Friday, December 19, 2014

 

گٹمو کی بندش اور ملکیت کا تصور









دسمبر تیرہ،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو انیس


گٹمو کی بندش اور ملکیت کا تصور


سانتا کلارا، کیوبا۔ چے گوویرا کی یادگار پہ اس روز کم ہی لوگ تھے۔ داخلے سے پہلے مجھے سمجھایا گیا کہ اندر جا کر نہایت خاموشی سے ہر چیز کو دیکھتے ہوءے آہستہ آہستہ چلنا ہے اور دوسری طرف سے باہر نکل جانا ہے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ میں چے کی یاد میں جلنے والے ابدی شعلے کے پاس پہنچ کر ایک لمحے کو ٹہرا۔ چے نے اشتراکی دنیا کا جو خواب بالخصوص لاطینی امریکہ کے لیے دیکھا تھا وہ سوویت یونین کے ٹوٹنے پہ چکنا چور ہوچکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چے کی یاد میں جلنے والا یہ شعلہ کتنی دیر قاءم رہے گا۔ میں سینتاکلارا میں جنوب مشرق کی طرف دیکھتا ہوا یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں اس رخ پہ مستقل چلتا رہوں تو امریکہ کی بدنام زمانہ جیل گٹمو پہنچ جاءوں گا۔ گٹمو، جزیرہ کیوبا کا وہ چھوٹا سا حصہ ہے جو طاقت کے زور پہ آج بھی امریکہ کے قابو میں ہے۔ اب نءی خبر یہ ہے کہ گٹمو جیل کو بند کیا جارہاہے۔ گٹمو کے قیدیوں کو ادھرادھر روانہ کیا جارہا ہے۔ چند دن پہلے پانچ دوسرے قیدیوں سمیت شام سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک قیدی کو جنوبی امریکہ کے ملک یوروگواءے میں بسایا گیا ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ان قیدیوں کو دنیا میں ادھر ادھر بسانے کی کوشش کیوں ہورہی ہے۔ خود امریکہ انہیں کیوں پناہ کیوں نہیں دے دیتا؟ شاید اس لیے کیونکہ ان لوگوں کو جمہوریت کی پناہ سے دور رکھنا مقصود ہے۔ اگر یہ قیدی اس پناہ میں آگءے تو ان لوگوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاءیں گے جن لوگوں نے ان قیدیوں کو بغیر کسی مقدمے کے اتنے سالوں جیل میں رکھا۔
بات ہورہی ہے دنیا میں بے چینی اور اشتراکیت کی تو کچھ ذکر ملکیت کے تصور کا ہوجاءے۔ یہ مواد ایک ایسے ویڈیو میں کام آءے گا جو ہماری بستی کے لوگوں کی عمومی معلومات کے لیے بناءی جاءے گی۔
انسان کی بنیادی حاجات انفرادی ہیں مگر یہ حاجات جن ذراءع سے پوری کی جاتی ہیں ان کو ذاتی ملکیت کے پنجرے میں بند کرنا مشکل کام ہے۔ اس بات کو کھانے کی مثال سے سمجھیے۔ آپ جو کھانا کھاتے ہیں وہ یقینا صرف آپ کے پیٹ میں جاتا ہے۔ مگر یہ کھانا جن ذراءع سے پیدا ہوتا ہے، یعنی زمین، ہوا، پانی، وہ تمام چیزیں آپ کے دنیا میں آنے سے پہلے بھی وجود میں تھیں اور آپ کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد بھی موجود رہیں گی۔ گویا حاجات پوری کرنے والی اشیا کے ذراءع پہ انفرادی ملکیت کا اگر کوءی دعوی ہو بھی تو وہ بہت مختصر مدت کا ہوتا ہے اور وہ مدت زیادہ سے زیادہ ایک انسانی زندگی کی طوالت ہوسکتی ہے۔ زمین، ہوا، پانی، روشنی، یہ سب یقینا مشترکہ انسانی سرماءے ہیں۔ ان مشترکہ انسانی خزانوں کے ثمرات دنیا کے تمام انسانوں کے تصرف میں آتے ہیں۔
ہوا کی مثال لیجیے۔ انسان جب سانس لیتا ہے تو اس ہوا میں انسان کے سب سے کام کی چیز آکسیجن گیس ہوتی ہے۔ انسان آکسیجن استعمال کرتا ہے۔ انسانی استعمال کے بعد آکسیجن کاربن ڈاءی آکساءڈ نامی گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان آکسیجن لیتا ہے اور کاربن ڈاءی آکساءڈ خارج کرتا ہے۔ جب کہ درخت اس عمل کا بالکل الٹ کرتے ہیں یعنی درخت کاربن ڈاءی آکساءڈ لیتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ درخت جو آکسیجن خارج کرتے ہیں وہ دنیا میں ٘موجود ہوا میں مل جاتی ہے۔ اسی لیے دنیا میں کہیں بھی جنگلات کا صفایا ہورہا ہو، درخت کاٹے جارہے ہوں، تو آپ اس مسءلے کو بالکل اپنا ذاتی مسءلہ تصور کیجیے کہ دراصل جنگلات کی صفءی سے ایک چھوٹی سطح پہ آپ کی اپنی سانس بند کی جارہی ہے۔
ہر شخص دوسرے لوگوں کے درمیان ایک سماجی معاہدے کے تحت رہتا ہے۔ بہت جگہ یہ سماجی معاہدہ لکھاءی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور کءی جگہ محض اس معاہدے کا ادراک ذہنوں میں ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی بھی ایسے ہی ایک سماجی معاہدے کا حصہ ہے جو مشترکہ انسانی سرماءے سے متعلق ہے۔ اگر ایک شخص دوسروں کی موجودگی میں ایک بند جگہ، مثلا بس میں، ٹرین کے ڈبے میں، یا ایک دفتر میں سگریٹ نوشی کررہا ہے تو وہ شخص دراصل اس ہوا کو آلودہ اور خراب کررہا ہے جو وہاں موجود دوسرے لوگوں کے کام آنی ہے۔
یہی حال پانی کا بھی ہے۔ پانی کے تمام ذخاءر بنی نوع انسان کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اگر ایک شخص یا لوگوں کا ایک گروہ پانی کے کسی ذخیرے میں آلودگی پھیلاتا ہے یا اس کو کسی اور طرح سے خراب کرتا ہے تو دراصل اس عمل سے دوسرے لوگوں کے ساتھ زیادتی  ہو رہی ہے۔
اشیا کے استعمال میں ایک صورت مختصر دورانیے کے استعمال کی ہوتی ہے۔ [واضح رہے کہ انسان کے استعال کی ہر شے ہی مختصر دورانیے کی ہے کیونکہ انسانی زندگی خود بہت مختصر ہے مگر یہاں بات اس سے بھی چھوٹے دورانیے کی ہورہی ہے۔] مثلا جب آپ ایک ٹیکسی میں سوار ہوتے ہیں تو آپ ایک ان کہے سماجی معاہدے سے ٹیکسی والے کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔ اور وہ سماجی معاہدہ یہ ہے کہ آپ ٹیکسی کی نشست کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے دوران محض بیٹھنے کے لیے استعمال کریں گے۔ یعنی کسی مخصوص شے کا عمومی استعمال جو ایک ان کہے باہمی معاہدے کا حصہ ہے۔ مثلا اگر آپ کسی ٹیکسی والے کو روک کر بتاءیں کہ آپ کو ناظم آباد جانا ہے مگر وہاں جانے کے دوران آپ ٹیکسی کی نشست کو ایک بلیڈ سے چیریں گے تو وہ ٹیکسی والا آپ کو ہرگز اپنی گاڑی میں نہیں بٹھاءے گا۔ اسی طرح اگر آپ لاءبریری سے ایک کتاب یہ کہہ کر حاصل کریں کہ آپ کتاب کو پڑھنے کے علاوہ اس میں جگہ جگہ نشانات لگاءیں گے، اس کے صفحات بھی پھاڑ دیں گے تو یقینا لاءبریری آپ کو کتاب دینے سے انکار کردے گی۔
کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگوں کا مشترکہ سرمایہ عموما ایک حکومت کے زیر انتظام ہوتا ہے۔ اس مشترکہ سرماءے میں دریا، جھیلیں، پہاڑ، اور دوسرے قدرتی ذراءع شامل ہوتے ہیں۔ اسی مشترکہ سرماءے میں وہ چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جو ملک میں رہنے والے تمام لوگوں کے خرچے سے بناءی جاتی ہیں، مثلا، سڑکیں، پل، روشنی کے کھمبے، وغیرہ۔ اس مشترکہ سرماءے کے اخراجات کسی نہ کسی طور سے شہری پورے کرتے ہیں، اور عموما یہ شکل ایک ٹیکس کی ہوتی ہے۔ اس طرح یہ مشترکہ سرمایہ ہر شہری کا ہوتا ہے مگر پورے کا پورا کسی ایک شہری کا نہیں ہوتا۔ اگر ایک شخص غصے میں آکر اپنے محلے میں موجود بجلی کے کھمبے کو توڑتا ہے تو وہ یقینا ایک ایسی چیز کو نقصان پہنچا رہا ہے جو صرف اس کی نہیں ہے بلکہ اس کی سب کے ساتھ شراکت میں ہے۔



Labels: , , , ,


Friday, December 12, 2014

 

جشن تاشی ظہیر





دسمبر سات،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اٹھارہ


جشن تاشی ظہیر
 
جمعہ دسمبر پانچ، سان فرانسسکو بے ایریا کے معروف شاعر تاشی ظہیر کے اعزاز میں ایک پرتکلف تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف شعبوں میں تاشی ظہیر صاحب کی اعلی خدمات کو سراہا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد خالد رانا صاحب کی قیادت میں تاشی ظہیر کے دوستوں نے کیا تھا۔ محفل کی نظامت کے فراءض ارشد رشید صاحب نے انجام دیے۔
خالد رانا، عبدالستار غزالی، جعفر شاہ، نگیش اوادھانی، اور جی ایس فلک نے اپنی تقاریر میں تاشی ظہیر کی ادبی خدمات کا ذکر کیا اور اردو اکیڈمی شمالی امریکہ کے جھنڈے تلے ماہانہ ادبی نشست باقاعدگی سے منعقد کرانے پہ ان کے کام کوخراج تحسین پیش کیا۔
اس تقریب میں بہت سے ایسے لوگ بھی شریک تھے جنہوں نے کسی نہ کسی موقع پہ تاشی ظہیر صاحب کے ساتھ دفتری کام کیا تھا۔ ڈینا لالس، کوریو کماچو، اور عمران جعفر نے کاروباری معاملات میں تاشی ظہیر کی پروفشنل خدمات کا اعتراف کیا۔
محمد ناظر خان، سمن تنیجا، روبینہ قریشی، اور نیلوفر خان نے اپنی تقاریر میں تاشی ظہیر کی کمیونٹی خدمات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح ان لوگوں نےتاشی ظہیرصاحب کو ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار پایا۔
اس موقع پہ تاشی ظہیر کے بڑے صاحبزادے عمار ظہیر اور بیگم ناہید ظہیر نے بھی مختصر کلمات ادا کیے۔
تقاریر کے اختتام پہ فرح یاسمین شیخ نے کتھک رقص پیش کیا۔ ان کے ساتھ ایک طبلہ نواز اور سرود پہ بین کونین تھے۔
رقص کے بعد ایک موسیقی پروگرام کا آغاز ہوا جس میں الماس شبوانی، عطیہ حءی، طلعت قدیر خان، نگیش اوادھانی، ٹینا مان، اور سید ثروت نے تاشی ظہیر کی شاعری گا کر سناءی۔ کی بورڈ پہ علی شہاب الدین اور طبلے پہ اشنیل سنگھ نے گانے والوں کا ساتھ دیا۔ ان ہی میں سے چند مغنیوں نے دوسرے معروف گانے بھی پیش کیے اور یوں مدھر سروں کی یہ محفل رات دو بجے کے بعد اختتام پذیر ہوءی۔
فدوی بھی تاشی ظہیر کی صحبت سے بہرہ مند ہوا ہے۔ میں تاشی ظہیر کو بہت غور سے دیکھوں تو مجھے ان آنکھوں میں بہت دور ایک ایسا لڑکا نظر آجاتا ہے جو ملتان میں صابر فلور ملز کے باہر پریشان کھڑا ہے۔ اس پریشانی میں جو ایک سولہ سالہ لڑکے کو باپ کا سایہ سر سے اٹھنے پہ ہوسکتی ہے۔ اس ناگہانی آفت نے اس لڑکے کو وقت سے پہلے بلوغت میں دھکیل دیا۔
حسرت نے جو شعر زنداں کی مشقت کے بارے میں لکھا تھا صابر دہلوی صاحب اس شعر کی زندہ مثال تھے۔ صابر دہلوی مشق سخن کے ساتھ اصل چکی کی مشقت کرتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ صابر فلور ملز کی چکی بجلی سے چلتی تھی۔ یہاں چکی کی مشقت میں گندم اور دوسرا اناج خریدنا، کاریگروں کی مدد سے اسے پیسنا، آٹے کو بوریوں میں بند کرنا اور اسے گاہکوں کو بیچنا اور اس پورے کاروبار کا حساب کتاب چلانا شامل تھے۔ ان کاروباری مصروفیات کے دوران بھی اشعار یقینا آتے رہتے ہوں گے جو فرصت ملنے پہ کاغذ پہ اتارے جاتے ہوں گے۔ صابر دہلوی کے نامور ہم عصر، شاعری کے میدان میں صابر دہلوی کا مقام پہچانتے تھے؛ اسی لیے اعلی مقام شعرا ملتان آنے پہ صابر دہلوی سے ضرور ملتے۔ 
تاشی ظہیر کا بچپن آٹے کی چکی کے کاروبار، صابر دہلوی کی شاعری، اور گھر آنے والے نامور سخنوران اردو کی صحبت سے مل کر بنا ہے۔ صابر دہلوی کی وفات سے جہاں ایک طرف گھر میں ہمہ وقت موجود ایک بڑا شاعر گیا وہیں اس رحلت کے ساتھ ان لوگوں کا آنا جانا بھی کم ہوا جو اس شاعر سے ملنے آتے تھے۔ اب ایک سولہ سال کا لڑکا تھا، چکی کا کاروبار، اور گھر چلانے کی ذمہ داریاں۔ وقت گزرا، لڑکا جوان ہوا، اس کی شادی ہوءی، بچے ہوءے؛ ایک طرح کی ذمہ داری دوسری طرح کی ذمہ داری میں ڈھلتی گءی مگر بچپن میں جو ادبی ماحول میسر آیا تھا اس نے طبیعت میں ایسا شعری ذوق پیدا کردیا جو مستقل تخلیق کاری پہ اکساتا رہا۔ اس جوار بھاٹے کے زور سے جو من کے اندر پک رہا تھا، پاکستان سے امریکہ تک، کام کاج کے درمیان شعر مستقل اترتے رہے۔ ہر لکھنے والا کسی نہ کسی درجے کا پیغمبر ہوتا ہے کہ تخلیق کار کا ہر اچھوتا خیال ایک وحی ہی تو ہوتی ہے۔
تاشی ظہیر اچھے شاعر ہونے کے ساتھ بہت بڑے انسان ہیں۔ وہ اردو اکیڈمی شمالی امریکہ کے، جسے خانقاہ تاشیہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا، سجادہ نشین ہیں۔ اور یہ کوءی معمولی سجادہ نشین نہیں ہے۔ یہ سجادہ نشین داءود کی صورت ہے جو بیک وقت ایک نہیں دو جالوتوں سے لڑ رہا ہے۔ یہ دو جالوت دھرم اور جاتی کے عفریت ہیں۔ [یہاں شاعرانہ رعایت سے نیشنلزم کا ترجمہ 'جاتی' کے طور پہ کیا گیا ہے۔] یہ مذہب اور قوم پرستی کے دیو ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کچھ ایسی ہوا چلی ہے کہ اچھے اچھے، ان دو عفریتوں کے زور سے ان کے بتاءے ہوءے راستے پہ سر جھکا کر چلتے رہتے ہیں۔ ہوا کچھ ایسی ہے کہ جنوبی ایشیا کے لوگ دھرم اور جاتی کے جس کنویں میں محض اتفاق سے جنم لیتے ہیں، نہ صرف اسی کنویں کو دنیا کا سب سے شاندار کنواں سمجھتے ہیں بلکہ اس سمجھ کی بنیاد پہ دوسرے لوگوں سے لڑنے مارنے پہ تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ انسان کے طور پہ اپنی شناخت نہیں جانتے اور شناخت کے جو پیراہن مذہب اور ملک کے روپ میں انہیں دیے گءے ہیں، ان ہی کو اپنی اصل پہچان سمجھتے ہیں۔  ایسے میں یہ داءود دھرم اور جاتی کے ان جالوتوں سے مستقل لڑرہا ہے اور خانقاہ تاشیہ کے دروازے بلا تفریق ہر مذہب، ہر قوم، ہر زبان، ہر علاقے کے شخص کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔
تاشی ظہیر شاعر ہونے کے ساتھ ادب نواز ہیں۔ ایک ایسا وسیع القلب سخن پرور جو شعرا اور ادبا کے کام کی تعریف کرنے کے لیے ان کی موت کا انتظار نہیں کرتا۔
شان الحق حقی سے نیلم احمد بشیر تک، تاشی ظہیر نے ادب کے کھلاڑیوں کو ان کی زندگی میں سراہا ہے۔ ضروری تھا کہ جو اعلی ظرف شخص دوسروں کو ان کی زندگی میں عزت دے رہا ہے، خود اسے بھی اس کی زندگی، بلکہ جوانی میں عزت دی جاءے۔ جمعہ، دسمبر پانچ کو تاشی ظہیر کے اعزاز میں ایک برمحل محفل سجانے پہ خالد رانا صاحب اور تاشی ظہیر صاحب کے دوسرے ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔



Labels: ,


Friday, December 05, 2014

 

فرگوسن، کوڑے پہ تعلیمی ویڈیو





نومبر تیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو سترہ

یہ حقیقت ہے کہ پولیس افسر ڈیرن ولسن کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے ماءیکل براءون نے ایک اسٹور سے سیگارییو [پتلے سگار] اچکے تھے اور جب دکان کے دیسی مالک نے ماءیکل براءون کو روکنے کی کوشش کی تھی تو ماءیکل نے اسے دھکا دے کر ایک طرف کیا تھا اور چراءے ہوءے سیگارییو لے کر چلتا بنا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس وقت ماءکل براءون کا قتل ہوا اس وقت ماءیکل نے گانجا [میریوانا] پی ہوءی تھی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس وقت پولیس افسر ڈیرن ولسن کی تکرار ماءیکل براءون سے ہوءی اس وقت ماءیکل اور اس کا دوست سڑک کے بیچوں بیچ چل رہے تھے۔ ڈیرن ولسن نے ماءیکل براءون کو پے درپے بہت سی گولیاں کیوں ماریں، اس بارے میں دو راءے ہیں۔ جو لوگ مقتول ماءیکل کے ساتھ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ڈیرن ولسن سیاہ فام لوگوں سے نفرت کرتا ہے اور اسی لیے ماءیکل براءون سے تکرار ہونے پہ ڈیرن نے غصے میں آکر کالوں سے اپنی نفرت نکالی اور ماءیکل کو اتنی گولیاں ماریں کہ وہ مر گیا۔ جو لوگ ڈیرن کے ساتھ ہیں ان کا کہنا ہے کہ ماءیکل براءون نے گانجے کے نشے میں دکان سے چوری کی اور اسی نشے میں وہ ڈیرن ولسن سے بھڑ گیا؛ ماءیکل دراصل پولیس افسر کی پستول اپنے قبضے میں کرنا چاہتا تھا اور ڈیرن نے محض اپنے دفاع میں ماءیکل کو گولیاں ماریں۔ کاش کہ اس روڈ پہ جہاں یہ واقعہ ہوا تھا کیمرے لگے ہوتے اور ہم باآسانی دیکھ لیتے کہ آیا واقعی ڈیرن نے اپنے دفاع میں براءون کو ہلاک کیا یا براءون ہر طرح سے پولیس افسر کے ساتھ تعاون کررہا تھا مگر اس تعاون کےباوجود ڈیرن نے محض اپنی نفرت میں ماءیکل کو ہلاک کیا۔ اصل قصہ کچھ بھی ہو، فرگوسن میں ہونے والے اس قتل کے بعد امریکہ میں لوگ نسل کی بنیاد پہ اور بھی زیادہ تقسیم ہوگءے ہیں۔  اب سیاہ فام نوجوان سفید فام لوگوں سے اور بالخصوص سفید فام پولیس والوں سے اور بھی نفرت کرنے لگیں گے۔ کیا مستقبل میں کوءی ایسا کام کیا جاسکتا ہے کہ فرگوسن جیسا واقعہ پھر نہ پیش آءے؟ شاید ہاں۔ اگر پولیس یہ اصول اپنا لے کہ کسی مشکوک سیاہ فام شخص سے جسمانی طور پہ نمٹنے کے لیے صرف سیاہ فام پولیس افسروں کی خدمات حاصل کی جاءیں گی تو شاید دونوں نسلوں کے درمیان رفتہ رفتہ اعتماد کی فضا پھر قاءم ہوجاءے۔ ایسا کرنا یقینا آسان نہ ہوگا مگر ایسا کرنے ہی میں بہتری ہے۔
جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں، اس وقت بستی کی تعلیمی ویڈیو بنانے کے سلسلے میں کام جاری ہے۔ ایسے تعلیمی ویڈیو بنانے ہیں  جن کی مدد سے ہلکے پھلکے انداز میں لوگوں کو جدید دنیا کی باریکیاں سمجھاءی جاءیں۔ ان ہی باریکیوں میں ایک جدید دنیا میں کوڑے سے نمٹنے کا معاملہ ہے۔ صنعتی انقلاب سے پہلے لوگ ایسی آبادیوں میں رہتے تھے جو بہت گنجان نہ ہوتی تھیں۔ اور عام استعمال کی زیادہ تر اشیا ایسی ہوتی تھیں جو رد کیے جانے کے کچھ ہی عرصے میں سڑ گل کر مٹی میں مل جاتی تھیں۔ اس دور میں کوڑا کوءی بڑا مسءلہ نہ تھا۔ مگر صنعتی انقلاب کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگءی۔ زراعت میں مشینری استعمال کرنے سے کھیت کھلیان میں افرادی طاقت کی ضرورت کم ہوءی۔ ساتھ ہی کارخانے بڑھے اور ان کے بڑھنے کے ساتھ شہروں کی آبادی بڑھنا شروع ہوءی۔ اب بہت سے لوگ ساتھ رہنے لگے اور ان کا رد کیا جانے والا کوڑا بھی بڑھنے لگا۔ آج ترقی یافتہ دنیا میں کوڑا تلف کرنے کا جو جدید نظام نظر آتا ہے وہ ارتقا کی کءی منازل طے کر کے موجودہ جگہ پہنچا ہے۔
کوڑے کو تلف کرنے کی سب سے راءج ترکیب یہ ہے کہ شہر بھر کے کوڑے کو آبادی سے کچھ دور مٹی میں دبا دیا جاتا ہے۔ جس جگہ کوڑے کومٹی میں دفن کیا جاتا ہے اسے لینڈ فل کہتے ہیں۔ سلسلہ کچھ یوں بنتا ہے کہ کسی علاقے کے رہاءشی اپنے اپنے گھروں سے کوڑا نکال کر اسے ایک بڑے ڈبے میں ڈال دیتے ہیں۔ شہری انتظامیہ کی طرف سے کوڑا اٹھانے کاٹھیکہ کسی کمپنی کو دیا جاتا ہے۔ یہ کمپنی ہر گھر سے ایک ماہانہ رقم وصول کرتی ہے۔ اس مشاہرے کے عوض اس کمپنی کا ٹرک خاص دنوں میں آپ کے محلے میں آتا ہے اور کوڑے کا ڈبہ خالی کر کے کوڑا اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ ٹرک اس کوڑے کو آبادی سے دور ایک خاص جگہ ڈال دیتاہے۔ کوڑا ڈالنے کی اس جگہ کا انتظام شہر نے کیا ہوتا ہے۔ کوڑا کھاءی میں بھرتا جاتا ہے اور اس کوڑے کے اوپر مستقل مٹی ڈالی جاتی ہے۔ کوڑا تلف کرنے کے اس روایتی اور راءج طریقے میں یہ قباحت ہے کہ نءے دور کا انسان اس قدر تیزی سے کوڑے کے ڈھیر لگا رہا ہے کہ کوڑا تلف کرنے کے لیے  جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید کوڑے میں بہت سے مضر کیمیکل ہوتے ہیں۔ جب لینڈ فل پہ بارش ہوتی ہے تو یہ کیمیکل پانی کے ساتھ مل کر زیرزمین ذخیرہ آب میں مل جاتے ہیں اور صحت عامہ کے لیے مسءلہ پیدا کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کی ترکیب یہ نکالی گءی ہے کہ لوگوں کو 'کم، نیا استعمال، اور بازیافتگی' کے نعرے پہ عمل کرنے کے لیے تیار کیا جاءے۔
یعنی اول تو ہم سب یہ کوشش کریں کہ وہ چیزیں کم سے کم استعمال کریں جن سے کوڑا بنتا ہے۔ دوءم، کوشش کریں کہ جس چیز کو عموما رد کردیا جاتا ہے اسے کسی طرح دوبارہ استعمال میں لے آءیں۔ پاکستان میں لوگ رد کی ہوءی اشیا کو نئے کام میں لانے میں ماہر ہیں۔ گھروں میں جام اور جیلی کی رد کی ہوءی شیشیوں میں مصالحے رکھنا عام بات ہے۔ سب سے آخری حکمت عملی یعنی بازیافتگی [ری ساءیکلنگ] کے لیے کارخانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شیشہ، کاغذ، پلاسٹک، ٹین، اور دیگر دھاتیں مخصوص  کارخانوں میں بازیافت کی جاسکتی ہیں۔ 'کم، نیا استعمال، اور بازیافتگی' پہ عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جس مقام پہ کوڑا نکل رہا ہے وہیں اسے مختلف حصوں میں بانٹ دیا جاءے۔ دھات کی چیزیں الگ کرلی جاءیں؛ کاغذ اور گتا الگ ؛ پلاسٹک الگ؛ شیشہ الگ، باورچی خانے کا کوڑا الگ؛ اور بالکل رد کیا جانے والا کوڑا بالکل الگ کر لیا جاءے۔ پھر کاغذ اور گتا، پلاسٹک، شیشہ، اور دھات الگ الگ بازیافتگی کے لیے روانہ کیے جاتے ہیں۔ بازیافتگی کا وہ کام جو آپ اپنے طور پہ گھر میں کرسکتے ہیں وہ باورچی خانے کے کوڑے کو کھاد میں تبدیل کرنے کا کام ہے۔ اس عمل کو انگریزی میں کمپوسٹنگ کہتے ہیں۔ یہ کام بہت آسان ہے کیونکہ باورچی خانے کا کوڑا وقت گزرنے کے ساتھ سڑ کر کھاد بن ہی جاتا ہے۔ آپ تھوڑی سی توجہ سے سڑنے کے اس عمل میں تیزی لا سکتے ہیں۔ ترکیب یہ ہے کہ زمین میں ایک گڑھا کھودیں اور روز کا باورچی خانے کا کوڑا اس گڑھے میں ڈال کر روز اس کوڑے پہ پتلی سی مٹی کی تہہ ڈالتے جاءیں۔ اگر اس مٹی میں کیچوے ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔ کیچوے ایک طرف سے کوڑا کھاتے ہیں اور دوسری طرف سے نکالتے ہیں اور نکلنے والا مواد کھاد کے طور پہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر زمین میسر نہ ہوتو کمپوسٹنگ کا یہ کام بڑے گملوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

تصویر بشکریہ 
http://www.dailymail.co.uk/

 



Labels:


Friday, November 28, 2014

 

یروشلم میں بہیمانہ قتل، غسل کی تاریخ









نومبر باءیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو سولہ


یروشلم میں بہیمانہ قتل، غسل کی تاریخ


وہ سنیچر کا روز تھا اور اسراءیل میں شبات منایا جارہا تھا۔ کٹر یہوی شبات کے دن عبادت کے علاوہ دیگر سرگرمیاں محدود رکھتے ہیں۔ ہم تل ابیب کے بس اڈے پہنچے تو وہاں کاروبار ٹھپ پڑا تھا۔ تل ابیب سے یروشلم جانے کے لیے کوءی بس موجود نہ تھی۔ پھر کسی نے بتایا کہ شبات کے مقدس دن بھی ہمیں بس اڈے کے باہر سے یروشلم جانے کے لیے ایک شروت [وین] مل جاءے گی۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ ہم بس اڈے سے نکلے تو سامنے ہی یروشلم جانے والی شروت ایک قطار سے کھڑی تھِیں۔ ہم ایک شروت میں سوار ہوءے جو مسافر پورے ہونے پہ چلنا شروع ہوگءی۔ وین تل ابیب سے باہر نکلی، اس نے ایک ویرانہ پار کیا جس میں فاصلے سے کھیت کھلیان نظر آءے، اور پھر کچھ ہی دیر میں دوسری شہری آبادی میں داخل ہوگءی۔ معلوم ہوا کہ ہم یروشلم پہنچ چکے ہیں۔ وین مغربی یروشلم کی ایک گلی میں جاکر کھڑی ہوگءی۔ ہمیں پرانے شہر جانا تھا۔ ہم اس طرف پیدل چلنا شروع ہوگءے۔
تین روز پہلے مغربی یروشلم کے ایک یہودی معبد میں قتل کا ایک واقعہ ہوا جس میں تین عبادت گزار، ایک پولیس والا، اور دو فلسطینی حملہ آور مارے گءے تو مغربی یروشلم کا وہ علاقہ میری نظروں کے سامنے آگیا جس کے بارے میں اوپر لکھا گیا ہے۔
یہ دنیا عجیب رخ پہ چل نکلی ہے۔ قتل و غارت گری کا کوءی واقعہ ہو تو لوگ ذرا سی دیر میں گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ انسان کو انسانیت سے گرا کر اسے ذرا سی دیر میں شناخت کے خانوں میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر مقتول شناخت کے ایک خانے سے تعلق رکھتا ہے تو مظلوم ہے، اگر دوسرے خانے سے تعلق رکھتا ہے تو پھر یقینا مارے جانے کا حقدار تھا۔
آج دو ٹوک الفاظ میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بے گناہ لوگوں پہ چھپ کر وار کرنا اور انہیں ہلاک کرنا سراسر غلط ہے۔ مغربی یروشلم میں ہونے والی قتل کی اس کارواءی کی جتنی مذمت کی جاءے کم ہے۔
کیا اس مذمت کے ساتھ کسی مگر کی کوءی گنجاءش ہے؟ ہاں ہے۔ کیونکہ قتل کے اس افسوسناک واقعے کو اس کے پورے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اور پس منظر یہ ہے کہ ایک جگہ کے رہنے والوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ ان کو ایک کونے میں لگا دیا گیا ہے اور ہر روز ان کو ذلیل کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس طرح کی رسواءی پہ تنگ آمد بجنگ آمد کی منزل پہ جا پہنچتے ہیں۔
میں جس جگہ رہتا ہوں اس سے کچھ فاصلے پہ تھوڑا عرصہ پہلے شہری آبادی میں شیر نظر آءے تو بہت شور ہوا۔  اس علاقے کے مکین ڈرے کہ کہیں شیر ان پہ حملہ نہ کردیں اور ساتھ ہی اس طرح کی اپیل کی گءی کہ شیروں کو آبادی سے دور رکھنے کی کوءی ترکیب کی جاءے۔ ان ساری شیر مخالف آوازوں کے ساتھ ایک مختلف راءے بھی سننے میں آءی۔ کسی نے کہا کہ یہ بھی تو دیکھو کہ شیر تم پہ حملہ کیوں کریں گے؟ شیر تمھاری تلاش میں یہاں نہیں آءے ہیں۔ یہ علاقہ جنگل تھا اور یہاں شیر آزادی سے پورے میں پھرتے تھے۔ پھر انسان نے اس علاقے پہ قبضہ کر لیا اور یہاں گھر بنا لیے۔ اب شیر کو بے دخل کر کے اس کےعلاقے میں گھر بناءو گے تو شیر تو ناراض ہوگا۔

آج کل علمستی کے تعلیمی ویڈیو کے سلسلے میں کام ہورہا ہے۔ خیال یہ ہے کہ کسی معمولی پڑھے لکھے شخص کو ہفتے بھر کے اندر کیسی تعلیم دی جاءے کہ وہ جدید دنیا کے خیالات اور آلات سے آگاہ ہوجاءے۔ ایک ویڈیو صفاءی کے موضوع پہ بنانی ہے۔ کہ کسی شخص کے لیے اپنے طور پہ جسمانی صفاءی کا کیا مطلب ہوتا ہے اور ہونا چاہیے؟
پہلے تو جانوروں کو دیکھیے۔ اکثر جانور اپنے طور پہ جسمانی صفاءی کا انتظام کرتے نظر آءیں گے۔ ہاتھی جھیل اور تالاب پہ پہنچتے ہیں تو سونڈ میں پانی بھر کر اپنا جسم دھوتے ہیں۔ دوسرے جانور گرد میں لوٹ کر اپنے آپ کو صاف کرتے ہیں۔ غرض کہ مراحل ارتقا سے گزرتے، جانوروں کو یہ بات سمجھ میں آءی ہے کہ زندگی کو دیر تک قاءم رکھنے کے لیے جسمانی صفاءی ضروری ہے۔ قدیم وقت کا انسان نہ جانے اپنی صفاءی کا انتظام کیسے کرتا تھا مگر انسان کی لکھی تاریخ میں غسل کرنا کوءی نءی بات نہیں ہے۔ ایک عرصے سے یہ خیال راءج ہے کہ اپنے اوپر پانی انڈیل کر جسم کو دھونا اچھا کام ہے۔ یہ عمل کتنی باقاعدگی سے ہو اس کا تعلق علاقے اور دستیابی آب سے رہا ہے۔ اب سے صرف پچاس ساٹھ سال پہلے تک ٹھنڈے علاقوں کے لوگ سردیوں کے دنوں میں ہفتے دس دن ہی میں نہایا کرتے تھے۔ مگر اب یہ حال ہے کہ دنیا کی اکثر جگہوں پہ جہاں پانی کی قلت نہیں ہے اور پانی کو آسانی سے گرم کرنے کا انتظام بھی موجود ہے، لوگ روز نہاتے ہیں۔ اس غسل میں لوگ سر کو اچھی طرح دھوتے ہیں اور پورے جسم پہ بھی صابن لگا کر اسے صاف کرتے ہیں۔ اکثر لوگ دانت مانجھنے اور نہانے کے بعد کان کے اندر کی صفاءی کو بھی غسل میں شامل کرتے ہیں۔ اور لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اچھی صحت قاءم رکھنے کے لیے جسمانی صفاءی ضروری ہے اور غسل  جسمانی صفاءی کا سب سے موثر طریقہ ہے۔  سوال یہ ہے کہ اگر آپ کو اپنی صحت کی کوءی پرواہ نہ ہو تو کیا کسی اور وجہ سے بھی آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ روز غسل کریں۔ اور جواب ایک زوردار 'ہاں' میں ہے۔ ہم میں سے ہر شخص دوسروں کے ماحول کا ایک جز ہے۔ ہم سب ایک اچھے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ جس طرح ہم یہ نہیں چاہتے کہ ایسی جگہ جاءیں جہاں گٹر ابل رہے ہوں اور ہر طرف بو پھیلی ہو، اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہم جن لوگوں سے ملیں ان کے پاس سے بو نہ آرہی ہو۔ ہم ایسے لوگوں کو اپنے ماحول کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں جو جسمانی طور پہ صاف ہونے کے ساتھ اچھے اور ستھرے کپڑے پہنے ہوں اور جن کے پاس سے خوشبو آرہی ہو۔



Labels: , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?