Saturday, August 09, 2008

 

اردشیر کاوس جی کا سچ



اس مختصر فلم میں پاکستان کے ممتاز صحافی، آردیشیر کاوس جی، کی کھری کھری باتیں سنیے۔ زیادہ دورانیے کی یہی فلم اسی نام سے گوگل ویڈیو پہ موجود ہے۔
[اردو میں کاوس جی صاحب کی نام کے دوسرے رائج تلفظات اردشیر کاوس جی، اردیشر کاوسجی اور اردشیر کاوسجی ہیں۔]
سمندطور

Labels: , , , , , , , , , , , , , ,


Tuesday, December 04, 2007

 

اکیلے نہ جانا





امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ریٹائرڈ جرنیل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر انتخابات کے بعد حالات ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوئے تو وہ چلے جائیں گے۔
I have all the choices, if the situation develops in a manner that was just absolutely unacceptable to me, I have a choice of leaving.
کہاں سے چلے جائیں گے؟ صدر کا عہدہ چھوڑ کر چلے جائیں گے؟ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں گے؟ یا دنیا چھوڑ دیں گے؟
پرویز مشرف صاحب نے یقیناً یہ بات انٹرویو لینے والے یعنی کرسٹوفر کیومو کو اور اس کے توسط سے امریکہ کو ڈرانے کے لیے کہی ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف کی یہ دھمکی سن کر کرسٹوفر پہ کپکپی طاری ہو گئی۔
آپ چلے جائیں گے؟ کرسٹوفر کے منہ سے بمشکل نکلا اور قریب تھا کہ وہ تڑ سے زمین پہ گر جاتا، لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا۔ پھر اسے تسلی دی گئی کہ ریٹائرڈ جرنیل صاحب نے "حالات مرضی کے مطابق نہ ہوئے" کی شرط عائد کی ہے۔ اور یہ بہت کڑی شرط ہے۔ اور شاید ہی کوئی ایسا موقع آئے جب پرویز مشرف کا خیال ہو کہ حالات بالکل بے قابو ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ سن کر کرسٹوفر کو تسلی ہو گئی اور اس نے آبدیدہ ہو کر "اکیلے نہ جانا" گانے کا خیال دل سے نکال دیا۔

Labels: , , , ,


Friday, November 30, 2007

 

گرہ کٹ



گرہ کٹوں کی ایک خاص چال ہوتی ہے کہ آپ کی جیب کاٹنے سے پہلے وہ آپ کو ایک دھکا دیتے ہیں۔ آپ کی توجہ اس دھکے کی طرف ہوتی ہے تو اس درمیان آپ کی جیب کاٹ لی جاتی ہے۔
تین نومبر کو جنرل پرویز مشرف نے ایک ساتھ بہت سارے کام کیے۔ انہوں نے ایمرجینسی نافذ کی، آئین معطل کیا، سپریم کورٹ کے بہت سے ججوں کو برطرف کیا، ہزاروں وکیلوں اور سیاسی کارکنوں کوگرفتار کیا، اور آزاد ٹی وی چینلوں کی نشریات روک دیں۔ جنرل پرویز مشرف کے لیے ان سب کاموں میں سب سے ضروری اور سرفہرست کام ان ججوں سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا جو ان کو صدارتی انتخاب سے نااہل قرار دینے والے تھے۔ ایمرجینسی کا نفاذ اور دوسرے کام گرہ کٹ کا دھکا تھے۔ اب یہ دوسرے کام ایک ایک کر کے کالعدم کیے جارہے ہیں اور خیال ہے کہ شاید ایمرجینسی بھی اٹھا لی جائے۔ اس صورت میں سیاسی مبصرین کا فرض ہوگا کہ وہ لوگوں کی توجہ اس اصل کام پہ رکھیں جس پہ پردہ ڈالنے کے لیے دوسرے کام کیے گئے تھے۔ کہ لوگ نومبر تین سے پہلے والی سپریم کورٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ ہرگز ترک نہ کریں۔ ایک بے خوف اور آزاد عدلیہ کی بحالی میں ہی پاکستانی قوم کی نجات ہے۔

Labels: ,


Monday, November 12, 2007

 

ایمرجینسی کی ڈائری



پیر، 12 نومبر، 2007
ایک وحشت کا عالم ہے۔
آج ایمرجینسی کا نواں دن ہے۔ تین نومبر، ہماری تاریخ کا وہ سیاہ دن جب جنرل پرویز مشرف نے ملک پہ نیا مارشل لا لگایا۔
ہم پاکستان سے بارہ گھنٹے پیچھے ہیں۔ اس وقت وہاں منگل کی صبح ہے۔ دیکھتے ہیں کہ بی بی کے جیالے بی بی کے گرد لگایا جانے والا پولیس کا نرغہ توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ مشرف حکومت کے خلاف بینظیر کا لانگ مارچ شروع ہوتا ہے یا نہیں۔



اتوار، نومبر گیارہ
ایمرجینسی کا آٹھوں دن۔
دوپہر میں دل بجھ گیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ اگر پرویز مشرف مخالفت کو دبانے میں کامیاب ہوگئے تو ملک کا کیا بنے گا۔ ہم کس قدر پیچھے چلے جائیں گے۔ پاکستان شمالی کوریا جیسا بند، گھٹن والا ملک بن جائے گا۔
دل بوجھل کرنے والا یہ خیال صبح کاشف کے ساتھ رانچو سان انٹونیو پارک میں ہائکنگ کرتے ہوئے آیا تھا۔ لوگوں کو احتجاج سے ڈرانے کے لیے مشرف حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عام شہریوں کو بھی فوجی عدالتوں میں پیش کیا جا سکے گا۔ گویا، ناپسندیدہ عام شہریوں کو عام قاعدے قوانین سے ہٹ کر ایسی عدالتوں میں پیش کیا جا سکے گا جہاں مقدمے کی سماعت فوجی کریں گے اور سخت سزائیں دیں گے۔ عام پاکستانی جو پہلے ہی ایک غریب ملک میں پیدا ہونے کے ناتے لاغر و ناتواں ہے، ایسی کڑی سزا کی موجودگی میں کسی مظاہرے، کسی احتجاج میں شرکت کے لیے کیوں جائے گا؟ اس کے تمام حقوق ضبط کر لیے گئے ہیں اور اسے بتایا جا رہا ہے کہ اگر اس نے چوں چرا کی کوشش کی تو اسے اس احتجاج کی کڑی سزا ملے گی۔ کہاں ہے انسانیت؟ کہاں ہے وہ بین الاقوامی برادری جو ہماری مدد کو آئے؟ انسان دوست ممالک احتجاج میں پاکستان سے اپنے سفارتی تعلقات کیوں منقطع نہیں کر لیتے؟ پاکستان کے سارے سیاست داں کیوں متحد نہیں ہوجاتے؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران احتجاج میں کیوں اعلان بغاوت نہیں کر دیتے، کیوں عوام کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کرتے؟
اب وکیلوں کی احتجاجی مہم کو بچانے کی امید صرف بے نظیر کے لانگ مارچ سے ہے۔ کچھ امید عمران خان سے بھی ہے کہ اگر وہ طلبا کو سڑکوں پہ لانے میں کامیاب ہو گئے تو شاید احتجاج کی فضا برقرار رکھ سکیں۔
شام تک میرا دل کچھ بہل گیا تھا۔ خبریں اچھی ہیں۔ لگتا ہے کہ بے نظیر اور ان کی پارٹی احتجاج میں قوم کو قیادت فراہم کریں گے۔ ضروری ہے کہ اس وقت تمام سیاسی اختلافات بھلا کر ہر اس مرد اور عورت کا ساتھ دیا جائے جو ایمرجینسی کے خلاف ہے۔





Labels: , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?