Tuesday, April 21, 2015

 

مسعود حامد، ایلس البینیا، اور ام جہل


اپریل انیس،  دو ہزار پندرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو سینتیس


مسعود حامد، ایلس البینیا، اور ام جہل

کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف رینجرز کے آپریشن کے بعد کراچی میں ٹارگٹ قتل کے واقعات میں کمی آگئی تھی اور کہا جارہا تھا کہ کراچی سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ہے مگر پچھلے ہفتے پے در پے تشدد کے تین واقعات نے شہر والوں کو پریشان کردیا ہے۔ جمعرات کے روز پریڈی تھانے کے ایس ایچ او اعجاز خواجہ پہ قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد اعجاز خواجہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ اسی روز یعنی جمعرات کے روز ایک مقامی کالج کی امریکی پرنسپل ڈیبرا لوبو پہ قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ڈیبرا لوبو زخمی ہونے کے باوجود معجزانہ طور پہ حملے میں بچ گئیں۔ پھر جمعے کی رات ڈیفینس کے علاقے میں ایک گاڑی سے مسعود حامد صاحب کی لاش ملی۔ مسعود حامد پاکستان ہیرلڈ پبلیکیشنز نامی اشاعتی ادارے کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر تھے۔ یہ اشاعتی ادارہ ڈان گروپ کا حصہ ہے جو کئی اخبارات اور جرائد کے علاوہ سٹی ایف ایم ۸۹ ریڈیو اور ڈان ٹی وی کا مالک ہے۔ دو دنوں میں ہونے والے تشدد کے ان تینوں واقعات میں سب سے منفرد مسعود حامد کے قتل کا واقعہ ہے۔ پولیس افسر اعجاز خواجہ شیعہ تھے اور قیاس ہے کہ ان کو ان کے مسلک کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ پھر جن مسلح افراد نے ڈیبرا لوبو کی کار پہ فائرنگ کی وہ ایک رقعہ چھوڑ کر گئے جس میں اسلامی ریاست یعنی آئی ایس کی طرف سے حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ ڈیبرا لوبو کو امریکی ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مگر مسعود حامد کو کیوں قتل کیا گیا؟ واضح رہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق مسعود حامد کے سر میں صرف ایک گولی کا نشان ہے؛ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ قاتل جائے واردات پہ اپنی گن چھوڑ گئے۔ مسعود حامد نہ تو شیعہ تھے اور نہ ہی قادیانی، تو پھر ان پہ حملہ کیوں کیا گیا؟ کیا مسعود حامد کو ان کے ادارتی تعلق کی وجہ سے قتل کیا گیا؟ شاید نہیں کیونکہ مسعود حامد نہ تو خبروں سے وابستہ تھے اور نہ ہی ابلاغ کے معاملے میں ادارے کی پالیسی بناتے تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ محض ایک لوٹ مار کی واردات تھی جو مسعود حامد کی مزاحمت کی وجہ سے بگڑ گئی؟ شاید نہیں کیونکہ مسعود حامد ایک پڑھے لکھے شخص تھے اور ہر سمجھدار شخص جانتا ہے کہ جب کسی نے آپ کے سر پہ گن رکھی ہو تو آپ ایک نازک اور کمزور پوزیشن میں ہوتے ہیں اور اس کمزوری میں مزاحمت کرنا آپ کے لیے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ کیا وہ کوئی پیسوں کےلین دین کا معاملہ تھا یا کوئی اور ذاتی پرخاش، جس کی وجہ سے مسعود حامد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟ ہم یہ بات نہیں جانتے مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ پے درپے تشدد کے ان تین واقعات نے ثابت کیا ہے کہ کراچی کی بدامنی کو کسی ایک سیاسی جماعت کے کھاتے میں ڈالنا عقل مندی نہیں ہے۔ کراچی میں ہر نوع کے دہشت گرد موجود ہیں اور ان سب کے خلاف مساوی کاروائی کی ضرورت ہے۔
میں مستقل ویڈیو بناتا ہوں اور اکثر کام کی ویڈیو بنانے کے بعد ان کے بارے میں مکمل طور سے بھول جاتا ہوں۔ حال میں اپنے ویڈیو ذخیرے میں مجھے ایسی ہی کام کی ایک ویڈیو ملی۔ یہ ویڈیو سنہ ۲۰۱۰ میں اس وقت بنائی گئی تھی جب "سندھ کی سلطنتیں" [ایمپائرز آف دا انڈس] کی مصنفہ انگریز لکھاری ایلس البینیا کے اعزاز میں سان ہوزے میں ایک تقریب ہوئی۔ اس مضمون کے ساتھ موجود ویڈیو اس وقت ریکارڈ کی گئی تھی۔ موجودہ جنوبی ایشیا کا ہر سیاستداں، ہر حکمراں جو سمجھتا ہے کہ وہ بہت تیس مارخان ہے اس کے لیے البینیا کی اس کتاب کو پڑھنا ٖضروری ہے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ اس زمین پہ اس سے پہلے کتنے بڑے بڑے طرم خان آئے اور گزر گئے، اور آج ہم ان میں مشکل سے چند ہی کو جانتے ہیں۔
ایک طرف بل گیٹس کی پولیو کے خلاف جنگ جاری ہے اور دوسری طرف پاکستان میں پولیو ویکسین کے خلاف مذہبی انتہا پسندوں کی جنگ بھی زور پکڑ گئی ہے۔ ان انتہا پسندوں کی پوری کوشش ہے کہ پولیو سرزمین پاکستان میں قلعہ بند ہوکر محفوظ رہے اور بل گیٹس اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں۔ پولیو ویکسین کے خلاف جدید ترین ہتھیار ایک ویڈیو کی صورت میں سامنے آیا ہے جس میں ایک برقعہ پوش خاتون نے بہت "تحقیق " سے ثابت کیا ہے کہ پولیو ویکسین دراصل دماغی سرطان کا سبب بنتی ہے اور اس ویکسین کی وجہ سے مسلمانوں کے گھر بچے ہونا بند ہوجائیں گے۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ان برقعہ پوش قابل خاتون کا نام ام محمد ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہنا ضروری ہے کہ کفار مغرب نے ویڈیو اسی لیے ایجاد کی تھی کہ ویڈیو میں تصویر نظر آئے۔ ایک ایسی ویڈیو جس میں ایک برقعہ پوش خاتون کیمرے کے سامنے کھڑی ہوں، اور ہمیں صرف ان کی آواز سنائی دے دراصل ویڈیو کے تصرف سے بغاوت ہے؛ اس کام کے لیے کفار مغرب کی دوسری ایجاد یعنی ریڈیو کو باآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ویڈیو بنانے والوں سے اور بالخصوص ام محمد سے ایک دوسری بات کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ برائے مہربانی اپنا تحقیقی مقالہ کفار مغرب کی تیسری بڑی ایجاد یعنی پرنٹ کی صورت میں پیش کریں۔ تحقیقی مقالہ پرنٹ کی صورت میں پیش کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم آپ کے بتائے گئے ریفرینس کو چیک کرسکیں۔ واضح رہے کہ میں ویڈیو دیکھتا ہوا نوٹس لیتا رہا۔ ام محمد بتا رہی تھیں کہ پولیو ویکسین سے فلاں وقت فلاں جگہ اتنے بچے ہلاک ہوئے اور فلاں جگہ اس طرح سرطان پھیلا؛ پھر جب میں نے انٹرنیٹ پہ ام محمد کے ان دعووں کی تصدیق چاہی تو مجھے کچھ نہ ملا۔ اگر ام محمد نے اپنا مقالہ لکھت میں پیش کیا ہوتا تو اس بات کا امکان نہ رہتا کہ نوٹس لیتے وقت میں نے کوئی غلطی کی ہے اور ام محمد کا بیان بالکل درست ہے۔
ساری باتوں کی ایک بات یہ کہ ام محمد سے درخواست ہے کہ وہ اپنے نام میں ہمارے نبی کا نام لگا کر ایک مقدس ہستی کی تذلیل کی کوشش نہ کریں۔ جس طرح نبی کے زمانے میں ایک شخص اپنی خرافات کی وجہ سے ابو جہل مشہور تھا اسی طرح آپ کی فضول باتوں کی وجہ سے آپ پہ ام جہل کی کنیت زیادہ سجتی ہے۔



Labels: , , , , , , ,


Tuesday, April 14, 2015

 

عمران خان کہنیاں کیوں مارتے ہیں؟






اپریل بارہ،  دو ہزار پندرہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چھتیس
 
عمران خان کہنیاں کیوں مارتے ہیں؟
سنہ ۲۰۰۵۔ شمالی کیلی فورنیا کے شہر پالو آلٹو میں آرگنائزیشن آف پاکستانی آنٹریپرینئیرز کی  اوپن فورم نامی کانفرینس کی کاروائی زوروں پہ تھی۔ لابی میں لگے ایلیویٹر کو صرف ایک منزل اوپر جانا تھا۔ صبح سے دوپہر کے اس سمے تک اوپن فورم کے شرکا بہتیرے بار اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جانے کا کام سیڑھیوں کی مدد سے کر چکے تھے، مگر اس وقت وہ ایلیویٹر کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ بلکہ ایلیویٹر چلنے سے پہلے اس کے باہر اتنی کثیر تعداد میں لوگ جمع تھے کہ ایلیویٹر میں چند ہی لوگ سما پائے تھے۔ باقی باہر نامراد کھڑے رہ گئے تھے۔ اس ایلیویٹر سواری کی خاص بات یہ تھی کہ عمران خان اوپن فورم میں اپنی کلیدی تقریر کے بعد ایلیوٹر سے اوپر جارہے تھے اور ان کے معتقدین کا ایک گروہ ان کے ساتھ تھا۔ ایلیویٹر کا دروازہ بند ہوا تو تو میں نے وہاں موجود تمام لوگوں کو غور سے دیکھا۔ میں شاید ان مسافروں میں واحد شخص تھا جو عمران خان کے لیے والہانہ عقیدت کے ایسے جذبات نہ رکھتا تھا جیسے دوسرے لوگوں کے چہروں سے عیاں تھے۔ اپنی کمال مہربانی سے اوپن کی قیادت، بالخصوص عمیر خان، نے مجھے یہ موقع فراہم کیا تھا کہ عمران خان جتنا عرصہ اوپن کانفرینس میں رہیں، ہر محفل میں جہاں عمران خان بولیں، میں شریک رہوں اور اس عوامی شخصیت کا دور سے جائزہ لیتا رہوں۔ اور اسی وجہ سے مجھے اس ایلیوٹر میں جگہ ملی تھی ۔میں اس وقت عمران خان اور ان کے مریدوں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کسی شخص سے عوام محبت کا ایسا اظہار کریں تو اس شخص کے لیے اپنے دماغ کو ٹھکانے رکھنا کس قدر مشکل کام ہوتا ہوگا۔
عمران خان کیا ہیں اور ان کے کن کارناموں کی وجہ سے لوگ ان کے دیوانے ہیں، اس بارے میں بہت طویل بحث ہوسکتی ہے، مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے لوگ عمران خان کے پرستار ہیں اور ان کی طرف یوں کھنچے چلے آتے ہیں جیسے لوہے کی ہلکی پھلکی سوئیاں کسی طاقتور مقناطیس کے رخ ہوجاتی ہیں۔
حال میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں عمران خان کو اپنے پیچھے کھڑے ایک شخص کو، جو غالبا ان کا مرید رہا ہوگا، کہنی مارتے دکھایا گیا ہے۔ آپ سوال کرسکتے ہیں کہ عمران خان لوگوں کو کہنیاں کیوں مارتے ہیں؟ اور اگر آپ عمران خان سے یہ سوال کریں تو یقینا عمران خان پلٹ کر آپ سے پوچھیں گے کہ لوگ ان سے، یعنی عمران خان سے، اس قدر چمٹ کر کیوں کھڑے ہوتے ہیں۔ غیر لوگوں کا اس قدر قریب آجانا صرف عمران خان کو ہی نہیں کھلتا بلکہ ہر اس شخص کو برا لگتا ہے جس نے مغرب میں کچھ عرصہ گزارنے پہ مغرب کی اخلاقی اقدار کو قبول کرلیا ہو۔ لوگوں سے معاملے میں مغرب اور مشرق کی اخلاقی اقدار میں ایک بہت بڑا فرق دائرہ شخصی (پرسنل اسپیس) کے تعین کا ہے۔ مغربی اخلاقی اقدار میں سب سے اندرونی دائرہ شخصی کافی وسیع ہے؛ اس میں داخلے کا اختیار صرف خاص لوگوں کو ہے۔ مشرق میں دائرہ شخصی بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ لوگوں کا مغرب میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد پاکستان میں اس مختصر دائرہ شخصی کو قبول کرنا مشکل کام ہوتا ہے۔ مغربی دنیا سے جو لوگ پاکستان جاتے ہیں ان کے منہ سے یہ شکایت عام سننے میں آتی ہے کہ پاکستان میں لوگ بہت قریب آ کر آپ سے بات کرتے ہیں اور قطار میں اس قدر جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں کہ آپ کو اپنے سے پیچھے کھڑے شخص کی سانس اپنے کانوں پہ محسوس ہوتی ہے۔ آپ پاکستان میں بینک سے رقم نکلوانے جائیں تو کیشیر سے رقم لینے کے بعد جب آپ رقم کو گن رہے ہوتے ہیں تو آپ کے دائیں، بائیں، اور پیچھے کھڑے لوگ بھی آپ کے ساتھ یہ رقم گن رہے ہوتے ہیں۔
دنیا میں ہر زمانے میں مختلف گروہوں کی اخلاقی اقدار آپس میں ٹکرا رہی ہوتی ہیں اور آخر میں جیت طاقتور گروہ کی اخلاقی اقدار کی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ طے ہے کہ بہت جلد پوری دنیا میں دائرہ شخصی سے متعلق مغربی اقدار رائج ہوجائیں گی۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا اس وقت تک عمران خان کو کہنیاں مار کر  اپنے سے چپکنے والے لوگوں کو پیچھے ہٹانا ہوگا۔

Labels: , , , ,


Tuesday, April 07, 2015

 

آغا حسن عابدی




اپریل پانچ،  دو ہزار پندرہ
 
ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو پینتیس
 
آغا حسن عابدی

شاید سنہ دو ہزار دس یا گیارہ کی بات ہوگی۔ نہ جانے مجھے کیسے یہ خیال آیا کہ میں پاکستان میں بینکنگ کے بے تاج بادشاہ مرحوم آغاحسن عابدی کی زندگی کو کھنگالوں۔ میں آغا صاحب کے بارے میں وہ باتیں نہیں جاننا چاہتا تھا جو پہلے سے کتابوں میں درج تھیں اور جو دراصل زیادہ تر بی سی سی آئی سے متعلق تھیں۔ میں بی سی سی آئی سے زیادہ آغا حسن عابدی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اس وقت تک آغا حسن عابدی کے انتقال کو پندرہ سال سے اوپر کا عرصہ گزر چکا تھا۔ میں ان لوگوں کا انٹرویو کرنا چاہتا تھا جنہوں نے آغا حسن عابدی کو قریب سے دیکھا تھا اور ان کی باتیں سنی تھیں۔ میں نے اس سلسلے میں اپنے چچا اسرار حسن سے بات کی۔ وہ کراچی میں موجود بی سی سی آئی کے پرانے لوگوں کو جانتے تھے۔ چچا نے ایک ایک کر کے مجھے ان لوگوں سے ملانا شروع کیا۔ میں اکبر بلگرامی صاحب سے ملا، پھر اے بی شاہد صاحب سے ملا اور اسی طرح میں نے نسیم خان صاحب کا بھی انٹرویو کیا۔ میرے چچا اسرار حسن انٹرویو دینے میں تردد کررہے تھے مگر میں کسی نہ کسی طرح ان سے بھی ایک مختصر انٹرویو نکلوانے میں کامیاب ہوگیا۔ میں صالح نقوی صاحب سے ملنا چاہتا تھا۔ صالح نقوی صاحب کا انٹرویو اہم تھا کیونکہ وہ بی سی سی آئی کے مبینہ کالے کرتوتوں کا حساب امریکہ میں جیل یاترا سے چکا کر واپس پاکستان پلٹے تھے۔ نقوی صاحب کراچی میں تھے مگر علیل تھے۔ میں ان کا انٹرویو نہ کرپایا۔
گنے چنے یہ چار انٹرویو کر کے میں واپس کیلی فورنیا آگیا۔ پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ تین انٹرویو کے ٹیپ تو مجھے مل گئے، چچا کے انٹرویو کا ٹیپ غائب تھا۔ کیا وہ ٹیپ میں کراچی میں اپنےگھر بھول آیا تھا؟ یہی سوچ کر حیران ہوتا رہا۔ اکبر بلگرامی، اے بی شاہد، اور نسیم خان صاحبان کے انٹرویو تو میں نے انٹرنیٹ پہ شائع کردیے مگر اپنے چچا کا انٹرویو شائع نہ کرپایا۔ سال بھر بعد پھر پاکستان جانا ہوا تو ایک بار پھر اس ٹیپ کی تلاش ہوئی مگر وہ ٹیپ نہ ملنا تھا، نہ ملا۔ وقت گزرتا گیا حتی کہ اس سال فروری میں چچاجان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال پہ ایک دفعہ پھر مجھے ان کاانٹرویو یاد آیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مجھے وہ ٹیپ مل جائے۔ دل میں یہ امنگ اٹھی۔ میرے پاس جتنے پرانی ٹیپ پڑے تھے ان کی گرفت، کیپچر کرنے، کا کام شروع کیا۔ اس کام کے درمیان میں ایک ایسے ٹیپ پہ جس کا عنوان کچھ اور تھا چچا کا انٹرویو مل گیا۔ میری خوشی دیدنی تھی۔ چچا کے اس انٹرویو کی تدوین آج ہی مکمل کر کے میں نے اسے انٹرنیٹ پہ شائع کیا ہے۔
جس زمانے میں چچا بی سی سی آئی میں کام کرتے تھے میں نے چچا کے منہ سے کئی بار آغا حسن عابدی کا نام سنا تھا۔ دراصل آغا حسن عابدی بی سی سی آئی کے سب سے بڑے پیر کامل تھے جن کے ہاتھ پہ بینک کے تمام اہل کاروں کی بیعت معلوم دیتی تھی۔ یہ سارے لوگ مستقل آغا حسن عابدی کے نام کی مالا جپتے تھے۔ جب دل کی جراحی کے بعد آغا حسن عابدی صاحب نے شادی کی تو یہ لوگ مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے کہ آغا صاحب کا نیا دل ہے، یہ دل کسی کو تو دینا ہی تھا۔ یا جب آغا حسن عابدی نے اپنے لیے ایک ہوائی جہاز خریدا تو یہ باتیں ہوتیں کہ آغا صاحب کی خواہش ہے کہ ان کے اپنے پیدائش کے شہر لکھنئو کا ہوائی اڈہ بڑا ہوجائے تاکہ وہاں آغا صاحب کا بوئنگ جہاز اتر سکے۔ مگر اس ہنسی ٹھٹھول میں بھی ان لوگوں کی باتوں سے آغا حسن عابدی کا احترام جھلکتا تھا۔ یہ سب لوگ آغا حسن عابدی سے بہت متاثر تھے کیونکہ خود آغا صاحب منازل ثروت طے کرتے کرتے وہاں پہنچ چکے تھے جہاں وہ فلسفے کی طرف مائل تھے۔ وہ دنیا میں انسان کے مقصد کی بات کرتے اور اپنے بینک میں کام کرنے والوں کو بتاتے کہ کس طرح کسی کی مدد کرنے سے خود مدد کرنے والا انسان مستفید ہوتا ہے۔
کیا بحیثیت بینک بی سی سی آئی واقعی منشیات کے کام میں حاصل کیے جانے والے منافع کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے کام میں ملوث تھا؟ میں اس بات کا حتمی جواب نہیں دے سکتا۔ مگر میں پاکستان میں موجود رائے عامہ سے بخوبی واقف ہوں۔ اور عوامی رائے یہ ہے کہ بی سی سی آئی ترقی پذیر دنیا کا حمایتی ایک ایسا بینک تھا جو تیزی سے پھیل تھا اور اسی وجہ سے مغربی دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ کہ بی سی سی آئی کو بند کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مغرب کے بنائے گئے نظام بینکاری کو استعمال کرتے ہوئے مغرب کو آنکھیں نہیں دکھائی جا سکتیں۔ کہ ابو ندال سے لے کر مانویل نورییگا تک جو لوگ مغرب میں ناپسندیدہ ہیں ان کے بینکار دوست بھی مغرب میں ناپسندیدہ ہی ہوں گے۔ بی سی سی آئی کو بند کر کے ترقی پذیر دنیا کو باور کرایا گیا ہے کہ نوآبادیاتی نظام ختم نہیں ہوا ہے بلکہ محض اس نظام کی شکل بدلی ہے اور جس نے اس نظام سے بغاوت کرنے کی کوشش کی، اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔






Labels: , , , , , , , , , , , ,


Tuesday, March 31, 2015

 

ستیہ پال آنند





مارچ انتیس،  دو ہزار پندرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چونتیس


ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند کا نام پہلی بار میں نے مرحوم امرائو طارق سے سنا تھا۔ مارچ کا مہینہ تھا اور موسم گرمی کی طرف مائل تھا۔ میں امرائوطارق کے پاس انجمن ترقی اردو کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ امرائو طارق نے اشتیاق سے مجھے بتایا کہ ستیہ پال آنند پاکستان آنے والے تھے۔ میری چڑھی بھویں اور چہرے پہ سوالیہ نشان دیکھ کر امرائو طارق سمجھ گئے کہ میں ستیہ پال آنند کے نام سے واقف نہ تھا۔ "ستیہ پال آنند بہت اعلی پائے کے نقاد ہیں، نظمیں بھی خوب لکھتے ہیں"، امرائو طارق نے مجھے بتایا، اور یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان آتے رہتے ہیں۔  میں نے امرائوطارق سے یہ نہ پوچھا کہ ستیہ پال آنند کہاں سے پاکستان آرہے تھے بلکہ اس حماقت کا شکار رہا جس کا شکار بیشتر پاکستانی رہتے ہیں کہ لوگوں کے ناموں سے ان کے قومی تعلق کا اندازہ لگاتے ہیں۔  البتہ یہ تعجب میرے دل میں رہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے کشیدہ حالات میں جس کا سارا نزلہ بیچارے عام مسافروں پہ گرتا ہے، ستیہ پال آنند کوپاکستان کا ویزا اس قدر آسانی سے کیسے مل رہا تھا کہ وہ پاکستان کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔

اس سال کراچی ادبی میلے کی کاروائی میں جب میں نے ستیہ پال آنند کا نام دیکھا تو ان کو دیکھنے اور سننے کی خواہش میں اس محفل میں شریک ہوا جس کا محور ستیہ پال آنند کی ذات اور تصانیف تھیں۔ محفل کی نظامت حارث خلیق کررہے تھے اور مہمان کی نظموں کے انتخاب میں ان کی مدد کرنے کے لیے ڈاکٹر فرزانہ حسن موجود تھیں۔
ستیہ پال آنند اپنی کتاب "کتھا چار جنموں کی" کے بارے میں بتا رہے تھے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اپنا، یا اپنے بچوں کا کوئی حال نہیں لکھا ہے۔
ستیہ پال آنند نے بتایا کہ وہ ضلع چکوال کے گائوں کوٹ سارنگ میں پیدا ہوئے تھے۔ دس بارہ سال کی عمر میں انہیں اپنے دادا کے بھائی لال میدی رام کے گھر سے پرانے کاغذات ملے جو ٹاکرے نامی رسم الخط میں لکھے گئے تھے۔ ستیہ پال آنند کا کہنا تھا کہ ٹاکرے خط کو بھلا دیا گیا ہے؛ گویا اب نہ تو ٹاکرے میں کچھ لکھا جاتا ہے اور شاید نہ ہی کوئی طریقہ تحریر پڑھ سکتا ہے۔ ان ہی کاغذات کو پڑھ کر ستیہ پال آنند کو اپنے بارے میں جاننے کی خواہش ہوئی۔ ستیہ پال آنند نے بتایا کہ ان کی ذات گوتر ہے جس کا تعلق کھوکھرقبیلے سے ہے۔  اس علاقے میں ظہور اسلام کے بعد کھوکھر قبیلے کے بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ جو نہیں ہوئے وہ خود کو کھوکھرائن کہنے لگے۔ گوتر کھوکھرائن ہی کی ایک ذات ہے۔ یہ باتیں تو ستیہ پال آنند کو باآسانی سمجھ میں آگئیں مگر ان کے نام میں آنند کہاں سے آیا، یہ جاننے کے لیے انہوں نے عمر کے دس بارہ سال لگائے، اور یہ گیان حاصل کرنے کے لیے ہمالیہ کی ترائی تک بھی گئے۔
ستیہ پال آنند کی یہ باتیں سنتے ہوئے یہ خیال خود بخود دل میں آیا کہ ان کی اپنی شناخت اور جڑوں کی تلاش میں نکلنے کے عمل کا بہت کچھ تعلق ہجرت کے تکلیف دہ واقعے سے رہا ہوگا۔ جس جگہ ان کا خاندان صدیوں سے رہتا آیا تھا وہاں سے محض دھرم کی بنیاد پہ دیس نکالا ملنے کے بعد شناخت کے پورے سلسلے کو جانچنے کی کوشش تو عین فطری تھی۔
ستیہ پال آنند کا کہنا تھا کہ لوگ انہیں ائیرپورٹ پروفیسر کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کے سات آٹھ ملکوں میں پڑھایا ہے۔
ستیہ پال آنند نے اس محفل میں تقسیم پنجاب کے واقعے کا تذکرہ نہیں کیا مگر یہ حکایت عام ہے کہ سنہ سینتالیس کے فسادات میں مسلمان غنڈوں کے ڈر سے ستیہ پال آنند کے گھر والے در بدر ہوئے اور پنڈی سے لدھیانہ کے سفر میں ان کے والد ہلاک ہوئے۔ کراچی ادبی میلے کی اس محفل میں ستیہ پال آنند نے انگلستان، امریکہ، اور کینیڈا میں تدریس کے بارے میں جو کچھ بتایا اس سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک عرصے سے مغرب میں آباد ہیں۔
اس محفل میں ستیہ پال آنند کی گفتگو کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ ہوا جس میں ایک سوالی نے جب مہمان عالم کے نام کی وجہ سے انہیں زبردستی ہندومت کی طرف کھینچنے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا وہ پیدا تو ہندو ہوئے تھے مگر اب وہ آل فیتھس مین [ہر مذہب کے ماننے والے] ہیں۔



Labels: , , , , , ,


Tuesday, March 24, 2015

 

بل گیٹس اور پولیو کا قلعہ












مارچ بائیس،  دو ہزار پندرہ

ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو تینتیس


بل گیٹس اور پولیو کا قلعہ
 
جو لوگ پاکستان سے باہر رہتے ہیں اور کچھ کچھ عرصے بعد وہاں جاتے ہیں ان کو لگتا ہے کہ جیسے پاکستان کی آبادی پچھلی بار سے دگنی ہوگئی ہو۔ آبادی میں اس طرح کے اضافے کے باوجود پاکستان میں رہنے والے لوگوں کو ڈر ہے کہ کہیں کسی حیلے بہانے سے مغربی طاقتیں ان کی نس بندی نہ کروادیں، کہیں ان کے بچے ہونا نہ بند ہوجائیں۔ چند برس پہلے اس خوف کا مظاہرہ میرے سامنے اس وقت ہوا تھا جب کراچی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے کافی بے تکلف گفتگو کے دوران اس شخص نے روڈ پہ لگے ایک اشتہار کی طرف اشارہ کر کے مجھے سمجھایا تھا کہ، اب اس سوراخ والی گولی کا اشتہار دیکھیں۔ اتنی کم قیمت والی چیز کے لیے اتنی اشتہار بازی۔ آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کوئی چکر ہے؟
میں نے کریدا کہ آخر اس شخص کو اس ٹافی کے اشتہار میں کیا چکر نظر آرہا ہے۔ اس شخص نے مجھے رازداری سے سمجھایا کہ، ضرور اس گولی میں کوئی ایسی چیز ملی ہے جس سے مرد نامرد ہوجائیں اور عورتیں بانجھ ہوجائیں؛ مغربی طاقتوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں آرہی کہ مسلمانوں کی آبادی دنیا میں بڑھ رہی ہے۔
شرح آبادی میں ممکنہ کمی کا یہ خوف کچھ دن پہلے ایک ایسے مضمون میں نظر آیا جو گلوبل سائنس نامی پاکستانی جریدے میں شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون دہری شخصیت رکھتا ہے کیونکہ مضمون کا پہلا حصہ پڑھ کر قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف پولیو کی ویکسین کے سخت خلاف ہے، مصنف کے خیال میں اس ویکسین میں ایسی کیمیات ہیں جو بانجھ پن کا سبب بن سکتی ہیں۔ مگر پھر مضمون کے دوسرے حصے میں مصنف ان ناقدین کا بیان لکھتا ہے جنہوں نے مضمون کا پہلا حصہ پڑھ کر مصنف کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں مضمون کا دوسرا حصہ، پہلے حصے کی نفی کرتا ہے۔
قصہ مختصر، پورا مضمون پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ ایک بار پھر ایک سائنسدان نما مولوی (یا مولوی نما سائنسدان) میری زندگی کے دس بارہ منٹ ضائع کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
اس مضمون کے اول حصے میں پولیو کی ویکسین پہ شک کی دو وجوہات کا بیان ہے۔  اول یہ کہ پولیو کے علاوہ اور بھی تو موذی بیماریاں ہیں جن کا شکار بہت سے لوگ ہوتے ہیں، پھر پولیو پہ اتنا زور کیوں؟ اور دوسرا شک یہ کہ آخر پولیو کی ویکسین کی حمایت میں مولویوں سے کیوں فتوے لیے جارہے ہیں؟
اس مضمون کے لکھاری اور ان جیسے بھٹکے ہوئے ذہنوں والے دوسرے لوگوں کے لیے عرض ہے کہ ہاں دنیا میں بہت سی بیماریاں ہیں، ہاں پاکستان میں پولیو کے علاوہ ایسے متعدد امراض ہیں جن سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد پولیو سے گھائل ہونے والے بچوں سے کہیں زیادہ ہے، مگر پولیو ایک ایسا مرض ہے جو دنیا سے قریبا ختم ہوچکا ہے۔ ہندوستان جیسی بڑی آبادی والے ملک سے ختم ہونے کے بعد اب یہ مرض دنیا کے چند ہی حصوں میں بچا ہے۔ اسلام کا قلعہ ہرممکن کوشش کررہا ہے کہ اس مرض کو اپنی امان میں رکھے۔ ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف ایک امیر کبیر شخص ہے جسے نہ تو حوروں کا لالچ ہے اور نہ آگ کا خوف۔ اس مالدار شخص کی خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے اس کے منہ پہ ایک گہری مسکراہٹ ہو، اور وہ مسکراہٹ یہ سوچ کر ہو کہ اس نے ایک بیماری، صرف ایک بیماری کو دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ وہ شخص اپنی اس آخری مسکراہٹ کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کو تیار ہے۔ اب اگر کسی کا خیال ہے کہ معاشرے میں پولیو کے بجائے کسی دوسری بیماری کے خلاف کام  ہونا چاہیے تو اس شخص کو چاہیے کہ وہ سینہ ٹھونک کر سامنے آئے اور اپنی رقم اور محنت سے اپنے خوابوں کی تعبیر پالے۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پولیو کی ویکسین کے لیے مولوی سے کیوں فتوی لیا جارہا ہے تو اس کی وجہ واضح ہے۔ نیاز فتح پوری کا کہنا تھا کہ مولویوں کی اتنی ہی قسمیں ہوتی ہیں جتنی سانپوں کی ہوتی ہیں، مگر بعض سانپ زہریلے نہیں ہوتے۔ نیاز فتح پوری کے اس مشاہدے میں ایک اضافے کی گنجائش ہے اور وہ یہ کہ ایک مولوی کے زہر کا توڑ دوسرا مولوی ہی کرسکتا ہے۔ ارے بھائی مصنف، پولیو کارندوں پہ حملے کرنے والے لوگ وہ نہیں ہیں جن کا پولیو ویکسین سے کوئی سائنسی اختلاف ہے۔ حملے مولوی کے بھڑکانے پہ کیے جارہے ہیں۔ چنانچہ ان حملوں کو روکنے کے لیے، گویا زہر کے تریاق کے لیے، دوسرے مولوی کا استعمال ناگزیر ہے۔
بے چارے بل گیٹس کو کیا خبر تھی کہ وہ پولیو پہ حملہ کرتے کرتے وہاں پہنچ جائے گا جہاں اس کا مقابلہ ایک نہیں دو بیماریوں سے ہوگا۔ اور یہ دوسری بیماری پولیو سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ بیماری ذہنی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جو زندگی کو اعتقادات کی دلدل میں دھنسا دیکھنا چاہتی ہے۔
بل گیٹس کو یقینا کچھ لوگ سمجھا رہے ہوں گے کہ حضور، ان احمقوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیجیے اور ڈارون کی روح کو ان سے خود ہی نمٹنے دیجیے۔ جو لوگ بے وقوف ہیں ان کی نسل معذوریوں سے اور بیماریوں سے رفتہ رفتہ خود ہی ختم ہوجائے گی۔ آپ کیوں اپنا وقت اور پیسہ برباد کرتے ہیں؟
پھر دوسری طرح کے مشیر بل کی ہمت بڑھا رہے ہوں گے کہ نہیں حضور، اپنی کوششیں جاری رکھیے۔ یہ لوگ مکمل طور پہ بے وقوف نہیں ہیں۔ ان میں اتنی عقل ہے کہ یہ آپ کا بنایا ہوا آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہوئے، آپ کے بنائے ہوئے ورڈ سافٹ وئیر پہ لکھ کر آپ کے اچھے کاموں پہ قرآن اور سنت کی روشنی میں تنقید کرتے ہیں۔ اگر یہ بالکل ہی جاہل ہوتے (یا اگر ان میں ذرہ برابر بھی شرم ہوتی) تو کمپیوٹر اور دوسری مغربی ایجادات کی سہولیات چھوڑ کر اونٹوں پہ جا چڑھتے اور تلواریں لہرتے ہوئے ہمارے مقابلے پہ آتے۔
اور بیچارا بل یہ سب کچھ سن کر سوچتا ہوگا کہ کاش میں اپنی دولت سے لوگوں کے لیے عقل خرید سکتا۔

Labels: , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?