Monday, November 23, 2009

 

نون میم راشد کی زندگی اور فن پہ اردو اکیڈمی کا اجلاس






انٹرنیٹ علم کا ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی نظیر نہ تو تاریخ میں کہیں ملتی ہے اور نہ ہی اس عہد میں کوئی ایسا کتب خانہ ہے جہاں انٹرنیٹ پہ موجود معلومات کا عشرعشیر بھی موجود ہو۔ انٹرنیٹ کی اس وسیع گرفت کے باوجود ایسا ممکن ہے کہ کسی خاص موضوع پہ انٹرنیٹ پہ معلومات موجود نہ ہو۔ اردو میں نثری شاعری کے ایک بہت بڑے نام ن م راشد کے سلسلے میں انٹرنیٹ پہ اسی قسم کی کوتاہی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ پچھلے اتوار کے روز اردو اکیڈمی شمالی کیلی فورنیا کی جانب سے منعقد کی گئی "ن م راشد، زندگی اور فن" نامی ادبی نشست میں راشد کے پرستاروں نے اس عظیم شاعر پہ پیش کیا جانے والا تحقیقی مواد دلچسپی سے سنا اور راشد کی زندگی کے کئی نامعلوم پہلو دریافت کیے۔ اس محفل کی صوتی فائل یہاں موجود ہے:
http://www.archive.org/details/NoonMeemRashid--urduAcademysMehfilOnNov222009

اوپر موجود تصویر میں نگیش اوادھانی کو ن م راشد کی نظم "زندگی سے ڈرتے ہو" پڑھتے دکھایا گیا ہے۔

Labels:


 

نامور شاعر اور نثرنگار پروفیسر منیب الرحمن کا شمالی کیلی فورنیا کا دورہ






ممتاز اردو شاعر اور نثرنگار پروفیسر منیب الرحمن علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر مشی گن کی اوک لینڈ یونیورسٹی میں پڑھانے کے بعد اب این آربر، مشی گن میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے دنوں پروفیسر منیب الرحمن نے شمالی کیلی فورنیا کا دورہ کیا۔ ان کے اعزازمیں ایک ضیافت کا اہتمام اعجاز سید صاحب کے گھر کیا گیا۔ اس موقع پہ پروفیسر منیب الرحمن نے حاضرین کی فرمائش پہ اپنی نظمیں غفلت، کبھی تم نہیں، اور احساس سنائیں۔
غفلت ["ابھی عمر پڑی ہے"] ایک ایسے شخص کی کسک ہے جس نے جوانی میں بہت سارے خواب دیکھے تھے مگر پھر دنیا کے گورکھ دھندوں میں مشغول ہو گیا اور جب پیران سالی کو پہنچا تو خیال آیا کہ جوانی کے خوابوں پہ عملدرآمد کرنے کا وقت تو نکل چکا تھا۔ "کبھی تم نہیں" [کبھی میں نہیں، کبھی تم نہیں] اس تیز رفتار زندگی کا بیان ہے جس میں قریبی رشتوں کے لوگ بھی مشکل ہی سے ایک دوسرے کے لیے وقت نکال پاتے ہیں۔
پروفیسر منیب الرحمن کے تفصیلی حالات زندگی جلد ہی اس بلاگ پہ شائع کیے جائیں گے۔

پروفیسر منیب الرحمن پہ انگریزی میں ایک بلاگ پوسٹ یہاں موجود ہے۔
http://cemendtaur.blogspot.com/

Labels:


Sunday, November 08, 2009

 

پالو آلٹو میں دل کا سالانہ اجلاس





پالو آلٹو میں دل کا سالانہ اجلاس

علی حسن سمندطور

نومبر سات۔ متمول پاکستانی تارکین وطن کے قائم کردہ فلاحی ادارے دل، ڈیولیمپنٹس ان لٹریسی، کا سالانہ اجلاس پالو آلٹو میں ہوا۔ محفل کے مقرر خصوصی ڈاکٹر عادل نجم تھے۔ اپنی تقریر میں عادل نجم نے کہا کہ پاکستانی انفرادی طور پہ تو کامیاب ہونا جانتے ہیں مگر بحیثیت قوم بالکل ناکام ہیں۔ انہوں نے سنہ ۲۰۰۷ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق، جو ان کی نگرانی میں انجام پائی تھی، سے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ شمالی امریکہ میں رہنے والے پاکستانی فلاحی مد میں دل کھل کر عطیات دیتے رہے ہیں۔
تقریب کے مہمان خصوصی مشہور کتاب 'تھری کپس آف ٹی' [چائے کے تین پیالے] کے مصنف گریگ مورٹینسن تھے مگر وہ ناسازئی طبیعت کی وجہ سے پروگرام میں شرکت نہ کر پائے۔ ان کی جگہ سینٹرل ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ ممبر ڈاکٹر عبدالجبار نے حاضرین سے خطاب کیا۔
دل کی معتمدین اعلی پارو یوسف اور عنبرین جمال نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ حاضرین محفل کو دل اور نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف کے اشتراک سے تیار کی جانے والی ایک ڈاکیومینٹری فلم دکھائی گئی جس میں حکومت پاکستان کے قائم کردہ اسکولوں کی زبوں حالی کے ساتھ دل کی طرف سے چلائے جانے والے اسکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرتا دکھایا گیا تھا۔ ناظرین کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کی گئی کہ جدید تعلیم پاکستانی بچوں کو ان شدت پسند مدرسوں کی جانب جانے سے بچاتی ہے جہاں بچوں کی مفت تعلیم کے ساتھ رہائش اور کھانے پینے کا انتظام بھی مدرسوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ تقاریر اور عشائیے کے بعد معروف گلوکارہ طاہرہ سید نے سامعین کو اپنے سدا بہار گیتوں سے محضوظ کیا۔

Labels: , , , , , , , ,


Wednesday, October 28, 2009

 

کیا اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے؟



کیا اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے؟




اس بحث میں سب سے پہلے تو یہ پوچھیے کہ اس بات کا کیا مطلب ہے کہ، " اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔"
مذکورہ جملے میں لفظ "مکمل" اور لفظ "ہے" تو سمجھ میں آتے ہیں مگر جملے کے بقیہ دو الفاظ یعنی لفظ "اسلام" اور لفظ "ضابطہ حیات" کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے لفظ ضابطہ حیات۔
ضابطہ حیات سے مراد ہے قوانین اور ہدایات کا ایک ایسا مجموعہ جو پوری انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرے۔ گویا ضوابط کی ایک ایسی فہرست جو پیدائش سے موت تک تمام انسانی موضوعات [روحانی، جسمانی، جنسی، معاشی، عمرانی، وغیرہ، وغیرہ] کے بارے میں کھل کر حکم دے کے اس موضوع سے تعلق رکھنے والے معاملات کس طور سے حل کیے جائیں۔

دوئم لفظ اسلام۔
اسلام سے کیا مراد ہے؟
ایک ارب مسلمانوں سے یہ سوال پوچھا جائے تو ہر شخص اپنے مسلک کے حساب سے اسلام کی ایک نئی تعریف پیش کرے گا۔ مگر کیونکہ بات ضابطہ حیات کی ہو رہی ہے اس لیے یقینا یہاں اسلام سے مراد اسلامی قوانین و ضوابط ہیں۔ تو یہ اسلامی قوانین و احکامات ہمیں کہاں ملیں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ ہدایات القرآن میں ملیں گی۔ ان ہدایات میں شاید احادیث کو بھی شامل کر لیا جاتا اگر دین اسلام سے تعلق رکھنے والے تمام مسالک ان احادیث پہ متقق ہوتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ ایک مسلک کا شخص جس حدیث کو صحیح مانتا ہے، دوسرا اس کو بالکل ضعیف قرار دیتا ہے۔ گویا اگر آپ اسلام کو مکمل ضابطہ حیات جانتے ہیں اور اس ضابطہ حیات کو ایک ارب مسلمانوں پہ یکساں طور سے لاگو کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ہدایت کے لیے صرف قرآن ہے۔ مگر قرآن میں تو صرف ان موضوعات کا حوالہ ہے جو یا تو عمومی نوعیت کے ہیں یا ایک مخصوص دور سے متعلق تھے۔ مثلا اگر مجھے ٹریفک قوانین کے سلسلے میں قرآن سے ہدایت لینی ہو تو مجھے بتا دیجیے کہ میں کس آیت سے یہ معلوم کروں کہ اسکول کے سامنے سے گزرنی والی سڑک پہ کس رفتار سے گاڑی چلانی چاہیے؟ یا اگر میں کسی ہوائی اڈے کے کنٹرول ٹاور میں کام کرتا ہوں اور یہ استفسار کروں کہ ایک ہوائی اڈے سے بیک وقت پرواز کرنے اور زمین پہ اترنے والے جہازوں کے بارے میں ہدایات کس آیت قرآنی میں درج ہیں، تو ذرا اس سلسلے میں میری مدد فرما دیجیے۔ یا اگر میں جاننا چاہوں کہ قرآن انٹرنیٹ کے ذریعے وائرس بھیجنے والوں کے لیے کیسی سزائیں تجویز کرتا ہے تو اس سلسلے میں لاگو مکی اور مدنی آیات کی نشاندہی فرما دیجیے۔ اور واضح رہے کہ مجھے گول مول جوابات نہیں چاہئیں کہ "شر سے بچو"،"یا شر پھیلانے والا جہنمی ہے۔" میں نے جو مثالیں دی ہیں ان میں فوری اور واضح ہدایت کی ضرورت ہے۔ ان معاملات میں روز جزا کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر مجھے کسی عمومی ہدایت ہی سے اپنے لیے تفصیلی احکامات نکالنے ہیں تو پھر درج ذیل جملہ بھی مکمل ضابطہ حیات ہے:
اچھے انسان بنو۔
بس ہو گیا ضابطہ حیات۔ اب آپ نکالتے رہیے اس جملے سے گنجینہ ہائے دانش اور ہدایت کے چشمے۔

قصہ مختصر یہ کہ قرآن سمیت کسی آسمانی کتاب میں ہر دور کے موضوعات کے متعلق احکامات موجود نہیں ہیں۔ با الفاظ دیگر کوئی دین بشمول اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے۔ ہر دور میں تشکیل ضوابط حیات اور قانون سازی کا کام اس عہد کے لوگوں کو ہی کرنا ہے۔ وہ لوگ قانون سازی کے اس عمل میں قرآن سے ہدایت ضرور لے سکتے ہیں اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہر قدم پہ ہمیں قرآن سے ہدایت لینی چاہیے مگر اپنی اس مقدس کتاب کو مکمل ضابطہ حیات سمجھنا جہالت کےعلاوہ کچھ نہیں ہے۔

اور اب کیونکہ یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ "اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے"، اگر کوئی شخص کبھی یہ بات کھل کر کہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے تو بعض جذباتی مسلمان اس بات کا یوں برا مانتے ہیں کہ جیسے ان کے دین کو خدانخواستہ نیچا دکھا دیا گیا ہو۔ یہ ایک لغو بات ہے، ایسی ہی لغو بات ہے کہ جیسے کوئی مولوی یہ مشہور کر دے کہ ہمارے پیارے نبی اڑ سکتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ یہ بات پورے میں پھیل جائے اور بہت سے لوگ اس من گھڑت بات کا یقین کر لیں۔ اور کبھی ایک شخص سچی بات کہے کہ حضور اکرم پرندوں کی طرح ہوا میں پرواز نہیں سکتے تھے تو یہ جذباتی لوگ اس بات کا برا مانیں اور سمجھیں کہ حضور پاک کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے۔ ارے میرے بھائی جو بات سچ ہے وہ سچ ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ نہ ہمارے نبی پاک اڑ سکتے تھے اور نہ ہی اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔

تصویر از
http://www.ummah2.com

Labels:


Friday, October 02, 2009

 

مسافر نواز بہتیرے




مسافر نواز بہتیرے




لوگ پوچھتے ہیں کہ سفر کیسا گزرا۔ دوستو، بس یوں سمجھو کہ یہ سفر اس قدر تیزرفتاری سے ہوا کہ اب ایک خواب سا معلوم دیتا ہے۔ شاید عالم نزاع میں جب انسان موت کے قریب ہوتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی یوں ہی خواب سی معلوم دیتی ہوگی۔
مختصرا یہ کہ سان فرانسسکو سے فرینکفرٹ تک کا ایک سستا ٹکٹ مل گیا تھا اس لیے خرید لیا اور پھر یہ منصوبہ بنایا کہ جرمنی سے جنوب کی طرف جائیں گے اور انگریزی لفظ بیلکانائزیشن کا مطلب سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
جولائی اکیس کے روز سان فرانسسکو سے ائیر کینیڈا سے روانہ ہوئے۔ جہاز دیر سے اڑا لیا اس لیے کیلگری سے فرینکفرٹ والی پرواز کیلگری پہنچنے تک نکل چکی تھی۔ انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ ہمیں کیلگری میں ٹہرانے کے بجائے لندن پہنچا دیا جائے جہاں سے فرینکفرٹ کے لیے بہتیری پروازیں تھیں۔ اس طریقے سے لندن سے ہوتے ہوئے فرینکفرٹ پہنچے۔ وہ دن تھا جولائی بائیس کا۔ لندن سے فرینکفرٹ لفتھانسا سے گئے تھے جنہوں نے ہمارا ایک بیک پیک گم کر دیا۔ ہوائی اڈے پہ انتظامیہ نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ بیگ تلاش کر کے ہمارے ہوٹل پہنچا دیں گے۔ ہم ہوائی اڈے سے ٹرین میں چڑھے اور ہاپٹ بان ہوف آگئے۔ وہاں ریلوے اسٹیشن سے کچھ ہی فاصلے پہ ہمارا ہوٹل تھا۔ پورا دن ادھر ادھر سیر میں گزرا۔ رات آگئی مگر لفتھانسا نے ہمارا بیگ ہم تک نہ پہنچایا۔ ہم نے پہلے سے فرینکفرٹ سے میونخ کی ٹرین کی ریزرویشن کروالی تھی چنانچہ اگلے روز ہوٹل چھوڑنے سے پہلے ائیر لائن کو فون کر دیا کہ ہم میونخ جا رہے ہیں، بیگ ہمیں میونخ پہنچایا جائے۔ اس طرح ٹرین سے میونخ پہنچ گئے۔ یہاں دو رات کا قیام تھا۔ اگلے دن ہمارا بیگ ہم تک پہنچا دیا گیا۔ میونخ سے کچھ فاصلے پہ موجود ڈخائو کیمپ گئے جہاں المانیہ کی نازی حکومت سیاسی مخالفین، یہودیوں، جپسیوں وغیرہ کو قید میں رکھتی تھی۔ اگلے دن میونخ سے ویانا کے لیے روانہ ہو گئے۔ ویانا میں بھی دو دن قیام رہا۔ پھر اگلی منزل سلوانیا کا دارالحکموت یوبیانا تھی۔ واضح رہے کہ یوگاسلاویا ٹوٹ کر چھ ملکوں میں تقسیم ہوا ہے اور سلوانیا اس پرانے ملک کا وہ شمال ترین حصہ ہے جو آسٹریا اور اطالیہ سے لگتا ہے۔ یوبیانا میں بھی دو دن قیام رہا۔ وہاں سے جھیل بلید کا بھی چکر لگایا۔ پھر آگے چل دیے اور زغرب پہنچے۔ زغرب نوزائیدہ ملک کروایشیا کا دارالحکومت ہے۔ زغرب کے بعد بلغراد آیا۔ واضح رہے کہ بلغراد یوگاسلاوایکہ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اور اب سربیا نامی ملک کا دارالخلافہ ہے۔ بلغراد سے بوسنیا جانا چاہتے تھے مگر معلوم ہوا کہ بوسنیا جانے کے لیے واپس کروایشیا جانا ہوگا۔ منہ اٹھا کر کروایشیا کے ایک قصبے یوکووا پہنچے اور وہاں بھٹک گئے۔ ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن ہے جہاں گنتی کے دو افراد نظر آتے ہیں۔ اشاروں اشاروں میں ان دو افراد سے باتیں ہوتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سے سرایے وو کے لیے ٹرین اگلے دن ملے گی مگر اس قصبے میں ٹہرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی وہاں کوئی ٹیکسی ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک شخص فرشتہ ثابت ہوا۔ ہم نہ سمجھ پائے کہ وہ فون پہ کس سے کیا بات کر رہا ہے مگر اندازہ ہوا کہ کچھ ہمارے بھلے کے لیے کر رہا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک گاڑی آگئی۔ اس گاڑی کو ایک عورت چلا رہی تھی۔ ہمیں گاڑی میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ اندازہ ہوا کہ وہ عورت اس شخص کی بیوی ہے جسے اس نے فون کر کے بلایا تھا کہ ہمیں وہاں سے سولہ کلومیٹر کے فاصلے پہ موجود ایک ہوٹل تک پہنچا دے۔ ہم اس فرشتہ صفت شخص کا بہت شکریہ ادا کرتے ہوئے گاڑی میں سوار ہوئے۔ گاڑی اس قصبے سے نکلی اور کھیتوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی دوسرے قصبے میں پہنچ گئی۔ وہاں ہمیں ایک ہوٹل پہ اتار دیا گیا۔
اس ہوٹل کے پیچھے ایک بڑا سوئمنگ پول تھا جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں تیراکی کے لیے آتے تھے۔ اس وقت بھی بہت سے لوگوں کا ہجوم وہاں سے نکل رہا تھا۔ ہوٹل کے اندر بہت سے کمرے خالی تھے۔ وہاں کام کرنے والی عورت نے اچھی انگریزی میں ہمیں مکمل معلومات فراہم کیں۔ یہ کمرہ نوے یورو کا، اور یہ ذرا سا چھوٹا اسی یورو کا، مگر یہ تمھیں آج خصوصی طور پہ ستر یورو کا مل سکتا ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے قصبے میں تھے اور اس چھوٹے سے قصبے کے حساب سے ہوٹل کا کمرہ مہنگا تھا۔ پھر اس ہوٹل میں ایک اور قباحت یہ تھی کہ وہ مرکز شہر سے کافی فاصلے پہ تھا۔ ہم نے خاتون سے معذرت کی اور سوال کیا کہ آیا اس قصبے میں اور دوسرے ہوٹل تھے۔ ہاں، ایک اور ہوٹل ہے، وہ شاید تمھیں سستا پڑے۔ ہم نے خاتون سے درخواست کی کہ وہ خود ہی اس دوسرے ہوٹل کو فون کرکے معلوم کر لیں کہ آیا وہاں کمرہ خالی ہے۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ ہم سامان اٹھا کر وہاں پہنچیں اور وہاں ہمیں ٹکا سا جواب مل جائے۔ خاتون نے درخواست قبول کی۔ فون کیا اور ہمیں خوش خبری دی کہ اس دوسرے ہوٹل میں کمرہ موجود تھا۔ ہم خاتون کے بتائے ہوئے راستے پہ چل پڑے۔ وہ ایک لمبی سڑک تھی جو مرکز شہر تک جاتی تھی۔ ہم ڈیڑھ میل کے قریب چلتے ہوئے مذکورہ ہوٹل پہنچے تو مغرب ہو چلی تھی۔ بلو لگون نامی ہوٹل میں ہمیں جھٹ اپنے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ تب ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ اس ہوٹل میں ہم واحد گاہک تھے۔ نیچے ریستوراں تھا اور اوپر ہوٹل کے کمرے۔ یہ کمرہ نیچی چھت والا تھا اس لیے پورے دن کی دھوپ کھانے کے بعد اب گرم ہو رہا تھا۔ ہم نے کھڑکی کھولی تو باہر ہوا خوشگوار تھی مگر ہوا چل نہیں رہی تھی اس لیے اس ہوا کو اندر لانے کا انتظام ہمیں خود ہی کرنا تھا۔ ہم نے مالک سے اشارے سے پنکھا طلب کیا جو ایک دوسرے کمرے سے نکال کر ہمیں تھما دیا گیا۔ پنکھے کو کھلی کھڑکی کے قریب رکھا تو اس نے کمال دکھانا شروع کر دیا۔
مگر اب کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ ہم کھانے کی تلاش میں نکلے۔
تفصیلات تو اور بھی ہیں۔ مگر قابل ذکر اس رات کی بارش ہے۔ کتنا زور کا مینہ برسا تھا اور برسنے والی بارش نے کیسے ماحول کو خوش گوار بنا دیا تھا۔
اگلے دن کسی قدر تگ و دو سے سرایے وو پہنچے۔ سرایے وو پہنچتے پہنچتے سورج ڈھل گیا تھا۔ ریلوے اسٹیشن سے باہر نکل کر چند ٹیکسی والوں سے واسطہ پڑا مگر ان کے بتائے ہوئے دام ہوش ربا تھے۔ پھر سامنے ہی ٹرام نظر آگئی۔ جھٹ اس میں چڑھ گئے۔ سرایے وو کا وہ پرانا شہر۔ سحر انگیز۔ چھوٹی چھوٹی دکانوں کی قطاریں۔ پتھروں سے بنی سڑکیں۔ کروایشیا سے چلنے سے پہلے اسکائپ کی مدد سے سرایے وو کے ایک ہوٹل سے بات کی تھی۔ وہاں ہمارا کمرہ محفوظ تھا۔ چیلنج اس ہوٹل کو تلاش کرنا تھا۔ بہت لمبا چکر کاٹتے ہوئے ہوٹل پہنچے۔ سامان کمرے میں ٹکا کر جلدی سے کھانے کے لیے نکلے۔ ہوٹل سے کچھ ہی فاصلے پہ ایک ریستوراں تھا جو بس بند ہی ہوا چاہتا تھا مگر انہوں نے ہمارے لیے پیٹزا کا انتظام کر دیا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک روز ایسا تھا کہ جب ہم بھی سرایے وو میں تھے اور ہمارے دوست عثمان قاضی بھی، مگر ہم دونوں کی ملاقات نہ ہو پائی۔
جس روز سرایے وو سے مونٹے نیگرو کے شہر پوٹگو ریچا کے لیے نکلے اس روز خوب زور کی بارش ہوئی۔ ٹیکسی والے نے ایسے وقت بس اڈے پہنچا جب پوٹگوریچا کے لیے بس پانچ منٹ میں روانہ ہونے والی تھی۔ جلدی جلدی ٹکٹ خرید کر بس میں سوار ہو گئے۔ بس پیچ دار پہاڑی راستوں سے گزری۔ اور بوسنیا اور مونٹے نیگرو کی سرحد پہ ایک وسیع و عریض جنگل دیکھنے کو ملا۔ دوپہر تک پوٹگوریچا پہنچ گئے۔ خیال کیا کہ اس رات پوٹگوریچا میں قیام کرنے کے بجائے کسی ساحلی قصبے میں قیام کریں۔ چنانچہ دوسری بس سے پوٹگوریچا سے السنج پہنچ گئے۔ یہاں ہوٹل کی کوئی ریزرویشن نہ تھی۔ مگر جا بجا کمرہ خالی کے سائن انگریزی، المانوی، اور فرانسیسی میں لگے تھے۔ چالیس یورو میں ایک کمرہ مل گیا۔ کمرے میں سامان رکھ کر ساحل تک پہنچے تو سورج نیچے جا رہا تھا۔ ساحل سے مجمع روانہ ہو چکا تھا۔ سمندر کے پانی میں پائوں ڈالا تو پانی ٹھنڈا تھا۔ کچھ دیر وہاں وقت گزار کر واپس آگئے۔
السنج سے البانیہ کے قصبے شکودر کے سفر میں سرحد پہ گاڑیوں کی ایک نہایت لمبی قطار کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ ہماری بس ساری گاڑیوں کو پچھاڑ کر آگے بڑھتی چلی گئی اور ذرا سی دیر میں سرحد پار کر گئی۔
شکودر میں ٹہرنا مقصود نہ تھا چنانچہ وہاں پہنچ کر فورا تے رانا جانے والی ایک وین میں سوار ہو گئے۔ وین میں سوار ہونے کے بعد خاتون نے فورا، ہائے میری رقم بیلٹ کا نعرہ لگایا۔ خاتون نقد سے بھری رقم بیلٹ السنج سے شکودر آنے والی بس میں بھول آئیں تھیں۔ وہ پورا قصہ دلچسپ اور لمبا ہے، اور اسے تفصیلی سفرنامے کے لیے اٹھا رکھنا زیادہ موزوں ہے۔
تے رانا ایک اچھا شہر ہے۔ اس شام ہم نے ایک ایسے ریستوراں میں کھانا کھایا تھا جہاں مقامی لوگ ہی کھانا کھاتے تھے۔
اگلے دن تے رانا سے کروجا نامی تاریخی شہر گئے۔
ہمارے سفر کا جنوب ترین قصبہ بے رات تھا۔ بے رات میں اندھیرا ہونے پہ مرکز شہر میں ٹہرنا اور لوگوں کا ہجوم۔ اور ہمیں اندازہ ہونا کہ اپنے اشتراکی دور میں یہ قصبہ کیا رنگ رکھتا ہو گا اور کس طرح یہاں رہنے والے تمام لوگوں کی سب سے بڑی تفریح یہی ہوتی ہوگی کہ رات کے وقت مرکز شہر میں چہل قدمی کریں۔
پہلے روز ہمارے ہوٹل میں شادی کی تقریب اور رات گئے تک خوب ناچ گانا۔
بے رات سے روانہ ہونا۔ ہم نے تہیہ کیا تھا کہ رات اشکوپیے میں پہنچ کر ہی بسر کریں گے۔
اوپر ریستوراں میں ناشتہ کرنا اور پھر بے رات کے بس اڈے پہ پہنچنا۔ وہاں پہلے رقم تبدیل کروانا۔ پھر بس لینے کے لیے حیران ہونا کہ آیا پہلے ترانا جائیں اور وہاں سے مقدونیہ کی سرحد یا پھر بے رات سے البسان جائیں اور وہاں سے سرحد جائیں۔ بے رات سے البسان کے لیے بھی بس جا رہی تھی مگر وہ بس بالکل ٹھنڈی پڑی تھی اور اس میں کوئی مسافر بھی نہیں تھا جب کہ تے رانا جانے والی بس میں کافی لوگ بیٹھے تھے۔
بس میں بیٹھے مگر پھر فیصلہ کر لیا کہ ترانا تک نہیں جائیں گے بلکہ راستے میں لشنیے اتر جائیں گے۔ ہم نے اپنا فیصلہ کنڈیکٹر کو سنایا تو محسوس ہوا کہ وہ بھی اس فیصلے سے خوش تھا ورنہ اس نے اور ڈرائیور نے ہمیں ورغلا کر ترانا تک جانے کے لیے تیار کر لیا تھا۔
ہمیں لشنیے میں اتار دیا گیا۔ ہمارا خیال تھا کہ وہاں روڈ کے ساتھ کھڑے ہمیں البسان کے لیے بس مل جائے گی۔ مگر کافی دیر گزرنے کے بعد بھی البسان کی بس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ پھر نشے میں چور ایک شخص کا وہاں آنا اور ہم سے زبردستی بات کرنے کی کوشش کرنا۔ پھر ایک اور شخص کا ایک چھوٹی لڑکی کے ساتھ آنا۔ اور پھر ان دونوں حضرات کا مل کر فیصلہ کرنا کہ ہمیں سرحد تک کیسے جانا چاہیے۔ ہمیں ایک چھوٹی وین میں سوار کر دینا جس میں لوگوں کا ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہنا اور ہنستے رہنا۔ اور اس وین کا کچھ فاصلے پہ جا کر رک جانا اور پھر ڈرائیور کا ہمیں دوسری وین میں سوار ہونے کا کہنا۔ اور پھر مسافروں کے بھرنے کے بعد اس وین کا البسان کے لیے روانہ ہونا۔ اور البسان پہنچنا۔ نہ جانے کیا معاملہ تھا کہ بیشتر دکانیں بند تھیں۔ اور پھر وہاں ہماری حمایت میں وہاں ایک عمر رسیدہ عورت کا ٹیکسی والوں سے جھگڑا ہونا۔ اور سامنے اسٹیڈیم میں سیاہ فام کھلاڑیوں کا آنا۔ اور کافی دیر کے بعد بالاخر ایک وین کا آنا اور ہمارا سرحد کے لیے روانہ ہونا۔ اور اس وین میں فرینک سے ملاقات جو نیویارک میں آٹھ سال رہا تھا اور وہاں سے بے دخل ہونے کے بعد اب یہاں اپنے ماں باپ ک ساتھ تھا۔ اس کا باپ ایک شہر سے دوسرے شہر وین چلاتا تھا اور یہ اپنے باپ کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ سرحد تک فرینک سے بہت ساری باتیں ہوئیں اور اس سے اچھی دوستی ہو گئی۔ اس سے پہلے سفر میں بہتیرے بار ایسا ہوا کہ راستے میں لوگ ملے، ان سے اچھی بات چیت ہوئی مگر پھر وہ اپنی منزل پہ اتر گئے اور ہم آگے روانہ ہو گئے اور کروڑہا لوگوں کی اس دنیا میں ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے مگر اب انٹرنیٹ کی آمد کے بعد معاملہ دوسرا ہے۔ فرینک کو فیس بک پہ اپنا نام بتا دیا تھا چنانچہ اب فیس بک کے ذریعے فرینک سے مستقل رابطہ ہے۔
فرینک کا باپ ہمیں سرحد تک نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ سرحد سے چند کلومیٹر پہلے اس نے وین روک دی۔ وہاں سے گزرنے والی ایک اور وین کو ہاتھ دے کر معلوم کیا۔ وہ سرحد پار کر کے مقدونیہ کے شہر اشتروگا جا رہی تھی۔ اس وین سے اشتروگا۔ مگر اشتروگا پہنچتے پہنچے شام ہو چلی تھی۔ وہاں سے اشکوپیے کے لیے کوئی بس اس وقت نہیں جا رہی تھی۔ ہمیں مشورہ دیا گیا کہ ہم رات اشتروگا میں بسر کریں اور صبح اشکوپیے کے لیے بس پکڑیں مگر ہمیں ہر حال میں اشکوپیے پہنچنا تھا۔ اگر تیسرے دن ہمیں فرینکفرٹ میں ہونا تھا تو اس رات ہمیں ضرور اشکوپیے میں گزارنی تھی اور پھر بیرات سے روانگی سے پہلے ہم نے اشکوپیے کے ایک ہوٹل کی بکنگ بھی کروالی تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ ہم اشتروگا کے مرکز شہر سے اشکوپیے کے لیے ٹیکسی تلاش کریں۔ ہمیں اشتروگا کے مرکز شہر میں چھوڑ دیا گیا۔ بہت ساری دلچسپ تفصیلات ہیں جن کا اختتام یہ ہے کہ ہم ایک نجی گاڑی میں اشتروگا سے گوشتی وار کے لیے روانہ تھے۔ گوشتی وار پہنچتے پہنچتے رات نو بجے سے اوپر کا وقت ہو چلا تھا۔ گوشتی وار کا بس اڈہ۔ وہاں مختصر کھانا کھانا اور حدیث نامی نوجوان سے دلچسپ ملاقات۔ گیارہ بجے کی بس سے اشکوپیے کے لیے روانگی۔ اشکوپیے کے بس اڈہ پہ بلغراد جانے کے لیے معلومات۔ ٹیکسی سے اپنے ہوٹل پہنچنا۔
اشکوپیے میں صبح
ہم رات بہت تھکے ہارے سوئے تھے مگر اس دن ہمیں بہت لمبا سفر کر کے بلغراد پہنچنا تھا اور پھر بلغراد سے کوچ کر کے شمال کے لیے روانہ ہو جانا تھا۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری تھا کیونکہ ہم بارہ اگست کو شام تک فرینکفرٹ پہنچ جانا چاہتے تھے۔ تیرہ کو ہمیں ہر صورت میں وہاں موجود ہونا تھا۔
صبح جب ہوٹل سینتوس کے کمرے میں آنکھ کھلی تو بالکل دل نہیں تھا کہ ایک اور دن سفر میں گزارا جائے۔ کتنا اچھا ہو کہ ہم آہستہ آہستہ سفر کریں۔ مگر پھر جیسے جیسے دن چڑھتا گیا بدن میں سفر کے لیے توانائی آتی گئی۔
ہم ہوٹل کے کمرے میں تیار ہو کر باہر نکلے تو وہاں موجود بازار نے ہمارا دل موہ لیا۔ ہم نے ایک بار پھر کوشش کی کہ ہوائی جہاز کے سستے ٹکٹ مل جائیں تو ہم تکلیف سے بچ جائیں اور اشکوپیے سے سیدھے اڑ کر فرینکفرٹ پہنچ جائیں مگر کوئی سستا ٹکٹ دستیاب نہ تھا۔ بس اور ٹرین کا سفر ہی طے کرنا ہماری قسمت میں تھا۔ ہم نے ایک مقامی ریستوراں میں بیٹھ کر شوربہ اور روٹی کھائی۔
ٹیکسی سے بس اڈے۔ بارہ بجے کی بس سے بلغراد کے لیے روانگی۔ بس کا سرحد پار کر کے ہمیں سربیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں چھوڑ دینا۔ پھر وہاں تربوز اور خربوزہ خریدنا۔ پھر جس ریستوراں میں بیٹھے تھے وہاں سے چمچہ مانگ کر تربوز کو چمچے سے کھانا۔ اور پھر آندھی کا چلنا اور زور دار بارش ہونا۔ اور کس قدر جادوئی منظر تھا وہ۔ خوب زور سے بادل گرجے اور آسمان میں بجلی یوں کوندی کہ جیسے آسمان کو چمک دار تلواروں سے کاٹ دیا گیا ہو۔
بس آئی تو سب سے پہلے میں بس میں چڑھ گیا کہ سیٹیں گھیر لوں۔ کچھ ہی دیر میں خاتون اور بچے بھی آگئے۔ معلوم ہوا کہ وہ لوگ تربوز اور چمچہ اسی طرح میز پہ چھوڑ کر آگئے تھے۔ مجھے افسوس ہوا کہ ہم تمیز سے شکریے کے ساتھ چمچہ ریستوراں والے کو نہ دے پائے اور کھائے گئے تربوز کو کوڑے میں نہ ڈال پائے۔
اتنا تربوز کھانے کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد مجھے سخت پیشاب لگا۔ بس رکوا کر پیشاب کیا۔ پھر کچھ ہی دیر میں بچے کو بھی زور کا پیشاب آگیا۔ ایک دفعہ پھر بس رکوائی گئی۔ بس ڈرائیور کے ساتھ بات کرنے میں وہ امریکی لڑکی کام آئی جو مقامی زبان جانتی تھی۔
ہم رات کے وقت بلغراد پہنچے۔ خاتون کو پریشانی تھی کہ نہ جانے بلغراد کا ریلوے اسٹیشن بس اڈے سے کتنا دور ہوگا۔ میں نے یقین دلایا تھا کہ وہ دونوں بالکل ساتھ ساتھ ہیں۔ ہم لوگ پیدل چلتے ہوئے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہو گئے۔ صبح کے چلے یہ وقت ہو گیا تھا۔ اور پچھلا پورا دن بھی سفر میں گزرا تھا۔ مجھے خاتون اور خاص طور پہ بچوں پہ ترس آرہا تھا کہ یہ سفر کا شوق دراصل میرا ہی ہے، یہ بے چارے میرے ساتھ قربانی کا بکرا بنتے ہیں۔ سفر کی سختی برداشت کرتے ہیں مگر منہ سے کچھ نہیں کہتے۔
میں بلغراد سے آگے ٹکٹ لینے کے لیے معلومات کے لیے کھڑا ہوا تو خاتون بچوں کو پیشاب کروانے لے گئیں۔ معلومات کی کھڑکی سے یہ خبر ملی کہ ویانا، فرینکفرٹ وغیرہ کے لیے ٹکٹ دوسری جگہ سے ملیں گے۔ کچھ تلاش کے بعد ڈھونڈتا ہوا اس جگہ پہنچا۔ ایک کھڑکی پہ باری آئی تو معلوم ہوا کہ کھڑکی نمبر پانچ پہ جائو۔ بہرحال کھڑکی پانچ پہ باری آئی تو جلدی جلدی دو ٹکٹ ویانا کے لیے حاصل کیے [ان ٹرینوں میں چھ سال سے کم عمر بچے مفت سفر کرتے ہیں]۔ ٹکٹ لے کر نکلا تو دیکھا کہ خاتون اور بچے وہیں تھے جہاں سے وہ مجھ سے روانہ ہوئے تھے۔ خاتون سے کہا کہ وہ کچھ کھانا خریدیں۔ اس وقت نو بجے تھے اور ٹرین کو نو بج کر اکیس منٹ پہ روانہ ہونا تھا۔ پلیٹ فارم پہ پہنچا تو بہت سے لوگ کھڑے تھے۔ ٹرین موجود تھی مگر اس کے دروازے بند تھے۔ صرف درجہ دوئم کے دروازے بند تھے، درجہ اول کے دروازے کھلے تھے۔ڈبہ کھلنے کا انتظار کرنے والے سب نوجوان لوگ تھے۔ میں نے اتنے میں دیکھا کہ ایک گارڈ درجہ دوئم کے ڈبے سے نکل کر اندر ہی اندر درجہ اول کے ڈبے میں گھس گیا۔ مجھے درجہ دوئم میں گھسنے کا راستہ سمجھ میں آگیا۔ میں درجہ اول کے ڈبے میں گھسا اور درمیانی دروازہ کھول کر درجہ دوئم کے ڈبے میں گھس گیا۔ پہلے ہی کوپے میں اپنا بیک پیک اور ویڈیو کیمرہ چھوڑ کر ٹرین سے اتر گیا کہ خاتون اور بچوں کو دیکھوں۔ خاتون اور بچے وہاں نظر نہ آئے تو بہت گھبرا گیا۔ مگر کچھ ہی دیر میں وہ تینوں آگے ایک دوسرے پلیٹ فارم پہ نظر آگئے۔ خاتون نے بتایا کہ کھانے کے لیے کچھ نہ مل پایا تھا۔ ہم سب واپس اپنی ٹرین پہ پہنچے۔ اب درجہ دوئم کا دروازہ کھل چکا تھا اور ڈبے کے اندر مجمع لگ گیا تھا۔ ہم لوگ ڈبے کے اندر گھسے۔ میں نے جس کوپے میں سامان رکھا تھا وہاں کچھ نوجوان پہلے ہی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس کوپے کی ریزرویشن تھی۔ اب ہم لوگ در بدر ہو چکے تھے۔ اپنا سامان لے کر آگے بڑھے، ہر کوپے میں جھانکا اور ہر ایک کو بھرا پیا۔ بہت آگے ایک کوپے میں صرف ایک لڑکی کو پایا۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ وہاں ٹک سکتے تھے۔ وہیں معلوم ہوا کہ سیٹ کا ٹکٹ الگ تھا اور سونے کے لیے برتھ کا ٹکٹ علیحدہ۔ ٹرین چلنے میں زیادہ وقت نہ تھا مگر میں بچوں کے کھانے کے لیے کچھ لینا چاہتا تھا۔ جلدی سے اتر کر آگے کیفے ٹیریا تک گیا۔ وہاں پہلے تو منع کر دیا گیا کہ بوریک [پنیر والی روٹی جو اس پورے خطے میں عام ہے] صحیح نہیں ہے مگر پھر دے دی گئی۔ ساتھ مائع دہی کے ڈبے لیے۔ گھبراہٹ تھی کہ کہیں ٹرین نکل نہ جائے۔ کیفے ٹیریا میں لگی گھڑی نو بج کر بارہ منٹ دکھا رہی تھی۔ کھانے کا یہ سامان لے کر فورا ٹرین پہ پہنچا۔ بچے کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے جلدی جلدی بوریک کھائی اور ساتھ میں دہی پیا۔ میں ان کی خوشی کو دیکھ کر خوش ہوا۔ ٹرین مقررہ وقت پہ چل دی۔ اسے بوڈا پسٹ سے گزرتے ہوئے صبح ویانا پہنچنا تھا۔
پھر ویانا۔ اور چند گھنٹے ویانا میں گزارنے کے بعد فرینکفرٹ کی ٹرین۔ پھر فرینکفرٹ میں ہوٹل کائیزرہاف میں قیام۔ اور وہ رات کس قدر کٹھن تھی۔ صبح ہی صبح اٹھ کر کراچی میں جرمن قونصل خانے کو فون۔ مگر معاملات نہ نمٹ پائے۔ فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہوا۔
پھر ایک اور سفر۔ بے دلی سے۔ فرینکفرٹ ہوائی اڈے سے کرائے کی گاڑی، دو کوششوں میں۔ بارش۔ اور رات گئے انٹرلاکن پہنچنا۔ اگلے دن انٹرلاکن میں تھوڑی سیر و تفریح اور پھر جینیوا پہنچنا۔ جینیوا میں دو دن قیام۔ جھیل جینیوا۔ اقوام متحدہ کا مرکزی دفتر۔ پھر جینیوا سے پیرس۔ پیرس میں شاغ دے گال ہوائی اڈے کے قریب ہوٹل میں ٹہرنا۔ ہر دفعہ گاڑی سے شہر جا کر گاڑی کو زیر زمین پارکنگ میں سب سے نچلے مالے پہ کھڑی کرنا کہ کوئی ٹکر نہ مار دے۔
اور پھر پیرس سے کوچ۔ برسلز۔
برسلز سے فرینکفرٹ جانے والے دن پہلے برسلز سے واٹر لو پہنچنا اور اس تاریخی جنگ کو اپنے سمو لینا۔
فرینکفرٹ میں پھر چونسا آم۔
اور پھر واپسی۔ فرینکفرٹ سے ٹورنٹو۔ ٹورنٹو سے سان فرانسسکو۔ ہوائی اڈے سے بارٹ سے مل برے۔ ایک ٹرین سے اتر کر دوسری ٹرین پکڑنا تھی۔ کیل ٹرین ذرا سی دیر میں آگئی مگر ٹکٹ مشین نے ساتھ نہ دیا۔ جب تک ٹکٹ حاصل کیے ٹرین کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ پلیٹ فارم پہ ٹکٹ لہرا کر ڈرائیور کی توجہ اور ہمدردی حاصل کرنا چاہی مگر ٹرین بے رحمی سے ہمیں چھوڑ کر روانہ ہو گئی۔ اگلی ٹرین گھنٹے بھر میں۔ خنک ہوا سے بچنے کے لیے قریبی ریستوراں پہنچے۔ وہاں کھانا اور یہ خیال کرنا کہ امریکہ میں کھانا کتنا سستا ہے اور سروس کتنی شاندار ہے۔
پھر ٹرین سے سانٹا کلارا۔ اور سانٹاکلارا اسٹیشن کے باہر ایک ٹیکسی کو موجود پانا۔ ٹیکسی سے گھر۔ اور مہینہ بھر بعد گھر میں داخل ہونے کی خوشی۔
سفر تمام۔

Labels:


Sunday, August 23, 2009

 

رمضان: کام چوری کا مہینہ






رمضان: کام چوری کا مہینہ

تحریر: ناصر عباس مرزا
ترجمہ: علی حسن سمندطور

ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دنیا کس طرح کام کرتی ہے۔ اس معاملے میں ہم اس چھوٹے لڑکے کی طرح ہیں جس نے گڑگڑا کر دعا کی کہ اللہ تعالی اسے ایک سائیکل دے دے۔ اور جب لڑکے کو اندازہ ہوا کہ اللہ تعالی اس طرح براہ راست چیزیں لوگوں میں تقسیم نہیں کرتا تو لڑکے نے ایک سائیکل چرا لی اور پھر خدا سے دعا کی کہ اس کا گناہ معاف کردیا جائے۔
======
یکم رمضان سے دس محرم تک، تقریبا چار ماہ بنتے ہیں۔ اس مدت میں پاکستان میں کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ان سالانہ چھٹیاں میں عبادت گزار اور وہ فراڈیے جو اپنے آپ کو عبادت گزار دکھانا چاہتے ہیں، کام سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں۔
یوں تو ہم پاکستانی کبھی کام اور سخت محنت کے لیے مشہور نہیں رہے، مگر سالانہ چھٹیوں کہ ان چار ماہ میں ہم اتنا کم کام کرتے ہیں کہ سال کے بقیہ آٹھ مہینوں میں کیا جانے والا کام بہترین اور چکا چوند کرتا نظر آتا ہے۔
رمضان میں کام کے اوقات نو سے ایک ہوتے ہیں، یعنی کل چار گھنٹے۔ اور ان چار گھنٹوں میں کم ہی لوگوں کا دھیان کام کی طرف ہوتا ہے۔ کسی بھی سرکاری دفتر میں چلے جائیے آپ کا واسطہ ایک چڑچڑے، کاہل، اور زندگی سے عاجز شخص سے پڑے گا جس کے منہ سے بدبو آرہی ہوگی۔ آپ کا کام کس قدر بھی اہم اور ضروری کیوں نہ ہو آپ کو کہا جائے گا کہ آپ ڈھائی ماہ بعد محرم کے تیسرے ہفتے میں واپس تشریف لائیں۔ آپ کا واسطہ جس شخص سے پڑا ہے وہ کام کے موڈ میں ہرگز نہیں ہے۔ اس کا دل ہے کہ وہ فورا سے پیشتر گھر جائے اور بقیہ روزہ ہندوستانی فلم دیکھتے ہوئے گزارے۔
یہ روزہ دار، اور اس جیسے لاکھوں دوسرے، چاہتے ہیں کہ روزہ رکھنے پہ پوری دنیا ان کی شکرگزار ہو۔ بنی نوع انسان کو اس شخص کا احسان ماننا چاہیے کہ یہ شخص اس قدر عبادت گزار ہے۔ آپ کو اس شخص سے الجھنے کا خیال بھی دل میں نہیں لانا چاہیے۔
رمضان میں کسی کو کام کے لیے اکسانا ایک گناہ ہے کیونکہ روزہ دار کی عبادت میں خدا کی رضا اور قہر شامل ہے۔ ممکن ہے کہ آپ دل چاہے کہ آپ کام چور لوگوں کو ڈنڈے کے زور پہ کام کے لیے اکسائیں، مگر ایسا کرنا آپ کے لیے سخت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ کو جلا کر مارا جا سکتا ہے، یا زندہ درگور کیا جا سکتا ہے، ممکن ہے کہ گولی مار کر آپ کا کام تمام کیا جائے، جیسا نجیب ظفر کے ساتھ کیا گیا تھا۔ نجیب ظفر مریدکے میں چمڑے کا کارخانہ چلاتا تھا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ جمعے کی نماز کی مد میں لمبی چھٹی مارنے والوں کو کام کے لیے اکساتا تھا۔
رمضان میں کام کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔ مساجد میں حاضری بڑھ جاتی ہے؛ تراویح، محافل، اور درس روز کا معمول ہوتے ہیں۔ کیونکہ سال کے بقیہ گیارہ ماہ ہم چوری چکاری میں گزارتے ہیں اس لیے رمضان میں خدا سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں کہ آخر کار رمضان مغرفت کا مہینہ ہے۔
افطار پارٹیاں تو ایک عرصے سے فیشن میں رہی ہیں مگر اب سحری پارٹی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ ریستوراں ساری رات کھلے رہتے ہیں۔ سحری پارٹی میں لوگوں سے میل ملاپ کریں اور پھر پڑ کر لمبا سوئیں۔ دفاتر اور کارخانوں میں لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ "آپ عید کے بعد آئیے گا۔"
دکھاوے کی تمام تر عبادت اور ہلے گلے کے باوجود ہم رمضان میں اچھے انسان ہرگز نہیں بنتے۔ ہم ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ ہم رمضان میں بھی وہی کرتے ہیں جو بقیہ سال کرتے ہیں: چوری چکاری، دروغ گوئی، اور لوٹ کھسوٹ۔ رمضان کی برکت یہ ہے کہ اس ماہ میں ہم خدا سے سب کچھ بخشوا سکتے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دنیا کس طرح کام کرتی ہے۔ اس معاملے میں ہم اس چھوٹے لڑکے کی طرح ہیں جس نے گڑگڑا کر دعا کی کہ اللہ تعالی اسے ایک سائیکل دے دے۔ اور جب لڑکے کو اندازہ ہوا کہ اللہ تعالی اس طرح براہ راست چیزیں لوگوں میں تقسیم نہیں کرتا تو لڑکے نے ایک سائیکل چرا لی اور پھر خدا سے دعا کی کہ اس کا گناہ معاف کردیا جائے۔
رمضان کے اصل مقصد کے برخلاف یہ ماہ ہمارے لیے زیادتی کا مہینہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ عبادت کی زیادتی ہو، اسراف ہو، یا پرخوری۔ افطار سے سحری کے دوران لوگ تین کھانے کھاتے ہیں، اور تینوں انتہائی غیر صحت بخش۔ ان تین کھانوں میں تین چیزوں کی زیادتی ہوتی ہے: شکر کی، آٹے کی، اور تیل کی۔
رمضان میں خدائی فوج دار ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ روزے کے دوران کھانے پینے والا کوئی شخص، یا فوری تیار اشیائے خوردونوش بیچنے والا بالموقع سزا کا حق دار ہوتا ہے۔ عبادت گزار کسی بھی موقع پہ غصے میں آکر سب کچھ درہم برہم کر سکتے ہیں۔ نماز پڑھنے کے لیے ہوائی جہاز کی گزرگاہوں، انتظار گاہوں، ریلوے کے پلیٹ فارم اور مصروف شاہ راہوں کو بند کیا جا سکتا ہے۔ اور ہے کسی کی مجال جو ایسا کرنے والوں کو روکے؟
مختصر یہ کہ رمضان کے اول بیس دن ہر روز تین سے چار گھنٹے کام ہوتا ہے۔ آخری عشرے میں متمول عبادت گزار عمرے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں، دوسرے اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہیں۔
رمضان کے اختتام پہ قوم سات سے دس دن کی چھٹیاں مناتی ہے۔ پھر لوگ رفتہ رفتہ کام کی طرف رجوع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ مگر چند ہی ہفتوں میں حج اور بقرعید کا موسم شروع ہو جاتا ہے اور یوں کام سے پھر چھٹی ہوجاتی ہے۔
====
اصل مضمون یہاں ملاحظہ فرمائیں:
http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2009\08\23\story_23-8-2009_pg3_6

Labels:


Tuesday, March 17, 2009

 

جسٹس افتخار چوہدری سے وابستہ توقعات






پاکستانی عوام کی توقعات افتخار چوہدری سے بہت زیادہ ہیں۔ لوگوں کی خواہش ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری اپنا پہلا جیسا جارحانہ انداز عدالت قائم رکھیں۔ وہ این آر او کو چیلنج کریں، اکبر بگٹی قتل کیس کھولیں، اورحکرانوں کو اچھی حکومت کرنے پہ مجبور کریں۔

تصویر بشکریہ
AFP

Labels: , , , , , ,


Sunday, March 08, 2009

 

گریگ مورٹینسن کا شمالی کیلی فورنیا کا دورہ









گریگ مورٹینسن کے قریب پہنچنے کی کوشش میں آپ کو سب سے پہلے اشتہاری مواد کا ایک وسیع دائرہ ملے گا، وہ اشتہاری مواد جس میں غریب مگر صاف رنگ کے بچوں کو مورٹینسن کے قائم کردہ سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ کی طرف سے بنائے ہوئے اسکولوں میں پڑھتا دکھایا گیا ہے؛ پھر آپ کو ان قارئین کا ایک بڑا دائرہ ملے گا جنہوں نے گریگ مورٹینسن کی کتاب، چائے کی تین پیالیاں "تھری کپس آف ٹی" پڑھی ہے؛ پھر آپ کو وہ لوگ ملیں گے جو تھری کپس آف ٹی نامی گانا گا رہے ہیں؛ اور سب سے آخر میں آپ کو معتقدین کا وہ گروہ ملے گا جنہوں نے مورٹینسن کو اوتار کا درجہ دیا ہوا ہے۔ اس سحر انگیز ماحول سے متاثر ہو کر صحافت کے ایک بنیادی اصول کو بھلا دینا آسان ہے، وہ اصول کہ موضوع کو بلا تعصب، از سر نو، آزادانہ دیکھا جائے؛ اور ہر دعوے کی چھان پھٹک کی جائے۔
حال میں شمالی کیلی فورنیا میں گریگ مورٹینسن کے اعزاز میں منعقد کی جانے والی دو تقاریب میں شرکت کرنے کے بعد میں نے اپنے لیے تین کاموں کی ایک فہرست بنائی اور تہیہ کیا کہ یہ تین کام کرنے کے بعد ہی میں مورٹینسن اور اس کے اعلی کام پہ کچھ لکھوں گا۔ فہرست یہ تھی۔
اول۔ سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ کے پاکستان میں موجود دفتر کو فون کر کے ان سے معلومات حاصل کی جائے۔
دوئم۔ پاکستانی میڈیا کی وہ رپورٹیں پڑھی جائیں جو مورٹینسن کے کام پہ لکھی گئی ہیں۔
سوئم۔ ایسے پاکستانیوں سے بات کی جائے جنہوں نے مورٹینسن کے بنائے ہوئے اسکولوں کا دورہ کیا ہے اور جہاں یہ اسکول قائم کیے گئے ہیں وہاں مقامی لوگوں سے گفتگو کی ہے۔

میں افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا چاہوں گا کہ میں درج بالا تینوں کاموں میں ناکام رہا ہوں۔ ریاست مونٹینا میں واقع سینٹرل ایشیا انسٹیٹیوٹ نے میرے فون کے جواب میں مجھے اب تک اپنے پاکستان میں واقع دفتر کے فون نمبر نہیں دیے ہیں۔ یہ معلومات ان کی ویب سائٹ پہ بھی موجود نہیں ہے۔ میں نے پاکستانی اخبارات کی مورٹینسن پہ جو رپورٹیں اب تک پڑھی ہیں وہ مغربی میڈیا کی رپورٹوں کا شرمناک چربہ ہیں۔ اور میں اب تک کسی ایسے شخص سے نہیں مل پایا ہوں جو مورٹینسن کے بنائے ہوئے کسی اسکول گیا ہو۔
اردو میں مورٹینسن کو گوگل کریں تو ان کے بارے میں گنتی کے دو روابط ملتے ہیں۔ اور ان دونوں جگہوں پہ موجود خبر مغربی ذرائع سے حاصل خبر کا اردو ترجمہ ہے۔ اگر مورٹینسن کو فارسی میں گوگل کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ فارسی یا دری دنیا جس واحد مورتینسن سے واقف ہے وہ اداکار وگو مورتینسن ہے۔ یہ بات یقینا حیرت کا باعث ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں اٹھتر اسکولوں کی تعمیر کے بعد بھی مقامی اخبارات نے مورٹینسن کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے۔
کیونکہ مورٹینسن کے بارے میں میری تحقیق ابھی جاری ہے اس لیے میں اس رپورٹ کو محض مورٹینسن کے حالیہ دورے کی تفصیلات تک محدود رکھنا مناسب سمجھتا ہوں۔ مورٹینسن کو شمالی کیلی فورنیا آنے کی دعوت امیرکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی ویمن AAUW کی فری مونٹ شاخ نے دی تھی۔ مارچ تین کے روز مورٹینسن کا پہلا پروگرام لوگن ہائی اسکول، یونین سٹی میں ہوا جہاں اٹھارہ سو کے قریب لوگوں نے مورٹینسن کو سنا۔ اسی شام مورٹینسن کی ایک اور تقریب ڈائمنڈ پیلس، فری مونٹ میں تھی جہاں نو سو کے قریب لوگ موجود تھے۔

Labels: , , ,


Tuesday, February 10, 2009

 

پیٹر اسٹینزیک کے قتل پہ ٹپکا ایک آنسو





اس دنیا کا ہر شخص میرا دوست ہے۔ مجھے ان سب لوگوں سے انسیت ہے۔ ان ہی لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جن سے میں کبھی نہیں ملا مگر اس اتفاق کے باوجود وہ میرے دوست ہیں اور میں ان کا بھلا چاہتا ہوں۔

میں نے ایک خوش قسمت زندگی گزاری ہے۔ میں نے دنیا کے چند کونے دیکھے ہیں۔ میں جن شہروں، جن ملکوں سے گزرا ہوں، وہاں کے رہنے والوں کا احسان اپنے اوپر مانتا ہوں۔ میں نے ان کا نمک کھایا ہے۔ میں ان کا وفادار ہوں۔

پولینڈ بھی میرے لیے ایک ایسا ہی ملک ہے۔ میں چیکوسلاواکیہ سے پولینڈ میں داخل ہوا تھا۔ میں کراکائو میں ٹہرا ہوں، میں نے وارشاوا میں بہترین وقت گزارا ہے، اور ایک کشتی سے فن لینڈ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے میں گڈانسک کی گلیوں میں پھرا ہوں۔

میں سوچتا ہوں کہ جس وقت میں کراکائو میں تھا اس وقت پیٹر اسٹینزیک کیا کررہا تھا؟ کیا پیٹر اس وقت کراکائو کے کسی تعلیمی ادارے میں پڑھ رہا تھا؟

پھر پیٹر نے کراکائو کی ایک انجینئیرنگ کمپنی میں نوکری کر لی۔ اس کمپنی نے پیٹر کو تیل اور گیس کے خزانے کھوجنے کے کام کے سلسلے میں پاکستان بھیج دیا۔

پیٹر اسٹینزیک۔ ایک معصوم آدمی جسے معلوم نہ تھا کہ شمالی پاکستان میں وہ کس بھڑ کے چھتے میں گھسنے جا رہا تھا۔

پاکستانی ادارے او جی ڈی سی نے پیٹر کی حفاظت کا کسی قدر انتظام کیا تھا مگر ایک برے دن وہ سارے حفاظتی اقدامات غیر موثر ثابت ہوئے۔ پیٹر کے ساتھ موجود چار لوگوں کو جان سے مار کر پیٹر کو اغوا کر لیا گیا۔ پیٹر کو اغوا کرنے والے اپنے آپ کو پاکستانی طالبان کہتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی حراست میں موجود کئی لوگوں کو چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان نے اس مطالبے کو نہ مانا۔ بعض خبروں کے مطابق پاکستان اور پولینڈ کی حکومتوں نے پیٹر کے اغوا کنندگان کو تاوان کی رقم دینے کی پیش کش کی۔ مگر اغوا کنندگان یہ بات نہ مانے اور دو دن پہلے ان سفاک لوگوں نے پیٹر کا سر تن سے جدا کردیا۔

پیٹر کا سر قلم کرنے سے پہلے اغوا کنندگان نے پیٹر سے جو بات چیت کی اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پہ موجود ہے۔ یہ ایک ایسی ویڈیو ہے جسے دیکھ کر جسم میں جھرجھری دوڑ جاتی ہے۔ ایک بیالیس سال کا نوجوان زمین پہ ہراساں بیٹھا ہے۔ شاید اسے معلوم ہے کہ اس ویڈیو کی ریکارڈنگ کے بعد اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ پیٹر سے چند سوالات کیے جاتے ہیں جن کے جوابات وہ اپنے اغوا کنندگان کی مرضی کے مطابق دیتا ہے۔

کتنا بڑا ظلم ہے یہ کہ ایک بے قصور شخص کو کسی دوسرے کے قصور میں جان سے مار دیا جائے۔ یہ دنیا کس قدر ظالم جگہ ہے۔
[تصویر، بشکریہ آج ٹی وی اور ایسوسی ایٹڈ پریس۔]

Labels:


Wednesday, January 07, 2009

 

ایک لڑکا





یہ غالبا سنہ انیس سو چوالیس کی بات ہوگی۔ کلکتہ کا ایک متمول خاندان اپنی گاڑی پہ کہیں جا رہا تھا کہ نہ جانے کہاں سے سامنے ایک چارسالہ لڑکا آگیا۔ اس لڑکے نے سڑک پار کرنے کی بے قراری میں نہ دائیں دیکھا تھا اور نہ بائیں، بس دوڑ لگا دی تھی۔ گاڑی چلانے والے آدمی نے فوری طور پہ گاڑی کو ایک طرف موڑ کر گاڑی کو لڑکے سے ٹکرانے سے بس بال بال بچایا۔ گاڑی چلانے والا اگلے دو تین منٹ تک منہ ہی منہ میں اس لڑکے کو بہت سخت سست کہتا رہا تھا۔ اس شخص کو نہ تو یہ معلوم تھا کہ وہ لڑکا کون ہے، نہ یہ کہ لڑکے نے اتنی سرعت میں سڑک کیوں پار کی، اور نہ ہی یہ کہ ایک دن وہ لڑکا بڑا ہو کرکیا بنے گا۔ چار سال کے لڑکے تو بس یوں ہی ہوتے ہیں۔ سڑک کے ایک طرف چل رہے ہوں اور انہیں سڑک کے دوسری طرف اچانک اپنا باپ دکھائی پڑے تو باپ سے ملنے کی والہانہ جستجو میں بس دوڑ لگا دیتے ہیں۔ کہ عمر کے اس دور میں محبت کے برملا اظہار کو مصلحتوں کی لگام نہیں لگائی جاتی۔

لکھنئو کے ایک گھر میں دو لڑکے استانی سے قاعدہ پڑھ رہے تھے۔ اچانک دروازہ کھلا، اور محلے کا ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔ اس نے استانی کے بالکل پاس جا کر دبے الفاظ میں کچھ کہا۔ بات کچھ ایسی تھی کہ اس بات کے سنتے ہی استانی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ قاعدہ پڑھنے والے دونوں لڑکوں نے قاعدہ پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور اس کاروائی کو بغور دیکھ رہے تھے۔ استانی نے قاعدہ پڑھنے والے دونوں لڑکوں سے کہا کہ وہ فورا گھر چلے جائیں۔ کیوں؟ ابھی گھر کیوں جائیں، ابھی تو آج کا سبق ختم نہیں ہوا۔ ان میں سے ایک نے استانی سے پوچھا۔ تم لوگ اس لیے گھر جائو کیونکہ تمھارے ابو کا انتقال ہو گیا ہے، محلے کے لڑکے نے بات صاف صاف ان دونوں بھائیوں کو بتا دی۔ پھر یہ دونوں گھر کی طرف دوڑے۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ دونوں بھائی کیچڑ میں پھسلتے، زارزار روتے گھر پہنچے۔ دوسری جماعت میں پڑھنے والے اس لڑکے کے لیے یہ باپ کا انتقال موت کی حقیقت سے سامنا کرنے کا پہلا تجربہ تھا۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں موت کے بارے میں علم یوں رفتہ رفتہ ہو کہ گزر جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والا خلا ان کی زندگیوں میں بھونچال نہ لے آئے۔کہ پہلے وہ کسی دور دراز کے رشتہ دار کی موت دیکھیں، پھر اپنے گھر میں موت سے ان کا سامنا دادا، دادی، نانا، نانی کی رحلت کی صورت میں ہو۔ مگر اس لڑکے کے لیے معاملہ دوسرا تھا۔اس کے لیے باپ کے مرنے کی خبر نہ صرف موت سے اس لڑکے کی پہلی شناسائی تھی بلکہ اس مرکزی کردار کی غیر موجودگی سے پیدا ہونے والا خلا ایک ایسا معاشی بحران لے کر آرہا تھا جس سے اس لڑکے کو اپنی زندگی میں طویل مدت تک نبردآزما رہنا تھا۔ استانی نے اس روز لڑکے کو گھر تو روانہ کر دیا مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اب یہ لڑکا واپس پڑھنے نہ آئے گا کہ گھر چلانے کی مالی ذمہ داری کا بوجھ اس لڑکے کے ناتواں کندھے پہ بھی ڈالا جائے گا۔

مول چند کا شمار ڈھلائی کے ماہر کاریگروں میں ہوتا تھا۔ اسے آپ کوئی مشکل سے مشکل کام دیں وہ دھات پگھلا کر، اسے سانچے میں ڈھال کر، ہتھوڑے سے چوٹیں مار کر آپ کو آپ کی مطلوبہ چیز بنا کر دے دے گا۔ مول چند کے ڈھلائی کے کارخانے میں بہت سے "چھوٹے" کام کرتے تھے۔ یہ چھوٹے مول چند سے ڈھلائی کا کام سیکھتے اور اس سیکھنے کے ساتھ ساتھ کام میں مددگار ہونے کے ناتے انہیں ایک معمولی معاوضہ بھی دے دیا جاتا۔ ایک روز ایک عورت برقعہ پہنے دو کم سن لڑکوں کو تھامے مول چند کے کارخانے پہ آئی۔ عورت نے مول چند سے درخواست کی کہ مول چند دونوں لڑکوں کو اپنے کارخانے پہ رکھ لے۔ مول چند نے کچھ چوں چراں کی کہ اس کے کارخانے پہ پہلے ہی کئی لڑکے کام سیکھ رہے تھے مگر پھر اس نے عورت کی مالی مصیبت کو بھانپ کر دونوں بھائیوں کو اپنے کارخانے پہ رکھنے پہ حامی بھر لی۔ عورت دونوں لڑکوں کو مول چند کو سونپ کر گھر روانہ ہو گئی۔ لڑکوں نے کسی قدر خوفزدہ نظروں سے مول چند کی طرف دیکھا مگر جب مول چند نے ان سے شفقت کا سلوک کیا اور ان کو نرم رویے سے کام سمجھایا تو یہ دونوں مول چند سے اور ڈھلائی کے کارخانے سے مانوس ہوتے گئے۔ پھر دونوں لڑکوں کا یہ معمول بن گیا کہ وہ صبح ناشتہ کرنے کے بعد فورا مول چند کے کارخانے پہ پہنچ جاتے اور کارخانے کے بند ہونے تک وہاں کام کرتے۔
مول چند ان دونوں بھائیوں کو تندہی سے کام میں جٹا دیکھ کر سوچتا کہ یہ دنیا ایسی ہی جگہ ہے۔ یہاں وہ لوگ ہیں جن کا تعلق کتابوں سے ہے اور جو آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ صاب لوگ ہیں۔ اور پھر دوسرے مول چند جیسے لوگ ہیں جو مستقل ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔ یہ دونوں بھائی اگر پڑھ رہے ہوتے تو ایک دن معاشرے کے اول طبقے میں جا شامل ہوتے۔ مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔ اب یہ میرے کارخانے پہ ڈھلائی کا کام سیکھ رہے ہیں اور یہ معاشرے کے اسی طبقے کا حصہ بنے رہیں گے۔ اور پھر ایک دن جب یہ بڑے ہوں گے تو شاید ان کا اپنا ڈھلائی کا کارخانہ ہو جہاں دوسرے بد نصیب بچے ان سے کام سیکھنے آئیں۔ مگر مول چند کو یہ معلوم نہ تھا کہ جب بھٹیاں جھونکتے ہوئے ان لڑکوں کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں تو ان آنسوئوں میں کچھ تو کوئلے کے دھوئیں سے نکلے ہوتے ہیں اور کچھ اس خیال سے کہ وہ لڑکے اپنے حال پہ نالاں ہیں اور اس موقع کی تلاش میں ہیں جب وہ ایک بار پھر اپنا تعلق کتابوں سے استوار کر لیں گے۔
====

ہر بچہ اپنی پیدائش پہ زندگی کے لاتعداد امکانات کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ پھر جیسے جیسے عمر گزرتی ہے حوادث، تجربات، اور انسان کے اندر کی آگ اس کی راہ متعین کرتے جاتے ہیں۔ پھر عمر کے ساٹھ سے زیادہ سال گزارنے کے بعد کل کا یہ بچہ پلٹ کر اپنی زندگی کو دیکھتا ہے تو اپنی ہر کامیابی اور ہر ناکامی کو ایک تمغہ جانتا ہے۔ یہ وہ ساری باتیں، سارے تجربات ہیں جو صرف اس شخص کا ماضی نہیں ہیں بلکہ اس کا تعارف ہیں۔ ہمارے دور کے نامور شاعر جناب جاذب قریشی صاحب آج اپنی زندگی کو پلٹ کر دیکھیں تو انہیں کلکتہ کی ایک مصروف سڑک پہ حادثے سے بچنا، کم سنی میں باپ کی شفقت سے محروم ہوجانا، مول چند کے ڈھلائی کے کارخانے پہ کام کرنا، سمیت بہت سے حوادث، بہت سے واقعات یاد آتے ہیں۔اور ان حوادث کے ساتھ ساتھ ان کی ہر تصنیف کی اشاعت ایک تمغہ ہے جو ان کے سینے پہ جڑا ہے۔ جاذب قریشی صاحب ان تمغات کی قطار اپنے سیے پہ سجائے چلتے ہیں اور اپنی شاعری میں اپنے محسوسات کو بہت ایمانداری سے لکھ دیتے ہیں۔ میں جاذب قریشی صاحب سے استفادہ کرنے پہ اپنے آپ کو خوش قسمت خیال کرتا ہوں۔

جاذب قریشی صاحب کی مطبوعات درج ذیل ہیں۔
تخلیقی آواز
آنکھ اور چراغ
شاعری اور تہذیب
دوسرے کنارے تک
میری تحریریں
میں نے یہ جانا
پہچان
نیند کا ریشم
شیشے کا درخت
آشوب جاں
اجلی آوازیں
شکستہ عکس
شناسائی
جھرنے
عقیدتیں
مجھے یاد ہے
نعت کے جدید رنگ
میری شاعری، میری مصوری





Labels: , , , ,


Friday, October 31, 2008

 

نوشی گیلانی رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں








فریمونٹ، کیلی فورنیا میں مقیم مشہور اردو شاعرہ نوشی گیلانی حال میں رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں۔ ان کا نکاح سڈنی، آسٹریلیا میں مقیم شاعر سعید خان سے اکتوبر پچیس کے روز بھاولپور میں ہوا۔ ولیمہ نومبر دو کو خان پور، ضلع ہزارہ میں ہونا قرار پایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دو شاعروں کا یہ جوڑا آسٹریلیا، امریکہ، اور پاکستان میں سے کس جگہ مستقل قیام کرتا ہے۔

[تصویر بشکریہ سعید خان۔]

Labels:


Sunday, October 12, 2008

 

دبئی: ہندوستانی پاکستانی غلاموں کی مزدوری سے تراشہ ہیرا




دبئی: ہندوستانی پاکستانی غلاموں کی مزدوری سے تراشہ ہیرا

تحریر: غائث عبدالاحد
ترجمہ: علی حسن سمندطور

چمکدار عمارتوں، مصنوعی جزیروں، اور عظیم الجثہ مراکز خریداری سے پر دبئی اب دنیا کا سب سے اونچا برج بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن اس حیرت انگیز عمارت سازی کے پیچھے مزدوروں کی ایک ایسی فوج ہے جسے سبز باغ دکھا کر دبئی لایا جاتا ہے اور غلاظت اور استحصال کے مستقل چنگل میں رکھا جاتا ہے۔

سورج ڈوب رہا ہے اور ڈوبتے سورج کی کرنیں ہندوستانی مزدوروں کے جسموں پہ ٹیڑھی ترچھی لکیریں بنا رہی ہیں۔ دو مزدور نہا رہے ہیں، وہ مزدور کیمپ کے بیت الخلا کے قریب ٹب سے پانی نکال کر اپنے اوپر انڈیل رہے ہیں۔ دوسرے مزدور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک آدمی ایک بالٹی میں اپنے پائوں ڈالے کھڑا ہے۔ گرمی سے دم گھٹا جاتا ہے اور ریتیلی ہوا ہمارے چہروں پہ تھپیڑے مار رہی ہے۔

سکھائے جانے والوں کپڑوں سے ٹپکتی پانی کی بوندیں گرمیوں کی خوش آئند بارش کے طور پہ گر رہی ہیں۔ ریگستان کے بیچوں بیچ ہمارے چاروں طرف دور تلک مزدور کیمپوں کا ایک شہرآباد ہے۔ ایک ایسا شہر جوسیمنٹ کے بلاکوں، لوہے کی چادروں،پنجرے کی جالی، خاردار تاروں، رنگ کے خالی ڈبوں، پرانی زنگ آلود مشینری اور تھکے افسرہ چہرہ ہزاروں مزدوروں سے مل کر بنا ہے۔ میں دبئی شہر کے اونچے برجوں، مصنوعی جزیروں، اور عظیم الجثہ مراکز خریداری سے نکل کر ریگستان سے گزرتا ابوظہبی کے مضافات میں پہنچ گیا ہوں۔ زاہا حدید پل سے پہلے دائیں طرف مڑ جائیں تو چند سو میٹر کا فاصلہ طے کرنے پہ آپ مصفح نامی علاقے میں پہنچ جائیں گے۔ یہ آبادی سیاحوں کی نظروں سے چھپی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ خلیج فارس میں موجود ایسی بہت سی آبادیوں میں سے ایک ہے جہاں مزدوروں کی ان فوجوں کو رکھا جاتا ہے جو اس علاقے میں ایک کے بعد ایک خوب صورت عمارتیں تعمیر کر رہی ہیں۔

غسلخانے سے پرے، آہنی چادروں سے پٹے ایک صحن میں مزدور اپنے لیے کھانا تیار کر رہے ہیں۔ پسینے کی لڑیاں مستقل ان کے ماتھے اور گردن سے لڑھک رہی ہیں، پسینے سے بھیگی ان کی قمیضیں ان کی پیٹھوں سے چپکی ہوئی ہیں۔ فضا پسینے اور مصالحوں کی بھاری بو سے شرابور ہے۔

غلاظت کے ایک ڈھیر کے پاس ایک آدمی اپنا کھانا لیے کھڑا ہے: چند مرچیں، ایک پیاز اور تین ٹماٹر، جو مصالحوں کے ساتھ تلے جائیں گے اور روٹی کے ساتھ کھائے جائیں گے۔ قریب ہی ایک دوسرے کیمپ میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی مزدور ہیں جو چائے پی رہے ہیں، ان کا ایک ساتھی کھانا تیار کر رہا ہے۔ ایک ایسے کمرے کے وسط میں جہاں دس لوگ سوتے ہیں ایک آدمی گندی تہ بند پہنا زمین پہ بیٹھا ہے اور خلا میں گھورتے ہوئے ہاون دستے کی مدد سے پیاز اور لہسن پیس رہا ہے۔

کابل کے مضافات میں موجود میدان نامی گائوں سے تعلق رکھنے والا حمیداللہ نامی ایک منحنی شخص مجھے بتاتا ہے: "میں نے ایران میں پانچ سال گزارے اور ایک سال سے یہاں ہوں۔ مگر یہ ایک سال دس سال جتنا لگتا ہے۔ جب میں نے افغانستان چھوڑا تھا تو میرا خیال تھا کہ میں چند ماہ میں واپس پلٹ جائوں گا مگر اب مجھے کچھ نہیں پتہ کہ واپسی کب ہوگی۔"
برابر والے بستر پہ موجود ایک شخص بات آگے بڑھاتا ہے: "اس نے کل گھر فون کیا تھا۔ اس کو بتایا گیا کہ لڑائی میں اس کے گائوں کے تین لوگ مارے گئے۔یہ وجہ ہے ہم لوگوں کے یہاں رہنے کی۔"
حمیداللہ عمارت سازی میں ساڑھے چارسو درہم [ تقریبا ایک سو دس امریکی ڈالر] فی ماہ بناتا ہے۔

زندگی کیسی ہے؟ میں اس سے پوچھتا ہوں۔
وہ جواب دیتا ہے: "کیسی زندگی؟ یہاں ہماری کوئی زندگی نہیں ہے۔ ہم تو قیدی ہیں۔ صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں، کام پہ سات بجے پہنچتے ہیں اور پھر کیمپ پہ واپسی رات کے نو بجے ہوتی ہے۔ ہر دن کا یہی معمول ہے۔"
باہر صحن میں ایک شخص ایک ٹوٹے آئینے کے سامنے رد لکڑی سے بنائی کرسی پہ بیٹھا ہے۔ اس کے گلے سے پلاسٹک کی ایک چادر لٹک رہی ہے، کیمپ کا نائی اس کے گھنی داڑھی تراش رہا ہے۔ افلاس کے ماحول کے باوجود آج جشن کی رات ہے۔ ایک مزدور پاکستان میں دو ہفتے کی چھٹی گزار کر آیا ہے۔ وہ پاکستان سے اپنے ساتھ چاولوں کی ایک بوری لایا ہے۔ آج گوشت کا پلائو بنایا جا رہا ہے۔ چاول کھانے کی استطاعت اختتام ہفتہ پہ ہی ہوتی ہے: معمولی تنخواہیں، ایک کمزور ڈالر اور اشیائے خوردونوش کی گرانی سے اور بھی پٹی ہوئی ہیں۔
"اب زندگی اورخراب ہو گئی ہے۔ پہلے ایک مہینہ ایک سو چالیس درہم [ تقریبا چالیس ڈالر] میں، گزر جاتا تھا۔ اب تین سو بیس سے ساڑھے تین سو درہم تک چاہیے ہوتے ہیں۔"

درجن سے اوپر مزدور ایسے اخباروں کے اوپر بیٹھے ہیں جن میں پرتعیش گھڑیوں، موبائل فونوں، اور اونچے برجوں کے اشتہارات ہیں۔ پلاسٹک کی تین ٹرے آتی ہیں، ان میں زرد چاول اور گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں۔ مزدور کم مقدار گوشت مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔

یہ سارے لوگ اس بڑے فراڈ کا حصہ ہیں جس سے خلیج الفارس کی عظیم الشان تعمیر کا کام ہو رہا ہے۔ اپنے جیسے لاکھوں مزدوروں کی طرح ان لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان میں ایجنٹوں کو سترہ سو ڈالر کے لگ بھک ادا کیے ہیں۔ ان لوگوں کو ان کی موجودہ تنخواہوں سے دگنی تنخواہوں کے علاوہ چھٹیوں میں جہاز کے ٹکٹ کا لالچ دیا گیا تھا، مگر کمرے میں موجود کسی شخص نے بھی دستخط کرنے سے پہلے معاہدے کونہ پڑھا تھا۔ ان میں سے صرف دو خواندہ ہیں۔
لمبی داڑھی والا ایک شخص کہتا ہے: "انہوں نے ہم سے جھوٹ بولا۔ وہ جھوٹ بول کر ہمیں یہاں لائے ہیں۔ ہم سے کئی لوگوں نے اپنی زمینیں بیچیں۔ دوسروں نے یہاں آنے کے لیے قرضہ لے کر ایجنٹ کو رقم دی۔"

عرب امارات میں پہنچنے پہ ان مزدوروں سے بھیڑ بکریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ نہ انہیں طبی سہولیات دی جاتی ہیں اور نہ ہی ان کے دوسرے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہیں یہاں لانے والی کمپنی ان کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھتی ہے، اور اس بات کا یقین رکھنے کے لیے کہ مزدور یہاں سے بھاگ نہ جائیں، اکثر ان کی ایک دو ماہ کی تنخواہیں بھی اپنے پاس دبا کر رکھتی ہے۔ اور اس سب کے بعد ان میں سے کئی صرف چارسو درہم [تقریبا ایک سو دس ڈالر] ماہانہ بناتے ہیں۔

مزدوروں کا ایک گروہ بغیر کسی جھجک کے مجھے بتاتا ہے کہ اگر کوئی مزدور بیمار پڑ جائے تو چند دن کے بعد اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ "مزدور سب سے سستا ہے۔ لوہا، گارا، ہر شے کے دام بڑھے ہیں، مگر مزدور وہیں کھڑا ہے۔"
کھانے کے دوران مزدور باتیں کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے:
"کہنے کو تو میری شفٹ آٹھ گھنٹے کی ہے اور دو گھنٹے اوور ٹائم کے، مگر درحقیقت میں اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہوں۔ سپروائزر ہم سے جانوروں کا سا سلوک کرتا ہے۔ نہ جانے کمپنی کے مالکان کو یہ بات معلوم ہے یا نہیں۔"

ایک دوسرا مزدور کہتا ہے:
"یہاں جنگ نہیں ہو رہی اور پولیس ہم سے ٹھیک برتائو کرتی ہی۔ لیکن تنخواہ اچھی نہیں ہے۔"
باورچی کی خدمات انجام دینے والا شخص احمد ایک جاندار نوجوان کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے، "یہ آدمی چار سال سے گھر نہیں گیا ہے۔ اس کے پاس جہاز کے کرائے کے لیے رقم نہیں ہے۔"

لوہے کا کام کرنے والا ایک شخص کہتا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے واپسی کے ٹکٹ کا ذمہ دار کون ہے۔ بھرتی کرنے والی ایجنسی نے اسے بتایا تھا کہ کنسٹرکشن کمپنی اس کے لیے جہاز کا کرایہ دے گی لیکن اسے لکھت میں ایسی کوئی چیز نہیں ملی۔ ایک تجربہ کار آدمی جو چشمہ لگائے ہوئے ہے اور سر پہ گول ٹوپی پہنے ہے مجھے بتاتا ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔ پانچ سال پہلے جب وہ یہاں آیا تھا تو کمپنی کی طرف سے اسے کچھ نہیں ملا تھا۔ "اب وہ ہر مزدور کو ایک بستر دیتے ہیں اور کمرے میں اے سی بھی لگا ہے۔"

گو کہ مزدوروں کو یونین بنانے کا حق نہیں ہے مگر حال میں اس پورے علاقے میں ہڑتالیں بھی ہوئیں اور ہنگامہ آرائی بھی؛جس کا کہ چند سال پہلے تک تصور محال تھا۔ مصفح میں ایک اور جگہ مجھے ایک غیر قانونی یونین سے سابقہ پڑتا ہے۔ یہاں مزدوروں نے وطن کے قبائلی خدود پہ تشکیل شدہ ایک زمین دوز انشورینس پروگرام بنایا ہے۔ اس پروگرام کا ایک شریک مجھے بتاتا ہے، "یہاں آنے سے پہلے ہم لوگ اپنے قبائلی بزرگوں کے پاس نام لکھواتے ہیں۔ پھر اگر ہم میں سے کوئی زخمی ہوتا ہے اور گھر بھیجا جاتا ہے، یا مر جاتا ہے، تو بزرگ باقی لوگوں سے تیس درہم فی کس جمع کرتے ہیں اور یہ رقم متعلقہ شخص کے گھر والوں کو دی جاتی ہے۔"

ایک طور سے مصفح میں موجود مزدور خوش قسمت ہیں۔ پرانی دبئی کے ڈیرا نامی علاقے میں، جہاں شہر کے بہت سے غیر قانونی طور پہ مقیم مزدور رہتے ہیں، ہر کمرے میں بیس کے قریب لوگ بھرے ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا تخمینہ ہے کہ امارات میں تین لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پہ مقیم مزدور ہیں۔

ایک اور گرم شام کے وقت، کام ختم ہونے پہ سینکڑوں لوگ گلیوں میں جمع ہیں، وہ چائے پی رہے ہیں اور ٹوٹی کرسیوں پہ بیٹھے ہیں۔ ایک شخص کوڑے کے ایک بڑے ڈھیر کے قریب اپنے چھکڑے کے ہینڈل سے پیٹھ ٹکایا بیٹھا کھانا کھا رہا ہے۔ ایک گھر میں ایک مزدور باورچی خانے کے سنک کے اوپر اپنے دھلے کپڑے ٹانگ رہا ہے، ایک قریبی بیت الخلا سے بدبو کے بھبکے اڑ رہے ہیں۔ اس سے اگلے گھر میں مزدور زمین پہ لیٹے ہیں۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پہ مقیم ہیں۔ وہ خوف زدہ ہیں اور مجھے وہاں سے چلے جانے کو کہتے ہیں۔ باہر پاکستانی اور سری لنکن مزدوروں کے درمیان ہاتھا پائی ہو جاتی ہے۔

ان گلیوں میں جا بجا ایسے کارخانے ہیں جہاں ہندوستانی مزدور رات گئے تک کام کرتے ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی میزوں پہ جھکے ہار بنا رہے ہوتے ہیں۔ چند میل دور یہ غلام منڈی اور بھی گھنائونا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ سنگ مرمر اور شیشے سے سجے ایک چمکدار ہوٹل کے باہر درجنوں طوائفیں نسلی گروہوں میں بٹی کھڑی ہیں: سیدھے ہاتھ پہ ایشیائی، ان کے بعد افریقی، اور الٹے ہاتھ پہ، ماضی کے سوویت یونین سے آنے والی سفید فام عورتیں۔ وہیں کچھ عرب عورتیں بھی ہیں۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ ایرانی خواتین کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ ایرانی خواتین کا نرخ سب سے اونچا ہے اور ایرانی طوائفیں مہنگے ترین ہوٹلوں میں پائی جاتی ہیں۔

خلیج فارس کے دوسرے علاقوں کی طرح دبئی اور ابوظہبی بھی تارکین وطن مزدوروں کی محنت سے چمک دمک حاصل کررہے ہیں۔ یہ تارکین وطن پرانے وقتوں سے میل کھانے والے طریقے کے حساب سے ایک دوسرے سے جدا رہتے ہیں۔ سب سے اوپر مقامی لوگ ہیں، جن کے پاس تیل کا پیسہ ہے اور جو اپنے سفید یا سیاہ عبایوں میں آتے جاتے نظر آتے ہیں۔ پرتعیش زندگی جینے والے ان لوگوں کے پاس سب کچھ ہے۔ مگر فری زون کے باہر اماراتی شریک کے بغیر کاروبار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا شریک اکثر صورتوں میں کاروبار کو صرف اپنا نام دیتا ہے۔ مقامی کفیل کے بغیر کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مقامی لوگوں سے نیچے مغربی دنیا کے لوگ ہیں جو ماہرین کے فرائض انجام دیتے ہیں اور اپنے ملک کے مقابلے میں یہاں دگنی سے زائد تنخواہیں، بلا ٹیکس، حاصل کرتے ہیں۔ ان سے نیچے دوسرے عرب ہیں، لبنانی، فلسطینی، مصری، اور شامی۔ نسل پرستی اور جھوٹی شان اس گروہ کو یکجا رکھنے میں معاونت کرتی ہے۔

"آپ یہاں آئیں تو آپ کے ساتھ ناقابل یقین چیزیں ہوتی ہیں،" ایک لبنانی عورت جو اکثر دبئی آتی ہے نئی سیاہ ایس یو وی چلاتے ہوئے مجھے بتاتی ہے، "اچانک آپ فی ماہ پانچ ہزار ڈالر بنانے لگتے ہیں۔ آپ کو آسانی سے قرضہ مل جاتا ہے اور آپ اپنے خوابوں کو پا سکتے ہیں۔ آپ کھل کر خریداری کرتے ہیں۔ اور بھوک لگے تو آپ سیدھے ہوٹل جاتے ہیں۔ کسی اور جگہ آپ اس طرح کی زندگی نہیں جی سکتے۔"

اس اہرام مزدوری میں سب سے نیچے ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، حبشہ، فلیپین، اور پرے کے مزدور، بیرے، ہوٹل کے ملازمین اور بے ہنر محنت کش ہیں۔ یہ لوگ وسیع مراکز خریداری، ہوٹلوں اور ریستورانوں سے ڈرے سہمے گزرتے ہیں اور دوسروں کو "سر" اور "میڈم" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ گرم ترین دنوں میں بیچ دوپہر آپ ان کو پارکوں میں درختوں کے نیچے سوتا پائیں گے، یا انہیں دبئی مسجد کے سنگ مرمر فرش پہ یا پتلی گلیوں میں بنچوں یا کارڈبورڈ کے ٹکڑوں پہ بیٹھا دیکھیں گے۔ یہ لوگ اس نسل پرستی کا شکار ہیں جو نہ صرف امارات میں پھل پھول رہی ہے بلکہ تیزی سے باقی مشرق وسطی میں برآمد کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر پچھلی صدی کی تیسری دہائی کا جنوبی ریاست ہائے متحدہ امریکہ یاد آتا ہے۔

ابوظہبی میں ایک شام مجھے عراق سے تعلق رکھنے والے علی نامی ایک انجینئیر کے ساتھ کھانا کھانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ علی سے میری دوستی کئی دہائیوں پہ مشتمل ہے۔ کھانے کے بعد کہ جب اس کی بیوی زعفران کی خوشبو والی چائے پیش کرتی ہے، علی کرسی پیچھے کھسکا کر ایک سگار سلگا لیتا ہے۔ ہم اسٹاک مارکیٹ، مشرق وسطی میں سرمایہ کاری وغیرہ کے بارے میں بات کرتے نسل پرستی کے موضوع تک پہنچتے ہیں۔
"اگر میٹرو میں نسلی گروہوں کو جدا نہ رکھا گیا تو ہم اس میں کبھی سفر نہیں کریں گے۔" علی اس کثیرالمالیاتی زیر زمین منصوبے کی بات کر رہا ہے جو دبئی میں مکمل کیا جارہا ہے۔
علی کی بیوی بات مکمل کرتی ہے: "ہم کبھی ان بدبودار ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے برابر میں نہیں بیٹھیں گے۔"

یہ بات مجھے بارہا بتائی گئی ہے کہ گو کہ تارکین وطن مزدور یہاں نہایت خراب حالات میں رہ رہے ہیں مگر ان کی یہ حالت ان کے وطن میں ان کی حالت سے پھر بھی بہتر ہے؛ یوں جیسے کہ ایک جگہ کی غربت دوسری جگہ کے استحصال کو صحیح ثابت کرتی ہو۔
میرا دوست مجھ سے کہتا ہے: "ہمیں غلاموں کی ضرورت ہے۔ ہمیں عظیم الشان عمارتیں بنانے کے لیے غلام چاہئیں۔ اہرام مصر بھی تو غلاموں نے بنائے تھے۔"

خواتین کے لیے مدینہ امید نامی ادارہ چلانے والی انسانی حقوق کی علمبردار شارلا مصابیح سوچ کی اس کڑی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ، "ایک دفعہ آپ کو غریبوں کی محنت سے امیر ہونے کا لطف آجائے تو اس انداز زندگی کو چھوڑنا آسان نہیں ہے۔ یہ لوگ انسان کی حیثیت گرا رہے ہیں۔ ممکن ہے تارکین وطن مزدور اپنے گھر میں صرف ایک وقت کا کھانا کھانے کی استطاعت رکھتے ہوں مگر ان کے اطراف ان کے چاہنے والے تو ہوتے ہیں۔ وہاں ان کی عزت تو ہے۔ یہ لوگ کسی ہوٹل میں کمرہ نہیں مانگ رہے۔ یہ صرف اتنا تقاضہ کر رہے ہیں کہ انہیں انسان سمجھا جائے۔"

ایک اور دن کے اختتام پہ دبئی مرینا کے قریب ایک بہترین ساحل پہ سمندرکی موجیں خوب صورت ریت پہ اپنا سر پٹک رہی ہیں۔ چند لوگ نیلے سمندر کے اوپر پیرا گلائڈنگ کر رہے ہیں۔ نوساز جزیروں پہ دیوقامت عمارتیں خلائی جہازوں کی مانند کھڑی ہیں۔ مغربی سیاح ریت پہ آرام سے لیٹے ہیں۔ کچھ فاصلے پہ موجود ریت کے ایک ٹیلے سے فلیپینو، ہندوستانی اور پاکستانی مزدور یوں خاموشی سے کھڑے یہ نظارہ کررہے ہیں کہ جیسے ان کے اور رنگ رلیاں منانے والوں کے درمیان ایک نادیدہ دیوار ہو۔ ان کے پیچھے چند اور نئے برج کھڑے ہو رہے ہیں۔
آئی ٹی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان عرب مجھے بتاتا ہے: "یہ کھلا کھاتہ ذہنیت ہے۔ یہاں لوگ پیسہ بنانے آتے ہیں۔ وہ مخصوص دائروں میں رہتے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنا کر یہاں سے روانہ ہونا چاہتے ہیں۔"

مصفح میں ایک پاکستانی مزدور مجھے اپنے محلے کی سیر کراتا ہے۔ دھول اڑاتی اس گلی کے دونوں طرف محنت کشوں کے بیرک اور آشنہ مفلوک الحالی ہے: گٹر کا پانی، کوڑے کے ڈھیر، اور ردی دھات۔ ایک آدمی اپنی گاڑی دھو رہا ہے اور ایک پنجرے میں مرغیاں پھڑپھڑا رہی ہیں۔
ہم ایک کمرے میں داخل ہوتے ہیں، دروازے کے ساتھ چپلوں کا ایک ڈھیر ہے۔ اندر ایک مزدور کاغذات کا ایک پلندہ میری طرف بڑھا دیتا ہے۔ وہ اپنی کمپنی پہ تنخواہ کی غیر ادائیگی کا مقدمہ کر رہا ہے۔
"میں تین ماہ سے عدالت کے چکر لگا رہا ہوں۔ ہر دفعہ مجھ سے کہا جاتا ہے کہ میں دو ہفتے کے بعد آئوں۔"
اس کے ساتھی تائید میں اپنے سر ہلاتے ہیں۔
"پچھلی بار کمپنی کے وکیل نے مجھ سے کہا تھا کہ کمپنی ہی قانون ہے اور مجھے ایک دھیلا نہیں ملے گا۔"

مصابیح کا کہنا ہے کہ، "بظاہر پچھلے دس سالوں میں دبئی نے غیر معمولی ترقی کی ہے مگر عمرانی طور پہ یہ بہت پیچھے ہے۔ یہاں مزدور کی حالت بیسویں صدی میں امریکہ کے مزدور سے مختلف نہیں ہے، لیکن اکیسویں صدی میں یہ صورتحال قطعی ناقابل قبول ہے۔"

اصل مضمون:
http://www.guardian.co.uk/world/2008/oct/08/middleeast.construction


تصویر بشکریہ
http://tagpuan.com

Labels: , , , ,


Monday, September 29, 2008

 

آپ کتنی پیاری ہیں



اس وقت تک تقریبا پورا پاکستان یہ ویڈیو دیکھ چکا ہے۔



اگر ہماری سیاسی قیادت اسی قسم کی حرکتیں کرتی رہی تو جلد امریکہ یہ پابندی لگا دے گا کہ پاکستانی رہنما کسی خاتون امریکی سیاستداں سے ملنے سے پہلے سفارتی آداب کا ایک کورس مکمل کریں۔

Labels:


Thursday, August 28, 2008

 

تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے






فراز اس دنیا سے گزر گئے۔
اب صرف فراز کی یادیں ہیں۔
ایک یاد مہران ریستوراں، نو ارک سے متعلق ہے۔ فراز کے ساتھ ایک شام منائی جا رہی ہے۔ سال غالبا 2003 ہے۔ فراز اسٹیج پہ ہیں اور لوگوں کی فرمائش پہ اپنی چنیدہ شاعری سنا رہے ہیں۔ کچھ کچھ دیر کے بعد وہ اپنی شاعری بھول جاتے ہیں۔ مگر مدد موجود ہے۔ سامعین میں سے کئی ہیں جنہیں فراز کی شاعری حفظ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فراز کی شاعری کے ساتھ شعور کی منازل طے کی ہیں۔ جن لطیف احساسات کو، جن جذبات کو یہ لوگ کبھی الفاظ میں نہ ڈھال پائے تھے، فراز نے ان احساسات ان جذبات کو بہترین الفاظ کا لبادہ اوڑھا کر اس خوبصورتی کو دینا کے حوالے کیا ہے۔

پھر ایک اور یاد ہے ایک نجی محفل کی۔ یہ جون 2007 کی بات ہے۔ عینی اختر کا گھر ہے۔ عینی اختر کی دعوت پہ اس علاقے کے کئی سخن ور فراز سے ملنے پہنچے ہیں۔ رات کا کھانا ہو چکا ہے۔ فراز کے ایک ہاتھ میں گلاس ہے اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ۔ پاکستان کی سیاست پہ باتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں وکلا کی تحریک چل رہی ہے۔ فراز پاکستان کے مستقبل کے متعلق تشویش میں ہیں، وہ سیاست میں فوج کی مداخلت پہ نالاں ہیں اور کور کمانڈروں کو چور کمانڈر کہتے ہیں۔

پھر فراز سے متعلق آخری یاد یہ ہے کہ عینی اختر کے ساتھ ایک ملاقات میں منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ کس طرح فراز کی جون یا جولائی ميں کیلی فورنیا آمد پہ ایک سی ڈی کا اجرا کیاجائے گا۔
پھر کچھ ہی عرصے میں یہ خبر ہے کہ فراز شکاگو میں ہیں اور موت و زیست کی کشمکش میں ہیں۔
اور پھر کچھ دنوں کے بعد خبر ہے کہ انہیں پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔

اور پھر اگست 26 کے اخبار کی خبر ہے۔ ساتھ ایک تصویر ہے۔ ایک جنازہ رکھا ہے۔ لوگ نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہیں۔

فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے

Labels: , , ,


Saturday, August 09, 2008

 

اردشیر کاوس جی کا سچ



اس مختصر فلم میں پاکستان کے ممتاز صحافی، آردیشیر کاوس جی، کی کھری کھری باتیں سنیے۔ زیادہ دورانیے کی یہی فلم اسی نام سے گوگل ویڈیو پہ موجود ہے۔
[اردو میں کاوس جی صاحب کی نام کے دوسرے رائج تلفظات اردشیر کاوس جی، اردیشر کاوسجی اور اردشیر کاوسجی ہیں۔]
سمندطور

Labels: , , , , , , , , , , , , , ,


Monday, August 04, 2008

 





عافیہ صدیقی

امریکہ کی ایف بی آئی کا الزام ہے کہ باسٹن کی رھائشی پاکستانی نڎاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی القاعدہ کی اہم رکن ہیں۔ عافیہ صدیقی امریکی شہری ہیں اور مشہور امریکی درس گاہ ایم آئی ٹی سے پڑھی ہوئی ہیں۔ وہ تین بچوں کی ماں ہیں۔ امریکی شہری ہونے کے ناتے عافیہ صدیقی کو بغیر کسی ثبوت کے امریکہ میں گرفتار کرنا محال تھا چنانچہ عافیہ صدیقی پہ اس وقت وار کیا گیا جب وہ اپنے خاندان والوں سے ملنے پاکستان گئی تھیں۔ وہ سارے غیر قانونی ہتھکنڈے جو امریکہ میں انسانی حقوق تنظیموں کے خوف سے نہیں اپنائے جا سکتے اس ملک سے باہر اپنی حلیف حکومتوں کے ذریعے دھڑلے سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کی کسی خفیہ ایجینسی نے مارچ ۲۰۰۳ میں عافیہ صدیقی کو اپنے والدین کے گھر سے کراچی ائیرپورٹ جاتے ہوئے --یا ہوائے اڈے پہ-- اغوا کر لیا۔ اس وقت عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ تھیں جن کی عمریں نو سال سے چھ ماہ تک تھیں۔ پانچ سال سے زائد کا عرصہ عافیہ صدیقی کے گھر والوں کے لیے عافیہ اور ان کے تین معصوم بچوں کے بارے میں غیر یقینی اور شدید ذہنی اذیت کی کیفیت میں گزرا ہے۔ گو کہ بہت سی واضح نشانیوں کی وجہ سے عافیہ صدیقی کے گھر والوں اور دوسرے لوگوں کو شک تھا کہ عافیہ صدیقی یا تو کسی پاکستانی جیل میں ہیں، یا گوانتاناموبے میں یا دنیا کے کسی اور مقام پہ کسی خفیہ امریکی جیل میں، مگر پچھلے پانچ سالوں میں پاکستانی اور امریکی ادارے مستقل یہ جھوٹ بولتے رہے کہ انہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔ پچھلے ماہ برطانوی صحافی اوان رڈلی نے بیان دیا کہ عافیہ صدیقی افغانستان میں بگرام ہوائی اڈے کی حدود میں موجود امریکی جیل کے اندر ہیں، اور یہ کہ وہ پاگل ہو چکی ہیں اور ان کی مستقل دلدوز چیخیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔ رڈلی کے اس بیان نے پاکستان میں اور پاکستان کے باہر تہلکہ مچا دیا اور دو دن قبل ایف بی آئی نے بالاخر اعتراف کیا کہ عافیہ صدیقی ادارے کی حراست میں ہیں۔
ہم انسانی حقوق کے تمام علم برداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عافیہ صدیقی کی غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر عافیہ صدیقی پہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو ان ثبوتوں کو کھلی عدالت ميں پیش کیا جائے اور عافیہ صدیقی کو اپنے دفاع کی اجازت دی جائے۔

تازہ بہ تازہ: ایف بی آئی نے ابھی ابھی اپنی ویب سائٹ پہ پریس ریلیز لگائی ہے کہ عافیہ صدیقی کو نیویارک لایا گیا ہے اور کل یعنی اگست پانچ کو وہ نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ حکومتی پریس ریلیز یہاں ملاحظہ فرمائیں:
http://www.usdoj.gov/opa/pr/2008/August/08-nsd-687.html

Labels: , , , , ,


Friday, August 01, 2008

 

نیر زیدی کہاں ہیں؟



نیر زیدی کہاں ہیں؟


کئی دنوں سے معروف صحافی نیر زیدی صاحب کے متعلق عجیب و غریب خبریں اخبارات اور مختلف ویب سائٹ پہ گردش میں تھیں۔ نیر زیدی صاحب جب جنوری میں سان فرانسسکو بے ایریا آئے تھے تو ان سے ملاقات رہی تھی اور اس ذاتی راہ و رسم کی وجہ سے مجھے زیدی صاحب کی خیریت سے متعلق فکر تھی۔
چنانچہ آج صبح میں نے ادھر ادھر فون گھمائے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی نیر زیدی صاحب اس وقت کہاں ہیں۔
میں فون پہ نیر زیدی صاحب ..جن کا اصل نام سید حیدر کرار زیدی ہے، قلمی نام نیر زیدی ہے.. کا پتہ کرتے کرتے اسٹارک کائونٹی شیرف جیل کے دفتر تک پہنچا۔ اس دفتر میں میری بات فون پہ پیریز نامی افسر سے ہوئی۔ میری درخواست پہ افسر پیریز نے سید زیدی کے نام سے ریکارڈ کھنگالے اور بتایا کہ زیدی صاحب مارچ 23 کو گرفتار ہوئے تھے اور مارچ 26 کو رہا کر دیے گئے۔ افسر پیریز نے بتایا کہ ہر گرفتار ہونے والے شخص کا ریکارڈ اسٹارک کائونٹی کی ویب سائٹ پہ دیکھا جا سکتا ہے:
www.starkcjis.org
اور اس مخصوص کیس کا نمبر
2008CRA00614
ہے اور کیس کی تفصیلات یہاں ہیں:
https://www.starkcountycjis.org/cjis/list_index_frame
میسیلن عدالت اور فوجداری مقدمہ منتخب کریں-
چنانچہ حتمی بات یہ ہے کہ ہاں زیدی صاحب مارچ میں گرفتار ہوئے تھے، مگر وہ تین دن کے بعد ہی چھوٹ گئے۔ وہ اس وقت کہاں ہیں، اس بات کا جواب ان کے گھر والے ہی دے سکتے ہیں۔




The latest on Nayyar Zaidi’s detention

Ohio’s Stark County Sheriff Department says Syed Haider Karar Zaidi (who writes under the penname of Nayyar Zaidi) was arrested on March 23, 2008, but was released on March 26, 2008. Information on Zaidi’s case (Case number: 2008CRA00614) can be obtained from Stark Country Sheriff Department’s web site:
https://www.starkcountycjis.org/cjis2/docket/main.html
[Check ‘criminal’ records under ‘Massillon’ court.]
This correspondent talked to Officer Perez of the Stark Country Sheriff Department who said Zaidi was charged with “pandering obscenity involving a minor.”
So why are some news reports claiming Nayyar Zaidi is still being detained?

Labels: , , ,


Saturday, July 12, 2008

 

اپنے کمپیوٹر پہ اردو میں کیسے ٹائپ کریں



اگر آپ کے کمپیوٹر پہ ونڈوز ایکس پی Windows XP نصب ہے تو آپ اپنے کمپیوٹر کو اردو میں ٹائپ کرنے کے لیے سیٹ کر سکتے ہیں۔ بہت سے اردو لکھنے والے اب تک ان پیج InPage نامی سافٹ وئیر استعمال کر رہے ہیں مگر ان پیج میں ٹائپ کیا جانے والا متن براہ راست ویب پہ نہیں چڑھایا جا سکتا جب کہ یونی کوڈ Unicode والا متن یوں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اب ان پیج کا چل چلائو ہے اور لوگ یونی کوڈ میں اردو لکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ونڈوز ایکس پی دنیا کی سینکڑوں زبانوں کے فونٹ کے ساتھ آتا ہے۔ مگر کیونکہ بیشتر لوگ کمپیوٹر پہ انگریزی ہی استعمال کرتے ہیں اس لیے دوسری زبانوں کی فائلیں پہلے سے طے شدہ نہیں آتیں بلکہ ان کی بابت کمپیوٹر کو تیار کرنا پڑتا ہے۔
اگر آپ کے پاس ایسا کمپیوٹر ہے جس پہ ونڈوز ایکس پی نصب ہے تو آپ اس کمپیوٹر کو اردو ٹائپ کرنے کے لیے یوں تیار کریں۔

پہلا مرحلہ:
پہلے مرحلے میں آپ اپنے کمپیوٹر پہ اردو سے متعلق فائلیں نصب کریں گے۔
اسٹارٹ پہ جائیں اور کنٹرول پینل پہ جائیں۔
یہاں Date, Time, Language and Regional Options نامی شبیہ پہ کلک کریں۔


اس شبیہ کو کلک کرنے پہ آپ درج ذیل دریچے پہ پہنچیں گے۔ یہاں Regional and Language Options نامی شبیہ پہ کلک کریں۔




اب آپ درج ذیل دریچے پہ پہنچیں جہاں Languages نامی جدول کے نیچے درج ذیل متن نظر آئے گا۔




اگر آپ کے کمپیوٹر پہ انگریزی کے علاوہ دوسری زبانیں نصب نہیں ہیں تو دونوں پڑتال خانے {چیک باکس}، یعنی
Install files for complex script and right-to-left languages including Thai
اور
Install files for East Asian Languages
بے پڑتال {ان چیک} ہوں گے۔
اردو کی تنصیب کے لیے آپ اول پڑتال خانہ چیک کریں گے۔ واضح رہے کہ اس خاکے میں وہ پڑتال خانہ اور ملحقہ متن سرمئی اس لیے نظر آرہا ہے کیونکہ میرے کمپیوٹر پہ اردو پہلے ہی نصب ہے۔
اگر اردو {اور فارسی، عربی، عبرانی} کے ساتھ آپ چینی، جاپانی اور دوسری مشرق بعید کی زبانیں بھی نصب کرنا چاہیں تو دوسرا پڑتال خانہ بھی چیک کردیں۔

چیکس باکس پہ کاڑی لگانے کے بعد Apply پہ کلک کریں اور پھر OK پہ کلک کردیں۔
اگر ونڈوز ایکس پی پورا کا پورا آپ کے کمپیوٹر پہ موجود ہے تو اردو کی فائلیں خود بخود متحرک ہو جائیں گی ۔ اگر ایسا نہیں ہے گویا ونڈوز ایکس پی نصب کرتے ہوئے آپ نے صرف مخصوص فائلیں ہی اپنے کمپیوٹر پہ نصب کی تھیں تو آپ کا کمپیوٹر آپ سے تقاضہ کرے گا کہ آپ ونڈوز ایکس پی کی ڈسک پھر سے کمپیوٹر میں ڈالیں تاکہ کمپیوٹروہاں سے اردو والی فائلیں اٹھا سکے اور انہیں نصب کر سکے۔

دوسرا مرحلہ:
موجود زبانوں میں اردو کا چنائو۔
پہلے مرحلے میں آپ نے کمپیوٹر کو اردو سمیت بہت سی زبانوں کے لیے تیار کر دیا۔ اب دوسرے مرحلے میں آپ کمپیوٹر کو بتائں گے کہ آپ ان بہت سی زبانوں میں سے اردو کا چنائو کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں دی گئی ہدایات کے تحت درج ذیل دریچے تک پہنچیں۔



یہاں Details نامی بٹن پہ کلک کریں۔ آپ یہاں پہنچیں گے۔



اس خاکے میں بائیں طرف انگریزی کے علاوہ اردو اس لیے نظر آ رہی ہے کیونکہ میں پہلے ہی اردو کا چنائو کر چکا ہوں مگر اگر آپ پہلی بار ایسا کر رہے ہیں تو بائیں طرف صرف English نظر آئے گا۔ اردو کے چنائو کے لیے Add نامی بٹن دبائیں۔
آپ یہاں پہنچیں گے۔



اور ڈراپ ڈائون مینیو کا تیر دبا کر آپ ان تمام زبانوں کا معائنہ کرپائیں گے جن کاچنائو آپ کر سکتے ہیں۔ یہاں سے اردو کا چنائو کریں۔



جب Input Language نامی خانے میں آپ اردو لے آئیں تو نیچے
Keyboard layout/IME
نامی پڑتال خانے کو چیک کردیں۔ اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ اس خانے میں آپ کو Phonetic Keyboard والا وہ متن نہیں نظر آرہا ہے جو اس خاکے میں نظر آ رہا ہے۔ یہ کمپیوٹر پہلے ہی تمام مراحل سے گزر چکا ہے اس لیے یہ مثالیں آپ کو نظر آنے والی شبیہات سے کچھ مختلف ہیں۔ آپ پرواہ نہ کریں اور آگے بڑھتے جائیں۔
پڑتال خانہ چیک کرنے کے بعد OK دبائیں۔

آپ واپس یہاں پہنچ جائیں گے۔



یہاں Apply پہ کلک کریں اور پھر OK کلک کریں۔

اب آپ اردو میں ٹائپ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک نئی Microsoft Word فائل کھولیں۔ کچھ بھی ٹائپ کریں۔ ٹائپ کرنے والے حروف انگریزی میں ہوں گے۔ اب Alt دبا کر Shift دبائیں۔ آپ غور کریں گے کہ کمپیوٹر میں بالکل نیچے ایک نشان EN کی جگہ UR کی جگہ لے لے گا۔ اب کچھ ٹائپ کریں۔ حروف اردو میں ٹائپ ہو رہے ہوں گے۔
اگر آپ اردو کا کلاسیکی کی بورڈ استعمال کر چکے ہیں تو یہاں تک کا معاملہ آپ کو اپنے کمپیوٹر پہ اردو میں رواں کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ مائکروسوفٹ کا اردو ڈیفالٹ کی بورڈ کلاسیکی ہے۔ {گویا آپ A دبائیں گے تو اردو حرف م ٹائپ ہوگا۔}
لیکن اگر آپ نئے زمانے کے اردو ٹائپ کرنے والے ہیں جس نے ان پیج کے ذریعے اردو میں ٹائپ کرنا سیکھا ہے تو آپ یقینا فونیٹک کی بورڈ کے عادی ہیں یعنی وہ کی بورڈ جس میں انگریزی حروف کی آوازوں کے مقابل اردو حروف ان ہی کلیدوں سے لکھے جاتے ہیں، یعنی A والی کلید سے اردو حرف الف، B والی کلید سے اردو حرف ب وغیرہ۔
اگر معاملہ یوں ہے تو آپ کو انٹرنیٹ سے تلاش کر کے ایک صوتی یعنی فونیٹک کی بورڈ نصب کرنا ہوگا۔

تیسرا مرحلہ:
فونیٹک کی بورڈ نصب کرنا
آپ انٹرنیٹ پہ Google کے ذریعے ایک اردو فونیٹک کی بورڈ تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی فائل ہے جس کو نصب کرنے سے آپ کا اردو کی بورڈ فونیٹک ہو جائے گا۔
مثال کے طور پہ آپ صوتی اردو کی بورڈ یہاں سے ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں۔
http://www.crulp.org/software/localization/keyboards/CRULPphonetickbv1.1.html
اس فائل کو ڈائون لوڈ کرکے اس کو دہرا کلک کرنے سے فونیٹک کی بورڈ آپ کے کمپیوٹر پہ نصب ہو جائے گا۔
اب مرحلہ ہے کمپیوٹر کو یہ بتانا کہ وہ مائکروسوفٹ کا ڈیفالٹ کی بورڈ نہ استعمال کرے بلکہ آپ کا حالیہ نصب شدہ صوتی کی بورڈ استعمال کرے۔
کمپیوٹرکو یہ بتانے کے لیے آپ پھر یہاں پہنچیں۔



یہاں Keyboard layout نامی پڑتال خانے میں ڈراپ ڈائون تیر کلک کریں اور نیچے فہرست سے فونیٹک کی بورڈ منتخب کریں۔ پھر OK کلک کرنے سے آپ واپس یہاں پہنچیں گے۔




اب بائیں طرف اردو کے نیچے دو کی بورڈ نظر آ رہے ہوں گے۔ ایک مائکروسوفٹ کا کلاسیکی اور دوسرا فونیٹک کی بورڈ جو آپ نے ابھی نصب کیا ہے اور منتخب کر لیا ہے۔ مائکروسوفٹ کا کی بورڈ منتخب کر کے اسے ہٹا دیں،Remove بٹن کے استعمال سے۔

پھر Apply پہ کلک کریں اور پھر OK کلک کریں۔

اب آپ باآسانی اردو میں ٹائپ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Labels: , , , , , , ,


Monday, June 16, 2008

 

صابر دہلوی اور میر حسن پہ ادبی محفل کا انعقاد





تاشی ظہیر صاحب سان فرانسسکو بے ایریا میں اردو اکیڈمی کے روح رواں ہے۔ اردو اکیڈمی ہر ماہ کے تیسرے اتوار ایک ادبی نشست منعقد کرتی ہے۔ جون کی ادبی نشست میں دو شعرا، صابر دہلوی اور میر حسن، کو یاد کیا گیا۔
درج ذیل مضمون اس محفل میں پڑھا گیا۔


گرد ،گدا، گرما، گورستان اور صابر دہلوی

میں نثر لکھتا ہوں اور میرے لیے شاعری سمجھنا دشوار ہوتا ہے مگر تاشی ظہیر صاحب کے کہنے پہ صابر دہلوی کے اوپر مضمون لکھنے بیٹھ گیا۔
قلم تھاما تو سب سے پہلے اپنے آپ سے سوال کیا کہ تم صابر دہلوی صاحب کے متعلق کیا جانتے ہو؟ جواب آیا، ککھ نہیں۔
آنکھوں کے سامنے تارے سے لرز گئے کہ اب تاشی ظہیر صاحب کو کیا منہہ دکھائوں گا۔
پھر ایک محفل تھی کہ جہاں ایلٹن جان آئے ہوئے تھے۔ اس محفل میں انگریزی گانوں کے بعد محفل کو اردو رنگ اوڑھنا تھا اور مجھے وہاں صابر دہلوی صاحب پہ مضمون پڑھنا تھا۔ میری تیاری بالکل نہیں تھی اس لیے میں پریشان تھا۔ پھر ساتھ ہی وہاں ایک ٹائم بم بھی تھا جس کا علم صرف مجھے تھا اور جسے اگلے ۳۶ سیکنڈ میں پھٹ جانا تھا۔ مجھے اس بم کو پھٹنے سے پہلے اسے پانی میں پھینکنا تھا۔ غرض کہ ایک ساتھ کئی پریشانیاں لاحق تھیں۔ اور میرے پسینے چھوٹ رہے تھے …کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے شکر ادا کیا کہ وہ سب کچھ خواب تھا۔ مگر اردو اکیڈمی کی ماہانہ محفل میں صابر دہلوی پہ مضمون پڑھنے کی ذمہ داری ہرگز خواب نہیں تھی۔ میں سر کھجا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا کروں۔
بھلا ہو تاشی ظہیر صاحب کا کہ انہوں نے مشکل حل کر دی؛ امتحانی پرچے کے ساتھ ساتھ نقل کرنے کے لیے صابر دہلوی پہ مواد بھی پکڑا دیا۔ اور یہ مواد تھا محترمہ عذرا بتول صاحبہ کا تحقیقی مقالہ جو صابر دہلوی صاحب پہ تھا اور جسے عذرا بتول صاحبہ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے اردو میں ایم فل کی سند حاصل کرنے کے لیے ۱۹۹۶ میں لکھا تھا۔ عذرا بتول صاحبہ کے تحقیقی کام کے نگران ڈاکٹر انور احمد صاحب تھے۔

نہ جانے ڈاکٹر انور احمد صاحب نے عذرا بتول صاحبہ کے اس مقالے کو جانچنے کے بعد انہیں پاس کیا یا نہیں لیکن مجھے قیاس ہے کہ اگر صابر دہلوی صاحب حیات ہوتے عذرا بتول صاحبہ کو تحقیق میں مزید جستجو کرنے کے لیے اکساتے ۔
اس مقالے کی ورق گردانی کے بعد صابر دہلوی صاحب عذرا بتول سے شفقت سے پیش آتے اور ان کی کاوش کو یقینا سراہتے مگر ساتھ ہی عذرا بتول سے کہتے کہ "خاتون، تھوڑی محنت کرنا سیکھیں۔ ایم فل کی سند آسانی سے نہیں ملتی۔ کہنے کو تو آپ نے ۲۴۰ صفحات کا مقالہ لکھا ہے مگر اس مقالے میں کل آٹھ صفحات آپ کے اپنے ہیں جب کہ بیشتر صفحات میں آپ نے میرے کلام کو حروف تہجی کے حساب سے بانٹ دیا ہے کہ الف سے صاہر دہلوی کا یہ شعر ہے، ب سے یہ، اور ج سے یہ۔ یہ کام تو چھٹی جماعت کا بچہ بھی کر سکتا تھا۔ عذرا بتول خانم، ذرا دنیا کی دوسری جامعات پہ نظر کیجیے اور یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ دوسری قوموں کے طلبا اپنے تحقیقی مقالوں پہ کتنی محنت کر رہے ہیں۔"

ساتھیو، مختصرا یہ کہ عالم خیال میں عذرا بتول پہ صابر دہلوی صاحب کی یہ سرزنش سن کر میں بالکل ہی مایوس ہو گیا۔
مگر پھر مجھے خیال ہوا کہ صابر دہلوی صاحب کا یوں تن تنہا رہ جانا کوئی اتنا برا نہیں ہے۔
قلم کا میدان ایسا ہی میدان ہے جہاں انسان تنہا اترتا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں نہ اولاد کی سند کام کرتی ہے اور نہ اسلاف کے پرانے کارنامے۔ اس میدان میں لکھنے والا، شعر کہنے والا کمر باندھ کر کودتا ہے اور پھر ہر طرف سے تیر اور نیزے کی بارش ہو جاتی ہے۔ اور جو ان تمام واروں کو سہہ کر آگے بڑھتا رہے بس وہی سورما کہلاتا ہے۔
پھر میں خود ہی صابر دہلوی کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ ان کا کلام تھاما اور اسے پڑھ کر انہیں سمجھنے کی کوشش کی۔ اور مجھے ایک ایسے اچھے شاعر سے واقفیت ہوئی جو اپنے دور کے تمام مضبوط رجحانات کا ترجمان ہے۔ جس نے نعت سے لے کر غزل اور نظم تک ہر صنف میں جھنڈے گاڑے ہیں۔

نعت کا شعر ملاحظہ کیجیے:
بخشش کا غم نہ خوف عذاب و ثواب کا
دامن پکڑ لیا ہے رسالت مآب کا

اور غزل کے یہ چند شعر ہیں:

کبھی زمیں کے کبھی کھائے آسماں کے فریب
مرے نصیب میں لکھے تھے وہ جہاں کے فریب

کچھ اس طرح سے بھی ہوتی ہے قلب کو تسکین
کہ ہم نے جان کے کھائے ہیں پاسباں کے فریب

اور یہ کہ،
میری کشتی ہی نہیں بحر حوادث کا شکار
کس نے دریائے محبت کا کنارا دیکھا

وہ یہ کہتے ہیں کہ جب شعر سنے صابر کے
ایک جذبات کا بہتا ہوا دریا دیکھا

اور یہ کہ،
اپنا یہی عقیدہ ہے دنیائے عشق میں
جب دل حسیں نہیں ہے تو دنیا حسیں نہیں

اور یہ کہ،
مانا کہ اب کرم سے ہی پیش آئیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ

مانا کہ اب رہے گا ہمیشہ میرا خیال
مانا کہ اب نہ ہوگا میری ذات سے ملال
مانا کہ اب نہ آئے گا لب پر کوئی سوال
مانا کبھی نہ اب مجھے ٹھکرائیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ

ہم نے کیا ہے آپ کی باتوں کا اعتبار
ہم نے کیا ہے قلب خزیں آپ پر نثار
ہم نے کیا ہے دامن دل غم سے تار تار
یہ دیکھ کر بھی رحم جو فرمائیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ

مانا کہ اب نہ ہوگی مری زندگی تباہ
مانا کہ اب نہ ہوگی کبھی قہر کی نگاہ
مانا کہ اب نہ ہوں گے کبھی جور بے پناہ
مانا کہ اشک آنکھوں میں بھر لائیے گا آپ
لیکن مذاق عشق کہاں پائیے گا آپ

صابر دہلوی کی شاعری میں مجھے نئے تجربے کا شوق بھی ملا۔ میرے مختصر اردو شاعری مطالعے میں کسی شاعر کی کھانسی پہ کوئی نظم نظر سے نہیں گزری۔ صاہر دہلوی کی کھانسی پہ یہ خوب صورت نظم ملاحظہ فرمائیے۔


اب غم انگیز ہو گئی کھانسی
پہلے سے تیز ہو گئی کھانسی

ڈاکٹر کی دوائیں کھا کھا کر
اور بھی تیز ہو گئی کھانسی

اسپ کی طرح دوڑتا ہوں میں
یعنی مہمیز ہو گئی کھانسی

رات دن سینہ کوبی کرتا ہوں
شاہ گردیز ہو گئی کھانسی

اس کی تعظیم اٹھ کر کرتا ہوں
بنت پرویز ہو گئی کھانسی

صابر دہلوی اپنے وقت کے ایک اہم شاعر تھے۔ ان کے دور میں ان کے دم سے مشاعروں کی رونق رہتی ہو گی۔ مگر ان تمام باتوں کے ساتھ ہمارے لیے صابر دہلوی یوں اہم ہیں کہ انہوں نے تاشی ظہیر صاحب کی پرورش کی ہے۔ صابر دہلوی یوں تو تاشی ظہیر صاحب کے دادا تھے مگر تاشی ظہیر صاحب کے والد کی غیر موجودگی کی وجہ سے صاہر دہلوی صاحب نے ہی باپ بن کر تاشی ظہیر صاحب کو پالا۔ اور صابر دہلوی صاحب نے یہ کام بخوبی کیا کہ خاندان میں جس ادبی ذوق کی روایت چلی آرہی تھی اس روایت کو انہوں نے اگلی نسل میں دونوں لڑکوں یعنی انوار انجم اور تاشی ظہیر تک بڑھا دیا۔ تاشی ظہیر صاحب کی ادبی کاوشوں کو دیکھ کر صابر دہلوی صاحب کی روح آج بھی طمانیت پاتی ہوگی۔

صابر دہلوی صاحب کی تصویر: بشکریہ تاشی ظہیر صاحب



Labels: , , , , ,


Saturday, June 07, 2008

 

فیض پہ ایک یادگار محفل کا انعقاد








فیضان فیض محفل
انڈین کمیونٹی سینٹر
مل پی ٹس ، کیلی فورنیا
جون ۱، ۲۰۰۸


فیض کا شمار ان گنتی کے چند اردو شعرا اور ادیبوں میں ہوتا ہے جنہیں ان کی زندگی میں ہی شہرت مل گئی۔ اپنے وقت کے سب سے طاقتور سیاسی رجحان کے زیر اثرفیض احمد فیض اشتراکی نظریات رکھتے تھے۔ ان کی سب سے موثر شاعری اشتراکی نظام کے بالاخر چھا جانے کی پیش گوئی سے متعلق ہے۔ ناقد کا یہ اعتراض درست نہیں کہ فیض مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ایسے شاعر تھے جس نے محض مروجہ فیشن کے تحت اشتراکی فلسفے سے تعلق جوڑا تھا۔ کہ اگر پاکستان میں اشتراکی انقلاب آتا تو سب سے پہلے فیض کے ہاتھوں سے گراں ولایتی شراب کی بوتل اور انگلیوں سے مہنگی سگریٹ چھینی جاتی۔ فیض کوئی کمیونسٹ لیڈر نہیں تھے۔ وہ ایک شاعر تھے اور اپنے عہد کے سب سے بڑے سخنور تھے۔ ان کی شاعری میں توانائی تھی، ایسی طاقت جو آج بھی مظلوم کو جدوجہد کا سبق دیتی ہے، فتح کی نوید پہنچاتی ہے۔
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم مظلوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب تخت گرائے جائیں گے
اور تاج اچھالے جائیں گے
فیض کا انتقال ۱۹۸۴ میں ہوا۔ اگر وہ ۱۹۸۹ تک زندہ رہتے تو شاید سوویت یونین کا شیرازہ بکھرتا دیکھ کر جیتے جی مر جاتے۔

حمیدہ چوپڑہ صاحبہ اردو پڑھاتی رہی ہیں۔ اب وہ سان فرانسسکو بے ایریا میں باقاعدگی سے ایسی محفلیں منعقد کراتی ہیں جن میں گزرے شعرا اور ان کے کلام کو یاد کیا جاتا ہے۔حال میں انہوں نے ایسی ہی ایک محفل فیض احمد فیض کی یاد میں منعقد کی۔ محفل کا نام فیضان فیض رکھا گیا تھا۔ اور یہ بہت مناسب نام ہے کیونکہ یہ فیض کا اردو پہ، اور اس توسط سے ہم اردو بولنے والوں پہ، احسان ہے کہ انہوں نے ہماری زبان کو پا بہ جولاں، خوں بہ داماں سمیت سینکڑوں خوبصورت استعارے عطا کیے ہیں۔
فیضان فیض محفل کی صدارت پروفیسر لو شوڎیانگ نے کی جو بیجنگ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے نگران اعلی ہیں۔ حمیدہ چوپڑہ صاحبہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور فیض پہ پڑھے جانے والے اپنے مقالے میں فیض کے حالات زندگی بیان کرنے کے علاوہ ان کے فن پہ بھی روشنی ڈالی۔ حمیدہ چوپڑہ نے کہا کہ، "فیض نے غم جاناں کو غم دوراں میں بڑی خوبی اور خوبصورتی سے سمویا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں، 'سب سے پہلا سبق جو ہم نے سیکھا وہ یہ تھا کہ اپنی ذات کو باقی دنیا سے الگ کر کے سوچنا پہلے تو ممکن نہیں اور اگر ہو بھی تو نہایت غیر سودمند فعل ہے۔ انسان کی وسعت کا پیمانہ تو باقی عالم موجودات سے اس کے ذہنی اور جذباتی رشتے ہیں۔ خاص طور سے انسانی برادری کے مشترکہ دکھ درد کے رشتے۔ چنانچہ غم جاناں اور غم دوراں تو ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔"
مقامی شاعر تاشی ظہیر صاحب نے فیض کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔
گلشن یاد میں پھر آج مہک ہے تیری
اس محفل میں مندرجہ ذیل افراد نے فیض کی شاعری سے چنیدہ حصے سنائے۔
اروند کانسل
انشمن چندرا
ڈاکٹر جیوتی دھمدیر
تاشی ظہیر
خالدہ صاحبہ
انوپما دلال
پروفیسر انل چوپڑہ
ہتن ورما
فیضان فیض محفل میں دو سو سے اوپر لوگ شریک ہوئے۔ محفل کے اختتام پہ ایک آڈیو سی ڈی کا اجرا بھی ہوا۔ اس سی ڈی میں حمیدہ چوپڑہ صاحبہ نے فیض کی شاعری اپنے منفرد انداز میں پڑھی ہے۔

Labels: , , , , , , , , , , , ,


Monday, June 02, 2008

 

مشرف علی فاروقی کے قلم سےداستان امیر حمزہ کا ترجمہ





میں آج داستان امیر حمزہ کو یاد کروں تو مجھے بچپن کا بے فکری کا زمانہ یاد آتا ہے۔ فکر تھی تو صرف اس بات کی کہ اب جب کہ امیر حمزہ کی فوج میں شامل لندھور سمیت بہت سے پہلوان گھائل ہو چکے ہیں امیر حمزہ کا کیا بنے گا۔ کیا عمرو عیار کوئی ایسی چال چلے گا کہ امیر حمزہ کو ان مشکل حالات سے نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا؟

حیدرآباد اور کراچی سے تعلق رکھنے والے مشرف علی فاروقی اب ٹورنٹو میں رہتے ہیں اور اپنے بچپن کی سب سے خوب صورت کہانی کا پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حال ہی میں مشرف فاروقی نے داستان امیر حمزہ کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ رینڈم ہائوس نے شائع کیا ہے۔ اپنی اس کتاب کی نمو کے لیے مشرف فاروقی شمالی امریکہ کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔ مجھے ان کی گفتگو سننے کا موقع اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے بیکٹیل سینٹر میں ملا۔

Labels: , , , , , , , , ,


Monday, April 28, 2008

 

صابر دہلوی سے تعارف



صابر دہلوی سے تعارف





کل میرا تعارف صابر دہلوی صاحب سے ہو گیا، ان کی وفات کی کئی دہائیوں کے بعد۔ تاشی ظہیر صاحب نے اپنی مہربانی سے مجھے صابر دہلوی صاحب کا کلام دیا جو میں نے فورا اسکین کر لیا۔ صاہر دہلوی صاحب کے کلام کا ایک اسکین شدہ صفحہ یہاں نمونے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

Labels: , , , ,


Tuesday, March 11, 2008

 





مارچ ۹ کی پہلی سالگرہ پہ سان ہوزے میں مظاہرہ



سان ہوزے، کیلی فورنیا۔
اتوار، مارچ ۹، ۲۰۰۸ کے روز سان ہوزے میں فرینڈز آف سائوتھ ایشیا کی جانب سےسپیرئیر کورٹ آف سینٹا کلارا کائونٹی کے باہر ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔ مظاہرے کا مقصد پاکستان کے حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں پہ زور دینا تھا کہ وہ نومبر ۳، ۲۰۰۷ کے روز برطرف کیے جانے والے ججوں کو بحال کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مظاہرین نے اسی صبح کی اس خبر پہ خوشی کا اظہار کیا کہ آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیان یہ معاہدہ ہو گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ۔ن کی متحدہ حکومت معزول ججوں کو بحال کرائے گی۔ مظاہرے کے شرکا نے اس یقین کا اعادہ کیا کہ عدلیہ اور میڈیا کو ہر حال میں مکمل آزادی حاصل ہو تا کہ وہ حکومت کا مستقل احتساب کر سکیں۔
مظاہرین سے باتیں کرتے ہوئے سان فرانسسکو بے ایریا کے معروف وکیل جاوید الہی نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اولوالعزمی کی وجہ سے پاکستان میں امید کا نیا سورج طلوع ہوا ہے۔ جاوید الہی نے مظاہرین کو پاکستان میں حال میں دائر کی جانے والی وہ عدالتی پیٹیشن دکھائی جس میں جنرل پرویز مشرف پہ غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست کی گئی ہے۔
پاکستانی امریکن کانگریس کے صدر ڈاکٹر خواجہ اشرف نے شرکا کو بتایا کہ کانگریس نے سنہ ۲۰۰۸ کو آزاد پارلیمنٹ اور آزاد عدلیہ کا سال قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنرل پرویز مشرف فوری طور پہ صدارت کا عہدہ چھوڑ دیں اور آئین کو اس کی نومبر ۲، ۲۰۰۷ کی حالت میں بحال کیا جائے۔
فوسا کے ایک بانی اور معروف بلاگر صباحت اشرف نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے سلسلے میں پاکستان کی سول سوسائٹی کو نو منتخب شدہ قیادت پہ مستقل دبائو رکھنے کی ضرور ت ہے کیونکہ ماضی میں آزاد عدلیہ کے معاملے میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، اور ایم کیو ایم سمیت پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا کردار متنازعہ رہا ہے۔

مظاہرے کی ویڈیو یہاں دیکھیں:
http://youtube.com/watch?v=zazRe1V3uKc

Labels: , ,


Saturday, March 08, 2008

 

Labels:


 

Labels:


 

Labels:


Friday, March 07, 2008

 

Labels:


 

Labels:


 

چائے کا وقفہ


 

Labels:


 

Labels:


 

Labels:


 

 

 

Urdu Academy San Francisco Bay Area Feb 08 movie

Labels:


Friday, February 22, 2008

 

Labels: , ,


 

Labels: , ,


 

Labels: , , , ,


 



محفل کی نظامت معروف شاعرہ نوشی گیلانی نے کی۔

Labels: ,


 

اردو اکیڈمی کی ماہانہ ادبی نشست




اردو اکیڈمی کی ماہانہ ادبی نشست اس بار پاکستان امریکن کمیونٹی سینٹر میں منعقد ہوئی۔

Labels: , , ,


 

وزیرستان اور دیگر شمالی علاقوں کے رہنے والوں کے نام کھلا خط






وزیرستان، سوات اور جنگ میں جھونکے گئے دیگر شمالی علاقہ جات کے لوگو،

ایک فرزند کراچی کی جانب سے لکھا جانے والا یہ خط، پاکستان کے بیشتر امن پسند لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہم اس جنگ کے خلاف ہیں جو آپ پہ مسلط کی گئی ہے۔ آپ پہ برسائے جانے والے بم ہمارا فیصلہ نہیں ہیں۔ پاکستانی فوج کے جرنیل امریکہ کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں اور یہ امریکہ کی ایما پہ آپ سے جنگ کر رہے ہیں۔ ہم اس تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
سنہ ۱۹۷۰ میں بھی ہماری فوج ہمارے قابو میں نہ تھی۔ اس نے اپنی مرضی سے ہمارے ہی ملک کے دوسرے باشندوں کا قتل عام کیا۔ ہماری غلطی یہ تھی کہ ہم نے یعنی مغربی پاکستان کے رہنے والوں نے مشرقی پاکستانیوں کو یہ باور نہ کرایا کہ ان پہ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اس میں ہماری مرضی ہرگز شامل نہیں ہے۔ ہم تو بے بس تھے۔ ہمارا بس چلتا تو ہم اپنی فوج سے ان کے ہتھیار چھین لیتے، انہیں یوں ہمارے بھائیوں اور بہنوں پہ ظلم نہ کرنے دیتے۔
مگر ہم ماضی کی اس غلطی کو دہرانا نہیں چاہتے۔ یہ بات سب پہ واضح ہونی چاہیے کہ ہماری جنگ نہ طالبان سے ہے اور نہ وزیرستان اور سوات کے لوگوں سے۔ ان پہ جو ظلم و تشدد ہو رہا ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

تصویر از:
http://www.philip-sen.com/

Monday, February 11, 2008

 

میں کس لیے جیا ہوں





میں کس لیے جیا ہوں
برٹرینڈ رسل
ترجمہ: سمندطور

تین جذبوں نے جو کہ بہت سادہ مگر بے انتہا طاقتور ہیں میری زندگی پہ حکومت کی ہے: محبت کی تلاش، علم کی جستجو، اور سسکتی انسانیت کے لیے رحم۔ ان تین جذبوں نے تیز آندھیوں کی مانند مجھے ایک پیچ دار راہ پہ اذیت کے وسیع سمندر کے پار، ناامیدی کے کنارے تک ، ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑایا ہے۔

میں نے محبت کو تلاشا ہے، اس لیے کہ، اول، اس میں لطف ہے—ایسا عمدہ لطف کہ میں مزے کے ان چند گھنٹوں پہ اپنی باقی ماندہ زندگی قربان کرنے کے لیے تیار رہا ہوں۔ اورمیں نے محبت کو اس لیے ڈھونڈا ہے کہ یہ تنہائی دور کرتی ہے۔۔وہ اذیت ناک تنہائی کہ جس میں ایک روح کپکپاتے ہوئے اس دنیا سے پرے بے کراں خلا کی سرد، بے جان گہرائی میں جھانکتی ہے۔ اور میں نے اس لیے محبت کی تمنا کی ہے کیونکہ عشق کے وصل میں، میں نے ایک چھوٹی سطح پہ،اس جنت کا نظارہ کیا ہے جس کا تصور سادھوئوں اور شاعروں نے باندھا ہے۔ میں نے اس محبت کو تلاش کیا ہے، اور گو کہ یہ بات کسی انسانی زندگی کے لیے ناقابل یقین نظر آتی ہے، میں نے، آخر کار، اس محبت کو پایا ہے۔

ایسے ہی ولولے سے میں نے علم کی جستجو کی ہے۔ میں نے لوگوں کے دلوں کو سمجھنے کی خواہش کی ہے۔ میں نے یہ جاننے کی تمنا کی ہے کہ ستارے کیوں جگمگاتے ہیں۔ اور میں نے فیثاغورث کی اس طاقت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جس سے ہندسے اپنی جگہ جمے کھڑے رہتے ہیں۔ اس علم کا بہت زیادہ نہیں، مگر کچھ حصہ میں نے پایا ہے۔

محبت اور علم نے، جس حد تک کہ ممکن تھا، مجھے آسمانوں کی طرف اٹھایا ہے۔ مگر تاسف مجھے واپس زمین پہ لایا ہے۔ درد سے ماری گئی چیخیں میرے دل میں گونجتی ہیں۔ بھوک سے مرتے بچے، جسمانی تشدد کا شکار لوگ، وہ بے یار و مددگار بوڑھے جو اپنے بچوں پہ بوجھ ہیں، اور تنہائی، غربت، اور آلام سے پر یہ دنیا زندگی کا مذاق بناتی ہے۔ میں نے اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، مگر میں ناکام رہا ہوں، اور میں نے خود تکلیف جھیلی ہے۔

یوں رہی ہے میری زندگی۔ میں نے اس زندگی کو جینے کے لائق سمجھا ہے، اور اگر مجھے زندگی پھر پیشکش کی گئی تو میں اسے ایک بار پھر خندہ پیشانی سے جی لوں گا۔


انگریزی اصل یہ ہے


What I Have Lived For
Bertrand Russell

Three passions, simple but overwhelmingly strong, have governed my life: the longing for love, the search for knowledge, and unbearable pity for the suffering of mankind. These passions, like great winds, have blown me hither and thither, in a wayward course, over a great ocean of anguish, reaching to the very verge of despair.
I have sought love, first, because it brings ecstasy - ecstasy so great that I would often have sacrificed all the rest of life for a few hours of this joy. I have sought it, next, because it relieves loneliness--that terrible loneliness in which one shivering consciousness looks over the rim of the world into the cold unfathomable lifeless abyss. I have sought it finally, because in the union of love I have seen, in a mystic miniature, the prefiguring vision of the heaven that saints and poets have imagined. This is what I sought, and though it might seem too good for human life, this is what--at last--I have found.
With equal passion I have sought knowledge. I have wished to understand the hearts of men. I have wished to know why the stars shine. And I have tried to apprehend the Pythagorean power by which number holds sway above the flux. A little of this, but not much, I have achieved.
Love and knowledge, so far as they were possible, led upward toward the heavens. But always pity brought me back to earth. Echoes of cries of pain reverberate in my heart. Children in famine, victims tortured by oppressors, helpless old people a burden to their sons, and the whole world of loneliness, poverty, and pain make a mockery of what human life should be. I long to alleviate this evil, but I cannot, and I too suffer.
This has been my life. I have found it worth living, and would gladly live it again if the chance were offered me.



[Sketch of Russell, courtesy of betterworldheroes.com]

Labels: ,


Wednesday, January 23, 2008

 

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورت کا مقام






ذرا اس ویڈیو کو دیکھیے۔ اور پھر خون کے آنسو روئیے۔
یہ ہے پاکستانی مرد کی سب سے درندہ صفت تصویر۔ کہ ایک عورت ہے جو بہادر ہے، پڑھی لکھی ہے، جو گہرائی سے چیزوں کو سمجھنا جانتی ہے، جو حق کے لیے آواز بلند کررہی ہے اور اس سلسلے میں قربانیاں دے رہی ہے۔ یہ شیری رحمن ہے۔ اور اس عورت کو اس کی قربانیوں کا صلہ کیا مل رہا ہے؟ اپنے آس پاس مردوں کے وحشیانہ حملے۔
کون ہے یہ آدمی جو اس ویڈیو میں شیری رحمن کے ساتھ چل رہا ہے؟ اس جانور کا نام کیا ہے؟ کیا یہ ویڈیو کافی نہیں ہے اس جانور کو جیل میں بند کروانے کے لیے، اس پہ عورت کی تذلیل کا مقدمہ چلانے کے لیے؟
اور واقعی یہ شخص جانور ہے کیونکہ اس کی نظر میں ہر عورت صرف اس کی جنسی تسکین کے لیے پیدا کی گئی ہے۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ جانور اکیلا نہیں ہے۔ ایسے بہت سے درندے پاکستان میں موجود ہیں جو عورتوں پہ ہر قسم کا تشدد، ہر قسم کی زیادتی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کوئی ہے جو ان جانوروں کو درندگی سے انسانیت تک کا سفر کروائے؟
بھارت میں پرتی زنتا نامی ایک بہادر خاتون نے عورتوں پہ مستقل ہونے والے جنسی حملوں کو سب کے سامنے لانے کے لیے آواز بلند کی ہے۔ سرحد کے اس طرف بھی ایک پرتی زنتا کی ضرورت ہے۔ کیا محترمہ شیری رحمن یہ مجاہدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟

Labels: , ,


Monday, January 07, 2008

 

دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن





یہ جو محبت کرنا ہے یہ بہت نقصان کا سودا ہے۔
اپنی جائے پیدائش سے محبت کرنا۔ اپنے وطن کا بھلا چاہنا۔ اور خاص طور پہ ایک ایسے ملک کے لیے امیدیں رکھنا جس کے راہ نما اور لوگ آپ کو مستقل مایوس کرتے جائیں۔ یہ تو سراسر دل جلانے کا سامان ہے۔ کہ آپ دیکھتے جائیں اور خون کے آنسو روتے جائیں۔
کہ پہلے ایک راہ نما عورت کو گولی مار کر ختم کر دیا جائے اور اس پہ آپ کا دل خراب ہو۔ اور پھر اس ظالمانہ قتل پہ خوب فساد ہو، عمارتوں اور گاڑیوں کو نظر آتش کر دیا جائے، لوگوں کو مارا جائے۔

نہ جانے کیا موقع تھا کہ فیض نے کہا تھا،
آج مجھ سے نہ پوچھو، میرے دوستو
دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن
فیض کو گزرے دو دہائیاں ہو گئیں مگرپاکستان سے محبت کرنے والے لوگ، اس کا بھلا چاہنے والے لوگ آج بھی خوشیاں منانے کے دنوں سے نہ صرف یہ کہ بہت دور ہیں بلکہ دور تر ہوتے جا رہے ہیں۔

تصویر از
21stcenturysocialism.com


Saturday, December 15, 2007

 

جزوی مفلوج ملک



اب کیا ہوگا؟
روز یہ سوال اٹھتا ہے۔ صبح ہوتی ہے، پورا دن بحث مباحثے میں گزرتا ہے، پھر سورج ڈوب جاتا ہے اور تاریکی کا سیاہ کمبل ہر شے کو ڈھانپ لیتا ہے۔ لوگ سو جاتے ہیں یہ امید کر کے اگلے دن کا چمکدار سورج شاید کوئی اچھی خبر لے کر آئے گا۔
اور بات واقعی تشویشناک ہے کیونکہ ملکی سیاست کی بازی پھنس گئی ہے۔ ملک جزوی طور پہ مفلوج ہے مگر جاں بہ لب نہیں ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ نومبر ۳ کے روز ایک بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ اور قانون سے متعلق افراد یہ زیادتی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مگر باقی ملک اس ناانصافی کے باوجود رواں دواں ہے۔
بات ایک طرف لگ جائے اگر یا تو پورا ملک پے درپے ہڑتالوں سے مفلوج ہوجائے، لوگ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پہ نکل آئیں۔ یا پھر وکلا، صحافی، اور انسانی حقوق کے علمدار حالات سے سمجھوتہ کر لیں۔ مگر نہ یوں ہورہا ہے نا ووں، تو پھر حل کیا ہے؟
اگر امیرجینسی واقعی نومبر ۱۵ کے روز ختم کی جاتی ہے تو ایسا ہونے کے ہفتے بھر کے اندر شاید صورتحال واضح ہوجائے کہ ملکی حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔
دسمبر سات کو لکھا گیا۔

Labels: , ,


Tuesday, December 04, 2007

 

اکیلے نہ جانا





امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ریٹائرڈ جرنیل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر انتخابات کے بعد حالات ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوئے تو وہ چلے جائیں گے۔
I have all the choices, if the situation develops in a manner that was just absolutely unacceptable to me, I have a choice of leaving.
کہاں سے چلے جائیں گے؟ صدر کا عہدہ چھوڑ کر چلے جائیں گے؟ پاکستان چھوڑ کر چلے جائیں گے؟ یا دنیا چھوڑ دیں گے؟
پرویز مشرف صاحب نے یقیناً یہ بات انٹرویو لینے والے یعنی کرسٹوفر کیومو کو اور اس کے توسط سے امریکہ کو ڈرانے کے لیے کہی ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف کی یہ دھمکی سن کر کرسٹوفر پہ کپکپی طاری ہو گئی۔
آپ چلے جائیں گے؟ کرسٹوفر کے منہ سے بمشکل نکلا اور قریب تھا کہ وہ تڑ سے زمین پہ گر جاتا، لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا۔ پھر اسے تسلی دی گئی کہ ریٹائرڈ جرنیل صاحب نے "حالات مرضی کے مطابق نہ ہوئے" کی شرط عائد کی ہے۔ اور یہ بہت کڑی شرط ہے۔ اور شاید ہی کوئی ایسا موقع آئے جب پرویز مشرف کا خیال ہو کہ حالات بالکل بے قابو ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ سن کر کرسٹوفر کو تسلی ہو گئی اور اس نے آبدیدہ ہو کر "اکیلے نہ جانا" گانے کا خیال دل سے نکال دیا۔

Labels: , , , ,


Monday, December 03, 2007

 

یہ ہماری جنگ نہیں ہے






موجودہ عہد کا سب سے بڑا فراڈ وہ جنگ ہے جو کہنے کو تو دہشت گردی کے خلاف لڑی جا رہی ہے مگر جو دراصل دہشت گردی کی افزائش کا سبب بن رہی ہے۔ یہ جنگ علم نفسیات کے نظریے خود تکمیلی پیش گوئی پہ پوری اترتی ہے۔ کہ اس جنگ میں پہلے کسی کو دشمن گردانا جاتا ہے، پھر اس کے سر پہ بم برسائے جاتے ہیں، اور پھر وہ واقعی آپ کا دشمن بن جاتا ہے۔
سنہ دوہزار ایک میں امریکہ کی یہ فراڈ جنگ پاکستان کے توسط سے افغانستان کے اوپر تھوپی گئی اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کی طوالت کی لالچ میں پورے ملک کو اس جنگ میں ڈال دیا۔ کچھ عرصے تک تو آگ کا یہ کھیل ہم سے کچھ فاصلے پہ کھیلا جاتا رہا مگر جیسا کہ ناگزیر تھا آگ اب ہمارے گھر کے اندر تک پہنچ گئی ہے۔ اگر ہمیں ملک کی سالمیت عزیز ہے تو ہمیں پوری طور پہ اس فراڈ جنگ کو اپنے گھر کے اندر سے ختم کرنا ہوگا۔ اور جنگ کو ختم کرنے میں اس بالغ العقلی کی ضرورت ہوگی کہ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس طرح اپنی زندگیاں گزارنا چاہیں گزاریں۔ کہ لوگ اگر کسی قدیم زمانے کی فرسودہ روایات کے تحت اپنی زندگیاں بسر کرنا چاہتے ہیں تو ان پہ گولیاں چلانے سے وہ اپنے خیالات میں اور پختہ ہوں گے۔ انہیں راہ راست پہ لانے کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیا جائے۔ اور خود ایک ایسا منصف معاشرہ قائم کیا جائے جو واضح طور پہ قدامت پسندوں کے رائج کردہ نظام سے بہتر ہو۔ جب کبھی ایک منصف، خوشحال معاشرہ ایک فرسودہ، ناکارہ معاشرے کے برابر میں موجود ہوگا تو وقت کے ساتھ ساتھ فرسودہ، ناکارہ معاشرہ خود اپنے اندر سے ٹوٹ جائے گا، فنا ہوجائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا صرف ایک یہی موثر طریقہ ہے۔

تصویر از
Livius


Labels: , , ,


Friday, November 30, 2007

 

گرہ کٹ



گرہ کٹوں کی ایک خاص چال ہوتی ہے کہ آپ کی جیب کاٹنے سے پہلے وہ آپ کو ایک دھکا دیتے ہیں۔ آپ کی توجہ اس دھکے کی طرف ہوتی ہے تو اس درمیان آپ کی جیب کاٹ لی جاتی ہے۔
تین نومبر کو جنرل پرویز مشرف نے ایک ساتھ بہت سارے کام کیے۔ انہوں نے ایمرجینسی نافذ کی، آئین معطل کیا، سپریم کورٹ کے بہت سے ججوں کو برطرف کیا، ہزاروں وکیلوں اور سیاسی کارکنوں کوگرفتار کیا، اور آزاد ٹی وی چینلوں کی نشریات روک دیں۔ جنرل پرویز مشرف کے لیے ان سب کاموں میں سب سے ضروری اور سرفہرست کام ان ججوں سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا جو ان کو صدارتی انتخاب سے نااہل قرار دینے والے تھے۔ ایمرجینسی کا نفاذ اور دوسرے کام گرہ کٹ کا دھکا تھے۔ اب یہ دوسرے کام ایک ایک کر کے کالعدم کیے جارہے ہیں اور خیال ہے کہ شاید ایمرجینسی بھی اٹھا لی جائے۔ اس صورت میں سیاسی مبصرین کا فرض ہوگا کہ وہ لوگوں کی توجہ اس اصل کام پہ رکھیں جس پہ پردہ ڈالنے کے لیے دوسرے کام کیے گئے تھے۔ کہ لوگ نومبر تین سے پہلے والی سپریم کورٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ ہرگز ترک نہ کریں۔ ایک بے خوف اور آزاد عدلیہ کی بحالی میں ہی پاکستانی قوم کی نجات ہے۔

Labels: ,


Monday, November 26, 2007

 

جوانی کی موت







کائنات کے سب رنگ زندگی سے ہیں۔ اور زندگی کا جشن جوانی ہے۔
پھر ہمارے سامنے کئی لوگ ایسے ہیں جو اس جشن کے شروع ہوتے ہی زندگی کا سفر ختم کر بیٹھے۔
میری گنتی میں تین، اور عینی اختر کی گنتی میں چھ ایسے پاکستانی نژاد امریکی نوجوان ہیں جو ایک رات سونے کے لیے لیٹے اور صبح نہیں اٹھے۔
یہ نوجوان اس طرح نیند کی آغوش سے موت کی گود میں کیسے پہنچ گئے؟ کیا ہم ان صدمات کو زندگی کے بھیانک اتفاقات کے طور پہ قبول کرلیں؟ ایسا کرنے کو دل نہیں مانتا۔ دل کہتا ہے کہ بات کی تہہ تک پہنچا جائے۔ اور ایسا اس لیے کیا جائے تاکہ دوسرے نوجوانوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں، کہ تحقیقات کے نتائج مشتہر کیے جائیں اور والدین کو خبردار کیا جائے کہ وہ اپنی جوان اولاد پہ نظر رکھیں، انہیں یوں آسانی سے دنیا سے رخصت نہ ہونے دیں۔
تو کیا کیا جائے؟
کیا یہ جائے کہ ہر متوفی نوجوان کے آس پاس لوگوں سے گفتگو کی جائے۔ متوفی کے قریبی دوستوں سے بات کی جائے اور جوانی کی موت کے اس راز کو پانے کی پوری کوشش کی جائے۔
یہ ہے عینی اختر اور میرا مشترکہ مشن۔
کیا آپ اس کار خیر میں ہمارا ساتھ دیں گے؟ کیا آپ کے علم میں ایسی خاص باتیں ہیں جن سے ان اموات کی وجوہات تک پہنچا جا سکتا ہے؟ کیا آپ کے علم میں ان چھ نوجوانوں کے علاوہ اس نوعیت کی دوسری پراسرار اموات بھی ہیں؟
برائے مہربانی ہمیں اپنے خیالات اور مشاہدات سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اپنی کمیونٹی کی مدد کرنے پہ ہم آپ کے شکرگزار ہوں گے۔

Labels:


Monday, November 19, 2007

 

احمد سلیم اور ان کا فن






احمد سلیم سے ملاقات کے بعد میں سوچتا رہا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، آخر کیوں اہم ہے؟ اگر وہ پاکستان کے تاریخی دستاویزات کو محفوظ کرنے کا اپنا کام ترک کردیں تو کیا ہوگا؟ ان کی اس ترک محبت سے دنیا اور پاکستان کو کیا نقصان پہنچے گا؟

میں حال میں احمد سلیم سے جامعہ کیلی فورنیا برکلی میں ملا۔ وہ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کی دعوت پہ امریکہ آئے ہوئے تھے۔ یہ ادارہ ہر سال دو پاکستانی دانشوروں کو اپنے خرچے پہ امریکہ بلاتا ہے۔ پھر ہر دانشور کو تین مختلف جامعات کا دورہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سال احمد سلیم کے علاوہ آصف فرخی اس ادارے کی دعوت پہ امریکہ آئے تھے۔ احمد سلیم نے اپنے دورے کے لیے جامعہ وسکانسن، میڈیسن؛ جامعہ کیلی فورنیا، برکلی؛ اور جامعہ ٹیکسس، آسٹن کا انتخاب کیا تھا۔

احمد سلیم 1945 میں پنجاب کے ایک گائوں میاں گوندل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے سات بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پہ تھے۔ ان کا گھرانہ کپڑا فروشی کا کام کرتا تھا۔ آج بھی ان کے دوسرے بھائی کپڑے اور جوتے بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ احمد سلیم نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں ہی حاصل کی مگر پھر میٹرک کے لیے پشاور چلے گئے۔ پشاور میں وہ فارغ بخاری، محسن احسان، رضا ہمدانی، اور جوہر میر جیسے اہل علم لوگوں سے ملے۔ اور یہی وہ وقت تھا کہ جب ہم ایک اہم آدمی کو کپڑا اور جوتا فروشی کے کاروبار میں کھونے سے بچ گئے، وہ شخص قلم سے رشتہ استوار کر بیٹھا۔ میٹرک کرنے کے بعد احمد سلیم کراچی پہنچ گئے اور اردو کالج میں پڑھنے لگے۔ انہیں دنوں رسالہ افکار نے ایک مقابلہ منعقد کیا جس میں طلبہ کو فیض کی شاعری پہ اظہار رائے کی دعوت دی گئی۔ احمد سلیم مقابلے میں شریک ہوئے اور فیض پہ لکھی ان کی نظم کو پہلا انعام ملا۔ اس وقت فیض کراچی کے عبداللہ ہارون کالج میں پرنسپل تھے۔ فیض کی دعوت پہ احمد سلیم اردو کالج چھوڑ کر عبداللہ ہارون کالج پہنچ گئے۔ یہیں سے احمد سلیم اور فیض کے درمیان ایک تعلق قائم ہوا جو فیض کی موت تک جاری رہا۔

صحافت، شاعری، اور ترجمے کے میدانوں سے گزرتے ہوئے احمد سلیم رفتہ رفتہ آرکائیو )تاریخی دستاویزات کی حفاظت( تک آئے ہیں۔ احمد سلیم بتاتے ہیں کہ جب 1990 میں ادارہ جنگ نے انہیں پاکستان کی اسمبلیاں ٹوٹنے کی تاریخ رقم کرنے کا کام دیا تو انہیں احساس ہوا کہ ملک میں آسانی سے دستیاب تحقیقی مواد کی کس قدر کمی ہے۔ وہیں سے احمد سلیم کا ایک سفر شروع ہوا اور 2001 میں انہوں نے دوسرے رفقائے کار کے ساتھ مل کر دستاویزات محفوظ کرنے کے لیے ایک ادارہ سائوتھ ایشیا ریسرچ اینڈ ریسورس سینٹر کے نام سے قائم کیا۔ آج وہ ادارہ بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔

جامعہ برکلی میں احمد سلیم کی گفتگو کا عنوان تھا،پاکستان میں آرکائیو کی حفاظت اور فروغ۔ اپنی تقریر میں احمد سلیم نے بتایا کہ پاکستان میں محققین کو سب سے زیادہ دشواری حکومتی اداروں سے تاریخی دستاویزات حاصل کرنے میں ہوتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پچیس سال سے پرانی دستاویزات کو ظاہر کرنے کا قانون پاس ہوا تو ساتھ ایک شق جوڑ دی گئی کہ "بشرطکہ پچیس سال پرانے اس مواد کو پبلک کرنے سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ نہ ہو"۔ آج حکومتی اداروں میں بیٹھے افسران معلومات نہ فراہم کرنے کے سلسلے میں اسی شق کو بہانہ بنا دیتے ہیں۔

"سنہ 1860 کا مواد اب تک کلاسیفائڈ ہے۔ بھگت سنگھ پہ مقدمے کی کاروائی اب تک کلاسیفائڈ ہے،" احمد سلیم نے حاضرین کو بتایا۔ جھنجلاہٹ ان کے لہجے سے عیاں تھی۔

احمد سلیم نے پشاور کے نیشنل آرکائیو سے گرو رام سنگھ کے خطوط حاصل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں اپنا تجربہ بیان کیا۔ [جب انگریزوں نے گرو رام سنگھ کو رنگون جلا وطن کر دیا تو گرو جیل سے اپنے شاگردوں کو خط لکھا کرتے تھے۔ یہ خطوط اب تک پشاور میں موجود ہیں۔] پشاور میں آرکائیو کے ڈائریکٹر نے احمد سلیم سے پوچھا کہ گرو رام سنگھ کے خطوط حاصل کرنے کے لیے انڈیا نے احمد سلیم کو کتنی رقم دی تھی۔
"اس کا انڈیا سے کیا تعلق؟ مجھے گرو رام سنگھ کے مذہب سے کیا مطلب؟ میں تو انہیں آزادی کے ایک متوالے کے طور پہ جانتا ہوں۔"

احمد سلیم نے حاضرین کو بتایا کہ کس طرح پاکستان بھگت سنگھ کو بھلا دینا چاہتا ہے۔ بھگت سنگھ ایک حریت پسند نوجوان تھا جو اپنے ملک کی آزادی چاہتا تھا۔ اسے 1931 میں انگریزوں نے پھانسی کی سزا دی تھی۔
"بھگت سنگھ پاکستان کا فرزند زمین تھا۔ وہ بنگہ، تحصیل جڑاں والاں میں پیدا ہوا تھا۔ بھگت سنگھ کے مقدمے کے تمام کاغذات آج بھی لاہور ہائی کورٹ میں موجود ہیں۔"
مگر احمد سلیم کو ان کاغذات تک رسائی نہ دی گئی کیوں کہ ان کاغذات کا سرعام کرنا "پاکستان کی سالمیت کے خلاف تھا۔"

یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ پاکستانی سرکار اس دھرتی کے غیر مسلم حریت پسندوں کے کارنامے کیوں بھلا دینا چاہتی ہے۔ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بنا تھا، اور آزادی کی اس جدوجہد میں غیر مسلموں کا نام آئے تو پاکستانی سرکار کو یہ بات بہت کھلتی ہے۔

احمد سلیم نے اپنی گفتگو میں دیال سنگھ لائبریری میں موجود نادر کتابوں پہ گزرنے والی قیامت کا حال بھی سنایا۔ دیال سنگھ لاہور کا ایک متمول تاجر تھا۔ دیال سنگھ کی وفات پہ اس کی وصیت کے مطابق اس کی دولت کا ایک بڑا حصہ ایک ٹرسٹ کو دے دیا گیا تھا۔ ٹرسٹ نے دیال سنگھ اسکول، دیال سنگھ کالج اور دیال سنگھ لائبریری قائم کی۔

"جنرل ضیاالحق نے دیال سنگھ لائبریری کی تمام ہندی اور گورمکھی کتابوں کو پھینک دینے کا حکم دیا۔ وہ قیمتی کتابیں لائبریری کے برابر سے گزرنے والے ایک گندے نالے میں پھینک دی گئیں۔"

احمد سلیم نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح پاکستانی معاشرہ تاریخ سے نابلد ہے اور بے شعور ہے اور اس بے شعوری میں کس طرح نادر دستاویزات ضائع کر دی جاتی ہیں۔
"میاں افتخار الدین کانگریس کے لیڈر تھے اور بعد میں مسلم لیگ کے لیڈر ہن گئے۔ وہ پاکستان ٹائمز نامی اخبار کے مالک تھے۔ سنہ 1955 میں جب چین کے پریمئیر چو این لائی پاکستان آئے تو میاں افتخار الدین نے ان کی میزبانی کی۔"

احمد سلیم نے بتایا کہ کس طرح انہیں ایک پرانی کتابوں کی دکان سے ایک فوٹو البم ملا جس میں میاں افتخار الدین اور ان سے متعلق افراد کی تصاویر تھی۔ اس البم میں چو این لائی کی بھی تصاویر تھیں اور طارق علی )انگلستان میں مقیم پاکستانی نژاد مصنف( کی بھی۔ احمد سلیم کو بتایا گیا کہ میاں افتخار الدین کے انتقال کے بہت عرصے بعد جب ان کے اہل خانہ ایک دوسرے گھر میں منتقل ہوئے تو سارے پرانے کاغذات پھینک دیے گئے۔ اور ان کاغذات میں وہ فوٹو البم بھی شامل تھا جو احمد سلیم نے صرف دو سو روپے میں خریدا۔

اسی طرح جب کمیونسٹ لیڈر سردار شوکت علی کا انتقال ہوا تو ان کے اہل خانہ نے سارے پرانے کاغذات ایک کباڑیے کو بیچ دیے۔ ان کاغذات میں سردار شوکت علی کی سوانح کا مسودہ بھی تھا۔ اس وقت وہ سوانح چندیگڑھ سے نکلنے والے رسالے پریت لڑی میں قسط وار چھپ رہی تھی۔
جب احمد سلیم نے سردار شوکت علی کی بیوہ سے اس بارے میں استفسار کیا تو خاتون نے کہا کہ شوکت علی خاندان کی کفالت کا انتظام تو بخوبی کرتے تھے مگر انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے بارے ميں کبھی گھر پہ کوئی بات نہ کی، اس لیے خاندان والوں کو علم ہی نہ تھا کہ وہ کیا کر رہے تھے اور وہ جو کچھ کر رہے تھے اس کی کیا اہمیت تھی۔
"یہ ہمارے خطے کی سیاسی شخصیات کا خاص طریقہ ہے۔ وہ زمانے کو بدلنے کی باتیں تو کرتے ہیں مگر اپنے اہل خانہ کو اپنے خوابوں میں شامل نہیں کرتے۔"

گو کہ جامعہ برکلی میں احمد سلیم کی گفتگو میں ایسی بہت سی باتیں تھیں جنہیں سن کر سامعین کو جھرجھری آ گئی مگر احمد سلیم نے اپنی تقریر ایک پرامید بات پہ ختم کی۔ احمد سلیم نے بتایا کہ وہ ایک عجائب گھر برائے جنگ آزادی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھگت سنگھ کے گھر میں رہنے والا خاندان، جو گورداسپور سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا، وہ گھر خالی کرنے پہ راضی ہو گیا ہے تا کہ وہاں بھگت سنگھ یادگاری عجائب گھر قائم کیا جا سکے۔

ڈائنوسار اور ایسے دوسرے دیو ہیکل جانور کروڑوں سال پہلے ناپید ہوگئے۔ آج ہم جو کچھ ڈائنوسار کے بارے میں جانتے ہیں وہ ہمیں ان جانوروں کی محفوظ شدہ ہڈیوں سے معلوم ہوا ہے۔ ڈائنوسار کی زندگی سادہ تھی۔ انہوں نے نہ تو کوئی عظیم شان معاشرہ تشکیل دیا تھا اور نہ ہی گیت و نغمے لکھے، اس لیے ان جانوروں کے بارے میں زیادہ کچھ جاننے کے لیے ہے ہی نہیں۔ مگر پھر بھی کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر وقت کے اسی دور میں ایک ذہین مخلوق ہوتی جو ان جانوروں کا بغور مطالعہ کرتی اور پھر اپنے اس مشاہدے کو تحریر کر دیتی اور ہمیں آج وہ تحریر مل جاتی۔ اسی خیال کو آگے بڑھایے اور خواہش کیجیے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر قدیم مصر میں مورخین ہوتے اور ہمیں آج ان مورخین کی کتابیں مل جاتیں۔ اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر ہر نبی کے ساتھ ایک مورخ چلتا جو اس نبی کی دن بہ دن سرگرمیوں کو تحریر کرتا اور آج ہمیں وہ سب کچھ محفوظ شدہ مل جاتا۔ ہمارے لیے ماضی کے اس وقت کے بارے میں جاننا کس قدر آسان ہوجاتا۔
ان دلیلوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی دور کا ریکارڈ محفوظ کرنا اور خاص طور پہ ایسی شخصیات سے متعلق تاریخی دستاویزات محفوظ کرنا جن کے عمل سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے ہوں، ایک احسن کام ہے۔ ایک ایسا احسن کام جس کا اندازہ اس دور میں شاید نہ ہو جس میں یہ کام کیا جارہا ہو مگر وقت کے ساتھ ساتھ جس کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے۔ میں برکلی سے واپس گھر آتا ہوا سوچ رہا تھا کہ احمد سلیم ایک بہت اہم آدمی ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں ہمارے لیے تو اہم ہے ہی مگر آج سے پانچ سو سال بعد کے محققین کے لیے سونے میں تولنے کے قابل کام ہے۔

Labels: , ,


Monday, November 12, 2007

 

ایمرجینسی کی ڈائری



پیر، 12 نومبر، 2007
ایک وحشت کا عالم ہے۔
آج ایمرجینسی کا نواں دن ہے۔ تین نومبر، ہماری تاریخ کا وہ سیاہ دن جب جنرل پرویز مشرف نے ملک پہ نیا مارشل لا لگایا۔
ہم پاکستان سے بارہ گھنٹے پیچھے ہیں۔ اس وقت وہاں منگل کی صبح ہے۔ دیکھتے ہیں کہ بی بی کے جیالے بی بی کے گرد لگایا جانے والا پولیس کا نرغہ توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ مشرف حکومت کے خلاف بینظیر کا لانگ مارچ شروع ہوتا ہے یا نہیں۔



اتوار، نومبر گیارہ
ایمرجینسی کا آٹھوں دن۔
دوپہر میں دل بجھ گیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ اگر پرویز مشرف مخالفت کو دبانے میں کامیاب ہوگئے تو ملک کا کیا بنے گا۔ ہم کس قدر پیچھے چلے جائیں گے۔ پاکستان شمالی کوریا جیسا بند، گھٹن والا ملک بن جائے گا۔
دل بوجھل کرنے والا یہ خیال صبح کاشف کے ساتھ رانچو سان انٹونیو پارک میں ہائکنگ کرتے ہوئے آیا تھا۔ لوگوں کو احتجاج سے ڈرانے کے لیے مشرف حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عام شہریوں کو بھی فوجی عدالتوں میں پیش کیا جا سکے گا۔ گویا، ناپسندیدہ عام شہریوں کو عام قاعدے قوانین سے ہٹ کر ایسی عدالتوں میں پیش کیا جا سکے گا جہاں مقدمے کی سماعت فوجی کریں گے اور سخت سزائیں دیں گے۔ عام پاکستانی جو پہلے ہی ایک غریب ملک میں پیدا ہونے کے ناتے لاغر و ناتواں ہے، ایسی کڑی سزا کی موجودگی میں کسی مظاہرے، کسی احتجاج میں شرکت کے لیے کیوں جائے گا؟ اس کے تمام حقوق ضبط کر لیے گئے ہیں اور اسے بتایا جا رہا ہے کہ اگر اس نے چوں چرا کی کوشش کی تو اسے اس احتجاج کی کڑی سزا ملے گی۔ کہاں ہے انسانیت؟ کہاں ہے وہ بین الاقوامی برادری جو ہماری مدد کو آئے؟ انسان دوست ممالک احتجاج میں پاکستان سے اپنے سفارتی تعلقات کیوں منقطع نہیں کر لیتے؟ پاکستان کے سارے سیاست داں کیوں متحد نہیں ہوجاتے؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران احتجاج میں کیوں اعلان بغاوت نہیں کر دیتے، کیوں عوام کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کرتے؟
اب وکیلوں کی احتجاجی مہم کو بچانے کی امید صرف بے نظیر کے لانگ مارچ سے ہے۔ کچھ امید عمران خان سے بھی ہے کہ اگر وہ طلبا کو سڑکوں پہ لانے میں کامیاب ہو گئے تو شاید احتجاج کی فضا برقرار رکھ سکیں۔
شام تک میرا دل کچھ بہل گیا تھا۔ خبریں اچھی ہیں۔ لگتا ہے کہ بے نظیر اور ان کی پارٹی احتجاج میں قوم کو قیادت فراہم کریں گے۔ ضروری ہے کہ اس وقت تمام سیاسی اختلافات بھلا کر ہر اس مرد اور عورت کا ساتھ دیا جائے جو ایمرجینسی کے خلاف ہے۔





Labels: , ,


Wednesday, November 07, 2007

 

کیا پاکستانی قوم بے حس ہے






آئین کا سایہ قوم کے سر سے کھینچ لیا گیا ہے، مگر لوگ اب تک سڑکوں پہ نہیں آئے ہیں۔ کیا ہم بے حس ہیں؟ شاید نہیں۔ ہمارے پاس ایسے رہنما نہیں ہیں جن پہ ہمیں اعتماد ہو، جن کی قیادت میں ہم سڑکوں پہ آسکیں۔

تصویر: از عاطف ممتاز

Labels: ,


Tuesday, October 16, 2007

 

وادی سلیکان میں این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۷ کا کامیاب انعقاد






کس قدر آسان ہوتا ہے کسی شخص پہ اعتماد کرنا اگر آپ کے اور اس شخص کے درمیان ایک رشتہ ہو۔ اور اگر یہ رشتہ کسی تعلیمی ادارے سے وابستگی کی صورت میں ہو تو ایسے شخص سے مل کر ایک بہت مختلف خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ آپ نے جس علمی درس گاہ سے پڑھا ہے وہاں کے پرانے طلبہ۔ مختلف سالوں میں وہاں سے گزرنے والے لوگ۔ کہ جن دیواروں کا سہارا آپ نے کبھی لیا تھا یہ بھی ان کے سہارے کبھی بیٹھے تھے۔ کہ سخت دھوپ میں انہوں نے بھی انہیں درختوں کے نیچے پناہ لی تھی جن کے سائے سے آپ مستفید ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آپ کے اپنے ہیں۔ آپ ان پہ بھرپور اعتماد کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے حقیقی بہنوں بھائیوں سے بس ایک درجہ ہی پرے ہیں کہ ان کے اور آپ کے درمیان بھی ایک شفیق ماں ہے، اپ کی مادر علمی۔ ستمبر ۸ کے روز منعقد ہونے والے این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۷ کے بیشتر شرکا باہمی اعتماد اور سرشاری کے ایسے ہی ایک رشتے میں بندھے تھے۔
پورے دن پہ محیط اس کنوینشن کی دن کی کاروائیاں ٹیک مارٹ سینٹا کلارا میں ہوئیں جب کہ بعد مغرب کاروائی کرائون پلازا ہوٹل سان ہوزے میں ہوئی۔ دن کے اجلاس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد شریک ہوئے جب کہ شام کی محفل میں شرکا کی تعداد چارسو کے لگ بھگ تھی۔
شمالی امریکہ میں جامعہ این ای ڈی کے پرانے طلبہ کو سال میں ایک دفعہ کنوینشن کی صورت میں جمع کرنے کا سلسلہ دو سال پہلے شروع ہوا۔ اس قابل تحسین روایت کے بانی معین احمد صاحب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ۲۰۰۵ کا کنوینشن ہیوسٹن میں منعقد ہوا جب کہ ۲۰۰۶ کا نیوجرسی میں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پہ ان دونوں اجلاسوں کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
وادی سلیکان میں منعقد ہونے والے تیسرے سالانہ این ای ڈی کنوینشن کی تیاریاں اس سال کے آغاز سے ہی شروع ہو گئیں تھیں۔ این ای ڈی المنائی ایسوسی ایشن آف سلیکان ویلی نام کی ایک تنظیم رجسٹر کی گئی اور ریاض حق، اصغر ابوبکر، صفوان شاہ، زوئیب رنگ والا، فرید درانی، صباحت اشرف، ادریس کوٹھاری، عمران قریشی، اور دوسرے افراد پہ مشتمل ایک اسٹئیرنگ کمیٹی ہر ہفتے ملنے لگی اور انتظامات کی تفصیلات طے کرنے لگی۔ ستمبر ۸ کے روز مہینوں کی یہ محنت رنگ لائی اور ایک کامیاب کنوینشن منعقد ہوا۔
کنوینشن کا آغاز ریاض حق صاحب کے تعارفی خطاب سے ہوا جس میں انہوں نے کنوینشن کے بارے میں مختصرا بیان کرنے کے ساتھ پروگرام کے معاونین اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کیا۔
کنوینشن کے دن کے اجلاس کا صدارتی خطبہ تنویر عالم ملک نے دیا جو تنویر عالم محمدی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جامعہ این ای ڈی کو ایک ایسی بوڑھی ماں سے تشبیہ جو مستقل اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دے رہی ہے اور یہ بچے پلٹ کر اپنی بوڑھی ماں کو پوچھتے ہی نہیں۔ سوال یہ تھا کہ جامعہ این ای ڈی کے ان بچوں کو اپنی ماں کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ کیا ان سابقہ طلبہ کو این ای ڈی کو رقومات کا تحفہ دے کر احسان چکانے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس سوال کا جواب شام کے اجلاس میں ہود بھائی کی تقریر میں ملا، مگر ہم اس طرف بعد میں آئیں گے۔
کنوینشن کا پہلا مذاکرہ ایک پینل کی صورت میں تھا جس کا عنوان "این ای ڈی سے نیسڈیک" تھا۔ اس مذاکرہ کے شرکا ایسے نامور لوگ تھے جنہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے اس کاروبار کو عروج بخشا اور دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ پینل کے شرکا میں راغب حسین، سی ٹی او، کیویم نیٹ ورکس؛ راشاد علی، سی ای او، فائی ویو؛ عمار حنفی، جنرل پارٹنر، الائے وینچرز؛ ادریس کوٹھاری، بانی، ورٹیکل سسٹمز؛ ریحان جلیل، سی ای او، وائی کورس؛ اور امیر السلام، سی ای او، جرسی پری کاسٹ شامل تھے۔ شرکا نے سامعین کو کاروبار شروع کرنے سے متعلق اپنے تجربات پیش کیے۔
"این ای ڈی سے نیسڈیک" پینل کے اختتام پہ کھانے کا وقفہ ہوا جس کے بعد کنوینشن کی کاروائی پھر شروع ہوئی۔ "این ای ڈی: حکایت اور تاریخی سرمایہ" نامی پینل کی نظامت راشد علی بیگ نے کی۔ موصوف ۱۹۸۰ میں این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے صدر تھے۔ پینل میں شریف احمد، ایگزیکیوٹو بورڈ ممبر، این ای ڈی المنائی آف کینیڈا؛ ابوالسلام، سی ای او، اے آئی انجینئیرنگ؛ علی احمد مینائی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف سنسناٹی؛ ندیم حسین، این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے پرانے صدر؛ اکبر یونس انصاری، این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے پرانے صدر؛ اور معین احمد، بانی، این ای ڈی المنائی ایسوسی ایشن آف امریکہ، شامل تھے۔ کیونکہ پینل میں شامل کئی شرکا ۸۰ کی دہائی میں جامعہ این ای ڈی کے طلبہ رہے تھے اس لیے گفتگو اسی دور کے سیاسی حالات، پاکستانی جامعات میں تشدد کے واقعات، طلبہ تنظیموں کے درمیان حربی جھڑپیں، وغیرہ کے بارے میں رہی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان سے خفیہ طور پہ اسلحہ افغانستان میں روسیوں کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔ اسلحے کی اس پائپ لائن میں کئی سوراخ تھے اور ان سوراخوں سے رسنے والے اسلحے کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر فروغ پایا۔ اس طالب علم کو وہ دن یاد ہے جب جمعیت طلبہ اسلام کے پلیٹ فارم سے کئی سالوں کے بعد الطاف شکور اور مسعود محمود پی ایس ایف کے امیدواروں کو ہرا کر کامیاب ہوئے اور دوسری طرف سے غم و غصے کے اظہار کے لیے زبردست فائرنگ کی گئی۔
کنوینشن کی دن کی کاروائی کا آخری پینل "انجینئیرنگ سے پرے" کے موضوع پہ تھا۔ پینل میں ایسے لوگ شریک تھے جنہوں نے اپنی انجیئیرنگ تعلیم سے الگ ہٹ کر کوئی کام کیا تھا۔ شرکا میں صباحت اشرف، مصنف، بلاگر، سماجی کارکن؛ عارف منصوری، مالک، ہفت روزہ پاکستان لنک؛ عارف غفور، سیاسی اور سماجی کارکن؛ نبیہا محیدی، سابقہ صدر، انٹرنیشنل آرگینائزیشن آف پاکستانی وومن انجینئیرز؛ راشد یوسف، سی پی اے؛ اور ندیم مغل، آئی ٹی مشیر، شامل تھے۔ اس پینل کے اختتام کے ساتھ ہی کنوینشن کی دن کی کاروائی ختم ہوئی۔ چند گھنٹے کے وقفے کے بعد شرکا کرائون پلازا ہوٹل میں جمع ہوئے۔
کنوینشن ۲۰۰۷ نے این ای ڈی کے سابقہ طلبہ کو اپنے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا۔ کنوینشن میں شامل قدیم ترین طالب علم ڈاکٹر فرحت علی صدیقی تھے جنہوں نے ۱۹۶۸ میں این ای ڈی سے تعلیم مکمل کی تھی جب کہ جدید ترین فارغ التحصیل طالبہ قدسیہ مینائی تھیں جنہوں نے ۲۰۰۲ میں سند حاصل کی۔
کنوینشن میں ایک عجیب گہماگہمی تھی، توانائی تھی۔ لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اپنے پرانے ہم جماعتوں سے غیر موجود ساتھیوں کے متعلق استفسار کر رہے تھے۔
شام کے اجلاس میں سب سے پہلے لذیذ دیسی کھانا کھایا گیا اور پھر کنوینشن کے معاونین اور منتظمین میں انعامات تشکر تقسیم کیے گئے۔
کنوینشن کے منتظمین نے شام کے صدارتی خطبے کے لیےپاکستان سے خصوصی طور پہ معروف دانش ور پرویز ہود بھائی کو مدعو کیا تھا۔ ہود بھائی کی تقریر کا موضوع تھا "خیال کی طاقت۔" ان کی تقریر پرمغز تھی اور دل میں اترجانے والی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہود بھائی نے اپنی تقریر سے سامعین کو مسحور کر لیا۔ انہوں نے تقریر میں کہا کہ گو کہ خیال غیر مرئی ہوتے ہیں مگر ان کے اندر بلا کی طاقت ہوتی ہے۔ دشمن کی فوج کی یلغار کا سامنا کرنا ممکن ہے مگر ایک طاقتور خیال کو پسپا کرنا ممکن نہیں۔ اچھی جامعات ایسا سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں جہاں خیال فروغ پاتے ہیں اور جہاں ہر خیال کو سائنس کی کسوٹی پہ چھانا پھٹکا جاتا ہے۔ پرویز ہود بھائی نے افسوس ظاہر کیا کہ پاکستانی جامعات میں گھٹن کا ماحول ہے، وہاں کسی بھی نئے خیال کو مذہب کے نام پہ سر ابھارنے سے روکا جاتا ہے۔ ہود بھائی نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ حکومت اعلی تعلیم کے شعبے میں پیسہ پانی کی طرح بہا رہی ہے مگر اکثر صورتوں میں یہ اسراف کے سوا کچھ نہیں کہ رقم خرچ کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کی سوچ سمجھ نہیں اختیار کی گئی ہے۔
پرویز ہود بھائی کی تقریر کے اختتام پہ سامعین نے کھڑے ہو کر تالیوں سے ان کی گفتگو کی ستائش کی۔۔
اب باری تھی شازیہ مرزا کی جو مزاح نگاری کے اس جدید ترین انداز سے وابستہ ہیں جسے اسٹینڈ اپ کامیڈی کہا جاتا ہے۔ شازیہ مرزا انگلستان میں رہتی ہیں اور اس کنوینشن کے لیے خاص طور پہ بلائی گئیں تھیں۔
کیونکہ شازیہ مرزا کی مزاح نگاری کو ستمبر ۱۱ کے واقعے کے بعد مقبولیت ملی اس لیے سامعین کا خیال تھا کہ شازیہ مرزا کے مزاح کا رخ "تشدد کے خلاف جنگ" ہوگا مگر شازیہ مرزا نے ایسے خاکے پیش کیے جو جنسیات، کنوارا پن، وغیرہ سے متعلق تھے۔ سامعین میں موجود بہت سے لوگوں کی نظروں میں یہ مذاق چھچھورا تھا۔ محفل میں اس وقت ایک بدمزگی کی کیفیت پیدا ہو گئی جب منتظمین نے شازیہ مرزا کو ان اعتراضات سے بلند آواز مطلع کر دیا۔ اس سرزنش پہ شازیہ مرزا گڑبڑا گئیں۔ شاید وہ ایک ہی طرح کے مذاق کی تیاری سے آئی تھیں۔ پھر شازیہ مرزا جتنی دیر اسٹیج پہ رہیں اسی تذبذب کا شکار رہیں کہ وہ سامعین کو کس قسم کا مزاح سنائیں جسے سامعین گھٹیا نہ جانیں۔
شازیہ مرزا کے مزاحیہ خاکوں کے بعد اسٹیج موسیقاروں نے سنبھال لیا۔ آصف حق، ڈاکٹر سیما منہاج، شائق چشتی، ندیم ولی محمد، منیش جج، نوراللہ لودھی عرف شونو، اور دوسرے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور حاضرین سے داد وصول کی۔
محفل موسیقی کے اختتام پہ شازیہ مرزا ایک دفعہ پھر اسٹیج پہ آئیں اور مزید مزاحیہ خاکے پیش کیے۔ یوں کنوینشن کا اختتام رات ایک بجے کے بعد ہوا۔
کنوینشن کامیاب رہا اور یار دوستوں کو مل بیٹھنے کا ایک بہانہ مل گیا مگر سوال یہ ہے کہ اس کنوینشن سے جامعہ این ای ڈی کو کیا ملا۔ کیا یہ یوں ہی ہوتا رہے گا کہ لوگ آئیں گے، بیٹھیں گے، باتیں کریں گے اور پھر اپنی اپنی مصروف زندگیوں میں جت جائیں گے۔ بھول جائیں گے ان لوگوں کو، ان اداروں کو جن کے احسانات سےبوجھل ہونے کا احساس انہیں رات دن ہونا چاہیے۔
کنوینشن میں شریک بہت سے لوگوں کو منتظمین سے امید ہے کہ وہ این ای ڈی کے نام پہ ہونے والے اس پروگرام سے اپنی مادر علمی کی منفعت کا بھی کوئی سامان کریں گے۔

Labels: , ,


Sunday, September 02, 2007

 

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے



بات کچھ پیچیدہ ہے مگر اس کا سمجھنا ضروری ہے۔
ایک جرنیل ہے جو صدارت کی کرسی سے چمٹا رہنا چاہتا ہے۔ ایک سیاسی رہنما خاتون ہیں جو ہر قیمت پہ تیسری دفعہ وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں اور جن کا خیال ہے کہ موجودہ فوجی صدر کو اس حد تک امریکہ کی حمایت حاصل ہے کہ انہیں طاقت کی مساوات میں شامل کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔
چنانچہ ہنوز غیر طے شدہ پیچیدہ معاہدہ کچھ یوں ہےکہ اگر جرنل پرویز مشرف چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے دست بردار ہوجائیں، ایسے شفاف انتخابات کروائیں جن میں پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کرے، اور ایسی آئینی تبدیلیاں کروائیں جائیں جن کی رو سے بے نظیر بھٹو تیسری دفعہ وزیر اعظم بن سکیں تو بے نظیر بھٹو اپنی پارٹی کی مدد سے پرویز مشرف کو صدارت کے عہدے پہ فائز رکھیں گی۔
معاہدہ اب تک طے نہیں پایا ہے بلکہ اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو پائے، تاہم اقتدار سے متعلق ایسے کسی معاہدہ کی خبر بھی، جو پاکستان سے باہر بالا بالا ہو جائے، ہر پاکستانی کے منہ پہ ایک زور دار چانٹا ہے۔چانٹا یہ کہہ کر مارا جارہا ہے کہ تم جو کہ ایک عام پاکستانی ہو کسی حیثیت کے مالک نہیں ہو، تم پہ کون حکومت کرے گا اس فیصلے میں تمھارا کوئی دخل نہیں ہے، یہ سارے معاملات تم سے بالاتر ہیں اور یہ تم سے بالاتر ہی طے کیے جائیں گے۔
مگر لگتا ہے کہ پاکستانی عوام اب ایسی کوئی ذلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ہم سب بہت دلچسپی سے یہ معاملات دیکھ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھتا ہے۔



Saturday, August 25, 2007

 

قرہ العین حیدر




میں باقاعدگی سے ڈائری لکھتا ہوں۔ میری اس سال کی ڈائری میں مارچ پچیس اور چھبیس کے دن ناامیدی سے عبارت ہیں۔ ایسی ناامیدی کہ جس کا احساس اس سمے نہ تھا مگر آج ہے۔ کہ ان تاریخوں میں میں دلی میں تھا مگر اپنی خواہش اور ارادے کے باوجود قرہ العین حیدر سے نہ مل پایا۔
قرہ العین حیدر دنیا سے گزر گئیں۔
مگر ان کی تحریریں ہمارے پاس موجود ہیں، زندہ ہیں۔ ، اور زندہ رہیں گی۔
اور یہی آرٹسٹ کا کمال ہے کہ وہ اپنے پیچھے ایسا خزانہ چھوڑ جاتا ہے کہ جس سے لوگ مستقل مستفید ہوتے رہتے ہیں اور اس استفادے کی بنیاد پہ آرٹسٹ کو یاد رکھتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ادب کیا ہے اور قرہ العین حیدر کا فن ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟
ادب زندگی کی کہانی ہے۔ زندگی کے تمام موضوعات ادب کے موضوعات ہیں۔ خوشی، غم، موت، پیدائش، نفرتیں، محبتیں، جنسی تعلقات، رقابتیں، رنجشیں، جشن۔ ادب ان تمام موضوعات اور ان کے متعلق خیالات اور محسوسات کا محاکمہ کرتا ہے۔
انسان کو اپنے آغاز کی جستجو ہے۔ وہ اپنی انتہا کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ ادب اپنے آپ کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔
جب جب ایک انسان دوسرے انسان سے معاملہ کرتا ہے، ایک کہانی جنم لیتی ہے۔ انسان سے انسان کے معاملے کے بہت سے دائوپیچ ہیں۔ اور ہر دائو پیچ کی ایک الگ جہت ہے۔ کبھی مرد اور عورت کے تعلقات کی گہماگہمی ہے، کبھی لوگون کا نسل، زبان، مذہب، یا تمدن کی بنیاد پہ ٹکرائو ہے۔
زندگی شروع کیسے ہوئی ، یہ ایک راز ہے۔ مگر ایک دفعہ زندگی کے آغاز کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ارتقائی عمل کے سہارے آگے بڑھتے بڑھتے حال کے اس لمحے تک پہنچنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ کہ ارتقائی عمل کا لاکھوں برس جاری رہنا اور پھر انسان کا درختوں سے نیچے اتر آنا۔
پھر لاکھوںسال پہلے لوسی کے بچوں کا افریقہ سے نکلنا اور دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل جانا۔ کچھ لوگوں کا برفانی علاقوں میں بس جانا، اور کچھ کا گرم و مرطوب علاقوں میں رہ جانا۔ اور پھر ان مختلف گروہوں کا ان جغرافیائی خطوں میں ہزاروں سال رہتے رہنا۔ اور ان جغرافیائی خطوں کی آب و ہوا کا وہاں رہنے والوں کے جسموں پہ اثرانداز ہونا۔ اور یوں چند ہزار سالوں کے ایک دوسرے سے بچھڑنے پہ لوگوں کا نسلوں میں بٹ جانا۔ اور پھر جب لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا تو طویل عرصے پہلے اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کی شکلیں دیکھ کر حیران ہونا۔ اور پھر نسلی فرق کو لڑائی جھگڑے کا سبب بنا لینا۔ اور اس سے ایک کہانی کا جنم لینا۔
اور ایک اور جہت یہ کہ انسان کا بستیوں کی صورت میں بسنا۔ اور زراعت دریافت کرنا۔ اور غلہ بانی کے طریقے جان جانا۔ اور پھر کھانے پینے کا سہارا ہوجانا تو زندگی کا مقصد تلاش کرنا۔ اور پھر اپنی سوچ سے خدا تک پہنچنے کی جستجو کرنا۔ اور سوچ کے ان راستوں کو مختلف مذاہب کی شکل دینا۔ اور پھر ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے مذہبی اختلاف پہ لڑنا۔ اور اس سے ایک اور کہانی کا جنم لینا۔
اور ایک اور جہت وہ کہ انسان کا دوسرے جانوروں پہ اس طرح بھاری ہونا کہ منہہ سے نکلنے والی آوازوں کو طرح طرح کی صوتی شکلیں دینا۔ اور پھر بولی ایجاد کرنا۔ اور پھر پرتنوع حالات میں اس ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنا۔ اور پھر ایک انسانی گروہ کا دوسرے انسانی گروہ سے سامنا ہونا تو زبان کی بنیاد پہ ایک دوسرے سے لڑجانا۔ اور اس لڑائی سے ایک اور کہانی کا جنم لینا۔
اور ایک اور جہت وہ کہ انسان کا اپنے جسم کو سردی اور دھوپ سے بچانے کے لیے پتوں سے ڈھانپنا۔ اور بزاروں سال کے عمل سے کپڑے ایجاد کرنا۔ اور پھر اپنے اپنے علاقوں کی آب و ہوا کے حساب سے ان کپڑوں کی تراش خراش کرنا۔
اور پھر اپنے گروہ کو دوسرے گروہ کے حملے سے محفوظ کرنے کے لیے سیاسی نظام وضع کرنا۔ اور معاشرے میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے اخلاقی اقدار وضع کرنا۔ اور پھر زبان، رہن سہن، سیاسی نظام اور اخلاقی اقدار کو اپنی ثفاقتی پہچان بنا لینا۔ اور پھر ایک انسانی گروہ کا دوسرے انسانی گروہ سے ثقافتی فرق پہ لڑجانا۔ اور اس محاذ آرائی سے ایک اور کہانی کا جنم لینا۔
جب جب ایک انسان دوسرے انسان سے معاملہ کرتا ہے، ایک کہانی جنم لیتی ہے۔ ادب انسانی معرکوں کی اس وسیع کائنات پہ محیط دستاویزہے۔
قرہ العین حیدر کا فن یہ ہے کہ انہوں نے ادب کے اس وسیع و عریض کینوس کے مختلف گوشوں پہ اپنی جاندار تحریروں سے خوب صورت نقش نگاری کی ہے۔


Saturday, August 18, 2007

 

ساٹھ سال




میں اکثر اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ لوگ اپنی شناخت کے سلسلے میں دوسروں کے دیے ہوئے ناموں کواپنے آپ سے یوں والہانہ کیوں چمٹا لیتے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہندو ہیں،یا پاکستانی ہیں،یا مسلمان ہیں، یا بنگلہ دیشی ہیں اور وہ یہ باتیں بغیر سوال کیے مان جاتے ہیں۔ پھر وہ اس شناخت پہ اتراتے ہیں، فخر کرتے ہیں، اور دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

یہ تو محض اتفاق ہے کہ آپ کسی گروہ میں پیدا ہوگئے۔ پھر اس گروہ کی شناخت کو اپنی شناخت بنا لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟
شناخت کے یہ لیبل، یہ بھاری بھرکم پیراہن تو دراصل خود سلاسل ہیں بیڑیاں ہیں جو انسان کو ماضی کی زنداں میں مقید رکھتی ہیں۔
کہ انسان اپنی اصل شناخت تو خود بناتا ہے۔
کہ خود آگہی کا یہ سفر آپ طے کرنا ہے، کسی سہارے کے بغیر، اپنے شعور کی صلیب خود اپنے کاندھے پہ ڈال کر آگے بڑھنا ہے۔
اور خود آگہی اور خود شناسائی کے اس سفر میں ایک ایک قدم آگے بڑھتے جب انسان اوروں کے پہنائے شناخت کے پیراہن اتارتا جاتا ہے، پھینکتا جاتا ہے، تو آزاد ہوتا جاتا ہے۔

Labels: ,


Saturday, August 11, 2007

 

ایک اور شکست



پچھلے دنوں پورا پاکستان غیر یقینی کا شکار رہا۔ صدر کا کیا موڈ ہے؟ ایمرجینسی نافذ ہو جائے گی یا نہیں؟ ہر طرف افواہیں اور قیاس آرائیاں تھیں۔
جب ملک کا انتظام مشاورت سے نہ چل رہا ہو بلکہ صرف ایک آدمی کے ہاتھ میں مکمل اختیارات ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

اب خبر ہے کہ صدر کا دل ایمرجنسی نافذ کرنے کا تھا مگر وہ ایسا نہ کر پائے۔
لگتا ہے کہ موجودہ فوجی حکومت کو ایک اور مات ہوئی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے لوگوں کو تعلیم دینے اور ان میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کیا ہے۔ اور لوگوں کے اسی سیاسی شعور کا نتیجہ ہے کہ پہلے چیف جسٹس اپنے عہدے پہ بحال ہوئے اور اب حکومت کی مرضی کے باوجود ایمرجنسی نہ لگ پائی۔
اگر اسی طرح مطلق العنانی کو یکے بعد دیگرے پسپائی ہوتی رہی تو اس بات کا امکان ہے کہ ملک موجودہ دلدل سے نکل آئے گا اور جمہوریت کی راہ پہ چل پڑے گا۔
پھر اگلے انتخابات کے بعد یہ بوجھ چنیدہ عوامی نمائندوں پہ ہوگا کہ وہ اس انصاف سے حکومت کریں کہ لوگ پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت پہ احتجاج کریں نا کہ ماضی کی طرح فوج کے ہاتھوں جمہوریت کا دم گھونٹے جانے پہ مٹھائیاں بانٹنا شروع کر دیں۔

 

ہماری دنیا کی معاشی ناہمواری



اس دنیا میں کس قدر تضادات اور ناہمواریاں ہیں۔ ایک طرف بھوکےاور مفلوک الحال لوگ ہیں اور دوسری طرف کروڑوں ڈالروں کی لاگت سے تیار کیا جانے والا ایک نیا مریخ روور زمین سے مریخ جانے کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ فینکس مریخ لینڈر نامی یہ روور ایک راکٹ پہ سوار زمین سے باہر خلا میں پہنچ چکا ہے اور اگلے سال مئی میں مریخ پہ اترے گا۔ واضح رہے کہ ساڑھے تین سال قبل مریخ پہ پہنچنے والے دو روور اسپرٹ اور آپرٹوینٹی اب تک مریخ پہ سرگرم ہیں، باقاعدگی سے تجربات کر رہے ہیں اور تصویریں روانہ کر رہے ہیں۔

میں کبھی اس شاعر سے متفق نہیں رہا جس کا کہنا تھا کہ،
چاند کا دشت بھی آباد کبھی کر لینا
پہلے اس زمیں کے اجڑے ہوئے گھر تو دیکھو

ہماری یہ دنیا ان ہی تضادات اور ناہمواریوں کے ساتھ رواں دواں رہے گی۔ بلکہ اس بات کا امکان ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی خلائی مہمات سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ ہمارے اس سیارے کی معاشی ناہمواریوں کے بارے میں غور کریں اور انہیں کم کرنے کے لیے کام کریں۔

Saturday, July 28, 2007

 

ایک خطرناک خود تکمیلی پیش گوئی



پاکستان کے مستقبل کی جنگ تیزتر ہو گئی ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ جب کسی خودکش حملے، کسی بم دھماکے، کسی حربی جھڑپ کی خبر نہ آئے۔۔
کہنے کو تو خوں ریزی میں موجودہ تیزی کے ذمہ دار جنرل پرویز مشرف ہیں جہنوں نے اپنے فائدے کے لیے لال مسجد کے خلاف ایک پر تشدد راستے کا انتخاب کیا اور اب ملک کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
مگر بات اس سے بھی پرانی ہے۔ اس واقعے کی ایک منزل گیارہ ستمبر کے فورا بعد ملتی ہے کہ جب امریکی حکومت نے القاعدہ کا ہوا کھڑا کیا۔ اور پھر افغانستان پہ حملہ کر کے طالبان کی حکومت کو زبردستی ختم کیا۔ طالبان کی حکومت یقینا فرسودہ خیالات رکھتی تھی مگر بدقسمتی سے وہ اس علاقے کی اکثریت کے نظریات کی ترجمانی کرتی تھی۔ ایک ایسی حکومت کو زور و زبردستی سے ختم کرنا جسے عوامی حمایت حاصل ہو یقینا دانشمندی نہیں اور طویل مدت میں کامیاب حکمت عملی نہیں ہے۔
وقتی پسپائی کے بعد طالبان دوبارہ متحد ہو گئے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔
پھر امریکی حکومت نے ایک اور حماقت کی۔ اس نے اپنے ذہن میں طالبان کو القاعدہ سے جوڑ دیا۔ حالانکہ طالبان میں اتنی سمجھ بوجھ ہی نہیں تھی کہ وہ اپنے ملک سے باہر کسی چیز کے بارے میں غور کر سکیں۔
نفسیات میں ایک اصطلاح ہے سیلف فل فلنگ پروفیسی، یعنی خود تکمیلی پیش گوئی۔ گویا ایک پیش گوئی کی جائے اور اس کو یوں اپنے اور دوسروں کے ذہن پہ طاری کیا جائے کہ وہ رفتہ رفتہ حقیقت بن جائے۔
امریکی حکومت کے پاس القاعدہ کا جو ذہنی خاکہ ہے کہ کس طرح وہ ایک منظم جماعت ہے جسے بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور جو یہ طاقت رکھتی ہے کہ ہزاروں میل دور سے لوگوں کو بھیج کر امریکہ میں دہشت گردی کروا سکے، ایک ایسی ہی خود تکمیلی پیش گوئی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت بنتی نظر آ رہی ہے۔

Saturday, July 21, 2007

 

پرانے گھر کے بدلتے موسم



پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرینس رد کر تے ہوئے انہیں اپنے عہدے پہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس خوش آئند فیصلے کے آثار کچھ عرصہ پہلےملنا شروع ہو گئے تھے جب حکومت نے افتخار چوہدری کے خلاف بہت سے الزامات واپس لے لیے تھے۔
پاکستانی وکلا اور جمہوریت دوست لوگوں نے اس فیصلے پہ خوشی کا اظہار کیا ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ عدلیہ نے اپنی آزادی پہ مہر ثبت کر دی ہے۔ دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے یہ پورا عمل، یعنی چیف جسٹس کو غیر فعال بنانا، اور پھر وکلا کی مہم ملک کے لیے اچھا تجربہ ثابت ہوا۔ ایک تو تمام ججوں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ لوگوں کی ان سے توقعات بہت بلند ہیں اور ان سے کسی بھول چوک کی امید نہیں ہے۔ اور پھر اس پورے واقعے سے نہ صرف موجودہ فوجی حکومت کوبلکہ آئندہ آنے والے تمام حکمرانوں کو یہ احساس رہے گا کہ اب پاکستانی عوام کا سیاسی شعور بہت پختہ ہے اورعدلیہ کو حکومتی دبائو کے ذریعے قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔
اب کھیل کا اگلا رائونڈ ستمبر میں ہو گا جب جنرل پرویز مشرف موجودہ اسمبلیوں سے دوسری بار صدارتی مدت کا فیصلہ لینا چاہیں گے۔ اگر اسمبلیاں انہیں یہ اجازت نہیں دیتیں اور وہ فوج کی طاقت کو عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے یہ فیصلہ قبول کرلیتے ہیں تو یہ خوش خیالی بے جا نہ ہوگی کہ پاکستانی فوج نے عوام کے جذبات کو پڑھ لیا ہے۔ وہ سمجھ گئی ہے کہ فوج کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ اور ملک اور خود فوج کی عافیت اسی میں ہے کہ پاکستانی فوج رفتہ رفتہ پیچھے ہٹے اور اقتدار جمہوری طاقتوں کے حوالے کر دے۔

Saturday, July 14, 2007

 

تشدد کا پھیلتا دائرہ




لال مسجد میں فوج کا آپریشن ختم ہو چکا ہے۔ سو سے اوپر لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور مسجد اور مدرسہ خالی کرائے جا چکے ہیں۔ بظاہر یہ اختتام موجودہ پاکستانی حکومت کی جیت ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس نے مذہبی انتہا پسندوں کو ایک اچھا سبق سکھا دیا ہے۔ اور آئندہ کسی مدرسے کو یہ ہمت نہ ہوگی کہ وہ اپنے طور پہ شریعت کے نفاذ کی کوشش کرے۔
مگر جیت کا یہ احساس محض خام خیالی ہے۔ اس بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ تشدد سے وقتی طور پہ اپنی بات تو منوائی جاسکتی ہے مگر لوگوں کے دل نہیں جیتے جا سکتے ۔

لال مسجد والوں نے زور و زبردستی کا ایک راستہ اپنایا تھا جس سے لوگ متنفر تھے۔ ویسا ہی زور و زبردستی کا راستہ پاکستانی حکومت نے بھی اپنایا۔ اور اب یقینا لال مسجد کے حامی لوگ اس تشدد سے متنفر ہوں گے۔

تشدد کا یہ پھیلتا دائرہ طویل مدت میں ملک کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہوگا، اس بات کا فیصلہ صرف وقت کرے گا۔


Tuesday, July 03, 2007

 

کالی مسجد



جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے متعلق تشویشناک خبریں ایک عرصے سے اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے منتظمین اور طلبا کا خیال ہے کہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ صحیح اسلام کیا ہے۔ یہ لوگ اپنی مرضی کا "صحیح اسلام" پاکستان میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ مسجد اور مدرسے سے تعلق رکھنے والوں نے اسلام نافذ کرنے والی اس مہم میں لوگوں کو ان کے گھروں سے اغوا کیا ہے، اور پولیس والوں کو بھی زدوکوب کیا ہے۔
پاکستانی حکومت ملک کے دارالحکومت میں ایسی ریاست مخالف کاروائیاں کیسے برداشت کر رہی ہے، لوگوں کو قانون سے کھیلنے کی اجازت کیوں دے رہی ہے، اس بارے میں دو رائے ہیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے خود جان بوجھ کر اس آگ کو بڑھنے کا موقع دیا ہے۔ مغربی سفارتکاروں کو وزیرستان لے جا کر مذہبی شدت پسندوں کی نمائش کروانا مشکل کام تھا، جامعہ حفصہ نے یہ موقع اسلام آباد میں ہی فراہم کر دیا جو جرنل نے چالاکی سے قبول کیا۔
اگر واقعی ایسا ہے تو صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہر ایسے معاملے کو آگے بڑھنے دینے سے اس طرح کا ذہن رکھنے والے دوسرے لوگوں کو شہ ملے گی اور طویل مدت میں ملک کے لیے یہ خطرناک بات ثابت ہو گی۔
ایک دوسری رائے یہ ہے، اور جو دل کو لگتی ہے کہ، حکومت چلانے والے لوگ نااہل ہیں، وہ کسی قسم کی کوئی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے اور اقتدار کے مزے لوٹنے کا ہر وہ روز جو چین سے گزر جائے ان کے لیے غنیمت ہے۔ یہ نااہل لوگ مسائل کو ان کے نمودار ہونے پہ حل نہیں کرتے بلکہ انہیں دیکھ کر آنکھیں موند لیتے ہیں۔

لال مسجد کا مسئلہ آنکھیں بند کرنے سے حل ہونے والا نہ تھا۔ چنانچہ منگل کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مدرسے کے طلبہ کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئیں اور نو افراد ہلاک ہو گئے۔
اب خبر آئی ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے گرد پولیس نے ناکہ سخت کر دیا ہے اور لال مسجد کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا پہلے کیوں نہیں کیا گیا۔
اب بھی وقت ہے کہ حکمت عملی سے ایک انسانی جان بھی لیے یا دیے بغیر اس معاملے کو ٹھنڈا کیا جائے۔
بجلی کاٹنا ایک اچھا فیصلہ تھا، اب بات اور آگے بڑھائی جائے۔ مسجد اور مدرسے کا پانی اور فون بھی کاٹ دیا جائے۔ محاصرہ ایسا سخت کیا جائے کہ پولیس کی مرضی کے بغیر محاصرہ شدہ علاقے میں نہ کوئی اندر جا سکے اور نہ وہاں سے باہر نکل سکے، تاکہ یقین کیا جاسکے کہ اسلحے یا غذا کی کوئی کمک اندر نہ پہنچ پائے گی۔
پھر ریڈیو اور ٹی وی سے اعلان کیا جائے کہ وہ والدین جن کے لڑکے لڑکیاں مسجد اور مدرسے میں ہیں اور وہ اپنی اولاد کی سلامتی چاہتے ہیں محاصرہ شدہ علاقے میں آ کر اپنی اولاد سے اپیل کریں کہ وہ ایک ایک کر کے محاصرہ شدہ علاقہ چھوڑ دیں۔ ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے خاص احکامات ہوں کہ وہ کس جگہ آئیں گے، کس طرح اپنا نہتا پن ثابت کریں گے اور پھر پولیس کے اہل کار انہیں اپنی تحویل میں لیں گے۔ زبردست محاصرہ رات دن قائم رکھا جائے۔ بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر، بجلی اور پانی کے بغیر مسجد اور مدرسے میں موجود افراد چند دن سے زیادہ اپنی ضد قائم نہ رکھ پائیں گے اور ہتھیار ڈال دیں گے۔

مذکورہ مسجد اسلام کے نام پہ ایک کالا دھبہ ہے۔ اس مناسبت سے اس مسجد کا نام بدل کر اب کالی مسجد رکھ دینا چاہیے۔

 

مواقع



کراچی میں مون سون کے موسم سے پہلے ہونے والی بارش اور ساتھ میں چلنے والی شدید آندھی سے دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ دوسو افراد ہمارا بہت بڑا سرمایہ تھے۔ ان کے اندر کتنا استعداد، کتنی صلاحیتیں تھی نہ جانے کیا کچھ کرنے کی۔ یہ دو سو لوگ ایک دن میں چٹ پٹ ہو گئے۔ کتنا بڑا نقصان ہے یہ قوم کا۔ پھر اس کے بعد بلوچستان میں آنے والے سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ابھی گنی ہی جا رہی ہے۔
انسان کا بستیوں کی شکل میں رہنا تہذیب کی پہلی منزل ہے۔ کہ اس منزل پہ انسان کو بستیوں میں رہنا تو آتا ہے مگر بستیوں کا انتظام یوں کرنا نہیں آتا کہ وہ قدرتی آفات میں بخوبی پنپ سکیں۔
پھرایسی بستیاں ہیں جہاں کا انتظام اچھا ہے۔ آندھی طوفان سے ان کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے مگر کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔ یہ تہذیب کی دوسری منزل ہے۔
مجھے تہذیب کی اس تیسری منزل کا انتظار ہے کہ جب ہم آندھی طوفان سمیت ہر قدرتی تبدیلی کو جنہیں اب تک آفات کا نام دیا جاتا ہےعطیات تصور کریں گے۔ ہم یہ جان لیں گے کہ ہم ہر قدرتی تبدیلی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اپنا بھلا کر سکتے ہیں۔ پھر جیسے ہی محکمہ موسمیات خبر دے گا کہ تیز ہوا چلنے کا امکان ہے تو لوگ جلدی سے اپنی اپنی پن چکیاں نکال لیں گے اور انہیں لگا کر ہوا کی طاقت کو نچوڑ لیں گے۔ وہ سارے معاملات جو پہلے مرحلے میں عذاب، دوسرے مرحلے میں محض دردسر لگتے تھے، اب اس تیسرے مرحلے میں قدرت کا انمول خزانہ نظر آئیں گے۔

Thursday, June 21, 2007

 

احمد فراز سے ایک ملاقات






پاکستان سے کوئی اہم شخصیت یہاں آئے تو پاکستانی نژاد لوگ فورا اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ شاید امریکہ میں رہنے دوسرے ملکوں کے تارکین وطن بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔
جناب احمد فراز صاحب ان دنوں سان فرانسسکو بے ایریا میں ہیں۔ وہ محترمہ عینی اختر کے گھر رہائش پذیر ہیں۔ کل عینی اختر کے گھر احمد فراز صاحب سے ایک اچھی ملاقات ہوئی۔ گو کہ عینی اختر کی خواہش تھی کہ موضوع گفتگو صرف اردو ادب اور شاعری رہے مگر پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ چار پاکستانی ایک جگہ جمع ہوں اور سیاست پہ بات نہ ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ زیادہ تر گفتگو پاکستان کے سیاسی حالات اور مستقبل پہ ہی ہوتی رہی۔ مجھے ایک ایسے احمد فراز کو جاننے کا موقع ملا جو پاکستان سے شدید محبت کرتا ہے، خون ریزی کے امکانات سے خائف ہے، اور ملک کی موجودہ جغرافیائی حدود میں کوئی ردوبدل نہیں دیکھنا چاہتا۔

مزید تصاویر یہاں دیکھیے:
http://karachiphotoblog.blogspot.com/

Labels:


Wednesday, June 20, 2007

 

اچھی حکومت کی تلاش



چند ہی روز پہلے میری بات فون پہ پاکستان میں ان لوگوں کے ساتھ ہو رہی تھی جن کے ساتھ میں آج کل کام کررہا ہوں۔ کراچی میں بلا کی گرمی پڑ رہی تھی اور اس کے ساتھ بجلی بارہ بارہ گھنٹے غائب تھی۔ میرے ساتھ کام کرنے والے وہ لوگ بہت پریشان تھے اور یہ پریشانی ان کا مقدر صرف اس لیے بنی ہے کہ وہ ایک نااہل حکومت کے زیراثر زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ بات کی تہہ تک جائیں تو دراصل ملک سے فرار ہونے والے ہم سب لوگ نااہل اور کم عقل حکمرانوں سے ہی تو بھاگے ہیں۔
زمانہ قدیم میں لوگ ایک اچھے بادشاہ کی دعا مانگا کرتے تھے۔
اچھا بادشاہ میسر آجائے تو رعایا خوش ہو جاتی تھی اور لوگ بادشاہ کی درازی عمر کی دعائیں مانگتے نہ تھکتے تھے۔ اور اچھا بادشاہ ہونے کی کسوٹی یہ نہ تھی کہ بادشاہ اپنے خزانے سے لوگوں کو مفت چیزیں بانٹے۔ بلکہ اچھا بادشاہ وہ تھا جس کے دور میں لوگ محفوظ محسوس کریں اور کوئی انہیں تنگ نہ کرے۔ لوگ محنت سے کام کرنا چاہیں اور حق حلال سے اپنا حصہ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں ایسا کرنے دیا جائے۔ ایک ایسا بادشاہ جو اصول و قانون سے ملک کا انتظام چلائے اور انصاف سے حکومت کرے۔
پھر زمانہ آگے بڑھا اور یہ خیال ہوا کہ حاکم اپنی مرضی سے نہ آئے بلکہ ایک شوری کی مرضی سے چنا جائے۔ اور کم و بیش ایسا ہونے لگا۔ پھر بات اور آگے بڑھی، بادشاہت کا زمانہ ختم ہوا اور پڑھے لکھے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ خاموشی سے بیٹھ کر ایک ایسے مطلق العنان کی راہ دیکھنا جو منصف بادشاہ بن کر حکومت کرے بہت بڑا جوا ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ مشاورت کا ایسا وسیع نظام قائم کیا جائے جس میںسب کے مشورے سے ایک شخص کو محدود مدت کے لیے حکمرانی کا اختیار دیا جائے اور حکمران کو مسقل احتساب کے عدسے میں رکھا جائے۔ مشاورت کے اسی انتظام کا نام جمہوریت ہے۔
آج دنیا بھر میں لوگ زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک کے مختلف نظریات حاکمیت کے تحت اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔
مگر نظام حکومت کسی طرز کا ہو، عوام کی توقعات وہی پرانی ہیں۔ انہیں ایسا حاکم چاہیے جو انصاف سے حکومت کرے، نظام مملکت چلانے کا اہل ہو، اور لوگوں کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے۔
وہ سارے ممالک جہاں سے لوگ نکل نکل کر بھاگ رہے ہیں ایسے ہی ہیں جہاں حکومت نااہل اور غیر منصف ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ایسی جگہوں پہ کیا کام کیا جائے کہ وہاں کے لوگوں کو اس نااہلی سے بچا لیا جائے۔ اس سوال کے کئی جوابات ممکن ہیں۔ ایک جواب، ایک حل میرے پاس بھی ہے جو میں اس خیال کی اگلی قسط میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔


Saturday, June 09, 2007

 

پاکستان کے دو سیاست دانوں کے درمیان دلچسپ قانونی جنگ


پاکستانی سیاست دان عمران خان اس وقت لندن میں ہیں جہاں وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پہ دہشت گردی کا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ بارہ مئی کے روز کراچی میں ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کے کارکنوں پہ گولیاں چلائیں اور انہیں ہراساں کیا۔ اور یہ سب کچھ الطاف حسین کے کہنے پہ کیا گیا۔
اگر انگلستان میں عمران خان کا مقدمہ الطاف حسین کے خلاف دائر ہو گیا تویہ پاکستان کے لیے ایک انوکھی بات ہوگی۔ اہل اقتدار تو اپنے حریفوں کے خلاف مقدمے کر کے انہیں کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر دو حریف سیاست دان کے درمیان یہ قانونی جنگ ایسا پہلا تجربہ ہوگی۔
کوئی باشعور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مئی ۱۲ کی خونریزی میں ایم کیو ایم کا بہت بڑا حصہ نہیں ہے۔ کون یہ حقیقت فراموش کر سکتا ہے کہ وکیلوں کی ریلی دو ماہ سے طے تھی جب کہ ایم کیو ایم نے ٹھیک بارہ مئی کے روز ریلی کرنے کا فیصلہ صرف چار دن پہلے کیا؟ اسی دن ریلی کرنے کے فیصلے کے پیچھے دوسری ریلی کو دبانے کے علاوہ اور کیا خیال ہو سکتا تھا؟
اگر آپ کا تعلق کراچی سے ہے اور آپ نے پچھلے پندرہ سالوں میں کراچی میں بہت وقت گزارا ہے تو یہ بات یقینا آپ کے علم میں ہوگی کہ ایم کیو ایم کے اندر غنڈہ گرد عناصر بھرپور طریقے سے موجود ہے۔ ایم کیو ایم کی یہی وہ طاقت ہے جس سے کراچی کے لوگ خوفزدہ رہتے ہیں اور الطاف حسین پہ کسی قسم کی تنقید سے گھبراتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایم کیو ایم خود اپنی تطہیر کرتی اور غنڈہ گرد عناصر کو جماعت سے باہر نکال دیتی۔ اب جب کہ ایم کیو ایم نے خود یہ کام نہیں کیا تو دوسرے یہ کام کر رہے ہیں۔ اور کراچی کے عوام کو اس بات پہ عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ الطاف حسین کے خلاف قانونی کاروائی کرنے سے کراچی میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک ٹوٹ جائے گا اور راتوں رات لوگ عمران خان کے ساتھ ہوجائیں گے۔ مگر اس بات کا یقینا امکان ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر جو گندگی بھری ہےاس کی صفائی ہوگی اور یہ جماعت ایک عام آدمی کے لیے زیادہ قابل قبول ہوجائے گی۔

Labels: , , ,


Monday, June 04, 2007

 

آمریت کا ابھرتا اصل رنگ



پاکستان میں حکومت موجودہ سیاسی بحران سے اور عوام کی اس بحران سے بخوبی واقفیت پہ بوکھلائی نظر آتی ہے۔
ایک خبر کے مطابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک پریس کانفرینس میں کہا ہے کہ بعض نشریاتی ادارے آزادی صحافت کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور موجودہ حکومت اور فوج کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ خبر کے مطابق فوج کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر صاحب آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے پاکستان کے دفاع میں اپنی جان کی قربانیاں دی ہیں، اس لیے فوج کی بے عزتی برداشت نہیں کی جائے گی۔

کوئی بھی صاحب عقل صاف دیکھ سکتا ہے کہ وزیر اطلاعات نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے کس قدر عمدہ نفسیاتی حربہ کھیلا ہے۔پاکستانی فوج کے ایک اچھے کردار کو دوسرے شرم ناک کردار سے گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اطلاعات سے کوئی پوچھے کہ میڈیا میں بھلا کس نےراشد منہاس یا عزیز بھٹی شہید کی عزت مٹی میں ملانے کی کوشش کی ہے، وہ تو عظیم لوگ تھے۔ تنقید تو ان جرنیلوں پہ کی جاتی ہے جو وقفے وقفے سے ملک کی سیاست میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیتے۔ یہ تو انتہائی حماقت کی منطق ہو گی کہ میجر طفیل محمد نے ۱۹۵۸ میں اپنی جان کی قربانی دی تھی اس لیے اب جرنل پرویز مشرف کی عزت کی جائے۔
بات اتنی ہے کہ اگر پاکستانی فوج کواپنی عزت کروانے کا شوق ہے تو وہ اپنا آئینی کردار پورا کرے اور ملک کی سیاست سے دور رہے۔

Sunday, March 18, 2007

 

امرت سر میں ایک دن





میرا خواب پورا ہوا۔ میں نے جیسا چاہا تھا بالکل ویسا ہوا۔ میں ٹیکسی سے سرحد تک پہنچا اور پیدل سرحد عبور کی۔ سرحد پار کرنے کے بعد سائیکل رکشے سے اٹاری تک گیا اور پھر وہاں سے بس سے امرت سر۔

لاہور امرت سر کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح عالمی گرمائش )گلوبل وارمنگ( کا عمل ہے، شاید اسی طرح ایک مقامی گرمائش کا بھی عمل ہے کہ جہاں کاربن ڈائی آکسائڈ والا دھواں زیادہ ہوتا ہے وہاں یہ دھواں ایک غلاف بنا لیتا ہے۔ دھوپ اس غلاف میں داخل تو ہو جاتی ہے مگر بڑی موج لمبائی والی گرمائش کی لہریں اس سے باہر نکل نہیں پاتیں اور غلاف کے اندر درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ امرت سر میں کم دھوئیں کی وجہ یہ تھی کہ وہاں سائیکل رکشے بڑی تعداد میں ہیں )جب کہ لاہور میں موٹر رکشے ہیں اور ہر رکشہ خوب دھواں اڑاتا ہے(۔
امرت سر لاہور کے مقابلے میں سستا لگا۔ مجھے دوپہر کے کھانے میں نسبتا دیر ہو چکی تھی۔ میں بہت دیر تک ایک معقول جگہ کی تلاش میں مارا مارا پھرا۔ زیادہ تر ڈھابے )کھانے کی چھوٹی دکانیں( لب سڑک تھے اور مجھے خیال تھا کہ وہاں کھانوں پہ خوب دھول مٹی اڑ کر گئی ہوگی۔ میں ایک ایسے ڈھابے کی تلاش میں تھا جو کسی قدر اندر کی طرف ہو۔ بالاخر مجھے ایک ایسی جگہ مل گئی۔ میری پنجابی انتہائی مخدوش ہے مگر میں ڈٹا رہتا ہوں اور ٹوٹی پھوٹی پنجابی بول کر اپنا کام چلا لیتا ہوں۔ مجھے بتایا گیا کہ کھانے میں کلچے ہیں۔ اور کلچے کس کے ساتھ کھائے جائیں گے؟ چھولے بھی ہیں اور دال بھی۔ میں نے کلچے کو چھولے کے ساتھ کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ قیمت؟ صرف دس روپے۔ ڈھابا چلانے والے نے کلچہ تندور میں گرم کر کے دیا اور ساتھ اوپر سے مکھن بھی رکھ دیا۔

مجھے علم نہیں کہ اتنا اچھا کھانا پاکستان میں پندرہ روپے میں کہاں مل پائے گا۔

مزید تصاویر آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں:
http://karachiphotoblog.blogspot.com


Friday, February 23, 2007

 

کریگ جنتی ہے



ٹھیک ساڑھے پانچ بجے دروازے پہ دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص صاف ستھرے لباس میں ٹائی لگائے میرے سامنے موجود تھا۔
"ایلبرٹ" اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔
"ہاں، مجھے تمھارا ہی انتظار تھا" میں نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
یہ کہنے کے بعد میں اندر کی طرف پلٹا اور دروازے کے ساتھ پڑے ایک تھیلے کو اٹھا کر پھر نووارد کے سامنے پہنچ گیا۔
"یہ رہا تمھارا پرنٹر۔" میں نے تھیلا ایلبرٹ کو تھماتے ہوئے کہا۔
"بہت شکریہ" اس نے تھیلے کے اندر جھانکتے ہوئے کہا۔
"شکریہ تو دراصل تمھارا ہے کہ تم نے میرا یہ بوجھ ہلکا کر دیا" میں نے جواب دیا۔ ایلبرٹ مجھ سے الوداعی مصافحہ کر کے روانہ ہو گیا۔
میں اس پرانے پرنٹر کو ٹھکانے لگا کر واقعی بہت خوش تھا۔ دراصل یہ پرنٹر ایک منتقلی کے دوران ٹوٹ گیا تھا۔ مجھے پرنٹر سے نکلنے والے تار نظر آرہے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اگر مجھے یا کسی اور معمولی تعلیم یافتہ شخص کو یہ ناکارہ پرنٹر دیا جائے تو وہ کچھ وقت لگا کراس کی مرمت کرسکے گا اوراسے چالو کر دے گا۔ مجھے سال بھر سے بس وہ تھوڑا سا وقت نہیں مل پا رہا تھا اور میں اپنی خانہ بدوشی میں اس پرنٹر کو ایک ٹھکانے سے دوسرے ٹھکانے ڈھوتے ہوئے تھک گیا تھا۔اس پرنٹر کو میں کوڑے میں بھی نہیں پھینکنا چاہتا تھا۔
میں موجودہ دور کے رائج شدہ صارف معاشرے یعنی کنزیومر سوسائٹی کے تصور سے سخت نالاں ہوں۔ مجھے یہ جلدی جلدی چیزوں کو صرف کر کے کوڑے کے انبار لگانا اچھا نہیں لگتا۔ اسی لیے میں نہایت کنجوسی سے چیزوں کو استعمال کرتا ہوں۔ مستقل جدوجہد کرتا ہوں کہ چیزوں کو زیادہ سے زیادہ ہنڈائوں اورکم سے کم کوڑا نکالوں۔
میں خربوزے کے چھلکے بہت پتلے کاٹتا ہوں۔ جو لوگ میرے ہاتھ سے کٹا ہوا خربوزہ کھاتے ہیں وہ تنگ ہوتے ہیں کیونکہ اکثر لوگ خربوزے کے اندر سب سے نرم گودے والا حصہ کھانا چاہتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں قیام کے دوران مجھے لاکھ یقین دہانی کرائی جائے کہ گھر میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے میں بالٹی سے نہاتا ہوں۔ میرا دل نہیں مانتا کہ ایسی جگہ جہاں بہت سے لوگ پانی کے حصول کے لیے پریشان ہوں میں سخاوت سے اس میسردولت کو لٹائوں۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ بات ہو رہی تھی ایک ناکارہ پرنٹر کی جسے کوڑے میں پھینکنے کا دل نہیں تھا کیونکہ مجھے اچھی طرح پتہ تھا کہ اسے باآسانی صحیح کیا جا سکتا ہے، مگر اسے ساتھ ساتھ لے کر چلنے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ جب ایک دفعہ پھر سفر کا حکم صادر ہوا تو پرنٹر کو ٹھکانے لگانے کا خیال آیا۔ اب کی دفعہ ایک نئی ترکیب سمجھ میں آئی۔ میں نے کریگز لسٹ میں ایک اشتہار ڈالا کہ میرے پاس ایک ناکارہ پرنٹر ہے جو غالباً باآسانی صحیح کیا جا سکتا ہے۔ جسے چاہے وہ میرے گھر آ کر اسے مفت لے جائے۔ یہ اشتہارمیں نے ایک رات نو بج کر پانچ منٹ پہ کریگز لسٹ پہ ڈالا۔ اگلے پندرہ منٹ میں تین لوگوں نے مجھے ای میل بھیجیں اور پرنٹر اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ میں کریگز لسٹ کی مقبولیت اور افادیت کا قائل ہو گیا۔ میں نے فورا اس کی ویب سائٹ پہ جا کر اپنا اشتہار ہٹایا تاکہ اب مزید لوگ اس کا جواب نہ دے پائیں۔
اوپر جس ایلبرٹ کا ذکر ہے وہ میرے اشتہار کے جواب میں مجھے ای میل بھیجنے والوں میں سب سے پہلا تھا۔ میں نے اس سے طے کیا کہ وہ اگلے دن اپنی نوکری نمٹانے کے بعد ساڑھے پانچ بجے میرے پاس آئے گا اور پرنٹر لے جائے گا۔ اشتہار کے جواب میں ای میل لکھنے والے باقی دو لوگوں سے کہہ دیا کہ اگر پہلے نمبر پہ جواب دینے والے شخص نے حسب وعدہ پرنٹر نہ اٹھایا تو میں بالترتیب ان سے رابطہ کروں گا۔

کریگ نیومارک نے بارہ سال پہلے کریگز لسٹ شروع کی تاکہ لوگ ایک دوسرے سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ کر کے لین دین کر سکیں۔ کریگز لسٹ فلاحی طور پہ کام کرتی ہے اور ایک دو شعبوں کے علاوہ استعمال کرنے والوں کے لیے مکمل طور پہ مفت ہے۔ دنیا کے تیس سے زائد ممالک میں کثرت سے استعمال ہونے والی اس ویب سائٹ سے ہرروز لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں میں کتنے ایسے ہیں جنہوں نے پچھلے بارہ سالوں میں اس نوعیت کے صدقہ جاریہ کے کام کیے ہوں؟

اگر مجھ سے کبھی پوچھا جائے گا کہ آیا کریگ نیومارک جنت میں جائے گا یا وہ مولوی جو روز نفرت سے بھرا زہر اگلتا ہے اور جس کی ذات سے خلق خدا کو ایک دھیلے کا فائدہ نہیں پہنچتا تو میرا جواب ہوگا کہ یقیناً کریگ نیومارک۔

Tuesday, January 02, 2007

 

پیش گوئی



باپو نے بتایا تھا کہ پہلے وہ تمھیں نظر انداز کریں گے، پھر تمھارا مذاق اڑائیں گے، پھر تم سے لڑ پڑیں گے، اور پھر تم جیت جائو گے۔

Monday, January 01, 2007

 

اس گود کی گرمی، نرمی



خوش قسمت ہونے کا یہ لطیف احساس کتنا سندر ہے۔ مجھے اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ میں خدا کی گود میں چڑھا بیٹھا ہوں۔

 

سال کا پہلا دن



سال کا پہلا دن۔ ایفائے عہد کا دن۔ اپنے آپ کو کھنگالنے کا دن۔ یہ سمجھنے کا دن کہ ہم کون ہیں، کس سمت میں رواں ہیں، اور ہماری زندگی میں کون سی چیزیں اہم ہیں۔ آگے دیکھنے کا دن۔ مستقبل کی تلخیاں بھلانے کا دن۔ محبتیں شمار کرنے کا دن۔ اپنے اوپر کرم فرمائوں کے احسانات گننے کا دن۔ زندگی کی حقیقت کو جاننے کا دن۔ زمین سے اپنے تعلق کو دہرانے کا دن۔ ستاروں کی اور جست کرنے کی تیاری کا دن۔

Thursday, December 07, 2006

 

دنیا کی آبادی کتنی ہونی چاہیے؟



آپ مجھ سے یہ سوال چند سال پہلے کرتے تو میں سختی سے جواب دیتا کہ دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے زیادہ نہیں بڑھنی چاہیے اور میں اس عدد کی توجیہ میں کئی دلائل پیش کرتا۔ میں محدود آبی اور دوسرے قدرتی وسائل کا تذکرہ کرتا۔ میں حجت کرتا کہ نئے دور کے انسان کو روزمرہ کے کام مکمل کرنے کے لیے کس قدر توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور کس طرح اس ساری دوڑ کا براہ راست تعلق ماحولیاتی آلودگی اور دوسرے مسائل سے ہے۔ مگر یہ سب چند سال پہلے کی باتیں ہیں۔ آج اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ دنیا کی آبادی کتنی ہونی چاہیے تو میں آپ سے پلٹ کر پوچھوں گا کہ یہ آبادی کن لوگوں پہ مشتمل ہو گی۔ اگر اس تخیلاتی آبادی کے بیس فی صد لوگ بھی آئن اسٹائن کا ذہن رکھتے ہیں تو پھر آبادی جتنی زیادہ ہو اتنا کم ہے کہ یہ ذہین لوگ بڑی آبادی کے ساتھ ابھرنے والے ہر مسئلے کا حل نکال لیں گے۔


Sunday, December 03, 2006

 

عاطف اسلم کے نام



نہ جانے کب سے
امید کچھ باقی ہے
مجھے پھر بھی تیری یاد
کیوں آتی ہے
نہ جانے کب سے

عاطف اسلم کا یہ گانا میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے شاید پچاسویں دفعہ سنا ہے۔

آج سے بیس سال پہلے تک ہمارے موسیقار روایتی آلات موسیقی سے چمٹے ہوئے تھے۔ گٹار کہیں کہیں نظر آ جاتا تھا اور عالمگیر اور شہکی موسیقی کی باغی آوازیں خیال کیے جاتے تھے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں پانچ ستارہ ہوٹلوں میں مغربی طرز کے بینڈ نظر آتے تھے مگر وہ بینڈ اختراع نہ کرتے تھے بلکہ چرائے ہوئے مغربی گانے گاتے تھے۔
پھر اچانک ایک بڑی تبدیلی آئی۔ نئی نسل کے موسیقار جنہیں مغربی آلات موسیقی سے زیادہ انسیت تھی انہوں نے ان آلات پہ بنائی گئی دھنوں میں اردو میں گانا شروع کر دیا۔ شاید اس انداز کی ابتدا نازیہ اور صحیب حسن نے کی۔ مگر نازیہ اور صحیب کی موسیقی انگلستان اٹھی تھی۔ موسیقی کی اس نئی لہر کو صحیح معنوں میں عام قبولیت اس وقت حاصل ہوئی جب اس نے ہماری دھرتی سے جنم لینا شروع کیا۔ شاید وائٹل سائنز اور پھر جنون کو موسیقی میں اس انقلاب کا بانی سمجھا جائے گا۔ اور اب یہ حال ہے کہ پاکستان میں اٹھارہ بیس سال کے نوجوان اس غضب کی موسیقی تشکیل دے رہے ہیں کہ آپ سر دھنتے رہ جائیں۔

یہ دراصل نئی نسل کا اپنے اوپر اعتماد ہے۔ وہ سینہ ٹھوک کر کہ رہے ہیں کھ، نئے دور کی ساری چیزیں ہماری ہیں۔ یہ گٹار، یہ ڈرم، سب ہمارا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے ایجاد کیے ہوئے کھیلوں میں مہارت حاصل کر کے ان قوموں کو شکست دے سکتے ہیں جو ان کھیلوں کی موجد ہیں تو پھر موسیقی کے میدان میں ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟ پاکستان کے بیشتر لوگ جس مذہب کے ماننے والے ہیں وہ بھی تو بہت دور سے ہمارے پاس آیا ہے۔
روایت آخر کیا ہے؟ کیا روایت ماضی سے زبردستی چمٹے رہنے کا نام ہے؟
مگر وقت تو آگے بڑھ رہا ہے۔ معاشرے تو اسی وقت آگے بڑھتے ہیں کہ جب وہ روایت سے بغاوت کریں۔

پچھلے سال اکتوبر میں جس وقت میں پاکستان میں تھا عاطف اسلم نے لوگوں کو اپنی موسیقی کے سحر میں گرفتار کیا ہوا تھا اور ان کا یہ گانا ہر جگہ سنائی دیتا تھا۔
وہ موسیقی جو مجھے پسند آئے مجھ پہ ایک عجیب جادو کرتی ہے۔ یہ مجھے ایک خاص وقت کے ساتھ باندھ دیتی ہے۔
دو روز پہلے جب میں سنی ویل کے شالیمار ریستوراں میں کھانا کھا رہا تھا تو عاطف اسلم کا یہی گانا بجنے لگا اور یہ موسیقی مجھے گھسیٹ کر پاکستان لے گئی۔

نہ جانے کب سے
امید کچھ باقی ہے
مجھے پھر بھی تیری یاد
کیوں آتی ہے
نہ جانے کب سے

دور جتنا بھی تم مجھ سے
پاس تیرے میں
اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے میں
زندگی سے کوئی شکوہ بھی نہیں ہے
اب تو زندہ ہوں میں اس نیلے آسماں میں

چاہت ایسی ہے یہ تیری
بڑھتی جائے
آہٹ ایسے ہے یہ تیری
مجھ کو ستائے
یادیں گہری ہیں اتنی
دل ڈوب جائے
اور آنکھوں میں یہ غم نم بن جائے


اب تو عادت سی ہے مجھ کو ایسے جینے میں


سبھی یادیں ہیں
سبھی باتیں ہیں
بھلا دو انہیں
مٹا دو انہیں

اب تو عادت سی ہے مجھ کو


Friday, December 01, 2006

 

زنداں میں تعطیلات کا ایک اور موسم



آج شام میری بات واڎمہ مجددی سے فون پہ ہوئی تھی۔ واڎمہ حامد حیات کی وکیل ہے۔ واڎمہ نے بتایا کہ وکلا صفائی نے عدالت کے سامنے گزار شات پیش کردی ہیں کہ مقدمے کی سماعت نئے سرے سے کیوں ہو۔ اب ان گزار شات کے جواب میں استغاثہ کو اپنے دلائل پیش کرنے ہیں۔ وکلا صفائی نے گزارشات بیس اکتوبر کے دن عدالت میں جمع کرائی تھیں۔ استغاثہ اپنے دلائل دسمبر ۲۰ تک پیش کرے گا، پھر عدالت کی سماعت جنوری ۱۹ کے دن ہوگی۔
کس قدر آہستگی سے ہوتی ہے یہ عدالتی کاروائی۔ ہالووین، تھیکس گونگ، اور اب کرسمس۔ تعطیلات کا یہ ایک اور موسم حامد حیات قید میں گزارے گا۔ وہ کیا سوچتا ہوگا؟ کیا انصاف پہ اس کا اعتبار مکمل طور سے اٹھ گیا ہوگا؟



 

بستی



پچھلی صدی میں برپا ہونے والے صنعتی انقلاب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہروں کی طرف ہجرت نے معاشرتی زندگی کا ڈھنگ بدل دیا۔ کوئی بھی شخص کہیں سے اٹھ کر کہیں پہنچ گیا۔ آج دنیا کے بیشتر بڑے شہروں میں لوگوں کو اپنے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے شہروں میں جہاں نفسا نفسی کا عالم ہے اور لوگوں کا چھپ جانا آسان ہے، جرائم کی شرح دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں جرم اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ دو مکروہات خوف کی فضا کو جنم دیتے ہیں۔ ایک ایسی خوف کی فضا جس میں لوگوں کی قدرتی صلاحیتوں پہ قدغن لگتی ہے اور آزاد فکر دم توڑتی ہے۔ اگر ہمیں ایسا مثالی معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں ہر فرد اپنی صلاحیتوں کی اعلی ترین منزل تک پہنچ جائے تو ہمیں جرم اور تشدد سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ ہمیں ایسی بستیوں میں بسنا ہوگا جہاں ہم ایک دوسرے کو جانتے ہوں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، اور جہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ کسی فرد یا معاشرے کے خلاف جرم کر کے چھپ جائے گا۔



Wednesday, November 29, 2006

 

وادی سلیکن عمل



لوگ حیران ہیں کہ یہ وادی سلیکن میں کیا ہو رہا ہے؟ کمپیوٹر سے متعلق یہ کیسے نت نئے تماشے جنم لے رہے ہیں؟ کیسے نئی نئی کمپنیاں کھل رہی ہیں؟ لوگ راتوں رات کیسے امیر بن رہے ہیں؟
ہر دور میں انسان نے اپنی زندگی آسان بنانا چاہی ہے۔ اکثر لوگ زندگی کو آسان بنانے کی ایسی خواہشات دل میں رکھتے ہیں۔ موجد جو اپنی تخلیقی صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے نئی چیزیں بنائیں ہمیشہ آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ وادی سلیکن عمل یہ ہے کہ ایجادات کے عمل کو لالچ کا زوردار چابک مارا جا رہا ہے جس سے یہ گھوڑا بگٹٹ دوڑ رہا ہے۔ عمل یہ ہے کہ ایک شخص کے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آتا ہے۔ وہ شخص اپنے اس خیال کو وضاحت سے لکھتا ہے اور متمول لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو خیال پسند آتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ زیر نظر اختراع سے بہت سا پیسہ بنایا جا سکے گا تو اس خیال پہ سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ ایک نئی کمپنی بنتی ہے جس میں خیال پیش کرنے والا شخص کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں۔ پھر دوڑ شروع ہو جاتی ہے خیال کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کی۔ خیال عمل میں آ جائے اور ایجاد ہونے والی شے یا ٹیکنالوجی مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے تو کمپنی کے حصص منڈی میں بیچے جاتے ہیں جس سے سرمایہ کار، خیال پیش کرنے والا شخص اور اس کی ٹیم سب ہی پیسے بناتے ہیں۔
گوکہ وادی سلیکن عمل اب تک زیادہ تر کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے وابستہ ایجادات سے متعلق رہا ہے مگر نئی دوائیں، طبی ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی ایجادات میں بھی یہ عمل آگے بڑھ رہا ہے۔
اس عمل کا بلا واسطہ فائدہ یقیناً دنیا کے سارے لوگوں کو پہنچ رہا ہے کہ کوئی ایجاد اگر سرمائے کی کمی یا اکیلے آدمی کے کام سے اگر سالوں میں پایہ تکمیل تک پہنچتی تو وہ اب مہینوں میں بن جاتی ہے۔


Tuesday, November 28, 2006

 

کامیابی



اکثر صورتوں میں کامیابی شکست کے ہلکے سے پردے کے پیچھے چھپی مسکرارہی ہوتی ہے۔ یہ ان ہزاروں لوگوں کو دیکھتی ہے جو پردے تک پہنچ کر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ گنتی کے چند ہی ایسے سورما ہوتے ہیں جو آگے تک آتے ہیں اور پردے کو چاک کر کے کامیابی کا منہ چوم لیتے ہیں۔


Monday, November 27, 2006

 

چینی صدر کا دورہ پاکستان


جمعہ، نومبر ۲۴، ۲۰۰۶
چینی صدر ہو جنتائو بھارت کے چار روزہ دورے کے بعد اب پاکستان میں ہیں جہاں چین اور پاکستان کی حکومتیں تجارتی معاہدے کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کی درآمدات پہ عائد ڈیوٹی بتدریج ہٹانے کی بات کر رہی ہیں۔ پاکستانی حکومت ان تجارتی معاہدوں پہ بہت خوش نظر آتی ہے ۔
ہو جنتائو کے پاکستانی دورے پہ سب سے پہلا تبصرہ تو یہ ہے کہ چین کو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہے کہ معاشی طاقت میں فوجی طاقت پنہاں ہے۔ پھر یہ بات بھی واضح نظر آتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے حکمراں بھارت کے دورے کے بعد پاکستان ضرور جاتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ کرنے سے پاکستان احساس محرومی کا شکار نہ ہو جائے۔
موجودہ امریکی حکومت کی طرح چین بھی پاکستان میں جاری طالبان حمایتیوں کے خلاف فوجی کاروائی سے خوش ہے۔ چین کے مغربی صوبے شنجیانگ میں گو کہ ایک عرصے سے بغاوت کی آواز سنائی نہیں دی ہے مگر جس زمانے میں پاکستان کے شمال میں اور افغانستان میں مذہبی شدت پسندوں کا زور بڑھ تھا چین کو یہ خطرہ ہو گیا تھا کہ شنجیانگ کے علیحدگی پسندوں کو کہیں یہ نئی ہوا نہ لگ جائے۔
چین پاکستان کے ساتھ درآمدات پہ جس طرح کی پابندیاں ہٹانا چاہتا ہے اور جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا ہے اس میں پاکستان کا سراسر نقصان ہے۔ یہ ایک یکطرفہ معاہدہ ہے۔ سستی چینی مصنوعات کی پاکستان میں درآمد سے مقامی صنعتوں کو لا تلافی نقصان پہنچے گا۔ کسی بھی صنعت کی باریکیاں سمجھنے والے لوگ ایک علاقے سے اگر مکمل طور پہ ختم ہو جائیں تو اس صنعت کا بیج دوبارہ سے اس زمین میں لگانا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ چین کی سستی مصنوعات کی درآمد سے پاکستانی صنعتیں تباہ ہو گئیں اور پھر مستقبل میں چین نے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں تو پاکستان کے پاس مہنگی قیمت ادا کرنےکے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو گا۔
تیسری بات یہ کھ چین اور بھارت کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ چین نے سکم کو بھارت کا حصہ مان لیا ہے اور چاہتا ہے کہ بھارت کشمیر کے شمال میں واقع علاقوں پر دعوے سے دستبردار ہو جائے۔ چین یہ بھی چاہتا ہے کہ بھارت تبتی مذہبی قیادت کی حمایت ترک کر دے۔ آثار بتاتے ہیں کہ بھارت چین سے بہتر تجارتی تعلقات کی خواہش میں چین کی یہ ساری باتیں ماننے کو تیار ہے۔ اگر چین اور بھارت کے تعلقات اسی طرح مستحکم ہوتے رہے تو چین کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی اہمیت بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ اور اگر پاکستان نے اپنی معیشت، اپنی تعلیم، اپنے سیاسی استحکام کےذریعے اپنے اندر طاقت پیدا نہ کی تو دوسری عالمی طاقتوں کی طرح چین کے لیے بھی پاکستان کی عزت کرنے کا کوئی جواز باقی نہ رہے گا۔


Sunday, November 26, 2006

 

ہم اس قدر مزے میں کیوں ہیں؟



میں اکثر اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ مغربی ممالک میں موجود ہم تارکین وطن اس قدر مزے میں کیوں ہیں؟
ہم اس جگہ پہنچ کر یہاں کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔ یہ چمکدار سڑکیں اور ان پہ لگے یہ واضح نشانات راہ، یہ مواصلات کا جدید ترین نظام، یہ پانی بجلی کی ہمہ وقت دستیابی، یہ دفاتر، یہ کارخانے اور روزی کمانے کے بے انتہا امکانات، یہ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بے پناہ مواقع، یہ آسانیاں، یہ فلاحی معاشرہ کہ آپ بے روزگار ہوں تو آپ کو سرکار کی طرف سے مشاہرہ ملے، کہ آپ بہت زیادہ غریب ہوں تو آپ کا کم قیمت علاج ہو سکے۔ اور پھر ان سب سے اوپر یہ ہموار سیاسی نظام کہ جس سے مستقل قیادت بدلتی رہتی ہے، ایک ایسا سیاسی نظام جو جمہور کی مرضی کا تابع ہے۔
ہم اس موجودہ سبک رفتار نظام کی جادوگری سے متاثر ہیں اور اس کے پیچھے لگی سالوں کی شدید محنت کو نہیں دیکھتے۔ ہم ایک ایسے ملک پہنچ گئے ہیں جہاں ایک بنا بنایا نظام سہولت سے کام کر رہا ہے۔ ہم نہایت خوشی سے ان درختوں کی چھائوں میں بیٹھ گئے جو تناور ہیں، سایہ دار ہیں، اور مستقل پھل دیتے ہیں۔ کہ جن پہ وہ کڑا وقت گزر گیا کہ جب پودے کی مستقل دیکھ بھال کرنا تھی۔ جب مستقل دھڑکا لگا رہتا تھا کہ پودا چل بھی پائے گا یا نہیں۔ ہم اس وقت یہاں نہیں تھے۔ ہم پنیری لگنے اور پھر پودے کے مضبوط درخت بننے کے عمل میں رکھوالوں کے کام میں شریک نہ تھے۔ ہم تو اصل کام ختم ہونے کے بعد ، مشکل وقت گزرنے کے بعد یہاں پہنچے ہیں۔ اب وقت آسان ہے۔ اب اس تناور درخت کو خاص اوقات پہ پانی اور کھاد ڈالنا ہے اور پھر خاص وقت پہ درخت سے پھل اتارنا ہے۔
اور پھر ہم اتراتے ہیں یوں کہ جیسے یہ سب ہم نے بنایا ہو۔ ہم اس سبک رفتار نظام کا مقابلہ ان ملکوں کے نظام سے کرتے ہیں جہاں سے ہم آئے ہیں اور ہم اپنی چھوڑی گئی ان جگہوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کی شکست پہ ہنستے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ دراصل ہم اپنا مذاق اڑا رہے ہیں، دراصل ہم اپنی شکست پہ ہنس رہے ہیں۔

سمندطور


Saturday, November 25, 2006

 

کر بھلا، ہو بھلا



خوف خدا رکھنے والوں کی ایک روایت رہی ہے کہ وہ روز خیرات نکالا کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ معلومات کا ایسا خزانہ ہے جوہر دن ہر لحظہ بڑھتا جارہا ہے اور جس سے لاکھوں [شاید کروڑوں] لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ آپ اگرانٹر نیٹ پہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی معلومات سے مستفید ہوتے ہیں تو آپ کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اس خزانے میں آپ بھی اپنا فیض شامل کر دیں۔ اور اگر یہ خیرات روز نکالی جائے تو کیا ہی کہنا۔


Thursday, November 23, 2006

 

ہزار برکتیں، لکھوکھا احسانات



زندگی کی دوڑ میں بہت آسان ہے کئی واضح باتیں بھلا دینا۔ یہ بھول جانا کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں، کہ ہم پہ ہزارہا برکتوں کی بارش مستقل ہو رہی ہے، کہ نہ جانے کتنے لوگ ہیں جن کے احسانات کا سہارا لیے ہم آج اس مقام پہ پہنچے ہیں۔ بہت آسان ہے یہ ساری باتیں بھلا دینا اور پھر قسمت سے گلہ کرنا کہ ہمیں وہ کچھ نہیں ملا جو ہم نے چاہا تھا۔ بہت آسان ہے شکایت کرنا اور ان ساری چیزوں کی خواہش کرنا جو ہماری دسترس سے بہت دور ہیں۔
میں مستقل برکتوں کی بارش میں جیتا ہوں۔ میں نے مستقل لوگوں سے ان کے احسانات کی بھیک مانگی ہے۔ اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جو میرے بھیک مانگنے سے پہلے مجھے اپنی محبت سے نوازتے ہیں۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ برکتوں کا ساون گزر گیا اور لوگوں نے مجھے اپنی مہربانی کی بھیک ڈالنا بند کر دی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔ میں ڈرتا ہوں ایسی خشک سالیء الفت کے موسم سے۔
[تھینکس گونگ ۲۰۰۶ کے موقع پہ]

Wednesday, November 22, 2006

 

آئو کہ کوئی خواب بنیں



یہ غالبا امرتا پریتم کی ایک کتاب کا عنوان ہے۔ آئو کہ کوئی خواب بنیں۔ مگر مجھے یہ خیال پسند آتا ہے۔ خواب بننا اور وہ بھی لوگوں کے ساتھ مل کر بننا۔
آئو کہ کوئی خواب بنیں۔
کہ ایک بستی ہو چند عام لوگوں کی۔ کہ اس بستی کی خاص بات یہ ہو کہ وہ ہر قسم کے تشدد سے پاک ہو۔ وہ بستی لفظ جرم سے ناآشنا ہو۔ وہاں انسان کو انسان کا ڈر نہ ہو۔ وہاں لوگ گھروں کو تالے نہ لگاتے ہوں۔ وہاں بات کا جواب بات سے دیا جاتا ہوگھونسے یا گولی سے نہیں۔
ایک بستی جہاں مختلف رنگ، نسل، زبان، مذہب، سیاسی خیالات کے لوگ رہتے ہوں۔ وہ باسی اس بنیادی بات پہ اتفاق کرتے ہوں کہ تشدد اور تہذیب دو متضاد خیالات ہیں، کہ ایک مہذب معاشرے میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
کیا اس خواب کو پا لینا ناممکن ہے؟
میں ایسی ہی ایک بستی میں رہنا چاہتا ہوں۔ میں ایسی ہی ایک بستی میں مرنا چاہتا ہوں۔


Tuesday, November 21, 2006

 

برلن



وہ کون تھا؟
بیرو، بیرو، بیرو، بیرو، بیرو،
بیرو، بیرو، بیرو، بیرو، بیرو،
بیرو، بیرو، بیرو، بیو۔ بے رو۔ بے رو
وہ ٹرین میں برلن کے اس حصے سے سوار ہوتا جو دیوار کے گرنے سے پہلے شہر کے مغربی نصف میں تھا۔ اس کے گلے میں گٹار ہوتا جسے وہ بجاتا اور ساتھ بہت درد سے گاتا،
بیرو، بیرو، بیرو، بیرو، بیرو،
بیرو، بیرو، بیرو، بیرو، بیرو،
بیرو، بیرو، بیرو، بیو۔ بے رو۔ بے رو
گانے کی اور سطور بھی تھیں مگر مجھے بس اتنا حصہ ہی یاد رہا ہے۔
ہر اسٹیشن پہ مسافر ٹرین میں چڑھتے، کچھ اترتے۔ لوگ اس گانے والے پہ ایک طائرانہ نظر ڈالتے اور پھر کسی دوسری طرف دیکھنے لگتے۔ کبھی کوئی بھلا مانس گانے والے کی طرف چند سکے بھی بڑھا دیتا۔ میری رہائش مشرقی برلن میں ایک ایسے گھر میں تھی جہاں غریب مسافر پڑائو کرتے تھے۔ وہ شخص میرے اسٹیشن سے ایک اسٹیشن پہلے اترتا تھا۔ وہاں اتر کر وہ نہ جانے کہاں جاتا تھا۔ کیا وہ مخالف سمت میں جانے والی ٹرین میں سوار ہو جاتا اور وہاں پلٹ جاتا جہاں سے وہ سوار ہوا تھا؟
میں تھوڑا عرصہ برلن میں گزارنے کے بعد آگے روانہ ہو گیا مگر مجھے وہ آدمی یاد رہا۔ اور وہ مجھے اس لیے یاد رہا کیونکہ اس کے گانے ميں بلا کی موسیقیت تھی۔ ایسی موسیقیت کہ جب ایک خاص قسم کا موسم ہو، آپ ایک خاص قسم کی ترنگ میں ہوں تو وہ موسیقی ہر پوشیدہ کونے سے پھوٹ پڑے۔
وہ کون تھا؟ کس زبان میں گاتا تھا؟ اسے کیا غم تھا؟


 

ضیاع


آج سارا دن دوڑتے بھاگتے، یا پھر وائرلیس نیٹ ورک سے کشتی لڑتے گزر گیا۔ کس قدر فضول ہیں وہ دن کہ جب آپ کسی قسم کا کوئی تخلیقی کام نہ کر پائیں۔

Sunday, November 19, 2006

 

قحط



اپنے آس پاس نظر اٹھا کر دیکھیں۔ یہ بجلی کے قمقمے، یہ تیزی سے دوڑتی ہوئی گاڑیاں، یہ برق رفتار ہوائی جہاز، یہ ٹیلی فون، یہ ٹیلی وڎن، یہ کمپیوٹر، یہ انٹرنیٹ۔ یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ اس قدر کارآمد یہ ساری چیزیں کن لوگوں نے ایجاد کی ہیں۔ آپ کو جواب ملے گا کہ آج کی جدید دنیا میں ایک شخص عام طور پہ جو سہولیات استعمال کرتا ہے ان کی ایجاد کا سہرا بمشکل دو سو لوگوں کے سر ہے۔ پھر ایک اور کام کیجیے۔ صرف ایجادات کو ان کی موجودہ شکل میں مت دیکھیے، بلکہ ان ایجادات کے پیش رو کا مطالعہ کیجیے اور ان ذہین لوگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کیجیے جن کا کسی نہ کسی قسم کا کردار اس پورےتخلیقی عمل میں رہا ہے۔ مثلاً ہوائی جہاز کے پیش رو ہیں آئی سی انجن، علم دھات سازی، پہیہ وغیرہ۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر ان سارے لوگوں کا بھی شمار کیجیے جو ایجادات کی موجودہ شکل کے پیچھے کسی نہ کسی موقع پہ اپنا کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں تو آپ کا جواب چند ہزار افراد سے اوپر نہ جا پائے گا۔ کس قدر عجیب بات ہے۔ اس وقت دنیا میں چھ ارب سے اوپر لوگ رہتے ہیں اور آٹھ ہزار قبل مسیح سے لے کر اب تک ایک اندازے کے مطابق پچاس ارب لوگ اس دنیا سے گزر چکے ہیں۔ پچاس ارب لوگوں میں چند ہزار کارآمد، زر خیز ذہن لوگوں کی تعداد کس قدر کم ہے۔ اب ایک اور تحقیق کیجیے۔ یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ ان چند ہزار لوگوں کا تعلق کن خطوں سے رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ تقریباً پانچ سو سال پہلے تک دنیا کے مختلف علاقے ایسے کارآمد لوگ پیدا کرتے رہے تھے جنہوں نے اپنی سوچ، اپنی اختراع سے ہم سب کی زندگیاں سہل بنا دیں۔ مگر پچھلے پانچ سو سالوں میں جس نئی سوچ نے، جن نئی ایجادات نے جنم لیا ہے وہ تقریباً ساری ہی یورپ اور شمالی امریکہ میں پرورش پائی ہیں۔ اب اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ ایسا کیوں ہے۔ کیا یورپ اور شمالی امریکہ کے علاوہ باقی ساری دنیا ذہنی طور پہ بانجھ ہو چکی ہے؟ میں نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے اور چند نتیجوں پہ بھی پہنچا ہوں۔ میں آپ کے سامنے وہ خیالات ضرور پیش کروں گا۔ مگر اس سے پہلے میں آپ کے جوابات جاننا چاہوں گا۔

Saturday, November 18, 2006

 

برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی پاکستانی قید سے رہائی



برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو پاکستانی عدالت نے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی ۔ اسے کچھ عرصے پہلے پھانسی پہ چڑھایا جانا تھا مگر انہیں دنوں برطانوی شاہی خاندان کے چند افراد کی پاکستانی دورے کی وجہ سے یہ پھانسی موخر کر دی گئی تھی ۔ آج کی خبر ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے مرزا طاہر حسین کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کیونکہ طاہر پچھلے اٹھارہ سال سے قید میں ہے اس لیے وہ اپنی عمر قید بھگتا چکا ہے اور رہا کر دیا گیا ہے۔
اور اب تبصرہ۔
مرزا طاہر حسین صرف اس لیے موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا کیونکہ وہ ایک معاشی طور پہ طاقتور، مضبوط ملک کا شہری تھا۔ اگر وہ صرف پاکستانی شہری ہوتا تو پھانسی کے پھندے سے ہرگز نہ بچ پاتا۔
مغربی ممالک میں بسنے والے بہت سے پاکستانی وطن آنے جانے میں آسانی کی وجہ سے دہری شہریت رکھنا چاہتے ہیں۔ مرزا طاہر حسین کی دہری شہریت نے اسے تقریبا موت کے منہ میں جھونک دیا تھا کیونکہ اگر وہ صرف برطانوی شہری ہوتا تو برطانوی حکومت پاکستان سے اس کی بازیابی کا مطالبہ کر سکتی تھی۔


 

کل لاہور میں ہونے والا بم دھماکہ



لاہور میں جمعہ کے روز ہونے والے بم دھماکے میں بیسیوں افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ دہشت گردی کی یہ واردات جنرل پرویز مشرف کے لاہور کے دورے سے ایک دن پہلے کی گئی ہے۔ دھماکہ خیز مواد ایک کوڑے کے ڈبے میں ڈالا گیا تھا۔
موجودہ پاکستانی حکومت نے اس وقت اپنے لیے کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ شمالی پاکستان میں طالبان کے حمایتیوں کے خلاف فوجی مہم جاری ہے، پھر ساتھ ہی بلوچستان میں قوم پرستوں کے خلاف بھی کاروائی ہو رہی ہے۔ ان دونوں داخلی محاذوں کے ساتھ بیرونی طور پہ ہندوستان سے کشمیر کے معاملے پہ مستقل ایک کشمکش کی کیفیت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت بیک وقت اتنے بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔




Friday, November 17, 2006

 

بڑا ظلم



اس دنیا میں ہزارقسم کی ناانصافیاں ہیں۔ بے گناہ لوگ نہ جانے کن کن حالات میں پستے رہتے ہیں۔ ظلم کی داستانیں بہتیری ہیں۔ مگر موجودہ دور میں ایک بڑی نا انصافی، بڑا ظلم ایسا ہے جو باقی ہر ظلم پہ حاوی ہے اور جس کا شکار کروڑوں لوگ ہیں۔ لوگوں کو اس بات کی سزا دینا کہ وہ ایک ترقی پذیر ملک میں کیوں پیدا ہوئے، وہ ایسے حکمرانوں کے دیس میں کیوں رہتے ہیں جو ملک کے لیے اچھے، دانا فیصلے نہیں کرتے، ہمارے عہد کی سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ دنیا میں گنتی کے چند ممالک ہیں جہاں عوام سکھ کی بانسری بجاتے ہیں، باقی ہر جگہ لوگ حکمرانوں سے اور ان کے احمقانہ فیصلوں سے عاجز ہیں۔ ان جگہوں پہ کم فہم حکمرانوں نے معاشرے کو ایسی سمت میں لگا دیا ہے جہاں عوام کے لیے معاشی اور ذہنی عذاب کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
کوئی ہے جو ان بے گناہوں کی داد رسی کرے؟




 

پاکستان میں ہڈی توڑ بخار [ڈ ینگی بخار] کا وبائی حملہ



یہ ایک پرانا مضمون ہے جو چند ہفتے پہلے آزاد کراچی ریڈیو کے ایک پروگرام میں پڑھا گیا تھا۔
پچھلے چند ہفتوں میں پاکستان میں ہڈی توڑ بخار سے بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ ماہرین صحت عامہ کے مطابق ہڈی توڑ بخار کی خاص علامت یہ ہے کہ مریض کو بخار کے ساتھ جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔ اور اگر مریض کی ناک یا کسی اور جگہ سے خون بہنا شروع ہو جائے تو بخار اپنی اگلی منزل یعنی دماغی بخار کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہڈی توڑ بخار ایک خاص قسم کے دھاری دار مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ اور مچھروں کی طرح یہ مچھر بھی گندگی میں افزائش کرتا ہے۔ ہڈی توڑ بخار سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ صاف ستھرے ماحول میں رہا جائے جہاں کوڑا ڈھانپ کر رکھا جاتا ہو اور فضلہ کھلے میں نہ بہے۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ تر وقت اندرون خانہ گزارا جائے جہاں کھڑکی دروازے مچھر محفوظ ہوں۔ سوتے وقت مچھر دانی کے اندر سویا جائے۔ اور بخار آنے کی صورت میں فوری طور پہ معالج سے رجوع کیا جا ئے۔
یہ تو تھے پاکستان میں پھیلنے والی اس وبا سے متعلق چند حقائق۔ اور اب تبصرہ۔
یوں لگتا ہے کہ غریب ہونا ایک جرم ہے۔ آپ غریب ملک کے شہری ہوں تو ہر مصیبت ایک قہر بن کر آپ پر نازل ہوتی ہے۔ پاکستان میں بارش نہ ہو تو لوگ خشک سالی کے خوف سے باران رحمت کی دعا مانگتے ہیں۔ اور جب بارشیں ہوں تو پورے ملک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ سیلاب آتے ہیں اور گائوں کے گائوں تباہ ہو جاتے ہیں۔
بات لے دے کر پھر وہیں پہنچتی ہے کہ لوگوں کے جان و مال کا ذمہ حاکم وقت پہ ہے۔ اگر حکام ملک کی صحیح سمت متعین نہیں کر سکتے، اگر وہ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر انہیں ملک پہ حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

Thursday, November 16, 2006

 

پاکستان میں صوبائی خود مختاری پہ جاری مذاکرات


بلوچستان میں جاری شورش کے دبائو میں آ کر پاکستانی حکومت نے صوبائی خود مختاری پہ بحث اور حزب اختلاف اور بلوچ سیاسی جماعتوں سے بات چیت شروع کرنا چاہی ہے۔ مگر یہ گفتگو آغاز میں ہی التوا کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ بلوچ جماعتوں نے مذاکرات کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔
خرابی کی جڑ پھر وہی بنیادی ہے کہ جب لوگوں کو احساس ہو کہ سب سے اعلی سطح پہ ہونے والی حکومتی فیصلوں میں ان کی کوئی مرضی شامل نہیں ہے تو پھر وہ ایسی غیر نمائندہ حکومت کے ہر قدم کو شک کی نظر ہی سے دیکھتے ہیں۔ صرف ایک جمہوری حکومت ہی صوبائی خود مختاری پہ مذاکرات کی اہل ہو سکتی ہے۔

 

تجویز ۸۷ کیوں رد ہوئی؟


حالیہ کیلی فورنیا انتخابات میں تجویز ۸۷ کے رد ہونے پہ دوسرے ماحولیات دانوں کی طرح میں بھی افسردہ ہوں۔ تجویز ۸۷ یہ تھی کہ کیلی فورنیا سے تیل نکالنے والی کمپنیوں پہ اضافی ٹیکس لگایا جائے اور اس آمدنی سے متبادل توانائی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے۔ اس تجویز کے حمایتی ماحولیات داں اور متبادل توانائی ٹیکنالوجی پہ کام کرنے والے ادارے تھے اور مخالفین میں وہ لوگ تھے جن کے مالی مفاد پہ تجویز ۸۷ کے پاس ہونے پہ ضرب پڑتی تھی۔ مخالفین میں سب سے آگے تیل کی کمپنی شیوران تھی۔ شیوران نے کسی طرح ریاست کے آگ بجھییوں کو ساتھ ملا کر ٹی وی پہ تجویز ۸۷ کے خلاف ایک زوردار اشتہاری مہم شروع کی۔ اس اشتہاری مہم کی خاص بات یہ تھی کہ تجویز ۸۷ کی برائی ایک وردی پوش آگ بجھییے سے کروائی جاتی تھی جب کہ شیوران کا نام اشتہار کے آخر میں باریک حروف میں لکھا آتا تھا جس کو پڑھنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور تھا۔
مختلف حکومتی اور شہری اداروں میں آگ بجھییوں کو سب سے زیادہ عوامی ہمدردی حاصل ہوتی ہے۔ کہ جب آپ کے گھر میں آگ لگی ہو اور کچھ لوگ آئیں اور آگ بجھا کر چلے جائیں اور پھر آپ کی اگلی مصیبت تک آپ کو نظر نہ آئیں تو آخر آپ کے دل میں ان کے لیے نرم جذبات کے علاوہ ہو بھی کیا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ شیوران کی آگ بجھییوں کو ساتھ ملانے کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی اور جمہور نے تجویز ۸۷ رد کر دی۔ شیوران کی طرف سے ٹی وی پہ چلائی جانے والی مہم تجویز ۸۷ میں دو بڑے کیڑے نکالتی تھی۔ ایک یہ کہ تجویز ۸۷ میں احتساب کا کوئی عنصر نہیں ہے۔ کہ تیل نکالنے والے اداروں پہ ٹیکس لگانے سے جو آمدنی ہو گی وہ واقعی متبادل توانائی ٹیکنالوجی پہ خرچ ہو گی اور نتائج پیدا کرے گی۔ اشتہاری مہم کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ اس تجویز کے منظور ہو جانے پہ ایندھن کی قیمتیں اور چڑھ جائیں گی۔ اشتہار میں یہ بات نہیں کہی جاتی تھی مگر اس دوسرے نکتے کی بنیاد یہ تھی کہ تیل نکالنے والے اداروں پہ جب اضافی ٹیکس لگے گا تو وہ کم نفع پہ آرام سے نہیں بیٹھ جائیں گے بلکہ نفع میں اپنے اس نقصان کو صارف کو مہنگا تیل بیچ کر پورا کریں گے۔ یہ دوسرا نکتہ اہم ہے کیونکہ عام صارف تیل کی گرانی سے پہلے ہی تنگ ہے اور مزید مہنگائی نہیں چاہتا۔
تجویز ۸۷ کے لکھنے، اس کو انتخابات میں عام کے سامنے پیش کرنے، اور پھر اس کی ناکامی سے ماحولیات دانوں کو تین اہم باتیں سیکھنی چاہئیں۔ پہلی بات یہ کہ عام آدمی ماحولیاتی مسائل کا ادراک ضرور رکھتا ہے اور ان کو حل ہوتا بھی دیکھنا چاہتا ہے مگر وہ اپنی جیب سے اس مد میں کوئی رقم خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے ان کے مالی مفاد پہ ضرب لگانا آسان نہیں ہے۔ وہ اپنے پیسے سے آپ کے ہر وار کی کاٹ کرنا جانتے ہیں۔
اور تیسری بات یہ کہ آئندہ جو بھی ماحول پسند تجویز عوام کے سامنے پیش کی جائے وہ ہر قسم کے جھول سے عاری ہو۔

 

امریکہ کی بدلتی سمت


یہ اور اگلے دو مضامین ڈیڑھ ہفتہ پہلے لکھے گئے تھے اور آزاد کراچی ریڈیو کے پروگرام شمار سات کے لیے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
ہر دور کے اپنے مخصوص مسائل ہوتے ہیں۔ انتخابات ہوں تو لوگ ان امیدواروں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں جو لوگوں کے اعصاب پہ سوار سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کریں۔ کسی دور کا کلیدی مسئلہ معیشت ہوتا ہے، کبھی انصاف کی تلاش، اور کبھی جنگ۔ پچھلے منگل کو ہونے والے امریکی انتخابات میں جو بات امریکی عوام کے ذہنوں پہ بری طرح سوار تھی وہ تھی عراق میں جاری جنگ۔
ان انتخابات کے نتائج دیکھ کر جان کیری یقینا تاسف سے ہاتھ مل رہے ہوں گے۔ یہ جان کیری کی خرابی قسمت ہے کہ دو سال پہلے صدارتی انتخابات کے وقت عراق میں حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے کہ آج ہیں۔

امریکہ کے عالمی طاقت ہونے کے ناتے یہاں کے انتخابات کو پوری دنیا بہت غور سے دیکھتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ فوجی حکومت بھی امریکہ میں بدلتی ہوئی ہوا کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہوگی۔ اگر اگلے دو سال صدر بش نو قدامت پسندوں کے مشوروں پہ عمل کرتے رہے اور امریکہ عراق میں پھنسا رہا تو ۲۰۰۸ کے انتخابات میں ایک ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کی کامیابی کے کافی امکانات ہوں گے اور یہ بات موجودہ عراقی، افغانستانی، اور پاکستانی انتظامیہ کے لیے تشویش ناک ہو گی۔

Wednesday, November 15, 2006

 

دنیا بھر میں پھیلے امریکہ کے نوکر



ایک دکان نے اشتہار لگایا تھا کہ ہر کپڑا چالیس فیصد یا زیادہ رعایت پہ دستیاب ہے۔ وہاں چلا گیا تھا۔ بہت بڑی تعداد میں کپڑے چین کے بنے ہوئے تھے۔ بہت سے کپڑے وسطی اور جنوبی امریکہ اور کیریبین کے ممالک میں بنے تھے۔ کچھ اردن کے تیار شدہ سوئیڑ بھی نظر آئے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بنی ہوئی چیزیں اکا دکا ہی نظر آئیں۔
دوپہر میں ضرورت پڑی ایک کریڈٹ کارڈ کو فون کرنے کی۔ وہاں ایک خاتون نے جانے پہچانے لہجے میں میرے سوالات کے جوابات دیے۔ پھر فون رکھنے سے پہلے پوچھا کہ 'کیا آپ کوئی اور سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟'۔ میں نے کہا کہ بی بی یہ بتادو کہ تم جس کال سینٹر سے بات کر رہی ہو اس کا وقوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، 'میں اے پی سے بول رہی ہوں۔' میں نے پوچھا کہ، 'حیدرآباد دکن؟' کہنے لگیں، جی ہاں۔
امیر لوگ ہمیشہ اپنے آس پاس نوکروں کی فوج رکھتے ہیں۔ ہماری طرح کے بہت سے لوگ ہیں جو 'گھر نوکر' ہیں۔ [ یہ اصطلاح 'گھر داماد' کی اصطلاح سے متاثر ہو کر گڑھی ہے]۔ مگر ہمارے جیسوں کے علاوہ بھی امریکہ کے بہت سے نوکر ہیں جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔


 

شکرہے



شکر ہے کہ کمپیوٹر کی طبیعت اب صحیح ہے۔ چلتے چلتے بار بار رک نہیں جاتا [جیسا کہ کل سے پہلے تھا۔] اب میں اس کمپیوٹر پہ اردو میں ٹائپنگ بھی کر سکتا ہوں اور اس لکھے کو اپنے بلاگ تک بھی پہنچا سکتا ہوں۔

Friday, November 10, 2006

 

خرابی


میں اس خرابی کمپیوٹر سے اس قدر تنگ ہوں کہ کچھ نہ پوچھیے۔ ونڈوز ایکس پی اور وائرلیس کارڈ کے ڈرائیور کی بالکل نہیں بن رہی اور پس میں رہا ہوں۔ مصیبت یہ ہے کہ بقیہ دو کمپیوٹر سے اردو میں بلاگنگ کر بھی نہیں سکتا۔ اسی کمپیوٹر پہ ایکس پی نصب کیا ہے اور یہیں سے اپنے بلاگ تک پہنچتا ہوں۔

Sunday, October 29, 2006

 

جیک اسٹرا اور برقعہ

انگلستان کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا برقعے پہ اپنی تنقید کی وجہ سے آج کل زیر عتاب ہیں۔ ان پہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اسلام دشمن ہیں اور نسل پرست ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جیک اسٹرا کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ورنہ انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ پڑھے لکھے روشن خیال مسلمانوں میں با کثرت پائے جاتے ہیں۔ میں یقیناً ایک با شعور معاشرے کے حق میں ہوں جہاں لوگوں کو مکمل آزادی ہو کہ وہ جس طرح زندگی جینا چاہیں جئیں مگر جب بات آ جائے دو ایسے لوگوں کے باہمی معاملے کی کہ جو بالکل الگ انداز سے زندگی جینا چاہتے ہیں تو پھر اس معاملے کے خد و خال دونوں کو مل کر طے کرنے ہوں گے۔ جس طرح میں ایک ایسے شخص سے معاملہ نہیں کرنا چاہوں گا جو مادر زاد برہنہ ہو اسی طرح مجھے ایک ایسے شخص سے بات چیت کرنے میں تردد ہو گا جو سر سے پاؤوں تک مکمل طور پہ ڈھکا ہو۔میں یقیناً ایک ایسے معاشرے میں رہنا چاہوں گا جہاں لوگوں کو مکمل آزادی ہو کہ چاہیں تو وہ مادر زاد برہنہ رہیں یا پھر اوپر سے نیچے تک اپنے آپ کو چھپا لیں مگر اس معاشرے میں مجھے بھی آزادی ہونی چاہیے کہ میں جس سے بات کرنا چاہوں کروں اور جس سے بات نہ کرنا چاہوں نہ کروں چاہے میں ایک عام آدمی ہوں یا عوام کا منتخب نمائندہ۔

یہ دلیل اکثر سننےمیں آتی ہے کہ عورت کا برقعے میں رہنا عورت کے لیے اچھا ہے اور پردے میں ڈھکی چھپی عورت دراصل اتنی آزاد ہے کہ جتنا کہ ایک مغربی عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پردے کے حق میں یہ دلیل جھوٹ اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اگر پردہ ہی عورت کی آزادی کی معراج ہے تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں پردہ دار خواتین آگے سے آگے نظر آنی چاہئیں۔ کہ اسلامی ممالک میں سر سے پاؤوں تک ڈھکی عورتیں کامیابی کے نت نئے جھنڈے گاڑتی نظر آنی چائیں۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہے اور یہی مشاہدہ پردے کی عظمت کی دلیل کی نفی کرتا ہے۔ عورت کا پردہ عورت کی اپنی مرضی سے نہیں ہے بلکہ مرد کے زور سے ہے۔ ایک ایسا مرد جو عورت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور جس طرح وہ اپنے دوسرے قیمتی مال کو چوری سے بچانے کے لیے ڈھانپ کر رکھتا ہے اسی طرح وہ اپنی عورت کو بھی ڈھانپ کر رکھنا چاہتا ہے۔

Saturday, October 28, 2006

 

امریکہ کی جنوبی سرحد پہ کھڑی کی جانے والی دیوار

امریکہ میں ہر سال لاکھوں افراد غیر قانونی طور پہ امریکہ کی میکسیکو سے لگنے والی سرحد سے داخل ہوتے ہیں۔ موجودہ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سرحد پہ باڑھ لگانا ضروری ہے ورنہ اس بات کا امکان ہے کہ تلاش معاش کے لیے آنے والے غیر قانونی افراد کے ساتھ دہشت گرد بھی ملک میں گھس آئیں گے۔ موجودہ حکومت شھریوں کو مستقل خوف میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ وہ سمجہتی کہ خوف کے اس ماحول میں اس کے لیے شھریوں کے ووٹ حاصل کرنا آسان ہوگا۔ میں یقینا عالمی دہشت گردی کے خطرے کو سمجھتا ہوں مگر اس کے ساتھ میں اس مستقل کھڑے کیے جانے والے ہوے کی حقیقت کو سمجھتا ہوں۔ امریکہ کی جنوبی سرحد پہ باڑھ اس لیے نہیں کھڑی کی جا رہی کہ وہاں سے دہشت گردوں کے داخلے کو نا ممکن بنایا جائے، بلکہ وہ دیوار اس لیے بنائ جا رہی ہے کہ اب اس ملک میں مزید مالیوں اور کم اجرت پہ کام کرنے مزدوروں کی کھپت نہیں رہی، کہ اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ غیر قانونی طور پہ وارد ہونے والے لوگ باروزگار ہوں اور شھری بے روزگار، کہ اہل اقتدار کو یہ ڈر ہے کہ کہیں امریکہ میں ہسپانوی بولنے والے لوگ اس قدر نہ بڑھ جائیں کہ وہ جمہوری عمل سے اقتدار پھ قبضہ کر لیں۔ اور یہ آخری بات یقینا ایسی ہے کہ جس میں نسل پرستی کا رنگ نمایاں ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود میں جنوبی سرحد پہ مجوزہ باڑھ کے حق میں ہوں کیونکہ اول یہ کہ جب لوگ غیر قانونی طور پہ اس ملک میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اپنے لیے استحصال کے دروازے کھول لیتے ہیں اور دوئم ہہ کہ امیر ملکوں کو یہ حق بالکل حاصل نہیں کہ وہ غریب ملکوں سے کارآمد لوگ چھین لیں اور ان کی کم اجرت مزدوری پہ امیر سے امیر تر ہوتے جائیں۔

 

بلاگ کی دنیا، حاکمیت جمہور کی دنیا

میں سمجھتا ہوں کھ جہاں صاحب رائے افراد بڑی تعداد میں ہوں وہاں ایک مطلق العنان شغص کا اقتدار پھ قبضھ کرنا اور گدی پھ جمے رہنا بہت مشکل ہوجاتا ھے۔ یہ ٹیکنالوجی کا احسان ہے کہ اس نے بلاگ کی شکل مین ادنی سے ادنی صاحب رائے کو اپنے خیالات دنیا تک پہچانے کی سہولت دی ہے۔ مطلق العنان حکمراں کے دل میں ایک چور ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جس طرح وہ چور دروازے سے کرسی پہ قابض ہوا ہے اسی طرح کوئی اور بھی اسی چوری سے اسے دھکا دے کر اس سے کرسی چھین سکتا ہے۔ اسی لیے ہر مطلق العنان حکراں کو آزادی رائے سے ڈر لگتا ہے، اسے صاحب رائے افراد سے ڈر لگتا ہے۔

مجھے عالمیت یعنی گلوبائلیزیشن کا تصور ذرا نہیں بھاتا۔ مجھے یہ خیال بالکل پسند نہیں کہ رنگا رنگ دنیا اپنے تمام تر رنگ کھو کر بالکل ایک جیسی ہو جائے۔ مگر عالمیت سے اس بغض کے باوجود مجھے بعض جدید خیالات کا دنیا میں چھاجانا دل پسند لگتا ہے۔ چنانچہ چند دن پہلے جب ایک عزیز نے عالمیت کی برائیوں میں جمہوریت کو بھی شامل کر دیا تو مجھے وہ بات کچھ معیوب لگی۔ میرے ان دوست کا کہنا تھا کہ "یہ کیا بات ہوئی کہ ایک دن یہ ساری دنیا ایسی ہو جائے کہ آپ جہاں جائیں وہاں آپ کو میکڈانلڈ اور پیڑزاہٹ نظر آئیں اور ہر جگہ جمہوری نظام حکومت ہو۔"

میں سمجھتا ہوں کی کسی بھی با شعور معاشرے میں جہاں صاحب رائے افراد بڑی تعداد میں موجود ہوں، جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام قابل عمل نہیں ہے۔ میں دوستوں سے مذاق میں کہتا ہوں کہ مجھے صرف ایک طرح کی بادشاہت قبول ہے اور یہ وہ بادشاہت جس میں مجھے بادشاہ مان لیا جائے۔ جمہوریت ایک فکری معاہدہ کا نام ہے ایک ایسی جگہ جہاں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہوں جن کا خیال ہو کہ وہ حکمرانی کے اہل ہیں۔

Friday, October 27, 2006

 

ماضی کی ایک میٹھی یاد

ماضی کی ایک میٹھی یاد آئی اور حال کے اس لمحے میں شیرینی بھر گئی۔

 

ایک نیا اردو بلاگ


میں زیادہ تر اردو میں سوچتا ھوں۔ میں اردو میں لکھتا بھی ہوں۔ کچھ دنوں پہلے تک میرا
خیال تھا کہ ٹیکنالوجی وہاں نہیں پہنچی ہے کھ ویب پھ براہ راست اردو میں ٹائپنگ کی جا سکے۔ بھلا ھو ھمارے دوست آئ فقیر کا کھ جنہوں نے مجھے ونڈوز ایکس پی پھ اردو لکھنا سکھایا۔آج اس اردو بلاگ کی پیدائش کا دن ہے۔ میں کوشش کروں گا کھ جیسے جیسے میرے اوپر اردو میں خیالات اترتے رہیں میں انہیں یہاں آپ کے سامنے پیش کرتا رہوں۔

مجھے اپنے نیک خیالات میں یاد رکھیے گا۔
سمندطور



This page is powered by Blogger. Isn't yours?