Thursday, July 28, 2016
راکی راکی، نندی، اور واپسی
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو اکیانوے
جولائی چوبیس،
دو ہزار سولہ
راکی راکی،
نندی، اور واپسی
بس راکی راکی
سے چلی تو کئی جگہ ساحل کے بالکل ساتھ چلی۔ وہاں سمندر کا پانی ٹہرا ہوا تھا اور
چمرنگ [مینگروو] بڑی تعداد میں نظر آتے تھے۔ چمرنگ کی خاصیت ہے کہ یہ نہ صرف
سمندر کے پانی کا نمک برداشت کرلیتا ہے، بلکہ سمندر کے پانی سے کہیں زیادہ نمکن
پانی میں بھی اپنا گزارہ کرتا ہے۔
بس نندی
پہنچنے سے پہلے با اور لاتوکا نامی قصبوں سے گزری۔ پہلی بار نندی پہنچنے پہ ہمیں
خیال ہوا تھا کہ ہم لاتوکا اور با میں کم از کم ایک ایک دن ضرور گزاریں گے، مگر بس
لاتوکا سے چلی تو کچھ ہی دیر میں نندی پہنچ گئی اور اندازہ ہوا کہ لاتوکا کا مختصر
دورہ نندی میں رہتے ہوئے بھی کیا جاسکتا تھا۔ ہر جزیرہ اپنے باسیوں کے لیے کالا
پانی ہوتا ہے مگر ہر جگہ آپ کو ایسے لوگ ضرور ملتے ہیں جو سالوں ایک ہی جگہ رہتے
ہیں اور اپنی آزادی کا ذرا مظاہرہ نہیں کرتے۔
اب کی بار
نندی میں ہمارا قیام شاہراہ سے کچھ ہٹ کر تھا۔ ہم کمرے میں سامان رکھنے کے بعد
ٹاٹا نامی ریستوراں میں کھانا کھانے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ غریب پرور مگر مقبول ریستوراں
قصبے کے بڑے مندر کے قریب واقع ہے۔ ٹاٹا ہمارے ہوٹل سے کافی فاصلے پہ تھا۔ ہم ہوٹل
سے نکل کر کچھ دور تو پیدل چلے مگر پھر ایک ٹیکسی لے لی۔ ہم نے ٹیکسی ڈرائیور سے
باتیں کرنا شروع کردیں۔ ڈرائیور کا نام شاہ نواز تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا باپ مردان سے فجی آیا تھا۔
دراصل سب سے پہلے شاہ نواز کا تایا فجی آیا۔ اسی تایا نے اپنے بھائی یعنی شاہ
نواز کے باپ کو فجی آنے کا مشورہ دیا۔ شاہ نواز کا باپ انیس سو چھتیس میں فجی
پہنچا تھا۔ شاہ نواز کی پیدائش فجی ہی کی تھی۔ شاہ نواز کا کہنا تھا کہ فجی میں
بہت عرصہ گزارنے کے بعد بھی اس کا باپ مردان میں اپنے ایک قریبی رشتے دار سے مستقل
رابطے میں رہتا تھا مگر پھر مردان میں اس رشتہ دار کا قتل ہوگیا اور فجی میں بس
جانے والے اس پشتون خاندان کا تعلق مردان سے مکمل طور سے ٹوٹ گیا۔ شاہ نواز شادی شدہ
تھا اور اس کے چار بچے تھے۔ اب فجی ہی اس کا وطن تھا۔ اس کے بچے جب فجی میں موجود
دوسرے دیسی لوگوں میں شادیاں کریں گے تو وہ مردان جو شاہ نواز کے چہرے پہ نظر آتا
تھا اگلی نسل میں نظر آنا بالکل بند ہوجائے گا۔
شام ہونے پہ ہم
اپنے ہوٹل کے قریب ساحل سمندر پہ پہنچے اور وہاں غروب آفتاب کا دلکش نظارہ دیکھا۔
نندی میں ہمارا وقت ختم ہوچکا تھا۔ یہ استعارہ سفر کے ساتھ پوری زندگی کے لیے بھی
عین موزوں ہے کہ ایک دن اس دنیا میں بھی آپ کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔
ہم نے فجی
میں جو دن گزارے اس درمیان ٹی وی پہ کئی بار فجی ملٹری فورسز کمانڈر بریگیڈئیر
جنرل موسیس تکوئی توگا کو دیکھا۔ فجی میں بہت سے لوگوں کی نظریں جرنیل صاحب پہ
تھیں۔ جنرل موسیس تکوئی توگا کیا سوچ رہے تھے، وہ کیا کرنا چاہتے تھے، وغیرہ
وغیرہ۔ شاید اس بات کا امکان تو نہ تھا کہ فوج فجی کی سول حکومت کا تختہ الٹ دے
مگر خبروں سے واضح تھا کہ فوج کے سربراہ کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی تھی۔ ترقی
یافتہ، پائیدار جمہوری ممالک میں جرنیلوں کو اتنی لفٹ نہیں کرائی جاتی؛ وہاں فوج
کا سربراہ منتخب حکومت کا ماتحت ہوتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو منتخب حکومت اسے
کرتا دیکھنا چاہتی ہے۔
ہم ایک ایسی کتاب کی تلاش میں ہیں
جو دنیا بھر میں نوآبادیاتی تسلط سے آزاد ہونے والی ریاستوں میں فوجی بغاوتوں
میں مماثلت بیان کرے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ نوآبادیاتی دور میں دوسرے اداروں کے
مقابلے میں فوج کو مضبوط بنانے پہ بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور آج پاکستان جیسے
ملک میں دوسرے اداروں کے مقابلے میں فوج کی مضبوطی اسی نوآبادیاتی تجربے کی دین
ہے؟ برطانوی راج میں دوسری جنگ عظیم کے دوران ہماری فوج کی عددی طاقت میں بہت
زیادہ اضافہ ہوا۔ شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پہ
نوآبادیاتی آقا اسی فوجی طاقت سے ڈرکر بھاگ گئے۔ شاید یہاں سے روانہ ہوتے وقت
برطانویوں کو خیال آیا ہو کہ جس طرح ان کی حکومت کو مقامی فوجی طاقت سے خطرہ تھا،
اسی طرح آگے آنے والی مقامی سول حکومت کو بھی اس فوجی طاقت سے خطرہ ہوگا۔
آزادی کے بعد فوج دو ملکوں میں
تقسیم ہوئی تو پھر صرف ایک ملک کی قسمت میں پے درپے فوجی بغاوتیں کیوں لکھی گئیں؟
دراصل بڑے ملک میں فوج مختلف قومیتوں کے سپاہیوں پہ مشتمل تھی اور فوجی بغاوت کے
لیے ضروری ہوتا ہے کہ فوج کے اعلی عہدیداران ایک طرح سے سوچیں اور مل کر بغاوت پہ
عمل کریں۔
پاکستان میں کم آبادی والی
قومیتوں کے لوگ مختلف اداروں میں اپنی مساوی نمائندگی کا حق مانگتے نظر آتے ہیں۔
دراصل سب سے پہلے ان لوگوں کو فوج میں مساوی نمائندگی کا حق مانگنا چاہیے۔ اگر فوج
میں ان قومیتوں کی مساوی نمائندگی ہو تو ملک میں فوجی بغاوت کا خطرہ کم ہوگا اور
ایک ایسی صحتمند جمہوریت قائم ہوگی جس میں دوسرے اداروں میں کم آبادی والی
قومیتوں کو اپنی بہتر نمائندگی کے مواقع ملیں گے۔
Labels: California, Fiji, Los Angeles, Nadi, Rakiraki, San Jose
Thursday, June 23, 2016
نندی میں اپنے لوگ
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
کالم شمار دو
سو چھیاسی
جون
اٹھارہ، دو ہزار سولہ
نندی میں
اپنے لوگ
علی حسن
سمندطور
کیا آپ کو
ویسی اور فجی میں کوئی مماثلت دکھائی [سنائی] دیتی ہے؟ دراصل برطانوی مہم جو کیپٹن
کک کو یہی سنائی دیا تھا کہ بحرالکاہل کے ان جزائر پہ رہنے والے لوگ اپنے وطن کو
ویسی نہیں بلکہ فجی کہہ رہے ہیں۔ آج دنیا میں بہت سے خطے ان ناموں سے نہیں جانے
جاتے جن ناموں سے وہاں کے مقامی لوگ اپنے وطن کو کبھی جانتے تھے؛ ان خطوں کے نام
بدیسیوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ جزائر فجی کا تعلق بھی ان ہی خطوں سے ہے۔ جزائر فجی سے
جنوبی ایشیا کا وہی تعلق ہے جو جنوبی امریکہ کے ملک سرینام کا جنوبی ایشیا سے ہے۔
نندی نامی
قصبہ جزائر فجی
کے جس جزیرے پہ ہے اسی جزیرے پہ ان جزائر کا دارالحکومت سووا بھی ہے۔ نندی اس
جزیرے کے مغرب میں ہے جہاں سمندر کا ساحل زیادہ خوب صورت ہے۔ اسی وجہ سے نندی
سیاحوں میں سووا کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے اور یہاں کا ہوائی اڈہ بھی سووا کے
ہوائی اڈے سے بڑا ہے۔ آپ نندی پہنچیں تو آپ کو ہوائی اڈے پہ اونچے عہدوں پہ وہ
لوگ نظر آئیں گے جو اپنے آپ کو ان جزائر کا اصل مقامی باشندہ خیال کرتے ہیں۔ مگر
آپ جیسے ہی ہوائی اڈے سے باہر نکلیں تو آپ کو لگے گا کہ آپ جنوبی
ایشیا کے کسی شہر میں آگئے ہیں۔ ہم اپنی طرف کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ہوائی
اڈے سے ہوٹل تک پہنچے۔ فجی میں رہنے والے اپنی طرف کے یہ لوگ ہندی سے ملتی جلتی
ایک زبان بولتے ہیں۔ یہ زبان ایسی ہے کہ جب یہ لوگ اس زبان میں آپس میں بات کرتے
ہیں تو آپ کو خیال نہیں ہوتا کہ اردو یا ہندی بولی جارہی ہے۔ مگر جب یہ لوگ
برصغیر سے آنے والے اردو یا ہندی بولنے والوں سے گفتگو کرتے ہیں تو اچانک اس لہجے
میں بولنا شروع ہوجاتے ہیں جو بمبئی میں بننے والی ہندی فلموں میں استعمال کیا
جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی ہندی ان لوگوں نے ان ہی فلموں سے
سیکھی ہے۔
دراصل
نیوزی لینڈ سے فجی جاتے ہوئے مجھے یہی سوچ کر غصہ آرہا تھا کہ ہمارے لوگ تعلیم میں
اس قدر پیچھے کیوں ہیں؟ ہمیں وہ ڈائری کیوں نہیں ملتی جس میں جنوبی ایشیا سے فجی
جانے والے ایک شخص نے ہر روز کا حال لکھا ہو۔ کلکتہ سے چلنے والے بحری جہاز میں
چڑھنے سے لے کر فجی تک پہنچنے کی پوری داستان سناءی ہو اور یہ بتایا ہو کہ فجی
پہنچ کر کس قسم کی مشقت اٹھانی پڑی اور اس مزدور کے فجی کے مقامی لوگوں اور انگریز
افسران سے کس طرح کے تعلقات تھے۔ مگر قسمت کی یہی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے وہ لوگ جو
سب سے کٹھن اور [دوسروں کی نظروں میں] دلچسپ اور حیرت انگیز تجربات سے دوچار ہوتے
ہیں، ان واقعات کو لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کی محیرالعقل داستان ان کی زندگی
کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اگر کوءی اپنا شخص جان جوکھوں میں ڈال کر دوسری طرف سے
زندہ باہر نکل آئے اور پھر اپنی بیتی کو کتاب کی صورت میں لکھے تو جان لیں کہ اس
پہ مغرب کا اثر ہے۔ ذکر یقینا معظم بیگ کا ہورہا ہے۔
آپ ایک
لمحے کو آنکھیں بند کر کے ۱۸۵۷ کی ناکام جنگ آزادی کے بعد کا جنوبی ایشیا خیال
کیجیے۔ انگریز نئے طمطراق سے اس خطے پہ حکومت کررہے ہیں۔ انگریز مہم جوئوں کے بحری
جہاز بحرالکاہل میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ دوسری یورپی نوآبادیاتی طاقتیں جزائر
فجی کے آدم خور قبائل سے خوفزدہ ہیں مگر انگریز انہیں رام کرنے میں کامیاب ہوجاتے
ہیں۔ ان جزائر پہ قبائل کے ایسے سردار ہیں جو آدم خوری میں ایک دوسرے سے مقابلے
پہ ہیں۔ جس سردار نے پچاس، سو سے کم انسان کھائے ہوں اسے کسی خاطر میں نہیں لایا
جاتا۔ انگریز ان ہی سرداروں سے معاہدہ کر کے ان جزائر کا انتظام سنبھال لیتے ہیں۔
انگریز
جزائر فجی میں رہنا نہیں چاہتے۔ یہاں کی آب و ہوا ان کے حساب سے اچھی نہیں ہے۔ یہاں
کی کڑی دھوپ گوری رنگت کی دشمن ہے، مرطوب ہوا تیکھے نقوش کو موٹا کرنے کا کام کرتی
ہے۔ مگر انگریز ان جزائر کو اپنے استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔ خط استوا سے قریب
ہونے کی وجہ سے ان جزائر پہ استوائی فصلیں اگائی جا سکتی ہیں، خصوصا یہ علاقہ گنے
کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ مگر مقامی لوگوں کو کھیتی باڑی پہ لگانا مشکل کام ہے۔ مقامی
لوگ ایک اور طرح سے زندگی گزارتے ہیں۔ جب دل چاہتا ہے، جہاں دل چاہتا ہے سو جاتے
ہیں۔ جب بھوک لگتی ہے تو جنگل میں جا کر کھانے کے قابل پودے تلاش کرتے ہیں یا کسی
جانور کا شکار کرتے ہیں۔ غرض کہ مقامی لوگوں کی زندگی میں کام کاج کا حصہ بس اتنا
ہے جس سے کسی طرح کھانے پینے کا سہارا ہوجائے۔
انگریزوں
کو جنوبی ایشیا بہت پسند ہے۔ اس پسند کی بڑی وجہ یہاں کی آبادی ہے۔ جنوبی ایشیا
کے لوگ نہ صرف یہ کہ ذہین ہیں بلکہ حکام بالا کی بات کو آسانی سے مان جاتے ہیں۔
انہوں نے انگریز کی حاکمیت کو قبول کرلیا ہے؛ اب انگریز جیسا کہے گا یہ ویسا ہی
کریں گے۔
مگر انسان
پہ حاکمیت سے متعلق مغربی ادوار تبدیل ہوئی ہیں۔ اب غلامی سے کراہیت آتی ہے۔ پھر
جزائر فجی میں جنوبی ایشیا کے مزدوروں
کی مدد سے گنے کے کھیت کیسے لگائے جائیں؟ آسان حل موجود ہے۔ کلکتہ سے جہاز چل رہا
ہے۔ بے روزگار حضرات جہاز میں چڑھ جائیں۔ جہاز میں چڑھنے سے پہلے انگریزی میں لکھے
ایک مختصر معاہدے پہ دستخط کریں۔ دستخط کرنے کے لیے معاہدے کی سمجھ ضروری نہیں ہے۔
اس معاہدے کی رو سے مزدور پانچ برس تک فجی میں معمولی تنخواہ پہ نوکری کرے گا۔ ان
پانچ برس کے دوران مزدور فجی چھوڑ کر واپس جنوبی ایشیا نہیں آسکتا۔ ہاں پانچ برس
کے بعد واپسی ممکن ہے۔ یہ غلامی نہیں ہے، یہ بالرضا مشقت ہے۔ اب جنوبی ایشیا کے
معاشی حالات ایسے ہیں کہ لوگ خود بخود اس کٹھن مشقت کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں تو
اس میں انگریز کا کیا قصور ہے؟
ایک دفعہ کوئی شخص اپنی جوانی کے
پانچ سال کسی جگہ لگا دے تو پھر اس بات کا امکان کم ہوتا ہے کہ وہ اس جگہ سے ہل کر
کہیں اور جائے گا۔
پانچ سالوں بعد اگر ان مزدوروں
کو یاد آتا کہ اب معاہدے کی معیاد ختم ہوگئی ہے، اب یہ واپس جا سکتے ہیں تو وہ
حیرت سے سوچتے کہ واپس جانے کا کیا مطلب ہے۔ اس جگہ واپس جانا جو ان کی غیر
موجودگی میں بہت بدل چکی ہوگی کیسا ہوگا۔ وہ پانچ سال اس جزیرے پہ رہے ہیں۔ اب ان
کے آس پاس جو لوگ ہیں، وہی ان کے پیارے ہیں۔ اب یہی جگہ ان کا وطن ہے۔ اب بقیہ
زندگی یہیں گزارنی ہے اور یہیں مرنا ہے۔
Friday, September 18, 2015
الٹ دنیا کی سیر
ایک فکر کے
سلسلے کا کالم
ستمبر تیرہ، دو ہزار پندرہ
کالم شمار دو
سو چھیالیس
الٹ دنیا کی سیر
یہ نئے زمانے کی ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ نہ صرف انسان چند گھنٹوں میں ہوائی
جہاز سے اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتا ہے بلکہ وہ ان ہی چند گھنٹوں میں
اپنے اطراف کا موسم بھی بدل سکتا ہے۔ ان گرمیوں میں میرے ساتھ بھی یوں ہی ہوا۔
جہاز کے ایک سفر نے مجھے خط استوا کے اس پار پہنچا دیا۔ شمالی نصف کرے سے جنوبی
نصف کرے پہنچنے پہ میرے اطراف کا موسم گرما موسم سرما میں بدل گیا۔
سفر سان ہوزے، کیلی فورنیا سے شروع ہوا جہاں ہوائی اڈے تین گھنٹے پہلے پہنچ
جانے کے باوجود ہمارا جہاز نکل گیا۔ اس قصے کی تفصیل یہ ہے کہ جب اہتمام سے وقت سے
بہت پہلے ہوائی اڈے پہنچ گئے اور بورڈنگ پاس حاصل کر کے گیٹ تک رسائی بھی ہوگئی تو
خیال ہوا کہ اب تو بس جہاز میں سوار ہونا ہے اور پرواز کی روانگی میں بہت وقت ہے۔
چار میں سے تین مسافر ہوائی اڈے پہ مختلف جگہوں پہ ہونے والے تماشے کے دیکھنے کے
لیے روانہ ہوگئے۔ انہیں پلٹ کر آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ ہمارے جہاز کی روانگی کا
وقت ہوگیا۔ میں وہیں گیٹ پہ موجود تھا۔ جہاز میں چڑھنے والوں کی قطار لمبی تھی اس
لیے میں نے خیال کیا کہ جب تک مجمع چھٹے گا میرے ساتھ کے تین مسافر بھی وہاں پہنچ
جائیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ قطار سکڑتی سکڑتی درجن بھر مسافروں کی رہ گئی مگر میرے
ساتھی نہ آئے، اور پھر میرے دیکھتے دیکھتے قطار میں لگا آخری مسافر بھی جہاز میں
چڑھ گیا۔ میں جلدی سے گیٹ کے کائونٹر پہ پہنچا اور عملے کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے میرے ساتھیوں کے ناموں کا اعلان کیا اور تنبیہ کی کہ جہاز روانہ ہونے
والا ہے۔ مگر ان تینوں کو وقت پہ نہ آنا تھا، نہ آئے۔ گیٹ پہ موجود ہوائی جہاز
میں چڑھنے والا دروازہ بند ہوگیا۔ دروازہ بند ہونے کے چند منٹ بعد جب میرے ساتھی
پلٹے تو ہم نے دیکھا کہ جہاز ابھی اپنی جگہ پہ ہی کھڑا تھا۔ ہم نے واویلہ کیا کہ
جہاز تو ابھی ادھر ہی موجود ہے، ہمیں جہاز میں چڑھنے دیا جائے۔ مگر ہماری ایک نہ
سنی گئی۔ الٹاہمیں بتایا گیا کہ ہمارا سامان پہلے ہی جہاز سے اتار لیا گیا تھا۔ اب
کیا ہوگا؟ کیا ہم سے لاس اینجلس جانے والی اگلی پرواز کے اضافی پیسے لیے جائیں گے؟
اگلی پرواز کب روانہ ہوگی؟ کیا اگلی پرواز سے ہم لاس اینجلس، وہاں سے نندی کی
پرواز کی روانگی سے پہلے پہنچ جائیں گے؟ یہ سارے سوالات بجلی کی تیزی سے ہمارے ذہن
میں دوڑ رہے تھے۔ یہاں عملہ تھا کہ ہماری طرف دیکھے بغیر اپنے کمپیوٹر پہ تیزی
تیزی ہاتھ چلا رہا تھا۔ پھر پرنٹر چلنا شروع ہوا۔ نئے بورڈنگ پاس باہر آئے۔ نئے
بورڈنگ پاس دیتے ہوئے ہمیں بتایا گیا کہ ہم گھنٹے بھر میں اگلی پرواز سے لاس
اینجلس روانہ ہوں گے اور نندی روانہ ہونے والی پرواز سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے لاس
اینجلس پہنچ جائیں گے۔ جان میں جان آئی۔ نہ عملے نے اضافی رقم کی بات کی اور نہ
ہی ہم نے اس بارے میں کوئی سوال کیا۔
ہمارے پائوں میں چکر ہے۔ ہمیں مہینوں قریہ قریہ در بدر ہونے میں مزا آتا ہے۔
چیلنج اس سفر کو کم قیمت میں کرنے کا ہوتا ہے۔ ہمارے لیے کسی بھی طویل سفر کی
کامیابی میں کلیدی کردار ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا ہوتا ہے۔ جب ہم نے فیصلہ کیا کہ
گرمیوں میں آسٹریلیا کا رخ کیا جائے تو تلاش شروع ہوئی مناسب کرائے والے ٹکٹ کی۔
آسٹریلیا اسی رخ پہ ہے جس رخ پہ فجی ہے اس لیے ہم نے آسٹریلیا جانے کے سلسلے میں
فجی سے تعلق رکھنے والے اپنے دوست حنیف کویا سے رابطہ کیا۔ بھائی حنیف کویا نے
بتایا کہ انہیں جب فجی جانا ہو تو وہ ٹکٹ پاتھ فائنڈر ٹریول ایجنسی کے کمال صاحب
سے خریدتے ہیں۔ ہم نے کمال کو فون کیا اور غرض بیان کی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر
مناسب دام میں آسٹریلیا کے ساتھ نیوزی لینڈ اور فجی کا دورہ بھی ہوجائے تو کیا ہی
کہنے۔ کمال نے ہمارے سفر کی تاریخیں نوٹ کرلیں اور بتایا کہ وہ صحیح ٹکٹ معلوم کر
کے ہمیں فون کریں گے۔
ایک عرصے سے ہمیں بتایا جارہا ہے کہ نئے دور میں ٹریول ایجنٹ کی ضرورت ختم
ہوگئی ہے۔ اب سارا کام انٹرنیٹ پہ موجود ایجنسیوں کے توسط سے کہیں کم قیمت میں
ہوسکتا ہے۔ گھر بیٹے کمپیوٹر پہ کرائے معلوم کریں، بکنگ کروائیں، اور ٹکٹ حاصل
کریں۔ کمال سے بات کرنے کے باوجود ہم نے انٹرنیٹ پہ ٹکٹ کی تلاش اس نیت سے جاری
رکھی کہ ہمیں قیمت کا اندازہ رہے۔ مگر ایک
دن بعد جب کمال نے ہمیں فون کر کے بتایا کہ وہ ہمارا ایسا ٹکٹ بنا سکتے تھے جو
ہمیں تینوں ممالک ہماری تاریخوں کے حساب سے لے جائے اور قیمت بھی انٹرنیٹ کی
قیمتوں سے کم ہوگی تو ہم حیران رہ گئے۔ دل میں وسوسہ آیا کہ نہ جانے یہ کس طرح کا
ٹکٹ بن رہا ہے، کہیں کوئی گڑ بڑ تو نہیں ہے، مگر رفتہ رفتہ ہمارے خدشات بے بنیاد
ثابت ہوئے اور ہمارا کام بنتا گیا۔
سان ہوزے سے لاس اینجلس تو پہنچ گئے مگر وہاں پہنچ کر بھی ایک دفعہ پھر نندی
جانے والی پرواز ہمارے ہاتھوں سے نکلتی محسوس ہوئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس قصے کو اگلے
کالم میں بیان کیاجائے گا۔
Labels: Australia, Fiji Airways, Fiji travelogue, LAX, Leaving San Jose, Nadi, New Zealand, SJC
