Sunday, September 29, 2013

 

بے خبر علماءے اسلام؛ سفر کی تیاریاں







ستمبر اکیس، دو ہزار تیرہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو چھپن

بے خبر علماءے اسلام؛ سفر کی تیاریاں

ایک ایسے دوست سے بات ہورہی تھی جو کسی قدر مذہبی واقع ہوءے ہیں۔ نہ جانے کیسے ذکر آلو کا آگیا۔ میں نے یوں ہی ان سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اصحاب کرام ہفتے میں کتنی دفعہ آلو کھاتے تھے۔ یہ سوچ کر کہ آلو سستی چیز ہے اور جن خدا کے بندوں کا ذکر ہورہا ہے ان کو پرتعیش زندگی سے کوءی سروکار نہیں تھا، کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ اصحاب کرام بیشتر دن آلو ہی کھاتے ہوں گے۔ میں اس جواب سے محظوظ ہوا اور میں نے پوچھا کہ ٹماٹر کے متعلق کیا خیال ہے؛ اسلام کے اول زمانے میں کیا ٹماٹر بھی باقاعدگی سے استعمال ہوتے تھے؟ انہوں نے سوچ کر جواب دیا کہ شاید ٹماٹر اتنے استعمال نہ کیے جاتے ہوں گے۔ میں اس گفتگو کے مزے لے رہا تھا چنانچہ میں نے پوچھا کہ کیا اس وقت کے عرب علاقے میں ہری مرچ کا بھی استعمال ہوتا تھا۔ میرے دوست ان سوالات سے کسی قدر جھنجھلاءے مگر انہوں نے کہا کہ شاید ہری مرچ بہت زیادہ استعمال نہ کی جاتی ہوگی۔ پھر میں نے ان پہ بات واضح کی کہ بھاءی یہ تینوں چیزیں یعنی آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ پرانی دنیا میں نہ ہوتی تھیں اور کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد یہ چیزیں نءی دنیا سے پرانی دنیا لے جاءی گءی ہیں۔ چنانچہ پرانی دنیا [ایشیا، افریقہ، اور یورپ] میں آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ کی کاشت سولھویں صدی میں شروع ہوءی ہے۔ اصحاب کرام آلو، ٹماٹر، اور ہری مرچ نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ اس وقت نہ امریکہ دریافت ہوا تھا اور نہ یہ چیزیں یہاں سے پرانی دنیا میں پہنچی تھیں۔ میرے دوست اس جواب سے کسی قدر خجل ہوءے مگر مجھ پہ ایک دفعہ پھر یہ بات واضح ہوگءی کہ جو جس قدر زیادہ مذہبی ہے اسی قدر معلومات عامہ سے بے بہرہ ہے۔ نماز روزے کے پابند عام لوگوں کے علاوہ ہم انہیں دیکھیں جنہیں علماءے اسلام کہا جاتا ہے تو وہ زمانے کے علم سے اور بھی زیادہ بے گانہ نظر آتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اسلام ترقی پسندی اور علم کی جستجو کا نام تھا۔ جب کہ آج کے 'علما' کے 'اسلام' سے صرف بوسیدگی کی بو اٹھتی ہے۔
احوال سفر۔ کوہ قاف کے نام سے جدید دور کے تین آزاد ملکوں کا خیال آتا ہے: گرجستان [جورجیا]، حیاستان [آرمینستان]، اور آذرباءیجان۔ کوہ قاف دو پہاڑی سلسلوں کا نام ہے: بڑا کوہ قاف اور چھوٹا کوہ قاف۔ آپ یہ خیال کرسکتے ہیں کہ ان دو پہاڑوں پہ برسنے والا پانی مشرق میں دریاءے خضر یا بحرہ قزوین [کیسپءین] میں اور مغرب میں بحراسود میں گرتا ہے۔ بحر اسود تو آبناءے باسفور کے توسط سے دوسرے سمندروں سے ملا ہوا ہے مگر دریاءے خضر ایک جھیل ہے۔ ہر وہ جھیل جس کے پانی کی نکاسی نہ ہوتی ہو رفتہ رفتہ کھاری ہوتی جاتی ہے کہ پانی بخارات بن کر اڑنے پہ اپنے پیچھے نمکیات چھوڑ دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جھیل کے پانی میں نمکیات کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ہر دفعہ دریا اور ندی کا پانی اپنے ساتھ زمین کی نمکیات بہا کرجھیل میں لاتا ہے۔ چنانچہ دریاءے خضر کا پانی بھی کھارا ہے مگر کہتے ہیں کہ اس پانی میں نمکیات دوسرے سمندروں کی نمکیات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ دریاءے خضر کی تجارتی دنیا ہی الگ ہے کہ وہ تمام ممالک  جن کی سرحدیں اس سمندر سے لگتی ہیں، اس آبی راستے سے ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہیں۔
جب ہمارا ارادہ ہوا کہ کوہ قاف کا سفر کیا جاءے تو سوچا گیا کہ ان ملکوں کا دورہ کس ترتیب سے کیا جاءے۔ کیا یہ سفر غیرگھڑی وار کیا جاءے یعنی  ترکی سے ایران پھر اوپر آذرباءیجان، پھر گرجستان، پھر حیاستان اور واپس ترکی پہنچا جاءے؟ یا اس کی الٹی سمت میں گھڑی وار سفر کیا جاءے؟ طے پایا کہ گھڑی وار سفر کیا جاءے اور عید کے قریب ایران پہنچا جاءے۔ بجٹ سفر کی خاص باتوں میں کم سے کم سامان لے کر چلنا اور ٹہرنے کے لیے ہوٹل کا تعین کرنا شامل ہوتے ہیں۔ کپڑوں کا یہ حساب ہوتا ہے کہ ہم جو پتلون پہن کر چلتے ہیں بس اسی میں پورا سفر گزارتے ہیں۔ ہر پانچ سات دن میں رات کے وقت شب خوابی کے کپڑے پہن کر پتلون کو دھو لیتے ہیں اور اگلے دن سے پھر اسے پہننا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہوٹل کے انتظام کے سلسلے میں بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ بڑے شہروں میں تو پہلے سے ہوٹل کی بکنگ کریں مگر چھوٹے قصبوں میں رہنے کی جگہ وہیں جا کر تلاش کریں۔ بڑے شہروں میں فاصلے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وہاں پہنچ کر رہنے کی صحیح جگہ تلاش کرنا زیادہ کٹھن کام ہے۔ جب کہ چھوٹے قصبوں میں پیدل چل کر ٹہرنے کی زیادہ بہتر اور کم خرچ جگہ تلاش کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے استنبول اور انقرہ میں ہوٹل کا انتظام کر لیا تھا اور ساتھ ہی انقرہ سے قرص تک کے لیے ٹرین کے ٹکٹ بھی لے لیے تھے۔ استنبول کے مرکزی ریلوے اسٹیشن حیدرپاشا سے مشرق کے لیے ٹرینیں نہیں روانہ ہورہی تھیں کہ آگے ریلوے لاءن پہ کام ہورہا تھا چنانچہ استنبول سے انقرہ بس سے جانا تھا اور آگے جانے کے لیے انقرہ سے ٹرین لینی تھی۔ جاری ہے۔


Labels: , , , , , , ,


Thursday, September 19, 2013

 

شاہ زیب خان قتل، قصاص، اور سفر کا حال

ستمبر چودہ، دو ہزار تیرہ 
ایک فکر کے سلسلے کا کالم 
کالم شمار ایک سو پچپن


شاہ زیب خان قتل، قصاص، اور ونودظور

یوں تو پاکستان میں ہر روز دسیوں اور کبھی سیکنڑوں لوگ قتل ہوتے ہیں مگر کبھی کوءی قتل لوگوں کے ذہنوں پہ سوار ہوجاتا ہے اور لوگ قتل کے اس مقدمے میں انصاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک قتل پچھلے سال شاہ زیب خان نامی نوجوان کا ہوا اوراس بات کے شواہد مل گءے کہ شاہ زیب کو شاہ رخ جتوءی اور اس کے مسلح ساتھیوں نے قتل کیا تھا۔ قتل کے اس واقعے کے بعد شاہ رخ ملک سے فرار ہوگیا مگر اخبارات میں اور سوشل میڈیا پہ چلنے والی عوامی مہم کے زور پہ سندھ پولیس شاہ رخ کو دبءی سے گرفتار کر کے واپس پاکستان لے آءی۔ شاہ رخ پہ مقدمہ چلا اور اسے سزاءے موت ہوءی۔ مگر اب سننے میں آرہا ہے کہ شاہ رخ کی رہاءی قصاص اور دیت [وہ رقم جسے لے کر مقتول کے ورثا قاتل کو معاف کریں] کے شرعی قوانین کے تحت ہونے والی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خبر سن کر وہ لوگ بہت طیش میں ہیں جو سوشل میڈیا پہ شاہ زیب قتل کے سلسلے میں انصاف کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ لوگ جو مختلف ساءن لے کر کراچی کی سڑکوں کے کنارے دنوں کھڑے رہے اب کف افسوس مل رہے ہیں کہ ناحق انہوں نے اپنا وقت ضاءع کیا۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں امیر کے لیے ہر طرح کی چھوٹ ہے؛ صرف غریب پہ تمام قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ مگر معترضین وہ بات نہیں کہہ رہے جو ان کے دل میں ہے ۔ اور وہ یہ کہ ہم مذہب کے نام پہ خرافات برداشت کرتے کرتے تھک چکے ہیں؛ کہ ہمیں یہ نام نہاد 'شرعی قوانین' قبول نہیں جو شاید چودہ سو سال پہلے عرب کے ریگستان میں تو چلتے ہوں مگر جن کا ہمارے نءے دور سے دور دور کا واسطہ نہیں۔ کہ جو قوانین 'شریعت محمدی' کے نام پہ لاگو کیے جا رہے ہیں، ان کا اسلام کی اصل ترقی پسند روح سے کوءی تعلق نہیں اور یہ دراصل صرف شریعت ملاءی ہیں۔ قصاص اور دیت کا ہی قانون لے لیں۔ اس قانون کا تعلق اس زمانے سے ہے جب لوگ قباءل میں بٹے ہوءے تھے۔ ہر شخص اپنے قبیلے کا ایک اہم رکن تھا۔ اس رکن کا ختم ہوجانا پورے قبیلے کا نقصان تھا مگر اس نقصان کی صورت میں قبیلہ یہ فیصلہ کرسکتا تھا کہ وہ کس شرط پہ یعنی کتنی رقم لے کر اس قتل کو معاف کردے گا۔ آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ ایک بہت بڑی سماجی اور معاشی اکاءی ہے۔ اس معاشرے کا ہر فرد پورے معاشرے کی ملکیت ہے۔ اس صورت میں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی مقتول کے گھر والے مخصوص دیت پہ قاتل کو معاف کردیں؟ فی زمانہ ہر قتل کی معافی قاتل کو پورے معاشرے سے مانگنا ہوگی۔ اگر دیت دے کر ہی قتل معاف کروانا ہے تو اس دیت کے حق دار وہ لوگ بھی ہیں جو سوشل میڈیا پہ انصاف کی مہم چلاتے ہیں یا وہ جو شاہ زیب قتل کیس میں رات دن سڑک کے کنارے کیمپ لگاءے بیٹھے رہے۔
سفر نامہ جاری۔ جب ہم سفر پہ نکلتے ہیں تو بے اختیار دل چاہتا ہے کہ بس آگے سے آگے چلتے چلے جاءیں۔ یریوان میں رہتے ہوءے بھی ایسا ہی خیال تھا۔ دل تھا کہ وہاں سے آگے کاراباغ جاءیں کہ کاراباغ دلچسپ جگہ ہے۔ کاراباغ وہ علاقہ ہے جو اس وقت حیاستان [آرمینستان] کے قبضے میں ہے مگر آذرباءیجان کا دعوی ہے کہ کاراباغ اس کا علاقہ ہے۔ جب کہ کاراباغ اپنے طور پہ اپنے آپ کو حیاستان اور آذرباءیجان سے الگ ملک سمجھتا ہے۔ مگر کاراباغ میں بے انتہا دلچسپی ہونے کے باوجود واضح تھا کہ ہمارے پاس حیاستان میں مزید جنوب میں جانے کے لیے وقت نہیں ہے اور اگر حیاستان میں ایک دو دن کی مہلت ہے تو یہ وقت حیاستان کے شمال میں گرجستان [جورجیا] کی سرحد کے قریب صرف کرنا ہوگا۔ چنانچہ انتخاب ہوا ونود ظور کا۔
ونودظور نامی شہر کی خاص بات نہ صرف اس کی تاریخی اہمیت ہے بلکہ اس سے قریب دو قدیم خانقاہیں سناہین اور ہاغپات ہیں۔ ہم یریوان میں اپنے ہوٹل سے نکل کر پیدل چلے اور کچھ فاصلے پہ ایک ٹیکسی کو ٹہرا لیا۔ ٹیکسی والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا۔ بات کرتے کرتے اس کا سانس پھول جاتا تھا اور ہمیں خیال ہوا کہ وہ بلند فشار خون کا مریض ہوگا۔ اس نے بتایا کہ وہ نیویارک میں رہ کر آیا تھا جہاں وہ گھروں میں مرمت کا کام کرتا تھا۔ وہاں اس کا باس ایک ہندوستانی تھا۔ اس ٹیکسی والے کو امریکہ میں رہنا بہت پسند آیا تھا مگر خاندان کے زیادہ ترلوگ حیاستان میں تھے اس لیے اسے واپس اپنے ملک آنا پڑا۔ سوویت یونین میں شامل دوسری ریاستوں کی طرح سوویت اتحاد ٹوٹنے پہ حیاستان کو بھی اپنا معاشی نظام یکایک بدلنا پڑا۔ عوام جو اس بات کے عادی ہوچکے تھے کہ ریاست ان کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہے، ان کے لیے روزگار بھی فراہم کرے گی اور رہاءش کا انتظام بھی کرے گی، اچانک منڈی کی معیشت میں دھکیل دیے گءے۔ وہ معیشت جس میں جو جس قدر مضبوط اور وساءل سے مالامال ہے اسی قدر تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں یریوان میں جتنے بھی فقیر نظر آءے سب سن رسیدہ تھے۔ یقینا ان سب کی منفرد کہانیاں ہوں گی۔ کہ کس طرح ساری عمر انہوں نے ریاست کی ملازمت کی اور یہ خیال کیا کہ ریٹاءرمنٹ کے بعد ریاست ہی ان کی دیکھ بھال کرے گی۔ مگر پھر اشتراکیت کا دور ختم ہوگیا اور ان بوڑھے، کمزور لوگوں کو سرمایہ داری کے نظام میں پٹخ دیا گیا۔ ریاست نے بوڑھاپے میں ان کی کفالت سے ہاتھ کھینچ لیا اور اب یہ لوگ بھیک مانگ کر گزر بسر کرتے ہیں۔
بس اڈے پہ ونودظور جانے کے لیے ایک وین اسی وقت روانہ ہوءی جب ہم وہاں پہنچے۔ دوسری وین کچھ دیر میں آءی اور رفتہ رفتہ مسافروں سے بھرتی گءی۔ بس اڈے پہ ہماری بات چیت ایک ایسی عورت سے ہو گءی جو تھی تو مقامی مگر فارسی بولتی تھی۔ وہ ان مسافروں کے لیے رہاءش کا انتظام کرتی تھی جو ایران سے آتے تھے۔ بہت دنوں بعد ہمیں تبریز میں سڑک کے کنارے ایسے ساءن لگے نظر آءے تھے جو لوگوں کو گرجستان میں چھٹیاں منانے کی دعوت دے رہے تھے۔
 وہ ایک گرم دن تھا مگر وین کے چلنے پہ باہر سے آنے والی ہوا نے سفر کو کسی قدر خوشگوار بنا دیا۔ وین میں ڈراءیور سمیت مختلف لوگوں کے سیل فون کچھ کچھ دیر بعد بجتے رہے۔ اپنے مداحوں کی تعداد میں وہ نوجوان سب سے آگے تھا جو ڈراءیور کے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ ہر دفعہ فون آنے پہ وہ مدعی سے زور زور سے باتیں کرتا اور اس گفتگو میں کءی بار لفظ پاسپورٹ آتا۔
ونودظور کے راستے میں وین بس ایک ہی جگہ رکی۔ وہاں سڑک کے ساتھ ایک عمارت کے ساءے میں ایک نابینا فقیر بیٹھا تھا جس نے ایک بوسیدہ سوٹ کیس سے ہارمونیم نکال کر اسے کچھ دیر بجایا اور پھر ہارمونیم کو احتیاط سے واپس سوٹ کیس میں رکھ دیا۔
ونودظور میں وین نے ہمیں جہاں اتارا وہاں سے ہوٹل آرگشتی کا فاصلہ مشکل سے آدھا میل تھا۔ ہوٹل آرگشتی میں ہمیں ایک کمرہ دکھایا گیا۔ ہم نے کمرے کے چھوٹے ہونے کی شکایت کی تو ہمیں سب سے اوپری منزل پہ ایک دوسرا کمرہ دکھایا گیا مگر اس کا کرایہ پہلے کمرے کے کراءے سے کہیں زیادہ بتایا گیا۔ ہم نے مینیجر سے کہا کہ ہمیں یہ دوسرا کمرہ پسند تو آیا ہے مگر اس کے دام ہم وہی دیں گے جو ہمیں پہلے کمرے کے بتاءے گءے تھے۔ مینیجر نے ہم سے مہلت مانگی کہ وہ ہوٹل کے مالک کو فون کر کے پوچھے گا کہ آیا بڑا کمرہ اس نرخ پہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ کہیں فون ملایا گیا، مختصر بات ہوءی اور پھر ہمیں فیصلہ سنا دیا گیا کہ ہمارے مطلوبہ نرخ پہ کمرہ ہمیں دیا جاسکتا ہے۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہوٹل شہر کے ناظم کی ملکیت تھا۔ یعنی وہی پرانا قصہ کہ جدید معاشرے میں دولت، اثرو رسوخ، اور شہرت جلد یا بدیر ایک نقطے پہ مرتکز ہوجاتے ہیں۔




APC and talks with Taliban; Karachi operation; Syria from WBT TV on Vimeo.

Labels: , , , , , ,


Tuesday, September 10, 2013

 

گارنی اور گغارد



ستمبر سات، دو ہزار تیرہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو چون

گارنی اور گغارد


یوں تو لکھنے کے لیے بہت سارے موضوعات ہیں مگر ترجیح یہ ہے کہ جلد از جلد 'سفر کوہ قاف کا' نامی سفرنامہ ختم کیا جاءے۔ اس کالم کا زیادہ تر حصہ اسی کتاب سے ماخوذ ہے۔ مگر پہلے مختصر حال اس انیس سالہ لڑکی کا ہوجاءے جو دوسروں کی غفلت سے کراچی کے پانوراما سینٹر کی ساتویں منزل سے گر کر ہلاک ہو گءی۔ اخباری اطلاع کے مطابق وہ لڑکی ساتویں منزل سے نیچے اس طرح گری کہ ساتویں منزل سے نیچے جانے کے لیے اس نے لفٹ کا دروازہ کھولا اور بغیر دیکھے اندر قدم رکھ دیا۔ اندر لفٹ موجود نہ تھی۔ دیار کفر یعنی کسی مغربی ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو ذرا سی دیر میں مجرمانہ غفلت کا مقدمہ عمارت کے مالکان پہ قاءم کردیا جاتا مگر ایسا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوا ہے اس لیے اس بات کا عین امکان ہے کہ لڑکی کے متعلقین اس حادثے کو اللہ کی رضا جان کر خاموش رہیں۔
سفر کا حال۔ یریوان میں ایک اور دن۔ یریوان میں ہم جس ہوٹل میں ٹہرے ہیں اس میں ہر مالے پہ دو اپارٹمنٹ ہیں یعنی چھ منزلہ اس عمارت میں محض بارہ اپارٹمنٹ کراءے کے لیے ہیں۔ اس ہوٹل کے سامنے ہی ایک پارک ہے۔ اپنے کمرے کی بالکونی سے ہم اس پارک کا اور وہاں آنے والوں کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ دوپہر میں اس پارک میں آمدورفت کم ہوجاتی ہے اور جو اکا دکا لوگ نظر آتے ہیں وہ سایہ دار درختوں کے نیچے والی بنچوں پہ بیٹھ کر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سردیوں میں جب یہاں برف پڑتی ہوگی تو پارک کے سارے درخت ٹنڈ منڈ ہو کر ایک دوسرا ہی منظر پیش کرتے ہوں گے۔
 یریوان کے قریب دو تاریخی عمارتیں ہیں جہاں ہم جانا چاہتے ہیں؛ ایک گارنی کا مندر اور دوسری گغارد کی خانقاہ۔ ہم نے جس ٹیکسی والے سے ان دو جگہ جانے کی بات کی اس نے منہ پھاڑ کر ہم سے دس ہزار درام مانگ لیے۔ ہم نے چھ ہزار درام سے بات شروع کی اور کسی طرح آٹھ ہزار درام پہ اس کو ان دو جگہ ہمیں لے جانے کے لیے راضی کر لیا۔ ٹیکسی شہر سے باہر نکلی اور پہاڑ پہ چڑھ گءی۔ گارنی دریاءے آزاد کے ساتھ واقع ہے۔  گارنی کا مندر اس لحاظ سے اہم ہے کہ آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح کسی علاقے کے لوگ اپنا مذہب تبدیل کرنے پہ اپنے پرانے مذہب کی عبادت گاہوں کو اپنے نءے مذہب کی عمارتوں میں ڈھال لیتے ہیں۔ حیاستان میں عیساءیت کے آنے سے پہلے گارنی کے مندر میں نہ جانے کن بتوں کی پوجا ہوتی تھی مگر مقامی لوگوں کے عیساءی ہو جانے کے بعد یہ مندر اور مندر کا احاطہ عیساءی عبادت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ گارنی کے مندر کو دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ بہت سے گول ستونوں والی اس عمارت کو یونان میں کہیں ہونا چاہیے تھا کہ اس کا طرز تعمیر ایتھنز کے پارتھینون جیسا ہے۔ مندر کے قریب ہی ایک حمام ہے۔ پرانے وقتوں میں ٹھنڈے علاقوں میں نہانا ایک عیاشی تھی جس کے متحمل امرا اور ملا ہی ہوسکتے تھے چنانچہ مندر کے احاطے میں موجود اس حمام کو گرم پانی فراہم کرنے کے لیے بہت اعلی انتظام تھا۔ پانی لکڑی کے چولھوں پہ گرم کیا جاتا اور ایک نالی کے ذریعے حمام کے اندر پہنچایا جاتا۔
گارنی سے گغارد زیادہ فاصلے پہ نہ تھا۔ گغارد کی خانقاہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی عمارت ایک پہاڑ کے ساتھ ہے اور کءی جگہ پہاڑ کو تراش کر ہی اس عمارت کے اندر موجود کمروں کی جگہ بناءی گءی ہے۔ خانقاہ کے صدر دروازے سے گھستے ساتھ ہی ہم نے ایک راہب کو اپنے کالے جبے اور کالی ٹوپی کے ساتھ ایک بنچ پہ براجمان پایا۔ اس راہب کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا ہدیہ پانچ سو درام وہیں ایک ساءن پہ درج تھا۔ حیاستان کے لوگ بہت مذہبی واقع ہوءے ہیں چنانچہ خانقاہ میں جا بجا موم بتیاں روشن تھیں اور نءے آنے والے موم بتی جلا کر اس جگہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے اور ہر جگہ یسوع مسیح کی تصویر دیکھ کر اپنے سینے پہ صلیب کا نشان ضرور بناتے۔ خانقاہ کے پیچھے لگے درختوں پہ لوگوں نے کپڑے کے چیتھڑے باندھے ہوءے تھے۔ جنوبی ایشیا میں بھی یہ روایت ہے کہ جو بیمار سفر کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو وہ اپنے کسی جاننے والے کو اپنے کپڑے کا ایک چیتھڑا دے دیتا ہے کہ وہ کسی بزرگ کے مزار پہ یا کسی  اور مقدس مقام پہ جا کر اس چیتھڑے کو کسی درخت سے باندھ دے۔ خیال یہ ہے کہ اس طرح سفر کی سکت نہ رکھنے والے شخص کی حاضری اس مقدس مقام پہ لگ جاتی ہے اور اس کے دل کی مراد پوری ہونے کا امکان ہوجاتا ہے۔ پرانی مذہبی روایات کو نءے مذہب کے سانچے میں ڈھالنے کا کام ہرجگہ ہوتا رہتا ہے اور اسی درمیان ایسی تحاریک بھی اٹھتی رہتی ہیں جو ڈنڈے کے زور پہ لوگوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ پرانی روایات چھوڑ کر دوسری نءی روایات اختیار کریں۔









Labels: , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?