Monday, October 06, 2014

 

نیلم احمد بشیر اور 'وحشت ہی سہی'






ستمبر اٹھاءیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو آٹھ


ادب زبان کے ایک خاص نشے کا نام ہے۔ اچھا ادب پڑھ کر، سن کر ایک خاص قسم کا خمار ذہن پہ چڑھتا ہے۔ میں ایسے ہی مخمور ذہن کے ساتھ آج کی اردو اکیڈمی کی محفل سے پلٹا ہوں۔ اس محفل کی مہمان خاص مشہور افسانہ نگار نیلم احمد بشیر صاحبہ تھیں۔  نیلم احمد بشیر موجودہ عہد میں اردو افسانے کا ایک بڑا نام ہے۔

نیلم احمد بشیر کے افسانوں کے لیے بعض ناقدین نے 'چونکا دینے والی کہانی' کا کلمہ استعمال کیا ہے۔ نیلم احمد بشیر کے افسانے ان لوگوں کے لیے چونکا دینے والے ہیں جو غفلت کا شکار ہیں، جنہوں نے جان بوجھ کر اپنی آنکھوں پہ فرسودہ اخلاقی اقدار کے پردے چڑھاءے ہوءے ہیں۔ نیلم احمد بشیر کے افسانے نءے دور کی کہانیاں ہیں۔ یہ اس دور کی کہانیاں ہیں جس میں تمام انسانی حاجات بے دھڑک زیر بحث آتی ہیں۔
نیلم احمد بشیر کی فن کہانی کو سمجھنے کے لیے اس افسانہ نگار کے اجزاءے ترکیبی کو سمجھنا ہوگا۔ اس سفر کا سب سے اول جز ایک ایسا بچپن ہے جہاں اپنے وقت کے بڑے بڑے قلمکار آس پاس نظر آتے ہیں، جہاں ادب کی کتابیں باآسانی دستیاب ہیں اور خوب مطالعے میں ہیں۔ پھر اس سفر کی اگلی منزل نیلم احمد بشیر کا شادی کے بعد باءیس سال کی عمر میں امریکہ آنا اور یہاں چودہ سال رہنا ہے۔ اس مدت میں کہانی نویس مغربی دنیا اور تہذیب کا بغور مطالعہ اور اپنے تمدن سے مستقل موازنہ کرتا ہے۔ پھر ایک اور جز امریکہ سے واپس جا کر پاکستان میں رہنے کا تجربہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں رہنے کا تجربہ جو پے درپے ناکام حکومتوں کے عتاب سے مستقل تنزلی کی طرف ماءل ہے۔ پھر سفر کی اگلی منزل نوگیارہ کی دہشت گردی کے واقعات اور اس کے ردعمل میں آنے والی عالمی تبدیلیاں ہیں۔ یہ وہ تمام تجربات اور مشاہدات ہیں جن سے نیلم احمد بشیر کا جمالیاتی حس بنا ہے اور یہی وہ ملغوبہ ہے جس سے ان کی تمام کہانیاں کشید ہوءی ہیں۔
نیلم احمد بشیر پچھلے چالیس سالوں سے لکھ رہی ہیں۔ ان کی افسانہ نویسی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول، ابتدا، جب ایک بیس اکیس سال کی لڑکی کہانیاں لکھنا شروع کرتی ہے اور اپنی نگارشات کو اساتذہ ادب کے سامنے پیش کرتی ہے۔ دور دوءم، جس میں قلم رک گیا ہے اور کہانی نویس کے سامنے ایک ساتھ ہزاروں ایسی کہانیاں آگءی ہیں جن کو افسانہ نگار اپنے احساس میں جذب کررہا ہے۔ اور پھر تیسرا دور جو اول اور دوءم دورکی ارتقاءی منزل ہے کہ جب کہانی نویس گھریلو ذمہ داریوں سے نسبتا آزاد ہے اور اسکا قلم بے تکان چل رہا ہے۔ ہم اس وقت نیلم احمد بشیر کے فن کے اسی تیسرے دور سے بہرہ مند ہورہے ہیں۔
یوں تو نیلم احمد بشیر نے کءی کتابیں لکھی ہیں؛ گلابوں والی گلی، جگنوءوں کے قافلے؛ لے سانس بھی، ستمگر ستمبر؛ ایک تھی ملکہ؛ اور چار چاند؛ مگر اردو اکیڈمی کی ستمبر محفل بالخصوص نیلم احمد بشیر کی تازہ کتاب 'وحشت ہی سہی' کی تقریب تعارف تھی۔
اس تقریب تعارف کا آغاز اردو اکیڈمی کے بانی اور روح رواں تاشی ظہیر صاحب نے نیلم احمد بشیر کے فن اور شخصیت پہ لکھے گءے ایک مختصر مضمون سے کیا۔ سان فرانسسکو بے ایریا کی جانی پہچانی کہانی نویس مریم تراب اور ماضی کی ٹی وی اداکارہ صحاب ہمدانی نے وحشت ہی سہی کی بعض کہانیوں پہ اپنے تبصرے پیش کیے۔
نیلم احمد بشیر کی کہانیاں پڑھنے والا نیلم احمد بشیر کی صاف گوءی سے متاثر ہوءے بغیر نہیں رہ سکتا۔ نیلم احمد بشیر نہایت سچاءی سے ان تمام حقیقتوں کو کہانیوں کے روپ میں بیان کردیتی ہیں جو ان کو اپنے آس پاس نظر آتی ہیں۔
نیلم احمد بشیر کے افسانے جدید دور کے افسانے ہیں۔ یہ افسانے ان روایتی کہانیوں سے جدا ہیں جن میں کہانی اپنے کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہے۔ روایتی کہانیوں کا اختتام یوں ہوتا ہے کہ شہزادے اور شہزادی کی شادی ہوجاتی ہے اور رعایا ہنسی خوشی رہنے لگتی ہے، یا ایک سیلابی ریلا آتا ہے اور سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ نیلم احمد بشیر کی کہانی نویسی کسی ایک قوی مشاہدے کو تخیل کا تڑکا لگا کر قصے کا لبادہ اوڑھانے سے عبارت ہے۔ کہانی نویسی کے اس انداز کو نیلم احمد بشیر کے افسانے 'اندر کا رنگ' پڑھ کر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس افسانے میں کرنل سبحان اپنے اردلی کو مستقل ڈانٹتے ڈپٹتے رہتے ہیں۔ جب اردلی بازار سے تربوز لاتا ہے اور تربوز کاٹنے پہ اندر سے لال نہیں نکلتا تو کرنل سبحان اردلی کو سخت سست کہتے ہیں جس پہ کرنل سبحان کی بیوی بہت کڑھتی ہیں۔ یہ تربوز اندر سے لال نہ نکلنے والا واقعہ کءی بار ہوتا ہے اور ایک دن اردلی غصے میں چھری کرنل سبحان کے پیٹ میں گھونپ دیتا ہے۔ "کیوں کرنل صاحب، تربوز کو اتنا لال ہونا چاہیے۔۔۔بتاءیے کرنل صاحب۔ اندر کا یہ رنگ ٹھیک ہے نا؟" اردلی ہذیانی کیفیت میں چیختا جاتا ہے اور وار کرتا جاتا ہے۔ کہانی یہیں ختم ہوجاتی ہے۔
اسی افسانے میں ایک جگہ کرنل سبحان کی بیوی کا دل جوان اردلی پہ آیا تھا اور قاری کو بعد میں بتایا جاتا ہے کہ کرنل سبحان کی بیوی کا نام زلیخہ اور اردلی کا نام یوسف ہے مگر یہ قاری کا کام ہے کہ وہ اس کہانی کا منطقی انجام تلاش کرنے کی کوشش کرے کہ آیا اردلی کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد کرنل سبحان کو زلیخہ اور یوسف نے مل کر وہیں گھر کے پچھواڑے میں دفن کردیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے، یا اردلی کو پولیس پکڑ کر لے گءی۔
سچاءی اور آزاد خیالی جو نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں جگہ جگہ نظر آتی ہے اس کی مثال 'عشق کی ایک جست' نامی افسانے میں صاف نظر آتی ہے۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولاءینا کی مسلمان طالبات اپنے طور پہ مذہبی روایات اور جدید دور کے تقاضوں کی گتھی سلجھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایک مسلمان عالمہ ان کو بتاتی ہے کہ عشق ایک وقتی جذبے کا نام ہے، مرد اور عورت کے درمیان شادی زیادہ مضبوط بندھن ہے۔ مگر پھر یہ لڑکیاں 'سیونگ فیس' نامی ڈاکیومینٹری دیکھتی ہیں جس میں شوہر اپنی بیویوں کے منہ پہ تیزاب ڈال رہے ہیں، اور ساتھ ہی کولوراڈو کے ایک سینما ہال میں قتل و غارت گری کا وہ واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک مسلح ذہنی مریض ایک سینما ہال میں داخل ہو کر لوگوں پہ گولیاں برسانا شروع کرتا ہے۔ فلم بینوں میں کءی جوڑے ہیں۔ ان میں سے کءی مرد چھلانگ لگا کر اپنی محبوبہ کے سامنے آ جاتے ہیں تاکہ ان کی محبوبہ گولیوں کی زد سے محفوظ رہے اور اس عمل میں  یہ نوجوان اپنی جان دے دیتے ہیں۔ عشق کی اسی جست کو دیکھ کر یہ طالبات ایک فکری جست میں عشق اور شادی کی حقیقتیں سمجھ جاتی ہیں۔
وحشت ہی سہی کا ایک افسانہ 'حاجت روا' بھی ایسی ہی کہانی ہے جو آپ کو زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرے گی۔ ایک حاجی صاحب اپنے لنگر سے غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں، اور ان ہی غریبوں میں ہیجڑے بھی شامل ہیں۔ حاجی صاحب ایک اور حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں اور وہیں انتقال کرجاتے ہیں۔ ان کے انتقال پہ سوگ کا اعلان ہوتا ہے اور ہیجڑے بھی سوگ میں ناچنا بند کردیتے ہیں۔ مگر پھر کچھ ہی دن میں پیٹ پالنے کے لیے ناچنا گانا پھر شروع ہوجاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ حاجی صاحب حج پہ روانہ ہونے سے پہلے اپنے پسندیدہ ہیجڑے الماس کو سلیکون کی چھاتیاں لگوا گءے تھے۔
نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں آپ اکثر ایسے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو آپ کو اپنے آس پاس نظر آءیں گے۔ امریکہ میں رہنے والوں کے لیے نیلم احمد بشیر کا افسانہ، 'کھڑکی کا منظر' ایک ایسا ہی افسانہ ہے۔ قدیر اور شہناز ریاست نیویارک میں رہتے ہیں اور بہت محنت سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے علاقے میں ایک بڑا گھر لے لیا ہے، مگر اپنی اپنی نوکریوں میں مصروفیت کی وجہ سے انہیں گھر کے کام کاج کا وقت نہیں ملتا۔ پھر بہت کوشش سے قدیر کی ماں ان کے پاس امریکہ آجاتی ہے۔ اب ماں گھر کی صفاءی ستھراءی کا کام کرتی ہے اور کھانے بناتی ہے۔ اماں گھر کے کام کاج مکمل کر کے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہیں جہاں انہیں اکثر ایک بوڑھا نظر آتا ہے جو اپنے گھر سے صرف ڈاک لینے اور کوڑا باہر پھینکنے کے لیے نکلتا ہے۔ ایک دن وہ بوڑھا سڑک پہ گرجاتا ہے۔ اماں گھر سے باہر نکل کر بوڑھے کی مدد کے لیے دوڑتی ہیں۔ گھر کا دروازہ کھلنے پہ گھر کا الارم بول اٹھتا ہے؛ پولیس آجاتی ہے۔ شام کو قدیر اور شہناز اماں سے گھر کا الارم بجنے اور پولیس کے آنے پہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔
نیلم احمد بشیر کمال کی مزاح نگار بھی ہیں۔ سب سے اعلی پاءے کے مزاح نگار وہ ہوتے ہیں جو قاری کو اپنے آپ یعنی مزاح نگار پہ ہنساتے ہیں۔ نیلم احمد بشیر کی اعلی مزاح نگاری کا ایسا ہی ایک نمونہ چار چاند نامی کتاب میں 'تھوڑا سا گلہ بھی' کے عنوان سے ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر آپ ہنس ہنس کر دہرے نہ ہوجاءیں تو سمجھ جاءیے گا کہ آپ حس لطیف سے محروم ہیں۔
نیلم احمد بشیر کے تعارف میں اکثر بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق فلاں خاندان سے ہے یا یہ کہ نیلم احمد بشیر فلاں کی بہن ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نیلم احمد بشیر کو اپنی شناخت کے لیے ایسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ نیلم احمد بشیر کی شناخت ان کا قلم ہے۔ وہ اپنے مضبوط قلم اور جدا اسلوب کے سہارے بہت اونچاءی پہ کھڑی ہیں۔
اردو اکیڈمی کی ستمبر اٹھاءیس کی محفل میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ شریک ہوءے۔ اس محفل کی آڈیو ریکارڈنگ یہاں ملاحظہ کیجیے۔



Labels: , , ,


Saturday, December 14, 2013

 

میری کہانی




دسمبر آٹھ،  دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم 
کالم شمار ایک سو سرسٹھ

میری کہانی
  
آج میں آپ کو اپنی کہانی سنانا چاہوں گا۔ زندگی بھر کی داستان نہیں بلکہ کہانی کا وہ حصہ جو آج کے موضوع سے متعلق ہے۔
جب میں نے سنہ ۸۹  میں جنوبی کیلی فورنیا میں ایک جگہ کام شروع کیا تو میں کریڈٹ کارڈ قرضوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مجھ پہ یہ قرضے اس طرح چڑھے تھے کہ یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر میں ایک سال قیام کے دوران میری آمدنی واجبی تھی اور اخراجات اس سے کہیں زیادہ۔ میں نے پی ایچ ڈی کا کوالیفاءر پاس کرلیا تھا اور اپنے میجر پروفیسر ڈاکٹر کراءڈر کے کام کے ساتھ ان کی تسلیوں سے جڑا تھا کہ اپنی تحقیق کی سرمایہ کاری کے لیے انہوں نے جو درخواستیں مختلف اداروں کو بھیجی ہیں ان میں سے کوءی نہ کوءی جلد قبول ہوجاءے گی۔ گرانٹ قبول ہونے کی دیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہوگی اور مجھے بھی تحقیق کے کام کے عوض ماہانہ تنخواہ ملنے لگے گی۔ مگر ایسا نہ ہوا؛ سال بھر گزر گیا اور کراءڈر کے ہاتھ خالی رہے۔ میں اس عرصے میں کریڈٹ کارڈ پہ خرچہ کرکے اپنا گزر بسر کرتا رہا اور قرض میں دھنستا چلا گیا۔ کریڈٹ کارڈ کے قرضوں کے علاوہ میرے اوپر گاڑی کا قرضہ بھی تھا جس کی ماہانہ رقم جاتی تھی۔ میری واجبی آمدنی انڈرگریجویٹ طلبا کے امتحانی پرچوں کی جانچ سے ہوتی تھی۔ کراءڈر اگر کسی کانفرینس کے سلسلے میں جامعہ سے باہر ہوں تو میں ان کی تھرمو یا ہیٹ ٹرانسفر کی کلاس بھی پڑھا دیا کرتا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ تھے۔ کبھی ایسا ہوا کہ میرے پاس گاڑی کی ماہانہ قسط جمع کرانے کے پیسے نہ ہوءے تو میں نے ایک کریڈٹ کارڈ پہ کیش ایڈوانس لے کر اسے بینک میں جمع کرایا اور اس میں سے کچھ رقم سے گاڑی کی قسط ، اور دوسرے کریڈٹ کارڈوں کی ماہانہ کم از کم رقومات ادا کردیں۔ کچھ ہی عرصے میں قرضوں کا داءرہ میرے گرد تنگ ہونے لگا اور واضح ہوگیا کہ زیادہ دیر اس طرح کام نہ چلے گا۔ میں نے نوکری کی تلاش شروع کردی۔ جنوبی کیلی فورنیا کی ایک کمپنی نے مجھے انٹرویو کے لیے بلایا مگر کہہ دیا کہ ہم تمھیں آنے جانے اور قیام کے پیسے نہیں دے سکتے؛ تم آجاءو تو تمھارا انٹرویو کرلیں گے۔ مختصر یہ کہ میرا انٹرویو ہوا اور میں نے اگست ۸۹ سے وہاں کام شروع کردیا۔ ان سارے حالات سے گزرنے پہ مجھے اندازہ ہوا کہ مالی تنگدستی کیا ہوتی ہے اور وہ انسان کو کیسے مجبور بنا دیتی ہے۔ میں نے تہیہ کیا کہ نہ صرف یہ کہ مجھے جلد از جلد قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے بلکہ زندگی میں آءندہ کبھی ایسا وقت نہیں آنے دینا کہ مجھے قرض لینا پڑے۔ جنوبی کیلی فورنیا میں کام کرنے کے دوران میرا سارا دھیان بچت پہ تھا۔ میں نوکری کرنے کے ساتھ مستقل اضافی آمدنی کے طریقے ڈھونڈتا۔ ایک دفعہ کمپنی کی ایک ملازمہ نے مجھے بتایا کہ اس کو اپنی گاڑی کا ہیڈ لمپ بدلوانا تھا کہ پرانا والا جل گیا تھا۔ میں نے فورا پیشکش کی میں اس کا یہ کام کم قیمت پہ کردوں گا۔ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی گاڑی کا لمپ نہیں بدلا تھا۔ میں نے قریبی لاءبریری جاکر ایک کتاب پڑھ کر یہ ہنر سمجھا اور خاتون کی گاڑی کا لمپ بدل کر کچھ پیسے بنالیے۔ اپریل قریب آیا تو میں نے ایک ٹیکس سروس شروع کی اور حسن امیگریشن اینڈ ٹیکس نامی کمپنی کے کارڈ چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کیے۔ اور یوں ہسپانوی تارکین وطن کے ٹیکس فارم بھر کر اپنے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ پیدا کیا۔ اس کے ساتھ ہی انجینءیرنگ سلوشنز نامی ایک کمپنی کی بنیاد رکھی تاکہ جو کام دن کے وقت اپنی کمپنی کے لیے کروں اسی طرح کا کام شام کے وقت یا اختتام ہفتہ پہ دوسروں کے لیے کرسکوں۔ اس ساری محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ میں سال بھر کے اندر قرضوں سے باہر نکل آیا۔ آمدنی کو دانتوں سے بھینچ کر خرچ کرتا تھا اس لیے اب رقم جڑنا شروع ہوگءی۔ ڈھاءی سال گزر گءے۔ سنہ  ۹۲  میرے لیے ایک اچھا سال تھا۔ پے درپے دو امتحانات میں کامیابی حاصل کر کے میں نے ریاست کیلی فورنیا کا انجینءیرنگ لاءسینس حاصل کرلیا۔ میں مشاورتی انجینءیرنگ کے جس کام سے وابستہ ہوں اس کام میں ریاست کے لاءسینس کی بہت اہمیت ہے۔ لاءسینس حاصل کرنے کے بعد مجھے آزادی کا احساس ہوا۔ اب میں مشاورتی انجینءیرنگ کا اپنا کام کرسکتا تھا۔ آزادی کے حصول کے ساتھ میری مالی حیثیت بھی مضبوط ہوگءی تھی۔  مستقل ہاتھ بھینچ کر خرچہ کرنے کی وجہ سے میرا بینک بیلنس بیس ہزار ڈالر سے اوپر ہوگیا تھا۔ سنہ ۹۲ میں یہ اچھی بڑی رقم تھی۔ میں ساتویں آسمان پہ تھا۔ اب مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ایک راستہ تو وہ تھا جو میرے دوسرے ساتھیوں نے اپنایا۔ یعنی پس انداز رقم کو گھر کی ڈاءون پیمینٹ کے لیے استعمال کیا اور یوں 'اپنے' کشادہ گھروں میں رہنے لگے۔ مگر یہ تو دوبارہ قرض میں پھنسنے کا راستہ تھا۔ میں اس کے لیے تیار نہ تھا۔ بہت مشکلوں سے تو مجھے آزادی ملی تھی، میں واپس قید کی زندگی کیسے اختیار کرسکتا تھا؟ میں تو آزادی سے دنیا کی سیر کرنا چاہتا تھا۔ میں نے لاس اینجلس سے لندن کا یک طرفہ ٹکٹ لیا اور دنیا دیکھنے کے لیے نکل گیا۔ برطانیہ سے اوپر اسکاٹ لینڈ گیا پھر نیچے آیا، رودبار انگلستان پار کرکے فرانس چلا گیا، پھر وہاں سے اطالیہ۔ جزیرہ نما اطالیہ میں نیچے آتے ہوءے باری تک پہنچا اور بحری جہاز لے کر یونان گیا۔ ایتھنز پہنچ کر مشرقی یورپ کے نءے کھلنے والے ملکوں کے ویزے حاصل کیے اور تھیسالونیکی سے بلغاریہ پہنچا۔ پھر آگے رومانیہ، ہنگری، چیکوسلاواکیہ [یہ اس وقت تک ایک ہی ملک تھا]، اور پولینڈ۔ گڈانسک سے پھر ایک بحری جہاز میں سوار ہوا اور ہیلسنکی پہنچ گیا۔ فن لینڈ، سوءیڈن، اور ناروے، تینوں جگہ اوپر نیچے سفر کیا اور کءی بار آرکٹک داءرے میں داخل ہوا۔ ناورے سے ڈنمارک آیا اور پھر وہاں سے جرمنی۔ جرمنی سے ہالینڈ پہنچ کر تھم گیا۔ اب گھر کا آرام چھوڑَے چھ ماہ گزر چکے تھے۔ امریکہ سے جو رقم لے کر چلا تھا وہ ختم کے قریب تھی۔ ایمسٹرڈیم میں یہ انتظام کیا کہ امریکہ میں اپنے بینک اکاءونٹ سے مزید رقم حاصل کی۔ اس وقت جنوبی افریقہ میں سیاسی اتھل پتھل تھی۔ اس تیزی سے بدلتی سیاسی بساط کو قریب سے دیکھنے کی خواہش میں اڑ کر جوہانسبرگ چلا گیا۔ جوہانسبرگ میں قیام کے دوران چند ساتھی مل گءے؛ ان لوگوں کے ساتھ کراءے کی گاڑی لے کر سوازی لینڈ گیا جہاں ایک جگہ ہماری گاڑی سے ہم چاروں کا سارا سامان چوری ہوگیا۔ ہماری قیمتی اشیا یعنی پاسپورٹ اور رقم کیونکہ ہمارے ساتھ تھیں اس لیے صرف تن کے کپڑوں کے علاوہ وہ چیزیں بچیں۔ واپس جنوبی افریقہ میں داخل ہونے کے بعد کیپ ٹاءون گیا۔ وہاں سے پلٹا اور زمبابوے میں داخل ہوگیا۔ پھر آگے زیمبیا، ملاوی، اور تنزانیہ کا زمینی سفر کرتا ہوا کینیا پہنچا۔ اب امریکہ چھوڑے آٹھ ماہ ہونے کو آءے تھے۔ مالی طور پہ بھی یہ حالت تھی کہ اور خرچہ کرتا تو دوبارہ تنگدستی کے اس مقام پہ پہنچ جاتا جہاں سمجھوتے کی زندگی گزارنا لازم ہوجاتا ہے۔ میں دودھ کا جلا تھا، عافیت اسی میں جانی کہ جہاز لے کر کراچی پہنچ جاءوں۔ آٹھ ماہ اور باءیس ممالک کے اس طویل سفر سے یہ ہوا کہ میرے پاس لوگوں کو سنانے کے لیے بہت سی کہانیاں جمع ہوگءیں۔ لکھنا تو میں نے اوءل عمر میں ہی شروع کردیا تھا مگر سنہ ۹۳ میں کراچی پہنچ کر میں باقاعدہ طور پہ اخبارات کے لیے لکھنے لگا۔ سفر کے مشاہدات کے ساتھ ہی اپنے ملک کے حالات بھی میری تحریروں کا موضوع تھے۔ میں وہ شخص نہیں رہا تھا جس نے کءی برس پہلے پاکستان چھوڑا تھا، اور نہ ہی میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے یا تو پاکستان دیکھا ہو یا مغربی دنیا۔ میں تو افریقہ سے پلٹا تھا اور دیکھ سکتا تھا کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد آزاد ہونے والے مختلف ممالک اپنے اپنے مخصوص حالات سے کیسے نبردآزما ہورہے ہیں۔ میرے اندر موجود کتابیں رفتہ رفتہ باہر آنا شروع ہوءیں۔ پہلی کتاب ایک ناول تھی جس کا عنوان تھا 'راستہ جو منزل ہے'۔  یہ کتاب مکتبہ دانیال کراچی نے شاءع کی۔ اگلی کتاب مختصر مضامین اور مشاہدات پہ مبنی تھی؛ اس کا نام 'خیال باری' تھا۔ تیسری کتاب کا نام 'خشک و تر، ملک و لوگ' تھا۔ اور اس طرح کتابیں لکھنے کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حال میں 'خیال باری' طباعت سوءم کے مرحلے سے گزری ہے اور اب یہ آن لاءن، امیزان ڈاٹ کام پہ دستیاب ہے۔ اگر آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو میں آپ سے درخواست کروں گا آپ امیزان سے 'خیال باری' ضرور حاصل کریں۔ مجھے یقین ہے کہ نہ صرف اس کتاب کو پڑھ کر آپ خوش ہوں گے بلکہ آپ کچھ ایسی باتیں بھی سیکھیں گے جن سے آپ کو اپنی زندگی سلجھانے میں مدد ملے گی۔

کتاب یہاں دستیاب ہے
  


Labels: , , , , , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?