Thursday, April 21, 2016

 

سڈنی کا ہزارہ ٹائون



ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو ستتر

اپریل سترہ، دو ہزار سولہ

سڈنی کا ہزارہ ٹائون

 

پاکستان میں اسلام کے نام پہ جو فساد مچا ہوا ہے اس کے اثرات دور دور تک نظر آتے ہیں۔ ہم آسٹریلیا پہنچے تو ٹی وی پہ سب سے بڑی خبر ان کشتیوں کی تھی جو غیرقانونی تارکین وطن کو انڈونیشیا سے آسٹریلیا پہنچانے کا کام کررہی تھیں۔ ہمیں معلوم تھا کہ ان کشتیوں میں دوسرے ممالک کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔

ہم نے کراچی ہوائی اڈے پہ آسٹریلیا کے سفارت خانے کی طرف سے لگایا جانے والا وہ پوسٹر دیکھا تھا جس میں سختی سے تاکید کی گئی تھی کوئی بھی شخص ہرگز آسٹریلیا کا رخ یہ سوچ کر نہ کرے کہ وہاں غیرقانونی طریقے سے پہنچنے کے باوجود آسٹریلیا میں مستقل رہائش کا کوئی نہ کوئی انتظام ہوجائے گا۔

ہم جانتے تھے کہ آسٹریلیا کی اس تنبیہ کا کوئی خاص اثر ان لوگوں پہ نہیں ہورہا جو پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی جان کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں کوئٹہ میں رہنے والے ہزارہ سب سے آگے ہیں۔

اب جب کہ ہم آسٹریلیا میں موجود تھے، ہم وہاں پہنچنے والے ہزارہ لوگوں سے ملنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں نوشی گیلانی اور سعید خان نے ہماری مدد کی۔ ان دونوں کی دوستی کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صادق صبا نامی شاعر سے تھی۔ ہمیں صادق صبا صاحب سے متعارف کرادیا گیا۔

وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ ہم نے صادق صبا سے فون پہ بات کی تو انہوں نے افطار پہ مدعو کیا۔ جہاں یہ لوگ جمع ہوتے تھے وہاں رمضان کی مجالس بھی جاری تھیں۔ ہم نے صادق صبا سے مجلس کے اختتام پہ ملاقات کی اجازت چاہی جو انہوں نے کمال مہربانی سے دے دی۔

جس وقت ہم ریڈ گم سینٹر پہنچے تو مجلس ختم ہونے کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ صادق صبا ہم سے تپاک سے ملے اور ہمیں اندر لے گئے جہاں مولانا صاحب کی باتوں کو سن کر اندازہ ہوا کہ ان باتوں کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صاحب سادہ سے سادہ سوال کا اس قدر لمبا اور پیچیدہ جواب دیتے کہ وہاں موجود ہر شخص کنکھیوں سے دیوار پہ لگا گھڑیال دیکھنے لگتا۔ مگر اہل مجلس سوال پوچھنے کا شوق بھی رکھتے تھے۔ چنانچہ سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک سوال ایسا بھی کیا گیا جس کا تعلق براہ راست ہزارہ لوگوں کی نسل کشی سے تھا۔ سوال تھا کہ کن حالات میں صبر کرنا چاہیے اور کب ہتھیار اٹھا کر مزاحمت کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کا تعلق کراچی سے لگتا تھا۔ اس سوال کے پس منظر کو سمجھے بغیر وہ بہت دیر تک ادھر ادھر کی ہانکتے رہے۔
اللہ اللہ کر کے سوالات ختم ہوئے اور مجلس برخاست ہوئی۔ صادق صبا نے چند نوجوانوں کو ہم سے ملا دیا۔ ان میں سے دو، خادم نوری اور غلام رضا، ہم سے بات چیت کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
خادم نوری سنہ انیس سو ننانوے میں آسٹریلیا پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وقت بہت سے ہزارہ آسٹریلیا پہنچنا شروع ہوئے تھے۔ خادم نوری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک کتاب میں یہ سارے حالات لکھے ہیں کہ لوگ کس طرح کوئٹہ سے آسٹریلیا تک کا سفر طے کرتے ہیں۔

غلام رضا چار سال پہلے ہی آسٹریلیا پہنچے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کام کرنے والے ایجنٹ پاکستان سے انڈونیشیا تک کا سفر طے کرواتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پاکستان سے نکل کر سری لنکا پہنچا جاتا ہے۔ ایجنٹ سری لنکا میں انڈونیشیا کے ویزے کا انتظام کرتے ہیں اور اس طرح تارکین وطن جکارتہ پہنچتے ہیں۔ جکارتہ پہنچانے پہ پہلے ایجنٹ کا کام ختم ہوجاتا ہے۔
تارک وطن کو انڈونیشیا سے آسٹریلیا پہنچانا ایک دوسرے ایجنٹ کا کام ہے۔ آسٹریلیا جانے کی کوشش میں صرف ہزارہ ہی انڈونیشیا نہیں پہنچتے بلکہ ان تارکین وطن میں شام، عراق، افغانستان، صومالیہ، اور دوسری جگہوں کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔
اس موقع پہ مجھے یہ سوچ کر اپنے آپ پہ غصہ آیا کہ جب میں ایک سال پہلے انڈونیشیا گیا تھا تو میں نے کیوں سن گن نہیں لی کہ انڈونیشیا سے آسٹریلیا پہنچانے والے ایجنٹ کہاں ملتے ہیں۔ مجھے ان ایجنٹوں سے مل کر کہانی کے اس سرے کو ٹٹولنا چاہیے تھا اور دیکھنا چاہیے تھا کہ آسٹریلیا جانے والے ان تارکین وطن لوگوں کو یہ ایجنٹ کہاں ٹہراتے ہیں اور کس طرح اس جزیرے تک پہنچاتے ہیں جہاں سے کشتی آسٹریلیا کے لیے روانہ ہوتی ہے۔
غلام رضا نے بتایا کہ انڈونیشیا سے چلنے والی کشتی کے ناخدا کشتی کو آسٹریلیا کے ساحل تک نہیں پہنچاتے بلکہ صرف آسٹریلیا کے پانیوں میں جا کر چھوڑ دیتے ہیں۔ آسٹریلیا کے کوسٹ گارڈ انسانی ہمدردی کی بنیاد پہ اس کشتی کے لوگوں کو کھلے سمندر سے اٹھا کر ساحل تک لے جاتے ہیں۔
انڈونیشیا سے چلنے والی یہ تمام کشتیاں تارکین وطن سے خطرناک حد تک بھری ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں نے غلام رضا سے پوچھا کہ آیا ایسی کشتیوں کے مسافر صرف مرد ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کشتیوں میں زیادہ تو مرد ہوتے ہیں مگر انہوں نے جس کشتی میں سفر کیا اس میں دو خانوادے بیوی بچوں والے بھی تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے پیاروں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشتی ڈوبی تو کوئی غم نہیں، ساتھ جینا ہے اور ساتھ مرنا ہے۔

غلام رضا نے بتایا کہ انڈونیشیا پہنچنے والے تمام لوگوں کو اچھے ایجنٹ میسر نہیں آتے۔ غلام رضا کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ سالوں وہیں انڈونیشیا میں ٹکے رہتے ہیں۔ مجھے خیال ہوا کہ شاید اتنا عرصہ وہاں رہنے کے بعد ایسے تارکین وطن انڈونیشیا میں مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے ہوں۔

رات بہت ہوچلی تھی۔ میں غلام رضا، خادم نوری، اور صادق صبا صاحبان سے رخصت لے کر واپس لوٹ گیا۔ میں راستے بھر اس گفتگو کے بارے میں سوچتا رہا؛ میں نے ان معصوم لوگوں کا کرب محسوس کیا۔  میں نے ہزارہ پہ بنی ایک فلم دیکھی تھی جس میں ایک نوجوان نے پریاسیت لہجے میں بتایا تھا کہ اس دنیا میں اس کا سب سے قریبی دوست اس کا بھائی تھا۔ دونوں بھائی ہر وقت ساتھ رہتے تھے۔ پھر ایک دن کسی نے نشانہ بنا کر اس کے بھائی کو قتل کردیا۔ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ بھائی کے مرنے کے بعد اب اس کے لیے زندگی میں کوئی لطف باقی نہ رہا تھا۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ یہ بات بہت دل سے کہہ رہا تھا۔ شاید میری طرح اس نوجوان کی نظروں کے سامنے بھی یہ منظر بار بار دوڑتا ہو کہ کس طرح اس کے بھائی پہ گولی چلاتے ہوئے قاتل نے کافر، کافر، شیعہ کافر کا نعرہ لگایا ہوگا اور جب زخمی نوجوان کے سر سے خون کا فوارہ ابلا ہوگا تو موٹر سائیکل آگے بڑھانے سے پہلے قاتل نے چلا کر نعرہ تکبیر، اللہ اکبر کہا ہوگا۔


Labels: , , , , , ,


Thursday, April 14, 2016

 

نیلی پہاڑیاں





ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چھتر

اپریل دس، دو ہزار سولہ

نیلی پہاڑیاں


 
اب آسٹریلیا کا سفر اپنے آخری مراحل میں تھا۔ نیوزی لینڈ روانگی سے پہلے واپس سڈنی پہنچنا تھا مگر وہاں کرائے کی گاڑی واپس کرنے میں ابھی چند دن باقی تھے۔ جب ہم مہینہ بھر پہلے آسٹریلیا پہنچے تھے تو سڈنی شہر کے ڈارلنگ ہرسٹ نامی علاقے میں ٹہرے تھے۔ اب کرائے کی گاڑی کے ساتھ اس گہما گہمی والے علاقے میں ٹہرنا مشکل تھا۔ 
وہ ایک سبق جو سیانوں نے بہت پہلے ہمیں سکھایا تھا، ہمیں یاد رہتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ راحت سے جیت تک کا راستہ تو سب کو سمجھ میں آتا ہے، کسی مشکل کو پلٹ کر اس سے فائدہ حاصل کرلینا اصل کمال ہے۔ ہم نے بھی پارکنگ کی اس مشکل سے اپنے لیے فائدہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچا۔ اگر ہم شہر سے دور، بلو مائونٹینس نامی سیاحتی مقام کے راستے میں کہیں ٹہریں تو ہوٹل کا کرایہ کم ہوگا، پارکنگ کا مسئلہ نہ ہوگا، اور بلو مائونٹینس جانے کی سہولت بھی ہوجائے گی۔ ہم نے انٹرنیٹ پہ ایسی ہی ایک جگہ تلاش کرلی۔ ہم ایمو پلینس نام کے اس ذیلی قصبے میں ہالی ڈے پارک نامی ریزارٹ میں ٹہرے۔ چھوٹے چھوٹے گھروں پہ مشتمل اس پارک میں کچھ لوگ ہمارے جیسے سیاح تھے، جب کہ بہت سے لوگ یہاں کے طویل عرصے کے باسی نظر آتے تھے۔ ہمیں صبح گھروں سے بچے اسکول جاتے بھی نظر آئے۔
آج کے زمانے میں پانی اور بجلی کے ساتھ انٹرنیٹ کا کنکشن جدید زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں جو کیبن کرائے پہ ملا تھا اس میں انٹرنیٹ کا رابطہ نہیں ہوپارہا تھا۔ ہم ہالی ڈے پارک کے استقبالیے پہ پہنچے اور اپنی مشکل بیان کی۔ وہاں موجود جو این نامی فربہ عورت نے بہت غور سے ہماری بات سنی۔ مگر ساتھ ہی اس نے لجلجائے لہجے میں ہم سے معذرت کرلی۔
’’مجھے معلوم ہے کہ انٹرنیٹ کا نہ ہونا کتنا بڑا مسئلہ ہے مگر میں تمھاری کوئی مدد نہیں کرسکتی کیونکہ یہاں انٹرنیٹ کی سہولت ٹامی زون والے فراہم کرتے ہیں۔ میں زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتی ہوں کہ ان کو فون کردوں اور کہہ دوں کہ وہ آکردیکھیں کہ تمھارے کیبن میں انٹرنیٹ کا کیا مسئلہ ہے۔‘‘
ہمارے تین دن قیام کے دوران ٹامی زون کو کئی بار فون کیا گیا مگر ٹامی زون کے کرتا دھرتا ذرا ٹس سے مس نہ ہوئے۔
بھلا ہو مغربی ممالک کا جن کے انتظامات راست سوچ رکھنے والے اچھے لوگ چلاتے ہیں۔ ان معاشروں میں قدم قدم پہ چنگھاڑتی، شورمچاتی مساجد تو نہیں ہیں مگر پرامن،علم دوست، اور غریب پرور لائبریریاں جگہ جگہ موجود ہیں۔ ہم نے جی پی ایس کی مدد سے قریبی لائبریری کو ڈھونڈ نکالا۔ اس لائبریری میں بیٹھ کر ہم مفت انٹرنیٹ استعمال کرسکتے تھے۔ اسکول کی چھٹی ہونے پہ وہ کتب خانہ کم عمر لڑکے لڑکیوں سے بھر جاتا تھا۔ وہ بچے ایک دوسرے کو چپ کرانے اور لائبریری کے دوسرے صارفین کا خیال رکھنے کی تلقین کرنے میں ہی کافی شور مچاتے تھے مگر یہ شور ہمارے کام میں ذرا حائل نہ ہوتا تھا۔ اسی لائبریری میں بیٹھ کر ہم سفر کے اگلے کئی دنوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔
جب سڈنی آنے والے سیاح مرکز شہر کے سیاحتی مقامات کو نمٹا لیتے ہیں تو بلو مائونٹینس کا رخ کرتے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کی شروعات سڈنی مرکز شہر سے قریبا سو کلومیٹر کے فاصلے پہ ہوتی ہے۔ جب ہم ایمو پلینس سے بلو مائونٹینس کی طرف چلے تو ہم نے اپنے جی پی ایس پہ بلو مائونٹینس نیشنل پارک کا پتہ ڈالا تھا۔ اچھا ہوا کہ ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ جن تفریحی مقامات پہ ہم جانا چاہتے تھے وہ کاٹومبا نامی قصبے کے ساتھ ہی تھے چنانچہ جب ہائی وے پہ کاٹومبا کا نشان نظر آیا تو ہم نے جی پی ایس کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے گاڑی وہاں موڑ لی۔ اس طرح جب ہم ایکو پوائنٹ نامی جگہ پہنچے تو سیاحتی معلومات کے دفتر سے بات کر کے یہ واضح ہوگیا ہم بالکل صحیح جگہ پہنچ گئے تھے۔ 
مگر موسم سرما کا وہ دن اپنے اندر شدت رکھتا تھا۔ جولائی کے اس روز ایکو پوائنٹ پہ بلا کی سردی تھی۔ وقفے وقفے سے بارش ہورہی تھی۔ سرد ہوا کپڑوں کو کاٹتی ہوئی ہڈیوں تک پہنچتی تھی۔ ہم سیاحتی دفتر سے معلومات حاصل کر کے فورا گاڑی میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر پارک میں گاڑی ادھر سے ادھر دوڑائی اور پھرآبشار کاٹومبا کے قریب گاڑی کھڑی کر کے آبشار کی طرف چلے۔ مگر آبشار تک پہنچ کر سخت مایوس ہوئے۔ سیاحتی مواد میں موجود آبشار کاٹومبا کی تصاویر یقینا موسم گرما میں لی گئیں تھیں جب آبشار پورے پانی کے ساتھ چل رہی تھی۔ سردیوں میں معاملہ کچھ اور تھا۔ آبشار کے چوڑے پردے پہ موجود پتلی دھار کو تلاش کرنے میں ہمیں یقینا کچھ وقت لگا۔
ہم ایک دفعہ پھر ایکو پوائنٹ پہنچے۔ اب کی بار سردی سے لڑنے کا بھرپور ارادہ تھا۔ ایکو پوائنٹ پہ سیاحوں کی شکلیں دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ اس تفریحی مقام پہ اگر معلوماتی سائن چینی زبان میں ہوتے تو ہمارے جیسے گنتی کے اکا دکا سیاحوں کو ہی مشکل ہوتی؛ اکثریت شےشے کہہ کر تالیاں بجاتی۔
ہم پیدل چلتے ہوئے تین بہنیں نامی مقام تک گئے۔ تین بہنیں دراصل تین اونچی چٹانیں ہیں جن کے اطراف کے پتھر صدیوں کے آبی کٹائو سے ختم ہوچکے ہیں۔ ہم جس پہاڑی راستے پہ چل رہے تھے وہ ایک پتلے پل سے گزرتا پہلی چٹان تک جاتا تھا۔ اس پل کو ہنی مون پل کہتے ہیں۔ آپ اس پل سے نیچے دیکھیں تو سینکڑوں فٹ گہری کھائی دیکھ کر جھرجھری آتی ہے۔ 

 ہم پل پہ چلتے ہوئے پہلی بہن تک پہنچ گئے اور وہاں بیٹھ کر اپنے پیچھے آنے والے سیاحوں کو دیکھنے لگے۔ ہوا کا ایک زوردار جھونکا آیا اور پیچھے آنے والی چینی خواتین میں سے ایک کی ٹوپی اڑتے اڑتے بچی۔ وہ سر پہ ٹوپی تھام کر زور سے چیخی۔ پھر سب اس کی اس ڈرامائی چیخ پہ دیر تک ہنستے رہے۔



Labels: , ,


Thursday, April 07, 2016

 

پورٹ اسٹیفنس میں دو ولندیزی لڑکیاں





ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو پچھتر

اپریل تین، دو ہزار سولہ

پورٹ اسٹیفنس میں دو ولندیزی لڑکیاں


دنیا سے گزر جانے والے لوگوں سے طرح طرح کے فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر وہ آنجہانی پسندیدہ تھے تو ان کےنام پہ سڑکوں کے نام رکھے جاسکتے ہیں اور قصبے ان کے نام سے منسوب کیے جاسکتے ہیں۔ آسٹریلیا کی تاریخ میں اسٹیفنس اور نیلسن صاحبان بھی ایسے ہی پسندیدہ لوگ تھے جن کے نام پہ پورٹ اسٹیفنس اور نیلسن بے آباد ہیں۔ نیلسن بے میں ہمارا قیام ایڈمرل نیلسن موٹر ان میں تھا۔ یہ ہوٹل مرکز شہر سے کچھ فاصلے پہ تھا۔ ہمیں ہوٹل سے پیدل چل کر مرکز شہر جانا اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہم نیلسن بے کے چھوٹے سےمرکز شہر میں ٹہل رہے تھے کہ غیرمانوس انگریزی لہجے میں کسی نے ایکسکیوز می کہا۔ ہم نے پلٹ کر دیکھا تو دو جواں سال لڑکیوں کو وہاں موجود پایا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی بلو مائونٹین سے نیلسن بے پہنچی تھیں۔ نیلسن بے میں ان کے پاس ایک ہوٹل کی ریزرویشن تھی مگر انہیں اپنے پاس موجود نقشے میں اس ہوٹل کا سراغ نہیں مل رہا تھا۔ ہم نے ان کی بات غور سے سنی مگر پھر ان کی مدد سے معذرت کر لی کہ ہم نیلسن بے میں خود نووارد تھے۔ کچھ آگے گئے تو خیال آیا کہ جس ہوٹل کا نام یہ دو لڑکیاں بتارہی تھیں وہ نام ہم نے اپنے ہوٹل کے قریب کہیں لکھا دیکھا تھا۔ مرکز شہر میں ایک چکر لگا کر واپس پلٹے تو وہ دونوں لڑکیاں ابھی تک وہاں حیران پریشان کھڑی تھیں۔ ہم نے ان سے بات کی اور کہا کہ ہمیں سو فی صد یقین تو نہیں ہے مگر ہمیں خیال ہے کہ وہ جس ہوٹل کا نام بتا رہی ہیں اسے ہم نے دیکھا ہے اور غالبا وہ ہمارے ہوٹل کے قریب ہے۔ اگر وہ ہمارے اس کچے پکے خیال پہ اعتماد کریں تو ہم ان کی راہ نمائی کرسکتے ہیں۔ اس بات پہ وہ ہمارے ساتھ چل پڑیں۔ وہ دونوں لڑکیاں ولندیزی تھیں۔ آسٹریلیا آنے سے پہلے ان کا سفر کا واحد تجربہ یہ تھا کہ وہ اسکول کے ایک گروپ کے ساتھ ہسپانیہ گئیں تھیں۔ انہوں نے حال میں بارہ جماعتیں پاس کی تھیں اور اب وہ اپنے آپ کو زیادہ دور کے سفر کے لیے تیار سمجھتی تھیں۔
ہم مرکز شہر سے باہر آئے تو سڑک کے ساتھ لگے بجلی کے کھمبوں کے درمیان فاصلہ بڑھنے کے ساتھ اندھیرا بڑھ گیا۔ ان لڑکیوں کے پاس ایک سیاحتی کتاب تھی۔ وہ مستقل اس سیاحتی کتاب میں موجود نقشے کا مقابلہ سڑک پہ لگے سائن کے ساتھ کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک نے اپنے سیل فون کی روشنی تیز کردی۔ وہ دونوں آپس میں ولندیزی میں باتیں کرتے ہوئے سیل فون کی روشنی میں نقشہ دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھیں۔ ہمارا خیال تھا کہ مرکز شہر سے نکل کر بڑی سڑک پہ اگر دائیں طرف جائیں تو ایک وسیع رقبے پہ پھیلی سرکاری عمارت کے سامنے سے جانے والی سڑک پہ وہ ہوٹل آجائے گا جہاں ان لڑکیوں کی ریزرویشن تھی۔ ہم سب بڑی سڑک پہ بہت دور تک چلتے رہے مگر ہمیں وہ سرکاری عمارت نظر نہ آئی جس کے سامنے سے بائیں طرف مڑ کر مذکورہ ہوٹل تک پہنچنا تھا۔ ہم نے ہار مان لی اور ان سے معافی چاہی کہ ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا تھا۔ ہم سب واپس مرکز شہر کی سمت پلٹ گئے۔ کچھ ہی آگے ایک ہوٹل نظر آیا۔ یہ دونوں لڑکیاں اس وقت تک تھک چکی تھیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ریزرویشن والے ہوٹل کو بھلا کر سامنے نظر آنے والے ہوٹل میں کمرہ تلاش کریں گی۔ انہیں کمرہ حاصل کرنے کی جلدی تھی کیونکہ ان کے والدین اولاند میں ان کے فون کا انتظار کررہے تھے۔
ان کو رخصت کرنے کے بعد ہم ان کم سن مگر دبنگ لڑکیوں کے سفر کے تجربے کے متعلق سوچتے رہے کہ یہ لڑکیاں صرف مغربی ممالک ہی میں اس طرح آزادی سے دو کی زنانہ ٹولی میں سفر کرسکتی ہیں۔ کسی ترقی پذیر ملک میں سفر کے دوران ان کی جان و عصمت کی حفاظت کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔
اگر کسی ایسے عورت دشمن ترقی پذیر ملک کے لوگوں کو کہا جائے کہ وہ تہذیب یافتہ نہیں ہیں تو وہ اس بات کا بہت برا مناتے ہیں۔ مگر آخر انہیں بدتہذیب کیوں نہ کہا جائے؟ جو معاشرے قانون کی حکمرانی قائم نہ کرسکیں وہ یقینا غیرتہذیب یافتہ ہیں۔ جن معاشروں میں عورت کو مرد کے برابر انسان نہ سمجھا جائے وہ یقینا غیرتہذیب یافتہ ہیں۔ جس سماج میں عورت مستقل خوفزدہ رہے وہ یقینا غیرتہذیب یافتہ ہے۔ یہ سچ بات کہنا ضروری ہے کیونکہ اس سچے اعتراف کے بعد ہی تو ہم سدھار کی راہ پہ چل سکتے ہیں۔




Labels: , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?