Thursday, January 23, 2020

 

نیکو


نیکو

وہ بچہ مستقل میرے اعصاب پہ سوار ہے۔ نیکو۔ وہ بچہ۔ اس کو دیکھے دو سال سے اوپر ہوگئے ہیں مگر شاید ہی کوئی دن جاتا ہو کہ میں اس کے بارے میں نہ سوچتا ہوں۔ اس بچے کے خیال نے مجھے گلے سے دبوچ رکھا ہے۔ نیکو۔ وہ بچہ۔ وہ ٹرکر ہیٹ لگاتا تھا اور اس کے منہ پہ مستقل ایک مسکراہٹ رہتی تھی۔ وہ بچہ۔ نیکو۔
یوں سمجھیں کہ آپ نیکو ہیں۔ آپ کی عمر بارہ برس ہے۔ آپ کا ایک بھائی ہے جو عمر میں آپ سے دو سال چھوٹا ہے۔ آپ اپنے ماں باپ کے ساتھ کیلی فورنیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ بارہ برس کی عمر بے فکری کی عمر ہوتی ہے، اس لیے آپ بے فکر ہیں حالانکہ فکر کرنے کو بہت کچھ ہے۔ آپ کا گھر کچی اینٹوں سے بنا ہے۔ گھر میں پیسوں کی تنگی کی وجہ سے ماں باپ میں چپقلش رہتی ہے مگر آپ بے فکر ہیں کیونکہ فوڈ اسٹیمپ کی مدد سے کھانا پینا چل رہا ہے۔ پھر ایک دن گھر میں تنگ دستی سے متعلق ایک بہت بڑا راز آپ پہ کھلتا ہے۔ آپ کا باپ ہیروئن کا نشہ کرتا ہے۔ پہلے وہ یہ نشہ گھر سے باہر کہیں دور کیا کرتا تھا مگر اب وہ نشے کی لت میں اتنا آگے جا چکا ہے کہ وہ  گھر کے اندر ہی غسل خانے کا دروازہ بند کر کے نشہ کرلیتا ہے۔ نشہ کرنے کے بعد وہ بے خبر سو جاتا ہے۔ پھر جب وہ بیدار ہوتا ہے تو اس کی بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح جلد از جلد دوبارہ نشے کی وادی میں اتر جائے۔ ماں اس بات پہ سخت ناراض رہتی ہے۔ مگر وہ کیا کرے؟  دو چھوٹے بچوں کو بغل میں دبا کر کہاں لے جائے؟  ماں قصبے کی ایک دکان میں کام کرتی ہے اور مستقل اپنی قسمت کو کوستی رہتی ہے۔ ہر طرف سرگوشیاں ہیں: نیکو، تمھارے گھر کی دیواریں کچی اینٹوں سے بنی ہیں۔ مگر بارہ سال کی عمر میں یہ سرگوشیاں بھلا کب سنائی دیتی ہیں؟ اور اگر سنائی دے بھی جائیں تو آپ کیا کرسکتے ہیں؟  پھر ایک دن آپ اپنی ماں سے سنتے ہیں کہ اسے سرطان لاحق ہے۔ اب گھر کے دوسرے اخراجات کے ساتھ دوائوں کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے۔ مشکل وقت، مشکل تر ہوگیا ہے مگر کھانا پینا ابھی بھی چل رہا ہے۔ آپ اور آپ کا بھائی اب تک بے فکر ہیں۔ آپ دونوں کا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرتا ہے۔ رات پڑتی ہے تو آپ کچھ کھا کر سو جانے کے لیے گھر لوٹ آتے ہیں۔ صبح ناشتہ اور پھر دوپہر کا کھانا اسکول میں مل جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی دن ہے جب اسکول ختم ہونے کے بعد آپ دوستوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اچانک فضا میں ایمبولینس کی آواز بلند ہوتی ہے۔ وہ ایمبولینس آپ کے گھر کی طرف جا رہی ہے۔ آپ اشتیاق میں اس طرف چل پڑتے ہیں۔ آپ گھر کے قریب پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ کے باپ کو اسٹریچر پہ ڈال کر ایمبولینس میں سوار کیا جا رہا ہے۔ آپ بھاگ کر ایمبولینس تک پہنچتے ہیں۔ ماں ایمبولینس کے اندر بیٹھی ہے۔ اندر اسٹریچر پہ باپ پڑا ہے۔ 'نیکو، تم ادھر ہی رہنا۔ اپنے بھائی کا خیال رکھنا۔ میں ابھی اسپتال سے واپس آتی ہوں،' ماں روتے ہوئے آپ سے کہتی ہے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔  ذرا سی دیر میں ایمبولینس وہاں سے روانہ ہوجاتی ہے اور آپ حیران پریشان کھڑے رہ جاتے ہیں۔ آپ کا چھوٹا بھائی بھی وہاں پہنچ گیا ہے۔ آپ اسے لے کر گھر کے اندر چلے جاتے ہیں۔ آپ دونوں ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں ماں واپس گھر آ جاتی ہے۔ وہ مستقل رو رہی ہے اور باپ کا نام لے کر اسے گالیاں دے رہی ہے۔ دھیرے دھیرے آپ کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ آپ کا باپ مرچکا ہے۔ وہ ہیروئن کی اوورڈوز سے مرا ہے۔ اب وہ آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گا۔ نہ سوتا، نہ جاگتا، نہ نشہ کرتا۔ وہ جا چکا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ یہ موت کی حقیقت سے آپ کا پہلا ٹکرائو ہے۔ موت کی ہمیشگی آپ کو سمجھ میں آنے لگی ہے۔ مگر آپ کی عمر تو بارہ برس ہے۔ بارہ سال کی عمر میں دھیان بٹتے دیر نہیں لگتی۔ پھر وہی اسکول ہے اور دوستوں کا ساتھ ہے۔ پہلے کونسا باپ ساتھ لیے لیے پھرتا تھا؟ مگر باپ تھا تو۔ گھر پہنچو تو باپ نظر آجاتا تھا۔ اب وہ منظر ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوچکا ہے۔ کچی اینٹوں کی ایک دیوار گر چکی ہے۔ پھر سکون کے کچھ ہی روز اور گزرتے ہیں کہ ماں کی طبیعت بہت خراب ہوجاتی ہے۔ اس کی نوکری چھٹ چکی ہے۔ اب وہ زیادہ تر گھر پہ ہی رہتی ہے۔ وہ دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ماں اپنے ایک چچا زاد بھائی کو فون کر کے اسے اپنے پاس بلاتی ہے۔ ماں کا وہ عم زاد اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر آپ کے گھر پہنچ جاتا ہے اور اس کے گھر پہنچنے کے دوسرے دن ہی ماں کی طبیعت اتنی زیادہ بگڑ جاتی ہے کہ اسے اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ پھر اسپتال سے جو خبر آتی ہے وہ تشویشناک ہے۔ ماں آپ کو بلا رہی ہے۔ وہ مرنے والی ہے اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرنے سے پہلے اپنے دونوں بچوں کو جی بھر کر دیکھنا چاہتی ہے۔
یہ ہے وہ نیکو جو آج تک میرے اعصاب پہ سوار ہے۔ میں نیکو سے اس کی ماں کے مرنے کے چند دن بعد ملا تھا۔ وہ ٹرکر ہیٹ لگائے تھا اور اس کے منہ پہ ایک مسکراہٹ تھی۔ بارہ سال کے اس بے ماں، بے باپ کے بچے کے منہ پہ مسکراہٹ کیوں رہتی تھی؟ میں سمجھنے سے قاصر تھا اور ہوں۔
چند دن اور گزرے اور وہ گھر جہاں نیکو رہتا تھا، خالی ہوگیا۔ نیکو کہاں گیا؟ معلوم ہوا کہ ماں کا چچا زاد بھائی، نیکو اور اس کے چھوٹے بھائی کو ایک فوسٹر ہوم میں داخل کر کے قصبے سے روانہ ہوگیا۔ پھر کچھ ایسے حالات ہوئے کہ مجھے وہ قصبہ چھوڑنا پڑا۔ مگر قصبہ چھوڑنے سے پہلے مجھے ایک ایسی خبر ملی تھی جس نے مجھے اور ہلا دیا۔ نیکو اسکول میں گانجہ پیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
یہ بارہ سالہ بچہ ہے جس کا باپ نشے کی لت میں زندگی کی بازی ہارگیا۔ جس کی ماں نے زندگی کی پریشانیوں کو اپنا روگ بنا لیا اور پھر سرطان نے اس نیم زندہ انسان کی جان لے لی۔ وہ بچہ گانجہ پیتے کیوں پکڑا گیا؟ اسے تو ہر قسم کے نشے سے نفرت ہونی چاہیے؟   یہ بچہ آگے اپنے لیے کس طرح کے فیصلے کرے گا؟
یہ بچہ آج تک میرے اعصاب  پہ سوار ہے، سر پہ لگائے اپنے  ٹرکر ہیٹ  کے ساتھ، اپنے منہ پہ پھیلی ایک مستقل مسکراہٹ کے ساتھ۔

Labels: , , , , ,


Thursday, October 31, 2019

 

اے بی لاشاری کی کتاب 'آذربائیجان سے ازبکستان تک'

اے بی لاشاری کی کتاب

'آذربائیجان سے ازبکستان تک'






اے بی لاشاری صاحب کا اردو سفرنامہ 'آذربائیجان سے ازبکستان تک' ایک ایسے سفر کا حال ہے جس میں چھیالیس پاکستانی وکلا کی ایک جماعت نے اپریل سنہ دو ہزار اٹھارہ میں آذربائیجان اور ازبکستان کا دورہ  کیا۔ وفد کے اراکن ان ممالک میں عدالت اور وکالت سے منسلک افراد سے ملے اور وفد نے تاریخی مقامات بھی دیکھے۔

لاشاری صاحب نے یہ کتاب ایک ایسی ڈائری کے طور پہ لکھی ہے جس میں روزانہ پیش آنے والے واقعات کے ساتھ مصنف کے مشاہدات موجود ہیں۔

کوئی بھی کتاب بے عیب نہیں ہوتی۔ 'آذربائیجان سے ازبکستان' تک نامی اس کتاب کے مسودے کو اگر کسی اچھے مدیر کو دکھایا جاتا تو وہ کوتاہیاں دور کی جاسکتی تھیں تو قاری کی نظروں میں کانٹا بن کر چبھتی ہیں۔ [مثلا آذربائیجان کو وسط ایشیا کا ایک ملک بتانا یا بحر کیسپین کو بحر مردار سے ملا دینا۔]



دنیا بھر میں لوگ مستقل مختلف تجربات میں مشغول ہیں مگر۔ ایسے باہنر کم ہوتے ہیں جو ان تجربات کو کسی بھی طور پہ ریکارڈ کر کے محفوظ کرلیں۔ اے بی لاشاری صاحب نے وکلا کی جماعت کے سفر کو کتابی شکل دے کر وفد کے تمام اراکین کے لیے اس سفر کی ایک خوب صورت، باتصویر دستاویز فراہم کردی ہے۔ وہ اپنی اس کاوش پہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔




A review of A.B. Lashari Advocate’s Urdu travelogue ‘Azerbaijan se Uzbekistan takk’

Friday, July 19, 2019

 

قربانی کے بعد تعفن سے بچنے کا آسان حل


قربانی کے بعد تعفن سے کیسے بچیں؟
علی حسن سمندطور
مجھے میلے ٹھیلے، تہوار بہت پسند ہیں۔ میں خوشی کے ان موقعوں کو رنگوں اور خوشبوئوں کے ساتھ جوڑتا ہوں۔ مگر ایک مذہبی تہوار ایسا ہے جسے ہم نے ، اپنی  بے وقوفی سے سخت بدبودار بنا دیا ہے اور وہ ہے بقرعید۔ جیسے جیسے  عیدالاضحی قریب آرہی ہے  میرے اندر ایک خوف بڑھتا جارہا ہے۔ کیا اب کی بار بھی ایسا ہی ہوگا جیسا ہر دفعہ ہوتا ہے؟ کیا اس دفعہ بھی  بقرعید پر قربانی کے بعد مذبح جانور کے ناپسندیدہ حصّے گھروں کے سامنے ہی ڈال دیے جائیں گے؟ اس دفعہ تو بقرعید اور بارش کا ساتھ ہوگا۔ سڑنے والی آلائش بارش کے ساتھ مل کر تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماریوں کا سبب نہ بن جائے؟
پاکستان کی اکثر آبادیوں میں  عید الاضحی کے بعد تمام اہل محلہ کی ایک اجتماعی قربانی شروع ہوجاتی ہے اور ہم سڑنے اور تعفن پھیلانے والی آلائشوں کو مستقل سونگھتے رہتے ہیں۔ ہماری یہ اجتماعی قربانی چار مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں فقیر اور خانہ بدوش، اوجھڑیوں اور دوسرے پھینکے جانے والے حصوں میں سے اپنی پسند کا مال نوچ کر لے جاتے ہیں اور باقی ماندہ کو وہیں پھیلا جاتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان ٹکڑوں پہ کتے اور بلیاں حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنی رغبت کے حصّے نوچتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ سب سے تکلیف دہ ہوتا ہے جس میں مختلف بیکٹیریا ان آلائشوں پہ جھپٹتے ہیں اور پھر سڑنے کی بو چہارسو پھیل جاتی ہے۔ سڑتی ہوئی یہ اوجھڑیاں مختلف خطرناک بیماریوں کے جراثیم کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ جلد یا بدیر یہ جراثیم ہوا میں اڑ کر انسانوں تک پہنچتے ہیں اور ان کو بیمار کردیتے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں ہوا سے اڑنے والی گرد کے ساتھ یہ فضلہ ذرہ ذرہ ہر سمت میں اڑتا ہے اور تقریباً محرم کے آخر تک لوگ اس اجتماعی قربانی سے فارغ ہوتے ہیں۔
بقرعید کے بعد تعفن سے بچنے کا ’آسان حل یہ ہے کہ آلائش کو دفن کردیں۔ قربانی سے پہلے ساڑھے تین فٹ قطر کا دو فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔ اگر جانور زیادہ ہوں تو اسی تناسب سے گڑھے کے حجم میں اضافہ کرلیں۔ عید پہ قربانی کے جانور کو گڑھے پہ ذبح کریں تاکہ تمام خون گڑھے میں چلا جائے۔ مذبح جانور کا گوشت بناتے وقت ایک پلاسٹک فرش پر بچھا لیں تاکہ تمام آلائشوں کو صفائی کے ساتھ ایک جگہ جمع کیا جاسکے اور فرش پر خون بھی نہ لگنے پائے۔ ممکن ہو تو یہ کام گڑھے سے قریب کریں۔ آلائشوں کو گڑھے میں ڈال دیں۔ پلاسٹک کو گڑھے کے اوپر دھو لیں۔ [پلاسٹک کو گڑھے میں نہ ڈالیں۔] یہ کام مکمل کرنے کے بعد گڑھے کو پر کردیں اور اضافی مٹی اس کے اوپر ہی ڈھیر کردیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ تمام مدفون آلائشیں بہترین قسم کی کھاد میں تبدیل ہوجائیں گی۔ آلائشوں کا حجم کم ہونے کی وجہ سے مٹی اندر دھنس جائے گی اور اضافی مٹی تقریباً اپنی سطح پہ واپس آجائے گی۔ اس قسم کی ’آلائش قبروں‘ کے اوپر نہایت موئثر طریقے سے درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ آلائشوں کو دفن کرنے کے لیے یہ گڑھے آپ اپنے باغ میں، یا  سڑک کے قریب درخت لگانے کی منصوبہ بندی سے کھود سکتے ہیں۔ اس دفعہ  بقرعید سے دو روز پہلے ہی یا تو خود ایسے گڑھے کھود لیں یا کسی مزدور کو رقم دے کر یہ کام کروالیں۔
ہوسکتا ہے آپ  مجھے بتائیں کہ آپ کے شہر میں  بلدیہ کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی ہے اور علاقے سے اوجھڑیاں فوراً ہی اٹھا لی جاتی ہیں۔ اس صورت میں بھی آلائشوں کو دفن کرنا زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک طرف تو آپ اس طرح اپنی زمین کو زرخیز بنا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بلدیہ کے اخراجات کو بچانے کے علاوہ آپ اپنے ماحول کو بہتر بنا رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب کوڑا اٹھانے والا ٹرک کم چلے گا تو کم دھواں آپ کے ماحول میں داخل ہوگا۔ مزید یہ کہ ٹرک کم چلنے کی وجہ سے تیل کی بچت ہوگی اور ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔

This page is powered by Blogger. Isn't yours?