Thursday, March 10, 2016

 

گونڈروونڈی سے برسبین











ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اکہتر

مارچ چھ، دو ہزار سولہ

گونڈروونڈی سے برسبین


ایسا ممکن تھا کہ ہم برسبین میں جہاں ٹہرے تھے وہاں سے پیدل چلتے چلتے برسبین مرکز شہر پہنچ جائیں مگر ہم نے کبھی ایسا کیا نہیں۔ برسبین مرکز شہر میں کئی جگہ گاڑی ارزاں نرخ پہ کھڑی کی جاسکتی تھی اور اس نئے دور میں ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر پارکنگ کی جگہ قبل از وقت خریدی جاسکتی تھی اس لیے ہم ہر دفعہ گاڑی ہی سے مرکز شہر پہنچے اور گاڑی ایک جگہ کھڑی کر کے مرکز شہر کی آوارہ گردی کرتے رہے۔ میلبورن کی طرح برسبین کا مرکز شہر بھی ایک دریا کے دونوں کناروں پہ دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دریا کا نام کیا ہے؟ جی ہاں، دریائے برسبین۔ اگر زمین اس ان سلے کپڑے کی طرح ہے جسے آپ اپنی مرضی سے تراش خراش کر اپنی پسند کے حساب سے کوئی پہناوا بنا سکتے ہیں، تو یوں سمجھیے کہ برسبین ایک بہت عمدہ تراش خراش کا نفیس لباس ہے۔ دریا کے دونوں پشتوں پہ چوڑی چوبی گزرگاہیں ہیں جن پہ کوئی بھاگ رہا ہوتا ہے، کوئی اسکیٹنگ کررہا ہوتا ہے، اور کوئی یوں ہی چھوٹے قدموں سے چلتا دریا اور شہر کے نظارے آنکھوں میں سمو رہا ہوتا ہے۔ اور اس گزرگاہ سے آگے اونچی اونچی عمارتیں ہیں جن میں کام کرنے والے جب اپنی میکانیکی زندگیوں سے تھک جاتے ہوں گے تو ایک نظر دریا کی طرف ضرور کرتے ہوں گے۔
انگریزوں کے کئی بہت عمدہ شوق ہیں۔ ان شوقوں میں سے ایک کسی بھی نئی جگہ پہ نباتاتی باغ، بوٹینکل گارڈن، لگانے کا کام ہے۔ جس طرح چڑیا گھر میں ہر طرح کے جانور جمع کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ یہ زمین انسان کے ساتھ کس کس کے سانجھے میں ہے، اسی طرح نباتاتی باغ میں بھانت بھانت کے پودے اور درخت جمع کرکے لگائے جاتے ہیں کہ انسان دیکھ لے کہ زندگی کے کیسے کیسے عمدہ نمونے ممکن ہیں۔ برسبین کا نباتاتی باغ بہت بڑے رقبے پہ پھیلا ہوا ہے۔
میں برسبین کے نباتاتی باغ میں پہنچ کر اس کے سحر میں گرفتار ہوگیا۔ وہاں نباتیات کی ساری کتابیں میرے سامنے کھلی رکھی تھیں اور میں جلدی جلدی ان کی ورق گردانی کر کے ان سے سیکھنا چاہتا تھا۔ میں سب سے پہلے باغ کے اس حصے کی طرف گیا جہاں براعظم آسٹریلیا کے مقامی پودے اور درخت تھے۔ میں درختوں کے ساتھ لگی ان کے نام کی تختیاں پڑھ رہا تھا اور ان سے اس پہلی باضابطہ ملاقات میں ان کے نام یاد رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ جہاں پودے ہوں، اور پانی ہو وہاں پرندے خود بخود آجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس باغ میں بہت سے پرندے بھی تھے۔ میں پرندوں اور درختوں کی اس صحبت کے مزے اٹھاتا آگے سے آگے بڑھ رہا تھا کہ میرے قریب ایک گولف کارٹ آکر رکی۔ اس گاڑی سے باغ کا ایک کارندہ اترا۔
’’کیا وہ سرمئی رنگ کی گاڑی تمھاری ہے جو اس جگہ کے قریب ترین پارکنگ لاٹ میں کھڑی ہے۔‘‘ افسر نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا۔
’’باغ بند ہونے میں صرف تین منٹ رہ گئے ہیں۔ تم فورا اپنی گاڑی باغ سے نکال لو ورنہ تین منٹ کے بعد باغ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔‘‘
یہ پیغام دے کر افسر اپنی چھوٹی سی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔ یہاں بھگدڑ مچ گئی۔ بھاگم بھاگ گاڑی تک پہنچا اور اسے چلاتا ہوا ٹھیک وقت پہ باغ کے صدر دروازے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ نباتاتی باغ بند ہوچکا تھا مگر میرا من اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا۔ میں نے گاڑی صدر دروازے سے باہر کھڑی کردی۔ باغ کی اصل حدود سے باہر بھی ایک باغ تھا جو ان پودوں کے لیے مختص تھا جو ایب اورجنی کے لیے اہم تھے اور جن میں سے کئی پودے اور بوٹے ادویات بنانے کے کام آتے تھے۔ میں اس باغ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک ایک پودے کو بغور دیکھتا رہا حتی کہ اندھیرا اتنا بڑھ گیا کہ پودوں کے ساتھ لگی تختیوں کو پڑھنا مشکل ہوگیا۔
میں برسبین کے نباتاتی باغ سے واپس آتے ہوئے آسٹریلیا میں آنے والے یورپی نسل لوگوں کے ایب اورجنی سے امتیازی سلوک کے بارے میں سوچتا رہا۔ نوواردوں کو بہت بعد میں یہ خیال آیا کہ تحریری زبان نہ ہونے کے باوجود، کاشت کاری نہ جاننے کے باوجود، دھات کاری نہ جاننے کے باوجود، ایب اورجنی کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا علم تھا جو نوواردوں کے پاس نہیں تھا اور اس ایک علم میں ایب اورجنی کے پاس نوواردوں کو سکھانے کے لیے کچھ تھا۔ اسی باغ میں گھومتے پھرتے مجھے معلوم ہوا تھا کہ ایب اورجنی موسم پہ گہری نظر رکھتے تھے۔ اگر دور کہیں بادل نظر آئیں اور اندازہ ہو کہ دور نظر آنے والی اس جگہ بارش ہوئی ہوگی تو ایب اورجنی اس طرف چل دیتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ جہاں بارش ہوگی وہاں نئے پودے بھی اگیں گے اور پھر وہ اپنی پسند کے پودے چن کر انہیں کھا سکیں گے۔ اسی طرح مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بھی ایب اورجنی پودے استعمال کرتے تھے۔ ایب اورجنی کو حقیر سمجھ کر دھتکارنے کے بہت دہائیوں بعد یہ بات یورپی نوواردوں کو سمجھ آرہی ہے کہ وہ ایب اورجنی سے علم سیکھ کر ان ہی پودوں کو جدید ادویا کی تیاری میں استعمال کرسکتے ہیں۔
باغ سے واپس آکر رات کے کھانے کا انتظام کرنا چاہا تو رنگلا پنجاب ریستوراں کے سائن پہ نظر پڑی۔ ہم فورا وہاں پہنچ گئے۔ ان کے پاس بکرے کا سالن اچھا معلوم دیا اس لیے وہاں سے یہ کھانا بندھوا لیا۔ دیسی کیشیر خاتون آسٹریلوی لہجے میں رواں انگریزی بولتی تھیں مگر ہم نے ان سے ہندی میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ریستوراں سات سال پہلے کھلا تھا۔ پھر انہوں نے ہم سے پوچھا کہ ہمارا تعلق کہاں سے تھا۔ ہم نے کراچی بتایا اور پھر ان سے وہی سوال کیا۔ خاتون نے کچھ جھجھکتے ہوئے امرت سر جواب دیا۔ ہم نے ادھر ادھر سے کھانے پینے کی دوسری چیزیں جمع کیں اور ہوٹل پہنچ کر وہاں کھانے کے کمرے میں خوردونوش کا سارا سامان کھول لیا۔ بکرے کا سالن کھایا تو دل خوش ہوگیا۔ ایک دفعہ پھر امرت سر نے ہمارا دل جیت لیا تھا۔ یاد آیا کہ چند سال پہلے لاہور سے چلے بھوکے پیاسے امرت سر پہنچے تھے تو ایک چھوٹی سی دکان سے روٹی اور ترکاری لے کر کھائی تھی اور دونوں چیزوں میں اس قدر مزا تھا کہ امرت سر کے لیے دل سے دعا نکلی تھی۔


Labels: , , , , , , , , , ,


Tuesday, April 21, 2015

 

مسعود حامد، ایلس البینیا، اور ام جہل


اپریل انیس،  دو ہزار پندرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو سینتیس


مسعود حامد، ایلس البینیا، اور ام جہل

کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف رینجرز کے آپریشن کے بعد کراچی میں ٹارگٹ قتل کے واقعات میں کمی آگئی تھی اور کہا جارہا تھا کہ کراچی سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ہے مگر پچھلے ہفتے پے در پے تشدد کے تین واقعات نے شہر والوں کو پریشان کردیا ہے۔ جمعرات کے روز پریڈی تھانے کے ایس ایچ او اعجاز خواجہ پہ قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد اعجاز خواجہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ اسی روز یعنی جمعرات کے روز ایک مقامی کالج کی امریکی پرنسپل ڈیبرا لوبو پہ قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ڈیبرا لوبو زخمی ہونے کے باوجود معجزانہ طور پہ حملے میں بچ گئیں۔ پھر جمعے کی رات ڈیفینس کے علاقے میں ایک گاڑی سے مسعود حامد صاحب کی لاش ملی۔ مسعود حامد پاکستان ہیرلڈ پبلیکیشنز نامی اشاعتی ادارے کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر تھے۔ یہ اشاعتی ادارہ ڈان گروپ کا حصہ ہے جو کئی اخبارات اور جرائد کے علاوہ سٹی ایف ایم ۸۹ ریڈیو اور ڈان ٹی وی کا مالک ہے۔ دو دنوں میں ہونے والے تشدد کے ان تینوں واقعات میں سب سے منفرد مسعود حامد کے قتل کا واقعہ ہے۔ پولیس افسر اعجاز خواجہ شیعہ تھے اور قیاس ہے کہ ان کو ان کے مسلک کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ پھر جن مسلح افراد نے ڈیبرا لوبو کی کار پہ فائرنگ کی وہ ایک رقعہ چھوڑ کر گئے جس میں اسلامی ریاست یعنی آئی ایس کی طرف سے حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ ڈیبرا لوبو کو امریکی ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مگر مسعود حامد کو کیوں قتل کیا گیا؟ واضح رہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق مسعود حامد کے سر میں صرف ایک گولی کا نشان ہے؛ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ قاتل جائے واردات پہ اپنی گن چھوڑ گئے۔ مسعود حامد نہ تو شیعہ تھے اور نہ ہی قادیانی، تو پھر ان پہ حملہ کیوں کیا گیا؟ کیا مسعود حامد کو ان کے ادارتی تعلق کی وجہ سے قتل کیا گیا؟ شاید نہیں کیونکہ مسعود حامد نہ تو خبروں سے وابستہ تھے اور نہ ہی ابلاغ کے معاملے میں ادارے کی پالیسی بناتے تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ محض ایک لوٹ مار کی واردات تھی جو مسعود حامد کی مزاحمت کی وجہ سے بگڑ گئی؟ شاید نہیں کیونکہ مسعود حامد ایک پڑھے لکھے شخص تھے اور ہر سمجھدار شخص جانتا ہے کہ جب کسی نے آپ کے سر پہ گن رکھی ہو تو آپ ایک نازک اور کمزور پوزیشن میں ہوتے ہیں اور اس کمزوری میں مزاحمت کرنا آپ کے لیے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ کیا وہ کوئی پیسوں کےلین دین کا معاملہ تھا یا کوئی اور ذاتی پرخاش، جس کی وجہ سے مسعود حامد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟ ہم یہ بات نہیں جانتے مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ پے درپے تشدد کے ان تین واقعات نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی بدامنی کو کسی ایک سیاسی جماعت کے کھاتے میں ڈالنا عقل مندی نہیں ہے۔ کراچی میں ہر نوع کے دہشت گرد موجود ہیں اور ان سب کے خلاف مساوی کاروائی کی ضرورت ہے۔
میں مستقل ویڈیو بناتا ہوں اور اکثر کام کی ویڈیو بنانے کے بعد ان کے بارے میں مکمل طور سے بھول جاتا ہوں۔ حال میں اپنے ویڈیو ذخیرے میں مجھے ایسی ہی کام کی ایک ویڈیو ملی۔ یہ ویڈیو سنہ ۲۰۱۰ میں اس وقت بنائی گئی تھی جب "سندھ کی سلطنتیں" [ایمپائرز آف دا انڈس] کی مصنفہ انگریز لکھاری ایلس البینیا کے اعزاز میں سان ہوزے میں ایک تقریب ہوئی۔ اس مضمون کے ساتھ موجود ویڈیو اس وقت ریکارڈ کی گئی تھی۔ موجودہ جنوبی ایشیا کا ہر سیاستداں، ہر حکمراں جو سمجھتا ہے کہ وہ بہت تیس مارخان ہے اس کے لیے البینیا کی اس کتاب کو پڑھنا ٖضروری ہے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ اس زمین پہ اس سے پہلے کتنے بڑے بڑے طرم خان آئے اور گزر گئے، اور آج ہم ان میں مشکل سے چند ہی کو جانتے ہیں۔
ایک طرف بل گیٹس کی پولیو کے خلاف جنگ جاری ہے اور دوسری طرف پاکستان میں پولیو ویکسین کے خلاف مذہبی انتہا پسندوں کی جنگ بھی زور پکڑ گئی ہے۔ ان انتہا پسندوں کی پوری کوشش ہے کہ پولیو سرزمین پاکستان میں قلعہ بند ہوکر محفوظ رہے اور بل گیٹس اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں۔ پولیو ویکسین کے خلاف جدید ترین ہتھیار ایک ویڈیو کی صورت میں سامنے آیا ہے جس میں ایک برقعہ پوش خاتون نے بہت "تحقیق " سے ثابت کیا ہے کہ پولیو ویکسین دراصل دماغی سرطان کا سبب بنتی ہے اور اس ویکسین کی وجہ سے مسلمانوں کے گھر بچے ہونا بند ہوجائیں گے۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ان برقعہ پوش قابل خاتون کا نام ام محمد ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہنا ضروری ہے کہ کفار مغرب نے ویڈیو اسی لیے ایجاد کی تھی کہ ویڈیو میں تصویر نظر آئے۔ ایک ایسی ویڈیو جس میں ایک برقعہ پوش خاتون کیمرے کے سامنے کھڑی ہوں، اور ہمیں صرف ان کی آواز سنائی دے دراصل ویڈیو کے تصرف سے بغاوت ہے؛ اس کام کے لیے کفار مغرب کی دوسری ایجاد یعنی ریڈیو کو باآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ویڈیو بنانے والوں سے اور بالخصوص ام محمد سے ایک دوسری بات کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ برائے مہربانی اپنا تحقیقی مقالہ کفار مغرب کی تیسری بڑی ایجاد یعنی پرنٹ کی صورت میں پیش کریں۔ تحقیقی مقالہ پرنٹ کی صورت میں پیش کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم آپ کے بتائے گئے ریفرینس کو چیک کرسکیں۔ واضح رہے کہ میں ویڈیو دیکھتا ہوا نوٹس لیتا رہا۔ ام محمد بتا رہی تھیں کہ پولیو ویکسین سے فلاں وقت فلاں جگہ اتنے بچے ہلاک ہوئے اور فلاں جگہ اس طرح سرطان پھیلا؛ پھر جب میں نے انٹرنیٹ پہ ام محمد کے ان دعووں کی تصدیق چاہی تو مجھے کچھ نہ ملا۔ اگر ام محمد نے اپنا مقالہ لکھت میں پیش کیا ہوتا تو اس بات کا امکان نہ رہتا کہ نوٹس لیتے وقت میں نے کوئی غلطی کی ہے اور ام محمد کا بیان بالکل درست ہے۔
ساری باتوں کی ایک بات یہ کہ ام محمد سے درخواست ہے کہ وہ اپنے نام میں ہمارے نبی کا نام لگا کر ایک مقدس ہستی کی تذلیل کی کوشش نہ کریں۔ جس طرح نبی کے زمانے میں ایک شخص اپنی خرافات کی وجہ سے ابو جہل مشہور تھا اسی طرح آپ کی فضول باتوں کی وجہ سے آپ پہ ام جہل کی کنیت زیادہ سجتی ہے۔



Labels: , , , , , , ,


Tuesday, December 03, 2013

 

مصیبت کو نعمت بنانے کا فن



دسمبر ایک،  دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم 
کالم شمار ایک سو چھیاسٹھ

مصیبت کو نعمت بنانے کا فن

زندگی غیریقینی سے بھری ہے۔ یہ پل بھر میں آپ کو ایک جگہ سے دوسری یکسر مختلف جگہ پہنچا دیتی ہے۔ انسان سکون سے ہوتا ہے کہ اچانک زندگی پینترا بدلتی ہے اور انسان مشکل میں گھر جاتا ہے۔ میں بھی زندگی کے مختلف داءو پیچ سے نبردآزما رہتا ہوں۔ مگر اچھا ہوا کہ بہت سے لوگوں کی زندگی کا مشاہدہ کرنے کے بعد، کءی داناءوں کی نصیحتیں سننے کے بعد، اور زندگی سے اتنی دیر تک جوجنے کے بعد مجھے ایک سبق بہت اچھی طرح سمجھ میں آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب کبھی مصیبت آءے تو یہ غور کرو کہ اس مصیبت کو پلٹ کر اپنے لیے نعمت کیسے بنا سکتے ہو۔ راحت کی گھڑی کی نعمت کو سمجھنا تو سب کے لیے آسان ہے؛ اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اپنے فاءدے کے لیے استعمال کرنا اصل کمال ہے۔ اورجس نے ایسا کرلیا وہ جیت گیا۔ پچھلے بدھ کو میرے ساتھ ایسا ہی واقعہ ہوا۔ میں نے سارا دن مرینا نامی قصبے میں ایک دفتری مصروفیت میں لگایا تھا۔ اب شام ہوچلی تھی اور ہوا میں خنکی بڑھ رہی تھی۔مصروفیت ختم ہونے کے بعد میں گاڑی میں آکر بیٹھا اور چابی اگنیشن میں لگا کر گھماءی تو محض ایک ٹک کی آواز آءی اور انجن بالکل بے جان رہا۔ گاڑی کی بیٹری بیٹھ گءی تھی۔ میں نے فورا گاڑی کی بتی کے سوءچ کو دیکھا۔ گاڑی کی بتی جل رہی تھی۔  واضح تھا کہ جب میں اپنی کاروباری مصروفیت سے گیا تو گاڑی کی بتی کھلی چھوڑ گیا تھا۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ مجھے آخر دن میں گاڑی کے لمپ جلانے کی ضرورت کیوں پیش آءی۔ ہوا یوں کہ میں سلیناز نامی شہر سے مرینا آیا تھا۔ اس راستے میں ایک جگہ سڑک دورویہ ٹریفک کی وجہ سے خطرناک ہے۔ وہاں روڈ کے ساتھ تاکیدی ساءن لگا ہے کہ گاڑی کی بتی کھول لی جاءے۔ میں نے ایسا ہی کیا مگر مرینا پہنچ کر بتی کو بند کرنا بھول گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ پانچ گھنٹے بعد گاڑی کی بیٹری بیٹھ چکی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ جن لوگوں سے مل کر نکلا تھا ان کے پاس واپس جاءوں اور تلاش کروں کہ ان میں سے کسی سے جمپر کیبل مل جاءے۔ مگر پھر میں نے ایسا کرنا مناسب خیال نہ کیا کہ ان لوگوں سے کاروباری رشتہ تھا اور اس رشتے میں یوں سوالی بننا اچھا نہ تھا۔ میں نے گاڑی کی انشورینس کمپنی کو فون کردیا۔ انہوں نے ساری تفصیلات لینے کے بعد مجھے بتایا کہ میری مدد کے لیے ایک ٹرک چالیس منٹ میں آءے گا۔ مجھے سلیناز واپس پہنچنے کی جلدی تھی اور یہ لوگ مجھے چالیس منٹ انتظار کرنے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے فون تو رکھ دیا مگر میرے اندر اس ناگہانی مصیبت پہ ایک غصہ امڈنے لگا۔ اچھا ہوا کہ اسی وقت مجھے وہ پرانا سبق یاد آگیا۔ مصیبت کو پلٹ کر اپنے لیے نعمت بنا لو۔ میں نے سوچا کہ میں ان چالیس منٹوں میں کیا تعمیری کام کرسکتا تھا۔ میرا لیپ ٹاپ چارج حالت میں تھا اور میں اس پہ کام کرسکتا تھا۔ جو بہت سے دفتری کام مجھے کرنے تھے ان میں پہلا کام کیمرے سے تصویروں کو کمپیوٹر پہ ڈاءون لینڈ کرنے کا تھا۔ میں نے لیپ ٹاپ نکالا، کیمرے اور لیپ ٹاپ کو یو ایس بی سے جوڑا اور کیمرے سے تصویریں کمپیوٹر میں ڈاءون لوڈ کرنے لگا۔ میں نے ابھی یہ کام شروع ہی کیا تھا کہ فون کی گھنٹی بج گءی۔ دوسری طرف موجود خاتون نے بتایا کہ میری مدد کے لیے آنے والا ٹرک میرے پتے کے بالکل قریب تھا؛ انہیں معلوم کرنا تھا کہ میری گاڑی اندر پارکنگ لاٹ میں کہاں کھڑی ہے۔ میں نے گاڑی کی جگہ انہیں بتانے کے بعد فون بند کردیا۔ کہاں یہ ٹرک چالیس منٹ میں آرہا تھا اور کہاں اب یہ پانچ منٹ میں ہی پہنچا جارہا تھا۔ اب مجھے جلدی ہوءی کہ ٹرک کے آنے سے پہلے کیمرے سے کمپیوٹر میں تصاویر کی منتقلی کا کام مکمل ہوجاءے۔ میں نے کچھ ہی دیر میں ٹرک کو پارکنگ لاٹ کے اندر آتے دیکھا تو گاڑی سے باہر نکل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے ہاتھ ہلا کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ٹرک والے نے میری گاڑی کو جمپ اسٹارٹ دیا اور ذرا سی دیر میں وہاں سے روانہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد جب میں دوبارہ روڈ پہ تھا تو میں ترون تیجپال کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اس وقت تک ترون گرفتار نہیں ہوا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا ترون کو بھی زندگی کا یہ اہم سبق ازبر ہے۔ اور ترون کے لیے ضروری تھا کہ اس نے داناءوں کی یہ نصیحت  گرہ سے باندھ لی ہو کیونکہ ایک ہفتے پہلے ترون تیج پال کی شہرت محض ایک خاص حلقے میں تھی۔ مگر اس پہ لگنے والے حالیہ الزامات کے بعد ترون کا نام بھارت میں ہرعام و خاص کی زبان پہ اور جنوبی ایشیا میں دلچسپی رکھنے والے زیادہ تر لوگوں کی گفتگو میں آگیا تھا۔ ہاں، یہ شدید مصیبت کا وقت ہے ترون پہ، مگر ترون یہ بھی تو دیکھے کہ وہ کس طرح راتوں رات بہت زیادہ  بدنام [مشہور] ہوگیا ہے۔ اگر اس کے ساتھی صحافی، ترون کا تہلکہ میگزین چھوڑ کر جابھی رہے ہیں تو کیا ہوا، ترون کو چاہیے کہ تہلکہ کا اگلا شمارہ ضرور نکالے۔ اور اگلا شمارہ اس شان سے نکالے کے خود پیچھے ہٹ کر کسی دوسرے صحافی کو ترون سے متعلق خبر بیان کرنے دے۔ یہ تو وہ ساری باتیں تھیں جو مرینا سے سلیناز جاتے ہوءے میں سوچ رہا تھا۔ مگر ترون ایسا نہ کرپایا۔ یہ سیلاب ترون کے حوصلے سے کہیں بڑا تھا۔ دوسرے صحافیوں کے علاوہ ترون کی ساتھی ایڈیٹر شمع چوہدری نے بھی تہلکہ سے استعفی دے دیا۔ اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ ترون کی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پہ ترون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ترون اس وقت جیل میں ہے۔ مگر جیل میں ترون کو یہ پیغام ضرور پہنچنا چاہیے کہ اس پہ آنے والا یہ مشکل وقت بھی گزر جاءے گا؛ اب بھی ترون یہی سوچے کہ اس مصیبت کو پلٹ کر اس سے اپنی مستقبل کی راحت کا انتظام کیسے کرے۔

Labels: , , , , , , , ,


Monday, November 01, 2010

 

انسان اور اس کے پیراہن





پچھلی جمعرات کو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ جامعہ سان ہوزے اسٹیٹ میں شام کے وقت کشمیر میں حریت پسندی کی تحریکوں پہ ایک پروگرام تھا۔ مقررہ یاسمین قریشی تھیں جن کا تعلق دہلی سے ہے۔ یاسمین انسانی حقوق کے موضوعات پہ لکھتی رہی ہیں۔ یاسمین قریشی نے پچھلے سال سری نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا تھا اور جمعرات کو ان کی تقریر اسی متعلق تھی کہ وادی کشمیر میں تاریخی طور پہ حریت پسندی کی لہر کن ادوار سے گزری ہے اور آج کل کشمیری کس طرح سوچتے ہیں۔ پروگرام منعقد کرنے والوں کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ انتہا پسند ہندو جماعتوں نے اپنے کارکنوں سے اس پروگرام میں شرکت کرنے کی اپیل کی تھی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک شخص نے یاسمین قریشی کو سخت سست کہا اور کہا کہ مقررہ جیسے ہندوستانی مسلمانوں کی وجہ ہی سے ہندو ہندوستانی مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر دوسرے شرکا نے بھی یاسمین قریشی کی تقریر پہ خوب تنقید کی اور ان پہ الزام لگایا کہ ان کے اعداد و شمار غلط تھے اور انہوں نے اپنی تقریر میں غلط بیانی سے کام لیا۔ اس بارے میں کسی قسم کا شک نہ تھا کہ مقررہ پہ ایسی کڑی مگر بے سروپا تنقید کرنے والے لوگوں کا تعلق کس گروہ سے تھا۔ اس پروگرام میں یہ بات واضح ہوءی کہ ہندوستانی جمہوریت اور ریاست کتنے بڑے مساءل کا شکار ہے۔ کہ مذہب کا دیو جمہوری روایت کا گلا گھونٹنے کے درپے ہے۔ ہندوستانی ہندوءوں کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان کے اصل رکھوالے ہیں۔ یہ لوگ جتنا زیادہ سینہ تان کر اس ملک کے نگہبان بنتے ہیں دوسرے عقاءد سے تعلق رکھنے والے لوگ اس ملک سے اس قدر ہی زیادہ متنفر ہوتے جاتے ہیں۔
ہم ایک عجیب دو ر میں زندہ ہیں کہ جب لوگوں کے مذہبی اختلافات ان کے درمیان تفرقے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گءے ہیں۔ میں اکثر اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ذہنی رجحانات جو انسان کو کسی جانور سے ممیز کرتے ہیں ان میں مذہبی خیالات کا تناسب کیا ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ صرف انسان ہی مذہبی رجحانات کا حامل ہوتا ہے۔ بکریاں، گھوڑے، اور دوسرے جانور کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص انسان ضرور ہوتا ہے مگر ہر انسان ایک مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ لوگ اپنا مذہب بدل بھی لیتے ہیں۔
کچھ عرصے پہلے کی بات ہے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ اس کی نظر میں اس کی دینی اقدار اسی کی انسانی اقدار سے بڑھ کر ہیں۔ وہ شخص کلمہ گو تھا۔ میں نے اس شخص کی بات یوں سمجھی کہ اس کا کہنا تھا کہ وہ پہلے مسلمان ہے اور پھر انسان۔ میں نے بحث کی کہ ایسا کیوں کر ممکن ہے۔ مذہب، زبان، طور طریقے، تمدن، اخلاقی اقدار تو محض ایک نسل گہری ہوتی ہیں۔ ایک بچے کو اس کے ماں باپ سے جدا کر کے ایک دوسرے ماحول میں لے جاءیے تو وہ اپنے پرانے ماحول اور معاشرے سے قطعی بے گانہ ہو کر اپنے نءے ماحول اور معاشرے کے حساب سے ڈھل جاءے گا۔ وہ اپنے نءے اطراف کی اقدار اپنا لے گا۔ جو مذہب اسے اپنے نءے ماحول میں ملے گا اسے وہ اختیار کر لے گا۔
ایک چالیس سالہ چینی کو امریکہ میں لا کر بسا دیجیے وہ ہمیشہ ایک مخصوص لہجے ہی سے انگریزی بولے گا جس کو سمجھنا دوسرے امریکیوں کے لیے آسان نہ ہوگا مگر چین میں پیدا ہونے والے ایک ششماہے کو امریکی ماحول میں لا کر اس کی یہاں پرورش کیجیے وہ بالکل راءج انداز سے انگریزی بولے گا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے ایک بچے کو عیساءیوں کے گھر بڑا ہونے دیجیے وہ بالکل عیساءی اقدار اپنا لے گا۔
چنانچہ یہ بات ہم سب پہ واضح ہونی چاہیے کہ ہماری انسانی اقدار ہماری مذہبی اور معاشرتی اقدار سے زیادہ گہری ہیں۔ اور یہی انسانی اقدار ہمارے دوسرے سطحءی اختلاف کے باوجود ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی سکت رکھتی ہیں۔
اندر سے انسان تو انسان ہے۔ اس کی ضروریات باقی انسانوں جیسی ہی ہیں۔ اسے بھوک لگتی ہے، پیاس لگتی ہے۔ وہ سردی گرمی سے بچنے کے لیے تن ڈھانپنا چاہتا ہے۔ وہ سکون سے رہنا چاہتا ہے، اپنے آس پاس کے لوگوں سے پیار کرتا ہے، اور اپنی نسل آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ ہیں وہ بنیادی انسانی اقدار جو ہمارے درمیان مشترک ہیں۔ ہمارے وجود کے ان گہرے اور پاءدار حقاءق کے اوپر مذہب، لسان، اور تمدن کا ملمع تو بہت ہلکا ہے۔ پھر اس قلعی کو زندگی اور موت کا مسءلہ بنا لینا کہاں کی عقل مندی ہے؟

Labels: , , , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?