Sunday, November 02, 2014

 

وہ ایک بچہ چار سالہ









اکتوبر ستاءیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو بارہ


وہ ایک بچہ چار سالہ



تاریخ انسان کے انسان پہ مظالم سے بھری پڑی ہے۔ تیمور کے متعلق مشہور ہے کہ اسے دشمنوں کی کھوپڑیوں سے مینار بنانے کا شوق تھا۔ مگر مظالم کی ان تمام قدیم داستانوں میں ایک بہت بڑی کمی ہے۔ یہ داستانیں بے تصویر ہیں۔ ان پرانے تاریخی واقعات کے مقابلے میں آج کچھ اور ہی معاملہ ہے۔ کیمرے ہر جگہ ہیں اور تصویر اتارنا بہت آسان ہے۔ چنانچہ ہر جگہ تصاویر  بناءی جارہی ہیں اور زیادہ تر خبریں باتصاویر ہوتی ہیں۔ بلکہ بات یہاں تک پہنچی ہے کہ اگر کوءی خبر بے تصویر ہو تو اس کی صداقت پہ شبہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ عہد کے مظالم سے متعلق چند تصاویر جو میں نے جمع کی ہیں، ان میں ایک تصویر بالخصوص دل ہلا دینے والی ہے۔  یہ تصویر ایک صحرا میں اتاری گءی ہے؛ حد نظر چٹیل میدان نظر آتا ہے جس میں چھوٹے بڑے پتھر پڑے ہیں۔ اس تصویر کا مرکزی کردار ایک چار سالہ لڑکا ہے۔ لڑکے نے ایک سفید جیکٹ پہنی ہوءی ہے، اس کے باءیں ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ ہے جو کافی بھاری معلوم دیتا ہے۔ اس تصویر میں اس چار سالہ لڑکے کے علاوہ چار لوگ اور بھی ہیں، ایک عورت اور تین مرد۔ ان چاروں نے نیلے یونیفارم پہنے ہوءے ہیں جن پہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کہ مہر چھپی ہے۔ تصویر میں عورت کو جھک کر چارسالہ لڑکے سے بات کرتے ہوءے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر دراصل شام اور اردن کی باہمی سرحد کے قریب کھینچی گءی ہے۔ وہ چار سالہ لڑکا اپنے گھر والوں سے کیسے بچھڑا؟ اس لڑکے نے قتل و غارت گری کے کون کون سے رونگٹے کھڑے کردینے والے مناظر دیکھے ہیں اور کیا یہ مناظر بھیانک خواب کا روپ دھار کر ساری عمر اس لڑکے کا پیچھا کریں گے؟
اس کالم کے پڑھنے والو، کیا اس تصویر کا منظر پوری انسانیت کے منہ پہ ایک زوردار طمانچہ نہیں ہے؟ کیا یہ منظر تمھیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے؟
میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے بارہا سفر کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے یقینا دنیا نہیں دیکھی مگر دنیا کے کءی حصے ضرور دیکھے ہیں، اور ان مختلف ممالک میں زمینی سفر کیا ہے۔ میں دیکھ سکتا ہوں کہ آج کی دنیا دو قسم کی سیاسی شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اول، ان جگہوں پہ جہاں طویل عرصہ نوآبادیاتی نظام رہا اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مقامی حکمراں برسراقتدار آگءے مگر لمبا عرصہ سیاسی نظام منجمد رہنے کی وجہ سے مقامی لوگوں میں انصاف سے حکمرانی کا تجربہ نہ رہا۔ ان جگہوں پہ یکے بعد دیگرے آنے والی ناکام حکومتوں کے کارن عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے اور بہت سے لوگ ان جگہوں سے نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں۔ دوءم، وہ ممالک جنہوں نے اشتراکیت کا راستہ اپنایا۔ پھر سوویت یونین کے ٹوٹنے پہ یہ ممالک سیاسی طور پہ دیوالیہ ہوگءے۔ ان میں چند ہی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے تیزی سے اپنی معیشت کا رخ منہ موڑا اور عوام کو سرمایہ داری نظام میں چلانے میں کامیاب ہوگءے۔ جب کہ اشتراکی ماضی رکھنے والے بہت سے ممالک سرمایہ داری نظام کی راہ میں ڈگمگاتے چل رہے ہیں؛ ان جگہوں سے بھی لوگ ہجرت کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں، اور بہتر جگہ نقل مکانی کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے اس دنگل میں اگر کبھی جنگ چھڑ جاءے تو بات بالکل ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ جہاں جنگ ہوتی ہے وہاں کے لوگ بری طرح پستے ہیں۔ یوں تو کہنے کو انسان نے ایک عرصہ ہوا آدم خوری چھوڑ دی ہے مگر جنگ دراصل آدم خوری ہی کی ایک شکل ہے۔
مگر کیا اس ظالم دنیا پہ آنسو بہانہ ہی کافی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر آپ آرام سے دو وقت کا کھانا رہے ہیں، اور آپ کی جان کو فوری کوءی خطرہ نہیں تو آپ کو اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا ہوگا کہ درج بالا جگہوں پہ موجود لوگوں کو ظلم کی چکی میں پسنے سے بچانے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں؟  اور آپ کو سمجھنا ہوگا کہ ایک عرصے سے لوگ اس معمے کا حل کیسے تلاش کررہے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے، کوءی تعلیم عام کرنا چاہتا ہے تو کسی کا خیال ہے کہ معیشت کی بحالی ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو ترقی پذیر ممالک کی تمام خرابیوں کا حل ہے۔ مگر دوا کوءی بھی تجویز کی جاءے، بہت سے مساءل کا شکار یہ ممالک اتنے بڑے ہیں اور ان میں سے اکثر کی آبادی اس قدر زیادہ ہے کہ اس دوا کے کاریگر ہوتے ہوتے بھی کءی دہاءیاں گزر جانے کا امکان ہوتا ہے۔ تو اس درمیان وہ لوگ جو آج ان جگہوں پہ پریشانی کا شکار ہیں کیا کریں؟ بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی قاءل ہوگیا ہوں کہ بہت بڑے بڑے علاقوں اور کروڑوں کی آبادی کو بہتر معیار زندگی تک پہنچانے کی کوشش بہت جلدی تھک کر بیٹھ جانے کا ایک راستہ ہے۔ زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک محدود علاقے اور ایک چھوٹی آبادی پہ کام کیا جاءے۔ چھوٹی جگہ کے مسءلے کو بہت جلد حل کیا جاسکتا ہے اور اگر اسی طرح جگہ جگہ چھوٹے پیمانے پہ کام کیا جاءے تو یہ سارا کام مل کر بہت بڑا کام بن سکتا ہے۔ چھوٹی جگہ پہ، کم ابادی پہ، کیسے کام کیا جاءے؟ اس جگہ کو اپنے پاءوں پہ کھڑا کیا جاءے کہ یہ جگہ وہاں رہنے والوں کے لیے خوراک خود اگا سکے اور اپنی تواناءی کی ضروریات خود پوری کرسکے۔  اس جگہ کے لوگ اپنی حفاظت کا خود انتظام کریں اور خود اپنی حکومت ہوں۔ اور اس جگہ کے لوگ اپنے علاقے میں رہنے والے لوگوں کی مستقل تعلیم کا انتظام کریں۔ خراب اور سیاسی طور پہ ناہموار جگہوں پہ جس طرح کی چھوٹی فعال بستیوں کی ضرورت ہے، اس سے متعلق خیالات یہاں موجود ہیں۔



تصویر بشکریہ اینڈریو ہارپر، یونیسیف، اردن

Labels: , , , ,


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?