Monday, November 11, 2013
پوپ فضل اللہ
نومبردس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو ترسٹھ
پوپ فضل اللہ
طالبان کی
پاکستان میں ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ بہت سے معصوم لوگ قاءل ہوچکے ہیں کہ طالبان
پاکستان میں سچا اسلامی معاشرہ قاءم کرنا چاہتے ہیں؛ کہ طالبان پاکستان میں حقیقی شریعت
محمدی نافذ کریں گے۔ پاکستان کے بہت سے لوگ جو اسلام سے والہانہ محبت کرتے ہیں اس
بہکاوے میں آجاتے ہیں کہ جو شخص قرآن کی دوچار آیتیں پڑھ کر اسلامی نظام کے نفاذ
کی بات کررہا ہے وہ واقعی اسلام کا اصل سپاہی ہے۔ جماعت اسلامی، جمعیت علماءے
اسلام سے لے کر طالبان تک جو گروہ اسلام کی بات کرتے ہیں، بہت سے لوگوں پہ جادو سا
کردیتے ہیں۔ اور پاکستان میں اسلام کا نام
ایسا ترپ کا پتہ ہے کہ بڑے بڑے اس کے آگے بات کرتے کپکپاتے ہیں۔ مگر اب وقت آگیا
ہے کہ یہ بات کھل کرہوجاءے کہ اسلام کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار ہم سے جھوٹ بولتے
ہیں۔ یہ 'اسلامی نظام' نہیں بلکہ اپنی مرضی کا وہ نظام ہم پہ مسلط کرنا چاہتے ہیں
جس پہ یہ اپنی پسند کےاسلام کا تڑکا لگاءیں گے۔ یہ لوگ ملک میں ایسا نظام نافذ
کرنا چاہتے ہیں جس میں ان کی مرضی چلے۔ اسلام عیساءیت سے اس طرح مختلف ہے کہ اس
میں پاپاءیت کا تصور نہیں ہے۔ ہمارے نبی کی وفات کے بعد اس بات کی قطعا گنجاءش
نہیں ہے کہ کوءی شخص یا گروہ 'اسلام' کا نام اپنی چودھراہٹ کے لیے استعمال کرے اور
باقی مسلمانوں کو بتاءے کہ کس کا اسلام صحیح ہے اور کس کا غلط ۔ نہ ہم جماعت
اسلامی کے امیر کو اپنا پوپ مانتے ہیں اور نہ ہی طالبان کے سربراہ کو۔ جو لوگ پوپ
فضل اللہ کو اسلام کا ٹھیکے دار سمجھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ وزیرستان جا کر
طالبان کے ساتھ رہنے لگیں اور باقی ملک پہ اپنے کچے پکے خیالات تھوپنے کی کوشش نہ
کریں۔
ہمارے خطے
جنوبی ایشیا میں کءی جگہ آزادی کی تحریکیں کام کررہی ہیں؛ بہت سے گروہ اپنی مرضی
کا نظام کسی مخصوص علاقے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور بہت جگہ ایسا ہے کہ ایسے
گروہوں کے قبضے میں پہلے ہی ایک بڑا علاقہ ہے۔ تو پھر یہ مستقل کشت و خون کیوں؟ یہ
لوگ اپنی مرضی کا نظام اپنے زیراثر علاقے میں کیوں نافذ نہیں کردیتے؟ یہ دنیا کے
سامنے اپنے خیالات کی ایک عملی مثال کیوں نہیں بنا کرپیش کردیتے؟ طالبان شمالی
وزیرستان کو ایک مثالی اسلامی معاشرہ کیوں نہیں بنادیتے؟ اور اگر کبھی ایسا ہوا کہ
طالبان نے یا کسی اور گروہ نے ایک خاص علاقے میں ایک ایسا منصف معاشرہ قاءم کردیا
جس کی دھوم دنیا میں ہوگءی اور دنیا بھر سے لوگ اس جگہ جانے کے لیے ایسے ہی تڑپنے
لگے جیسا کہ آج امریکہ، کینیڈا، اور دوسرے مغربی ممالک کے ویزے حاصل کرنے کے لیے
تڑپتے ہیں تو پھر منصف معاشرہ بنانے والوں کو اس نظام کو دوسری جگہ نافذ کرنے کے
لیے ڈنڈے کا سہارا نہ لینا پڑے گا۔ ہم ان سے خود درخواست کریں گے کہ وہ براءے
مہربانی ہمیں بھی اسی طرح کا منصف نظام بخشیں۔ مگر اس وقت تو یہ حالت ہے کہ آپ نے
اپنے نظام کا وہ عملی مظاہرہ نہیں کیا ہے جسے دیکھ کر سب واہ واہ کریں [یا کیا ہے
جیسا کہ سوات میں یا افغانستان میں، تو لوگوں نے کان ہی پکڑے ہیں؛ آپ کے اس نظام
سے لوگ بھاگے ہی ہیں؛ سواءے ایک آدھ جنونیوں کے، کوءی آپ کے پاس دوڑ کر نہیں گیا]۔
اپنے قابل تقلید نظام کا عملی مظاہرہ نہ کرنے کے باوجود آپ کی خواہش ہے کہ پورا
پاکستان آپ کے حوالے کردیا جاءے اور وہاں آپ اپنی خوب مرضی چلاءیں۔ کون بے وقوف ہے
جو آپ کو ایسا کرنے کی اجازت دے گا؟ [سواءے چند نادانوں کے جن کے لیے 'اسلام' کا
نام ہی کافی ہے چاہے اس نام کے پیچھے کتنا ہی بڑا فراڈ کھیلا جارہا ہو۔]
اور اپنے
زیراثر علاقے میں اپنی مرضی کا نظام قاءم کر کے دنیا کو دکھانے کا یہ چیلنج جنوبی
ایشیا کی دوسری آزادی کی تحریکوں کے لیے بھی ہے۔ خاران، آواران، پنجگور میں رہنے
والے بلوچ ان علاقوں میں اپنی مرضی کا مثالی معاشرہ کیوں قاءم نہیں کردیتے؟ کشمیری
حریت پسند بارہ مولا، بانڈی پور کو ایسی مثالی جگہیں کیوں نہیں بنا دیتے جسے دیکھ
کر دنیا قاءل ہوجاءے کہ واقعی کشمیر کی آزادی کے بعد یہ لوگ اپنے علاقے کے لیے
زبردست کام کریں گے؟ ہم جنوبی ایشیا کے لوگ ایسی مثالی بستیوں میں رہنا چاہتے ہیں
جہاں ہماری جان و مال محفوظ ہوں، ہمارے بچوں کی تعلیم کا انتظام ہو، صحت عامہ کی
سہولیات میسر ہوں، سڑکوں کے کنارے درخت لگے ہوں، جگہ جگہ کوڑا نہ پڑا ہو، اور گٹر
نہ بہا کریں۔ آپ اپنے زیرانتظام علاقوں میں ہمیں ایسی بستیاں کیوں نہیں دے دیتے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ان تمام تحریکوں کی سب سے بڑی طاقت دوسروں سے نفرت اور مستقل
تشدد سے ہے؛ یہ تحاریک چلانے والے لوگ قتل و خون کی سیاست سے باہر کوءی تعمیری سوچ
نہیں رکھتے؟
Labels: Drone Attacks, Hakeemullah Mehsud, Islam, Mullah Fazlullah, North Waziristan, Pakistan, Pope Fazlullah, Shariat, Shariat-e-Muhammadi, Swat, Taliban Commander, TTP, Waziristan
Monday, July 01, 2013
وقاص
جون تیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چوالیس
وقاص
کوءٹہ میں رہنے والے ہزارہ پہ لشکر
جھنگوی کے حملے جاری ہیں۔ پندرہ جون کو طالبات کی بس میں دھماکے اور بولان اسپتال
کے قتل عام کے بعد اب تیس جون کو ہزارہ پہ ایک اور خودکش حملہ ہوگیا۔ ریاست ناکام
ہے اور حکومت اگر براہ راست اس قتل عام میں ملوث نہیں ہے تو کمزور اور بزدل ضرور
ہے کہ ہر قتل عام کے بعد لشکر جھنگوی سینہ
ٹھونک کر ذمہ داری قبول کرتی ہے مگر نہ تو سیاسی حکومت کے کان پہ جوں رینگتی ہے
اور نہ ہی فوج ان لوگوں کے خلاف کوءی کارواءی کرتی ہے۔ پاکستان میں دو گروہ خودکش
حملوں میں ملوث ہیں۔ اہل تشیع پہ کوءی حملہ ہو تو اس کی ذمہ داری لشکر جھنگوی جماعت
قبول کرتی ہے؛ اگر حملہ دیگر پاکستانیوں پہ، سیاسی راہ نماءوں پہ، یا فوج پہ کیا
جاءے تو اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان قبول کرتی ہے۔ ابھی بھی چند نادان
لوگ ایسے ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ دو جماعتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ حالانکہ یہ
دونوں گروہ شیر و شکر ہیں۔ لشکر جھنگوی
اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان اتحاد کا ثبوت ایک ایسے نوجوان کی کہانی سے
ملتا ہے جسے کچھ عرصہ پہلے کوءٹہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس لڑکے کا نام وقاص ہے۔ یہ
کراچی کا رہنے والا ہے اور جس روز اسے کوءٹہ سے گرفتار کیا گیا اس روز یہ ہزارہ پہ
خودکش حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہ کیس دلچسپ اس لیے ہے کیونکہ وقاص کا تعلق
نہ تو خیبر پختون خواہ سے ہے اور نہ ہی جنوبی پنجاب سے۔ وقاص کراچی کا رہنے والا
مہاجر بچہ ہے۔ وقاص غالبا بارہ جماعتیں
پڑھنے کے بعد آءی ٹی کے شعبے میں لگ گیا اور لوگوں کے لیے ویب ساءٹ بنانے لگا۔ اسی
درمیان انٹرنیٹ پہ طرح طرح کا مواد پڑھنےپہ وقاص کے دل میں امت مسلمہ کے لیے
زوردار ٹھیس اٹھی۔ وہ افغانستان جا کر امریکہ کے خلاف جہاد کرنا چاہتا تھا۔ اسی
نیت سے وہ کراچی سے وزیرستان پہنچا۔ وہاں غالبا
اس کی ٹریننگ ہوءی مگر اسے یہ کہہ کر واپس کراچی روانہ کردیا گیا کہ وقاص کو نہ تو
دری بولنا آتی ہے اور نہ پشتو، اور اس وجہ سے اسے جہاد کے لیے افغانستان نہیں بھیجا جاسکتا۔ وقاص واپس کراچی چلا آیا۔ مگر پھر
کچھ ہی عرصے میں اسے جہاد کے لیے کوءٹہ بلایا گیا۔ وقاص 'اسلام' کی سربلندی کے لیے
اپنی جان دینے کو تیارتھا اور اسی وجہ سے فورا کوءٹہ پہنچ گیا۔ وقاص کے کوءٹہ پہنچنے
پر اسے بتایا گیا کہ اسے ہزارہ پہ حملہ کرنا ہے۔ وقاص نے ایسا کرنے سے انکار
کردیا۔ وقاص کا کہنا تھا کہ یہ تو ہمارے پاکستانی مسلمان بھاءی ہیں، ان سے جہاد کے
کیا معنی؟ مگر پھر وقاص پہ کام کیا گیا۔ اسے
دن رات سمجھایا گیا کہ جن پہ حملہ کرنا ہے وہ لوگ مسلمان ہرگز نہیں ہیں؛ بلکہ یہ
لوگ تو مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اصل میں کافر ہیں، یہ لوگ تو مشرک ہیں، وغیرہ،
وغیرہ۔ وقاص کا کچا ذہن رفتہ رفتہ شیعہ کے خلاف نفرت سے بھرتا گیا حتی کہ وہ ان پہ
خودکش حملے کے لیے تیار ہوگیا۔ یہ کوءٹہ پولیس کی کامیابی ہے کہ اس نے وقاص کو اس
کے حملے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا اور یوں نہ جانے کتنے بےگناہ لوگوں کی جان بچا
لی گءی۔ وقاص کے بیان سے ثابت ہے کہ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کے
کارکنان ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ اس گروہ
کے پاس پندرہ سے بیس سال کے لڑکے خودکش حملوں کے لیے تیار ہیں۔ کبھی ان سے حملہ
لشکر جھنگوی کے بینر تلے کروایا جاتا ہے اور کبھی طالبان کے پرچم تلے۔
جہاں ایک طرف معصوم لوگوں پہ ان شدت
پسندوں کے حملے جاری ہیں وہیں دوسری طرف ملکی سطح پہ ان لوگوں سے نمٹنے کی کوءی
حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ کسی سیاسی راہ نما نے شدت پسندی سے نبردآزما ہونے کے لیے
راءے عامہ ہموار کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔
اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اسلام کا نام سن
کر لوگ جذبات میں بہہ جاتے ہیں، ایسی راءے عامہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ لوگوں کو وضاحت
سے سمجھانا ضروری ہے کہ ہر وہ شخص جو 'اسلام' کا نام لے رہا ہے مسلمانوں کا دوست
ہرگز نہیں ہے؛ کہ 'اسلام' کا نام لے کر کسی شخص پہ حملہ کر کے اسے مارنا اسلام کا
مذاق اڑانے کے مترادف ہے؛ کہ 'اسلام' کے نام پہ کسی کا قتل کر کے نعتیں پڑھنے والا
شخص اللہ کا محبوب ہرگز نہیں بن جاتا بلکہ ایسا شخص دوزخی ہے اور نفرت کے لاءق ہے۔
قومی راءے عامہ ہموار کرنے کے معاملے
میں اگر درج ذیل چار نکات پہ لوگوں کو متفق کرلیا جاءے تو کیا ہی اچھا ہو۔
۱۔ قرآن پہ تمام مسلمانوں کا اتفاق
ہے مگر قرآن میں موجود اکثر احکامات مبہم ہیں۔ ان احکامات کی تشریح مختلف انداز سے
کی جا سکتی ہے، اور کی گءی ہے، اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں۔ یہ
بھی حقیقت ہے کہ قرآن نے اپنے علاوہ کسی حدیث کی کتاب کو، کسی مذہبی عالم کی
لکھاءی کو مسلمانوں کے لیے ہدایت کا چشمہ قرار نہیں دیا۔ چنانچہ ایک فرقہ اگر قرآن
کے علاوہ کسی اسلامی کتاب کو مستند مانتا ہے اور دوسرا نہیں مانتا تو دونوں میں سے
کوءی قرآنی احکامات سے منکر نہیں ہورہا۔ اسی بات کو آگے بڑھاءیں تو اندازہ ہوتا ہے
کہ جو شخص کہتا ہے کہ وہ 'شریعت' نافذ کرنا چاہتا یا 'اسلامی نظام' کا نفوذ چاہتا
ہے وہ شخص دراصل اس نظام کا حصول چاہتا ہے جو اس کے خیال میں یا اس کے فرقے کے
خیال میں 'اسلامی نظام' ہے۔ دوسرے مسلمانوں کا اسلام کے اس ٹھیکے دار سے متفق ہونا
ضروری نہیں ہے۔
۲۔ قرآن نے کسی شخص کو، کسی مذہبی عالم کو، کسی جماعت کو یہ اختیار نہیں
دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہا ہے واقعی مسلمان ہے
یا نہیں۔ کسی شخص کے صحیح مسلمان ہونے یا کافر ہونے کا فیصلہ قیامت کے روز ہوگا۔
سب سے قابل مذمت وہ شخص ہے جو دوسروں پہ کفر کے فتوے لگا کر لوگوں میں نفرت کے بیج
بورہا ہے۔
۳۔ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ
مل جل کر فیصلہ کریں کہ وہ کس طرح کے نظام حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔ کسی فرد یا
جماعت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دھونس دھڑپے سے اپنی پسند کا نظام لوگوں پہ چلانے
کی کوشش کرے۔
۴- ہر ملزم کو عدالت میں اپنی صفاءی
پیش کرنے کا حق حاصل ہے چاہے اس شخص پہ کتنے ہی سنگین اور کریہہ جرم کا الزام کیوں
نہ ہو۔ ماوراءے عدالت قتل چاہے وہ اسلام کے نام پہ کیا جاءے یا کسی برگزیدہ ہستی
کے نام پہ انتہاءی گھٹیا اور قابل مذمت فعل ہے۔
==
اس کالم میں جن خیالات کا اظہار
کیا جاتا ہے انہیں ویڈیو کی شکل میں یہاں دیکھا جاسکتا ہے:
Labels: Attacks on Hazara, Lashkar e Jhangvi, Quetta, Shia genocide, Shia killings, Tehreek e Taliban Pakistan, TTP
Monday, May 20, 2013
نءے چیلنج اور الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم
مءی
بیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو اڑتیس
نءے چیلنج اور الطاف حسین کے بغیر
ایم کیو ایم
کراچی میں تحریک انصاف کی راہ نما
زہرہ شاہد حسین کا قتل تشویشناک ہے۔ اس قتل کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔
پہلے خبر یہ آءی کہ زہرہ شاہد حسین ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران قتل ہوءیں جب
انہوں نے اپنا پرس ڈاکوءوں کو دینے پہ مزاحمت کی۔ مگر بعد کی خبروں سے معلوم ہوتا
ہے کہ زہرہ شاہد کے قاتل انہیں مارنے ہی کے ارادے سے آءے تھے۔ زہرہ شاہد کا قتل حلقہ ۲۵۰ کے کءی پولنگ
اسٹیشنوں پہ مکرر انتخابات سے ایک دن پہلے ہوا۔ اگر یہ قتل سیاسی دشمنی کا نتیجہ
تھا تو اس واردات سے تحریک انصاف کے حریفوں کو، جس سے مراد لا محالہ ایم کیو ایم
لی جاتی ہے، بھلا کیا فاءدہ ہوا؟ اس قتل
سے تو الٹا تحریک انصاف کے لیے عوامی ہمدردی بڑھی اور اس جماعت کی مقبولیت میں
اضافہ ہوا۔
زہرہ شاہد کے قتل کے ساتھ ہی سابق
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کے اغوا کا واقعہ بھی
پاکستان میں امن عامہ کی ناگفتہ بہ حالت کا اعلی مظہر ہے۔ جیسے جیسے علی حیدر کی
بازیابی میں ناکامی کی مدت میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے اس بات کا امکان بڑھتا جا
رہا ہے کہ علی حیدر پاکستانی پولیس اور فوج کے داءرہ اثر سے دور وزیرستان پہنچا
دیے جاءیں گے۔
کچھ ہی دنوں میں نو منتخب عوامی
نماءندے اقتدار سنبھال لیں گے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام یقینا اس وقت گڑگڑا کر
دعا کر رہے ہوں گے کہ نءے حکمرانوں کو عوام کے اصل مساءل سمجھ میں آجاءیں اور ملک
کی باگ ڈور سنبھالنے پہ یہ لوگ میٹرو بس، بلٹ ٹرین وغیرہ جیسے چکاچوند کرنے والے
منصوبوں کی تکمیل سے کوڑے پہ مخمل کی چادر چڑھانے کی کوشش نہ کریں۔ اس وقت
پاکستانی عوام کا سب سے بنیادی مسءلہ امن و امان کی دگرگوں حالت ہے۔ پاکستانی عوام
نءے حکمرانوں سے ہاتھ جوڑ کر استدعا کرتی ہے کہ خدایا ہمیں امن دیں، جراءم پیشہ
افراد کی سرکوبی کریں، دہشت گردی ختم کریں، اور قانون کی حکمرانی قاءم کریں۔ بجلی
اور پانی کا مسءلہ بھی ثانوی حیثیت رکھتا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔
زہرہ شاہد کا قتل اور علی حیدر کا
اغوا، ان دونوں واقعات میں مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ان وارداتوں کا کوءی تصویری
سراغ نہیں ہے۔ نہ ہی زہرہ شاہد کے گھر پہ کیمرے لگے تھے جو ان کے قاتلوں کی
نشاندہی میں معاون ہوتے اور نہ ہی ملتان میں اس جگہ جہاں علی حیدر گیلانی پیپلز پارٹی کے اجتماع میں شریک تھے کوءی کیمرہ
مجمع پہ مستقل نظر رکھے تھا۔ پاکستان میں صبح و شام قتل اور اغوا براءے تاوان کی
وارداتیں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں خیال ہوتا ہے کہ صاحب ثروت، جو کروڑوں کے گھروں میں
رہتے ہیں اور مہنگی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، اپنے گھروں پہ سرویلینس کیمرے لگاءیں گے اور گاڑیوں میں بھی
ڈیش کیمرے نصب کریں گے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ زیادہ تر لوگ اسی غلط فہمی
میں ہیں کہ قتل اور اغوا کی یہ وارداتیں دوسروں کے ساتھ ہورہی ہیں، جب کہ وہ ہمیشہ
محفوظ رہیں گے۔
کارآمد اشیا کی طرح
وقت گزرنے کے ساتھ کارآمد لوگوں کی افادیت بھی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ سیانے کارآمدا لوگ جانتے ہیں کہ تاریخ میں اپنا
اچھا نام قاءم رکھنے کے لیے کس موقع پہ ریٹاءرمنٹ لے کر ایک طرف ہٹ جانا چاہیے۔ لگتا
ہے کہ یہ دوراندیشی ایم کیو ایم کے قاءد میں نہیں ہے۔ یوں تو الطاف حسین ایک عرصے سے
بے سرو پا باتیں کرتے آءے ہیں مگر حال میں ان کی گفتگو کچھ زیادہ ہی بے تکی ہو گءی
ہے۔ الطاف حسین اب اس تحریک کے راہ نما
نہیں رہے جو انہوں نے شروع کی تھی، بلکہ اب وہ اپنی سیاسی جماعت پہ ایک بوجھ ہیں
اور لگتا ہے کہ الطاف حسین اپنے بڑھتے ہوءے وزن کے ساتھ ایم کیو ایم کو بھی لے
بیٹھیں گے۔ اگر پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے قاءدین کو اپنی سیاسی جماعت قاءم
رکھنے میں دلچسپی ہے تو انہیں جلد از جلد الطاف حسین کو ریٹاءر کر کے ایک کنارے
لگانا ہوگا۔
بہت سی خرابیوں کے
باوجود ایم کیو ایم ایک ایسی اہم جماعت ہے
جو کراچی میں رہنے والے متوسط طبقے کی بہترین نماءندگی کرتی ہے۔ اس جماعت کو قاءم
رہنا چاہیے۔ ایم کیو ایم میں فاروق ستار
اور حیدرعباس رضوی جیسے سلجھے ہوءے بہت سے لوگ شامل ہیں۔ یہ بظاہر پڑھے لکھے اور
سمجھ دار لوگ جب الطاف حسین کا خرافات بھرا ٹیلی فونک خطاب سر جھکا کر سنتے ہیں
اور الطاف حسین کی لغو باتوں کی تاءید میں سر ہلاتے ہیں تو ان بظاہر پڑھے لکھے
لوگوں کی فکری صلاحیتوں پہ شبہ ہونے لگتا ہے۔ برا ہوگا وہ دن جب الطاف حسین کے
پھیلتے متنازعہ کردار کی زد میں آکر ایم کیو ایم ہی تباہ ہوجاءے گی۔ وہ دن آنے سے
پہلے ایم کیو ایم کی پاکستان کی قیادت کو تمغات اور پرتحسین کلمات کے ساتھ الطاف
حسین کو ریٹاءر کرنا ہوگا۔
Labels: Ali Haider Gilani, Altaf Hussain, Farooq Sattar, Haider Abbas Rizvi, MQM, TTP, Zahra Shahid Hussain

