے لگے ہوئے تھے ۔ اُن ٹھیلوں نے لوگوں کے چلنے کی جگہ گھیر لی تھی۔ ہم ایک ایسے علاقے سے گزرے جہاں کھڑکیوں اور دروازوں پر لوہے کی موٹی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ وہ کاروبار یقینا اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتے تھے۔
مرکزی ڈاکخانے کی عمارت بہت بڑی اور پُر شکوہ تھی۔ مگر اتنی بڑی عمارت کے اندر ہمارے نام ایک بھی خط نہیں تھا۔ ہم وہاں سے مایوس باہر نکلے اور شہر کو فتح کرنے کی نیت سے ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔ جب ایک جیسی سڑکوں اورایک جیسی مفلوک الحالی سے دل بھر گیا تو واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ بس میں بہت زیادہ رش تھا۔ میں مستقل کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ مجھے آنتی گوا کے راستے میں پڑنے والی کلمے والی عمارت کی تلاش تھی۔ جیسے ہی وہ عمارت نظر آئی میں نے “روکو، روکو” کا شور مچا دیا۔ گواتے سے آتنی گوا جانے والی بس بیچ راستے میں کہیں نہیں رُکتی تھی۔ جو مسافر گواتے سے چڑھتے وہ آنتی گوا جا کر ہی اُترتے تھے۔ میرے روکو، روکو کے شور پر کچھ دیر تو خوب افراتفری رہی۔ کچھ مسافر میرے ساتھ مل گئے تھے اور بس کو وہاں رُکوانا چاہتے تھے، کچھ دوسرے حیران تھے کہ آخر بس کو یہاں بیچ میں رُکوانے کی کیا تُک ہے۔ تھوڑا سا آگے جانے کے بعد آخر کار بس رُک ہی گئی۔ ہم مسافروں کو چیرتے پھاڑتے بس سے اترے اور سڑک کے ساتھ پیچھے کی طرف چل پڑے۔
ہمارا مطلوبہ احاطہ ایک بہت بڑی اراضی کا حصار کیے ہوئے تھے۔ دیوار پر کلمے کے نیچے ہسپانوی میں "دارالعمل اسلامی مرکز” لکھا ہوا تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی چوکیدار کا گھر تھا۔ گھنٹی بجانے پر چوکیدار کے گھر سے ایک مقامی ہندی لڑکا نکل کر آیا۔ اُس نے بوسیدہ نیکر اور ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ لڑکے نے ہم سے پوچھا کہ ہم کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ ہم اسلامی مرکز کو اندر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ہماری بات سُن کر واپس گھر میں گھُس گیا۔ ہمیں گھر کے اندر سے اُس لڑکے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لڑکے نے فون پر کسی سے بات کی اور انہیں ہمارے بارے میں بتایا۔ اندر سے اجازت ملنے پر ہمارے لیے گیٹ کھول دیا گیا۔ اسلامی مرکز پہاڑ پر واقع تھا۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں تصور ہے کہ خدا کہیں اوپر کی طرف رہتا ہے۔ چنانچہ مذہبی عمارتیں اور مینار اپنی اونچائی سے آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید اس طرح کا خیال رکھنے والوں کو ہوائی جہاز میں عبادت کرنے کا خاص لطف آتا ہو۔
ہم بڑی بڑی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر عمارت تک پہنچے۔ اسلامی مرکز کی عمارت بہت عمدہ اور جدید انداز کی تھی۔ عمارت کے باہر ایک لڑکا ہمارے انتظار میں کھڑا تھا۔ وہ شکل سے دیسی (برصغیر کا) نظرا ٓتا تھا۔ ہم نے اُس سے اردو میں بات کی۔ وہ اٹک اٹک کر اردو بول رہا تھا۔ ہمیں ایک انتظار گاہ میں لے جایا گیا۔ اُس لڑکے نے بتایا کہ اُس کے والد مرکز کے منتظم اعلی تھے۔
آپ یہاں انتظار کریں۔ وہ کچھ ہی دیر میں آ جائیں گے،” ہمیں انگریزی میں بتایا گیا۔
اُس انتظار گاہ کی دیواروں پر جو تصویریں لگی تھیں اُن کو دیکھ کر ہمیں فورا اندازہ ہو گیا کہ وہ مرکز قادیانی فرقے کے لوگوں کا تھا۔ پھر وہاں دو آدمی آ گئے۔ انہوں نے گول ٹوپیاں لگا رکھی تھیں۔ میں نے اُن دونوں سے ہاتھ ملایا۔ اگر دنیا کے کسی اور خطے میں میری ملاقات اُن دونوں سے ہوئی ہوتی تو میں اُن کی شکلیں اور حلیہ دیکھ کر شرط لگاتا کہ اُن کا تعلق ملیشیا یا انڈونیشیا سے ہوگا۔ مگر ہم اُس وقت گواتے مالا میں تھے۔ وہ دونوں وہیں کے رہنے والے تھے اور انہوں نے حال میں عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ 
میرے ذہن میں خدا کا جو تصور ہے وہ خوبصورتی کا ایک پرتو ہے۔ میرے نزدیک خدا سے تعلق کی بات بہت حسین ہے اور جو لوگ خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے آپ کو اپنی طرف بلائیں اُن کی ادائیں، اُن کا ماحول بہت دل کش اور مسحور کُن ہونا چاہیے۔ میں خدا اور خوبصورتی کے اس تصور کے ساتھ جب اُن نام نہاد مذہبی رہنمائوں کی طرف دیکھتا ہوں جو اپنے آپ کو اسلام کا چیمپئین خیال کرتے ہیں اور مستقل دوسروں پر لعن طعن کرتے رہتے ہیں، تو میں اُن رہنمائوں کے اطراف کی بد صورتی سے سخت نالاں ہوتا ہوں۔ مجھے شوق ہے کہ میں مختلف اعتقادات رکھنے والے لوگوں کی عبادت گاہوں کا مشاہدہ کروں۔ میں نے مندروں، گردواروں، کلیسائوں، اورخانقاہوں کا دورہ کیا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ جتنی افراتفری میں نے مسجدوں میں دیکھی ہے اُتنی کسی اور مذہب کی عبادت گاہ میں نہیں دیکھی۔ اس مستقل افراتفری اور بد تمیزی کے باوجود میں نے کسی منبر سے وہ خطبہ نہیں سُنا جس میں کوئی ملا لوگوں کو تمیز کے طریقے سکھا رہا ہو، لوگوں کو بتا رہا ہو کہ وہ قطار بنا کر کیسے مسجد کے اندر داخل ہوں اور وہاں سے باہر نکلیں۔ اسلام کے یہ نام نہاد چیمپئین شاید اپنی ذاتی طہارت کا تو خیال کرتے ہوں مگر اپنی ذات سے باہر ان کو کسی قسم کی صفائی ستھرائی، کسی قسم کی خوبصورتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسی طرح خدا کے رسول کی بتائی ہوئی گہری اور فلسفیانہ باتوں سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا سارا زورنمود و نمائش پر ہے۔ ان کے ماتھے پر کالا گٹا ان کی پارسائی کی مہر ہے۔ اُس مہر سے آگے ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ اپنے حساب سے عقل کی جو باتیں لوگوں کو بتا رہے ہیں اُن باتوں کا موجودہ دور سے اور اس کے مسائل سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں نے کسی مذہبی رہنما کو لوگوں کو یہ بتاتے نہیں سُنا کہ وہ لوگ اپنے آس پاس کے ماحول کو، اپنے محلے کو، اپنے دفتر کو، اپنے اسکول کو صاف سُتھرا کیسے رکھیں اور کوڑے کو کس طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ میں دنیا بھر میں بہت سی مساجد میں گیا ہوں، میں نے پاکستان میں بہت سے مدارس کا بھی دورہ کیا ہے، مگر میں نے کوئی مسجدکوئی مدرسہ ایسا نہیں دیکھا جہاں پھولوں کی خوبصورت کیاریاں ہوں، جہاں پودے اور درخت اس ترتیب سے لگائے گئے ہوں کہ انہیں دیکھ کر آپ کا دل خوش ہو جائے۔بات بات پر کفر کا فتوی جاری کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تضادات کی طرف نظر کریں اور دوسروں کو درست کرنے سے پہلے یہ اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔ وہاں بیٹھے ہوئے یہ باتیں میرے ذہن میں اس لیے آئیں کیونکہ اُس قادیانی مرکز کا انتظام کسی بھی مسجد کے انتطام سے ہزار درجے بہتر تھا۔

Labels: , , , , , , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?