Sunday, September 29, 2013

 

پشاور گرجا گھر حملہ، بلوچستان میں زلزلہ



ستمبر انتیس، دو ہزار تیرہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو ستاون

پشاور گرجا گھر حملہ، بلوچستان میں زلزلہ

پاکستان میں کمزور ہونا ایک عذاب ہے۔ وہ ممالک جہاں قانون کی چادر کمزور کے سر سے اٹھ جاءے اور جہاں طاقت کے زور پہ کام ہونے لگے وہاں لامحالہ کمزور افراد سب سے بری طرح پستے ہیں۔ اپنے عقاءد کی وجہ سے ملک کی اکثریت سے مختلف ہونا، معاشی طور پہ مضبوط نہ ہونا، تعلیم یافتہ نہ ہونا، جسمانی طور پہ کمزور ہونا، اور ایسے معاشرے میں عورت ہونا جہاں عورت کو کم عقل، مرد سے نیچا، اور مرد کی کھیتی سمجھا جاتا ہو، یہ سب 'کمزوری' کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں سے مراد ہندو، عیساءی، اورسکھ ہوتے تھے۔ [یوں تو پارسی بھی مذہبی اقلیت ہیں مگر وہ اپنی معاشی اور تعلیمی طاقت کے زور پہ لاقانونیت کے وار کو سنبھال لیتے ہیں۔] وقت آگے بڑھا اور اسلام کے ٹھیکیداروں نے احمدیوں کوداءرہ اسلام سے خارج کر کے اقلیت ٹہرایا۔ اقلیت کے اس داءرے میں اب آغاخانی، بوہرے، شیعہ، اور بریلوی بھی شامل نظر آتے ہیں۔ غرض کہ پاکستان میں جو شخص بھی سنی سلفی نہیں ہے اقلیتی ہے اور وہ مار کھانے کے لیے تیار ہوجاءے۔ اس مار سے بچنے کے لیے اسلام کے داءرے سے باہر اور اندر کی یعنی کلمہ گو اقلیتوں نے اپنے اپنے طور پہ اپنی حفاظت کا انتظام کیا ہے اور دہشت گردی کے ہر واقعے سے سیکھ کر مزید انتظام کرتے جارہے ہیں مگر اٹھارہ کروڑ لوگوں کے اس جنگل میں دہشت گردوں کو کہیں نہ کہیں غافل اقلیتیں مل ہی جاتی ہیں جن پہ یہ وار کر کے یہ شرپسند اپنے لیے دوزخ کماتے ہیں۔  پچھلے اتوار کو ایسا ہی ایک دہشت گردی کا واقعہ پشاور کے ایک گرجا گھر میں ہوا۔  دو جہنمی خودکش حملہ آوروں کے حملے میں اسی سے اوپر لوگ ہلاک ہوءے۔ جہاں مجھے اس واقعے پہ بہت افسوس ہوا وہیں کسی قدر تعجب بھی ہوا کہ پشاور کے یہ عیساءی اس قدر غافل کیوں تھے۔ ریاست کی اظہر من الشمس ناکامی کے بعد انہوں نے حالات کا رخ دیکھتے ہوءے اپنی حفاظت کا انتظام خود کیوں نہیں کیا؟  تعجب اس وقت بھی ہوتا ہے جب ایسے کسی واقعے کے بعد لوگ حکومت پاکستان سے احتجاج کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتی مشینری ان کی حفاظت کا بہتر انتظام کرے۔ کیا ان لوگوں کو نظر نہیں آرہا کہ حکومت پاکستان کی رٹ دن کے اجالے میں بس کہیں کہیں ہی چلتی ہے اور پاکستان میں ایسے مسلح گروہ موجود ہیں جو جس وقت چاہتے ہیں حکومت کی رٹ کو للکارتے ہیں اور دوسری طرف سے محض بکری کی ممیانے کی آواز سناءی دیتی ہے؟ کیا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ حکومت کے اعلی عہدیداران خود ڈرے سہمے، مسلح گارڈ کے ساتھ چلتے ہیں؟  پاکستان کی اقلیتوں کو کس دیوار پہ جلی حروف میں لکھ کر بتایا جاءے کہ 'پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؛ اپنی حفاظت کا انتظام خود کرو'؟  اگر اکیلے ہو، اقلیتی ہو، کمزور ہو تو جس قدر جلد ہوسکے پاکستان سے بھاگ نکلو۔  اگر ایک ناکام ریاست میں رہنے پہ بضد ہو اور گروہ کی صورت میں ہو تو اپنے گروہ کے گرد ایک حفاظتی حصار قاءم کرو اور اس حصار کی حفاظت یقینی بناءو۔
جہاں ایک طرف پاکستان کے لوگ ایک دوسرے کو مارنے میں لگے ہیں وہیں کسی قدرتی آفت کے آنے پہ غریب ہونے، تعلیم یافتہ نہ ہونے، اور آفت سے نمٹنے کی اچھی تیاری نہ ہونے کی سزا بھی ان لوگوں کو خوب خوب ملتی ہے۔ بلوچستان میں آنے والا حالیہ زلزلہ اسی سزا کی ایک مثال ہے۔ یہ بھی ریاست کی ناکامی کا ایک پہلو ہے کہ اگر بلوچستان کسی اچھی ریاست کا حصہ ہوتا تو سنہ ۲۰۰۳ کے ایران کے مشرق میں بم کے علاقے میں آنے والے زلزلے کے بعد بلوچستان کے گھروں کا جاءزہ لیا جاتا اور مکینوں کو بتایا جاتا کہ ممکنہ زلزلے سے نمٹنے کے لیے گھروں کی تعمیر کس طرح سے کی جاءے۔
جہاں ایک طرف طالبان پاکستان کی مٹی پلید کرنے پہ تلے ہوءے ہیں وہیں دوسری طرف سیاسی قیادت انگشتت بدنداں ہے کہ طالبان سے کیسے نمٹا جاءے۔ ایسے میں عمران خان نے تجویز پیش کی ہے کہ طالبان کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت دی جاءے۔ طالبان کے مستقل معصوم لوگوں کا قتل عام کرنے کے ردعمل میں بہت سے لوگ عمران خان کی اس تجویز کے خلاف ہیں۔ عمران خان کو سیاسی سوجھ بوجھ کا آءن اسٹاءن کہنا تو صحیح نہ ہوگا مگر ان کی مذکورہ تجویز وزن رکھتی ہے۔ اب تک طالبان ایک غیرمرءی طاقت کا نام ہے جس کا گڑھ شمالی وزیرستان ہے۔ عوام پہ ہونے والے ہر حملے کے بعد طالبان کی طرف سے محض ایک فون موصول ہوتا ہے جس کے ذریعے طالبان حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دے کر اس ہیولے کو ایک واضح شکل دینا ایک احسن قدم ہوگا۔ طالبان کا دفتر ہونے کی صورت میں ہمارا اس دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنا آسان ہو جاءےگا۔ اور دفتر میں بیٹھنے والے لوگوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ طالبان کی طرف سے ہونے والے کسی حملے کے بعد وہ دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کا سامنا کس منہ سے کریں۔
بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے بعد گوادر کے ساحل کے ساتھ سمندر میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ابھر آیا۔ چند ارضیات دانوں کا خیال ہے کہ یہ جزیرہ دراصل ایک کیچڑ فشاں [مڈ وولکینو] ہے۔  مجھے اس موقع پہ باکو سے کچھ فاصلے پہ موجود کیچڑ فشاں کا دورہ یاد آیا۔
سفر تعلیم ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سفر سب سے اچھی تعلیم ہے کہ سفر میں آپ کے مشاہدے میں وہ ساری باتیں آجاتی ہیں جو الگ الگ، مختلف علوم کی کتابوں میں تحریر ہوتی ہیں۔ آپ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، دوسری معیشت میں کودتے ہیں، پہاڑوں دریاءوں کو دیکھتے ہیں اور ارضیات کے علم کو مشاہدے سے سیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے میرے لیے باکو کے قریب واقع گوبستان کے کیچڑ فشاں اہم تھے۔ جس طرح آتش فشاں آگ اگلتے ہیں اسی طرح کیچڑ فشاں [مڈ وولکینوز] کیچڑ اگلتے ہیں۔ گوبستان نامی قصبے کے کیچڑفشاں باکو سے چند میل کے فاصلے پہ ہیں۔ ہمارے ہوٹل کے استقبالیہ کی بہت کوشش تھی کہ میں کیچڑ فشاں جانے کے لیے ان کی بتاءی گءی ٹیکسی لے لوں مگر ان کے نرخ زیادہ تھے۔ میں نے اپنی سفری کتاب کا مطالعہ کیا اور پھر انٹرنیٹ پہ تحقیق کی تو اندازہ ہوا کہ گوبستان کا سفر نہایت ارزاں طور پہ بسوں سے کیا جاسکتا تھا۔ طے پایا کہ میٹرو سے اچھرہ شہر [باکو کا قدریم اندرون شہر] پہنچوں۔ وہاں سے ایک بس سے ایک جگہ۔ پھر اگلی بس سے گوبستان۔ اور پھر گوبستان پہنچ کر ٹیکسی لےلوں اور سیاحتی مقامات کی سیر کروں۔ ان قابل دید مقامات میں کیچڑ فشاں کے علاوہ وہ چٹانیں بھی تھیں جن پہ بنی شکلیں قریبا نو ہزار سال پرانی تھیں۔ زبان کی تحریر محض سات آٹھ ہزار سال پرانا علم ہے۔ اس سے پہلے لوگ محض تصویریں اور شکلیں بنایا کرتے تھے۔ ان ہی تصاویر اور اشکال نے وقت کے ساتھ ساتھ حروف اور الفاظ کا روپ دھارا ہے۔ جاری ہے۔

Peshawar All Saints' Church, twin suicide attack, Earthquake in Balochistan, Avaran, Minorities in Pakistan, Pakistani Christians, Pakistani Hindus, Ahmadis, Agha Khani, Bohra, Pakistani Sikhs, New island near Gwadar, Mud Volcanoes of Gobustan,  


Labels: , , , , , , , ,


 

بے خبر علماءے اسلام؛ سفر کی تیاریاں







ستمبر اکیس، دو ہزار تیرہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو چھپن

بے خبر علماءے اسلام؛ سفر کی تیاریاں

ایک ایسے دوست سے بات ہورہی تھی جو کسی قدر مذہبی واقع ہوءے ہیں۔ نہ جانے کیسے ذکر آلو کا آگیا۔ میں نے یوں ہی ان سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اصحاب کرام ہفتے میں کتنی دفعہ آلو کھاتے تھے۔ یہ سوچ کر کہ آلو سستی چیز ہے اور جن خدا کے بندوں کا ذکر ہورہا ہے ان کو پرتعیش زندگی سے کوءی سروکار نہیں تھا، کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ اصحاب کرام بیشتر دن آلو ہی کھاتے ہوں گے۔ میں اس جواب سے محظوظ ہوا اور میں نے پوچھا کہ ٹماٹر کے متعلق کیا خیال ہے؛ اسلام کے اول زمانے میں کیا ٹماٹر بھی باقاعدگی سے استعمال ہوتے تھے؟ انہوں نے سوچ کر جواب دیا کہ شاید ٹماٹر اتنے استعمال نہ کیے جاتے ہوں گے۔ میں اس گفتگو کے مزے لے رہا تھا چنانچہ میں نے پوچھا کہ کیا اس وقت کے عرب علاقے میں ہری مرچ کا بھی استعمال ہوتا تھا۔ میرے دوست ان سوالات سے کسی قدر جھنجھلاءے مگر انہوں نے کہا کہ شاید ہری مرچ بہت زیادہ استعمال نہ کی جاتی ہوگی۔ پھر میں نے ان پہ بات واضح کی کہ بھاءی یہ تینوں چیزیں یعنی آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ پرانی دنیا میں نہ ہوتی تھیں اور کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد یہ چیزیں نءی دنیا سے پرانی دنیا لے جاءی گءی ہیں۔ چنانچہ پرانی دنیا [ایشیا، افریقہ، اور یورپ] میں آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ کی کاشت سولھویں صدی میں شروع ہوءی ہے۔ اصحاب کرام آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ اس وقت نہ امریکہ دریافت ہوا تھا اور نہ یہ چیزیں یہاں سے پرانی دنیا میں پہنچی تھیں۔ میرے دوست اس جواب سے کسی قدر خجل ہوءے مگر مجھ پہ ایک دفعہ پھر یہ بات واضح ہوگءی کہ جو جس قدر زیادہ مذہبی ہے اسی قدر معلومات عامہ سے بے بہرہ ہے۔ نماز روزے کے پابند عام لوگوں کے علاوہ ہم انہیں دیکھیں جنہیں علماءے اسلام کہا جاتا ہے تو وہ زمانے کے علم سے اور بھی زیادہ بے گانہ نظر آتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اسلام ترقی پسندی اور علم کی جستجو کا نام تھا۔ جب کہ آج کے 'علما' کے 'اسلام' سے صرف بوسیدگی کی بو اٹھتی ہے۔
احوال سفر۔ کوہ قاف کے نام سے جدید دور کے تین آزاد ملکوں کا خیال آتا ہے: گرجستان [جورجیا]، حیاستان [آرمینستان]، اور آذرباءیجان۔ کوہ قاف دو پہاڑی سلسلوں کا نام ہے: بڑا کوہ قاف اور چھوٹا کوہ قاف۔ آپ یہ خیال کرسکتے ہیں کہ ان دو پہاڑوں پہ برسنے والا پانی مشرق میں دریاءے خضر یا بحرہ قزوین [کیسپءین] میں اور مغرب میں بحراسود میں گرتا ہے۔ بحر اسود تو آبناءے باسفور کے توسط سے دوسرے سمندروں سے ملا ہوا ہے مگر دریاءے خضر ایک جھیل ہے۔ ہر وہ جھیل جس کے پانی کی نکاسی نہ ہوتی ہو رفتہ رفتہ کھاری ہوتی جاتی ہے کہ پانی بخارات بن کر اڑنے پہ اپنے پیچھے نمکیات چھوڑ دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جھیل کے پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ہر دفعہ دریا اور ندی کا پانی اپنے ساتھ زمین کی نمکیات بہا کرجھیل میں لاتا ہے۔ چنانچہ دریاءے خضر کا پانی بھی کھارا ہے مگر کہتے ہیں کہ اس پانی میں نمکیات دوسرے سمندروں کی نمکیات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ دریاءے خضر کی تجارتی دنیا ہی الگ ہے کہ وہ تمام ممالک  جن کی سرحدیں اس سمندر سے لگتی ہیں، اس آبی راستے سے ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہیں۔
جب ہمارا ارادہ ہوا کہ کوہ قاف کا سفر کیا جاءے تو سوچا گیا کہ ان ملکوں کا دورہ کس ترتیب سے کیا جاءے۔ کیا یہ سفر غیرگھڑی وار کیا جاءے یعنی  ترکی سے ایران پھر اوپر آذرباءیجان، پھر گرجستان، پھر حیاستان اور واپس ترکی پہنچا جاءے؟ یا اس کی الٹی سمت میں گھڑی وار سفر کیا جاءے؟ طے پایا کہ گھڑی وار سفر کیا جاءے اور عید کے قریب ایران پہنچا جاءے۔ بجٹ سفر کی خاص باتوں میں کم سے کم سامان لے کر چلنا اور ٹہرنے کے لیے ہوٹل کا تعین کرنا شامل ہوتے ہیں۔ کپڑوں کا یہ حساب ہوتا ہے کہ ہم جو پتلون پہن کر چلتے ہیں بس اسی میں پورا سفر گزارتے ہیں۔ ہر پانچ سات دن میں رات کے وقت شب خوابی کے کپڑے پہن کر پتلون کو دھو لیتے ہیں اور اگلے دن سے پھر اسے پہننا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہوٹل کے انتظام کے سلسلے میں بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ بڑے شہروں میں تو پہلے سے ہوٹل کی بکنگ کریں مگر چھوٹے قصبوں میں رہنے کی جگہ وہیں جا کر تلاش کریں۔ بڑے شہروں میں فاصلے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں پہنچ کر رہنے کی صحیح جگہ تلاش کرنا زیادہ کٹھن کام ہے۔ جب کہ چھوٹے قصبوں میں پیدل چل کر ٹہرنے کی زیادہ بہتر اور کم خرچ جگہ تلاش کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے استنبول اور انقرہ میں ہوٹل کا انتظام کر لیا تھا اور ساتھ ہی انقرہ سے قرص تک کے لیے ٹرین کے ٹکٹ بھی لے لیے تھے۔ استنبول کے مرکزی ریلوے اسٹیشن حیدرپاشا سے مشرق کے لیے ٹرینیں نہیں روانہ ہورہی تھیں کہ آگے ریلوے لاءن پہ کام ہورہا تھا چنانچہ استنبول سے انقرہ بس سے جانا تھا اور آگے جانے کے لیے انقرہ سے ٹرین لینی تھی۔ جاری ہے۔


Labels: , , , , , , ,


Monday, September 02, 2013

 

تبریز میں چونسا


ستمبر ایک، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو ترپن

تبریز میں چونسا


احوال سفر۔ اگست گیارہ۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ دو آم کھاءے ہیں جو دوپہر ایک ریڑھی والے سے خریدے تھے۔ ریڑھی پہ دوسرے پھلوں کے ساتھ آم دیکھ کر تعجب ہوا تھا۔ آم کی شکل چونسے کی تھی۔ ریڑھی والے سے پوچھا کہ یہ آم کہاں سے آءے ہیں۔ اس نے کہا، از پاکستان۔ دل خوش ہوگیا۔ آم کے دام باقی پھلوں سے کہیں زیادہ تھے مگر دل کڑا کر کے دو آم خرید لیے۔ ہوٹل کے کمرے میں آم کھانے پہ خیال آیا کہ ہم واقعی پاکستان کے بہت قریب پہنچ گءے ہیں۔
آذرباءیجان کے شہر لنکاران سے ایران پہنچنے کی داستان بھی خوب ہے۔ لنکاران سے روانگی ہوتے ہوتے رمضان کا اختتام ہورہا تھا۔ ہمِیں ڈر تھا کہ کہیں عید پہ سب کچھ بند نہ ہوجاءے؛ ہم سرحد پار کرنے کے لیے نکلیں، پھنس جاءیں، اور سرحد پہ کسی جگہ بسیرا کرنے پہ مجبور نہ ہوجاءیں۔ مگر ایسا کچھ نہ تھا۔ آذرباءیجان میں عید کی خوشی ضرور مناءی جاتی ہے مگر اکثر کاروبار کھلے رہتے ہیں اور جو بند ہوتے ہیں وہ بھی صرف ایک دن کے لیے۔ جب کہ ایران میں عید کا دن پہلے سے طے تھا اور چاند دیکھنے کی شرط سے آزاد تھا۔
لنکاران کے ہوٹل کے کراءے میں صبح کا ناشتہ شامل تھا چنانچہ ایران روانہ ہونے سے پہلے ناشتہ خوب دل کھول کر کیا۔ ریستوراں میں جو بیرے کام کر رہے تھے وہ سب جواں سال تھے۔ ہم ناشتے کے لیے میز پہ بیٹھے تو ایک سولہ سترہ لڑکے کے ساتھ ایک تیس سالہ آدمی آیا۔ وہ آدمی مترجم کے فراءض انجام دینے آیا تھا۔ اس نے آتے ہی ہم سے پوچھا، 'آملیٹ؟'۔ ہم نے کہا کہ آملیٹ تو کل کھایا تھا آج تلا انڈہ کھاءیں گے۔ مگر لگا کہ بات اس آدمی کو سمجھ میں نہیں آءی ہے۔ وہ دونوں وہاں سے روانہ ہوگءے۔ مجھے یہ موقع دیے بغیر کہ میں ایک کاغذ پہ ایک تلا انڈہ بنا کر انہیں دکھاتا۔ کچھ دیر میں وہ لڑکا اس نوجوان عورت کے ساتھ نمودار ہوا جو ہوٹل کے استقبالیہ پہ نظر آتی ہے اور روانی سے روسی زبان بولتی ہے۔ اس عورت نے آتے ہی ہم سے معافی مانگی کہ جس آدمی کو پہلے مترجم کے طور پہ بھیجا گیا تھا اس کو بس معمولی انگریزی آتی ہے، اس لیے وہ ہماری  بات سمجھ نہ پایا،" تم مجھے بتاءو کہ تم ناشتے میں کیا کھاءو گے۔" ہم نے اپنا مدعا بیان کیا جو اس نے آذرباءیجانی میں ترجمہ کر کے لڑکے کو سمجھا دیا۔ دونوں وہاں سے روانہ ہوگءے، مگر مجھے کسی قدر افسردہ چھوڑ گءے۔ مجھے افسوس عورت کی معافی پہ ہوا تھا۔ اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو اس میں اس قدر معافی مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟
ہم بس سے لنکاران سے آستارا تک کا سفر کرنا چاہتے تھے مگر ایک چرب زبان ٹیکسی والے نے ہمیں قاءل کر لیا کہ ہم اس کے ساتھ ایران کی سرحد تک جاءیں؛ وہ اس سفر کے دس منات لے گا۔ جب ہم اس کی گاڑی میں بیٹھ گءے تو اس کی نیت بدل گءی، اس نے گاڑی ایک پیٹرول پمپ پہ روکی اور ہم سے پیٹرول کی مد میں دس منات لیے اور اس کے ساتھ ہی ہم سے کہا کہ دس منات تو یہ ہوگءے، اب سرحد پہ پہنچ کر باقی دس منات دینا۔ ہم نے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ یہ تم ہم سے کیا فراڈ کر رہے ہو؛ دس منات کی بات طے ہوءی تھی۔ تمھیں دس منات دے دیے تو بس کرایہ پورا ہوگیا؛ اب سرحد پہ پہنچ کر تمھیں ایک دھیلا نہیں ملے گا اور اگر تمھیں اسی طرح اپنی بات سے پھرنا ہے تو ہمارے دس منات واپس کرو، ہم ابھی تمھاری ٹیکسی سے اترتے ہیں۔ ٹیکسی والے کو ہمارے دھمکی سمجھ میں آگءی اور اس نے کہا کہ نہیں بس کل دس منات ہی کی بات ہے؛ سرحد پہ پہنچ کر تم سے مزید رقم کا تقاضہ نہیں کیا جاءے گا۔
لنکاران سے ایران کی سرحد تک راستہ بہت خوبصورت تھا۔ دونوں طرف دور تک ہریالی تھی۔ راستے میں وقفے وقفے سے دو قبرستان پڑے جہاں تازہ جنازے لاءے گءے تھے۔ ہمارے ٹیکسی والے نے ہر اس موقع پہ اسٹءیرنگ سے ہاتھ اٹھا کر دونوں ہاتھ دعا کی صورت میں جوڑ لیے اور ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ دعاءیں بڑبڑانے لگا۔ ہم کسی قدر پریشانی سے اس کی ان عبادات کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دعا کر رہے تھے کہ یہ شخص ڈراءیونگ سے یوں غفلت برتتا ہوا کہیں ہمارے جنازے کا انتظام نہ کردے۔
آستارا پہ آذرباءیجان اور ایران کی سرحدی چوکیوں کے درمیان ایک مختصر سی نو-مینز-لینڈ تھی جہاں ایک پل کے نیچے سے وہ ندی گزرتی تھی جو دونوں ملکوں کے درمیان اصل سرحد کا کام دیتی تھی۔ ہم ایران کی سرحدی چوکی پہ پہنچے تو اسے بند پایا۔ معلوم ہوا کہ عملہ دوپہر کے کھانے کے وقفے پہ ہے۔ ہم نے حجت کی کہ رمضان میں دوپہر کا کھانا کیسا۔ پھر کچھ ہی دیر میں سرحدی چوکی سے ملحق مسجد میں ظہر کی اذان ہوگءی۔ ہمار دل ڈوبا کہ اب عملہ نماز پڑھنے کے لیے روانہ ہوجاءے گا۔ اور شاید ایسا ہی ہوا کیونکہ چوکی کے باہر ڈیڑھ گھنٹے کے انتظار کے بعد چوکی کھلی۔ چوکی کے اندر ہمارے پاسپورٹ الٹ پلٹ کر دیکھے گءے اور پھر ان میں دخول کی مہر لگا کر ہمیں ایران میں خوش آمدید کہا گیا۔
آستارا سے آردیبل کے سفر میں ہمیں اندازہ ہوا کہ مذہب اسلام پتھر پہ لکھی کسی لکیر کا نام نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان بہت مختلف سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ مثلا جنوبی ایشیا کے مولویوں نے اپنے ماننے والوں کو بتایا ہے کہ اسلام کے برگزیدہ ہستیوں کی تصویر بنانا حرام ہے۔ جب کہ ایران پہنچ کر صاف معلوم ہوا کہ ایران کے مولوی نے اپنے ماننے والوں کو ایسا کچھ نہیں بتایا۔ چنانچہ آستارا سے آردیبل کے لیے نکلے تو ایک ٹرک نظر آیا جس پہ سید الشہدا امام حسین لکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی امام حسین کی تصویر بھی بنی ہوءی تھی۔ اسی طرح حضرت علی کی تصاویر بھی جا بجا نظر آءیں۔




Labels: , , , , , ,


Sunday, September 01, 2013

 

باکی کے ملتانی بچے


اگست  چودہ،  دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو اکیاون


باکی کے ملتانی بچے

علی حسن سمندطور


احوال سفر-اگست پانچ
ہم دوبارہ رمضان کے موسم میں داخل ہوگءے ہیں۔ ترکی سے گرجستان پہنچنے پہ رمضان سے باہر آگءے تھے۔ گرجستان سے حیاستان، اور پھر حیاستان سے واپس گرجستان تک رمضان سے باہر رہے۔ گرجستان کے دارالحکومت تبلیسی سے آذرباءیجان کے قصبے شیکی پہنچنے پہ دوبارہ رمضان میں داخل ہوگءے۔ مگر ترکی کی طرح آذرباءیجان میں بھی رمضان کی ایسی سختی نظر نہیں آتی جیسی کہ پاکستان میں نظر آتی ہے۔ یعنی یہاں لا اکرہ فی الدین والا معاملہ ہے اور ڈنڈے کے زور پہ لوگوں سے روزے نہیں رکھواءے جاتے؛ چنانچہ دن کے وقت بھی کھانے پینے کی جگہیں کھلی رہتی ہیں اور لوگ سرعام سگریٹ پیتے بھی نظر آتے ہیں۔ البتہ نماز کے وقت فضا اذانوں سے گونج جاتی ہے۔
دریاءے خضر [کیسپین سی] دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ آذرباءیجان کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت باکی [باکو]  اسی سمندر کے ساتھ واقع ہے۔ باکی کی میٹرو استعمال کرتے ہوءے کءی دفعہ مجھے دیسی شکلوں کے لوگ ںظر آءے تھے۔ مجھے تجسس تھا کہ معلوم کروں کہ یہ لوگ کون ہیں۔
کل باکی کے پرانے شہر میں بخارا کاروان سراءے کے ساتھ ملتانی کاروان سراءے کا نشان دیکھا تو حیرت ہوءی۔ ملتانی کاروان سراءے؟ کیا اس ملتانی کاروان سراءے کا شہر ملتان سے کوءی تعلق ہے؟ پوچھنے پہ معلوم ہوا کہ ملتانی کاروان سراءے کا شہر ملتان سے گہرا تعلق ہے۔ زمانہ قدیم میں شہر ملتان سے باکی آنے والے کاروان ملتانی کاروان سراءے میں ٹہرا کرتے تھے۔
باکی نے ہوشیاری یہ دکھاءی ہے کہ پرانے شہر کے بڑے حصے کو مختلف ریستورانوں کے سپرد کردیا ہے چنانچہ آپ کھنڈرات کے بیچ میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور تاریخ سے اپنا رشتہ محسوس کرتے ہیں۔ اور اس طرح ریستوراں والے ان کھنڈرات کی حفاظت کرتے ہیں کہ ان کی روزی روٹی اس سے وابستہ ہوتی ہے۔ ملتانی کاروان سراءے اور بخارا کاروان سراءے روبہ رو ہیں۔ آج کل ان دونوں قدیم عمارتوں میں ایک ریستوراں کام کرتا ہے۔ ہمارے استفسار پہ ہم سے کہا گیا کہ ہم اس قدیم عمارت کے تہہ خانے میں جا کر اس کاروان سراءے کا معاءنہ کرسکتے تھے۔ سورج ڈوب چکا تھا اور لوگ بخارا سراءے  میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جب کہ ملتانی سراءے میں ابھی لوگ آنا نہیں شروع ہوءے تھے مگر وہاں بھی میزیں برتنوں اور گلاسوں سے سجی تھیں۔
ملتانی کاروان سراءے کے تہہ خانے میں ہمیں بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔ وہاں ایک شیلف میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے پیش کیے جانے والا تحفے، مٹی کے نقشین برتن، موجود تھے۔ دیوار پہ ان مشہور شخصیات کی تصاویر تھیں جنہوں نے کبھی ملتانی کاروان سراءے کا دورہ کیا تھا۔ ان ہی تصاویر میں ایک تصویر پرویز مشرف کی بھی تھی۔
ملتانی کاروان سراءے سے واپس ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر میں بہت دیر تک زمانہ قدیم کے ان تجارتی کاروانوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ یہ قافلے کس راستے سے باکی پہنچتے ہوں گے؟ وہ غالبا ملتان سے کابل سے مشہد، پھر دریاءے خضر یعنی کسیپین کے ساتھ ساتھ چلتے ہوءے ایران کے شمال میں اور پھر اوپر جاتے ہوءے باکی پہنچتے ہوں گے۔ ملتان سے باکی تک پہنچنے میں کتنا عرصہ لگتا ہوگا؟ راستے میں کن کن بڑے تجارتی مراکز میں ان کاروانوں کا پڑاءو ہوتا ہوگا؟ کیا ملتان کی کسی پرانی عمارت میں ان تاجروں کے حساب کتاب کے کاغذ کہیں دفن ہیں؟ کیا ایسی تحریری یادداشتیں بتا سکتی ہیں کہ پرانے وقتوں کے وہ تاجر کن اشیا کی تجارت کرتے تھے، یہ کاروان کتنے بڑے ہوتے تھے، ان میں کتنے لوگ اور کتنے باربرداری کے جانور ہوتے تھے؟  پرانے وقتوں میں تو سفر بہت خطرناک تھا۔ کہیں جنگ تھی، کہیں وباءی بیماریاں تھیں۔ میر کاروان کو ہر دم فیصلہ کرنا ہوتا ہوگا کہ آیا کاروان آگے بڑھے، کوءی دوسرا راستہ اختیار کرے، یا واپس پلٹ جاءے۔ یہ قافلے آگے کی خبر کیسے لاتے ہوں گے؟  کیا کچھ کچھ دیر بعد ایک تیزرفتار گھوڑا آگے روانہ کیا جاتا ہوگا کہ وہ اگلے پڑاءو سے متعلق خبر لاءے؟
اور ڈاکوءوں سے نمٹنے کے لیے ان قافلوں کے پاس کیا حکمت عملی ہوتی ہوگی؟ کیا قافلے میں چند لوگ ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہوں گے؟ میر کارواں کن صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہوگا؟ یقینا وہ دانا شخص ہوتا ہوگا جو کءی زبانیں جانتا ہوگا۔ ستاروں کی مدد سے سمت کا تعین کرنے کا اہل ہوتا ہوگا۔ کیا  زمانہ قدیم کے ان میران کاروان کے پاس یہ علم آگیا تھا کہ سفر میں سب سے زیادہ احتیاط پانی کے سلسلے میں کرنی ہوتی ہے؟  کیا کہیں یہ میران کاروان سفر ایک دوسرے کو یہ بات بتاتے ہوں گے سفر میں صرف چاءے پی جاءے یا پھلوں کے رس سے جسم کی پانی کی ضروریات پوری کی جاءیں؛ کہ عام پانی پینا انتہاءی خطرناک ہے۔ قدیم وقتوں کے سر پھرے جہاں نورد یقینا ان ہی کاروانوں کے ساتھ دنیا کی سیر کے لیے نکل جاتے ہوں گے۔ اور جب یہ آوارہ گرد کسی اچھی جگہ ٹہر جاتے ہوں گے اور ان کا قافلہ آگے روانہ ہوجاتا ہوگا تو یہ کس قدر بے چینی سے اگلے قافلے کی روانگی کا انتظار کرتے ہوں گے؟
کاروان میں شامل کوءی شخص بیمار پڑجاءے تو اس کے علاج معالجے کا کیا انتظام کیا جاتا ہوگا؟ اگر کوءی شامل قافلہ شخص مر جاءے تو یقینا اس کو راستے ہی میں گاڑ کر کاروان آگے بڑھ جاتا ہوگا۔  کیا زمانہ قدیم کے یہ تاجر مختلف علاقوں میں پڑاءو کرتے ہوءے اپنے بچے ان علاقوں میں چھوڑ جاتے تھے؟ کیا اسی وجہ سے باکی میں بہت سے لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو دیسی شکلوں کے ہیں؟ کیا ملتان میں بھی باکی کے بہت سے بچے موجود ہیں؟
اور سب سے اہم سوال یہ کہ آیا پاکستان سے تعلق رکھنے والا کوءی محقق ان قافلوں پہ تحقیق کررہا ہے کہ درج بالا سوالات کے جوابات حاصل کیے جا سکیں؟






Labels: , , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?