Thursday, October 31, 2019

 

اے بی لاشاری کی کتاب 'آذربائیجان سے ازبکستان تک'

اے بی لاشاری کی کتاب

'آذربائیجان سے ازبکستان تک'






اے بی لاشاری صاحب کا اردو سفرنامہ 'آذربائیجان سے ازبکستان تک' ایک ایسے سفر کا حال ہے جس میں چھیالیس پاکستانی وکلا کی ایک جماعت نے اپریل سنہ دو ہزار اٹھارہ میں آذربائیجان اور ازبکستان کا دورہ  کیا۔ وفد کے اراکن ان ممالک میں عدالت اور وکالت سے منسلک افراد سے ملے اور وفد نے تاریخی مقامات بھی دیکھے۔

لاشاری صاحب نے یہ کتاب ایک ایسی ڈائری کے طور پہ لکھی ہے جس میں روزانہ پیش آنے والے واقعات کے ساتھ مصنف کے مشاہدات موجود ہیں۔

کوئی بھی کتاب بے عیب نہیں ہوتی۔ 'آذربائیجان سے ازبکستان' تک نامی اس کتاب کے مسودے کو اگر کسی اچھے مدیر کو دکھایا جاتا تو وہ کوتاہیاں دور کی جاسکتی تھیں تو قاری کی نظروں میں کانٹا بن کر چبھتی ہیں۔ [مثلا آذربائیجان کو وسط ایشیا کا ایک ملک بتانا یا بحر کیسپین کو بحر مردار سے ملا دینا۔]



دنیا بھر میں لوگ مستقل مختلف تجربات میں مشغول ہیں مگر۔ ایسے باہنر کم ہوتے ہیں جو ان تجربات کو کسی بھی طور پہ ریکارڈ کر کے محفوظ کرلیں۔ اے بی لاشاری صاحب نے وکلا کی جماعت کے سفر کو کتابی شکل دے کر وفد کے تمام اراکین کے لیے اس سفر کی ایک خوب صورت، باتصویر دستاویز فراہم کردی ہے۔ وہ اپنی اس کاوش پہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔




A review of A.B. Lashari Advocate’s Urdu travelogue ‘Azerbaijan se Uzbekistan takk’

Friday, July 19, 2019

 

قربانی کے بعد تعفن سے بچنے کا آسان حل


قربانی کے بعد تعفن سے کیسے بچیں؟
علی حسن سمندطور
مجھے میلے ٹھیلے، تہوار بہت پسند ہیں۔ میں خوشی کے ان موقعوں کو رنگوں اور خوشبوئوں کے ساتھ جوڑتا ہوں۔ مگر ایک مذہبی تہوار ایسا ہے جسے ہم نے ، اپنی  بے وقوفی سے سخت بدبودار بنا دیا ہے اور وہ ہے بقرعید۔ جیسے جیسے  عیدالاضحی قریب آرہی ہے  میرے اندر ایک خوف بڑھتا جارہا ہے۔ کیا اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگا جیسا ہر دفعہ ہوتا ہے؟ کیا اس دفعہ بھی  بقرعید پر قربانی کے بعد مذبح جانور کے ناپسندیدہ حصّے گھروں کے سامنے ہی ڈال دیے جائیں گے؟ اس دفعہ تو بقرعید اور بارش کا ساتھ ہوگا۔ سڑنے والی آلائش بارش کے ساتھ مل کر تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماریوں کا سبب نہ بن جائے؟
پاکستان کی اکثر آبادیوں میں  عید الاضحی کے بعد تمام اہل محلہ کی ایک اجتماعی قربانی شروع ہوجاتی ہے اور ہم سڑنے اور تعفن پھیلانے والی آلائشوں کو مستقل سونگھتے رہتے ہیں۔ ہماری یہ اجتماعی قربانی چار مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں فقیر اور خانہ بدوش، اوجھڑیوں اور دوسرے پھینکے جانے والے حصوں میں سے اپنی پسند کا مال نوچ کر لے جاتے ہیں اور باقی ماندہ کو وہیں پھیلا جاتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان ٹکڑوں پہ کتے اور بلیاں حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنی رغبت کے حصّے نوچتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ سب سے تکلیف دہ ہوتا ہے جس میں مختلف بیکٹیریا ان آلائشوں پہ جھپٹتے ہیں اور پھر سڑنے کی بو چہارسو پھیل جاتی ہے۔ سڑتی ہوئی یہ اوجھڑیاں مختلف خطرناک بیماریوں کے جراثیم کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ جلد یا بدیر یہ جراثیم ہوا میں اڑ کر انسانوں تک پہنچتے ہیں اور ان کو بیمار کردیتے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں ہوا سے اڑنے والی گرد کے ساتھ یہ فضلہ ذرہ ذرہ ہر سمت میں اڑتا ہے اور تقریباً محرم کے آخر تک لوگ اس اجتماعی قربانی سے فارغ ہوتے ہیں۔
بقرعید کے بعد تعفن سے بچنے کا ’آسان حل یہ ہے کہ آلائش کو دفن کردیں۔ قربانی سے پہلے ساڑھے تین فٹ قطر کا دو فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔ اگر جانور زیادہ ہوں تو اسی تناسب سے گڑھے کے حجم میں اضافہ کرلیں۔ عید پہ قربانی کے جانور کو گڑھے پہ ذبح کریں تاکہ تمام خون گڑھے میں چلا جائے۔ مذبح جانور کا گوشت بناتے وقت ایک پلاسٹک فرش پر بچھا لیں تاکہ تمام آلائشوں کو صفائی کے ساتھ ایک جگہ جمع کیا جاسکے اور فرش پر خون بھی نہ لگنے پائے۔ ممکن ہو تو یہ کام گڑھے سے قریب کریں۔ آلائشوں کو گڑھے میں ڈال دیں۔ پلاسٹک کو گڑھے کے اوپر دھو لیں۔ [پلاسٹک کو گڑھے میں نہ ڈالیں۔] یہ کام مکمل کرنے کے بعد گڑھے کو پر کردیں اور اضافی مٹی اس کے اوپر ہی ڈھیر کردیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ تمام مدفون آلائشیں بہترین قسم کی کھاد میں تبدیل ہوجائیں گی۔ آلائشوں کا حجم کم ہونے کی وجہ سے مٹی اندر دھنس جائے گی اور اضافی مٹی تقریباً اپنی سطح پہ واپس آجائے گی۔ اس قسم کی ’آلائش قبروں‘ کے اوپر نہایت موئثر طریقے سے درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ آلائشوں کو دفن کرنے کے لیے یہ گڑھے آپ اپنے باغ میں، یا  سڑک کے قریب درخت لگانے کی منصوبہ بندی سے کھود سکتے ہیں۔ اس دفعہ  بقرعید سے دو روز پہلے ہی یا تو خود ایسے گڑھے کھود لیں یا کسی مزدور کو رقم دے کر یہ کام کروالیں۔
ہوسکتا ہے آپ  مجھے بتائیں کہ آپ کے شہر میں  بلدیہ کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی ہے اور علاقے سے اوجھڑیاں فوراً ہی اٹھا لی جاتی ہیں۔ اس صورت میں بھی آلائشوں کو دفن کرنا زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک طرف تو آپ اس طرح اپنی زمین کو زرخیز بنا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بلدیہ کے اخراجات کو بچانے کے علاوہ آپ اپنے ماحول کو بہتر بنا رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب کوڑا اٹھانے والا ٹرک کم چلے گا تو کم دھواں آپ کے ماحول میں داخل ہوگا۔ مزید یہ کہ ٹرک کم چلنے کی وجہ سے تیل کی بچت ہوگی اور ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔

Thursday, July 18, 2019

 

بقرعید کے بعد تعفن سے کیسے بچیں


پهريون سنڌي


توهان عيد الاضحي کان پوء خراب حالتن کان پاڻ بچائي سگهو ٿا.
قرباني کانپوء جانورن جا ڪوڙو کي دفن ڪيو

قدم واري عمل طرفان قدم

عيد الاضحي کان اڳ ميدان ۾ سوراخ ڪريو.

هڪ ڳئون لاء 3.5 فوٽ ويڪر سوراخ ۽ هڪ بکري لاء 2 فوٽ ويڪر

جانور کي کڏ تي ذبح ڪيو ته سڀئي رت سوراخ ۾ داخل ڪريو.

جڏهن گوشت تيار ڪندي هڪ وڏو پلاسٽڪ شيٽ کي استعمال ڪيو

سڀ فضول گڏ ڪرڻ

کڏ ۾ سڀ ڪجهه ختم ٿيل حصا خالي ڪريو.

کڏ ڀريل ۽ اضافي مٽي کي مٿي تي رکي.

اهي سوراخ بعد وڻ جي ٻوٽي ڪرڻ لاء استعمال ڪري سگهجن ٿيون.

This page is powered by Blogger. Isn't yours?