Wednesday, December 07, 2016

 

سرحد کی طرف دوڑ، چنگدو سے کنمنگ






ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار تین سو دس

 دسمبر چار، دو ہزار سولہ


سرحد کی طرف دوڑ، چنگدو سے کنمنگ



چنگدو سے کنمنگ تک کا ریل کا سفر بھی چوبیس گھنٹے کا تھا۔ کنمنگ جانے والی ٹرین میدانی علاقے سے نکل کر پہاڑیوں کو سرنگ در سرنگ چیرتی پھاڑتی آگے بڑھ رہی تھی۔ وہاں پہاڑوں کی چوٹیوں کو چومتے بادل تھے، مٹی سے آلودہ دریا، اور بانس کے جھنڈ۔ کھیتوں میں فصل کی کٹائی کے بعد تنکوں کے گچھے سکھانے اور پھر جلانے کے لیے رکھے نظر آتے تھے۔ ہم جس ہند چینی علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے اس کی پہلی نشانی ہمیں ایک بھینس کی صورت میں نظر آئی۔ بالکل اس شکل کی کالی بھینس جیسی پاکستان میں نظر آتی ہے۔
کن منگ میں جب ہم اپنے ہوٹل پہنچے تو وہاں جھگڑا ہورہا تھا۔ ایک طرف ایک امریکی جوڑا تھا اور دوسری طرف ہوٹل کی انتظامیہ۔  نوجوان امریکی جوڑا ہوٹل والوں سے اپنی رقم وصول کرنا چاہتا تھا۔ وہ دونوں ہم سے کچھ دیر پہلے ہی وہاں پہنچے تھے۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ ان دونوں سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے کمرہ دیکھے بغیر کرائے کی رقم ادا کردی۔ جب وہ کمرے میں پہنچے تو انہوں نے اس کمرے کو بے حد گندہ پایا۔ اب وہ اس ہوٹل میں کسی قیمت پہ ٹہرنے کے لیے تیار نہ تھے اور رقم کی واپسی کا تقاضہ کررہے تھے۔ آدمی سخت غصے میں تھا اور اپنی رواں انگریزی کا جواب انگریزی ہی میں چاہتا تھا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ ٹریول رائٹر ہے اور وہ لکھے گا کہ اس ہوٹل کا عملہ کس قدر بدتمیز ہے۔ دوسری طرف ہوٹل کا عملہ آپس میں چینی زبان میں گفتگو کررہا تھا اور کبھی کبھار ایک آدھ جملہ انگریزی میں ادا کردیتا تھا۔ انگریزی زبان کے اس مقابلے میں ہوٹل کا عملہ ہار رہا تھا۔ ہم نے مینیجر کو کسی قدر دھیمے لہجے میں سمجھایا کہ اس ساری ہنگامہ آرائی سے بہتر ہے کہ وہ ان لوگوں کی رقم واپس کردے۔ اور یوں ہی ہوا؛ اس جوڑے کی رقم واپس کردی گئی مگر ہوٹل کا عملہ اس بات سے ہرگز خوش نہ تھا۔ استقبالیے پہ موجود خاتون نے اس لڑائی جھگڑے کو اپنی ذاتی بے عزتی خیال کیا تھا۔ وہ مستقل بڑبڑا رہی تھی۔ اور اسی بڑبڑانے کے دوران اس نے ہمیں کمرے کی چابی دے دی۔ ہمارا کمرہ چینی معیار سے صاف ستھرا تھا مگر وہاں دوسرا مسئلہ تھا۔  حمام کمرے سے کسی قدر فاصلے پہ تھا اور بیت الخلا میں نکاسی ایک کھلی نالی کی مدد سے کی جارہی تھی۔ شاید یہی انتظام امریکی جوڑے کو گندا معلوم دیا تھا۔ چین کے جو علاقے بے جنگ سے جس قدر دور تھے اسی قدر پسماندہ تھے۔
کن منگ دلچسپ جگہ معلوم ہوئی۔ وہاں بھانت بھانت کی شکلوں کے لوگ نظر آرہے تھے؛ یہ لوگ واضح طور پہ ہان لوگوں سے مختلف تھے۔ مگر ہان نسل کے لوگ تعداد میں اس قدر زیادہ ہیں کہ چین کے اقلیتی نسلی گروہ ہان آبادی کے زور سے رفتہ رفتہ ختم ہوتے جارہے ہیں۔
ہم اس جغرافیائی علاقے میں تھے جہاں ہندی ساختمانی تختی [انڈئین ٹیکٹونک پلیٹ] یوریشیائی ساختمانی تختی سے ٹکرا رہی ہے۔ وہ بن باراں [رین فارسٹ] کا علاقہ تھا اور اسی مناسبت سے وہاں کئی دلچسپ پھل نظر آئے۔ چھابڑی فروش فٹ پاتھ کے ساتھ تختوں پہ گنا اور چکوترے سے ملتا جلتا کوئی پھل رکھے بیٹھے نظر آئے۔ گنا تو چوسنے میں بالکل ایسا تھا جیسا گنے کو ہونا چاہیے مگر چکوترے جیسا پھل اندر سے بے حد سخت نکلا۔ یہ ذائقے میں کڑوا تھا۔ 
کن منگ کے آس پاس گھومنے پھرنے کی کئی جگہیں تھیں مگر ہم جلد از جلد لائوس کی سرحد پہ اپنی قسمت آزمانا چاہتے تھے۔ کن منگ سے مزید جنوب میں جنگ ھانگ کی طرف جاتے ہوئے ٹرین کی پٹری نہیں تھی۔ وہاں پہنچتے پہنچتے جدید چین ختم ہوگیا تھا۔ آگے بسوں کا سفر تھا۔  ہماری سفری کتاب میں چین اور لائوس کی سرحد کے بارے میں کچھ تحریر نہ تھا۔ ہم پاکستانی پاسپورٹ کی کمزوری سے واقف تھے۔ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں لائوس کی سرحد پر پہنچنے پہ ہمیں وہاں سے واپس نہ کردیا جائے۔ اس صورت میں ہمیں برما میں داخل ہونا تھا اور ایسا اپنا ویزا ختم ہونے سے پہلے کرنا تھا۔ اب بس سے جنگ ھانگ جانے کی تیاری شروع ہوگئی۔


Labels: , , , , , ,


Thursday, November 10, 2016

 

بے جنگ میں چرس کی تجارت




ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار تین سو چھ

 نومبر چھ، دو ہزار سولہ


بے جنگ میں چرس کی تجارت




ہوہوت سے بے جنگ پہنچنے پہ ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم انسانوں کے ایک سیلاب رواں کے بیچ میں پہنچ گئے تھے۔ بے جنگ اس طرح کا دارالحکومت ہے جس طرح کے دارالحکومت پرانی دنیا میں کثرت سے پائے جاتے ہیں: یعنی ملک کا سب سے بڑا اور سب سے اہم شہر۔ وہ ممالک جو یا تو غربت کی دلدل سے ابھی باہر نہیں نکلے ہیں، یا انہیں وہاں سے نکلے بہت زیادہ عرصہ نہیں ہوا، دولت کی ملک بھر میں مساوی تقسیم نہیں کرتے اور دارالحکومت پہ سب سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ جہاں اس قسم کی غیرمنصفانہ تقسیم ہو اور ملک کے وسائل دارالحکومت پہ زیادہ خرچ کررہے ہوں، وہاں ملک کے اندر ایک نقل مکانی شروع ہوجاتی ہے اور لوگ چھوٹے شہروں سے جوق در جوق دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں کیونکہ  پایہ تخت میں ضروریات زندگی دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے میسر ہوتی ہیں۔
بے جنگ میں ہمیں قطار در قطار کثیرمنزلہ رہائشی عمارتیں نظر آئیں۔ ایسی عمارتیں ہمیں مشرقی یورپ میں بھی نظر آئی تھیں۔ یہ عمارتیں اشتراکی نظام سے وفاداری کا مظاہرہ تھیں۔ ملک کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز رہائش فراہم کرنا ریاست کا فرض تھا اور ریاست یہ فرض بخوبی نبھانا چاہتی تھی۔ مگر کیا کیجیے کہ مساوات ایک سراب ہے۔ آپ ایک پندرہ منزلہ عمارت میں ایک رقبے کے ایک جیسے ساٹھ فلیٹ بنا سکتے ہیں۔ مگر ایک نقشے اور ایک رقبے کے ہونے کے باوجود ان سارے مکانوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوگا۔ کچھ مکان کونے والے ہوں گے، کچھ اوپری منزل پہ ہوں گے، کچھ کا سامنا سڑک کا ہوگا، کچھ پیچھے کی طرف ہوں گے۔ اور جب ان فلیٹوں کو لوگوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ آیا ہوگا تو یقینا لوگوں نے اپنی اپنی خواہش والے مکانوں کی فرمائش کی ہوگی۔ کسی نے نیچے کی منزل کا فلیٹ چاہا ہوگا؛ کسی نے کونے والے فلیٹ کی خواہش کی ہوگی، اور ایک دفعہ پھر لوگوں کی جان پہچان کام آئی ہوگی، اور عوام سے مساوی سلوک رکھنے کے خیال کو شدید دھچکا پہنچا ہوگا۔
ہم بے جنگ میں جس ہوٹل میں ٹہرے وہ غریب مغربی سیاحوں میں بہت مقبول تھا۔ وہیں ہمیں ایک چینی خاتون کے بارے میں معلوم ہوا جو سیاحوں کے لیے جعلی چینی اسٹوڈنٹ کارڈ بنانے کا کام کرتی تھی۔ اس کارڈ کی مدد سے عجائب گھر اور دوسری سیاحتی جگہوں پہ رعایتی ٹکٹ لیا جاسکتا تھا۔
ہم ہوٹل کے ریستوراں میں دوسرے سیاحوں کے ہمراہ مس پنگ سے ملے۔ اسی ملاقات میں مس پنگ نے ہمیں بتایا کہ اس کا شوہر پاکستانی ہے۔ ہم مس پنگ کی اس بات پہ چونکے مگر پھر فورا ہی بات سمجھ میں آگئی۔ نادان مس پنگ کو جعل سازی سکھانے کے لیے ایک پاکستانی دماغ چاہیے تھا۔ مس پنگ ہمیں اپنے شوہر سے ملانے کے لیے بے تاب تھی۔ اس کے شوہر کا نام شاہ تھا۔ اور دوسرے دن ہی اسی ریستوراں میں ہماری ملاقات شاہ سے ہوگئی۔ وہ بٹ نامی ایک آدمی کے ہمراہ تھا۔ اس مختصر ملاقات میں شاہ نے بتایا کہ اس کا تعلق پنڈی سے تھا اور وہ ایک عرصے سے بے جنگ میں مقیم تھا۔
’’بے جنگ میں اتنے پاکستانی نظر نہیں آتے جتنے شنجیانگ میں نظر آتے ہیں۔‘‘ میں نے شاہ سے کہا۔
’’ہاں شنجیانگ تو پاکستانیوں سےبھرا ہواہے۔ بے جنگ کم لوگ آتے ہیں۔ یہاں صرف دو نمبر والے آتے ہیں۔‘‘ شاہ نے مجھے بتایا۔
دوسری بار میں شاہ سے مس پنگ کی دکان میں ملا۔ مس پنگ اور شاہ دکان کے پیچھے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے۔ اس لمبی ملاقات میں مجھے شاہ کو اچھی طرح جاننے کا موقع ملا۔ شاہ نہایت صاف گو تھا اور مجھ سے کچھ چھپانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایک میلے کچیلے بستر پہ لیٹا مجھ سے بات کررہا تھا۔ پھر وہ بستر سے تھوڑا سا اٹھا؛ اس نے پاس پڑی چھوٹی میز کے نیچے ہاتھ ڈال کر ایک پلاسٹک کی تھیلی نکالی اور تھیلی مجھے پکڑا دی۔ اس تھیلے کے اندر بھورے رنگ کی بڑی ڈلی تھی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’بھائی چرس پیتے ہیں، چرس بیچتے ہیں، اور جو بھی حلال حرام ملے کھا لیتے ہیں۔‘‘ شاہ نے وضاحت پیش کی۔ میں نے تھیلی میں موجود چرس کو اچھی طرح ٹٹولا اور پھر تھیلی میز پہ رکھ دی۔

شاہ کے چہرے پہ موجود تاثرات ظاہر کررہے تھے کہ اس وقت بھی اس نے چرس پی ہوئی تھی۔ اس نشے میں وہ ساری دنیا کی محبت میں گرفتار تھا اور اپنے راز میں سب کو شریک کرنا چاہتا تھا۔

’’یہاں میرے جیسے جو لوگ چرس کا کام کرتے ہیں وہ دراصل شیر کے منہ سے نکال کر کھاتے ہیں۔‘‘ شاہ نے یہ بات کہتے ہوئے دایاں ہاتھ ہوا میں بڑھایا اور پھر دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
’’بھائی کوئی آسان کام نہیں ہے یہ۔ بس بہن بھائیوں کی دعائیں ہوتی ہیں، ان لوگوں کے پیچھے۔ آپ نے شاید اخبار نہیں پڑھا۔ تین روز پہلے ایک پاکستانی کو سزائے موت ہوئی ہے یہاں؛ اسے گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اس کی بیوی جاپانی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ یہاں سے جاپان جارہا تھا۔ تلاشی لینے پہ اس کے پاس سے چرس پائوڈر نکل آیا۔‘‘
شاہ نے بتایا کہ اس کے گیارہ بہن بھائی تھے مگر اس وقت اس کا ان میں سے کسی سے رابطہ نہ تھا۔ شاہ کا کہنا تھا کہ اس نے حلال کمائی کی کوشش کی مگر اسے ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایک دفعہ وہ چین سے بجلی کے آلات لے کر پاکستان گیا تھا مگر اسے ہوائی اڈے پہ ہی پکڑ لیا گیا اور اسے کسٹم کی لمبی چوڑی رقم بھرنے کو کہا گیا۔
شاہ مستقل بولتا رہا اور میں ادھر ادھر کی باتیں سوچتا رہا۔ میں نے مس پنگ سے اس کے تعلقات کے بارے میں بھی غور کیا۔ جدید دنیا کے تعصبات سے متاثر ہو کرمشرق بعید کی بہت سی عورتیں یورپی نقوش والے مرد تلاش کرتی ہیں۔ جب انہیں یورپ کا آدمی نہیں ملتا تو وہ اس سے ملتا جلتا کوئی شخص ڈھونڈ لیتی ہیں اور یوں کبھی کسی عرب کا، کسی ایرانی کا، یا کسی جنوبی ایشیا کے شخص کا دائو لگ جاتا ہے۔
کثیرالاطفال خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے شاہ کو بچپن میں جو توجہ نہیں ملی تھی، ویسی ہی عدم توجہ پاکستان کی اپنے عوام کی طرف ہے۔ پاکستان ایک ایسی پھوہڑ ماں ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتی اور یہ بچے ذرا بڑے ہوں تو یا مشرق وسطی، مشرق بعید، اورمغرب کی ’دکانوں‘ میں چھوٹے کے طور پہ بھرتی ہوجاتے ہیں یا اپنے لیے جرائم پیشہ زندگی کا انتخاب کرتے ہیں۔

Labels: , ,


Tuesday, October 04, 2016

 

پاک چین دوستی کا امتحان


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار تین سو

 ستمبر سولہ، دو ہزار سولہ


پاک چین دوستی کا امتحان

 
شاہراہ ریشم ریستوراں، فری مونٹ، کیلی فورنیا
دوپہر کا وقت ہے مگر لگتا ہے کہ ظہرانے کا مجمع چھٹ چکا ہے۔ ریستوراں میں صرف تین میزوں پہ لوگ بیٹھے ہیں۔ یہ ریستوراں ویگر [مغربی چینی] کھانوں کے لیے مقبول ہے۔ باہر ایک نقشے پہ دکھایا گیا ہے کہ کاشغر کا تاریخی تعلق تاشقند، بخارا، اور تبریز سے ہے۔ ریستوراں والے جو چاہیں تاریخی حوالہ دیں اس وقت تو کاشغر کا تعلق چین سے ہے۔ ریشم کی تجارت سینکڑوں برس جاری رہی مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ اب نہ تاشقند، نہ بخارا، نہ کاشغر، نہ تبریز، ان میں سے کسی شہر کو ریشم کی تجارت کی وجہ سے کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے۔ اب ان شہروں کو اپنے پائوں پہ خود کھڑے ہونا ہے۔ اور یہ دنیا اسی طرح کام کرتی ہے۔ وقت بدل جاتا ہے۔ میلہ کسی قسم کا ہو، بس کچھ ہی دن چلتا ہے۔
ہم سے قریبی میز پہ تین چینی خواتین بیٹھی ہیں، اصل چینی، ہان چینی۔ ان کے لباس اور میک اپ سے ان کی خوشحالی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں تین حجابی خواتین ریستوراں میں داخل ہوتی ہیں۔ ان حجابیوں کے چہروں سے حلال چینی ریستوراں میں آنے کی خوشی عیاں ہے۔ ریستوراں میں کام کرنے والے آپس میں ویگر میں باتیں کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی جلدی سے ان حجابی خواتین کے پاس پہنچ کر انہیں سلام کرتی ہے۔ وہ تینوں بلند آواز وعلیکم اسلام کہتی ہیں۔ حجابی خواتین اب خوشی سے کھلی جارہی ہیں۔ کارکن لڑکی کے سلام سے تصدیق ہوگئی ہے کہ گوشت ذبیحہ ملے گا۔
کچھ ہی دیر میں ہمارا کھانا آجاتا ہے۔ ہری پیاز کےپراٹھے، لامیین، اور نان کے تلے ٹکڑوں کے ساتھ دنبے کا گوشت۔ ہمارے قریب بیٹھی تینوں چینی خواتین ٹکٹکی باندھے ہماری طرف دیکھ رہی ہیں۔ ہم ان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں تو وہ پوچھتی ہیں کہ ہم نے کیا کھانا آرڈر کیا تھا اور پھر ہمارے جواب پہ کہتی ہیں کہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ وہی کچھ آرڈر کرتیں جو ہم نے کیا تھا۔ دراصل وہ تینوں اس ڈر کی ماری ہیں جس ڈر میں دنیا کے اکثر لوگ گرفتار ہوتے ہیں۔ وہ صرف آشنا لوگوں اور آشنا چیزوں سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ ان تینوں چینی خواتین نے بھی وہی کچھ آرڈر کیا تھا جو اکثر چینی ریستورانوں میں ملتا ہے۔ مالدار مگر ڈرپوک عورتیں۔

چین رفتہ رفتہ پھیلا ہے۔ آج کا ملک چین مغرب سے درآمد شدہ  قومی ریاست کے خیال سے وضع ہے۔ بھانت بھانت کے لوگ اس بڑے ملک کا حصہ ہیں۔ ان سب کو بتایا جارہا ہے کہ تمھارا وطن چین ہے، اس لیے تم سب چینی ہو۔ بہت سے گروہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ تبتی قیادت ملک سے فرار ہوگئی ہے، ویگر کچھ کچھ دنوں بعد شور مچاتے ہیں۔ مگر چین بھی پوری طاقت سے ڈٹا ہوا ہے۔ کھیل وقت کا ہے۔ چند دہائیاں اور گزریں گی اور تبتی اور ویگر بھی اپنے آپ کو چینی کہنے لگیں گے۔

آخسو سے کورلا
بس ٹھیک وقت پہ آخسو سے چل دی۔ ایک دفعہ پھر پورے دن کا بس کا سفر درپیش تھا۔ ہمارا واحد کام یہ تھا کہ بس کی کھڑکی سے باہر جھانکتے رہیں اور شنجیانگ کے دیہی علاقوں کے مناظر کو اپنے سامنے سے گزرتا دیکھیں۔ اس بس میں ہمیں ایک ویگر عورت ملی جو تھوڑی اردو بول لیتی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا آدمی پاکستان سے تھا۔ اس وقت تک ان دونوں کی شادی نہیں ہوئی تھی مگر عورت کی خواہش تھی کہ ایسا جلد ہوجائے۔
بس جب کورلا پہنچی تو ہم سخت تھک چکے تھے اور جلد از جلد ہوٹل پہنچ کر آرام کرنا چاہتے تھے۔ ہماری سفری کتاب میں جس مقبول ہوٹل کا پتہ لکھا تھا ہم وہاں پہنچ گئے۔ ہوٹل کے استقبالیہ پہ موجود خاتون نے خوشخبری سنائی کہ خالی کمرے موجود تھے؛ اور پھر ہمارا پاسپورٹ طلب کیا۔ ہم نے خاتون کو اپنا ہرا پاسپورٹ دیا تو یوں لگا کہ ان کو بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔ انہوں نے فورا ہمارا پاسپورٹ واپس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہوٹل پاکستانیوں کے لیے نہیں تھا۔ کیا مطلب کہ ہوٹل پاکستانیوں کے لیے نہیں ہے؟ جواب آیا کہ ہوٹل دوسرے غیرملکیوں کے لیے ہے؛ پاکستانیوں کے لیے نہیں ہے۔ پاکستانیوں کے لیے ایک مخصوص ہوٹل ہے جس کا پتہ ہمیں دیا جاسکتا ہے۔ ہم نے سخت غصے میں وہ کاغذ لیا جس پہ ہوٹل کا نام لکھا گیا تھا اور اس خاص ہوٹل کی طرف چل دیے جو پاکستانیوں کے لیے مخصوص تھا۔ وہاں پہنچ کر ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ ہوٹل اوپری منزل پہ تھا۔ وہاں تک جانے والی سیڑھیوں پہ بہت سے لوگ شلواریں قمیضیں پہنے بیٹھے تھے۔ وہ مونگ پھلی کھا رہے تھے اور کچرا ادھر ہی پھینکتے جارہے تھے۔ ہمیں اندازہ ہوگیا کہ پاکستانیوں کے الگ ہوٹل کیوں مختص تھا۔ مگر ہم اس ہوٹل میں ٹہرنا نہیں چاہتے تھے۔ ہم سفری کتاب میں دیے ایک اور ہوٹل پہنچے۔ وہاں بھی وہی معاملہ ہوا۔ ہمیں  پاکستانیوں کے لیے مخصوص ہوٹل جانے کا مشورہ دیا گیا۔ ہم نے منت سماجت شروع کردی کہ ہمیں اس ہوٹل میں ٹہرنے دیا جائے؛ ہم کوڑا کرکٹ والے ہوٹل میں نہیں جانا چاہتے تھے۔ نہ جانے کیسے ہوٹل والوں کا دل پسیجا اور ہمیں وہاں رات بسر کرنے کی اجازت مل گئی۔ ساتھ ہی بتادیا گیا کہ ہمیں کمرہ بہت صبح چھوڑنا ہوگا۔ شاید ہمیں وہاں غیرقانونی طور پہ ٹہرایا جارہا تھا۔
اس رات بستر پہ لیٹے ہم سوچ رہے تھے کہ پاک چین دوستی زندہ باد کا نعرہ آپ کو سرحد کے اس طرف ہی سنائی دے گا۔ وہ پرانے زمانے کی بات ہے جب دو غریب پڑوسی اچھے دوست تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ اب ایک پڑوسی بہت امیر ہوگیا ہے۔ اور جہاں دو دوستوں میں معاشی عدم مساوات ہو وہاں اچھی دوستی قائم نہیں رہ سکتی۔ اب وہ امیر پڑوسی ہماری طرف حیرت سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ پاکستان یار، تمھیں کیا ہوا، تم وہی غریب کے غریب رہ گئے۔
پاکستان کی سرحد سے لگے چین کے اس علاقے میں پاک چین دوستی زندہ باد تو دور کی بات، پاکستان سے واضح نفرت نظر آرہی تھی۔ بات اتنی ہے کہ کوئی ایسے ملک سے کیسے محبت کرے جہاں کے لوگ چرس کی تجارت سمیت ہر قسم کے غیرقانونی کام کرتے ہوں؛ جہاں کے اکثر سیاح کم پڑھے لکھے، بدتہذیب ہوں، اور عورتوں کے متعلق عجیب و غریب خیالات رکھتے ہوں؛  جہاں کے لوگ ہر جگہ غیرقانونی طور پہ رہنے کے لیے تیار ہوں اور واپس جانے کا نام نہ لیں۔

مگر ان لوگوں کو الزام دینا تو ایک سطحئی بات ہے۔ اصل الزام تو اس معاشرے کو دینا چاہیے جو ایسے لوگ بناتا ہے۔ اور مورد الزام ان لوگوں کو ٹہرانا چاہیے جن کے پاس معاشرے کی باگ ڈور ہے اور وہ عوام کی حالت بہتر کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ اس صورتحال میں سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اور معاشرے کی راہ متعین کرنے کا کام کرنا چاہیے۔ اور حالات کتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں اپنا مثبت عمل جاری رکھنا چاہیے۔

Labels: , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?