مءی چار، دو ہزار چودہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو ستاسی
احتجاج،
احتجاج، نامنظور، نامنظور
تحریک انصاف کے بانی اور قاءد
عمران خان نے گیارہ مءی سے تازہ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے
سال مءی گیارہ کے روز ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کی گءی تھی جس کی وجہ سے
ان کی پارٹی کے امیدوار کءی نشستوں پہ چناءو ہار گءے، اور احتجاج کے ذریعے تحریک
انصاف پاکستان الیکشن کمیشن اور عدلیہ پہ دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق دباءو ڈالنا
چاہتی ہے۔ عمران خان کے ساتھ بہت سے لوگوں کے سڑک پہ آنے، ٹریفک میں خلل ڈالنے،
اور عام شہریوں کی پہلے سے مشکل زندگیوں کو مشکل تر بنانے سے الیکشن کمیشن اور
عدلیہ کیسے دباءو میں آجاءیں گے، یہ بات واضح نہیں ہے۔ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ
عمران خان سیاسی میدان میں ہلچل مچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔
مجھے کبھی کبھی تیسری دنیا کے
ممالک کے حکمرانوں پہ بہت رحم آتا ہے۔ یہ لوگ نہ جانے کس لالچ میں ایک شکستہ اور
گرتے ڈوبتے نظام کی باگ ڈور سنبھال لیتے ہیں؟ ان میں سے کءی ممالک ایسے ہیں جو اب
تک نوآبادیاتی نظام کی مار ہی سے نہیں سنبھل پاءے ہیں ۔ ان کو ایسے قءدین میسر
نہیں آءے جو ان کی سمت درست کرسکیں۔ یہ ممالک مستقل بحران کا شکار رہتے ہیں۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک
کے بعد ایک آنے والی ناکام حکومتوں کی وجہ سے اب اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ
کانٹوں کا تخت ہے، 'احتجاج، احتجاج، نامنظور، نامنظور' کی صداءیں سن کر دل چاہتا
ہے کہ حکمران وقت کو مسند اقتدار سے اتار کر احتجاج کرنے والے شخص کو وہاں بٹھا
دیا جاءے اور کہا جاءے کہ، " بیٹا، اب چلاءو اس ناکارہ نظام کو، اور اس حیوان
بے مہار کی کل سیدھی کرنے کی کوشش کرتے کرتے دوسروں کی مستقل لعن طعن اور 'احتجاج،
احتجاج، نامنظور، نامنظور' کے کوسنے سنتے جاءو۔"
گاندھی جی نے جہاں اور بہت سی
سمجھداری کی باتیں کہیں تھیں، وہیں ان کا یہ قول بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے
لاءق ہے کہ ، "تم خود وہ تبدیلی بن جاءو، جس کی خواہش کرتے ہو۔"
پاکستان میں ہروہ شخص جو حکومت
سے خفا ہے اور احتجاج کررہا ہے اسے جھنجھوڑ کر بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک
ناکام ریاست ہے، پاکستانی حکومت کی رٹ بہت مشکل سے دن کی روشنی میں خاص خاص علاقوں
میں قاءم رہتی ہے اور سورج ڈوبتے ہی یہ رٹ سکڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ احتجاج کرنے والے
کو بے نظیر بھٹو کا قتل، سلمان تاثیر کا قتل یاد دلانے کی ضرورت ہے؛ انہیں بتانے
کی ضرورت ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کا بیٹا اب تک مغوی ہے۔ جس طرح غیرقانونی اسلحے
سے لیس افراد قتل اور اغوا کی وارداتیں کرنے کے لیے آزاد ہیں، اسی طرح پاکستان کی
حدود میں رہنے والا ہر شخص بھلاءی کے کام کے لیے بھی آزاد ہے۔ جس طرح جراءم پیشہ
افراد نے ملک سے اپنی آزادی کا اعلان کردیا ہے، اسی طرح تم بھی اپنی آزادی کا
اعلان کردو۔ اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر اپنے علاقوں کا انتظام سنبھال لو۔
تم جو تبدیلی دیکھنا چاہتے ہو، اور جس کی امید حکومت وقت سے لگاءے ہو، اس تبدیلی کے
ایجنٹ تم خود ہی بن جاءو۔
تحریک انصاف نے جن علاقوں میں
چناءو جیتا ہے وہاں عمران خان اور تحریک انصاف سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہاں یہ
لوگ اپنی مرضی کا نظام کیوں نہیں قاءم کردیتے؟ وہاں تحریک انصاف اس فلاحی معاشرے
کا قیام کیوں عمل میں نہیں لاتی جس کی خواہش وہ پورے پاکستان کے لیے رکھتی ہے؟ ان
علاقوں میں تحریک انصاف سو فی صد خوانگی اور جراءم سے پاک معاشرہ قاءم کرنے کے لیے
کیوں تیزی سے سرگرم نہیں ہے؟ جب تحریک
انصاف کے زیر اثر علاقے اس سیاسی جماعت کے کام سے جنت نظیر بن جاءیں گے تو پورے
پاکستان سے لوگ بھاگے بھاگے عمران خان کے پاس آءیں گے اور اس بات سے بے نیاز کہ ان
کے علاقوں سے انتخابات میں کون جیتا ہے، عمران خان سے فرماءش کریں گے کہ تحریک
انصاف فرماءشیوں کے علاقوں کا انتظام بھی سنبھال لے۔
Labels: Democracy, Imran Khan, Justice Party of Pakistan, Pakistan, Protests, PTI
اکتوبر انتیس، دو ہزار بارہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو نو
عمران خان سان
ہوزے میں
خیال ہے کہ پاکستان میں انتخابات اگلے سال کے اول
حصے میں ہوں گے۔ انتخابات کے اسی امکان کے پیش نظر پاکستانی سیاست میں گہما گہمی پاءی
جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے علم میں ہے کہ انتخابات لڑنے کے لیے کثیر رقم چاہیے
ہوتی ہے۔ اور اسی لیے رقم کا انتظام کرنے کے لیے سیاسی راہ نما سرگرم نظر آتے ہیں۔
تحریک انصاف کے چءیرمین عمران خان کو معلوم ہے کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں میں
کافی مقبول ہیں۔ اسی لیے عمران خان انتخابات کے لیے چندہ جمع کرنے کی غرض سے آج کل
شمالی امریکہ آءے ہوءے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق جب موجودہ دورے میں عمران خان کینیڈا
سے امریکہ کے لیے روانہ ہوءے تو انہیں جہاز سے اتار لیا گیا اور ہوم لینڈ سیکیورٹی
کے افسران نے عمران خان سے ان کے سیاسی اور عسکری خیالات پہ پوچھ گچھ کی۔ ہوم لینڈ
سیکیورٹی کی اس احمقانہ کارواءی سے ہم تمام ٹیکس دینے والوں پہ یہ بات واضح ہو گءی
ہے کہ امریکیوں کی حفاظت پہ ایک کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود ہوم لینڈ سیکیورٹی کو
اب تک یہ نہیں پتہ کہ اس کا منہ کہاں ہے اور دم کہاں۔ عمران خان پاکستان کے ایک
نمایاں سیاسی قاءد ہیں؛ان کے خیالات صبح و شام اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں اور
ویڈیو کی شکل میں باآسانی انٹرنیٹ پہ ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ پھر عمران خان کو جہاز
سے اتار کر ان کے خیالات معلوم کرنے کی کیا تک تھی؟ اس واقعے کی اندرونی تحقیق کی
ضرورت ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کون احمق افسر تھا جس کی ایما پہ عمران خان کو
جہاز سے اتار کر ان سے پوچھ گچھ کی گءی۔
عمران خان ٹورنٹو سے نیویارک آءے اور پھر وہاں سے
سییاٹل پہنچے۔ وہاں چندہ مہم کی تقریب میں شرکت کر کے سان فرانسسکو بے ایریا
پہنچے۔ اس علاقے میں پہنچتے ہی انہوں نے دوپہر کے کھانے پہ ایک چھوٹے گروہ سے
ملاقات کی۔ اس ملاقات کے لیے ہر شریک سے پانچ ہزار ڈالر لءیے گءے تھے۔ پھر اسی روز
یعنی اتوار اکتوبر اٹھاءیس کو رات کے کھانے پہ انہوں نے پانچ سو افراد کی ایک محفل
سے خطاب کیا۔ اپنے ہنگامی دورے میں عمران خان ہر شہر میں بہت مختصر قیام کر رہے
ہیں مگر اس بھاگم دوڑ کے باوجود اتوار کی رات عمران خان چاق و چوبند نظر آءے۔ دنیا
میں ایسے کم لوگ ہوں گے جو ساٹھ سال کے پیٹے میں جسمانی طور پہ اس قدر چست ہوں کہ
جیسے عمران خان ہیں۔ یہ عمران خان کا کمال ہے کہ انہوں نے اٹھارہ بیس سال کی عمر
سے لے کر اب تک اپنے آپ کو مستقل روشن ستارہ اور خبروں کی زینت بنا کر رکھا ہوا
ہے۔ یقینا ایسا کرنے کے لیے عمران خان کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ان کے بال
باقاعدگی سے رنگے جاتے ہیں اور وہ روز سخت ورزش کر کے اپنے آپ کو بہترین جسمانی
شکل میں رکھتے ہیں۔ اسی محنت کا انعام ہے کہ ایک زمانہ ان پہ فدا ہے۔ اور اسی لیے
جب عمران خان کسی تقریب میں شرکت کریں تو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ایسی محفل
میں شرکت کرنے والے کتنے لوگ عمران خان کے سیاسی خیالات سے متفق ہیں اور کتنے ہیں
جو محض عمران خان کو دیکھنے اور ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے آءے ہوءے ہیں۔ اکتوبر اٹھاءیس کی تقریب میں عمران خان نے وہی
باتیں کیں جو وہ کرتے آءے ہیں۔ ان کی پیش گوءی تھی کہ آنے والے انتخابات میں ان کی
جماعت یعنی تحریک انصاف مکمل جھاڑو پھیر دے گی۔ [پاکستان کی بازاری زبان میں 'سوءپ
کرجاءے گی' کا فقرہ استعمال کیا جاتا ہے۔] ان کی اس بات پہ ان کے مداحوں نے خوب
تالیاں بجاءیں اور کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ملتان میں ہونے
والے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالقادر گیلانی نے تحریک انصاف
اور مسلم لیگ کے مشترکہ امیدوار کو شکست دی تھی، اس بارے میں عمران خان کیا کہتے
ہیں۔ عمران خان کی تقریر کی سب سے اہم بات طالبان سے متعلق عمران خان کے خیالات
تھے۔ واضح رہے کہ ترقی پسند حلقوں میں اس بات کو شدید ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا
جاتا ہے کہ عمران خان کبھی طالبان کی کسی ظالمانہ کارواءی کی مذمت طالبان کا نام
لے کر نہیں کرتے اور طالبان کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی قتل و غارت گری کی
واردات کو گھما پھرا کر ڈرون حملوں اور پاکستان کی امریکہ دوستی سے جوڑ دیتے ہیں۔
اپنی تقریر میں عمران خان نے کہا کہ طالبان کسی ایک گروہ کا نام نہیں ہے بلکہ بہت
مختلف طرح کے لوگ طالبان کے نام پہ جمع نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایسے لوگ جو
ڈنڈے کے زور پہ اپنی من پسند اسلامی حکومت قاءم کرنا چاہتے ہیں بہت تھوڑے ہیں۔
دوسرا گروہ ان پشتون لوگوں کا ہے جو روایتی طور پہ باہر سے آنے والی ہر طاقت کا مقابلہ
کرتے ہیں۔ تیسرے گروہ میں وہ لوگ ہیں جو بیرون ملک جہاد کے لیے تیار کیے گءے تھے
مگر اب خود اپنے ملک میں تخریبی کارواءیاں کر رہے ہیں۔ چوتھی طرح کے طالبان وہ ہیں
جن کا خیال ہے کہ امریکہ کی جنگ دراصل اسلام کے خلاف جنگ ہے اور اس لیے امریکہ سے
اور اس کی حلیف پاکستانی فوج کے خلاف لڑنا ایک جہاد ہے۔ اور پانچواں گروہ ان لوگوں کا ہے جن کے رشتہ دار امریکی حملوں
میں بے گناہ ہلاک ہوءے ہیں اور اب وہ بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اور چھٹے گروہ میں وہ
لوگ ہیں جو جراءم پیشہ ہیں اور طالبان کا نام استعمال کرتے ہوءے اغوا براءے تاوان
جیسے دھندوں میں ملوث ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ہی امریکہ کی جنگ
سے باہر نکلا طالبان کے درج بالا بیشتر گروہ پاکستان اور پاکستانی فوج سے لڑنا
چھوڑ دیں گے اور پھر پاکستان کے لیے ایک نسبتا چھوٹے گروہ سے لڑنا زیادہ آسان
ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان واقعی اتنے بھولے ہیں کہ وہ پاکستان
میں بتدریج بڑھنے والی مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کو امریکہ کی جنگ کے ردعمل کے
ایک چھوٹے سے حصے کے طور پہ دیکھتے ہیں؟
عمران خان کی تقریب کی تصاویر یہاں ملاحظہ کریں:
تقریب کی یڈیو جھلکیاں یہاں دیکھیں:
طالبان سے متعلق عمران خان کے خیالات یہاں سنیں:
Labels: California, Fundraiser, Imran Khan in San Jose, Pakistan Tehreek-e-Insaf, PTI, San Francisco Bay Area, Silicon Valley
نومبر ستاءیس، دو ہزار گیارہ
حسن نثار ایک نامی گرامی کالم نویس ہیں اور وسیع مطالعہ رکھنے کی وجہ سے بہت سے دیگر پاکستانی کالم نویسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذکی اور ترقی پسند ہیں۔ حسن نثار نے حال میں ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان ہے 'بن مانگے مفت مشورے۔' اس کالم میں حسن نثار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں سیاسی میدان میں عمران خان سینچری بناءے بغیر ننانوے کے اسکور پہ نہ آءوٹ ہو جاءیں۔ حسن نثار کا کہنا ہے کہ اب عمران خان کو صرف عمران خان مار سکتا ہے۔ اس کالم کا اول حصہ ایسا پیچیدہ ہے کہ آپ سمجھتے ہی رہ جاءیں کہ آخر حسن نثار صاحب کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آخر عمران خان اپنے آپ کو کیسے مارے گا؟ مگر کالم کے آخر میں بات واضح ہوتی ہے کہ حسن نثار عمران خان کو تنظیم سازی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ حسن نثار کی راءے میں عمران خان کو ان لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جو عمران خان کے آس پاس موجود ہیں اور پارٹی میں نءے آنے والوں کے لیے مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔ حسن نثار کا خیال ہے کہ عمران خان کو پارٹی کے ہر رکن سے ذاتی رابطہ رکھنا چاہیے۔ حسن نثار کے عمران خان کو یہ مشورے یقینا پرخلوص ہیں اور واضح ہے کہ حسن نثار کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف ایک مضبوط سیاسی جماعت بن جاءے اور اگلے انتخابات میں ملک گیر کامیابی حاصل کرے۔
یوں تو پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں مگر ایک پارٹی جو اپنے آپ کو تحریک انصاف کہے اس سے لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے مختلف ہوگی۔ کہ اس پارٹی میں شخصیت پرستی کو چھوڑ کر ادارہ سازی پہ زور دی جاءے گی۔ انسان فانی ہے اور تھوڑا سا دم خم دکھا کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے مگر ادارے قاءم رہتے ہیں؛ اسی لیے اداروں کو مضبوط بنانا اچھا ہوتا ہے۔ جہاں ادارے مضبوط ہوں اور ادارے میں بہت سے لوگ قیادت کی مختلف سیڑھیوں پہ موجود ہوں وہاں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ خدانخواستہ ادارے کا سب سے بڑا قاءد نہ بھی رہا تو ادارہ قاءم رہے گا،نءی قیادت معاملات کو سنبھال لے گی اور ادارہ ان خطوط پہ چلتا رہے گا جس کا خاکہ گزر جانے والے قاءد نے پیش کیا تھا۔ تحریک انصاف سے اس عوامی امید کے باوجود اب تک تحریک انصاف کے واحد نامور قاءد عمران خان ہی ہیں۔ کاش حسن نثار اپنے دوست عمران خان کو یہ مشورہ دیتے کہ وہ تنظیم سازی کے دوران اپنی جماعت میں نءی قیادت کو ابھارنے کے لیے بھی کام کریں۔ تحریک انصاف کے اندر مستقل ایسی ورکشاپ ہو رہی ہوں جن میں کارکنوں کی قاءدانہ صلاحیت کو پروان چڑھایا جاءے، ان لوگوں کو بتایا جاءے کہ انہیں تحریک انصاف کے منشور کو سامنے رکھتے ہوءے اپنی تقریر میں کس طرح کی باتیں کرنی ہیں، جماعت میں نظم و ضبط کیسے لانا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ ممکن ہے کہ عمران خان اپنے کارکنوں کو واقعی یہ باتیں روز بتاتے ہوں مگر ایسی خبر اب تک عوام تک نہیں پہنچی ہے۔
کوءی بھی شخص جو ملک کے حالات سے عاجز ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ وہ سیاسی طور پہ مضبوط بن کر انتخابات کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرے اور پھر ملک کی باگ دوڑ سنبھال کر ملک کو صحیح رخ پہ لاءے، اسے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ اس کے اصل اہداف کیا ہیں اور ان اہداف تک جلد از جلد کس طرح پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر ایک شخص مقبول ہے اور لوگ جوق در جوق اس کے پیچھے آرہے ہیں تو اس کے پاس پہلے ہی بڑی قوت موجود ہے۔ وہ اپنے حمایتیوں کی طاقت استعمال کرتے ہوءے اپنے اہداف پا سکتا ہے۔
ہم، جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگ، جذباتی واقع ہوءے ہیں۔ جس کے پیچھے چل پڑے سو چل پڑے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا، اور مکان کا نعرہ لگایا تو پاکستان میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو یہ نعرہ اچھا لگا اور وہ بھٹو کے پیچھے دیوانہ وار چلنا شروع ہو گءے۔ مگر بھٹو اس عوامی حمایت کا فاءدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ اسی طرح سنہ پچاسی میں کراچی کے بہت سے لوگ الطاف حسین کے پیچھے چل پڑے۔ اس وقت الطاف حسین کے حمایتی، جذبات میں اس قدر بہے جا رہے تھے کہ اگر الطاف حسین انگلی کے اشارے سے ایک خالی میدان کی طرف اشارہ کرتے کہ، 'کل یہاں ایک بہترین اسکول ہونا چاہیے جہاں مفت تعلیم دی جاءے' تو اس بات کا امکان تھا کہ ان کے چاہنے والے راتوں رات اس جگہ ایک اسکول کھڑا کر دیتے۔ مگر افسوس کہ الطاف حسین نے بھی عوامی حمایت کا مثبت فاءدہ نہ اٹھایا اور اس راہ پہ چل دیے جہاں قاءد کو درخت کے پتوں پہ اپنی شبیہ نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ آج کے پاکستان میں لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ جہموری نظام ان کے لیے وہ نسخہ کیمیا نہیں بن سکا ہے جس کی کہ انہیں امید تھی۔ نہ صرف یہ کہ آج بہت سے پڑھے لکھے لوگ عمران خان کی طرف امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں بلکہ بہت سے جذباتی نوجوان عمران خان کے پیچھے دیوانہ وار چل پڑے ہیں۔ یہ وقت ہے عوامی حمایت کو صحیح طور پہ استعمال کرنے کا۔ یہ وقت ہے سوچنے کا کہ اصل اہداف کیا ہیں اور عوامی حمایت استعمال کرتے ہوءے ان اہداف تک جلد از جلد کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان اپنے حمایتیوں سے کہہ دیں کہ وہ گلیوں اور محلوں کی سطح پہ منظم ہو جاءیں، کہ تحریک انصاف کے کارکن اپنے اپنے محلے کو جرم سے پاک کر دیں، کہ جہاں عمران خان کے ماننے والے لوگ موجود ہیں وہاں لوگ صفاءی ستھراءی سے رہیں گے اور اس محلے میں جگہ جگہ کچرا نظر نہ آءے گا، کہ جہاں تحریک انصاف کا زور ہے وہاں عورتوں پہ کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا، وہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا، وہاں مذہب کے نام پہ فتنہ نہ پھیلایا جاءے گا اور ہر شخص کو آزادی ہوگی کہ وہ اپنے مذہب و مسلک پہ بلاخوف چل سکے، کہ تحریک انصاف کے اثر والے محلے میں لوگ اس بات کی یقین دہانی کریں گے کہ کوءی شخص بھوکا نہ سوءے گا۔ کاش کہ عمران خان اپنی سیاسی جماعت کو واقعی ایسی تحریک انصاف بنا دیں جو اس سطح پہ بنیادی انصاف لے کر آءے جو عام لوگوں پہ سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اور جس کا تعلق حکام اعلی کے کرتوت سے محض واجبی ہے۔
Labels: Hassan Nisar's advice to Imran Khan, Only Imran Khan can finish Imran Khan now, Pakistan Tehreek-e-Insaf, PTI