Monday, October 06, 2014
دسواں سالانہ این ای ڈی المناءی کنوینشن
اکتوبر چار، دو ہزار چودہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار دو سو نو
پاکستان کے وہ کالج اور جامعات جو
کسی مخصوص شعبے میں چار سالہ پروگرام کراتے ہیں اپنا جدا مزاج رکھتے ہیں۔ ترقی
یافتہ دنیا میں وساءل کی فراوانی کی وجہ سے طلبا کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ اپنی
مرضی اور آسانی کے حساب سے مختلف کلاسیں لے سکیں۔ پاکستانی کالجوں میں ایسی سہولت
نہیں ہوتی اور کسی ایک سال میں کالج میں داخلہ لینے والے طلبا اگلے چار سال تک ایک
ساتھ کلاسیں لیتے ہیں۔ چار سال بڑی مدت ہوتی ہے۔ اگر ملک کے سیاسی حالات خراب ہوں
یا ملک حالت جنگ میں ہو تو کالج میں گزارے جانے والے یہ چار سال، پانچ اور چھ سال
بھی بن جاتے ہیں۔ جب طلبا اتنا عرصہ ساتھ رہتے ہیں تو ان کے درمیان دوستی کے جو
بندھن قاءم ہوتے ہیں وہ ساری زندگی کا ساتھ بن جاتے ہیں۔
یہ کہانی اس لڑکے کی ہے جو اٹھارہ
سال کی عمر میں کراچی کی جامعہ این ای ڈی پہنچا تھا۔ وہ لڑکا پڑھنا تو تاریخ اور
فلسفہ چاہتا تھا مگر بزرگوں نے مشورہ دیا تھا کہ تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ تو غیرنصابی
شکل میں بھی کیا جا سکتا ہے؛ اسےایسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جس سے روٹی کمانا آسان
ہوجاءے۔ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے لوگ بہت حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ مشورہ صاءب
تھا۔۔ اگر اس لڑکے نے تاریخ، فلسفہ، اور عمرانیات میں سند حاصل کی ہوتی تو زندگی
یوں مشکل ہوسکتی تھی کہ روز چکی کی مشقت میں اتنا وقت نکل جاتا کہ ذہنی نشونما کے راستے
محدود ہوسکتے تھے۔
جامعہ این ای ڈی اس لڑکے کے لیے
نامانوس جگہ نہ تھی کہ جب وہ ڈی جے کالج میں پڑھتا تھا تو تقریری مقابلوں میں شرکت
کرنے یا انہیں سننے کے لیے کءی بار این ای ڈی گیا تھا۔ جب اس لڑکے کا داخلہ جامعہ
این ای ڈی میں ہوا تو بہت سے لڑکے جو ڈی جے کالج میں اس کے ہم جماعت تھے اب این ای
ڈی میں بھی اس کے ساتھ موجود تھے۔
سنہ اکیاسی کی جامعہ این ای ڈی ایک
دلچسپ جگہ تھی۔ وہاں بہت چھوٹے پیمانے پہ، طلبا سیاست میں، امریکہ اور سوویت یونین
کے درمیان جاری سردجنگ کے مضمرات دیکھے جاسکتے تھے۔ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام
کے درمیان یہ کشمکش پاکستان کے دیگر کالجوں اور جامعات میں بھی جاری تھی۔ سنہ
اکیاسی میں این ای ڈی کی طلبا سیاست میں ترقی پسند طلبا کا ٹولہ حاوی تھا۔ این ای ڈی کے مقابلے میں جامعہ کراچی پہ داءیں
بازو کی طلبا تنظیموں کا قبضہ تھا۔ جب یہ لڑکا بارہویں جماعت میں تھا تو حسین
حقانی نامی ایک شعلہ بیاں مقرر جامعہ کراچی کی طلبا یونین کا صدر منتخب ہوا تھا۔ حسین
حقانی سے پہلے شفی نقی جامعی جامعہ کراچی طلبا یونین کے صدر رہے تھے۔
یہ وقت افغان 'جہاد' کی شروعات کا
دور تھا۔ سوویت یونین کو افغان جہاد کے ذریعے ناکوں چنے چبوانے کے منصوبے پہ
عملدرآمد کی وجہ سے پاکستان میں جنرل ضیاالحق کا اقتدار پہ قبضہ مضبوط ہوچکا تھا۔ اشتراکی
ممالک کا منڈی کے میدان میں سرمایہ داری نظام رکھنے والے ممالک سے مقابلہ کرنا
مشکل تھا۔ سوویت یونین نے کراچی کے قریب اسٹیل مل کی تعمیر میں مدد سے پاکستان کو رام
کرنے کی کوشش کی تھی مگر مغربی دنیا کے پاس رشوت دینے کے لیے زیادہ بڑا مال تھا۔
سرد جنگ کے دوران بھی دنیا میں روبل نہیں ڈالر چلتا تھا۔
واپس سنہ اکیاسی کی این ای ڈی کی طرف
آتے ہیں۔ جس وقت یہ لڑکا این ای ڈی پہنچا، اس وقت راشد علی بیگ این ای ڈی طبا یونین کے
صدر تھے، امان اللہ حنیف ان کے سیکریٹیری جنرل تھے۔ اس سے پہلے فرحت عادل یونین کے
صدر اور محمد حسین جنرل سیکریٹیری رہے تھے۔
محمد حسین بلا کے مقرر تھے۔ اس لڑکے کے این ای ڈی میں داخل ہونے کے کچھ عرصے بعد
ہی طلبا یوین کے انتخابات ہوءے۔ جمعیت طلبا اسلام کے دو طلبا قاءدین، الطاف شکور
اور مسعود محمود این ای ڈی میں بہت مقبول تھے۔ یہ دونوں بالترتیب صدر اور جنرل
سیکریٹیری منتخب ہوءے۔ نیچے کے تمام عہدوں پہ، ماسواءے ایک کے، پی ایس ایف کے
نماءندے منتخب ہوءے۔ یہ وہ دن تھا جب کسی بات پہ طلبا گروہوں میں گرما گرمی ہوءی
اور خوب گولیاں چلیں۔
آج تینتیس سال بعد یہ ساری
باتیں خواب لگتی ہیں۔ این ای ڈی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ایک بہت بڑی
تعداد اب شمالی امریکہ میں رہتی ہے۔ دس
سال پہلے معین خان اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی روایت کی بنیاد رکھی جو وقت کے
ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اور وہ روایت سال میں ایک بار این ای ڈی
المناءی کنوینشن کا انعقاد ہے۔ ہر سال یہ کنوینشن شمالی امریکہ کے کسی نءے شہر میں
ہوتا ہے۔ سنہ ۲۰۱۴ کا کنوینشن شمالی کیلی فورنیا میں ہورہا ہے۔ دوسرے شہروں سے آنے
والے این ای ڈی کے سابق طلبا نوارک کے ڈبل ٹری باءی ہلٹن ہوٹل میں ٹہریں گے اور
تینوں دن، یعنی جمعہ، اکتوبر دس سے اتوار، اکتوبر بارہ تک کے، تمام پروگرام ہلٹن
ہوٹل کے سامنے واقع چاندنی ریستوراں میں ہوں گے۔
ہرسال ہونے والا یہ
المناءی کنوینشن این ای ڈی کے سابق طلبا کے لیے بہت جذباتی موقع ہوتا ہے۔ لوگ
پرانے دوستوں سے گلے ملتے ہیں اور این ای ڈی میں گزارے گءے اپنے سنہری دور کو یاد
کرتے ہیں۔ ان لطیفوں اور چٹکلوں پہ قہقہے لگاتے ہیں جو بہت دفعہ مزے لے لے کر
سناءے جا چکے ہیں، جن پہ بہت بار ہنسا جاچکا ہے، مگر جو ہمیشہ سدابہار رہتے ہیں۔
کہنے کو تو این ای ڈی
المناءی کنوینشن، این ای ڈی کے سابق طلبا کو دوبارہ سے ایک دوسرے سے ملانے کا
بہانہ ہے مگر اصل میں اس کنوینشن سے ملحق کانفرینس ہر خاص و عام کے لیے کھلی ہوتی
ہے اور اس پروگرام میں این ای ڈی کے سابق طلبا کے علاوہ بھی بہت سے لوگ شرکت کرتے
ہیں۔ اس سالانہ پروگرام کا سب سے قابل ذکر حصہ سنیچر کی رات کا کھانا اور میوزک
پروگرام ہوتا ہے۔ اس سال سنیچر کے پروگرام میں دو مشہور گانے والے، جواد احمد اور
شجاعت علی خان، اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
این ای ڈی المناءی کنوینشن
کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درج ذیل ویب ساءٹ ملاحظہ فرماءیے:
Labels: Altaf Shakoor, Amanullah Hanif, California, Farhat Adi, Masood Mehmood, Mohammad Haseen, NED Alumni Convention 2014, NED Student Union, Rashid Ali Baig, Silicon Valley
Monday, October 29, 2012
عمران خان سان ہوزے میں
اکتوبر انتیس، دو ہزار بارہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو نو
عمران خان سان
ہوزے میں
خیال ہے کہ پاکستان میں انتخابات اگلے سال کے اول
حصے میں ہوں گے۔ انتخابات کے اسی امکان کے پیش نظر پاکستانی سیاست میں گہما گہمی پاءی
جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے علم میں ہے کہ انتخابات لڑنے کے لیے کثیر رقم چاہیے
ہوتی ہے۔ اور اسی لیے رقم کا انتظام کرنے کے لیے سیاسی راہ نما سرگرم نظر آتے ہیں۔
تحریک انصاف کے چءیرمین عمران خان کو معلوم ہے کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں میں
کافی مقبول ہیں۔ اسی لیے عمران خان انتخابات کے لیے چندہ جمع کرنے کی غرض سے آج کل
شمالی امریکہ آءے ہوءے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق جب موجودہ دورے میں عمران خان کینیڈا
سے امریکہ کے لیے روانہ ہوءے تو انہیں جہاز سے اتار لیا گیا اور ہوم لینڈ سیکیورٹی
کے افسران نے عمران خان سے ان کے سیاسی اور عسکری خیالات پہ پوچھ گچھ کی۔ ہوم لینڈ
سیکیورٹی کی اس احمقانہ کارواءی سے ہم تمام ٹیکس دینے والوں پہ یہ بات واضح ہو گءی
ہے کہ امریکیوں کی حفاظت پہ ایک کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود ہوم لینڈ سیکیورٹی کو
اب تک یہ نہیں پتہ کہ اس کا منہ کہاں ہے اور دم کہاں۔ عمران خان پاکستان کے ایک
نمایاں سیاسی قاءد ہیں؛ان کے خیالات صبح و شام اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں اور
ویڈیو کی شکل میں باآسانی انٹرنیٹ پہ ہمہ وقت دستیاب ہیں۔ پھر عمران خان کو جہاز
سے اتار کر ان کے خیالات معلوم کرنے کی کیا تک تھی؟ اس واقعے کی اندرونی تحقیق کی
ضرورت ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کون احمق افسر تھا جس کی ایما پہ عمران خان کو
جہاز سے اتار کر ان سے پوچھ گچھ کی گءی۔
عمران خان ٹورنٹو سے نیویارک آءے اور پھر وہاں سے
سییاٹل پہنچے۔ وہاں چندہ مہم کی تقریب میں شرکت کر کے سان فرانسسکو بے ایریا
پہنچے۔ اس علاقے میں پہنچتے ہی انہوں نے دوپہر کے کھانے پہ ایک چھوٹے گروہ سے
ملاقات کی۔ اس ملاقات کے لیے ہر شریک سے پانچ ہزار ڈالر لءیے گءے تھے۔ پھر اسی روز
یعنی اتوار اکتوبر اٹھاءیس کو رات کے کھانے پہ انہوں نے پانچ سو افراد کی ایک محفل
سے خطاب کیا۔ اپنے ہنگامی دورے میں عمران خان ہر شہر میں بہت مختصر قیام کر رہے
ہیں مگر اس بھاگم دوڑ کے باوجود اتوار کی رات عمران خان چاق و چوبند نظر آءے۔ دنیا
میں ایسے کم لوگ ہوں گے جو ساٹھ سال کے پیٹے میں جسمانی طور پہ اس قدر چست ہوں کہ
جیسے عمران خان ہیں۔ یہ عمران خان کا کمال ہے کہ انہوں نے اٹھارہ بیس سال کی عمر
سے لے کر اب تک اپنے آپ کو مستقل روشن ستارہ اور خبروں کی زینت بنا کر رکھا ہوا
ہے۔ یقینا ایسا کرنے کے لیے عمران خان کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ ان کے بال
باقاعدگی سے رنگے جاتے ہیں اور وہ روز سخت ورزش کر کے اپنے آپ کو بہترین جسمانی
شکل میں رکھتے ہیں۔ اسی محنت کا انعام ہے کہ ایک زمانہ ان پہ فدا ہے۔ اور اسی لیے
جب عمران خان کسی تقریب میں شرکت کریں تو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ایسی محفل
میں شرکت کرنے والے کتنے لوگ عمران خان کے سیاسی خیالات سے متفق ہیں اور کتنے ہیں
جو محض عمران خان کو دیکھنے اور ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے آءے ہوءے ہیں۔ اکتوبر اٹھاءیس کی تقریب میں عمران خان نے وہی
باتیں کیں جو وہ کرتے آءے ہیں۔ ان کی پیش گوءی تھی کہ آنے والے انتخابات میں ان کی
جماعت یعنی تحریک انصاف مکمل جھاڑو پھیر دے گی۔ [پاکستان کی بازاری زبان میں 'سوءپ
کرجاءے گی' کا فقرہ استعمال کیا جاتا ہے۔] ان کی اس بات پہ ان کے مداحوں نے خوب
تالیاں بجاءیں اور کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ملتان میں ہونے
والے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالقادر گیلانی نے تحریک انصاف
اور مسلم لیگ کے مشترکہ امیدوار کو شکست دی تھی، اس بارے میں عمران خان کیا کہتے
ہیں۔ عمران خان کی تقریر کی سب سے اہم بات طالبان سے متعلق عمران خان کے خیالات
تھے۔ واضح رہے کہ ترقی پسند حلقوں میں اس بات کو شدید ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا
جاتا ہے کہ عمران خان کبھی طالبان کی کسی ظالمانہ کارواءی کی مذمت طالبان کا نام
لے کر نہیں کرتے اور طالبان کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی قتل و غارت گری کی
واردات کو گھما پھرا کر ڈرون حملوں اور پاکستان کی امریکہ دوستی سے جوڑ دیتے ہیں۔
اپنی تقریر میں عمران خان نے کہا کہ طالبان کسی ایک گروہ کا نام نہیں ہے بلکہ بہت
مختلف طرح کے لوگ طالبان کے نام پہ جمع نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایسے لوگ جو
ڈنڈے کے زور پہ اپنی من پسند اسلامی حکومت قاءم کرنا چاہتے ہیں بہت تھوڑے ہیں۔
دوسرا گروہ ان پشتون لوگوں کا ہے جو روایتی طور پہ باہر سے آنے والی ہر طاقت کا مقابلہ
کرتے ہیں۔ تیسرے گروہ میں وہ لوگ ہیں جو بیرون ملک جہاد کے لیے تیار کیے گءے تھے
مگر اب خود اپنے ملک میں تخریبی کارواءیاں کر رہے ہیں۔ چوتھی طرح کے طالبان وہ ہیں
جن کا خیال ہے کہ امریکہ کی جنگ دراصل اسلام کے خلاف جنگ ہے اور اس لیے امریکہ سے
اور اس کی حلیف پاکستانی فوج کے خلاف لڑنا ایک جہاد ہے۔ اور پانچواں گروہ ان لوگوں کا ہے جن کے رشتہ دار امریکی حملوں
میں بے گناہ ہلاک ہوءے ہیں اور اب وہ بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اور چھٹے گروہ میں وہ
لوگ ہیں جو جراءم پیشہ ہیں اور طالبان کا نام استعمال کرتے ہوءے اغوا براءے تاوان
جیسے دھندوں میں ملوث ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ہی امریکہ کی جنگ
سے باہر نکلا طالبان کے درج بالا بیشتر گروہ پاکستان اور پاکستانی فوج سے لڑنا
چھوڑ دیں گے اور پھر پاکستان کے لیے ایک نسبتا چھوٹے گروہ سے لڑنا زیادہ آسان
ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان واقعی اتنے بھولے ہیں کہ وہ پاکستان
میں بتدریج بڑھنے والی مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کو امریکہ کی جنگ کے ردعمل کے
ایک چھوٹے سے حصے کے طور پہ دیکھتے ہیں؟
عمران خان کی تقریب کی تصاویر یہاں ملاحظہ کریں:
تقریب کی یڈیو جھلکیاں یہاں دیکھیں:
طالبان سے متعلق عمران خان کے خیالات یہاں سنیں:
Labels: California, Fundraiser, Imran Khan in San Jose, Pakistan Tehreek-e-Insaf, PTI, San Francisco Bay Area, Silicon Valley
.jpg)
