Tuesday, March 03, 2015

 

اسرار حسن








مارچ ایک،  دو ہزار پندرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو تیس


اسرار حسن


میرے لیے چچا جان کی وفات کا غم غلط کرنے کا بڑا بہانہ یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے آخری چند دن بہت تکلیف میں گزارے؛ موت نے ان کی تکلیف ختم کردی۔
چچا جان کو ہم بہن بھاءیوں نے اپنے بچپن میں باقاعدگی سے دیکھا اور پھر ان کی شادی بھی ہمارے سامنے ہوءی۔ اس وقت وہ حبیب بینک میں نوکری کرتے تھے اور اپنی ذہانت اور انتھک محنت کی وجہ سے خوب ترقی کررہے تھے۔ شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد جب ان کا تبادلہ سنگاپور ہوا اور انہیں وہاں اکیلے جانا پڑا تو چچی جان ان کی غیرموجودگی میں بہت پریشان ہوءیں۔ سال بھر کے بعد چچا سنگاپور سے واپس پاکستان آگءے اور کچھ عرصہ بعد چچی جان اور اپنی نوزاءدہ لڑکی کے ہمراہ شارجہ روانہ ہوگءے۔ ان کا شارجہ تبادلہ حبیب بینک ہی کی طرف سے ہوا تھا۔ ستر کی دہاءی میں خلیج فارس کے علاقے میں تیل کی دولت کے سہارے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع ہوءے تھے۔ چچا کی تعنیاتی اس علاقے میں بہت عرصہ رہی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیوں میں پاکستان آتے تو ہمیشہ ہمارے لیے تحفے لے کر آتے۔ انہیں طرح طرح کے چٹ پٹے کھانے کا شوق تھا اور اسی وجہ سے جب وہ پاکستان میں ہوتے تو ہم ان کے ساتھ مختلف ریستوراں میں کھانے کھاتے۔
چچا کا بچپن مالی تنگی میں گزرا اور اسی وجہ سے انہیں پیسے کی طاقت کا اندازہ تھا؛ انہوں نے عمر کا بہت بڑا حصہ اپنے آپ کو مالی طور پہ مضبوط کرنے میں گزارا۔ وہ مستقبل میں آنے والی کسی بھی مالی مصیبت سے نبردآزما ہونے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ ان کے پاس جاءداد تھی اور وہ اسٹاک ایکسچینج میں بھی حصص کی لین دین میں مصروف رہتے تھے۔ میں نے پہلی بار سونے کی اینٹ بھی ان کے پاس ہی دیکھی تھی اور میں ان اینٹوں کا چھوٹا حجم دیکھ کر حیران ہوا تھا۔ دراصل لفظ 'اینٹ' سے مجھے خیال ہوا تھا کہ سونے کی اینٹ بھی سیمنٹ کی اینٹ کی طرح بارہ انچ لمبی ہوتی ہوگی۔
چچا نے جب حبیب بینک چھوڑ کر بی سی سی آءی میں نوکری شروع کی تو ان  کے کاروباری دورے بہت بڑھ گءے۔ آغا حسن عابدی کو یورپ کے مختلف شہروں میں کانفرینس کرنے کا شوق تھا۔ ہر کانفرینس میں مختلف ممالک میں موجود بی سی سی آءی کے افسران شرکت کرتے۔ چچاجان ان کانفرینس میں شرکت کرتے تو ان کا قیام مہنگے ہوٹلوں میں ہوتا۔ چچا کی ان ہوٹلوں میں قیام کی سوغات مجھے ان خوشبودار صابنوں اور شیمپو وغیرہ کی صورت میں ملتی جو ان ہوٹلوں میں ٹہرنے والوں کو ملتے اور چچا غیراستعمال شدہ چیزیں میرے لیے کراچی لے آتے۔
میرے پاءوں میں ایسا چکر ہے کہ اگر آپ میرے سامنے دنیا کے کسی دوردراز ملک کا نام لیں تو میرا دل وہاں جانے کے لیے مچل اٹھتا ہے۔ میرا بس نہیں چلتا کہ میں کس طرح سب کچھ چھوڑ کر وہاں جانے کے لیے روانہ ہوجاءوں۔ جہاں نوردی کا یہ شوق چچا جان کی طرف سے مجھے دو صورتوں میں ملا ہے۔ اول صورت یہ کہ بچپن میں چچا مجھے طرح طرح کے ڈاک کے ٹکٹ لا کر دیتے۔ یہ ٹکٹ ان لفافوں پہ لگے ہوتے جو روزانہ چچا کی کاروباری ڈاک میں انہیں مختلف ممالک سے موصول ہوتے۔ دراصل بینکاری میں چچاجان کا خاص شعبہ زرمبادلہ [فارن کرنسی] تھا۔ انہیں عالمی منڈی میں مختلف کرنسیوں کے اتار چڑھاءو کا اچھی طرح اندازہ ہوتا تھا اور ان کا یہی علم اور تجربہ انہیں اپنے ہم عصر ساتھیوں سے دو ہاتھ آگے رکھتا تھا۔
دنیا دیکھنے کا شوق دوسری طرح مجھے چچا سے براہ راست ملا ہے۔ جب بی سی سی آءی میں ملازمت کے دوران نہ صرف یہ کہ چچا مالی طور پہ بہت مضبوط ہوگءے بلکہ کاروباری سفر کی وجہ سے ان کی بین االقوامی شناساءی بھی بڑھی تو انہوں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ بیرونی ممالک کے دورے شروع کیے۔ طریقہ ء واردات یہ ہوتا کہ وہ چھٹیوں میں بیوی بچوں کے ساتھ کراچی آتے اور پھر وہاں سے بیرون ملک روانہ ہوتے۔ اپنی کمال مہربانی سے وہ مجھے بھی اپنے ساتھ سفر پہ لے جاتے۔ میرا پہلا ہواءی سفر کا تجربہ چچا کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ یہ وہ سفر تھا جب ابا اور میں، چچا اور ان کی دو لڑکیوں کے ساتھ سری لنکا گءے تھے۔ چچا کے ساتھ ایک دوسرا سفر ہندوستان کا تھا۔ اور تیسرا سفر نیپال کا۔ نیپال کے سفر کے دوسرے مرحلے میں میرا بھاءی اور میں بنگلہ دیش روانہ ہوگءے تھے۔ بنگلہ دیش میں ہمارا قیام چچاجان کے توسط ہی سے تھا کہ ڈھاکہ میں چچا کے بینک کے کءی دوست رہا کرتے تھے۔
بی سی سی آءی میں ملازمت کے درمیان ہی چچا کو ڈیزاءنر کپڑوں، جوتوں، اور خوشبوءوں کا شوق ہوا تھا۔ ایریمس ڈیون آج بھی میری پسندیدہ خوشبو ہے؛ اس خوشبو سے میرا پہلا تعارف چچا کے پاس ہی ہوا تھا۔
سنہ اکیانوے میں جب بی سی سی آءی بحران کا شکار ہوا اور مصر میں اس بینک کی برانچ بھی بند ہوءی تو چچا جان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی آگءے۔ بچیوں کی شادیوں اور لڑکے کے امریکہ روانہ ہونے کے بعد چچا فارغ تھے اور اپنی خواہش کے مطابق دنیا دیکھ بھی سکتے تھے مگر چچی جان کسی بھی سفر کے لیے تیار نہ تھیں۔ چچی کے خاندان میں گردوں کی کمزوری کا مرض ہے جو چچی تک بھی پہنچا تھا۔ شاید چچی کے مرض کی تشخیص صحیح وقت پہ نہ ہوءی مگر یہ واضح تھا کہ چچی کے اندر تواناءی کی کمی رہتی تھی اور ذرا سا چلنے پھرنے پہ وہ تھک جاتی تھیں۔ غالبا سنہ ۲۰۰۵ کے آس پاس چچی جان کے گردے کا عارضہ تشخیص ہوگیا تھا مگر ان کو دواءوں کے سہارے چلایا گیا اور جب رفتہ رفتہ کر کے ان کے گردے بالکل جواب دے گءے تو پاکستان میں ڈاکٹر چچی جان کی عمر کی وجہ سے گردے کی تبدیلی کی جراحی کے لیے تیار نہ تھے۔ چچی بہت عرصہ ڈاءلیسیس پہ رہیں اور سنہ ۲۰۱۲ میں انتقال کرگءیں۔ چچی جان کے انتقال سے پہلے چچاجان کی سب سے بڑی مصروفیت چچی جان کی دیکھ بھال تھی۔ یہ مصروفیت اچانک ختم ہوءی تو چچا کو بیوی کی وفات کے دکھ کے ساتھ ہی ایک بے مصرف زندگی کا دھچکہ بھی لگا۔ چچی کے انتقال کے بعد جولاءی ۲۰۱۴ تک وہ اپنی زندگی کا مقصد تلاش کرتے رہے۔ ایک خیال چچا کو یہ آیا کہ انہیں ملک ملک کی سیر کرنی چاہیے۔ وہ ترکی جانا چاہتے تھے اور جولاءی ۲۰۱۴ میں وہاں جارہے تھے جب ملک سے روانگی سے کچھ پہلے ہی وہ ایک دعوت میں اپنی سالی عطیہ کے گھر گءے۔ عطیہ اور ان کے شوہر منصور دونوں ڈاکٹر ہیں۔ وہیں باتوں کے درمیان دونوں ڈاکٹروں نے غور کیا کہ چچاجان کی آنکھیں بہت پیلی تھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ چچا سفر پہ روانگی سے پہلے اپنا خون چیک کرالیں۔ چچا کے خون کا ٹیسٹ ہوا تو معلوم ہوا کہ انہیں بہت شدید یرقان ہے۔ یرقان کی وجہ جاننے کی کوشش میں ہی سرطان تشخیص ہوا جو چچا کے جگر کو نقصان پہنچا چکا تھا اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ چچا کو بتایا گیا کہ ان کے پاس زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تھے۔ اس تشخیص کے فورا بعد بہت دوڑ بھاگ ہوءی؛ چچا کا جانا لندن بھی ہوا مگر کوءی ترکیب کارگر نہ ہوءی۔ ان کی کیموتھراپی دبءی میں ہوءی مگر جب ان کے پاس بہت تھوڑا وقت رہ گیا تو وہ چھ فروری کو کراچی آگءے۔
چچاجان کی بظاہر سخت گیر طبیعت کے پیچھے ایک نرم دل آدمی چھپا تھا جو مزاروں پہ دیگیں غریبوں میں تقسیم کرتا، غریب طلبا کی مدد کرتا، اور عید کے موقع پہ کم تنخواہ والوں کو آٹا، گھی، شکر کے تحاءف دیتا۔ ان کی فیاضی سے یقینا بہت سے لوگ مستفید ہوءے ہیں۔
چھ فروری کوکراچی پہنچنے کے اگلے دن چچاجان، ابا اور میری فرماءش پہ کراچی ادبی میلے میں گءے۔ وہ اپنے دوست لالہ بشیر کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔ اوپر موجود تصویر ادبی میلے میں لی گءی تھی۔ اس کے بعد یہ معمول ہوگیا کہ ابا اور میں روز رات کو چچا سے ملنے جاتے۔ چچا بستر پہ لیٹے لیٹے ہم سے باتیں کرتے۔ پھر میرا جانا لاہور ہوا اور ان سے ملاقات میں وقفہ آگیا۔ انیس تاریخ کو ابا اور میں اسلام آباد سے کراچی پہنچے۔ اس رات بھی ہم دونوں چچا سے ملنے گءے۔ اس وقت تک چچا کے تینوں بچے کراچی آچکے تھے۔ چچا کے لیے دو نرسوں کا انتظام کردیا گیا تھا۔ یہ دونوں مرد تھے۔ جیکب دن کو بارہ گھنٹے چچا کے ساتھ ہوتا تھا اور سرفراز رات کے وقت۔ انیس تاریخ کی رات ابا اور میں کافی دیر چچا کے کمرے میں رہے۔ وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے ابا نے اپنے فون پہ مہدی حسن کا ایک پرانا گانا لگا دیا۔ 'تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے' ۔ کمرے میں موجود سب لوگ خاموشی سے مہدی حسن کو سنتے رہے۔ یہ گانا اس وقت مقبول ہوا تھا جب ہم لوگ گلبرگ والے گھر میں رہا کرتے تھے۔ وہ چچا کی جوانی اور پے درپے کامیابیوں کا دور تھا۔ اس رات مہدی حسن کا پرانا گانا سنتے ہوءے ہم سب محسوس کرسکتے تھے کہ مستقبل سے مکمل طور پہ مایوس ہونے کے بعد چچا کی بہترین یادیں ان کے ماضی میں تھیں۔
اکیس فروری کی رات ہم تمام گھر والے رات کے کھانے پہ میرے بھاءی کی طرف مدعو تھے۔ باقی لوگ تو اس طرف نکل گءے؛ ابا اور میں چچا کے گھر گءے کہ ان کو دیکھ کر کھانے پہ جاءیں گے۔ اس وقت چچا کو ڈرپ لگی ہوءی تھی۔ لیٹے لیٹے ان کی پیٹھ میں زخم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ اسی وجہ سے عالیہ، چچا کی بڑی لڑکی، ان کی پیٹھ کی مالش کررہی تھی۔ ہمارے پہنچنے پہ چچا نے آنکھیں کھول کر ہم دونوں کو دیکھا۔ وہ یقینا ہمیں پہچان گءے تھے۔ مگر وہ زیادہ دیر آنکھیں کھلی نہ رکھ سکے۔ وہ کراہ رہے تھے، اور کچھ کچھ دیر بعد ان کے منہ سے 'ہاءے میرے اللہ، یا مولا' جیسے کلمات نکلتے تھے۔ ان کے قریب کچھ دیر بیٹھ کر مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ غنودگی کی کیفیت میں تھے۔ عالیہ کو محسوس ہوا کہ چچا کے ہونٹ خشک ہیں تو اس نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ پانی پینا چاہتے تھے۔ پانی کا ایک گلاس قریب ہی پڑا تھا۔ چچا نے کوءی جواب نہیں دیا تو عالیہ نے گلاس ہاتھ میں لیا اور گلاس میں موجود نلکی کو ان کے منہ کے قریب کردیا۔ چچا نے آنکھ کھول کر گلاس کو دیکھا اور نلکی کو منہ میں لے کر گلاس سے پانی پیا۔ وہ پانی پیتے گءے اور گلاس آدھا ختم کردیا۔ منہ سے نلکی نکالنے کے بعد وہ ایک بار پھر غنودگی میں چلے گءے۔ عالیہ کمرے سے باہر گءی تو میں چچا کے ہاتھ پاءوں دبانے لگا۔ ان کے ہاتھ پاءوں ٹھنڈے تھے۔ کچھ دیر بعد ابا کا بلاوا آیا تو وہ اور کاظم، عالیہ کے شوہر، بھی کمرے سے چلے گءے۔ میں چچا کا ہاتھ دباتا رہا۔ انہوں نے آنکھ کھول کر مجھے دیکھا تو میں نے پانی کا گلاس پھر ان کے آگے کردیا۔ انہوں نے ایک بار پھر نلکی سے پانی پیا۔ کچھ ہی دیر میں باہر سے رونے کی آواز آءی۔ ابا واپس کمرے میں آگءے۔ ہم لوگ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہاں سے اٹھ گءے۔ مگر ہم ابھی گھر کے صدر دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ ابا کو آواز دی گءی کہ چچا ابا کو بلا رہے تھے۔ ہم دونوں پھر چچا کے کمرے میں پہنچ گءے۔ میرے والد میں وہ پراعتمادی ہے جو پدرسالار [پیٹریارکل] معاشروں میں خاندان کے بڑے لڑکے میں نظر آتی ہے۔ چچا جان جو ابا سے کءی سال چھوٹے تھے اسی خود اعتمادی کے ساءے میں بڑے ہوءے تھے۔ اور اسی لیے اپنی بیماری میں بھی چچا کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بڑے بھاءی ان کے ساتھ رہیں۔
کچھ دیر بعد چچا کی صفاءی ستھراءی کا وقت آیا تو ہم دونوں چچا کے گھر سے روانہ ہوءے۔ گاڑی قریبا ویران سڑک پہ سمندر کی طرف دوڑنے لگی تو ابا نے مجھے عالیہ کے رونے کی وجہ بتاءی۔ شام کے وقت چچا کے ڈاکٹر یوسف کمال چچا کو دیکھنے آءے تھے۔ انہوں نے معاءنے کے بعد چچا کے تینوں بچوں کو بتایا تھا کہ چچا کا وقت قریب تھا اور تاکید کی تھی کہ تدفین کی تیاری کی جاءے۔ گو کہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ چچا کے جسم کے اندر سرطان تیزی سے پھیل رہا تھا اور دنیا میں چچا کا وقت محدود تھا مگر ڈاکٹر کی ایسی دوٹوک بات سے سب سکتے میں آگءے تھے۔ ڈاکٹر نے شاید کھل کر یہ بات اس لیے کی تھی تاکہ چچا کے سب لواحقین ذہنی طور پہ عنقریب آنے والے صدمے کے لیے تیار ہوجاءیں۔
چچا مضبوط جسم کے مالک تھے اور اسی لیے وہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب موت سے خوب لڑے۔ سرطان کے خلیات خودکش ہوتے ہیں۔ وہ جسم پہ اس وقت تک قبضہ کرتے رہتے ہیں جب تک پورا جسم ان کے قابو میں نہ آجاءے۔ اور جب ان کا قبضہ پورے جسم پہ ہوجاتا ہے تو جسم سے جان نکلنے پہ سرطان کی موت کا وقت بھی آجاتا ہے۔
میری عادت ہے کہ رات کو سوتے وقت میں فون بند کردیتا ہوں، مگر ابا ایسا نہیں کرتے اور اسی وجہ سے صبح سات بجے ان کو وہ فون آیا جس کے بعد میرا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ فون پہ بتایا گیا تھا کہ چچا کی حالت نازک تھی اور ابا کو فوری طور پہ وہاں پہنچنا تھا۔ ہم دونوں فورا ہی گھر سے روانہ ہوگءے۔ سورج نکل چکا تھا مگر اتوار ہونے کی وجہ سے سڑکیں سنسان پڑی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں ہم لوگ چچا کے گھر پہنچ گءے۔ چچا کے کمرے میں لوگ سسکیوں سے رو رہے تھے۔ ابا نے چچا کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ان کو زور زور سے پکارا مگر وہ پکار بے سود تھی۔ میں نے چچا کی کلاءی پہ ہاتھ رکھ کر ان کی نبض ٹٹولی مگر اس ٹھنڈے بے جان ہاتھ میں زندگی کی کوءی رمق نہ تھی۔ چچا انتقال کرچکے تھے۔ مگر ان کی وفات کا باقاعدہ فیصلہ کرنا تو کسی ڈاکٹر کا کام تھا۔ ڈاکٹر منصور کو فون کیا جا چکا تھا۔ وہ قریبا آٹھ بجے وہاں پہنچے۔ ڈاکٹر منصور نے اسٹیتھواسکوپ سے چچا کے دل کی دھڑکن تلاش کی اور اس میں ناکامی کے بعد چچا کی رحلت کا باقاعدہ اعلان کردیا۔



Labels: , , , , , , , , , ,


Friday, November 14, 2014

 

ولی خان بابر، سلیم شہزاد، رضا رومی، اور حامد میر




نومبر نو،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چودہ


ولی خان بابر، سلیم شہزاد، رضا رومی، اور حامد میر


طعنے مختصر ہوتے ہیں۔ ٹوءٹر پہ مختصر بات کی جاتی ہے۔ اس لیے ٹوءٹر طعنوں تشنوں کے لیے بہت موزوں ہے۔ اس تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آءی کہ حال میں رضا رومی نے اپنے فیس بک دوستوں کو بتایا کہ انہیں ٹوءٹر کے ذریعے سخت تنقید کا نشانہ بنا گیا ہے۔ انہیں طعنے دیے جارہے ہیں کہ وہ بزدل ہیں جو پاکستان سے بھاگ نکلے۔ رضا رومی سے کہا جا رہا ہے کہ وہ نڈر ہوتے تو پاکستان میں رہ کر حالات کا مقابلہ کرتے۔ فیس بک پہ رضا رومی کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اس دشنام طرازی پہ کان نہ دھریں۔ پاکستان میں ان کی جان کو سخت خطرہ ہے۔ رضا رومی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ عافیت سے امریکہ میں رہتے رہیں۔
پاکستان میں صحافیوں پہ حملہ کوءی نءی بات نہیں ہے مگر یہ جانچنا ضروری ہے کہ ولی خان بابر، سلیم شہزاد، حامد میر، اور رضا رومی پہ ہونے والے حملوں میں کیا فرق ہے۔ پہلی بات تو یہ جانیے کہ پاکستان کے ادارے اور سیاسی جماعتیں تقریبا مادر پدر آزاد ہیں۔ ان اداروں اور ان جماعتوں سے تعلق رکھنے چند لوگ اپنے طور پہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ کس کو راہ سے ہٹانا چاہیں گے اور اس فیصلے پہ عملدرآمد بھی کرسکتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کسی ادارے کو مورد الزام ٹہرانے میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بات وثوق سے  نہیں کہی جا سکتی کہ کسی پہ حملے میں کوءی پورا ادارہ یا کوءی پوری جماعت ملوث تھی۔ چنانچہ آپ کراچی میں کسی سے ولی خان بابر کے متعلق پوچھیں تو آپ کو بتایا جاءے گا کہ ولی خان بابر کو ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے افراد نے قتل کیا۔ اسی طرح سلیم شہزاد نے اپنے اغوا سے پہلے دوستوں سے بتایا تھا کہ انہیں پاکستان کے خفیہ اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے دھمکیاں ملی تھیں۔ حامد میر نے اپنے اوپر ہونے والے حملے سے پہلے اپنے بھاءی سے کہہ دیا تھا کہ اگر انہیں یعنی حامد میر کو اغوا یا قتل کیا جاءے تو حامد میر کے بھاءی جان لیں کہ ایسی کارواءی خفیہ ایجنسی آءی ایس آءی نے کی ہوگی۔ چنانچہ یہاں حامد میر پہ حملہ ہوا وہاں ان کے بھاءی جھٹ ٹی وی اسٹیشن پہنچ گءے۔ رضا رومی پہ ہونے والا قاتلانہ حملہ کچھ مختلف نوعیت کا تھا کہ انہیں کبھی براہ راست کوءی دھمکی موصول نہیں ہوءی تھی۔ البتہ سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں معلوم ہوتا رہتا تھا کہ کچھ لوگ رضا رومی کے آزاد خیالات اور ببانگ دہل شدت پسندوں  پہ ان کی سخت تنقید کی وجہ سے رضا رومی سے خوش نہیں تھے۔
ولی خان بابر اور شہزاد سلیم اس دنیا میں نہ رہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں صحافیوں کو جن تنظیموں سے خطرہ تھا، یہ ان کے ساتھ کس قسم کے مذاکرات کر کے اپنی جان بچا سکتے تھے، یا کس طرح کچھ مہلت حاصل کر کے ملک سے فرار ہوسکتے تھے۔ مگر حامد میر ہم سب کے سامنے ہیں۔ کراچی میں قاتلانہ حملے میں بچنے کے بعد وہ آج بھی اسلام آباد میں رہ رہے ہیں اور اپنا ٹی وی پروگرام کیپٹل ٹاک بھی کر رہے ہیں۔ حامد میر نے کس سے کس قسم کے مذاکرات کیے ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ رضا رومی کا معاملہ کچھ مختلف ہے کیونکہ ان پہ کیا جانے والا حملہ نادیدہ ہاتھوں نے کیا تھا۔ اندھیرے میں چھپے لوگوں سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔ جولوگ رضا رومی کو پاکستان واپس جانے پہ اکسا رہے ہیں وہ یقینا رضا رومی کے دوست نہیں ہیں، اور عین ممکن ہے یہ وہ لوگ ہوں جو رضا رومی کے زندہ بچ جانے پہ کف افسوس مل رہے ہوں۔  
اور صحافیوں ہی کا کیا، پاکستان میں کس کی جان و مال محفوظ ہے؟ جس ملک میں ایک سابق وزیر اعظم کا لڑکا دن دھاڑے اغوا ہوجاءے اور مہینوں بازیاب نہ ہو، جس ملک میں ایک سابق وزیراعظم کا قتل ہوجاءے اور قاتل کا کوءی سراغ نہ ملے وہاں ھما شما کس کھاتے میں ہیں؟
اپنی دگرگوں امن عامہ کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان ایک ناکام ریاست ہے جہاں حکومت کا زور چند شہری علاقوں میں وہاں کے کمزور لوگوں پہ، دن کی روشنی میں چلتا ہے۔ سورج غروب ہوتا ہے تو حکومت کی رٹ سکڑ کر اور بھی مختصر ہوجاتی ہے۔ ان بیس کروڑ لوگوں کی عظمت کو سلام جو اتنے خراب حالات میں بھی مستقل وہاں رہ رہے ہیں۔


Labels: , , , , , , , , , , ,


Friday, November 07, 2014

 

دھرنا ختم، اور طہارت کی تاریخ



نومبر دو،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو تیرہ


دھرنا ختم، اور طہارت کی تاریخ

 
طاہر القادری کا اسلام آباد میں دھرنا ختم ہوا اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان اسلام آباد چھوڑ کر اپنے گھروں کو روانہ ہوءے تو اپنے پیچھے کوڑا اور غلاظت چھوڑ گءے۔ ایک دفعہ پھر وہ موقع آیا کہ ہم نے مرزا ودود بیگ کو گھیر لیا۔ ہمیں ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔ پھر جب وہ کراچی کی بازاری زبان میں سیاست پہ تبصرہ کرتے ہیں تو بیان کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ یار لوگوں نے پھر مرزا ودود بیگ سے استفسار کیا کہ آخر وہ لفظ انقلاب سے کیوں بغض رکھتے ہے۔
"آپ انقلاب لا کر کیا کریں گے؟ خرابی تو آپ کے لوگوں میں ہے۔ جب لوگ ہی ٹھیک نہ ہوں گے تو کسی قسم کی سیاسی تبدیلی سے حالات کیا خاک تبدیل ہوں گے؟" مرزا ودود بیگ نے اطمینان سے جواب دیا۔
یہ سن کر ایک نوجوان بھڑک اٹھا، "کس قسم کی فضول باتیں کررہے ہیں آپ؟ آخر کیا کمی ہے ہم لوگوں میں؟ ہم بھلا دنیا میں کس سے پیچھے ہیں؟"
مرزا ودود بیگ بھی کچھ بگڑے۔ کہنے لگے،
"ارے جانے دو صاحبزادے۔ ہگنے موتنے کی تو تمیز ہے نہیں زیادہ تر لوگوں کو۔ انقلاب سے آنے والی کونسی سیاسی تبدیلی لوگوں کو رہنے کا بنیادی قرینہ سکھاءے گی؟ کسی بھی اوپری سیاسی تبدیلی سے ان لوگوں میں تعلیم کیسے بڑھے گی؟ ان کو یہ تمیز کیسے آءے گی کہ صفاءی سے رہنے کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ انقلاب سے راتوں رات انہیں قطار بنانے کا سلیقہ کہاں سے آجاءے گا؟"
ہم سب مرزا ودود بیگ کا منہ دیکھتے رہے۔ بڑے میاں بات تو ٹھیک کررہے تھے۔ اس شام جب دوسرے ساتھی چلے گءے تو میں بہت دیر تک مرزا ودود بیگ کے ساتھ ان کے استدلال کے اول پہلو پہ بات کرتا رہا، یعنی طہارت کے موضوع پہ۔
مرزا ودود بیگ کا کہنا تھا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو جدید بیت الخلا کے استعمال کا طریقہ ہی نہیں آتا۔ انہوں نے مجھ پہ زور دیا کہ میں اس موضوع پہ ایک ویڈیو بناءوں۔ اس ویڈیو کا نام 'طہارت کی تاریخ' رکھوں۔ ان کا کہنا تھا کہ، "بات زمانہ قدیم سے شروع ہو، یعنی ارتقا کی پہلی منزل سے۔ ویڈیو میں دکھایا جاءے کہ بندر کس طرح طہارت کرتے ہیں؟ جواب آسان ہے اور وہ یہ کہ بندر طہارت نہیں کرتے۔ وہ بیٹھ کر فارغ ہوتے ہیں اور فارغ ہونے کے بعد، اپنی صفاءی کیے بغیر، بس اٹھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پہ بہت سے انسان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ تو پہلے مرحلے میں تو آپ کو ان انسان نما جانوروں کو انسان بنانا ہوگا۔ ان کو بتانا ہوگا کہ فارغ ہونے کے بعد اپنی صفاءی کرنا کیوں ضروری ہے۔ یہ بتانا ہوگا کہ طہارت اول خود اپنے لیے فاءدہ مند ہے کہ اگر آپ اپنی صفاءی نہ کریں تو آپ بیمار پڑ سکتے ہیں؛ دوءم، طہارت کی ضرورت اس لیے ہے کہ آپ کے پاس سے بدبو نہ آتی رہے۔
"اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخی طور پہ اپنی صفاءی کرنے کے کونسے طریقے راءج رہے ہیں۔ فارغ ہونے کے بعد اپنے جسم سے غلاظت کو صاف کرنے کے لیے انسان نے اپنے ماحول کے حساب سے طریقے اپناءے ہیں۔ سرد علاقوں میں لوگوں نے پتوں سے صفاءی کا کام لیا۔ گرم علاقوں میں جہاں پانی وافر دستیاب تھا، انسان نے پانی کو طہارت کے لیے استعمال کیا۔ ریگستان میں اور ان جگہوں پہ جہاں پانی بمشکل میسر تھا انسان نے ریت اور پتھروں سے اپنی صفاءی کی۔ قرون وسطی میں یورپ میں عوام صفاءی کے لیے پتے استعمال کرتے تھے اور بادشاہ اور خواص اون کا استعمال کرتے تھے۔ جب چین کی دریافت، کاغذ یورپ پہنچا اور بہت بعد میں بڑے پیمانے پہ بننا شروع ہوا تو سرد علاقوں کے لوگ طہارت کے لیے کاغذ استعمال کرنے لگے۔ چنانچہ آج کی دنیا میں صفاءی کے یہی دو طریقے راءج ہیں، کاغذ سے صفاءی، یا پانی سے صفاءی۔ ظاہر ہے کہ پاکستان میں ہماری تربیت ایسی ہوءی ہے کہ ہمیں پانی سے صفاءی، کاغذی کارواءی سے افضل معلوم دیتی ہے۔"
اپنی بات یہاں تک مکمل کرنے کے بعد مرزا ودود بیگ نے سمجھایا کہ مجھے طہارت سے متعلق اپنے تعلیمی ویڈیو میں بیت الخلا کی تاریخ بھی بتانی ہوگی۔ یہ بتانا ہوگا کہ جدید بیت الخلا ارتقا کے کن مراحل سے گزرا ہے۔ "انگریز کے جنوبی ایشیا آنے سے پہلے ہمارے شہری علاقوں میں کھڈیوں کا رواج تھا۔ یہ کھڈیاں ایک بیت الخلا میں بیرونی دیوار کے ساتھ بنی ہوتی تھیں۔  ان کھڈیوں پہ اکڑوں بیٹھ کر فارغ ہوا جاتا تھا۔ صفاءی کے لیے پانی سے بھرا لوٹا ساتھ رکھا جاتا تھا۔ فارغ ہونے کے بعد لوٹے کو داءیں ہاتھ میں پکڑ کر پانی ٹونٹی سے آہستہ آہستہ ڈالا جاتا تھا اور باءیں ہاتھ سے صفاءی کی جاتی تھی۔ اسی مناسبت سے پانی اور ہاتھ کے اس باہمی عمل کو آبدست کہا جاتا ہے اور صفاءی کا یہ طریقہ آج بھی راءج ہے۔ اچھی طرف صفاءی کرنے کے بعد مزید پانی سے فضلے کو بیرونی دیوار میں موجود سوراخ کے ذریعے دیوار کے دوسری طرف موجود نکاسی کی نالی میں دھکیل دیا جاتا تھا۔ جب اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ایشیا پہ اپنا تسلط قاءم کرنا شروع کیا تو نءے دور کا برتن، جسے اب ڈبلیو سی یا واٹر کلوزٹ، کہتے ہیں اپنے ارتقاءی عمل کے اول دور میں تھا۔ مگر صدی بھر میں یہ فرق آیا کہ صنعتی انقلاب نے زور پکڑا؛ پاءپ بڑے پیمانے پہ بننے لگے؛ صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے لیے پاءپ کا استعمال عام ہوا؛ اور بیت الخلا کا برتن ارتقا کے مراحل طے کرتا ہوا وہ روپ اختیارکرگیا جسے فلش ٹاءلٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔"
اس موقع پہ ذرا سا رک کر مرزا ودود بیگ نے مجھ سے سوال کیا کہ میں شمالی امریکہ سے کراچی جانے کے لیے کونسا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ میں نے منمنا کر کہا کہ مشرق یا مغرب جس راستے سے مناسب ٹکٹ مل جاءے، اس راستے سے چلا جاتا ہوں۔ اس پہ بیگ صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ، "آپ نے کبھی اپنے آپ سے سوال کیا کہ لندن سے دبءی کی سات گھنٹے کی پرواز میں تو جہاز کے ٹاءلٹ صحیح کام کرتے ہیں، لیکن جب یہی جہاز دبءی سے کراچی کے لیے روانہ ہوتا ہے تو صرف دو گھنٹے کی اس پرواز کے پہلے آدھے پون گھنٹے ہی میں ہی جہاز کے کءی بیت الخلا کیوں خراب ہوجاتے ہیں؟"
پھر انہوں نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا کہ، "بات یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کو جدید ٹاءلٹ کے استعمال کی تربیت نہیں دی گءی ہے۔ مسافروں میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جو کھڈیوں سے اٹھ کر سیدھا نءے دور کے ٹاءلٹ تک پہنچ گءے ہیں اور انہیں اس جدید مشین کو استعمال کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔"
بیگ صاحب کا کہنا تھا کہ میں اپنے تعلیمی ویڈیو میں بیت الخلا کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ، ناظر کو جدید دور کے ٹاءلٹ کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاءوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناظر کو پہلا کلیدی نکتہ یہ سمجھایا جاءے کہ آپ کو ٹاءلٹ جس صاف حالت میں ملا ہے، آپ کو اسے استعمال کرنے کے بعد اسی صاف حالت میں یا اس سے بہتر صاف حالت میں اگلے شخص کے استعمال کے لیے چھوڑنا ہے۔
"جدید دور کے بیت الخلا کے کءی لوازمات ہیں۔ اکثر جگہ آپ کو بیت الخلا میں یہ چیزیں ملیں گی:برتن، نشست پوش، صفاءی کاغذ، اور صفاءی برش۔ اکثر جگہ آپ کو صفاءی کے لیے پانی نہیں ملے گا اور پانی کا انتظام آپ کو خود کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے برتن کے متعلق بتاءیے کہ جدید بیت الخلا میں برتن کرسی کی شکل کا ہوتا ہے۔ اس برتن پہ اوپر چڑھ کر نہیں بیٹھنا بلکہ اس طرح بیٹھنا ہے جس طرح کرسی پہ بیٹھا جاتا ہے۔ ممکن ہے آپ کا خیال ہو کہ اس کرسی کی نشست [سیٹ] صاف نہیں ہے۔ سیٹ کو ایک صارف سے دوسرے صارف کے درمیان صاف رکھنے کے لیے عموما نشست پوش [سیٹ کور] مہیا کیے جاتے ہیں۔ اگر کاغذ کے نشست پوش موجود ہیں تو نشست پوش کو نشست پہ بچھاءیے اور پھریوں بیٹھ جاءیے جس طرح کرسی پہ بیٹھا جاتا ہے۔ اگر نشست پوش موجود نہیں ہیں تو صفاءی کاغذ [ٹاءلٹ رول] سے نشست کو صاف کیجیے اور پھر نشست پہ بیٹھیے۔ نشست پہ پاءوں رکھ کر، اوپر چڑھ کر ہرگز نہ بیٹھیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو کءی مساءل پیدا ہوتے ہیں۔ اول، آپ کا پاءوں پھسل سکتا ہے، آپ کو چوٹ آسکتی ہے، اور ہڈی بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ دوءم، اس طرح اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے آپ کی طہارت متاثر ہوسکتی ہے۔ اتنی اونچاءی سے فضلہ گرنے پہ چھینٹے اڑ کر آپ پہ آسکتے ہیں۔ اور سوءم یہ کہ اس طرح اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے آپ نشست کو گندا کر کے اگلے صارف کے لیے مشکل پیدا کریں گے۔
"فارغ ہونے کے بعد پانی سے اپنے آپ کو صاف کیجیے اور احتیاط کیجیے کہ تمام پانی برتن کے اندر ہی گرے، باہر فرش پہ نہ گرے۔ پھر نشست سے اٹھنے کے بعد برتن کو فلش کیجیے۔ فلش کرنے سے برتن میں موجود فضلہ اور گندا پانی خارج ہوجاءے گا اور اس کی جگہ صاف پانی بھر جاءے گا۔ برتن فلش کرنے کے بعد یہ اطمینان کرنا ضروری ہے کہ تمام گندگی برتن سے خارج ہوگءی ہے۔ اگر کسی وجہ سے کچھ گندگی رہ گءی ہے تو برتن کو دوبارہ فلش کیجیے۔ جدید برتن اس طرح بناءے گءے ہیں کہ فلش کرنے پہ جو تازہ پانی برتن کے اندر آتا ہے وہ برتن کی دیواروں کو دھوتا ہوا اندر گرتا ہے اور اس طرح برتن کی دیواروں پہ لگی غلاظت صاف ہوجاتی ہے۔ مگر اس بات کا امکان رہتا ہے کہ آپ کے استعمال کے بعد برتن کی دیواروں پہ لگی تمام غلاظت صاف نہ ہو بلکہ فلش کرنے کے بعد بھی کچھ غلاظت برتن کی دیوار پہ لگی رہ جاءے۔ اس مسءلے سے نمٹنے کے لیے جدید بیت الخلا میں صفاءی برش رکھا جاتا ہے۔ اس برش کو استعمال کرتے ہوءے برتن کو صاف کریں اور پھر فلش کے دوران آنے والے تازہ پانی سے برش کو صاف کرنے کے بعد برش کو واپس اپنی جگہ پہ رکھیں۔ اگر بیت الخلا میں برش موجود نہیں ہے تو صفاءی کاغذ کی مدد سے برتن پہ موجود غلاظت صاف کر کے کاغذ برتن میں ڈال دیں اور پھر فلش کریں۔ صفاءی کاغذ کی جگہ پانی کی دھار سے بھی برتن کی دیوار پہ لگی غلاظت کو صاف کرنے کا کام کیا جاسکتا ہے۔ غرض کہ یہ صفاءی جس طرح بھی کریں بس یہ خیال رہے کہ برتن کو اتنی صاف حالت میں، یا اس سے زیادہ صاف حالت میں، اگلے صارف کے لیے چھوڑیں جس حالت میں وہ آپ کو ملا تھا۔
"برتن کو اپنی، استعمال سے پہلے والی، حالت میں لوٹانے کے بعد آپ کو اپنے ہاتھ صابن سے دھونے ہیں۔
"پھر آپ لوگوں کو یہ بھی بتاءیں کہ وہ پیشاب گاہ [یورینل] میں طہارت کا کاغذ نہ پھینکیں۔ پیشاب گاہ سے کسی ٹھوس شے کی نکاسی نہیں ہوسکتی۔ اگر کاغذ کا استعمال اتنا ضروری سمجھیں تو بہتر طہارت کے ساتھ دوسروں کی سہولت مدنظر رکھتے ہوءے چھوٹی حاجت کے لیے بھی عام بیت الخلا استعمال کریں۔"
میں بہت صبر سے بیگ صاحب کی تقریر سن رہا تھا۔ ان کی گفتگو میں وقفہ آیا تو میں نے پوچھا، "میرے لیے کوءی اور حکم۔"
"حکم کیسا؟ آپ انقلاب کا راستہ تلاش کرنے چلے ہیں تو میں آپ کو انقلابی لوگ تیار کرنے کا راستہ بتا رہا ہوں۔ طہارت کی ویڈیو بنانے کے بعد آپ کو لوگوں کو قطار بنانے کی تعلیم دینے کے لیے بھی ویڈیو بنانا ہے۔ اور اسی طرح کے ایک اور ویڈیو میں آپ کو مرد حضرات کو تعلیم دینی ہے کہ وہ خواتین سے کیسے پیش آءیں۔ یہ تمام تعلیمی ویڈیو صبح و شام پاکستان کے مختلف ٹی وی چینل پہ چلاءی جاءیں۔ جب اس طرح کی عمومی تعلیم معاشرے میں پھیلے گی تو انقلاب کی راہ خود بخود ہموار ہو گی۔"


Labels: , , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?