Saturday, June 14, 2014

 

باپ کا دن اور باتیں بچپن کی


جون آٹھ،  دو ہزار چودہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو  بانوے
باپ کا دن اور باتیں بچپن کی
 
لکھنے بیٹھا تھا مقدس رشتوں سے متعلق کالم ؛ اچانک خبر آءی کراچی ہواءی اڈے پہ حملے کی۔ اسی خبر کو کھنگالنے اور تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کے عمل میں کچھ وقت نکل گیا۔ شرپسند عناصر چاہتے ہیں کہ ہم مستقل ان کی طرف توجہ کیے رکھیں۔ مگر میں ایسا کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ جن چیزوں پہ میرا بس نہیں چلتا ان کی طرف بس تھوڑی ہی توجہ کرسکتا ہوں۔

ایک وقت تھا کہ مجھے 'ماں کا دن' اور 'باپ کا دن' منانے پہ اعتراض تھا۔ میں سوچتا تھا کہ جس طرح ہم کوءی ایک دن 'کھانا کھانے کا دن' یا 'پانی پینے کا دن' متعین نہیں کرتے، اس طرح ان خاص رشتوں کے لیے صرف ایک دن کی قید کیوں؟ مجھے شک ہوتا تھا کہ 'ماں کے دن' اور 'باپ کے دن' کی عالمی طور پہ ترویج کے پیچھے کاروباری دنیا کی یہ ہوس کارفرما ہے کہ ان کی چیزیں بکیں اور ان کا کاروبار چمکے۔ پھر ماں اور باپ کے دن کے ساتھ محبت کا دن بھی منایا جانے لگا۔ ہمارے اپنے لوگ جو اب تک ماں اور باپ کے دن منانے پہ خاموش بیٹھے تھے، محبت کے نام پہ چونکے۔ محبت؛ یہ کیسی فضول بات ہے۔ وہ پتھر لے کر کھڑے ہوءے اور انہوں نے سب کو دھمکی دی کہ اگر کسی نے محبت کا دن منایا تو اس کی ایسی درگت بناءی جاءے گی کہ وہ یاد رکھے گا۔ محبت اور اخلاقیات کے ان ٹھیکے داروں نے محبت کے دن کے بجاءے 'یوم حیا' منانے کا فیصلہ کیا۔ اس 'یوم حیا' کا سارا دھونس دھڑپا عورتوں پہ ہے۔ وہ عورتیں جو عام دنوں میں حجاب اور چادر کے ساتھ چلتی ہیں، اب یوم حیا پہ ڈبل برقعہ پہنیں گی۔
واپس موضوع کی طرف آتے ہیں، یعنی 'باپ کے دن' کے معاملے پہ۔ اپنے تحفظات کو ایک طرف رکھ کر جب میں نے اس بارے میں غور کیا تو سمجھ میں آیا کہ بہت سے لوگ تو ہر روز ماں اور باپ کا دن مناتے ہیں، مگر یقینا چند نادان ایسے بھی ہوں گے جو اس تیز رفتار زندگی میں اپنے والدین کو بھول جاتے ہوں گے۔ شاید اوروں کی دیکھا دیکھی،ماں اور باپ کے دنوں پہ، ان مصروف لوگوں کو بھی ان مقدس رشتوں کو یاد کرنے کا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرنے کا خیال آجاتا ہو۔
'باپ کا دن'  اتوار پندرہ جون کو منایا جاءے گا۔ اسی  نسبت سے 'راستہ جو منزل ہے' نامی ناول سے ایک اقتباس حاضر ہے۔
اور احسان ایک باپ کا بھی ہے جس نے بہت محنت کی ہے۔ اس نے زمین جوتی، درخت لگاءے، سال در سال ان درختوں کو پانی دیا اور اب ہم ان درختوں کے پھل کھا رہے ہیں۔ اس نے کچھ نہ ہونے سے شروع کیا اور اپنی محنت و لیاقت سے بہت کچھ بنا لیا۔ اس نے اپنی جوانی سخت محنت میں گزار دی۔ اور اسی قربان جوانی کے دم سے ہم لوگ غربت کے ظالم داءرے سے ایک قدم باہر ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے آزادانہ فیصلے کرسکتے ہیں۔
میں نے ایک نہایت خوشگوار بچپن گزارا ہے۔ میرے ارد گرد ایک مجمع تھا مجھ پہ محبتیں نچھاور کرنے والوں کا۔ میں ان تمام لوگوں میں اپنے پھوپھا کا خاص طور پہ قاءل ہوں۔ ان کے احسانات سے متعلق ایک تحریر حاضر خدمت ہے۔
کچھ کچھ دنوں بعد مجھے فرصت کے ایسے دن میسر آتے ہیں جب مجھے اپنی زندگی کے گزرے ہوئے ادوار کو جانچنے کا موقع ملتا ہے۔ زندگی کے گزرے ہوئے ادوار: وہ صفحات جن پر کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی امتحان، کبھی آزمائش، کبھی کامیابی، کبھی ناکامی رقم ہے۔ میری زندگی کے اُن ہی اوراق میں کچھ صفحات ایسے ہیں جن پر بچپن لکھا ہے ۔ اُن اوراق پر جگہ جگہ ربڑیوں اور بامبے بیکری کے کیک کا ذکر ہے۔
یادوں کا یہ سلسلہ ستر کی دہاءی سے شروع ہوتا ہے۔ ہمارے پھوپھا اور پھوپھی بیراج کالونی، حیدرآباد میں رہتے تھے۔ پھوپھا، سید محمد یونس، محکمہ آب پاشی میں کام کرتے تھے اور اسی وجہ سے ان کو کوٹری بیراج کے قریب قاءم کی جانے والی بیراج کالونی میں رہنے کے لیے مکان ملا ہوا تھا۔ ہر چھٹیوں میں ہمارا حیدرآباد جانا ہوتا تھا اور سپرہاءی وے بننے کے بعد اس سفر میں آسانی ہوگءی تھی۔ بیراج کالونی کے اسی گھر سے بچپن کی بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ چوبی دروازے سے دالان میں داخل ہوں تو باءیں ہاتھ پہ پہلے بیت الخلا، پھر غسلخانہ، اور پھر باورچی خانہ تھا۔ سامنے دو کمرے تھے۔
حیدرآباد میں کراچی سے زیادہ سردی پڑتی تھی اور سردیوں میں سر میں لگانے کا تیل بوتل میں جم جاتا تھا۔ دن چڑھنے کے ساتھ سورج کی پہلی کرنیں باورچی خانے کی دیوار پہ پڑتیں اور کالا کولا کی بوتل اپنے جم جانے والے تیل کے ساتھ اسی کونے میں تیل ٹگھلانے کے لیے رکھی جاتی۔
بیراج کالونی میں جگہ جگہ نیم کے گھنے درخت لگے تھے۔ اُن درختوں کو پانی دینے کے طریقے میں جدت تھی۔ گھروں کا استعمال شدہ پانی ہر گھر کے باہر نالیوں اور ہودی میں جمع ہو جاتا۔ پھر ایک ٹرک آتا جو اپنا پائپ ٹینک میں ڈالتا اور ٹینک کا سارا پانی چوس لیتا۔ یہی ٹرک ہر درخت تک جاتا اور جمع شدہ پانی ہر درخت کے اطراف بھر دیتا۔ ہم بچے اس پورے عمل کو روزانہ بہت غور سے دیکھتے۔
پھوپھا کا خیال تھا کہ وہ ریٹاءرمنٹ کے بعد کراچی آکر رہیں گے۔ اسی نیت سے انہوں نے اپنا ایک گھر ہمارے گھر کے قریب دستگیر کالونی میں بنایا۔ کچھ عرصہ تو وہ گھر کراءے پہ رہا؛ پھر ریٹاءرمنٹ کی تیاری میں پھوپھا کا خاندان اس گھر میں منتقل ہوگیا۔ پھوپھا کا مستقل حیدرآباد جانا ہوتا۔
اور جب کبھی پھوپھا حیدرآباد سے واپس کراچی آتے تو ہم سے محبت میں ہمارے لیے بامبے بیکری کا کیک یا حافظ کی ربڑی اور بعض اوقات دونوں چیزیں ضرور لاتے۔ بامبے بیکری کا وہ مزے دار چاکلیٹ کیک جس کے ڈبے پر بغیر کسی تزءین کے نہایت سادگی سے انگریزی میں بامبے بیکری لکھا ہوتا ہے۔ بامبے بیکری کا کیک ہوتا بھی ایسا عمدہ ہے کہ بیکری والوں کو کیک کی شان بڑھانے کے لیے ڈبے پہ کسی قسم کے نقش و نگار کا سہارا لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور اسی قسم کی عاجزی حافظ کی ربڑی میں بھی ہوتی۔ ربڑی مٹی کے کلھڑ میں ہوتی۔ کلھڑ کو بند کرنے کے لیے کلھڑ کے منہ پر اخبار کے صفحات رکھ کر منہہ کو سُتلی سے باندھ دیا جاتا ۔ اور اُسی سُتلی سے ایسا آنکڑا بنایا جاتا جس سے آپ کلھڑ کو اٹھا سکتے تھے۔ میں کوسوں دور بیٹھا، کئی سالوں کے فاصلے سے ، آج بھی ا اُس لچھے دار ربڑی کو دیکھ سکتا ہوں، سونگھ سکتا ہوں، اور چکھ سکتا ہوں۔ ربڑی کے کلھڑ میں لچھے دار ربڑی کے ایک طرف ربڑی کا دودھیا رس جمع ہو جاتا۔ میں خاص اہتمام سے چمچے سے وہ مزے دار شیریں رس نکال کر پیتا۔
بامبے بیکری کے کیک اور ربڑی کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو میری زندگی کے ایک لمبے عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ ہزاروں ربڑیاں اور ہزاروں بامبے بیکری کے کیک، اُن کا حساب کرنا محال ہے۔  اُن مستقل تحاءف سے پیوستہ احسان میٹھی خوشگوار یادیں دینے کا احسان ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرسکتا ہوں کہ مجھے بچپن میں محبت کے ایک حصار نے مستقل اپنی حفاظت میں رکھا اور مجھے عمر کے اس حصے میں صرف میٹھی خوشگوار یادیں ملیں۔ میں کوءی ایسا کام نہیں کرسکتا، کوءی ایسا تیر نہیں مارسکتا جس سے اپنے پھوپھا، اپنے چچا، اور اپنے باپ کے برابر کے ان دوسرے بزرگوں کے احسانات چکا سکوں۔ میں نے اپنے چچا کو اپنے بچپن سے اب تک، عمر کے مختلف ادوار میں جس طرح دیکھا، اور جس طرح ان کا مہربان سایہ مستقل میرے اوپر رہا، اس متعلق بھی ایک مضمون لکھ رہا ہوں جو جلد آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔

Labels: , , , , , ,


Tuesday, June 03, 2014

 

پاکستان میں سول-فوج تعلقات کا شوشہ




جون ایک،  دو ہزار چودہ

 ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو  اکیانوے

پاکستان میں سول-فوج تعلقات کا شوشہ

پاکستان ایک نیا ملک ہے۔ پاکستان اپنی موجودہ شکل میں سنہ ۷۱ میں وجود میں آیا۔ سنہ ۷۱ سے پہلے کا پاکستان ایک اور ملک تھا، وہاں سیاست کا ایک رنگ تھا؛ آج کا پاکستان ایک دوسرا ہی ملک ہے جہاں سیاست کا رنگ بالکل جدا ہے۔  سنہ ۷۱ سے پہلے کے پاکستان میں ایک بہت بڑے خطے، بنگال، کی فوج میں نماءندگی براءے نام تھی۔ یہ خیال کہ مغربی پاکستانیوں کے مقابلے میں مشرقی پاکستانی بہت جمہوریت پسند تھے صحیح نہیں ہے۔  بنگالی اتنے ہی جمہوریت پسند ہیں جتنے جنوبی ایشیا کے رہنے والے دوسرے گروہ۔ اگر سنہ ۷۱ سے پہلے کے پاکستان میں بنگالی، فوجی حکومت کے خلاف تھے تو اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بنگالی، پاکستانی فوج کو مغربی پاکستان کی فوج سمجھتے تھے۔ کسی بھی دوسرے گروہ کی طرح بنگالی ایک ایسی حکومت کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے تھے جس میں ان کی نماءندگی نہ ہو۔ بنگالی اگر جمہوریت کے اتنے ہی دلدادہ ہوتے تو اپنے ملک میں کبھی مارشل لا نہ لگنے دیتے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد وہاں دھڑلے سے مارشل لا بھی لگا اور لوگوں نے بہت آرام سے اپنی فوجی حکومت کو برداشت بھی کیا۔ اور بنگالیوں نے سنہ ۷۱ کے بعد فوجی حکومت کو اس لیے برداشت کیا کہ کیوںکہ وہ فوجی ان کے اپنے یعنی بنگالی تھے۔
اور یہی بات سمجھنے کی ہے۔ کوءی بھی فوجی حکومت عوامی مقبولیت میں  جمہوری حکومت کا مقابلہ اس لیے نہیں کرسکتی کہ فوج مساوی طور پہ پورے ملک کی نماءندہ فوج نہیں ہوتی۔ اور یہی بات نہ صرف فوجی حکومت کے خلاف جاتی ہے بلکہ اسی وجہ سے ہردفعہ فوجی حکومت کے برسراقتدار آنے سے ملک سیاسی طور پہ کمزور ہوتا ہے؛ وہ خطے جن کی نماءندگی فوج میں نہیں ہوتی اس سیاسی صورتحال میں بے بسی محسوس کرتے ہیں اور وہاں اس غیرنماءندہ حکومت سے آزادی کی خواہش جنم لیتی ہے۔
میرے آس پاس ایسے لوگ ہیں جو مجھے پرفریب اعداد و شمار اور گراف دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فوجی حکومتوں کے دور میں پاکستان نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی ہے۔ اول تو ترقی کے ان اعداد وشمار پر ہی سوالیہ نشانات لگے ہیں، لیکن اگر ان پہ کسی طرح آنکھ بند کر کے یقین بھی کرلیا جاءے تو مدعی سے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ فوجی حکومتوں کے کارناموں کے ان ثبوت میں ملک کے بتدریج کمزور ہونے کا ثبوت بھی شامل کرلو۔ جو لوگ معاشی ترقی کے ان 'اعداد وشمار' سے متاثر ہیں انہیں یقینا جنوبی افریقہ کی معیشت کے وہ اعدادوشمار بھی پسند آءیں گے جو اس دور کے ہیں جب جنوبی افریقہ پوری طرح نسل پرستی کی ڈگر پہ چل رہا تھا۔ یقینا اس دور کا جنوبی افریقہ عوام کے خاص طبقے کے لیے بہت حیسن تھا اور مغربی دنیا میں بھی اس کی بہت پذیراءی تھی مگر اس دور کا جنوبی افریقہ اپنی نسل پرستی کی وجہ سے سیاسی طور پہ ایک کمزور ملک تھا جسے جلد یا بدیر ختم ہونا تھا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ثابت ہوا کہ معاشی اعداد وشمار اصل تصویر کی ایک بہت چھوٹی سی جھلک ہی دکھاتے ہیں۔ اصل کہانی ان اعداد وشمار سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہے۔
اگر کبھی پاکستان میں فوج کے سیاسی کردار کی مذمت کی جاءے تو ایسے نادان لوگ سامنے آتے ہیں جو فوج کے سیاسی کردار کی مذمت کو فوج کی مذمت خیال کرتے ہیں۔ انہیں کون سمجھاءے کہ فوج کی اہمیت سے کسے انکار ہے۔ اگر نکتہ چینی کی جارہی ہے تو فوج کی اس قیادت پہ جسے گاہے گاہے خیال آتا ہے کہ ملک چلانے کی اصل ذمہ داری اس کے اوپر ہے اور اسی ذمہ داری کے تحت اسے فیصلہ کرنا ہے کہ کوءی جمہوری قیادت ملک صحیح چلا رہی ہے یا نہیں۔
پھر ایک فراڈ یہ بھی ہے کہ فوج کی سیاسی مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاءے تو وہ لوگ جو فوج کے کندھوں پہ سوار اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتے ہیں ہمیں فوج کی بیش قدر قربانیاں یاد دلاتے ہیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے۔ گویا راشد منہاس اور عزیز بھٹی کی قربانی یاد دلا کر باور کرایا جارہا ہے کہ ایوب خان، ضیاالحق، اور پرویز مشرف کا اقتدار پہ قبضہ کرنا بالکل ٹھیک تھا۔
پاکستانی فوج میں وہ نظم و ضبط ابھی تک موجود ہے جو دراصل انگریز کی دین ہے۔ اس فوج کا جوان، جو ہمارے آپ کے بچوں جیسا ہے، اپنے افسر کے حکم پہ محاذ پہ جاتا ہے اور لڑتا ہوا شہید بھی ہوتا ہے۔ ان جوانوں کی قربانیوں کی وجہ ہی سے آج طالبان کے مختلف دھڑے ایک دوسرے سے الگ ہورہے ہیں اور ان میں سے کءی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ فوج کے اس جوان کو قوم کا سلام۔
اپنے سے اوپر افسر کے حکم کو بلا چوں چرا ماننے کا یہ سلسلہ کپتان، میجر، کرنل، بریگیڈءیرسے ہوتا ہوا جرنیل تک پہنچتا ہے۔ جرنیل کی سطح پہ ہوا کچھ بدلتی ہے۔ اس سطح پہ پہنچنے والے فوجی صلاحیت میں ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور مشاورت سے فیصلے کرتے ہیں۔ اور یہی وہ پرفضا مقام ہے جہاں بیٹھ کر ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کرلیا جاءے تو پوری فوجی مشینری اپنے مکمل نظم و ضبط کے ساتھ ان جرنیلوں کے اشارے کی منتظر ہوتی ہے۔
مجھے یہ کالم لکھنے کا خیال اس لیے آیا کہ پچھلے ہفتے ریکارڈ کیے جانے والے ایک ٹی وی پروگرام میں بحث کا ایک موضوع یہ تھا کہ پاکستان میں سول-ملٹری تعلقات کیسے جارہے ہیں۔ یا باالفاظ دیگر، کیا سول حکومت نے فوج کو خوش اور مطمءن رکھا ہوا ہے؟ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ موجودہ سول حکومت کو اچھی کارکردگی دکھا کر اپنی افادیت ثابت کرنا ہے۔ پس پشت دھمکی یہ ہے کہ اگر سول حکومت نے فوج کو خوش ومطمءن نہ رکھا تو فوج حکومت کا تختہ الٹ دے گی۔
آءین پاکستان میں ایسی کوءی شق نہیں ہے جو بتاءے کہ ملک چلانے کی اصل ذمہ داری فوج کے پاس ہے اور فوج ہی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کب کس جمہوری حکومت کو اس کی 'نااہلی' پہ چلتا کیا جاءے۔ ہر سول حکومت کے سر پہ لٹکنے والی اس تلوار کو اب مستقلا میان میں ڈالنے کا وقت آگیا ہے۔


Labels: , , , ,


Friday, May 30, 2014

 

وہی وحی








 مءی  پچیس،  دو ہزار چودہ
 
ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو  نوے

وہی وحی

 
ناءیجریا میں اغوا شدہ طالبات ہنوز بازیاب نہیں ہوپاءی ہیں۔ ان لڑکیوں کو اغوا کرنے کا سہرا بوکو حرام نامی تنظیم کے سر ہے جس کے قاءد ابوبکر شیکاءو کا کہنا ہے کہ وہ اور اس کی تنظیم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالی کے حکم سے کر رہے ہیں۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ اللہ تعالی کا حکم بوکو حرام تک پرانی مذہبی کتب کے ذریعے پہنچ رہا ہے یا ان پہ تازہ وحی نازل ہورہی ہے۔
تذکرہ ہو موجودہ عہد میں لوگوں تک 'خدا کی آواز' پہنچنے کا تو ذہن خود بخود ٹم میک لین کے قتل کے واقعے کی طرف جاتا ہے۔ اس کالم کو جو لوگ کینیڈا میں پڑھ رہے ہیں وہ تو اس مشہور قتل کے واقعے سے واقف ہوں گے مگر شاید دوسری جگہوں کے لوگ اس قتل کے بارے میں نہ جانتے ہوں۔ ان ہی لوگوں کی معلومات کے لیے ٹم میک لین کے قتل کا واقعہ مختصرا تحریرکرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ بات ہے سنہ ۲۰۰۸ کی گرمیوں کی۔ ٹم میک لین ایک باءیس سولہ کینیڈءین نوجوان ہے جو اس دنیا میں اپنا مقصد تلاش کررہا ہے اور چھوٹی موٹی نوکریاں کر کے اپنا کام چلاتا ہے۔ وہ صوبہ مینیٹوبا کے شہر ونی پگ کا رہنے والا ہے۔ اسے گھر سے کافی دور صوبہ البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں ایک نماءش میں نوکری ملتی ہے۔ جس روز کا یہ واقعہ ہے اس روز ٹم میک لین ایڈمنٹن سے واپس اپنے گھر جارہا ہے۔ اس سفر کے لیے وہ گرے ہاءونڈ نامی بس کمپنی کی ایک بس میں سوار ہوتا ہے۔ فاصلہ طویل ہے اور بس راستے میں آنے والے قصبوں میں رکتی ہوءی جارہی ہے۔ بس البرٹا اور مینیٹوبا کے درمیان واقع صوبہ سیسکیچیوان پار کر کے مینیٹوبا میں داخل ہوتی ہے اور کچھ دیر بعد ایرکسن نامی ایک قصبے میں رکتی ہے۔ ٹم میک لین اب اپنے شہر کے قریب آگیا ہے۔ ایرکسن  سے ونس لی نامی ایک شخص بس میں سوار ہوتا ہے۔ ونس لی کو اپنے آباءی ملک چین سے کینیڈا پہنچے چند سال ہی گزرے ہیں اور وہ اب تک انگریزی بولنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔ اس کی نوکری لگتی چھٹتی رہی ہے اور وہ کام کی تلاش میں ادھر سے ادھر بھٹکتا رہا ہے۔ بس میں سوار ہونے کے بعد ونس لی آگے کی ایک سیٹ پہ بیٹھ جاتا ہے۔ ٹم میک لین بس میں بہت پیچھے بیٹھا ہے۔ ٹم بس کی دیوار سے سر لگا کر اونگھ رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد بس ایک اور جگہ رکتی ہے تو ونس لی بس میں پیچھے کی طرف آتا ہے اور ٹم میک لین کے برابر میں بیٹھ جاتا ہے۔ ٹم میک لین آنکھ کھول کر ایک نظر ونس لی کو دیکھتا ہے اور پھر اونگھنا شروع ہوجاتا ہے۔ بس ایک دفعہ پھر چلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور پھر کچھ دیر بعد اچانک ٹم میک لین کی زوردار چیخیں بلند ہوتی ہیں۔ بس میں بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ ونس لی کے ہاتھ میں ایک بڑا چھرا ہے جس سے وہ ٹم میک لین پہ  پے در پے وار کررہا ہے۔ ٹم میک لین اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کررہا ہے مگر ونس لی کے بڑے چھرے کے سامنے ٹم کی ایک نہیں چل رہی۔ ڈراءیور بس کو روک دیتا ہے۔ بس میں موجود دوسرے مسافر خوفزدہ حالت میں بس سے اترجاتے ہیں۔ وہ بس سے باہر کھڑے اندر کا منظر دیکھ رہے ہیں اور انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھے پہ یقین نہیں آرہا۔ ونس لی کے وار ٹم میک لین پہ جاری ہیں۔ جن مسافروں کے پاس فون ہیں وہ فورا پولیس کو فون ملاتے ہیں مگر بس ویرانے میں کھڑی ہے اور پولیس کو وہاں تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ونس لی کے ہر وار کے ساتھ ٹم میک لین کی مزاحمت کمزور پڑتی جارہی ہے اور پھر بس سے باہر کھڑے مسافروں کے دیکھتے دیکھتے ونس لی ٹم میک لین کا سر تن سے جدا کردیتا ہے۔ اب ٹم میک لین کا کٹا سر ونس لی کے ہاتھ میں ہے۔ لوگ باہر کھڑے چیخیں ماررہے ہیں۔ وہ بسوں سے سفر کرتے رہے ہیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن بس کے ایک عام سے سفر میں انہیں وہ کچھ دیکھنے کو ملے گا جو کسی ڈراءونی فلم میں بھی شاذونادر ہی دکھایا جاتا ہے۔ بس کے ڈراءیور نے بس کے دونوں دروازے باہر سے بند کردیے ہیں تاکہ ونس لی قتل کی اس واردات کے بعد فرار نہ ہو پاءے۔ مگر ونس لی فرار ہرگز نہیں ہونا چاہتا۔ اس کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اب ونس لی ٹم میک لین کے مردہ دھڑ کے مزید ٹکڑے کرتا ہے اور گوشت کو کھانے کا کام شروع کرتا ہے۔ کچھ دیر میں پولیس آجاتی ہے۔ پولیس ونس لی کو زندہ گرفتار کرنا چاہتی ہے مگر ونس لی بس سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بس کے مسافروں کو روانہ کیا جاتا ہے اور پولیس بس کا محاصرہ کیے وہیں موجود رہتی ہے۔ کءی گھنٹوں بعد ونس لی کی گرفتاری عمل میں آتی ہے۔ جب ونس لی کو قتل کے الزام میں عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ بیان دیتا ہے کہ اسے خدا کی طرف سے بشارت آءی تھی کہ ٹم میک لین کے اندر ایک شیطان موجود ہے؛ ونس لی کو خدا نے حکم دیا تھا کہ ونس لی ٹم میک لین کو فورا قتل کردے۔
خواتین و حضرات، ایک وقت تھا کہ اللہ تعالی اپنا پیغام ان مقدس ہستیوں کے ذریعے ہم تک پہنچاتا تھا جن پہ وحی اترتی تھی۔ اب وہ زمانہ گزر چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر کوءی شخص دعوی کرے کہ اس پہ وحی نازل ہورہی ہے تو اسے فورا پاگل خانے پہنچانا چاہیے۔ مغرب میں یہ کام بخوبی ہورہا ہے۔ ونس لی کا نفسیاتی علاج جاری ہے۔ مگر دوسری جگہوں پہ خدا کی طرف سے بشارت کا دعوی کرنے والے  دندناتے پھر رہے ہیں اور 'خدا کی رضا سے' طالبات کو اغوا کررہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی 'اپنے' پاگلوں کو پکڑ کر ان کا نفسیاتی علاج کریں۔


Labels: , , , , , , , , , , , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?