Sunday, October 13, 2013
متفرق موضوعات؛ تفلیس
اکتوبر سات، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو اٹھاون
متفرق موضوعات؛ تفلیس
پاکستان کا قریبا ہر ٹی وی مبصر
اسی موضوع پہ بات کررہا ہےکہ آیا طالبان سے گفت و شنید ہونی چاہیے یا ریاست کو
طالبان پہ فوج کشی کردینی چاہیے۔ طالبان سے کسی قسم کی رتی بھر ہمدردی نہ رکھنے کے
باوجود مجھے یہ خوف ستاتا ہے کہ طالبان سے جنگ کہیں خانہ جنگی کی شکل نہ اختیار کر
لے کہ طالبان جیسے خیالات رکھنے والے لوگ تو پاکستان میں بڑی تعداد میں پاءے جاتے
ہیں اور ملک کی قیادت نے یہ راءے عامہ ہموار نہیں کی ہے کہ طالبان اسلام کا نام لے
کر جھوٹ بول رہے ہیں اور ان کی سرکشی ضروری ہے۔ اب آءیے امریکہ کی طرف۔ جو کام
القاعدہ اپنے دہشت گردی کے ہتھکنڈوں سے نہ کرسکی وہ ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ کے
باہمی جھگڑے میں ہوگیا۔ اتوار کی رات ہے اور امریکی حکومت کو بند ہوءے ہفتہ بھر
ہوچکا ہے۔ امریکی حکومت کی بندش کا مجھ پہ یا میرے جیسے لاکھوں لوگوں پہ کوءی براہ
راست اثر نہیں ہے، مگر جو ادارے براہ راست وفاقی حکومت کے زیراثر ہیں وہاں کام
کرنے والے لوگ یقینا مصیبت میں ہیں۔
سفرنامہ بغیر کسی خاص ترتیب کے
جاری ہے۔ تفلیس [گرجستان کا دارالحکومت؛ انگریزی میں تبلیسی ] کے پرانے شہر میں
چلتے چلتے بھوک چمک گءی تھی۔ دفعتا نظر پڑی ایک ایسے ریستوراں کے ساءن پہ جس پہ
لکھا تھا 'انڈر کینیڈین مینیجمنٹ' [کینیڈین انتظامیہ کے زیرنگرانی]۔ تجسس ہوا کہ
اندر جا کر تفلیس کے اس ریستوراں کی کینیڈین مینیجمنٹ کو تو دیکھیں۔ ریستوراں کے
اندر جا کر اس بابت معلوم کیا تو آرٹ نامی ایک صاحب سے تعارف ہوا۔ موصوف کا تعلق
دراصل حیاستان [آرمینستان] سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ستر کی دہاءی میں حیاستان
سے کینیڈا منتقل ہوءے تھے۔ دراصل ان کے خاندان کے بہت سے لوگ کینیڈا میں مقیم تھے۔
ان ہی لوگوں نے آرٹ کے لیے امیگریشن ویزے کا انتظام کیا تھا۔ کینیڈا پہنچ کر آرٹ
نے اپنا کاروبار شروع کیا اور ایک اسٹور سے دو، دو سے چار کرتے ہوءے بہت مالدار
ہوگءے۔ جب سوویت یونین ٹوٹا اور گرجستان [جورجیا] ایک الگ ملک بنا تو ایک دفعہ یہ
گھومنے پھرنے گرجستان آءے۔ ان کو تفلیس بہت بھایا چنانچہ یہاں آبسے۔ یہ الگ بات ہے
کہ ان کی بیوی اور بچے اب بھی کینیڈا میں رہتے ہیں۔ کینیڈا میں کاروبار بیگم صاحبہ
چلاتی ہیں اور آرٹ کا کینیڈا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تفلیس میں آرٹ کے کءی گھر تھے
جو کراءے پہ اٹھے ہوءے تھے۔ ہم جس ریستوراں میں آرٹ سے ملے اس کے ساتھ ہی ایک ہاسٹل
تھا جہاں بجٹ مسافر قیام کرتے تھے۔ ہم کھانا کھانے کے دوران آرٹ سے باتیں کرتے
رہے۔ کچھ کچھ دیر بعد آرٹ کا کوءی نہ کوءی ملاقاتی آجاتا، جس سے آرٹ مختصر بات
کرتا۔ وہ کبھی لوگوں سے روسی زبان میں بات کرتا اور کبھی ایک مقامی خاتون کے توسط
سے گرجستانی میں گفتگو کرتا۔ ہمیں آرٹ ایک شاطر کاروباری شخص معلوم دیا جو پیسے سے
پیسہ بنانے کا ہنر خوب جانتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر آرٹ سے سب کچھ چھین کر اسے
بہت تھوڑا سا سرمایہ دیا جاءے تو وہ اپنے اخراجات بہت کم کر کے اس سرماءے کی پیٹھ
پہ سوار ہوجاءے گا اور سرماءے کو جگہ جگہ دوڑا کر اس کا حجم بڑے سے بڑا کرتا جاءے
گا۔ آرٹ نے پیشکش کی کہ جب ہمارا واپس تفلیس آنا ہو تو ہم یہاں آنے سے پہلے اسے
فون کردیں، وہ ہمارے لیے رہاءش کا اچھا انتظام معقول رقم میں کردے گا۔ ہم نے اس کا
نمبر لے لیا اور کاذبغی سے تفلیس پلٹنے پہ ایسا ہی کیا۔ اس نے فون پہ ہمیں ہدایت
کی کہ ہم تفلیس پہنچ کر اس کے ریستوراں میں اس سے ملیں، وہ دیکھے گا کہ ہمارے لیے
کیا کرسکتا ہے۔ دوسری بار تفلیس پہنچنے پہ ہم تفلیس کو کسی قدر سمجھ چکے تھے،
چنانچہ بس اڈے سے میٹرو لے کر پرانے شہر پہنچ گءے۔ میٹرو اسٹیشن سے آرٹ کا
ریستوراں کچھ فاصلے پہ تھا۔ ہم اپنا سامان پیٹھ پہ ڈھوءے جب اس ریستوراں تک پہنچے
تو کسی قدر تھک چکے تھے۔ آرٹ ہم سے بہت تپاک سے ملا مگر پھر اس نے فورا ہی معذرت
کی کہ اس نے ہم سے جس رہاءشی اپارٹمنٹ کا ذکر کیا تھا اسے وہ ایک دن پہلے ہی مہینے
بھر کے لیے یوکرین کے چند سیاحوں کو دے چکا تھا۔ اس نے اپنی ناءب خاتون سے درخواست
کی کہ وہ ہمیں ریستوراں سے ملحق ہاسٹل کا ایک کمرہ دکھاءے۔ ہم نے کمرہ دیکھا مگر
وہ کمرہ کچھ دل کو نہ بھایا۔ ہم نے آرٹ کو بتایا کہ ہم پرانے شہر میں پیدل پھر کر
اچھی جگہ تلاش کرنے کی قسمت آزماءی کرنا چاہتے ہیں اور ایسا صرف اس صورت میں کر سکتے
ہیں جب ہم اپنا سامان وہاں اس کے پاس رکھوا دیں۔ آرٹ نے بخوشی ایسا کرنے کی اجازت
دے دی۔ ہم آرٹ کے ریستوراں سے نکلے اور اندازے سے ایک طرف چلنا شروع ہوگءے۔ پرانے
شہر میں کءی ہوٹلوں سے معلوم کیا۔ ان ہوٹلوں میں یا تو کمرے خالی نہ تھے یا تھے تو
ان کے نرخ ہمارے بجٹ سے بہت زیادہ تھے۔ آخر میں انٹرنیٹ کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت
پڑی۔ یہ بھی اچھا ہے کہ اب دنیا بھر میں جگہ جگہ انٹرنیٹ کی سہولت واءرلیس کے ساتھ
دستیاب ہوتی ہے۔ ہم تفلیس کے پرانے شہر میں ایسی ہی ایک جگہ بیٹھے گءے۔ تب ہی
اندازہ ہوا کہ تفلیس کا پرانا شہر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ہم جس جگہ ہوٹل تلاش
کررہے تھے وہ شہر کے درمیان سے گزرنے والے دریاءے کر کے مغرب میں تھا؛ اس پرانے
حصے میں ہی زیادہ تر سیاحتی مقامات ہیں۔ دریا کے مشرق میں سیاحوں کا رش چھٹ جاتا
ہے اور اسی وجہ سے وہاں ہوٹلوں کے نرخ کم ہیں۔ انٹرنیٹ پہ ہمیں مشرقی ساحل کا ایک
ہوٹل ارزاں نرخ پہ مل گیا۔ جھٹ پٹ اس ہوٹل کی بکنگ کروالی۔ اس وقت تک شام ہوچلی
تھی اور پاپی پیٹ ایک بار پھر تنگ کررہا تھا۔ یہ معلوم نہ تھا کہ ہم جس ہوٹل میں
قیام کے لیے جا رہے تھے اس کے آس پاس کھانے پینے کی کس طرح کی جگہیں تھیں۔ بہتر
تھا کہ شہر کے اس مانوس علاقے میں کھانا کھا کر ہوٹل جایا جاءے۔ تفلیس میں پچھلے
قیام کے دوران قازقستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ژاندوس مل گیا تھا۔ ژاندوس
کے ساتھ اچھا وقت گزرا تھا اور اس نے ہمیں ایک معیاری مقامی ریستوراں بھی دکھایا تھا۔ یہ اس
طرح کا مقامی ریستوراں تھا جہاں فہرست غذا انگریزی میں ترجمے کے بغیر تھی۔ ہم نے
ژاندوس کے ساتھ وہاں کھانا کھایا تھا اور وہ کھانا ہمیں پسند بھی بہت آیا تھا۔
چنانچہ پیٹ پوجا کے لیے اسی جگہ پہنچ گءے۔ جاری ہے۔
Labels: Art's Cafe Tbilisi, Georgia, Tbilisi, Under Canadian management
Sunday, September 29, 2013
بے خبر علماءے اسلام؛ سفر کی تیاریاں
ستمبر اکیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چھپن
بے خبر علماءے اسلام؛ سفر
کی تیاریاں
ایک ایسے دوست سے بات ہورہی تھی جو
کسی قدر مذہبی واقع ہوءے ہیں۔ نہ جانے کیسے ذکر آلو کا آگیا۔ میں نے یوں ہی ان سے
پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اصحاب کرام ہفتے میں کتنی دفعہ آلو کھاتے تھے۔ یہ
سوچ کر کہ آلو سستی چیز ہے اور جن خدا کے بندوں کا ذکر ہورہا ہے ان کو پرتعیش
زندگی سے کوءی سروکار نہیں تھا، کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ اصحاب کرام بیشتر دن
آلو ہی کھاتے ہوں گے۔ میں اس جواب سے محظوظ ہوا اور میں نے پوچھا کہ ٹماٹر کے
متعلق کیا خیال ہے؛ اسلام کے اول زمانے میں کیا ٹماٹر بھی باقاعدگی سے استعمال
ہوتے تھے؟ انہوں نے سوچ کر جواب دیا کہ شاید ٹماٹر اتنے استعمال نہ کیے جاتے ہوں
گے۔ میں اس گفتگو کے مزے لے رہا تھا چنانچہ میں نے پوچھا کہ کیا اس وقت کے عرب
علاقے میں ہری مرچ کا بھی استعمال ہوتا تھا۔ میرے دوست ان سوالات سے کسی قدر
جھنجھلاءے مگر انہوں نے کہا کہ شاید ہری مرچ بہت زیادہ استعمال نہ کی جاتی ہوگی۔
پھر میں نے ان پہ بات واضح کی کہ بھاءی یہ تینوں چیزیں یعنی آلو، ٹماٹر، اور ہری
مرچ پرانی دنیا میں نہ ہوتی تھیں اور کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد یہ
چیزیں نءی دنیا سے پرانی دنیا لے جاءی گءی ہیں۔ چنانچہ پرانی دنیا [ایشیا، افریقہ،
اور یورپ] میں آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ کی کاشت سولھویں صدی میں شروع ہوءی ہے۔
اصحاب کرام آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ اس وقت نہ امریکہ
دریافت ہوا تھا اور نہ یہ چیزیں یہاں سے پرانی دنیا میں پہنچی تھیں۔ میرے دوست اس
جواب سے کسی قدر خجل ہوءے مگر مجھ پہ ایک دفعہ پھر یہ بات واضح ہوگءی کہ جو جس قدر
زیادہ مذہبی ہے اسی قدر معلومات عامہ سے بے بہرہ ہے۔ نماز روزے کے پابند عام لوگوں
کے علاوہ ہم انہیں دیکھیں جنہیں علماءے اسلام کہا جاتا ہے تو وہ زمانے کے علم سے
اور بھی زیادہ بے گانہ نظر آتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اسلام ترقی پسندی اور علم کی
جستجو کا نام تھا۔ جب کہ آج کے 'علما' کے 'اسلام' سے صرف بوسیدگی کی بو اٹھتی ہے۔
احوال سفر۔ کوہ قاف کے نام سے جدید
دور کے تین آزاد ملکوں کا خیال آتا ہے: گرجستان [جورجیا]، حیاستان [آرمینستان]،
اور آذرباءیجان۔ کوہ قاف دو پہاڑی سلسلوں کا نام ہے: بڑا کوہ قاف اور چھوٹا کوہ
قاف۔ آپ یہ خیال کرسکتے ہیں کہ ان دو پہاڑوں پہ برسنے والا پانی مشرق میں دریاءے
خضر یا بحرہ قزوین [کیسپءین] میں اور مغرب میں بحراسود میں گرتا ہے۔ بحر اسود تو
آبناءے باسفور کے توسط سے دوسرے سمندروں سے ملا ہوا ہے مگر دریاءے خضر ایک جھیل
ہے۔ ہر وہ جھیل جس کے پانی کی نکاسی نہ ہوتی ہو رفتہ رفتہ کھاری ہوتی جاتی ہے کہ
پانی بخارات بن کر اڑنے پہ اپنے پیچھے نمکیات چھوڑ دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ
جھیل کے پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ہر دفعہ دریا اور
ندی کا پانی اپنے ساتھ زمین کی نمکیات بہا کرجھیل میں لاتا ہے۔ چنانچہ دریاءے خضر
کا پانی بھی کھارا ہے مگر کہتے ہیں کہ اس پانی میں نمکیات دوسرے سمندروں کی نمکیات
کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ دریاءے خضر کی تجارتی دنیا ہی الگ ہے کہ وہ تمام
ممالک جن کی سرحدیں اس سمندر سے لگتی ہیں،
اس آبی راستے سے ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہیں۔
جب ہمارا ارادہ ہوا کہ کوہ قاف کا
سفر کیا جاءے تو سوچا گیا کہ ان ملکوں کا دورہ کس ترتیب سے کیا جاءے۔ کیا یہ سفر
غیرگھڑی وار کیا جاءے یعنی ترکی سے ایران
پھر اوپر آذرباءیجان، پھر گرجستان، پھر حیاستان اور واپس ترکی پہنچا جاءے؟ یا اس
کی الٹی سمت میں گھڑی وار سفر کیا جاءے؟ طے پایا کہ گھڑی وار سفر کیا جاءے اور عید
کے قریب ایران پہنچا جاءے۔ بجٹ سفر کی خاص باتوں میں کم سے کم سامان لے کر چلنا
اور ٹہرنے کے لیے ہوٹل کا تعین کرنا شامل ہوتے ہیں۔ کپڑوں کا یہ حساب ہوتا ہے کہ
ہم جو پتلون پہن کر چلتے ہیں بس اسی میں پورا سفر گزارتے ہیں۔ ہر پانچ سات دن میں
رات کے وقت شب خوابی کے کپڑے پہن کر پتلون کو دھو لیتے ہیں اور اگلے دن سے پھر اسے
پہننا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہوٹل کے انتظام کے سلسلے میں بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ
بڑے شہروں میں تو پہلے سے ہوٹل کی بکنگ کریں مگر چھوٹے قصبوں میں رہنے کی جگہ وہیں
جا کر تلاش کریں۔ بڑے شہروں میں فاصلے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں پہنچ کر رہنے کی
صحیح جگہ تلاش کرنا زیادہ کٹھن کام ہے۔ جب کہ چھوٹے قصبوں میں پیدل چل کر ٹہرنے کی
زیادہ بہتر اور کم خرچ جگہ تلاش کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے
استنبول اور انقرہ میں ہوٹل کا انتظام کر لیا تھا اور ساتھ ہی انقرہ سے قرص تک کے
لیے ٹرین کے ٹکٹ بھی لے لیے تھے۔ استنبول کے مرکزی ریلوے اسٹیشن حیدرپاشا سے مشرق
کے لیے ٹرینیں نہیں روانہ ہورہی تھیں کہ آگے ریلوے لاءن پہ کام ہورہا تھا چنانچہ
استنبول سے انقرہ بس سے جانا تھا اور آگے جانے کے لیے انقرہ سے ٹرین لینی تھی۔
جاری ہے۔
Labels: 2013, A backpacking tip to Caucasus, Armenia, Azerbaijan, Georgia, Iran, Juhlay e Islam, Turkey
Sunday, September 01, 2013
کوہ قاف
اگست گیارہ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو پچاس
کوہ قاف
علی حسن سمندطور
یہ کمرہ بہت بڑا ہے اور اسی وجہ سے
بہت ٹھنڈا ہے۔ سرد علاقوں میں اتنے بڑے کمرے بنانے کی کیا تک ہے؟ مگر ہمیں اوڑھنے
کے لیے جو لحاف دیے گءے تھے وہ دبیز تھے اور کمرہ ٹھنڈا ہونے کے باوجود رات کو
ہمیں ٹھنڈ محسوس نہ ہوءی۔ میں اس وقت کوہ قاف میں ہوں۔ وہی کوہ قاف جو ہمارے علاقے
کی دیومالاءی کہانیوں میں پریوں کا دیس ہے۔ کوہ قاف کی یہ کہانیاں ہمارے پاس فارس
سے آءی ہیں۔ فارس کے لیے کوہ قاف پہاڑوں میں واقع ایسی ہی جگہ تھی جہاں دیو ہیکل
مرد اور پری چہرہ عورتیں بستی تھیں۔ یہ وہی کوہ قاف ہے جس سے منسوب کوہ قافی
[کاکیژین] نسل ہے۔ اس قصبے کا نام کاذبغی ہے اور یہ ملک گرجستان [جورجیا] میں روس کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ یہاں آپ کو
چرواہے گاءے کے ریوڑ ہانکتے نظر آءیں گے۔ گاءوں کی فضا میں گوبر کی سوند بسی ہوءی
ہے۔ روءی کے گالوں جیسے بادل پہاڑوں کی چوٹیوں سے سر جوڑے نظر آتے ہیں۔ کل شام سے
وقفے وقفے سے بارش ہورہی ہے۔ ہم گرجستان کے دارالحکومت تبلیسی سے یہاں پہنچے
ہیں۔ تبلیسی سے گرجستان کے دوسرے شہروں
میں جانے کے لیے دودوبے کا بس اڈہ استعمال ہوتا ہے۔ ہم میٹرو سے دودوبے کے اسٹیشن
پہ پہنچے تو اسٹیشن کے باہر موجود ایسے لوگ ملے جو سیاحوں کی مدد کے لیے تیار تھے۔
ان میں سے ایک نے ہم سے کسی شہر کا
نام لیا۔ ہم نے جواب میں کازبغی کہا تو وہ ہمارے ساتھ چل دیا۔ کوانتو پرسوناز، اس
نے ہسپانوی میں سوال کیا۔ ہم نے جواب دیا، 'کواترو' ۔ ہم اس شخص کی راہ نماءی میں
اس جگہ پہنچے جہاں سے کاذبغی کے لیے گاڑیاں روانہ ہوتی تھیں تو وہاں ایک وین کو پر
پایا۔ ڈراءیور نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں
بتایا کہ اب اس کی گاڑی میں مزید لوگوں کی گنجاءش نہیں تھی۔ ہمارے ساتھ آنے والا
خداءی مددگار اب دوسری گاڑیوں کو کاذبغی چلنے کے لیے راضی کرنے لگا۔ کاذبغی جانے
والی چند اور سواریاں جمع ہوچکی تھیں اور یہ سواریاں قیادت کے لیے اس رضاکار کی
طرف دیکھ رہی تھیں۔ رضاکار نے ایک ڈراءیور سے مختصر بات کر کے اس کی وین کا دروازہ
کھول کر لوگوں کو بیٹھنے کے لیے کہا مگر اس وین کے ڈراءیور کو رضاکار کی یہ دیدہ
دلیری پسند نہ آءی اور اس نے غصے سے وین کا دراوازہ بند کرلیا۔ وہاں ایک اور وین
موجود تھی۔ اس وین کی ایک کھڑکی کا شیشہ غالبا حال میں ٹوٹا تھا اور کانچ کے ٹکڑے
نشست اور فرش پہ پڑے ہوءے تھے۔ رضاکار نے اس وین کے ڈراءیور کو کاذبغی جانے کے لیے
تیار کر لیا۔ مسافروں نے خود ہی شیشے کے ٹکڑے نشست سے صاف کیے اور اپنے بیٹھنے کی
جگہ بنا لی۔ ہمارے ساتھ چار خواتین کی ایک ٹولی وین میں سوار ہوءی ۔ خواتین نے بس
اڈے سے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں لی تھیں۔ وہ مستقل کھاتی پیتی رہیں۔ پھر ان میں
سے ایک نے بءیر کی ایک بڑی بوتل کھولی اور تمام سہیلیوں کو گلاسوں میں بءیر پیش
کی۔ کچھ دیر بعد جب ان پہ خمار چڑھا تو ان کو خوب ہنسی آءی اور وہ چھوٹی چھوٹی
باتوں پہ کھن کھن ہنستی رہیں۔ وین تبلیسی سے نکل کر پہاڑ پہ چڑھنے لگی۔ جیسے جیسے
ہم اونچاءی پہ چڑھتے گءے ہوا لطیف ہوتی گءی۔
جولاءی انتیس
کاذبغی کی جان وہ
سڑک ہے جو قصبے کے وسط سے گزرتی ہے؛ اس پہ شمال کی طرف جانے والے مسافر روس جا رہے
ہوتے ہیں اور بجنوب جانے والے مسافر تبلیسی۔ اس سڑک کے ساتھ ہی خیوی کیفے ہے۔ یہ
ریستوراں ایک خاندان چلاتا ہے۔ چار بہنیں مسافروں کو کھانا پیش کرتی ہیں جب کہ ان
کی ماں باورچی خانے میں کام کرتی نظر آتی ہے۔ جب رش ذرا تھم جاءے اور دختران خیوی
کو فرصت کے چند لمحات میسر آءیں تو یہ مقامی آلات موسیقی بجاتی ہیں اور سب سے
چھوٹی بہن لوچ دار آواز میں گانا گاتی ہے۔ کل جب میں نے گانے اور موسیقی کی یہ
آواز سنی تھی تو مجھے خیال ہوا تھا کہ شاید یہ گانا ریڈیو پہ بج رہا تھا مگر آج
کھانے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ ڈھول کی تاپ گانے کی لو سے بلند تر ہے اور یہ
ساز یہیں ریستوراں میں بجایا جا رہا ہے۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو تین دختران خیوی
کاءونٹر کے پیچھے موجود تھیں۔ میں تجسس میں وہاں پہنچ گیا۔ میرے کاءونٹر پہ پہنچتے
ہی گانا رک گیا۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ آیا مجھے کچھ چاہیے۔ "نہیں، میں تو
دیکھنے آیا تھا کہ کون اتنا اچھا گا رہا ہے۔ تم رک کیوں گءیں؟ گاءو۔" تینوں
بہنوں نے شرما کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر طے کیا کہ وہ کونسا گانا گاءیں گی۔
ڈھول پہ تاپ پڑی، چھوٹی بہن نے چارتارہ بجایا اور ساتھ گانا شروع کیا۔ ایششنا،
دھاروینا، اولا، تلاویونا، ساہو وے ونا۔ وہ غالبا گرجستان میں فی زمانہ ایک مقبول
گانا تھا کیونکہ میں نے یہ گانا اور جگہ بھی سنا تھا۔ گانا ختم ہوا تو میں نے تالی بجا کر
ان کے فن کو سراہا۔
کھانا ختم کرنے کے بعد میں
ریستوراں سے باہر نکل رہا تھا تو میں نے پلٹ کر دیکھا۔ کاءونٹر کے پیچھے سے چھوٹی
دختر خیوی نے سر نکالا اور شرماتے ہوءے مجھے ہاتھ ہلا کر خداحافظ کیا۔ میں نے بھی
ہاتھ ہلایا اور سوچا کہ کبھی زندگی میں پھر کاذبغی جانے کا موقع ملا تو معلوم کروں
گا کہ کوہ قاف کی ان فن کار، خوش آواز پریوں کو بیاہ کر لے جانے والے شہزادے انہیں
کہاں لے گءے ہیں۔
Labels: Caucasus, Georgia, Kazbegi, Russian border, Stepantsminda
