Friday, December 12, 2014
جشن تاشی ظہیر
دسمبر سات، دو ہزار چودہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار دو سو اٹھارہ
جشن تاشی ظہیر
جمعہ
دسمبر پانچ، سان فرانسسکو بے ایریا کے معروف شاعر تاشی ظہیر کے اعزاز میں ایک
پرتکلف تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف شعبوں میں تاشی ظہیر صاحب کی اعلی
خدمات کو سراہا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد خالد رانا صاحب کی قیادت میں تاشی ظہیر کے
دوستوں نے کیا تھا۔ محفل کی نظامت کے فراءض ارشد رشید صاحب نے انجام دیے۔
خالد
رانا، عبدالستار غزالی، جعفر شاہ، نگیش اوادھانی، اور جی ایس فلک نے اپنی تقاریر
میں تاشی ظہیر کی ادبی خدمات کا ذکر کیا اور اردو اکیڈمی شمالی امریکہ کے جھنڈے
تلے ماہانہ ادبی نشست باقاعدگی سے منعقد کرانے پہ ان کے کام کوخراج تحسین پیش کیا۔
اس
تقریب میں بہت سے ایسے لوگ بھی شریک تھے جنہوں نے کسی نہ کسی موقع پہ تاشی ظہیر
صاحب کے ساتھ دفتری کام کیا تھا۔ ڈینا لالس، کوریو کماچو، اور عمران جعفر نے
کاروباری معاملات میں تاشی ظہیر کی پروفشنل خدمات کا اعتراف کیا۔
محمد
ناظر خان، سمن تنیجا، روبینہ قریشی، اور نیلوفر خان نے اپنی تقاریر میں تاشی ظہیر
کی کمیونٹی خدمات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح ان لوگوں نےتاشی ظہیرصاحب کو
ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار پایا۔
اس
موقع پہ تاشی ظہیر کے بڑے صاحبزادے عمار ظہیر اور بیگم ناہید ظہیر نے بھی مختصر
کلمات ادا کیے۔
تقاریر
کے اختتام پہ فرح یاسمین شیخ نے کتھک رقص پیش کیا۔ ان کے ساتھ ایک طبلہ نواز اور
سرود پہ بین کونین تھے۔
رقص
کے بعد ایک موسیقی پروگرام کا آغاز ہوا جس میں الماس شبوانی، عطیہ حءی، طلعت قدیر
خان، نگیش اوادھانی، ٹینا مان، اور سید ثروت نے تاشی ظہیر کی شاعری گا کر سناءی۔
کی بورڈ پہ علی شہاب الدین اور طبلے پہ اشنیل سنگھ نے گانے والوں کا ساتھ دیا۔ ان
ہی میں سے چند مغنیوں نے دوسرے معروف گانے بھی پیش کیے اور یوں مدھر سروں کی یہ
محفل رات دو بجے کے بعد اختتام پذیر ہوءی۔
فدوی بھی تاشی ظہیر کی صحبت سے
بہرہ مند ہوا ہے۔ میں تاشی ظہیر کو بہت غور سے دیکھوں تو مجھے ان آنکھوں میں بہت
دور ایک ایسا لڑکا نظر آجاتا ہے جو ملتان میں صابر فلور ملز کے باہر پریشان کھڑا
ہے۔ اس پریشانی میں جو ایک سولہ سالہ لڑکے کو باپ کا سایہ سر سے اٹھنے پہ ہوسکتی
ہے۔ اس ناگہانی آفت نے اس لڑکے کو وقت سے پہلے بلوغت میں دھکیل دیا۔
حسرت نے جو شعر زنداں کی مشقت کے بارے میں لکھا تھا صابر
دہلوی صاحب اس شعر کی زندہ مثال تھے۔ صابر دہلوی مشق سخن کے ساتھ اصل چکی کی مشقت
کرتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ صابر فلور ملز کی چکی بجلی سے چلتی تھی۔ یہاں چکی کی
مشقت میں گندم اور دوسرا اناج خریدنا، کاریگروں کی مدد سے اسے پیسنا، آٹے کو
بوریوں میں بند کرنا اور اسے گاہکوں کو بیچنا اور اس پورے کاروبار کا حساب کتاب
چلانا شامل تھے۔ ان کاروباری مصروفیات کے دوران بھی اشعار یقینا آتے رہتے ہوں گے
جو فرصت ملنے پہ کاغذ پہ اتارے جاتے ہوں گے۔ صابر دہلوی کے نامور ہم عصر، شاعری کے
میدان میں صابر دہلوی کا مقام پہچانتے تھے؛ اسی لیے اعلی مقام شعرا ملتان آنے پہ
صابر دہلوی سے ضرور ملتے۔
تاشی ظہیر کا بچپن آٹے کی چکی کے کاروبار، صابر دہلوی کی
شاعری، اور گھر آنے والے نامور سخنوران اردو کی صحبت سے مل کر بنا ہے۔ صابر دہلوی
کی وفات سے جہاں ایک طرف گھر میں ہمہ وقت موجود ایک بڑا شاعر گیا وہیں اس رحلت کے
ساتھ ان لوگوں کا آنا جانا بھی کم ہوا جو اس شاعر سے ملنے آتے تھے۔ اب ایک سولہ
سال کا لڑکا تھا، چکی کا کاروبار، اور گھر چلانے کی ذمہ داریاں۔ وقت گزرا، لڑکا
جوان ہوا، اس کی شادی ہوءی، بچے ہوءے؛ ایک طرح کی ذمہ داری دوسری طرح کی ذمہ داری
میں ڈھلتی گءی مگر بچپن میں جو ادبی ماحول میسر آیا تھا اس نے طبیعت میں ایسا شعری
ذوق پیدا کردیا جو مستقل تخلیق کاری پہ اکساتا رہا۔ اس جوار بھاٹے کے زور سے جو من
کے اندر پک رہا تھا، پاکستان سے امریکہ تک، کام کاج کے درمیان شعر مستقل اترتے رہے۔
ہر لکھنے والا کسی نہ کسی درجے کا پیغمبر ہوتا ہے کہ تخلیق کار کا ہر اچھوتا خیال
ایک وحی ہی تو ہوتی ہے۔
تاشی ظہیر اچھے شاعر ہونے کے
ساتھ بہت بڑے انسان ہیں۔ وہ اردو اکیڈمی شمالی امریکہ کے، جسے خانقاہ تاشیہ کہنا
زیادہ مناسب ہوگا، سجادہ نشین ہیں۔ اور یہ کوءی معمولی سجادہ نشین نہیں ہے۔ یہ
سجادہ نشین داءود کی صورت ہے جو بیک وقت ایک نہیں دو جالوتوں سے لڑ رہا ہے۔ یہ دو
جالوت دھرم اور جاتی کے عفریت ہیں۔ [یہاں شاعرانہ رعایت سے نیشنلزم کا ترجمہ
'جاتی' کے طور پہ کیا گیا ہے۔] یہ مذہب اور قوم پرستی کے دیو ہیں۔ جنوبی ایشیا میں
کچھ ایسی ہوا چلی ہے کہ اچھے اچھے، ان دو عفریتوں کے زور سے ان کے بتاءے ہوءے
راستے پہ سر جھکا کر چلتے رہتے ہیں۔ ہوا کچھ ایسی ہے کہ جنوبی ایشیا کے لوگ دھرم
اور جاتی کے جس کنویں میں محض اتفاق سے جنم لیتے ہیں، نہ صرف اسی کنویں کو دنیا کا
سب سے شاندار کنواں سمجھتے ہیں بلکہ اس سمجھ کی بنیاد پہ دوسرے لوگوں سے لڑنے مارنے
پہ تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ انسان کے طور پہ اپنی شناخت نہیں جانتے اور شناخت کے
جو پیراہن مذہب اور ملک کے روپ میں انہیں دیے گءے ہیں، ان ہی کو اپنی اصل پہچان
سمجھتے ہیں۔ ایسے میں یہ داءود دھرم اور
جاتی کے ان جالوتوں سے مستقل لڑرہا ہے اور خانقاہ تاشیہ کے دروازے بلا تفریق ہر مذہب،
ہر قوم، ہر زبان، ہر علاقے کے شخص کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔
تاشی ظہیر شاعر ہونے کے ساتھ ادب نواز ہیں۔ ایک ایسا
وسیع القلب سخن پرور جو شعرا اور ادبا کے کام کی تعریف کرنے کے لیے ان کی موت کا
انتظار نہیں کرتا۔
شان الحق حقی سے نیلم احمد بشیر
تک، تاشی ظہیر نے ادب کے کھلاڑیوں کو ان کی زندگی میں سراہا ہے۔ ضروری تھا کہ جو
اعلی ظرف شخص دوسروں کو ان کی زندگی میں عزت دے رہا ہے، خود اسے بھی اس کی زندگی،
بلکہ جوانی میں عزت دی جاءے۔ جمعہ، دسمبر پانچ کو تاشی ظہیر کے اعزاز میں ایک
برمحل محفل سجانے پہ خالد رانا صاحب اور تاشی ظہیر صاحب کے دوسرے ساتھی مبارکباد
کے مستحق ہیں۔
Labels: Tashie Zaheer, Urdu Poetry
Wednesday, January 07, 2009
ایک لڑکا
یہ غالبا سنہ انیس سو چوالیس کی بات ہوگی۔ کلکتہ کا ایک متمول خاندان اپنی گاڑی پہ کہیں جا رہا تھا کہ نہ جانے کہاں سے سامنے ایک چارسالہ لڑکا آگیا۔ اس لڑکے نے سڑک پار کرنے کی بے قراری میں نہ دائیں دیکھا تھا اور نہ بائیں، بس دوڑ لگا دی تھی۔ گاڑی چلانے والے آدمی نے فوری طور پہ گاڑی کو ایک طرف موڑ کر گاڑی کو لڑکے سے ٹکرانے سے بس بال بال بچایا۔ گاڑی چلانے والا اگلے دو تین منٹ تک منہ ہی منہ میں اس لڑکے کو بہت سخت سست کہتا رہا تھا۔ اس شخص کو نہ تو یہ معلوم تھا کہ وہ لڑکا کون ہے، نہ یہ کہ لڑکے نے اتنی سرعت میں سڑک کیوں پار کی، اور نہ ہی یہ کہ ایک دن وہ لڑکا بڑا ہو کرکیا بنے گا۔ چار سال کے لڑکے تو بس یوں ہی ہوتے ہیں۔ سڑک کے ایک طرف چل رہے ہوں اور انہیں سڑک کے دوسری طرف اچانک اپنا باپ دکھائی پڑے تو باپ سے ملنے کی والہانہ جستجو میں بس دوڑ لگا دیتے ہیں۔ کہ عمر کے اس دور میں محبت کے برملا اظہار کو مصلحتوں کی لگام نہیں لگائی جاتی۔
لکھنئو کے ایک گھر میں دو لڑکے استانی سے قاعدہ پڑھ رہے تھے۔ اچانک دروازہ کھلا، اور محلے کا ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔ اس نے استانی کے بالکل پاس جا کر دبے الفاظ میں کچھ کہا۔ بات کچھ ایسی تھی کہ اس بات کے سنتے ہی استانی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ قاعدہ پڑھنے والے دونوں لڑکوں نے قاعدہ پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور اس کاروائی کو بغور دیکھ رہے تھے۔ استانی نے قاعدہ پڑھنے والے دونوں لڑکوں سے کہا کہ وہ فورا گھر چلے جائیں۔ کیوں؟ ابھی گھر کیوں جائیں، ابھی تو آج کا سبق ختم نہیں ہوا۔ ان میں سے ایک نے استانی سے پوچھا۔ تم لوگ اس لیے گھر جائو کیونکہ تمھارے ابو کا انتقال ہو گیا ہے، محلے کے لڑکے نے بات صاف صاف ان دونوں بھائیوں کو بتا دی۔ پھر یہ دونوں گھر کی طرف دوڑے۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ دونوں بھائی کیچڑ میں پھسلتے، زارزار روتے گھر پہنچے۔ دوسری جماعت میں پڑھنے والے اس لڑکے کے لیے یہ باپ کا انتقال موت کی حقیقت سے سامنا کرنے کا پہلا تجربہ تھا۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں موت کے بارے میں علم یوں رفتہ رفتہ ہو کہ گزر جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والا خلا ان کی زندگیوں میں بھونچال نہ لے آئے۔کہ پہلے وہ کسی دور دراز کے رشتہ دار کی موت دیکھیں، پھر اپنے گھر میں موت سے ان کا سامنا دادا، دادی، نانا، نانی کی رحلت کی صورت میں ہو۔ مگر اس لڑکے کے لیے معاملہ دوسرا تھا۔اس کے لیے باپ کے مرنے کی خبر نہ صرف موت سے اس لڑکے کی پہلی شناسائی تھی بلکہ اس مرکزی کردار کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والا خلا ایک ایسا معاشی بحران لے کر آرہا تھا جس سے اس لڑکے کو اپنی زندگی میں طویل مدت تک نبردآزما رہنا تھا۔ استانی نے اس روز لڑکے کو گھر تو روانہ کر دیا مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اب یہ لڑکا واپس پڑھنے نہ آئے گا کہ گھر چلانے کی مالی ذمہ داری کا بوجھ اس لڑکے کے ناتواں کندھے پہ بھی ڈالا جائے گا۔
مول چند کا شمار ڈھلائی کے ماہر کاریگروں میں ہوتا تھا۔ اسے آپ کوئی مشکل سے مشکل کام دیں وہ دھات پگھلا کر، اسے سانچے میں ڈھال کر، ہتھوڑے سے چوٹیں مار کر آپ کو آپ کی مطلوبہ چیز بنا کر دے دے گا۔ مول چند کے ڈھلائی کے کارخانے میں بہت سے "چھوٹے" کام کرتے تھے۔ یہ چھوٹے مول چند سے ڈھلائی کا کام سیکھتے اور اس سیکھنے کے ساتھ ساتھ کام میں مددگار ہونے کے ناتے انہیں ایک معمولی معاوضہ بھی دے دیا جاتا۔ ایک روز ایک عورت برقعہ پہنے دو کم سن لڑکوں کو تھامے مول چند کے کارخانے پہ آئی۔ عورت نے مول چند سے درخواست کی کہ مول چند دونوں لڑکوں کو اپنے کارخانے پہ رکھ لے۔ مول چند نے کچھ چوں چراں کی کہ اس کے کارخانے پہ پہلے ہی کئی لڑکے کام سیکھ رہے تھے مگر پھر اس نے عورت کی مالی مصیبت کو بھانپ کر دونوں بھائیوں کو اپنے کارخانے پہ رکھنے پہ حامی بھر لی۔ عورت دونوں لڑکوں کو مول چند کو سونپ کر گھر روانہ ہو گئی۔ لڑکوں نے کسی قدر خوفزدہ نظروں سے مول چند کی طرف دیکھا مگر جب مول چند نے ان سے شفقت کا سلوک کیا اور ان کو نرم رویے سے کام سمجھایا تو یہ دونوں مول چند سے اور ڈھلائی کے کارخانے سے مانوس ہوتے گئے۔ پھر دونوں لڑکوں کا یہ معمول بن گیا کہ وہ صبح ناشتہ کرنے کے بعد فورا مول چند کے کارخانے پہ پہنچ جاتے اور کارخانے کے بند ہونے تک وہاں کام کرتے۔
مول چند ان دونوں بھائیوں کو تندہی سے کام میں جٹا دیکھ کر سوچتا کہ یہ دنیا ایسی ہی جگہ ہے۔ یہاں وہ لوگ ہیں جن کا تعلق کتابوں سے ہے اور جو آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ صاب لوگ ہیں۔ اور پھر دوسرے مول چند جیسے لوگ ہیں جو مستقل ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں بھائی اگر پڑھ رہے ہوتے تو ایک دن معاشرے کے اول طبقے میں جا شامل ہوتے۔ مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔ اب یہ میرے کارخانے پہ ڈھلائی کا کام سیکھ رہے ہیں اور یہ معاشرے کے اسی طبقے کا حصہ بنے رہیں گے۔ اور پھر ایک دن جب یہ بڑے ہوں گے تو شاید ان کا اپنا ڈھلائی کا کارخانہ ہو جہاں دوسرے بد نصیب بچے ان سے کام سیکھنے آئیں۔ مگر مول چند کو یہ معلوم نہ تھا کہ جب بھٹیاں جھونکتے ہوئے ان لڑکوں کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں تو ان آنسوئوں میں کچھ تو کوئلے کے دھوئیں سے نکلے ہوتے ہیں اور کچھ اس خیال سے کہ وہ لڑکے اپنے حال پہ نالاں ہیں اور اس موقع کی تلاش میں ہیں جب وہ ایک بار پھر اپنا تعلق کتابوں سے استوار کر لیں گے۔
====
ہر بچہ اپنی پیدائش پہ زندگی کے لاتعداد امکانات کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ پھر جیسے جیسے عمر گزرتی ہے حوادث، تجربات، اور انسان کے اندر کی آگ اس کی راہ متعین کرتے جاتے ہیں۔ پھر عمر کے ساٹھ سے زیادہ سال گزارنے کے بعد کل کا یہ بچہ پلٹ کر اپنی زندگی کو دیکھتا ہے تو اپنی ہر کامیابی اور ہر ناکامی کو ایک تمغہ جانتا ہے۔ یہ وہ ساری باتیں، سارے تجربات ہیں جو صرف اس شخص کا ماضی نہیں ہیں بلکہ اس کا تعارف ہیں۔ ہمارے دور کے نامور شاعر جناب جاذب قریشی صاحب آج اپنی زندگی کو پلٹ کر دیکھیں تو انہیں کلکتہ کی ایک مصروف سڑک پہ حادثے سے بچنا، کم سنی میں باپ کی شفقت سے محروم ہوجانا، مول چند کے ڈھلائی کے کارخانے پہ کام کرنا، سمیت بہت سے حوادث، بہت سے واقعات یاد آتے ہیں۔اور ان حوادث کے ساتھ ساتھ ان کی ہر تصنیف کی اشاعت ایک تمغہ ہے جو ان کے سینے پہ جڑا ہے۔ جاذب قریشی صاحب ان تمغات کی قطار اپنے سیے پہ سجائے چلتے ہیں اور اپنی شاعری میں اپنے محسوسات کو بہت ایمانداری سے لکھ دیتے ہیں۔ میں جاذب قریشی صاحب سے استفادہ کرنے پہ اپنے آپ کو خوش قسمت خیال کرتا ہوں۔
جاذب قریشی صاحب کی مطبوعات درج ذیل ہیں۔
تخلیقی آواز
آنکھ اور چراغ
شاعری اور تہذیب
دوسرے کنارے تک
میری تحریریں
میں نے یہ جانا
پہچان
نیند کا ریشم
شیشے کا درخت
آشوب جاں
اجلی آوازیں
شکستہ عکس
شناسائی
جھرنے
عقیدتیں
مجھے یاد ہے
نعت کے جدید رنگ
میری شاعری، میری مصوری
Labels: Calcutta, Karachi, Lucknow, Pakistani poets, Urdu Poetry
Thursday, August 28, 2008
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے
فراز اس دنیا سے گزر گئے۔
اب صرف فراز کی یادیں ہیں۔
ایک یاد مہران ریستوراں، نو ارک سے متعلق ہے۔ فراز کے ساتھ ایک شام منائی جا رہی ہے۔ سال غالبا 2003 ہے۔ فراز اسٹیج پہ ہیں اور لوگوں کی فرمائش پہ اپنی چنیدہ شاعری سنا رہے ہیں۔ کچھ کچھ دیر کے بعد وہ اپنی شاعری بھول جاتے ہیں۔ مگر مدد موجود ہے۔ سامعین میں سے کئی ہیں جنہیں فراز کی شاعری حفظ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فراز کی شاعری کے ساتھ شعور کی منازل طے کی ہیں۔ جن لطیف احساسات کو، جن جذبات کو یہ لوگ کبھی الفاظ میں نہ ڈھال پائے تھے، فراز نے ان احساسات ان جذبات کو بہترین الفاظ کا لبادہ اوڑھا کر اس خوبصورتی کو دینا کے حوالے کیا ہے۔
پھر ایک اور یاد ہے ایک نجی محفل کی۔ یہ جون 2007 کی بات ہے۔ عینی اختر کا گھر ہے۔ عینی اختر کی دعوت پہ اس علاقے کے کئی سخن ور فراز سے ملنے پہنچے ہیں۔ رات کا کھانا ہو چکا ہے۔ فراز کے ایک ہاتھ میں گلاس ہے اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ۔ پاکستان کی سیاست پہ باتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں وکلا کی تحریک چل رہی ہے۔ فراز پاکستان کے مستقبل کے متعلق تشویش میں ہیں، وہ سیاست میں فوج کی مداخلت پہ نالاں ہیں اور کور کمانڈروں کو چور کمانڈر کہتے ہیں۔
پھر فراز سے متعلق آخری یاد یہ ہے کہ عینی اختر کے ساتھ ایک ملاقات میں منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ کس طرح فراز کی جون یا جولائی ميں کیلی فورنیا آمد پہ ایک سی ڈی کا اجرا کیاجائے گا۔
پھر کچھ ہی عرصے میں یہ خبر ہے کہ فراز شکاگو میں ہیں اور موت و زیست کی کشمکش میں ہیں۔
اور پھر کچھ دنوں کے بعد خبر ہے کہ انہیں پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔
اور پھر اگست 26 کے اخبار کی خبر ہے۔ ساتھ ایک تصویر ہے۔ ایک جنازہ رکھا ہے۔ لوگ نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہیں۔
فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے
Labels: Ahmad Faraz, California, Pakistani Politics, Urdu Poetry
Monday, June 16, 2008
صابر دہلوی اور میر حسن پہ ادبی محفل کا انعقاد

تاشی ظہیر صاحب سان فرانسسکو بے ایریا میں اردو اکیڈمی کے روح رواں ہے۔ اردو اکیڈمی ہر ماہ کے تیسرے اتوار ایک ادبی نشست منعقد کرتی ہے۔ جون کی ادبی نشست میں دو شعرا، صابر دہلوی اور میر حسن، کو یاد کیا گیا۔
درج ذیل مضمون اس محفل میں پڑھا گیا۔
گرد ،گدا، گرما، گورستان اور صابر دہلوی
میں نثر لکھتا ہوں اور میرے لیے شاعری سمجھنا دشوار ہوتا ہے مگر تاشی ظہیر صاحب کے کہنے پہ صابر دہلوی کے اوپر مضمون لکھنے بیٹھ گیا۔
قلم تھاما تو سب سے پہلے اپنے آپ سے سوال کیا کہ تم صابر دہلوی صاحب کے متعلق کیا جانتے ہو؟ جواب آیا، ککھ نہیں۔
آنکھوں کے سامنے تارے سے لرز گئے کہ اب تاشی ظہیر صاحب کو کیا منہہ دکھائوں گا۔
پھر ایک محفل تھی کہ جہاں ایلٹن جان آئے ہوئے تھے۔ اس محفل میں انگریزی گانوں کے بعد محفل کو اردو رنگ اوڑھنا تھا اور مجھے وہاں صابر دہلوی صاحب پہ مضمون پڑھنا تھا۔ میری تیاری بالکل نہیں تھی اس لیے میں پریشان تھا۔ پھر ساتھ ہی وہاں ایک ٹائم بم بھی تھا جس کا علم صرف مجھے تھا اور جسے اگلے ۳۶ سیکنڈ میں پھٹ جانا تھا۔ مجھے اس بم کو پھٹنے سے پہلے اسے پانی میں پھینکنا تھا۔ غرض کہ ایک ساتھ کئی پریشانیاں لاحق تھیں۔ اور میرے پسینے چھوٹ رہے تھے …کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے شکر ادا کیا کہ وہ سب کچھ خواب تھا۔ مگر اردو اکیڈمی کی ماہانہ محفل میں صابر دہلوی پہ مضمون پڑھنے کی ذمہ داری ہرگز خواب نہیں تھی۔ میں سر کھجا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا کروں۔
بھلا ہو تاشی ظہیر صاحب کا کہ انہوں نے مشکل حل کر دی؛ امتحانی پرچے کے ساتھ ساتھ نقل کرنے کے لیے صابر دہلوی پہ مواد بھی پکڑا دیا۔ اور یہ مواد تھا محترمہ عذرا بتول صاحبہ کا تحقیقی مقالہ جو صابر دہلوی صاحب پہ تھا اور جسے عذرا بتول صاحبہ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے اردو میں ایم فل کی سند حاصل کرنے کے لیے ۱۹۹۶ میں لکھا تھا۔ عذرا بتول صاحبہ کے تحقیقی کام کے نگران ڈاکٹر انور احمد صاحب تھے۔
نہ جانے ڈاکٹر انور احمد صاحب نے عذرا بتول صاحبہ کے اس مقالے کو جانچنے کے بعد انہیں پاس کیا یا نہیں لیکن مجھے قیاس ہے کہ اگر صابر دہلوی صاحب حیات ہوتے عذرا بتول صاحبہ کو تحقیق میں مزید جستجو کرنے کے لیے اکساتے ۔
اس مقالے کی ورق گردانی کے بعد صابر دہلوی صاحب عذرا بتول سے شفقت سے پیش آتے اور ان کی کاوش کو یقینا سراہتے مگر ساتھ ہی عذرا بتول سے کہتے کہ "خاتون، تھوڑی محنت کرنا سیکھیں۔ ایم فل کی سند آسانی سے نہیں ملتی۔ کہنے کو تو آپ نے ۲۴۰ صفحات کا مقالہ لکھا ہے مگر اس مقالے میں کل آٹھ صفحات آپ کے اپنے ہیں جب کہ بیشتر صفحات میں آپ نے میرے کلام کو حروف تہجی کے حساب سے بانٹ دیا ہے کہ الف سے صاہر دہلوی کا یہ شعر ہے، ب سے یہ، اور ج سے یہ۔ یہ کام تو چھٹی جماعت کا بچہ بھی کر سکتا تھا۔ عذرا بتول خانم، ذرا دنیا کی دوسری جامعات پہ نظر کیجیے اور یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ دوسری قوموں کے طلبا اپنے تحقیقی مقالوں پہ کتنی محنت کر رہے ہیں۔"
ساتھیو، مختصرا یہ کہ عالم خیال میں عذرا بتول پہ صابر دہلوی صاحب کی یہ سرزنش سن کر میں بالکل ہی مایوس ہو گیا۔
مگر پھر مجھے خیال ہوا کہ صابر دہلوی صاحب کا یوں تن تنہا رہ جانا کوئی اتنا برا نہیں ہے۔
قلم کا میدان ایسا ہی میدان ہے جہاں انسان تنہا اترتا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں نہ اولاد کی سند کام کرتی ہے اور نہ اسلاف کے پرانے کارنامے۔ اس میدان میں لکھنے والا، شعر کہنے والا کمر باندھ کر کودتا ہے اور پھر ہر طرف سے تیر اور نیزے کی بارش ہو جاتی ہے۔ اور جو ان تمام واروں کو سہہ کر آگے بڑھتا رہے بس وہی سورما کہلاتا ہے۔
پھر میں خود ہی صابر دہلوی کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ ان کا کلام تھاما اور اسے پڑھ کر انہیں سمجھنے کی کوشش کی۔ اور مجھے ایک ایسے اچھے شاعر سے واقفیت ہوئی جو اپنے دور کے تمام مضبوط رجحانات کا ترجمان ہے۔ جس نے نعت سے لے کر غزل اور نظم تک ہر صنف میں جھنڈے گاڑے ہیں۔
نعت کا شعر ملاحظہ کیجیے:
بخشش کا غم نہ خوف عذاب و ثواب کا
دامن پکڑ لیا ہے رسالت مآب کا
اور غزل کے یہ چند شعر ہیں:
کبھی زمیں کے کبھی کھائے آسماں کے فریب
مرے نصیب میں لکھے تھے وہ جہاں کے فریب
کچھ اس طرح سے بھی ہوتی ہے قلب کو تسکین
کہ ہم نے جان کے کھائے ہیں پاسباں کے فریب
اور یہ کہ،
میری کشتی ہی نہیں بحر حوادث کا شکار
کس نے دریائے محبت کا کنارا دیکھا
وہ یہ کہتے ہیں کہ جب شعر سنے صابر کے
ایک جذبات کا بہتا ہوا دریا دیکھا
اور یہ کہ،
اپنا یہی عقیدہ ہے دنیائے عشق میں
جب دل حسیں نہیں ہے تو دنیا حسیں نہیں
اور یہ کہ،
مانا کہ اب کرم سے ہی پیش آئیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ
مانا کہ اب رہے گا ہمیشہ میرا خیال
مانا کہ اب نہ ہوگا میری ذات سے ملال
مانا کہ اب نہ آئے گا لب پر کوئی سوال
مانا کبھی نہ اب مجھے ٹھکرائیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ
ہم نے کیا ہے آپ کی باتوں کا اعتبار
ہم نے کیا ہے قلب خزیں آپ پر نثار
ہم نے کیا ہے دامن دل غم سے تار تار
یہ دیکھ کر بھی رحم جو فرمائیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ
مانا کہ اب نہ ہوگی مری زندگی تباہ
مانا کہ اب نہ ہوگی کبھی قہر کی نگاہ
مانا کہ اب نہ ہوں گے کبھی جور بے پناہ
مانا کہ اشک آنکھوں میں بھر لائیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ
صابر دہلوی کی شاعری میں مجھے نئے تجربے کا شوق بھی ملا۔ میرے مختصر اردو شاعری مطالعے میں کسی شاعر کی کھانسی پہ کوئی نظم نظر سے نہیں گزری۔ صاہر دہلوی کی کھانسی پہ یہ خوب صورت نظم ملاحظہ فرمائیے۔
اب غم انگیز ہو گئی کھانسی
پہلے سے تیز ہو گئی کھانسی
ڈاکٹر کی دوائیں کھا کھا کر
اور بھی تیز ہو گئی کھانسی
اسپ کی طرح دوڑتا ہوں میں
یعنی مہمیز ہو گئی کھانسی
رات دن سینہ کوبی کرتا ہوں
شاہ گردیز ہو گئی کھانسی
اس کی تعظیم اٹھ کر کرتا ہوں
بنت پرویز ہو گئی کھانسی
صابر دہلوی اپنے وقت کے ایک اہم شاعر تھے۔ ان کے دور میں ان کے دم سے مشاعروں کی رونق رہتی ہو گی۔ مگر ان تمام باتوں کے ساتھ ہمارے لیے صابر دہلوی یوں اہم ہیں کہ انہوں نے تاشی ظہیر صاحب کی پرورش کی ہے۔ صابر دہلوی یوں تو تاشی ظہیر صاحب کے دادا تھے مگر تاشی ظہیر صاحب کے والد کی غیر موجودگی کی وجہ سے صاہر دہلوی صاحب نے ہی باپ بن کر تاشی ظہیر صاحب کو پالا۔ اور صابر دہلوی صاحب نے یہ کام بخوبی کیا کہ خاندان میں جس ادبی ذوق کی روایت چلی آرہی تھی اس روایت کو انہوں نے اگلی نسل میں دونوں لڑکوں یعنی انوار انجم اور تاشی ظہیر تک بڑھا دیا۔ تاشی ظہیر صاحب کی ادبی کاوشوں کو دیکھ کر صابر دہلوی صاحب کی روح آج بھی طمانیت پاتی ہوگی۔
صابر دہلوی صاحب کی تصویر: بشکریہ تاشی ظہیر صاحب
Labels: Mir Hasan, Noshi Gilani, Sabir Dehlavi, Tashie Zaheer, Urdu Poetry, اردو شاعری، ادبی نشست
