Friday, July 19, 2019

 

قربانی کے بعد تعفن سے بچنے کا آسان حل


قربانی کے بعد تعفن سے کیسے بچیں؟
علی حسن سمندطور
مجھے میلے ٹھیلے، تہوار بہت پسند ہیں۔ میں خوشی کے ان موقعوں کو رنگوں اور خوشبوئوں کے ساتھ جوڑتا ہوں۔ مگر ایک مذہبی تہوار ایسا ہے جسے ہم نے ، اپنی  بے وقوفی سے سخت بدبودار بنا دیا ہے اور وہ ہے بقرعید۔ جیسے جیسے  عیدالاضحی قریب آرہی ہے  میرے اندر ایک خوف بڑھتا جارہا ہے۔ کیا اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگا جیسا ہر دفعہ ہوتا ہے؟ کیا اس دفعہ بھی  بقرعید پر قربانی کے بعد مذبح جانور کے ناپسندیدہ حصّے گھروں کے سامنے ہی ڈال دیے جائیں گے؟ اس دفعہ تو بقرعید اور بارش کا ساتھ ہوگا۔ سڑنے والی آلائش بارش کے ساتھ مل کر تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماریوں کا سبب نہ بن جائے؟
پاکستان کی اکثر آبادیوں میں  عید الاضحی کے بعد تمام اہل محلہ کی ایک اجتماعی قربانی شروع ہوجاتی ہے اور ہم سڑنے اور تعفن پھیلانے والی آلائشوں کو مستقل سونگھتے رہتے ہیں۔ ہماری یہ اجتماعی قربانی چار مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں فقیر اور خانہ بدوش، اوجھڑیوں اور دوسرے پھینکے جانے والے حصوں میں سے اپنی پسند کا مال نوچ کر لے جاتے ہیں اور باقی ماندہ کو وہیں پھیلا جاتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان ٹکڑوں پہ کتے اور بلیاں حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنی رغبت کے حصّے نوچتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ سب سے تکلیف دہ ہوتا ہے جس میں مختلف بیکٹیریا ان آلائشوں پہ جھپٹتے ہیں اور پھر سڑنے کی بو چہارسو پھیل جاتی ہے۔ سڑتی ہوئی یہ اوجھڑیاں مختلف خطرناک بیماریوں کے جراثیم کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ جلد یا بدیر یہ جراثیم ہوا میں اڑ کر انسانوں تک پہنچتے ہیں اور ان کو بیمار کردیتے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں ہوا سے اڑنے والی گرد کے ساتھ یہ فضلہ ذرہ ذرہ ہر سمت میں اڑتا ہے اور تقریباً محرم کے آخر تک لوگ اس اجتماعی قربانی سے فارغ ہوتے ہیں۔
بقرعید کے بعد تعفن سے بچنے کا ’آسان حل یہ ہے کہ آلائش کو دفن کردیں۔ قربانی سے پہلے ساڑھے تین فٹ قطر کا دو فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔ اگر جانور زیادہ ہوں تو اسی تناسب سے گڑھے کے حجم میں اضافہ کرلیں۔ عید پہ قربانی کے جانور کو گڑھے پہ ذبح کریں تاکہ تمام خون گڑھے میں چلا جائے۔ مذبح جانور کا گوشت بناتے وقت ایک پلاسٹک فرش پر بچھا لیں تاکہ تمام آلائشوں کو صفائی کے ساتھ ایک جگہ جمع کیا جاسکے اور فرش پر خون بھی نہ لگنے پائے۔ ممکن ہو تو یہ کام گڑھے سے قریب کریں۔ آلائشوں کو گڑھے میں ڈال دیں۔ پلاسٹک کو گڑھے کے اوپر دھو لیں۔ [پلاسٹک کو گڑھے میں نہ ڈالیں۔] یہ کام مکمل کرنے کے بعد گڑھے کو پر کردیں اور اضافی مٹی اس کے اوپر ہی ڈھیر کردیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ تمام مدفون آلائشیں بہترین قسم کی کھاد میں تبدیل ہوجائیں گی۔ آلائشوں کا حجم کم ہونے کی وجہ سے مٹی اندر دھنس جائے گی اور اضافی مٹی تقریباً اپنی سطح پہ واپس آجائے گی۔ اس قسم کی ’آلائش قبروں‘ کے اوپر نہایت موئثر طریقے سے درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ آلائشوں کو دفن کرنے کے لیے یہ گڑھے آپ اپنے باغ میں، یا  سڑک کے قریب درخت لگانے کی منصوبہ بندی سے کھود سکتے ہیں۔ اس دفعہ  بقرعید سے دو روز پہلے ہی یا تو خود ایسے گڑھے کھود لیں یا کسی مزدور کو رقم دے کر یہ کام کروالیں۔
ہوسکتا ہے آپ  مجھے بتائیں کہ آپ کے شہر میں  بلدیہ کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی ہے اور علاقے سے اوجھڑیاں فوراً ہی اٹھا لی جاتی ہیں۔ اس صورت میں بھی آلائشوں کو دفن کرنا زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک طرف تو آپ اس طرح اپنی زمین کو زرخیز بنا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بلدیہ کے اخراجات کو بچانے کے علاوہ آپ اپنے ماحول کو بہتر بنا رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب کوڑا اٹھانے والا ٹرک کم چلے گا تو کم دھواں آپ کے ماحول میں داخل ہوگا۔ مزید یہ کہ ٹرک کم چلنے کی وجہ سے تیل کی بچت ہوگی اور ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔

Thursday, July 18, 2019

 

بقرعید کے بعد تعفن سے کیسے بچیں


پهريون سنڌي


توهان عيد الاضحي کان پوء خراب حالتن کان پاڻ بچائي سگهو ٿا.
قرباني کانپوء جانورن جا ڪوڙو کي دفن ڪيو

قدم واري عمل طرفان قدم

عيد الاضحي کان اڳ ميدان ۾ سوراخ ڪريو.

هڪ ڳئون لاء 3.5 فوٽ ويڪر سوراخ ۽ هڪ بکري لاء 2 فوٽ ويڪر

جانور کي کڏ تي ذبح ڪيو ته سڀئي رت سوراخ ۾ داخل ڪريو.

جڏهن گوشت تيار ڪندي هڪ وڏو پلاسٽڪ شيٽ کي استعمال ڪيو

سڀ فضول گڏ ڪرڻ

کڏ ۾ سڀ ڪجهه ختم ٿيل حصا خالي ڪريو.

کڏ ڀريل ۽ اضافي مٽي کي مٿي تي رکي.

اهي سوراخ بعد وڻ جي ٻوٽي ڪرڻ لاء استعمال ڪري سگهجن ٿيون.

Saturday, February 09, 2019

 

تازہ سفر کا مختصر حال



 ایک اور سفر تمام ہوا۔ ایک اور سفر جو مجھے بےحد مالا مال کرگیا۔ تقریبا پانچ ہزار تصاویر، دو سو گیگا بائٹ پہ مشتمل گھنٹوں کی ویڈیو، سو گیگا بائٹ پہ مشتمل گھنٹوں کی آڈیو، ہزاروں لکھے الفاظ، اور بے شمار حسین یادیں۔
یہ سفر کیلی فورنیا کے ایک گائوں سے شروع ہوا۔ یہاں سے سان فرانسسکو ہوائی اڈے کی مسافت قریبا پانچ گھنٹے کی ہے۔ ہوائی اڈے پہنچ کر کرائے کی گاڑی واپس کی اور ترک ہوا یولاری سے روانہ ہوگئے۔ بارہ گھنٹے سے اوپر کی پرواز کے بعد استنبول پہنچے جہاں چند گھنٹے کے انتظار کے بعد دوسری پرواز کراچی کے لیے تھی۔ اگلے دو ہفتے کراچی میں اپنے محبت کرنے والوں کے ساتھ گزارے، نبیل میاں کی شادی کی تقریبات میں شرکت کی، پرانے دوستوں سے ملنا ہوا اور ساتھ چند ایسے فیس بکی یاروں سے بھی جن سے پہلے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اور پھر واپسی کا سفر شروع ہوگیا۔ ترک ہوا کراچی سے صبح چھ بجے کے قریب روانہ ہوتی ہے اس لیے اس سے پہلی والی رات غارت ہوئی۔ بھلا ہو صابر کا جو ہمیں صبح ہوائی اڈے چھوڑنے کے لیے نیچے تہ خانے میں سوگیا تھا۔ اس نے صبح بتایا کہ وہ رات سو نہ پایا کیونکہ جس چارپائی پہ وہ لیٹا وہ کھٹملوں سے بھری ہوی تھی۔ مجھے یہ جان کر افسوس ہوا اور میں نے اس کی تکلیف کا مداوا کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔
ہم استنبول سویرے ہی پہنچ گئے۔ وہاں قیام سلطان احمد نامی پرانے علاقے میں تھا۔ استنبول میں دو دن قیام کے دوران سب سے بڑا کام جمال خاشق جی کے جائے قتل کا معائنہ تھا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھنا مطلوب تھا کہ واقعی استنبول میں ایک سعودی قونصل خانہ ہے جس کا  شور ٹی وی اور اخبارات میں خوب ہوا تھا۔ سعودی قونصل خانے کے آس پاس کی ایک ویڈیو بنائی ہے جسے اپنے یوٹیوب چینل پہ ڈالنے کا ارادہ ہے۔
دو دن کے بعد ترک ہوا کی ایک اور پرواز سے مالتا پہنچے۔ وہاں سلیما نامی قصبے میں قیام تھا۔ سلیما میں چند دن قیام کے دوران دارالحکومت ویلیتا، قدیم قصبے مدینہ، اور گوزو نامی جزیرے پہ جانا ہوا۔
اگلی منزل قبرص تھی۔ یونانی قبرص کے شہر لرناکا امارات کی ایک پرواز سے پہنچے۔ قبرص میں قیام لی مو سول نامی شہر میں تھا۔ چند دن کے اس قیام کے دوران یونانی قبرص کے کئی علاقے دیکھے اور نکوسیا دیکھنے کے دوران شہر کے بیچ میں موجود سرحد پار کر کے ترک قبرص کا نکوسیا مختصرا دیکھا۔
مالتا اور قبرص دونوں جگہ ہمارے پاس کرائے کی گاڑیاں تھیں چنانچہ ہر دفعہ جزیرہ چھوڑتے ہوئے پرواز سے پہلے کرائے کی گاڑی میں پیٹرول بھر کر اسے واپس کرنے کا وقت بھی رکھنا ہوتا تھا۔
کیونکہ ہم یونانی قبرص میں ٹھہرے تھے اس لیے استنبول جاتے ہوئے پہلی پرواز لرناکا سے ایتھنزکی تھی۔ پھر وہاں سے گھنٹے بھر قیام کے بعد استنبول۔ استنبول میں اپنے ٹھکانے پہنچتے پہنچتے رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ ہمارا میزبان حکمت، ہمارے استقبال کے لیے موجود تھا۔
صبح ہوئی تو سان فرانسسکو واپسی کے لیےجہاز میں چڑھنے کی تیاری شروع ہوگئی۔ استنبول ہوائی اڈے پہ کراچی کے ہوائی اڈے کی طرح دو جگہ جامہ تلاشی سے گزرنا ہوتا ہے۔ اور پھر امریکہ جانے والے مسافروں کی گیٹ کے قریب الگ سے تلاشی ہوتی ہے۔ یوں تین تلاشیاں ہوئیں۔ مجھے یہ تلاشیاں بہت گراں گزرتی ہے اور ہر دفعہ دل کرتا ہے کہ صاف کہہ دوں کہ میں سامان سے لیپ ٹاپ نہیں نکالوں گا، جیبیں خالی نہیں کروں گا، بیلٹ نہیں اتاروں گا؛ تم اپنی مرضی سے جیسے چاہے تلاشی کرو؛ سامان ضرور کھولو مگر پھر اسی طرح احتیاط سے واپس رکھ دینا؛ سارا سامان پھیلانے کے بعد مجھے نہ کہنا کہ اب سامان خود بند  کریں۔ مگر کیا کیجیے کہ ان لوگوں سے بحث کرنا وقت ضائع کرنا ہے اس لیے ہر دفعہ کڑوا گھونٹ پی کر حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔
استنبول سے سان فرانسسکو کا سفر نسبتا بہتر گزرا کیونکہ میں نے چوبیس گھنٹے کا انٹرنیٹ کنکشن خرید لیا تھا اور جو کام واپس گھر پہنچ کر نمٹانے تھے انہیں جہاز کے سفر کے دوران ہی مکمل کردیا۔
جہاں گائوں میں رہنے کے بہت سے فائدے ہیں وہیں ایک نقصان یہ بھی ہے کہ طویل سفر کے بعد ہوائی اڈے سے گائوں تک پانچ گھنٹے کی مسافت بہت کھلتی ہے۔ سان فرانسسکو پہنچ کر کرائے کی گاڑی لی اور گائوں کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں نیند کا شدید غلبہ تھا۔ دو جگہ گاڑی روک کر تھوڑی تھوڑی دیر کی نیند کی کہ کہیں گاڑی چلاتے ہوئے آنکھ نہ لگ جائے۔
گائوں رات گیارہ بجے کے قریب پہنچے۔ ہماری طویل غیرموجودگی کی وجہ سے گھر ٹھنڈا پڑا تھا۔ اندر کے درجہ حرارت کو بہتر کرنے میں کچھ وقت لگا۔
آج تیسرا دن ہے مگر اب تک دن رات الٹے ہیں۔ شام پانچ چھ بجے نیند سے برا حال ہوتا ہے اور صبح ایک دو بجے آنکھ کھل جاتی ہے۔ ٹم کُک کے صبح تین بجے اٹھنے کا معمہ سمجھ میں آگیا۔ ضرور کام کے سلسلے میں بھارت گیا ہوگا۔ واپس پہنچ تو جیٹ لیگ کی وجہ سے صبح تین بجے اٹھنے لگا اور پھر بیداری کے ان ہی اوقات کو اپنا معمول بنا لیا۔

Sunday, September 09, 2018

 

ڈیم بنانے کے لیے ردی مال بیچنا شروع کرو


حساب کتاب واضح ہوتا جارہا ہے
حافظ سعید۔ پندرہ ملین ڈالر
کلبھوشن یادو: دس ملین ڈالر
شکیل آفریدی۔ دس ملین ڈالر
خادم رضوی۔ دو ڈالر
[خادم رضوی مع وہیل چئیر: پچاس ڈالر]


Wednesday, August 22, 2018

 

ٹِوِلّا کیا ہوتا ہے؟

ٹِوِلّا کیا ہوتا ہے؟

 
ٹِوِلّا وہ ملا ہوتا ہے جو ٹی وی کے ذریعے اپنے گاہکوں تک پہنچتا ہے۔

ٹِوِلّا یعنی ٹی وی ملّا۔
یہ چالاک ملّا ہے۔ پہلے یہ سائنسی ایجادات کے خلاف تھا مگر جب اس نے دیکھا کہ سائنسی ایجادات کا سہارا لے کر دکان خوب چمکائی جا سکتی ہے تو اس نے ٹی وی کو اپنے گمراہ خیالات دور دور تک پھیلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس کو ٹی وی سے براہ راست آمدنی نہیں ہوتی مگر ٹی وی پہ آنے کی وجہ سے اس کا نام بن جاتا ہے اور پھر جب لوگ اسے نجی محافل میں بلاتے ہیں تو یہ ان کی اچھی طرح کھال کھینچتا ہے۔




This page is powered by Blogger. Isn't yours?