Thursday, June 09, 2016

 

ہاسٹ، تیمارو








ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چوراسی

جون پانچ، دو ہزار سولہ

ہاسٹ، تیمارو
 

اب پوناکائیکی سے ہاسٹ کا پانچ گھنٹے کا سفر درپیش تھا۔  ہم ہاسٹ جاتے ہوئے مستقل جنوبی قطب کی طرف سفر کر رہے تھے۔ سردی بڑھنے کا امکان تھا مگر ساتھ ہی  گزرتے وقت کے ساتھ جاڑوں کے دن بہار کے موسم میں بدل رہے تھے۔
نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے پہ مغربی ساحل کی سیر کرتے ہوئے ہم ایسی جگہوں سے گزر رہے تھے جو سیاحوں میں بہت مقبول تھیں۔ کہنہ مشق کھلاڑی اسی شکار کی گھات لگائے بیٹھے تھے۔  ہمیں رقم خرچ کرنے میں احتیاط سے کام لینا تھا۔

سیاحوں سے چھینا جھپٹی کا ایک مظاہرہ پوناکائیکی میں ہوا۔ ہم کمرے کی چابی واپس کرنے کے لیے ہوٹل کے استقبالیے پہ پہنچے تو وہاں موجود  فلیپینو عورت نے بتایا کہ ہمیں کمرے کا اضافی کرایہ دینا ہوگا کیونکہ کمرے میں مقرر تعداد سے زیادہ لوگ ٹہرے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد تھا کہ ہوٹل کی بکنگ کرتے وقت ایسی کوئی بات نہیں بتائی گئی تھی۔ ہم نے اضافی رقم کے مطالبے پہ شدید احتجاج کیا۔ اچھا، میں تمھاری اصل ریزرویشن دیکھتی ہوں، یہ کہہ کر خاتون کمپیوٹر پہ مصروف ہوگئیں۔ کچھ دیر بعد انہوں نے فیصلہ سنایا کہ سب کچھ ٹھیک تھا اور ہم جا سکتے تھے۔

ہاسٹ کے راستے میں گرے متھ نامی بڑا قصبہ پڑتا تھا۔ ہم نے اس قصبے میں رک کر نیوایج گروسری اسٹور نامی دکان سے اشیائے خوردونوش خریدیں اور اگلے دو تین کا انتظام کرلیا۔ اس دکان میں جن خاتون نے ہمارا حساب کتاب کیا ان کا تعلق جنوبی ایشیا سے معلوم دیتا تھا مگر قمیض پہ لگے بلے پہ ان کا نام جمائما بتایا گیا تھا۔ کیا یہ اس کا اصل نام تھا یا وہ جمیلہ یا اس سے ملتے جلتے کسی دیسی نام کو بدل کر جمائما ہوگئی تھی؟

پوناکائیکی سے ہاسٹ جاتے ہوئے پھر سمندر اور پہاڑوں کا ساتھ تھا۔ اسی راستے میں دو مشہور گلیشئیر کا سامنا بھی ہونا تھا۔ سب سے پہلے فرانز جوزف گلیشئیر پڑا۔ چند دہائیوں پہلے تک فرانز جوزف گلیشئیر پہاڑوں سے اتر کر اتنے نیچے تک آتا تھا کہ ہاسٹ جاتے ہوئے راستے میں اسے باآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ بہت عرصے سے یہ گلیشئیر سکڑ رہا ہے اور اب اسے دیکھنے کے لیے پہاڑوں میں بہت آگے تک جانا ہوتا ہے۔ ہم ایک جگہ رک کر فرانز گلیشئیر کی تلاش میں ایک پگڈنڈی پہ بہت دور تک چلے مگر فرانز جوزف کو دیکھنے میں ناکام رہے۔

ہم انسان اپنی دنیا کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں دنیا کئی برفانی ادوار سے گزری ہے مگر دنیا میں ایک دم ٹھنڈک کیوں بڑھ جاتی ہے، اور پھر چند ہزار سال بعد دنیا پھر سے گرم کیوں ہوجاتی ہے، اس بارے میں ہم نہیں جانتے۔

مثلا ہم جانتے ہیں کہ پچاس ساٹھ ہزار سال پہلے ایک برفانی دور اپنے عروج پہ تھا اور اس وقت کے بعد دنیا مستقل گرم ہورہی ہے۔ مگر فی الوقت ہمیں جس عالمی گرمائش کا سامنا ہے کیا وہ اسی آخری برفانی دور کے اختتام کا ایک حصہ ہے، یا یہ گرمائش ہمارے کرتوتوں سے ہے؟ جس طریقے سے عالمی گرمائش تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس گرمائش کا تعلق ہماری صنعتی سرگرمی سے ہے۔

ہم ہاسٹ کے راستے میں اور آگے بڑھے تو فوکس گلیشئیر کا نشان نظر آیا۔ یہاں ہمیں کامیابی ہوئی اور کچھ فاصلے سے ہمیں وہ گلیشئیر نظر آگیا۔

ہاسٹ کے آس پاس خوبصورت ساحل تھا۔ مگر اس سردی میں وہ ساحل میلوں میل ویران پڑا تھا۔ شاید وہاں آنے والے سیاح پہاڑوں میں اسکی کررہے تھے۔

ہم ہاسٹ میں جس ہوٹل میں ٹہرے تھے وہاں استقبالیہ ایک افریقی نژاد عورت سنبھالے کھڑی تھی۔ ہم سوچتے رہے کہ کیا اس چھوٹے سے قصبے میں کہیں ایک افریقی نژاد مرد بھی تھا یا اس عورت کا جوڑی دار کوئی سفید فام شخص تھا۔

اگلے روز ہماری آنکھ کمرے کے باہر ہونے والے شور سے کھلی۔ چینی زبان بولی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں چینی سیاحوں کا ایک بڑا گروہ ہوٹل سے روانہ ہوگیا۔ بمشکل دس سال پہلے کی بات ہے،دنیا کی سیر کرتے بھانت بھانت کے سیاحوں میں چینی سیاح شاذ و نادر ہی نظر آتے تھے؛ مشرق بعید کا کوئی سیاح اگر ملتا تھا تو وہ لا محالہ جاپانی ہوتا تھا۔ مگر اب یہ منظر تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب چینیوں کے پاس پیسہ ہے اور چینی سیاح کثرت سے نظر آتے ہیں؛ اب بھی یقینا چینی سیاحوں کی تعداد دنیا میں چین کی آبادی کے تناسب سے کم ہے، مگر چند سال پہلے کے مقابلے میں یہ تعداد زیادہ ہے۔ غالبا سنہ دو ہزار تیس تک چینی سیاحوں کی یہ تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ لوگ سفید فام سیاحوں کو حیرت سے دیکھا کریں گے کہ اچھا آپ بھی گھومنے پھرنے نکلے۔

تیمارو جنوبی جزیرے کے مشرقی ساحل پہ ہے۔ ہمیں ہاسٹ سے تیمارو جاتے ہوئے پہاڑوں کے دوسری طرف جانا تھا۔ اس سڑک پہ چلتے ہمیں مستقل ایسی جگہیں ملیں جہاں آپ خوب صورت راستوں پہ گھنٹوں پیدل چل سکتے تھے۔ اس پورے علاقے میں لوگ قدرتی مناظر کو قریب سے دیکھنے کی خواہش میں پہاڑوں میں اسی طرح کے راستوں پہ چلتے ہیں۔

پہاڑ ہوں، وہاں پانی برسے یا برف گرے اور پھر برف پگھل کر رفتہ رفتہ پانی پہاڑوں کی ڈھلوان سے نیچے آئے تو آپ پانی کی اس طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک پھرکی گھما سکتے ہیں اور یوں بجلی بنا سکتے ہیں۔ تیمارو جاتے ہوئے ہمیں اسی طرح کا ایک بجلی گھر وائ تاکی میں نظر آیا۔

قدرت جب کبھی زور دکھائے چاہے ہوا سے یا پانی سے، آپ اس زور کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے بجلی بنا سکتے ہیں۔ کسی بھی خطے کے رہنے والے لوگوں کو بس یہی مشاہدہ کرنا ہے کہ وہاں قدرت کا زور کس انداز سے ہے۔ پینترا بدل کر اس زور کو بجلی میں تبدیل کرنا ہے اور بجلی اپنے استعمال میں لانی ہے۔ ہم اسی طرح کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں لوگ اپنے خطے کے منفرد حالات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنی ضروریات پوری کریں۔ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دور دراز کی جگہوں کے وسائل کا اور دوسروں کا محتاج رہنا ہرگز عقلمندی نہیں ہے۔


Labels: , , , ,


Thursday, June 02, 2016

 

ضد آرکٹک مرکز، پوناکائیکی










ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو تراسی

مئی اٹھائیس، دو ہزار سولہ

ضد آرکٹک مرکز، پوناکائیکی

 
میں ایک جانور پیدا ہوا تھا۔ اپنی پیدائش کے وقت میں بظاہر انسان کا بچہ تھا مگر میرے اندر جو واحد جبلت موجود تھی وہ حیوانی تھی۔ لکھنا پڑھنا تو بہت دور کی بات ہے مجھے اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنے کی بھی تمیز نہیں تھی۔ میری سب سے قوی خواہش اپنی بقا سے متعلق تھی۔ اگر میری پیدائش کے بعد صرف اور صرف میری غذا کا انتظام کیا جاتا، مجھے زندہ رکھنے کے علاوہ میرے لیے کسی قسم کی تربیت کا اہتمام نہ کیا جاتا تو میں بلوغت پہ بظاہر پورے قد کا انسان نظر آتا مگر اندر سے نرا جانور ہی  رہ جاتا۔ وہ جانور جو کسی طرح بھی چھین جھپٹ کر اپنی غذا کا انتظام کرتا ہے اور اپنی نسل آگے بڑھانے کی ترکیب کرتا ہے۔ مگر شکر ہے ایسا نہ ہوا۔ پیدائش کے بعد مجھے مستقل تعلیم دی گئی۔ پہلے والدین اور خاندان والوں کی طرف سے، اور پھر مدارس میں۔ شہروں میں پیدا ہونے والے بہت سے بچوں کی طرح میں بھی خوش قسمت تھا کہ میرے آس پاس کے ماحول میں جدید دنیا کی وہ چیزیں قابل دسترس تھیں جن کو برتنے کا طریقہ میں اپنے ماحول سے سیکھ سکتا تھا۔ غرض کہ پچھلے آٹھ دس ہزار سالوں میں انسان نے تمدنی ارتقا کی جو منازل طے کی ہیں، مجھے عمر کے پہلے دس پندرہ سالوں میں اس تہذیب کے چیدہ چیدہ نکات سمجھا دیے گئے۔ لکھنا، پڑھنا، انسان کے تہذیبی ارتقا کی وہ منزل جو انسان نے کئی ہزار سالوں میں طے کی تھی، وہ ٹیکنالوجی جو محض پانچ ہزار سال پرانی ہے، مجھے عمر کے پہلے چھ برس میں وہ ٹیکنالوجی سکھا دی گئی اور میں لکھنے پڑھنے کے قابل ہوگیا۔ اسی طرح مجھے سمجھا دیا گیا کہ میں اپنی بنیادی ضروریات یعنی کھانا، پینا، سر چھپانا، اور نسل آگے بڑھانا، ایک انسانی معاشرے میں رہتے ہوئے کس طرح معاشرے کے قوانین کے حساب سے پوری کرسکتا ہوں۔ یعنی، اپنی جان سلامت رکھنے کے لیے غذا حاصل کرنا میری بنیادی ضرورت ہے مگر میں کسی دوسرے انسان کا کھانا چرا کر اپنی یہ ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ اگر میں اپنی مرضی سے انسان کے ایک گروہ کے درمیان رہ رہا ہوں تو مجھے ان قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی جو اس گروہ نے مل جل کر وضع کیے ہیں۔
اور انسان کا تہذیبی ارتقا کسی مقام پہ رکا نہیں ہے۔ نہ یا ارتقا ایک ہزار چار سو سال پہلے مکہ مدینہ میں رکا تھا، نہ آج رکا ہے، اور نہ آج سے ایک ہزار چار سو سال بعد رکے گا۔ ہم منصف معاشرے کی جستجو میں مستقل اپنی سمت بدل رہے ہیں اور انسانی معاشروں کو تمام لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ بہتر بناتے جارہے ہیں۔ ایسے میں اگر کچھ لوگ ماضی کی اقدار کے حساب سے جینا چاہیں، اور ساتھ یہ چاہیں کہ تمام لوگ ان کے فرسودہ، بدبودار طریقے سے چلیں تو یقینا ان لوگوں کو تاسف کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ جانور سے انسان بننے کے عمل میں یہ لوگ یقینا کچھ پیچھے رہ گئے ہیں۔ نہ جانے یورپی نو وارد نیوزی لینڈ پہنچنے پہ وہاں کے ادھ ننگے باسیوں کو ایسی نظروں سے دیکھتے تھے یا نہیں، ہم یقینا اسلامی نظریاتی کونسل کے نام نہاد علما کو تاسف کی اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ وہ حیوان نما انسان ہیں جو عورت کو اسی طرح کے کمتر مقام پہ رکھنا چاہتے ہیں جس مقام پہ وہ ایک ہزار چار سو سال پہلے تھی۔ یہ لوگ عورت کو مرد کی جائیداد سمجھتے ہیں کہ جس طرح ایک مرد اپنی بھیڑ بکریوں کو چھڑی سے ہانک سکتا ہے اسی طرح مرد کو اپنی بیوی کی پٹائی کا حق بھی ہونا چاہیے۔
زمین کے دونوں قطبین پہ برف جمی ہوئی ہے۔ مگر شمالی قطب اور جنوبی قطب کے درمیان بڑا فرق یہ ہے کہ شمالی قطب پہ جمی برف سمندر کا پانی ہے جب کہ جنوبی قطب پہ جمی برف کے نیچے زمین ہے۔ یعنی اگر آپ قطب شمالی پہ برف کھودیں تو بہت گہرائی میں آپ کو پانی ملے گا اور پھر اس سمندر کی تہہ میں خشکی ملے گی، جب کہ قطب جنوبی پہ برف کھودنے پہ آپ فورا زمین تک پہنچ جائیں گے۔ اسی وجہ سے قطب جنوبی کے برفانی علاقے کو ضد آرکٹک براعظم کہا جاتا ہے۔
کرائسٹ چرچ قطب جنوبی سے قریب ترین بڑا شہر ہے۔ اسی لیے ضد آرکٹک جانے والے مہم جو کرائسٹ چرچ میں رکتے ہیں اور وہاں سے کمک ساتھ لے کر آگے قطب جنوبی کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ ضد آرکٹک جانے والے یہ لوگ کرائسٹ چرچ میں ضد آرکٹک مرکز [اینٹ آرکٹک سینٹر] نامی جگہ پہ قیام کرتے ہیں جہاں ان کی خاص تربیت ہوتی ہے۔ کرائسٹ چرچ نے اس مرکز سے سیاحتی آمدنی حاصل کرنے کا موقع پیدا کرلیا ہے۔ سیاح اس مرکز میں جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ ضد آرکٹک جانے والے مہم جو ضد آرکٹک کی ظالم سردی سے مقابلہ کرنے کی تیاری کس طرح کرتے ہیں۔ ہم ضد آرکٹک مرکز میں مختلف معلوماتی کتبوں کو پڑھ کر قطب جنوبی مہمات کی تاریخ کے بارے میں جانتے رہے۔
کرائسٹ چرچ دیکھنے کے بعد اب ہم مزید جنوب کی طرف جارہے تھے اور کرائسٹ چرچ سے پوناکائیکی کے راستے میں ہمیں برف پوش پہاڑ سر کرنے تھے۔ گاڑی کرائسٹ چرچ سے نکلی تو ہم بہت دور تک ہموار زمین پہ چلتے رہے، وہاں کھیت کھلیان تھے اور کھیتوں کے ساتھ درخت لگے تھے۔ پھر ہم پہاڑوں میں پہنچ گئے۔ وہاں اونچے مقامات پہ خوب برف نظر آئی۔ مغربی ساحل پہ پہنچنے سے پہلے گاڑی پہاڑوں سے نیچے اترنا شروع ہوگئی۔ جنوبی جزیرے کے مغربی ساحل کا نقشہ یہ تھا کہ اکثر جگہ پہاڑ سمندر تک چلے آتے تھے۔ ہم اسی اونچے نیچے راستے پہ چلتے ہوئے پوناکائیکی تک پہنچے۔
پوناکائیکی پہنچتے پہنچتے سہ پہر ہوگئی تھی مگر ہم پوناکائیکی کے مشہور پارک کی سیاحت اگلے دن کے لیے نہیں اٹھا رکھنا چاہتے تھے۔ ہم نے سامان ہوٹل کے کمرے میں ڈھیر کیا اور فورا پاپاروا نیشنل پارک پہنچ گئے۔ یہ پارک اپنی پرت در پرت پین کیک چٹانوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ چٹانیں بننے میں پچیس کروڑ سال لگے ہیں۔
اگر انسان کو اپنی مختصر زندگی کی کم حیثیت کا ادراک کرنا ہو تو تاریخ پڑھے، اگر وقت کی وسعت کا اس سے بہتر اندازہ کرنا ہو تو ارضیات پڑھے، اور اگر وقت کے بے کراں سمندر میں اپنی ذرہ برابر زندگی کا صحیح مذاق اڑانا چاہے تو فلکیات پڑھے۔
ہم پاپاروا نیشنل پارک کی تہہ در تہہ چٹانوں کو دیکھتے جاتے تھے اور وقت کی ہیبت سے ہول کھاتے جاتے تھے۔


Labels: , , ,


Thursday, May 19, 2016

 

ویلنگٹن، تورنگا، کرائسٹ چرچ








नई जीलैंड  का सफर नामा




ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اکیاسی

مئی پندرہ، دو ہزار سولہ

ویلنگٹن، تورنگا، کرائسٹ چرچ


ہم ویلنگٹن سے واپس آک لینڈ جارہے تھے مگر رات تورنگا نامی قصبے میں بسر کرنا تھی۔ یہ ممکن تھا کہ ویلنگٹن سے تورنگا اسی راستے سے جاتے جس راستے سے ویلنگٹن پہنچے تھے مگر جدت طلب ذہن نے ایسا کرنا گوارہ نہ کیا۔  ویلنگٹن سے نکلے توسیدھا شمال کی طرف جانے کے بجائے شمال مشرق کی جانب ہیسٹنگس کی طرف نکل گئے اور پھر وہاں سے تورنگا پہنچے۔ اس طرح شمالی جزیرے کے مشرقی حصے کو چلتے چلتے دیکھنے کا موقع مل گیا مگر راستے کی لمبائی کی وجہ سے تورنگا پہنچتے پہنچتے رات ہوگئی۔ نئی جگہ پہ دن کی روشنی میں راستہ تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے اندھیرے میں کام اور دشوار ہوگیا۔ مگر پھر وہی ہوا جو ایسے موقعوں پہ ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہماری مدد کے لیے ایک فرشتہ نازل ہوا۔ تورنگا میں جس جگہ ہماری رات کی بکنگ تھی وہ دراصل قصبے سے کسی قدر باہر تھی اور ہمارا جی پی ایس اس جگہ سے واقف نہ تھا۔ ہم قصبے سے باہر نکل کر ادھر ادھر راستہ تلاش کرتے رہے اور پھر جھنجھلا کر واپس قصبے میں پلٹ آئے۔ راستہ پوچھنے کی نیت سے ایک اسٹور میں داخل ہوئے۔ اسٹور میں کائونٹر کے پیچھے موجود نوجوان ہمارے علاقے کا معلوم ہوتا تھا مگر وہ نیوزی لینڈ کے مقامی لہجے میں انگریزی بول رہا تھا۔ ہم نے اپنے ہوٹل کا پتہ پوچھا تو وہ فورا کائونٹر کے پیچھے سے نکل کر سامنے آگیا۔ وہ ہمیں ساتھ لے کر اسٹور کے دوسری طرف ایک دیوار تک گیا۔ وہاں ایک بڑا اسکرین دیوار پہ نصب تھا۔ اس نے اسکرین کو ہاتھ لگایا تو اس پہ انٹرنیٹ نمودار ہوگیا۔ اس نے ہمارا بتایا ہوا پتہ انٹرنیٹ پہ ڈالا اور پھر جب اس جگہ جانے کا راستہ واضح ہوگیا تو اس نے بہت تفصیل سے سمجھایا کہ ہم اس پارکنگ لاٹ سے نکل کر کس طرف جائیں گے اور کس جگہ بائیں ہاتھ مڑیں گے۔ اس نے یہ ہدایات دہرائیں اور اچھی طرح یقین کر لیا کہ ہمیں راستہ سمجھ میں آگیا تھا۔ وہ ہمارے لیے بچھا جاتا تھا۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ چل پڑے اور ہمیں ہماری منزل تک چھوڑ کر ہی واپس پلٹے۔

جب ہم نے انٹرنیٹ کے ذریعے تورنگا کے میڈیٹرینین ریزارٹ کی بکنگ کرائی تھی تو وہ ہوٹل بہت مصروف جگہ معلوم دی تھی اور ہم اس نہایت ہردل عزیز ہوٹل میں جگہ پا کر خوش ہوئے تھے۔ اب جو قصبے سے نکل کر ایک نیم روشن ذیلی سڑک سے ریزارٹ تک پہنچے تو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ہمارے علاوہ اس ہوٹل میں کوئی اور مسافر نہ تھا۔

ہمارے ہوٹل کا مالک اور مینیجر گنتھر قریبا بیس سال پہلے جرمنی سے نیوزی لینڈ پہنچا تھا۔  اس کا کہنا تھا کہ جرمنی میں جب یورپی اتحاد کی ہوا چلی تو اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کا اب وہاں رہنا مشکل تھا۔ وہ نیوزی لینڈ پہنچا اور یہاں کی محبت میں گرفتار ہو کر یہیں کا ہورہا۔ اور اب اتنے سالوں بعد اس کے بچے بڑے ہوکر اپنی اپنی راہ نکل گئے تھے۔ بہت سال پہلے اس کی بیوی کو امریکی جزیرے ہوائی کا ایک آدمی مل گیا اور وہ اس کے ساتھ روانہ ہوگئی اور یوں گنتھر اب تنہا رہ گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کو جرمنی سے پینشن کی رقم ملتی ہے اور ریزارٹ سے آمدنی اضافی تھی۔

اس ریزارٹ میں ایک چینی نژاد جوان عورت صفائی کرتی نظر آتی تھی۔ ہم نے گنتھر کی اس عورت سے مختصر گفتگو سے اندازہ لگایا کہ وہ عورت گنتھر کے لیے محض ایک ملازمہ نہ تھی۔ گنتھر ایک اچھا کھجیارہ [کک] تھا۔ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے صبح کا ناشتہ تیار کیا۔ اس ناشتے میں وہ تمام چیزیں تھیں جو المانوی لوگ ناشتے میں رغبت سے کھاتے ہیں۔

تورنگا سمندر کے ساتھ واقع ہے مگر سردیوں کے اس روز صرف دور ہی سے سمندر سے لطف اندوز ہوا جاسکتا تھا۔ ویسے بھی تورنگا میں قیام کا واحد مقصد یہ تھا کہ ہم مختصر سفر کے بعد آک لینڈ پہنچ سکیں؛ گاڑی ہوائی اڈے پہ چھوڑیں اور جہاز لے کر کرائسٹ چرچ روانہ ہوجائیں۔

ہم تورنگا سے چلے تو راستے میں کسی جگہ رکے بغیر آک لینڈ پہنچ گئے۔ مگر وہاں پہنچتے پہنچتے ایک نئی صورتحال کا سامنا ہوگیا۔ ہمارا مثانہ پھٹا جارہا تھا اور اپنی حاجت رفع کرنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں مل رہا تھا۔  کرائے کی گاڑی حاصل کرتے وقت ہم دیکھ چکے تھے کہ اس رینٹل آفس میں کوئی ضرورت گاہ نہیں تھی۔ یقینا ہوائی اڈے پہ ہر طرح کی سہولت موجود تھی مگر کرائے کی گاڑی چھوڑ کر شٹل سے ہوائی اڈے پہنچنا تھا اور ہم اتنا انتظار نہیں کرسکتے تھے۔ ہم رینٹل آفس والی سڑک پہ آگے کی طرف گئے تو وہاں ایک بڑی فیکٹری کے باہر سنسان جھاڑیوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ ہم نے گاڑی وہیں روک لی۔ ہم وہاں اپنی کاروائی کر کے فارغ ہوئے تو فورا ہی ایک پولیس کی گاڑی وہاں نمودار ہوگئی۔ شاید کسی نے مشتبہ سرگرمی کی مخبری کردی تھی۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ ہم اس وقت تک گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ ہم نے فورا گاڑی آگے بڑھا دی اور بہت دیر تک سوچتے رہے کہ کیا پولیس والے نے جھاڑیوں میں جا کر یہ جاننے کی کوشش کی ہوگی کہ ہم وہاں کیا کررہے تھے۔


آک لینڈ سے کرائسٹ چرچ کی پرواز مختصر تھی مگر اس سفر میں ہمیں ایک خوب صورت تحفہ فورا ہی مل گیا۔ جہاز نے آک لینڈ سے اڑان بھری تو کچھ ہی دیر میں کھڑکی سے باہر قوس قزح کا ایک  دل فریب منظر ظاہر ہوا۔ یہ مکمل گول قوس قزح بہت دور تک جہاز کے ساتھ چلتی رہی۔ کرائسٹ چرچ کے راستے میں ایسا استقبال ہمیں اچھا لگا۔

Labels: , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?