Saturday, October 25, 2014

 

گاڑی کا حادثہ، زندگی آسان




اکتوبر انیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو گیارہ


گاڑی کا حادثہ، زندگی آسان

 سخت گرمیوں کےدن تھے۔سہ پہر کے اس سمے سورج کچھ ڈھلا تھا مگر زمین اب تک تپ رہی تھی۔ میں آٹھویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ بھٹو حکومت نے نجی اداروں کو قومیانے کی مہم شروع کی تھی اور اشیاءے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے آٹا اور چینی راشن کارڈ پہ ملا کرتے تھے۔ محلے کی وہ دکان جہاں سے آٹا اور چینی راشن پہ ملتے تھے ہمارے گھر سے دور نہ تھی۔ اس روز میں گھر سے راشن کارڈ اور رقم لے کر راشن کی دکان پہ جارہا تھا۔ راستے میں ایک گھر پڑتا تھا جو ایک عرصے سے زیر تعمیر تھا۔ دیواریں کھڑی ہوگءی تھیں مگر ان پہ پلستر نہ ہوا تھا۔ میں بہت دنوں سے وہاں سے گزرتا ان دیواروں کو دیکھتا تھا اور اتنا عرصہ انہیں دیکھنے کی وجہ سے میری ان نامکمل دیواروں سے شناساءی ہوگءی تھی۔ مگر اس دوپہر منظر کچھ اور تھا۔ زیر تعمیر مکان کی دیوار کے ساتھ بانس کے بلیوں اور دیودار کے پھٹوں، تختوں کی مچان بن چکی تھی اور مزدو دیوار پہ پلستر کے کام میں زوروشور سے مشغول تھے۔
میں ایک لمحے کے لیے وہیں رک گیا۔ کسی چیز کو کھودینے کا احساس میرے وجود میں سراءیت کرگیا۔ جن دیواروں سے میری شناساءی ہوچکی تھی، وہ اب پلستر کے نیچے پوشیدہ ہونے والی تھیں۔ میں اب شاید کبھی ان دیواروں کو اس طرح نہ دیکھ پاءوں گا۔
دو روز پہلے کھودینے کا ایسا ہی ایک احساس اس وقت ہوا جب میری حادثہ شدہ گاڑی ایک کھینچ ٹرک [ٹو ٹرک] میں لدی، ٹرک روانہ ہوا، اور وہ گاڑی جس نے تیرہ سال میرا ساتھ دیا تھا میری نظروں سے اوجھل ہوگءی۔ اسی وقت مجھے خیال ہوا کہ میرے اندر کسی قنوطی روح کا ایک ٹکڑاہے جو ہر طرح کی تبدیلی پہ مجھے دل گرفتہ کرنا چاہتا ہے۔
بات ہاءی وے آٹھ سو اسی سے شروع ہوءی۔ گاڑی کے حادثے کے بعد ہاءی وے قریبا بند ہوگءی تھی اس لیے پولیس والے نے فون کر کے کھینچ ٹرک کو بلایا؛ وہ لوگ ٹریفک سے بھڑتے کچھ ہی دیر میں وہاں پہنچ گءے اور گاڑی کو کھینچ کر شہر ہیورڈ میں واقع اپنے یارڈ میں لے گءے۔ اب انشورینس والوں سے ہماری بات چیت شروع ہوءی۔ انشورینس کمپنی کا ایک آدمی گیا اور گاڑی کو وہاں دیکھ آیا جہاں وہ کھڑی تھی۔ اس نے فون کر کے ہمیں بتایا کہ گو کہ وہ ایڈجسٹر نہ تھا مگر گاڑی کی حالت دیکھ کر وہ بتا سکتا تھا کہ گاڑی اب مرمت کے لاءق نہیں رہی ہے۔ باالفاظ دیگر گاڑی کی مرمت پہ جو خرچہ آءے گا وہ اس رقم سے زیادہ ہے جو اس پرانی گاڑی کی چالو حالت میں قیمت ہے۔  ہمیں یہ مژدہ جان فزا سنانے کے بعد انشورینس والے گاڑی کو اٹھا کر اپنے یارڈ میں لے گءے؛ گاڑی اب مزید شمال میں شہر مارٹینیز پہنچ چکی تھی۔ اس یارڈ میں انشورینس کمپنی کے ایک باقاعدہ ایڈجسٹر نے گاڑی کا معاءنہ کر کے تصدیق کی کہ گاڑی اب کوڑا ہوچکی ہے۔ اس درمیان میں ہم نے ادھر ادھر معلومات حاصل کیں۔ ہمارے ایک دوست گاڑیوں کے معاملات میں بہت شاطر ہیں؛ ان کا کہنا تھا کہ ہم انشورینس والوں کی باتوں میں نہ آءیں۔ گاڑی واپس حاصل کریں اور اس کی مرمت خود کروالیں۔ مرمت کون کرے گا؟ اس سلسلے میں ڈھونڈ ہوءی تو منجیت سنگھ کا پتہ معلوم ہوا۔ منجیت سنگھ ایک ماہر کاریگر ہیں۔ ان کے آگے کے تین دانت داءیں جانب سے غاءب ہیں۔ اپنے جزوی پوپلے منہ کے ساتھ جب وہ انگریزی بولتے ہیں تو ان کی انگریزی پنجابی ہی کی کوءی شکل معلوم دیتی ہے۔ گاڑی انشورینس والوں کے قبضے سے حاصل کرنے سے پہلے منجیت سنگھ کی راءے لی گءی۔ انہوں نے زبانی، گاڑی کے نقصان کا حال سنا اور پھر خیال ظاہر کیا کہ گاڑی ہزار، بارہ سو میں ٹھیک ہوجانی چاہیے۔ ہم نے جھٹ انشورینس والوں کو فون کیا، ان کو منجیت سنگھ کی دکان کا پتہ بتا کر ہدایت کی کہ فوری طور پہ گاڑی دکان پہ پہنچاءی جاءے۔ جلدی کا کام شیطان کا؛ جلدی میں انشورینس والوں نے غلط گاڑی روانہ کردی۔ غلط گاڑی جو نہ جانے کس بھلے مانس کی ٹویوٹا کیمری تھی چار دن تک منجیت سنگھ کے پاس کھڑی رہی اور اس درمیان ہم انشورینس والوں سے شور و وایلہ کرتے رہے۔ بالاخر غلط گاڑی واپس گءی اور ہماری گاڑی منجیت سنگھ کے پاس پہنچی۔ گاڑی ہاتھ آنے پہ منجیت سنگھ نے تھوڑا سے پیچھےہٹ کر گردن ٹیڑھی کر کے، اور بھنویں سکیڑ کر گاڑی کو یوں دیکھا جیسے بکرا پیڑی میں قربانی کے بکرے کو تیکھی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ خیربکرے کے ساتھ تو اور بھی کءی نازیبا حرکتیں کی جاتی ہیں۔  گاڑی کا کچھ دور سے جاءزہ لینے کے بعد منجیت سنگھ نے آگے بڑھ کر ہڈ اٹھا کر انجن کو غور سے دیکھا اور پھر دونوں طرف سے پیماءش لینا شروع کی۔ اس تشخیصی عمل کے دوران منجیت سنگھ مکمل طور سے خاموش رہے۔ ان کی خاموشی ہم اسی خوف سے برداشت کر رہے تھے جس خوف سے ہم ڈاکٹروں کی خاموشی سہتے ہیں۔ اگر کبھی بیمار پڑنے پہ ڈاکٹر کے پاس جاءیں تو ڈاکٹر صاحب بھی دیر تک اسی طرح کا معاءنہ کرتے رہتے ہیں۔ پہلے تھرمومیٹر منہ میں ڈالا جاتا ہے، پھر فشار خون جانچا جاتا ہے، پھر نبض دیکھی جاتی ہے؛ کبھی کہا جاتا ہے کہ منہ کھول کر آ کریں۔ ہم پرانے خیالات کے ہیں اور آ کے بجاءے 'آءیے' کہنا چاہتے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب کے سامنے چوں نہیں کرتے۔ پھر ڈاکٹر صاحب پیٹھ پہ برف جیسا ٹھنڈآ اسٹیتھواسکوپ جگہ جگہ لگا کر ہم سے کھانسنے کو کہتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر صاحب کے اشاروں پہ ناچتے ہیں اور دل ہی دل میں خوفزدہ رہتے ہیں کہ اس سارے عمل کے بعد کسی پرانے فلم کے سین کی طرح ڈاکٹر صاحب اپنا چشمہ اتار کر ایک طرف رکھیں گے اور ہونٹ بھینچتے ہوءے ہم سے کہیں گے کہ، "آپ نے آنے میں دیر کردی۔ سرطان پورے جسم میں پھیل چکا ہے۔ آپ کے پاس مشکل سے ایک ہفتہ ہے۔ اس ایک ہفتے میں آپ جلدی جلدی اپنی تمام پرانی دشمنیاں چکا لیں تاکہ مرتے وقت آپ کو کسی قسم کا افسوس نہ ہو۔"
قصہ مختصر یہ کہ منجیت سنگھ نے مکمل خاموشی سے گاڑی کا اچھی طرح معاءنہ کرنے کے بعد ہمیں بتایا کہ ڈراءیور والی سمت سے گاڑی کا فرمہ اندر چلا گیا ہے، گاڑی اب مرمت کے قابل نہیں رہی ہے۔ اور اگر زبردستی مرمت کی کوشش کی گءی تو بہت زیادہ خرچہ آءے گا؛ مرمت پہ رقم ضاءع کرنے کے بجاءے ہمیں دوسری گاڑی لے لینی چاہیے۔ منجیت سنگھ کی اس تشخیص کے بعد ہمارے اور منجیت کے درمیان چند پنجابی کلمات کا تبادلہ ہوا جو قابل تحریر نہیں ہیں۔
گاڑی کو کباڑیے کو دینے کی تیاری شروع ہوءی۔ کباڑیے کی ایک دکان کو فون کیا۔ خاتون نے گاڑی کا حال احوال معلوم کر کے قیمت تین سو تینتیس ڈالر لگاءی۔ ہم نے اچھنبا ظاہر کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مینیجر سے پوچھ کر بتاءیں گی۔ کچھ ہی دیر میں وہ واپس فون پہ آءیں اور کہا کہ ہمیں اس گاڑی کے زیادہ سے زیادہ چار سو بیاسی ڈالر مل سکتے تھے؛ اس قیمت میں گاڑی بیچنا ہے تو چوبیس گھنٹے میں فیصلہ کر کے فون کرو۔ ہم بھی ہمت ہارنے والے نہ تھے۔ گاڑی کا اشتہار کریگز لسٹ پہ لگا دیا۔  قیمت ایک ہزار چارسو رکھی۔  کچھ لوگوں نے گاڑی دیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ پہلے حضرت جو گاڑی دیکھنے آءے فلپاءن سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے گاڑی کو دیکھتے ہی یوں افسوس میں سرہلایا جیسے کہ ان کو واقعی دلی صدمہ پہنچا ہو۔ انہوں نے گاڑی کا طواف کیا اور پھر ان خرابیوں کے علاوہ جو ہمیں معلوم تھیں، دس بیس اور براءیاں گنوادیں۔ ہمارے بالکل روھانسا ہونے پہ انہوں نے گاڑی کی قیمت پانچ سو ڈالر لگادی۔
دو دنوں میں تین گاہک آءے اور بالاخر گاڑی ایک ہسپانوی کے ہاتھوں بیچ دی گءی۔ ایک عرصے سے ہمیں خیال ہے کہ مصیبت سے نبردآزما ہونے میں منفعت کی راہ نکالنا ہی فعل رندانہ ہے۔ گاڑی کے حادثے سے ہم نے بھی سہولت کی یہ راہ نکالی ہے کہ اب یہ خانوادہ دو گاڑیوں کے بجاءے ایک ہی گاڑی پہ گزارا کرے گا۔ دوسری گاڑی کا خرچہ بھی بچا اور آٹو انشورینس کے ماہانہ اخراجات بھی کم ہوءے۔



Friday, October 24, 2014

 

کنوینشن کے بعد، ملالہ






اکتوبر بارہ،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو دس


کنوینشن کے بعد، ملالہ

دسواں این ای ڈی المناءی کنوینشن ختم ہوا اور بہت سی خوشگوار یادیں چھوڑ گیا۔ یہ دسواں کنوینشن پچھلے نو سے کچھ مختلف تھا۔ پچھلے نو کنوینشن میں باہر سے آنے والے لوگ جس ہوٹل میں ٹہرتے تھے اسی ہوٹل میں کنوینشن کی تمام کارواءی ہوتی تھی۔ اس دسویں کنوینشن میں بیرون شہر سے آنے والوں کے لیے ٹہرنے کا انتظام ہلٹن ہوٹل نوارک میں تھا مگر کنوینشن کی تمام محفلیں چاندنی ریستوراں میں ہوءیں۔ اور ایسا دو وجہ سے ہوا۔ اول تو یہ کہ کنوینشن کے منتظمین نے جب کنوینشن کی تاریخ طے کی تو انہیں معلوم ہوا کہ اس علاقے کے بہت سے ہوٹل ان تاریخوں کے لیے بک تھے۔ اور دوسری وجہ یہ کہ اگر کسی ہوٹل میں جگہ موجود بھی تھی تو ان کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے تھے۔ ایسے میں ہلٹن ہوٹل نوارک کا چاندنی ریستوراں کے روبرو ہونا ایک نعمت معلوم دیا۔ کوءی سیانا یہ ترکیب لایا کہ بیرون شہر مہمانوں کو ہلٹن ہوٹل میں ٹہرانے اور کانفرینس کا اہتمام چاندنی ریستوراں میں کرنے میں پیسوں کی بچت تھی، چنانچہ یوں ہی کیا گیا۔ یہ تجربہ کتنا کامیاب ہوا اس کا فیصلہ کنوینشن کے مندوبین کو کرنا تھا۔ کنوینشن کے شرکا کی راءے لی گءی تو معلوم ہوا کہ زیادہ تر لوگوں کے لیے ہوٹل سے نکل کر سڑک پار کرنا اور پھر چاندنی ریستوراں پہنچنا کوءی مسءلہ نہ تھا۔ گنتی کے چند لوگوں کو اس انتظام پہ اعتراض تھا اور ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسا نہ کیا جاءے۔ بات یہ ہے کہ کنوینشن میں شرکت کرنے والے بیشتر لوگوں کی واحد دلچسپی اپنے پرانے ساتھیوں سے ملنے میں ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے لیے باقی سب تفصیلات ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک اور بات سمجھنے کی یہ ہے کہ کنوینشن کے اخراجات ٹکٹ سے ہونے والی آمدنی سے بہت زیادہ ہوتے ہیں چنانچہ بجٹ کو توازن میں لانے کے لیے مخیر افراد سے چندے حاصل کیے جاتے ہیں۔ بجٹ میں خسارہ جتنا زیادہ ہوگا اس قدر زیادہ متمول افراد کے سامنے ہاتھ پھیلانے ہوں گے۔ ایک ترکیب یہ ہوسکتی ہے، اور بہت سے لوگ اس ترکیب کے حق میں ہیں، کہ کنوینشن کو اپنے پاءوں پہ کھڑا کیا جاءے۔ ٹکٹ کی قیمت بڑھاءی جاءے اور اسی آمدنی سے کنوینشن کے تمام اخراجات پورے کیے جاءیں۔ اگر واقعی ایسا کیا جاءے تو کنوینشن کے ٹکٹ کی قیمت سو ڈالر فی نفر سے بڑھ کر تین سو ڈالر کے قریب ہوجاءے گی۔ ٹکٹ کی قیمت تین گنا بڑھانے سے شرکا کی تعداد پہ کیا اثر پڑے گا؟ شاید یہ تجربہ کرنے ہی سے صحیح نتاءج معلوم ہوں۔
اس کنوینشن میں منتظمین کو ملالہ سے متعلق بھی چند حقاءق معلوم ہوءے۔ کنوینشن میں سنیچر کی شام کے لیے ایک عالمی سطح پہ مشہور شخصیت کی تلاش ہوءی تو بہت سے منتظمین کی نظر ملالہ یوسف زءی پہ ٹہری۔ ملالہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گءی تو معلوم ہوا کہ ملالہ نے اپنے گرد ایک حلقہ آتش کھڑا کردیا ہے۔ اور آگ کا یہ داءرہ ملالہ کی پی آر فرم ہے۔ آپ ملالہ سے براہ راست بات نہیں کرسکتے۔ آپ کی ملالہ سے بات اس کی پی آر کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے۔ جب ایڈلمین نامی اس پی آر فرم کے توسط سے ملالہ کو کنوینشن سے خطاب کرنے کی دعوت دی گءی تو دوسری طرف سے جھٹ نفی کا جواب آگیا۔ اب کی بار ملالہ کی داءی شارلٹ پیٹن سے فون پہ بات کی گءی۔ شارلٹ کو سمجھانے کی کوشش کی گءی کہ ملالہ کا موجودہ تاثر یہ ہے کہ ملالہ ایک مغربی ایجنٹ ہے۔ اور اس تاثر کی وجہ یہ ہے کہ ملالہ پاکستان چھوڑنے کے بعد مغربی میڈیا کی زینت بنی ہوءی ہے اور مغربی حکمراں اور بااثر افراد ملالہ کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ ملالہ دنیا بھر میں لڑکیوں اور عورتون کی تعلیم پہ کام کرنا چاہتی ہے۔ ملالہ پہ مغربی ایجنٹ کا لگنے والا لیبل ملالہ کے فلاحی کاموں کے لیے بہت نقصان دہ ہے کیونکہ ملالہ جن علاقوں میں کام کرنا چاہتی ہے وہاں اکثر جگہ مغرب اور مغرب کے حواریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ملالہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ 'اپنے' لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ نظر آءے تاکہ اس کے فلاحی کاموں کی کامیابی کے امکانات بڑھ سکیں۔ منتظمین کو محسوس ہوا کہ شارلٹ پیٹن کو یہ منطق سمجھ میں آگءی ہے۔ شارلٹ نے وعدہ کیا کہ وہ ملالہ کے گھر والں سے پوچھ کر بتاءیں گی۔ اس پوچھ گچھ میں ہفتے بھر سے زیادہ نکل گیا اور پھر آخری جواب وہی انکار کا آیا۔ ملالہ پہ ترس آیا کہ وہ گریگ مارٹینسن کی راہ پہ چل پڑی ہے۔ یہ وہ راہ ہے جس میں فلاحی کام کا دعوی کرنے والے شخص کی زیادہ مقبولیت اس جگہ ہوتی ہے جہاں وہ شخص چندہ جمع کررہا ہوتا ہے۔ جہاں اس شخص کو فلاحی کام کرنا ہوتا ہے وہاں مشکل ہی سے کوءی اس شخص کو جانتا ہے۔


Monday, October 06, 2014

 

دسواں سالانہ این ای ڈی المناءی کنوینشن






اکتوبر چار،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو نو


پاکستان کے وہ کالج اور جامعات جو کسی مخصوص شعبے میں چار سالہ پروگرام کراتے ہیں اپنا جدا مزاج رکھتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں وساءل کی فراوانی کی وجہ سے طلبا کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی اور آسانی کے حساب سے مختلف کلاسیں لے سکیں۔ پاکستانی کالجوں میں ایسی سہولت نہیں ہوتی اور کسی ایک سال میں کالج میں داخلہ لینے والے طلبا اگلے چار سال تک ایک ساتھ کلاسیں لیتے ہیں۔ چار سال بڑی مدت ہوتی ہے۔ اگر ملک کے سیاسی حالات خراب ہوں یا ملک حالت جنگ میں ہو تو کالج میں گزارے جانے والے یہ چار سال، پانچ اور چھ سال بھی بن جاتے ہیں۔ جب طلبا اتنا عرصہ ساتھ رہتے ہیں تو ان کے درمیان دوستی کے جو بندھن قاءم ہوتے ہیں وہ ساری زندگی کا ساتھ بن جاتے ہیں۔
یہ کہانی اس لڑکے کی ہے جو اٹھارہ سال کی عمر میں کراچی کی جامعہ این ای ڈی پہنچا تھا۔ وہ لڑکا پڑھنا تو تاریخ اور فلسفہ چاہتا تھا مگر بزرگوں نے مشورہ دیا تھا کہ تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ تو غیرنصابی شکل میں بھی کیا جا سکتا ہے؛ اسےایسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جس سے روٹی کمانا آسان ہوجاءے۔ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے لوگ بہت حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ مشورہ صاءب تھا۔۔ اگر اس لڑکے نے تاریخ، فلسفہ، اور عمرانیات میں سند حاصل کی ہوتی تو زندگی یوں مشکل ہوسکتی تھی کہ روز چکی کی مشقت میں اتنا وقت نکل جاتا کہ ذہنی نشونما کے راستے محدود ہوسکتے تھے۔
جامعہ این ای ڈی اس لڑکے کے لیے نامانوس جگہ نہ تھی کہ جب وہ ڈی جے کالج میں پڑھتا تھا تو تقریری مقابلوں میں شرکت کرنے یا انہیں سننے کے لیے کءی بار این ای ڈی گیا تھا۔ جب اس لڑکے کا داخلہ جامعہ این ای ڈی میں ہوا تو بہت سے لڑکے جو ڈی جے کالج میں اس کے ہم جماعت تھے اب این ای ڈی میں بھی اس کے ساتھ موجود تھے۔
سنہ اکیاسی کی جامعہ این ای ڈی ایک دلچسپ جگہ تھی۔ وہاں بہت چھوٹے پیمانے پہ، طلبا سیاست میں، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری سردجنگ کے مضمرات دیکھے جاسکتے تھے۔ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام کے درمیان یہ کشمکش پاکستان کے دیگر کالجوں اور جامعات میں بھی جاری تھی۔ سنہ اکیاسی میں این ای ڈی کی طلبا سیاست میں ترقی پسند طلبا کا ٹولہ حاوی تھا۔  این ای ڈی کے مقابلے میں جامعہ کراچی پہ داءیں بازو کی طلبا تنظیموں کا قبضہ تھا۔ جب یہ لڑکا بارہویں جماعت میں تھا تو حسین حقانی نامی ایک شعلہ بیاں مقرر جامعہ کراچی کی طلبا یونین کا صدر منتخب ہوا تھا۔ حسین حقانی سے پہلے شفی نقی جامعی جامعہ کراچی طلبا یونین کے صدر رہے تھے۔
یہ وقت افغان 'جہاد' کی شروعات کا دور تھا۔ سوویت یونین کو افغان جہاد کے ذریعے ناکوں چنے چبوانے کے منصوبے پہ عملدرآمد کی وجہ سے پاکستان میں جنرل ضیاالحق کا اقتدار پہ قبضہ مضبوط ہوچکا تھا۔ اشتراکی ممالک کا منڈی کے میدان میں سرمایہ داری نظام رکھنے والے ممالک سے مقابلہ کرنا مشکل تھا۔ سوویت یونین نے کراچی کے قریب اسٹیل مل کی تعمیر میں مدد سے پاکستان کو رام کرنے کی کوشش کی تھی مگر مغربی دنیا کے پاس رشوت دینے کے لیے زیادہ بڑا مال تھا۔ سرد جنگ کے دوران بھی دنیا میں روبل نہیں ڈالر چلتا تھا۔
واپس سنہ اکیاسی کی این ای ڈی کی طرف آتے ہیں۔ جس وقت یہ لڑکا این ای ڈی پہنچا، اس وقت راشد علی بیگ این ای ڈی طبا یونین کے صدر تھے، امان اللہ حنیف ان کے سیکریٹیری جنرل تھے۔ اس سے پہلے فرحت عادل یونین کے  صدر اور محمد حسین جنرل سیکریٹیری رہے تھے۔ محمد حسین بلا کے مقرر تھے۔ اس لڑکے کے این ای ڈی میں داخل ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی طلبا یوین کے انتخابات ہوءے۔ جمعیت طلبا اسلام کے دو طلبا قاءدین، الطاف شکور اور مسعود محمود این ای ڈی میں بہت مقبول تھے۔ یہ دونوں بالترتیب صدر اور جنرل سیکریٹیری منتخب ہوءے۔ نیچے کے تمام عہدوں پہ، ماسواءے ایک کے، پی ایس ایف کے نماءندے منتخب ہوءے۔ یہ وہ دن تھا جب کسی بات پہ طلبا گروہوں میں گرما گرمی ہوءی اور خوب گولیاں چلیں۔
آج تینتیس سال بعد یہ ساری باتیں خواب لگتی ہیں۔ این ای ڈی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ایک بہت بڑی تعداد اب شمالی  امریکہ میں رہتی ہے۔ دس سال پہلے معین خان اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی روایت کی بنیاد رکھی جو وقت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اور وہ روایت سال میں ایک بار این ای ڈی المناءی کنوینشن کا انعقاد ہے۔ ہر سال یہ کنوینشن شمالی امریکہ کے کسی نءے شہر میں ہوتا ہے۔ سنہ ۲۰۱۴ کا کنوینشن شمالی کیلی فورنیا میں ہورہا ہے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے این ای ڈی کے سابق طلبا نوارک کے ڈبل ٹری باءی ہلٹن ہوٹل میں ٹہریں گے اور تینوں دن، یعنی جمعہ، اکتوبر دس سے اتوار، اکتوبر بارہ تک کے، تمام پروگرام ہلٹن ہوٹل کے سامنے واقع چاندنی ریستوراں میں ہوں گے۔
ہرسال ہونے والا یہ المناءی کنوینشن این ای ڈی کے سابق طلبا کے لیے بہت جذباتی موقع ہوتا ہے۔ لوگ پرانے دوستوں سے گلے ملتے ہیں اور این ای ڈی میں گزارے گءے اپنے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں۔ ان لطیفوں اور چٹکلوں پہ قہقہے لگاتے ہیں جو بہت دفعہ مزے لے لے کر سناءے جا چکے ہیں، جن پہ بہت بار ہنسا جاچکا ہے، مگر جو ہمیشہ سدابہار رہتے ہیں۔
کہنے کو تو این ای ڈی المناءی کنوینشن، این ای ڈی کے سابق طلبا کو دوبارہ سے ایک دوسرے سے ملانے کا بہانہ ہے مگر اصل میں اس کنوینشن سے ملحق کانفرینس ہر خاص و عام کے لیے کھلی ہوتی ہے اور اس پروگرام میں این ای ڈی کے سابق طلبا کے علاوہ بھی بہت سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس سالانہ پروگرام کا سب سے قابل ذکر حصہ سنیچر کی رات کا کھانا اور میوزک پروگرام ہوتا ہے۔ اس سال سنیچر کے پروگرام میں دو مشہور گانے والے، جواد احمد اور شجاعت علی خان، اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
این ای ڈی المناءی کنوینشن کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درج ذیل ویب ساءٹ ملاحظہ فرماءیے:



This page is powered by Blogger. Isn't yours?