Monday, August 20, 2018

 

قربانی سے پہلے اور قربانی کے بعد


قربانی سے پہلے اور قربانی کے بعد
پاکستان میں عید الاضحی کے بعد تمام اہل محلہ کی ایک اجتماعی قربانی شروع ہوجاتی ہے اور ہم سڑنے اور تعفن پھیلانے والی آلائشوں کو مستقل سونگھتے رہتے ہیں۔ ہماری یہ اجتماعی قربانی چار مراحل سے گزرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں فقیر اور خانہ بدوش اوجھڑیوں اور دوسرے پھینکے جانے والے حصوں میں سے اپنی پسند کا مال نوچ کر لے جاتے ہیں اور باقی ماندہ کو وہیں پھیلا جاتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان ٹکڑوں پہ کتے اور بلیاں حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنی رغبت کے حصے نوچتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ سب سے تکلیف دہ ہوتا ہے جس میں مختلف بیکٹیریا ان آلائشوں پہ جھپٹتے ہیں اور پھر سڑنے کی بو چہارسو پھیل جاتی ہے۔ سڑتی ہوئی یہ اوجھڑیاں مختلف خطرناک بیماریوں کے جراثیم کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ جلد یا بدیر یہ جراثیم ہوا میں اڑ کر انسانوں تک پہنچتے ہیں اور ان کو بیمار کردیتے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں ہوا سے اڑنے والی گرد کے ساتھ یہ فضلہ ذرہ ذرہ ہر سمت میں اڑتا ہے اور تقریباً محرم کے آخر تک لوگ اس اجتماعی قربانی سے فارغ ہوتے ہیں۔
بقرعید کے بعد تعفن سے بچنے کا ایک آسان حل  موجود ہے۔ اور وہ آسان حل یہ ہے کہ آلائش کو دفن کردیں۔قربانی سے پہلے ساڑھے تین فٹ قطر کا دو فٹ گہرا گڑھا کھودیں۔ اگر جانور زیادہ ہوں تو اسی تناسب سے گڑھے کے حجم میں اضافہ کرلیں۔ عید پہ قربانی کے جانور کو گڑھے پہ ذبح کریں تاکہ تمام خون گڑھے میں چلا جائے۔ مذبح جانور کا گوشت بناتے وقت ایک پلاسٹک فرش پر بچا لیں تاکہ تمام آلائشوں کو صفائی کے ساتھ ایک جگہ جمع کیا جاسکے اور فرش پر خون بھی نہ لگنے پائے۔ ممکن ہو تو یہ کام گڑھے سے قریب کریں۔ آلائشوں کو گڑھے میں ڈال دیں۔ پلاسٹک کو گڑھے کے اوپر دھو لیں۔ [پلاسٹک کو گڑھے میں نہ ڈالیں۔] یہ کام مکمل کرنے کے بعد گڑھے کو پر کردیں اور اضافی مٹی اس کے اوپر ہی ڈھیر کردیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ تمام مدفون آلائشیں بہترین قسم کی کھاد میں تبدیل ہوتی جائیں گی۔ آلائشوں کا حجم کم ہوجانے کی وجہ سے مٹی اندر دھنس جائے گی اور اضافی مٹی تقریباً اپنی سطح پہ واپس آجائے گی۔ اس قسم کی ’آلائش قبروں‘ کے اوپر نہایت موئثر طریقے سے درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ آلائشوں کو دفن کرنے کے لیے یہ گڑھے آپ اپنے باغ میں سڑک کے قریب درخت لگانے کی منصوبہ بندی سے کھود سکتے ہیں۔ آپ اپنی کاہلی کے دفاع میں یہ کہہ سکتے ہیں بلدیہ کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی ہے اور  آپکے علاقے سے اوجھڑیاں فوراً ہی اٹھا لی جاتی ہیں۔  مگر اس صورت میں بھی آلائشوں کو دفن کرنا زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک طرف تو آپ اس طرح زمین کو زرخیز بنا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بلدیہ کے اخراجات کو بچانے کے علاوہ آپ اپنے ماحول کو بہتر بنا رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب کوڑا اٹھانے والا ٹرک کم چلے گا تو کم دھواں آپ کے ماحول میں داخل ہوگا۔ مزید یہ کہ ٹرک کم چلنے کی وجہ سے تیل کی بچت ہوگی اور ملک کا زرمبادلہ بچے گا۔

Wednesday, June 06, 2018

 

وعدوں کی رم جھم

وعدوں کی رم جھم

انتخابات کا موسم ہے اور وعدوں کی بارش ہے۔ آپ انتخابات میں ضرور حصہ لیجیے اور اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیجیے مگر اپنے محبوب امیدوار اور چہیتی جماعت کے سامنے اپنی ترجیحات بالکل واضح کردیجیے۔ آپ کی ترجیحات رنگ برنگ ٹرین، بلند عمارتیں، یا چوڑی ہائی وے نہیں ہیں۔ آپ کی ترجیحات بنیادی زندگی سے متعلق ہیں۔

کسی بھی ریاست، کسی بھی حکومت کا سب سے اول کام عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اور آپ کی پہلی ترجیح بھی یہی ہونی چاہیے: آپ کے علاقے میں امن و امان اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت۔ اپنے علاقے سے انتخابات لڑنے والے تمام امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے یہ وعدہ لیجیے کہ منتخب ہونے کے بعد اُن کی پہلی ترجیح علاقے میں امن کا قیام ہوگی۔ کوئی جبری گمشدگی نہیں، کوئی ہجوم کا انصاف نہیں۔ صرف اور صرف قانون کی حکمرانی، بالکل اس طرح جیسے دستور میں طے ہے۔

جان و مال کی حفاظت کے بعد آپ کی دوسری ترجیح تعلیم ہونی چاہیے۔ اپنے پسندیدہ امیدوار اور سیاسی جماعت سے معلوم کیجیے کہ وہ کس طرح آپ کے علاقے میں صد فی صد تعلیم کا ہدف جلد از جلد حاصل کریں گے۔

آپ کی اگلی ترجیح پانی، بجلی، اور کوڑے کے نظام کی فعالی ہونی چاہیے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی کی بعد صاف پانی کا حصول آپ کا حق ہے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی کی بعد بلا تعطل بجلی کی  فراہمی آپ کا حق ہے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی کی بعد علاقے کی صفائی آپ کا حق ہے۔

اور انتخابی وعدوں کے سلسلے میں نوے دن، چھ ماہ، ایک سال کے قصے کو چھوڑیں، تاریخ طے کریں۔ مثلاً، اپنے پسندیدہ امیدوار سے یہ وعدہ لیں کہ اگست ایک، سنہ دو ہزار انیس تک یا اس سے پہلے آپ کے علاقے میں بجلی کا نظام اتنا اچھا ہوجائے گا کہ کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوا کرے گی۔ ستمبر بیس، دو ہزار اٹھارہ تک پانی کی فراہمی کا نظام اتنا اچھا ہوجائے گا کہ علاقے کے ہر گھر میں ہر روز کم از کم دو گھنٹے پانی آئے گا۔

وعدوں کو اہداف میں تبدیل کرنے کے ساتھ اہداف کے حصول کی حکمت عملی پہ بھی دھیان دیجیے۔ اپنے پسندیدہ امیدوار کے ساتھ بیٹھ کر اہداف کی جزئیات میں جائیے۔ مثلاً، اگر وعدہ پانی کی فراہمی کا ہے تو یہ حساب کیجیے کہ آپ جس انتخابی حلقے میں رہتے ہیں وہاں اتنے گھر ہیں۔ ہر گھر فی روز اتنے گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ اس حساب سے روز کُل اتنے گیلن پانی کی ضرورت ہے۔ جس آبی ذخیرے سے پانی علاقے میں آتا ہے اُس میں اتنا پانی موجود ہے۔ علاقے میں آنے والا موجودہ پانی کا پائپ اتنے قطر کا ہے۔ اس پائپ سے اتنے گیلن فی منٹ پانی آسکتا ہے۔ چنانچہ روزانہ اس پائپ سے اتنے گیلن فی منٹ پانی اگر اتنے گھنٹے آئے تو علاقے کے پانی کی ضرورت پوری ہوجائے۔
علیٰ ہذا القیاس القیاس دوسرے اہداف کی منصوبہ بندی میں بھی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کا ہاتھ بٹائیے۔

یاد رکھیے کہ جمہوریت کا جمہور آپ ہیں، اور کوئی بھی جمہوری نظام صرف اور صرف باشعور عوام کی مدد سے کامیاب ہوسکتا ہے۔

Friday, May 25, 2018

 

چار دن پہلے کی ڈائری








چار دن پہلے کی ڈائری
اس گھر کا پائیں باغ رقبے میں تو بڑا ہے مگر وہاں سورج کی روشنی کم ہی پڑتی ہے۔ مغرب اور جنوب کی طرف موجود درخت روشنی کا راستہ روک لیتے ہیں۔ پہاڑ پہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی زمین بھی سخت ہے اور کچھ ہی گہرائی پہ پتھر نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ غرض کہ باغبانی سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے کٹھن حالات ہیں۔ پچھلی دفعہ ٹماٹر لگانے کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا۔ کئی ٹماٹر کے پودے ہرن کھا گئے، کئی اپنی موت آپ مرگئے۔ صرف ایک پودا بچا جسے خواب گاہ کی کھڑکی پہ رکھ دیا تھا۔ اس پودے نے اپنی سی پوری کوشش کر کے ایک پھل دیا جسے میں نے ہانگ کانگ جانے سے پہلے کھایا۔ اس ناکام تجربے سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر کوئی پودا لگانا ہے تو وہ اس گھر کے مغربی کونے میں ہی پنپ سکتا ہے اور وہاں بھی اسے اتنی اونچائی پہ رکھنا ہوگا کہ مغرب میں موجود باڑھ کی سطح پہ ہو اور چند گھنٹے سورج کی روشنی کا خوب مزا لے سکے۔ یہی سوچ کر دفتر کی مغربی کھڑکی سے باڑھ تک لکڑی کا ایک پھٹا رکھا اور اس پہ مٹی سے بھرے دو اگتھیلے [گرو بیگ] رکھ دیے۔ اس سال اوپن فورم میں روانگی سے چند دن پہلے ٹماٹر اور کدو کے بیج اگتھیلوں میں لگائے تھے۔ یہ اگتھیلے جہاں ہیں وہاں آمد کا راستہ میں نے جالی کے دو پرانے دروازوں سے بند کیا تھا۔ نہ جانے کب ان دو دروازوں میں سے ایک دروازہ گر گیا تھا۔ میں دفتر کی اس کھڑکی سے باہر سیب کے درخت کو دیکھ سکتا ہوں۔ بہار آئی تو یہ درخت سفید پھولوں سے بھر گیا۔ میں چوکنا ہوگیا کیونکہ آج پھول ہیں تو جلد پھل بھی آئے گا اور پھر ان پھلوں کو کھانے کے لیے ہرن بھی آئیں گے۔ اور جب ہرن ادھر آئے تو وہ اگتھیلوں کی طرف بھی بڑھیں گے اور ان میں اگنے والے ٹماٹر اور کدو کے پودے کھا جائیں گے۔ چنانچہ اگلی بار جب میں گیلا کوڑا دفنانے پائیں باغ میں گیا تو گرے ہوئے جالی کے دروازے کو واپس اپنی جگہ کھڑا کردیا۔ اگتھیلے ہرن کے وار سے تو محفوظ ہوگئے مگر نہ ٹماٹر کے بیج پھوٹے اور نہ ہی کدو کے۔ البتہ مسلسل آبیاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان اگتھیلوں میں اور طرح کے پودے نکل آئے ہیں۔ اب میں ان پودوں کی حفاظت کررہا ہوں اور امید کررہا ہوں کہ شاید وقت سے ٹماٹر اور کدو کے پودے بھی نکل پڑیں۔



Monday, April 23, 2018

 

پُھسر پُھسر [نہایت بے ہودہ اور الٹے پلٹے مضامین]

کتاب کا نام پُھسر پُھسر [نہایت بے ہودہ اور الٹے پلٹے مضامین] ہے۔ کل رات قریبا ساڑھے گیارہ بجے تک اس کتاب پہ کام ہوتا رہا۔ چار پانچ مضامین تو اچھی شکل میں ہیں۔ مگر دوسروں کی نوک پلک درست کرنا ہے۔ اپنے آپ سے وعدہ تھا کہ یہ کتاب اپریل کے آخر تک شائع کردوں گا۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے کیونکہ روز ادھر ادھر کے کام اس کام پہ چھا جاتے ہیں۔

Sunday, April 22, 2018

 

مذاق اڑانے کا حق

اگر ہجو سے مزاح پیدا کرنا چاہتے ہو تو تمھیں صرف اپنا اور اپنے لسانی گروہ کا مذاق بنانے کی اجازت ہے۔

This page is powered by Blogger. Isn't yours?