Tuesday, February 21, 2012

 

عدالت خود توہین عدالت کی مرتکب؟




فروری بیس، دو ہزار بارہ


اردو کی مختصر کہاوت ہے، اپنی عزت، اپنے ہاتھ۔ یعنی انسان اپنی عزت خود کراتا ہے۔ گویا انسان ایسے حالات نہ پیدا کرے کہ اس کی بے عزتی کی جاءے۔ یہ کلیہ پاکستان کے حالیہ سیاسی بحران میں ملک کی عدالت عظمی پہ بھی لاگو ہوتا ہے۔
افتخار چوہدری صاحب جس بھرپور وکلا تحریک کے بعد دوبارہ اپنے عہدے پہ فاءز ہوءے، اس سے انہیں اپنی 'بے پناہ مقبولیت' کا مکمل طور پہ یقین ہو گیا۔ یوں لگتا ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری نے پاکستان کو سدھارنے کا بوجھ اپنے کندھوں پہ محسوس کیا۔ انہوں نے ذمہ داری کے اس احساس تلے سو موٹو مقدمات لینے شروع کیے۔ ایک شور سناءی دیا کہ ملک کا لوٹا ہوا مال واپس ملک میں لایا جاءے گا۔ آصف علی زرداری جن موٹی قانونی چہاردیواریوں کے پیچھے ایوان صدر میں آرام سے بیٹھے تھے، افتخار چوہدری صاحب نے ان دیواروں کو گرانا شروع کیا۔ سب سے پہلے قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کا معاملہ عدالت نے خود اپنے سامنے پیش کیا اور پھر فیصلہ دیا کہ تعزیرات پاکستان کے حساب سے قومی مفاہمتی آرڈیننس بے معنی اور کالعدم ہے۔ دوسرے مرحلے میں عدالت عظمی نے ان لوگوں پہ ہاتھ ڈالنا شروع کیا جو قومی مفاہمتی آرڈیننس سے بہرہ مند ہوءے ہیں۔ اس سلسلے میں پی پی پی کے جیالے ایف آءی اے کے ایڈیشنل ڈاءریکٹر جنرل ریاض شیخ کو گرفتار کیا گیا۔ اگلا نشانہ این آر او کی سب سے بڑے عنایت یافتہ شخصیت آصف علی زرداری تھے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ آصف علی زرداری بہت امیر آدمی ہیں اور انہوں نے اپنا پیسہ اپنی بیگم بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں بنایا ہے مگر کسی قسم کا واضح ثبوت نہیں ہے کہ آصف علی زرداری کی دولت رشوت کا پھل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نیوی کے لیے آبدوز خریدنے کے سودے میں، اور برآمدات اور درآمدات کو جدید خطوط پہ استوار کرنے کے لیے کوٹیکنا سے کیے جانے والے معاہدے میں لمبی رقوم بناءی گءیں۔ آصف علی زرداری کے بیرونی بینک کھاتوں کے بارے میں بھی سب کو معلوم ہے۔ اب اگر سوءس حکومت وہ مقدمات دوبارہ کھولے جو نواز شریف دور میں حکومت پاکستان کی ایما پہ شروع کیے گءے تھے اور جن میں زرداری پہ رشوت ستانی کا الزام تھا، تو ان مقمدات کے تحت سوءس اور دیگر عالمی بینکوں پہ دباءو ڈال کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آصف علی زرداری کے بینک کھاتوں میں کتنی رقم ہے، اور کس تاریخ کو کس رقم کا چیک کس کی طرف سے اس کھاتے میں جمع کیا گیا۔ اور اس طرح ذرا سی دیر میں آصف علی زرداری کی دولت کا حساب مل سکتا ہے۔ یہی کچھ معلوم کرنے کے لیے جسٹس افتخار چوہدری صاحب نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم دیا کہ وہ سوءس حکومت کو خط لکھیں کہ وہ آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولے تا کہ مختلف بینکوں پہ دباءو ڈال کر زرداری کے بینک کھاتوں کا حساب کتاب پاکستان تک پہنچ سکے۔ اور وزیر اعظم نے جب ایسا نہیں کیا تو ان پہ ہتک عدالت کا الزام ہے۔ کیا یہ بات افتخار چوہدری سمیت پورے پاکستان کے علم میں نہیں ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری ایک ہی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ٹیم کے لوگ ہیں اور مل کر کھیلنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ افتخار چوہدری کے حکم پہ گیلانی سوءس حکومت کو خط لکھیں کہ سوءس حکومت پرانے مقدمات ازسرنو شروع کرے اور آصف علی زرداری کے اثاثوں کا پول کھولے۔ اس بات کی امید کرنا کہ گیلانی عدالت عظمی کا ایسا کوءی حکم مانیں گے نادانی نہیں تو کیا ہے؟ اور جب معلوم ہے کہ وزیراعظم گیلانی ایسا ہرگز نہیں کریں گے تو وزیراعظم کو ایسا کرنے کا حکم دینا ہتک عدالت کا سامان کرنا نہیں تو کیا ہے؟ عدالت کا یہ بچکانہ فعل تقریبا اس تخیلی عدالتی فعل جیسا ہے جس میں چوری کے ملزم سے کہا جاءے کہ وہ جلد از جلد عدالت کے سامنے اپنی چوری کا سارا ثبوت پیش کردے اور جب چور ایسا نہ کرے تو اس پہ توہین عدالت کا مقمہ چلایا جاءے کہ اس نے عدالت کی بات نہیں مانی۔

Sunday, February 19, 2012

 

نءی بستی








فروری بارہ، دو ہزار بارہ

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں جہاں دیگر فرق ہیں وہیں ان ممالک کے عوام میں بھی فرق نظر آتا ہے۔ آپ امریکہ سے جنوبی ایشیا جاءیں اور اپنے سفر کی مختلف منازل پہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کا مشاہدہ کریں تو آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ کس فرق کی بات کی جا رہی ہے۔ شاید لوگوں میں نفاست کے مختلف درجوں پہ فاءز ہونے کے فرق کا تعلق تعلیم سے ہے۔ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں خواندگی کی شرح نوے فی صد سے اوپر ہے۔ دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خواندہ لوگوں کی شرح چالیس فی صد سے کم ہے۔ جہموریت لوگوں کی راءے سے حکومت قاءم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کے پیچھے یہ مفروضہ ہے کہ ہر شخص سوچنے سمجھنے کی اعلی صلاحیت رکھتا ہے اور حکومت کن لوگوں کی ہونی چاہیے اس معاملے میں ہر شخص کی راءے اہم ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ کیا ایک جاہل مرد کی راءے ایک نہایت پڑھی لکھی عورت کی راءے کے برابر ہو سکتی ہے؟ ایسا یقینا نہیں ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے کم خواندگی والے ممالک میں جمہوریت کام کرتی نظر نہیں آتی۔ مگر ترقی پذیر معاشروں میں جمہوریت کے لولے لنگڑے ہونے کے باوجود شاید ہی کوءی پڑھا لکھا شخص ان معاشروں میں آمریت قاءم کرنے کی وکالت کرے۔ تو پھر ترقی پذیر ممالک میں یہ ظالم چکر کیسے توڑا جاءے کہ کم پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریتی راءے سے اقتدار میں ایسے چال باز سیاستداں آءیں جو اپنا الو سیدھا کریں اور جمہور کی بہتری پہ کوءی توجہ نہ دیں اور عوام پھر ان پڑھ رہ جاءے، اور اگلی بار یہ ان پڑھ عوام پھر غیر ذمہ دار حکومت منتخب کرے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے۔ کیا ایک ترقی پذیر ملک میں ایسی جگہ بناءی جا سکتی ہے جو اپنے ماحول سے یکسر مختلف ہو، ایک ایسی جگہ جہاں داخلے کی شرط ہی خواندگی ہو؟ کیا ایسی آبادی قاءم کر کے، لوگوں پہ یہ دباءو بڑھایا جا سکتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح لکھنا پڑھنا سیکھیں۔ اگر آپ اس خیال پہ حیران ہیں تو اپنی حیرت کہیں ایک طرف رکھ دیں کیونکہ کچھ لوگ اس خیال پہ سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کراچی سے باہر ایک ایسی آبادی بسانا چاہتے ہیں جس کی حدود میں صرف وہی لوگ داخل ہو سکیں گے جو اس نءی آبادی کے رکن ہوں گے۔ اور رکنیت کی بنیاد خواندگی ہو گی۔ ہزار ایکڑ پہ واقع یہ ایک ایسا گاءوں ہوگا جس میں لوگوں کے رہنے اور کام کرنے کی جگہیں ہوگی۔ اس گاءوں میں سبزیاں بھی اگیں گی اور فصلیں بھی۔ دودھ دینے کے لیے گاءے، بھینسیں بھی ہوں گی، اور انڈوں کے لیے مرغی فارم بھی۔ یہاں اسکول، کالج، اور شفاخانے بھی ہوں گے۔ اس گاءوں کے حدود کے اندر ہی بجلی بنانے کا پلانٹ بھی ہوگا؛ بارش کے پانی کو جمع کر کے اسے استعمال کے قابل بنانے کا بھی نظام ہوگا۔ غرض کہ یہ ایک ایسی جگہ ہوگی جو اپنے طور پہ یہاں بسنے والوں کی ممکنہ حد تک ضروریات پوری کر سکے گی۔ کراچی میں رہنے والا کوءی شخص شہر سے دور اس نءی بستی میں کیوں رہنا چاہے گا؟ اس لیے کیونکہ اس جگہ پہ کسی بھی شخص کو ایک اعلی معیار زندگی ملے گا، ایک ایسی جگہ جو محفوظ ہوگی اور جہاں بجلی پانی کا نظام پاکستان کے بجلی پانی کے نظام سے کہیں بہتر طور پہ چل رہا ہوگا؛ ایک ایسی جگہ جہاں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ کراچی میں رہنے والا ایک شخص اس نءی آبادی میں ان ہی وجوہات کی وجہ سے آنا چاہے گا جن وجوہات کی وجہ سے وہ کینیڈا کا رہاءشی ویزا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں لوٹ مار بڑھ جاءے تو وہاں متمول لوگ قلعہ بند [گیٹڈ] آبادیوں میں رہنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی قلعہ بند کالونیوں کا رواج بڑھ رہا ہے مگر ان تمام نءی آبادیوں میں داخلے کی شرط صرف پیسہ ہے۔ مذکورہ بالا آبادی میں ایسا نہیں ہے، وہاں داخلے کی شرط خواندگی ہے اور مستند اراکین کے علاوہ کوءی شخص اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ یعنی اگر اس آبادی کے کسی باسی کا ملاقاتی اندر آبادی میں آنا چاہتا ہے تو اس ملاقاتی کے لیے بھی آبادی کا رکن ہونا ضروری ہے۔ اس آبادی کے اراکین بہت بڑی تعداد میں ہیں جن میں سے کم ہی لوگ اندر نءی آبادی میں رہتے ہیں۔ اس آبادی کی چہاردیواری پہ پہرہ ہے اور اندر آنے اور باہر جانے کے لیے مخصوص دروازے ہیں جن پہ لوگوں کی رکنیت کی تصدیق کی جاتی ہے۔
کیا اس آبادی سے متعلق آپ کے کچھ تحفظات ہیں؟ کیا آپ اس آبادی میں رہنا چاہیں گے؟ ہمیں اپنے آراء سے ضرور مطلع کیجیے۔

Labels:


Saturday, February 18, 2012

 

تعلیم، شعور، اور اچھی حکومت




فروری چھ، دو ہزار بارہ

مواصلات کے شعبے میں انٹرنیٹ ایک انقلاب ہے۔ اور یہ ایک ایسا انقلاب ہے جو دوسرے بہت سے شعبوں پہ اثرانداز ہو رہا ہے اور ان شعبوں میں گہری تبدیلیوں کا نقیب ہے۔ حال میں عرب دنیا میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں کا بھی انٹرنیٹ کے انقلاب سے گہرا تعلق ہے۔ اور ایک انقلاب جس کی راہ بہت سے دیوانوں کی طرح یہ فدوی بھی دیکھ رہا ہے، دنیا کے موجودہ معاشی ڈھانچے میں مساوات قاءم کرنے سے متعلق ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان معاشی عدم مساوات نوآبادیاتی نظام سے گہری ہوءی ہے۔ مگر جہاں نو آبادیاتی نظام نے یورپی قوتوں کو فاءدہ پہنچا کر دوسرے خطوں کو غربت کی طرف دھکیل دیا، وہیں نوآبادیاتی نظام کا ایک بلاواسطہ فاءدہ یہ ہوا کہ دنیا آپس میں بندھ گءی۔ نہ صرف یہ کہ یورپی طاقتوں کی زبانوں نے عالمگیر رابطے کی زبانوں کا کام دیا، بلکہ نوآبادیاتی نظام میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ سے دنیا کے مختلف خطوں کو ایک دوسرے سے گہری آگہی ہو گءی۔ اور اب مواصلات کی ٹیکنالوجی اس مقام پہ پہنچ گءی ہے کہ آپ گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی خطے کی خبر رکھ سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہوا تو نوآبادیوں کا نظام مقامی قیادت کے حوالے کیا گیا۔ اور اکثر صورتوں میں یہ قیادت نااہل ثابت ہوءی۔ چنانچہ ایشیا، افریقہ، اور جنوبی امریکہ میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جہاں پے درپے نااہل حکومتوں نے ان ممالک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ پسماندہ ممالک میں بسنے والے پڑھے لکھے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ دوسری جگہوں پہ ان ہی جیسے تعلیمی پس منظر کے لوگ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں تو ترقی پذیر ممالک کے وہ لوگ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ بجا طور پہ سوچتے ہیں کہ ہم ایسے کیوں نہیں ہیں جیسے یہ دوسرے لوگ ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کی سطح خوشحالی تک لانے کے لیے جہاں ہر جگہ اچھی اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے، وہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کم سے کم وساءل استعمال کرتے ہوءے تعلیم دی جاءے۔ اس شعبے میں بھی انٹرنیٹ ایک انقلابی کام کر رہا ہے۔ تذکرہ ہے خان اکیڈمی کا۔ تو بات یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ایک بہن نے اپنے بھاءی سے شکایت کی کہ اس کا بچہ پڑھاءی میں دل نہیں لگا رہا اور ماموں کو چاہیے کہ پڑھاءی میں بھانجے کی مدد کرے۔ بھاءی ایک شہر میں تھا اور بہن دوسرے شہر میں۔ بھاءی نے کہا کہ میں اپنے بھانجے کو پڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لوں گا۔ پھر بھاءی نے یہ کام شروع کیا کہ بھانجے کو جو سبق پڑھانا ہوتا اس کی ویڈیو بناتا اور اسے یوٹیوب پہ چڑھا دیتا۔ یوٹیوب پہ دستیاب ہونے کی وجہ سے دوسرے شہر میں موجود بھانجا یہ ویڈیو دیکھ لیتا۔ سبق در سبق چلتے، وقت گزرنے کے ساتھ متفرق موضوعات پہ بہت سارے ویڈیو جمع ہو گءے اور ان تعلیمی ویڈیو کو دوسرے طلبا بھی شوق سے دیکھنے لگے۔ اور یوں خان اکیڈمی کی بنیاد پڑی۔ خان اکیڈمی ایک ایسی ویب ساءٹ ہے جہاں حساب، الجبرا، کیمیا، طبیعیات سے لے کر تاریخ اور معاشیات تک آپ کو بہت سے موضوعات پہ بنیادی معلومات کی ویڈیو ملیں گی۔ ان ویڈیو کو دیکھ کر آپ اپنے طور پہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ بنگال سے نسلی تعلق رکھنے والے نوجوان سلمان خان نے ایسا کام کیا ہے کہ آج دنیا کے کونے کونے میں موجود طلبا سلمان خان کی بناءی ہوءی تعلیمی ویڈیو دیکھتے ہیں اور انہیں دیکھ کر ریاضی، طبیعیات، کیمیا، اور دوسرے علوم کی آگہی حاصل کرتے ہیں۔ سلمان خان کے کام کو شہرت ملی تو بہت سے ادارے ان کی مدد کو آگءے۔ کءی جگہ سے فرماءش ہوءی کہ اب ان ویڈیو کا ترجمہ انگریزی سے دنیا کی دوسری زبانوں میں کیا جاءے۔ ان ویڈیو کا اردو میں ترجمہ کرنے کے لیے خان اکیڈمی نے کوشش فاءونڈیشن سے رابطہ کیا۔ کوشش فاءونڈیشن ایک ایسا فلاحی ادارہ ہے جس کی بنیاد پچھلی صدی کے آخری سال پڑی تھی۔ سان فرانسسکو بے ایریا میں رہنے والے کچھ لوگوں نے محسوس کیا تھا کہ وہ جس معاشرے سے آءے ہیں، اس کو کسی نہ کسی طرح لوٹانا ان کا فرض ہے۔ کوشش فاءونڈیشن پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔ کوشش فاءونڈیشن کے روح رواں سہیل اکبر ہیں جن کی شخصیت بے انتہا متاثر کن ہے۔ کوشش فاءونڈیشن کے بہت سے رضاکاروں میں فدوی بھی شامل ہے اور حال میں خان اکیڈمی کے ویڈیو کا اردو میں ترجمہ کرنے کے کام کے سلسلے ہی میں پاکستان گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں کل ہزار ویڈیو کا ترجمہ کرنا ہے۔ اب تک تین سو کے لگ بھگ ویڈیو کا ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ ویڈیو یو ٹیوب پہ موجود ہیں۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں دوسرے فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر تعلیمی ویڈیو گاءوں گاءوں پہنچانے کا کام کرنا ہوگا۔ قصہ مختصر یہ کہ جہاں تعلیم اور شعور بلند کرنے کے سلسلے میں کام ہو رہا ہے وہیں ملک میں ذمہ دار اور منصف حکومت قاءم کرنے کے لیے بھی کام کرنا ہوگا۔ معاشرے میں عام تعلیم، لوگوں میں جدید دنیا کی سوجھ بوجھ، اور ملک میں اچھی حکومت وہ ناگزیر عناصر ہیں جو امیر اور غریب ممالک کے درمیان معاشی گہراءی کم اور ختم کرنے میں معاون ہوں گے۔

Labels:


 

قارورے پہ شہد کا لیبل






جنوری انتیس، دو ہزار بارہ

میں عمرانیات کا طالب علم ہونے کے ناتے بدلتی ہوءی معاشرتی ترجیحات کو غور سے دیکھتا ہوں۔ لوگوں کے نزدیک کیا قابل عزت ہے، لوگ کن باتوں سے مرعوب ہوتے ہیں، اور کس قسم کے رویوں کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، یہ باتیں میرے لیے اہم ہیں۔ ہر دم بدلتی معاشرتی ترجیحات میں مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ کس قدر آسانی سے محض لیبل سے بے وقوف بن جاتے ہیں۔ قارورے کی بوتل پہ شہد کا لیبل لگا ہو تو ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو گہراءی سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بوتل کے اندر واقعی شہد ہے یا نہیں۔ زیادہ تر لوگ محض لیبل دیکھ کر مطمءن ہو جاتے ہیں۔ چند مثالوں سے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پاکستان میں بہت سے لوگ اب تک یہ خیال کرتے ہیں کہ جس شخص کی داڑھی ہے اور وہ صوم و صلوۃ کا پابند ہے، یقینا ایماندار ہوگا۔ سنہ پچاس کی دہاءی کی بات ہے، کراچی میں کسی وقت شکر کی کال پڑ گءی۔ ہمارے دادا جس مسجد میں باقاعدگی سے نماز پڑھنے جاتے تھے وہیں ایک شخص آتا تھا جس نے باتوں باتوں میں تذکرہ کیا کہ وہ شکر کا انتظام کرسکتا ہے۔ اتنا کافی تھا کہ ایک پابند نماز شخص کہہ رہا تھا کہ اگر اسے رقم دی جاءے تو وہ شکر کا انتظام کر دے گا۔ چنانچہ اسے رقم دے دی گءی۔ رقم لینے کے بعد وہ اس مسجد میں کبھی نظر نہیں آیا۔ ہمارے گھر والے قارورے کی بوتل پہ شہد کے لیبل سے بے وقوف بن گءے۔ مگر شاید یہ بات ان کو سمجھ میں آگءی کہ دکھاوے کے تقوی کا ایمانداری سے کوءی خاص تعلق نہیں ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ میں کراچی میں اپنا مشاورتی انجینءیرنگ کاروبار بڑھانے کی نیت سے پی آءی اے پہنچا۔ پی آءی اے کءی ترقیاتی کاموں میں پیسہ لگا رہی تھی اور مجھے خیال تھا کہ شاید ڈیزاءن کا کچھ کام مجھے بھی مل جاءے۔ اسی درمیان کسی عزیز نے مجھے خبردار کیا کہ پی آءی اے میں 'کھانے پلانے' کا بہت رواج ہے، اگر بالفرض محال مجھے کوءی پراجیکٹ مل بھی گیا تو اس میں ایک مخصوص شرح فیصد ورکس ڈیپارٹمنٹ کی طے کی جاءے گی۔ میں حیرت زدہ تھا کہ جن لوگوں سے بات چیت کر رہا ہوں ان میں سے کون دھڑلے سے ایسی بات کہے گا۔ مجھے خیال ہوا کہ میں پی آءی اے میں جن لوگوں سے مل رہا ہوں، ان میں سے جو ایک شخص باریش ہے اور کچھ کچھ دیر بعد نماز کے لیے دوڑتا ہے، یقینا وہ شخص مجھ سے رشوت کی بات کرے گا۔ اور بالاخر ایسا ہی ہوا۔ میں پی آءی اے سے آگے بڑھ گیا مگر میرے دل میں قارورے کی بوتل پہ شہد کے لیبل والی بات اور پختہ ہو گءی۔ میں کل ہی واپس بے ایریا پہنچا ہوں۔ میں نے اب کی بار پاکستان کے سفر میں بدلتی معاشرتی ترجیح کا ایک اور نمونہ دیکھا۔ مجھ پہ واضح ہوگیا کہ پاکستان میں انگریزی کا زور بڑھ رہا ہے اور ساتھ ہی معاشرے میں یہ خیال خام بھی تقویت پا رہا ہے کہ انگریزی میں گفتگو کرنا احسن ہے۔ یہ خیال عام ہے کہ اگر کوءی شخص انگریزی جانتا ہے تو اس کا مطلب محض یہ نہیں ہے کہ مذکورہ شخص ایک دوسری زبان جانتا ہے بلکہ انگریزی بولنا آپ کی قابلیت، آپ کا علم، آپ کی اعلی جمالیاتی حس ظاہر کرتا ہے۔ انگریزی بولنا روشن خیالی ظاہر کرتا ہے، جدید طرز فکر کا اظہار ہے۔ انگریزی میں جو بات کہی جاتی ہے وہ دو ٹوک ہوتی ہے اور سچ ہوتی ہے۔
اس بدلتی معاشرتی ترجیح میں ایک دفعہ پھر لوگوں کو بے وقوف بنانا آسان ہوگیا ہے۔ قارورے پہ شہد کا لیبل لگا دیجیے، پھر تماشہ دیکھیے۔ ہر قسم کا جھوٹ ، فراڈ انگریزی میں کیجیے، لوگ آسانی سے آپ کی بات کا یقین کر لیں گے۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ منصور اعجاز پورے پاکستان کو بے وقوف بنانے میں اسی لیے کام ہوگیا کیونکہ وہ انگریزی میں لکھتا اور بولتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ تمام لوگوں کو کچھ دیر تک بے وقوف بنا سکتے ہیں، اور کچھ لوگوں کو ہر وقت بے وقوف بنا سکتے ہیں، مگر آپ تمام لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات واضح ہو گءی ہے کہ منصور اعجاز ایک ایسا فراڈیا ہے جس کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنا ہے۔ افسوس بس اتنا ہے کہ میموگیٹ نامی فراڈ اسکینڈل میں منصور اعجاز نے یہ شہرت ایک غریب ملک کا بہت سا وقت اور بے انتہا پیسہ ضاءع کرا کر حاصل کی ہے۔

Labels: ,


Friday, February 17, 2012

 

بڑے شہروں میں آلودگی کے مساءل





جنوری تءیس، دو ہزار بارہ


بڑے شہروں میں آلودگی کے مساءل

علی حسن سمندطور

کہتے ہیں، سفر وسیلہ ظفر۔ واقعی ایسا ہی ہے۔ سفر سے فتح مندی کا ایک خوب صورت احساس وابستہ ہے۔ سفر میں آپ کے مشاہدات بڑھ جاتے ہیں اور بہت سی باتیں جو ایک جگہ بیٹھے بیٹھے سمجھ میں نہیں آ رہی ہوتیں سمجھ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ عمرانیات کے طالب علم ہونے کے ناتے میں جب سفر میں ہوتا ہوں تو لوگوں کے ایک دوسرے سے تعلق کو غور سے دیکھتا ہوں۔ میں ان معاشروں کو دیکھتا ہوں جو نت نءی ایجادات کا بطن ہیں۔ کہ ان معاشروں میں لوگ اپنے بدلتے ہوءے حالات سے کیسے نبرد آزما ہو رہے ہیں۔ پھر ان معاشروں کو بھی دیکھتا ہوں جو جدید دور کے شانہ بشانہ نہیں ہیں مگر جہاں جدید معاشروں سے نءی ٹیکنالوجی پہنچ جاتی ہے اور وہاں رہنے والے لوگ اس نءی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل سے گزرتے ہیں۔ آپ اس وقت جہاں بھی موجود ہیں، اپنے آس پاس نظر اٹھا کر دیکھیے: بجلی کے قمقمے، فون، الیکٹرانک آلات، عمارات کو گرم ٹھنڈا رکھنے کی ٹیکنالوجی۔ یہ سب ایجادات ایسے ملکوں میں ہوءی ہیں جن کی آبادیاں دنیا کی آبادی کا بہت چھوٹا حصہ ہیں۔ کوءی بھی نءی ٹیکنالوجی جب عام ہوتی ہے تو اس کی قبولیت اور اس کی ترویج کے مراحل سامنے آتے ہیں۔ اس نءی ٹیکنالوجی سے وہ لوگ سب سے آسانی سے نبردآزما ہوتے ہیں جنہوں نے یہ ٹیکنالوجی بناءی ہوتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے دور سے دور بسنے والے لوگوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی اجنبی ہوتی ہے اور انہیں اسے من حیث الگروہ اپنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سارے لوگوں کا بڑے شہروں کی صورت میں ساتھ رہنا بھی ایک نسبتا نیا انداز زندگی ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ کسی شہر میں ساتھ رہیں گے تو ان کے لیے پینے کے پانی کا منصفانہ انتظام کیسے کیا جاءے گا۔ پانی کو پاءپ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی جدید ٹیکنالوجی کو یورپ نے موجودہ نقطہ عروج تک پہنچایا ہے۔ مگر پانی کی ترسیل میں انصاف کا براہ راست تعلق جدید معاشرے میں منصف حکومت کے قیام سے ہے۔ اور یوں یہ سب چیزیں آپس میں جڑی ہوءی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں جب منصف حکومت کا قیام ہی عمل میں نہیں آپاتا تو دوسرے معاملات بھی منصفانہ نہیں چل پاتے۔ ایک شخص کا دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر رہنا اس نیت سے ہوتا ہے کہ اس طرح ساتھ چلنے میں اس کی زندگی آسان ہوجاءے گی، مگر جہاں معاشرے میں مختلف سطح پہ انصاف نہ ہو، ایک انسان دوسرے انسان کے لیے ایک مصیبت بن جاتا ہے۔
اب آپ کراچی کی مثال لیں۔ کچھ کچھ دنوں بعد خبر آتی ہے کہ فلاں علاقے میں پینے کے پانی میں گٹر کا پانی شامل ہو گیا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ شہر کے آبی نظام پہ ایک پمپ ہو جو پریشر سے پانی پاءپ میں روانہ کر رہا ہو۔ اسی پریشر کی وجہ سے پانی ہر گھر میں پہنچ جاءے۔ اگر اس پریشر والے پاءپ میں کہیں لیک بھی ہوگا تو پریشر کی وجہ سے صاف پانی پریشر والے پاءپ سے باہر نکلے گا، پاءپ کے اندر کچھ نہ جاءے گا۔ اب آپ اس صورتحال پہ غور فرماءیں کہ پاءپ میں پانی کم ہے اور پانی کے صارفین زیادہ۔ ہر گھر کی خواہش ہے کہ شہر کے فراہمی آب کے نظام سے جو تھوڑا بہت پانی پاءپ میں آرہا ہے وہ پانی اس گھر تک پہنچ جاءے۔ چنانچہ ہر گھر میں ایک سکشن پمپ لگا ہے جو پانی کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ اس کھینچا تانی کی وجہ سے پاءپ میں جہاں مثبت پریشر ہونا چاہیے تھا، اب منفی پریشر ہوگیا۔ اب اگر کسی وجہ سے گٹر کا پاءپ لیک کررہا ہے اور گٹر کا یہ پانی ، صاف پانی کے پاءپ کے پاس موجود ہے اور صاف پانی کے پاءپ میں ہلکا سا بھی لیک ہے تو گٹر کا یہ پانی منفی پریشر سے کھنچ کر صاف پانی کے پاءپ میں چلا جاءے گا۔ اسی وجہ سے کراچی میں صاف پانی میں گندا پانی ملنے کے اکثر واقعات بارشوں کے موسم میں سننے میں آتے ہیں جب بارش کا پانی رسنے والے گٹر کے پانی کو صاف پانی کے پاءپ کے قریب تر پہنچا دیتا ہے۔
لوگوں کے ایک ساتھ رہنے کی صورت میں کوڑے کی تلافی کا معاملہ بھی سامنے آتا ہے۔ مغرب سے نکلنے والی نءی ترین ٹیکنالوجی مشرق میں پہنچ رہی ہے اور جن معاشروں میں کوڑے کی تلافی کا نظام فعال نہیں ہے وہاں پلاسٹک اور پیکجنگ کے کوڑے نت نءے مساءل کھڑے کر رہے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں میری معلومات کے مطابق کوءی ایسا فعال کوڑے کا نظام نہیں ہے کہ جمع ہونے والے کوڑے کو شہر سے باہر لے جا کر زمین دوز کیا جاءے۔ چنانچہ اکثر جگہ کوڑے کی تلافی اسے آگ لگا کر کی جاتی ہے۔ وہ کوڑا جو پہلے زمین پہ پڑا بدنما لگ رہا تھا اور تعفن کا منبا تھا اب جل کر فضاءی آلودگی میں بدل جاتا ہے اور دور دور بسنے والوں کے پھیپھڑوں میں جگہ بناتا ہے۔
کراچی میں فضاءی آلودگی کی دو اور بڑی وجوہات ٹریفک اور شہر کے درمیان موجود فیکٹریاں ہیں۔ شہر کی سڑکوں پہ جو گاڑیاں دوڑ رہی ہیں ان کی جانچ کا کوءی فعال نظام نہیں ہے۔ جو گاڑی جتنا چاہے گاڑھا دھواں چھوڑے، اسے پوچھنے والا کوءی نہیں ہے۔ اسی طرح اربنگ پلاننگ کا نظام فعال نہیں ہے کہ جس میں خیال رکھا جاءے کہ دھواں اڑانے اور شور مچانے والی فیکٹریاں رہاءشی علاقوں سے بہت دور ہوں۔۔
پھیلتی آبادیوں کے ساتھ ہوا اور پانی کی آلوگی بڑے مساءل ہیں جنہیں سوچ سمجھ سے اور انتظام سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے لوگوں کو اس بارے میں آگہی دی جاءے۔ وہ گہراءی سے سمجھ سکیں کہ ان کے مساءل کے ماخذ کیا ہیں، یہ جان سکیں کہ دنیا کے دوسرے خطوں میں ان ہی مساءل سے دوسرے لوگ کیسے نمٹ رہے ہیں، اور اپنے اندر یہ اعتماد پیدا کر سکیں کہ وہ خود منظم ہو کر، مل بیٹھ کر، ساتھ کام کرنے سے اپنے مساءل حل کرنے کے اہل ہیں۔

Labels:


Thursday, February 16, 2012

 

رنگون میں لکھے جانے والے چند خیالات






جنوری آٹھ، دو ہزار بارہ



داڑھی والا وہ شخص بہت سنجیدہ تھا۔ اس کا نام محمد خان تھا۔ اس سے میری بات چیت اردو میں ہو رہی تھی۔ میں خوش تھا کہ مجھے ایک ایسا مقامی شخص مل گیا تھا جو میری بات سمجھ سکتا تھا۔ محمد خان نے بتایا کہ وہ پٹھان ہے۔ لنگی پہننے والا، مستقل پان کھانے والا پٹھان۔ وہ برما ہی میں پیدا ہوا تھا اور اسی وجہ سے مقامی زبان روانی سے بولتا تھا۔ اس نے اردو بولنا کہاں سے سیکھی؟ اپنے والد سے، اس نے جواب دیا۔ تمھارے والد پشتو بولتے تھے؟ نہیں، ان کی پیداءش بھی برما کی تھی مگر وہ اردو بولتے تھے، جواب ملا۔ انگریز کے راج میں پٹھان دور دو پھیل گءے اور اتنے سال گزرنے کے بعد بھی اپنی پہچان پٹھان ہی بتاتے ہیں۔ لوگ کس طرح اپنی پہچان بناتے ہیں، کس پہچان پہ شرمندہ ہوتے ہیں، اور کس پہچان پہ فخر کرتے ہیں، میں یہ ساری باتیں دیر تک سوچتا رہا۔ میں محمد خان کے ساتھ ہی بہادر شاہ ظفر کے مقبرے پہ پہنچا۔ بہادر شاہ ظفر کی قبر پہ پہنچ کر دل کی ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ بابر سے لیکر عالمگیر تک کے جاہ و جلال کا خیال آتا ہے۔ انہوں نے کتنی بڑی بادشاہت قاءم کی اور کیسی کیسی فتوحات کیں مگر پھر وقت بدلا اور ان کی اولاد انگریز کے تابع ہو گءی اور ۱۸۵۷ کی جنگ کے بعد انگریز کو اندازہ ہوا کہ کسی عظیم شاہی سلسلے کے افراد کو وظیفے پہ قاءم رکھنا احمقانہ کام ہے، باغیوں کو عظمت رفتہ کی تلاش ہوتی ہے اور اس تلاش میں وہ ایک بوڑھے براءے نام بادشاہ کے پیچھے بھی جمع ہونے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہ نکتہ سمجھنے پہ انگریزوں نے آخری مغل تاجدار کو رنگون کے لیے روانہ کر دیا۔ ظفر قسمت سے شاکی رہے کہ انہیں اپنی دھرتی میں دفن ہونے کے لیے دو گز زمین نہ ملی۔ ظفر کو یہ بتانے والا کوءی نہ تھا کہ اپنی مرضی کی جگہ پہ دفن ہونے کے لیے کام کرنا ہوتا ہے۔ گلچھرے اڑانے اور شاعری کرنے سے بعد میں آنے والے لوگوں کو پڑھنے کے لیے اچھا مواد تو مل سکتا ہے مگر اس آرام پسند زندگی سے اپنی پسند کی چیزیں بشمول دفن ہونے کے لیے جگہ حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پرانے وقتوں میں پہلے تلوار کے زور پہ حکومت قاءم کی جاتی تھی اور پھر انصاف کے استعمال سے اپنی بادشاہت کی بقا حاصل کی جاتی تھی۔ آج جمہور کا دور ہے۔ آج کے دور میں مضبوط حکومت قاءم کرنے کے لیے مضبوط عوام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر عوام پڑھی لکھی، سمجھدار ہے، تو معمولی وساءل استعمال کرتے ہوءے کسی بھی ملک کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

Labels:


Wednesday, February 15, 2012

 

کراچی معاملات








جنوری ایک، دو ہزار بارہ



کل رات مجھے جلدی نیند آگءی تھی مگر پھر زوردار فاءرنگ کی آواز سے آنکھ کھل گءی۔ رات کے بارہ بجے تھے اور کراچی نءے سال کا استقبال اندھادھند فاءرنگ سے کر رہا تھا۔ یہ کون لوگ ہیں جو آدھی رات میں اسلحہ استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ان کی بندوقوں کا رخ آبادی سے ہٹ کر ہے؟ کیا اس بات کا امکان ہے کہ کوءی معصوم اس اندھادھند فاءرنگ کا نشانہ بن جاءے گا؟ میں نے بستر پہ لیٹے لیٹے سوچا۔ صبح مجھے ان سوالات کے جوابات مل گءے۔ نءے سال کے استقبال میں کی جانے والی فاءرنگ سے تین لوگ ہلاک ہوءے تھے۔ یوں تو دو کروڑ لوگوں کے شہر میں تین لوگوں کا ہلاک ہونا معمولی بات لگتی ہے مگر ان تینوں میں اگر آپ کا جاننے والا کوءی فرد ہو تو آپ کے جذبات اور ہوتے ہیں۔ کل خوشی کی فاءرنگ میں مارے جانے والوں میں ہمارے ایک عزیز کا سترہ سالہ لڑکا بھی شامل تھا۔ وہ نوجوان ایک اچھا طالب علم تھا۔ فاءرنگ کی آواز سن کر وہ اشتیاق میں بالکونی میں گیا اور وہیں ایک گولی سینے میں کھا کر گر پڑا۔ آج سال کے پہلے روز کا استقبال اس کے گھر والوں نے اپنے بچے کی تدفین سے کیا۔
کراچی ایک حیرت انگیز شہر ہے۔ اس کی آبادی مستقل بڑھ رہی ہے اور آبادی بڑھنے کے ساتھ جراءم بھی بڑھتے جا رہے ہیں مگر تعجب ہے کہ لوٹ مار، قتل و غارت گری کے مستقل واقعات کے باوجود لوگ بنیادی سبق نہیں سیکھ رہے۔ کیا آپ کو یہ جان کر حیرت نہ ہوگی کہ کراچی میں اکثر لین دین اب تک نقد میں ہوتا ہے۔ کچھ روز پہلے ایک ضیافت میں مجھے کراچی کے ایک بہت مشہور ریستوراں مدعو کیا گیا۔ وہ ریستوراں غالبا پاکستان کا سب سے مصروف ریستوراں ہے۔ اس دعوت میں بہت سے لوگ شریک تھے۔ کھانے کے بعد ایک لمبا چوڑا بل آیا جس کی اداءیگی نوٹوں کی گڈیوں سے کی گءی۔ اور یہ ریستوراں اسی طرح نقد پہ چل رہا ہے۔ اپنے ساتھ نقد لانے والے لٹنے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں اور ریستوراں چلانے والے بڑی بڑی نقد رقومات سے اپنے آڑھتیوں کا حساب کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ اور نقد سے متعلق خطرہ مول لینے کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ کسی کے دیے ہوءے چیک پہ کسی کو اعتبار نہیں ہے اور اگر ریستوراں گاہکوں کو کریڈٹ کارڈ سے اداءیگی کرنے پہ آمادہ کرے تو ریستوراں کی آمدنی کاغذ پہ آجاءے گی اور پھر ٹیکس دینے کے جھمیلے میں پڑنا پڑے گا۔
یوں تو کراچی بظاہر ایک چلتا پھرتا فعال شہر نظر آتا ہے مگر یہاں ہر دوسرے تیسرے شخص کے پاس اپنے لٹنے کی ایک کہانی موجود ہے۔ اسلحے کے زور پہ موباءل فون چھیننے کی وارداتیں عام طور پہ ہوتی ہیں۔ ہمارے ایک عزیز دو دفعہ اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ واضح رہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہیں تو موباءل فون یا لیپ ٹاپ کی چوری کی قریبا ہر واردات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ہر موباءل فون اور لیپ ٹاپ کمپیوٹر مواصلات میں اپنا ایک مخصوص کوڈ استعمال کرتا ہے جس سے اس مخصوص آلے کی شناخت ہو سکتی ہے۔ چوری ہونے کے بعد جب یہ موباءل فون یا کمپیوٹر پہلی بار استعمال ہوگا تو اپنے جاءے استعمال کا پتہ دے دے گا۔
کراچی میں ڈکیتی کی وارداتیں بھی باقاعدگی سے ہوتی ہیں مگر اب تک سرویلینس کیمرے کا استعمال بہت کم ہے۔ ایک عزیز جو ابھی حال میں ڈاکوءوں سے لٹے ہیں بے چارگی سے کہہ رہے تھے کہ کوءی پستول آپ کی کنپٹی پہ رکھ دے تو آپ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ان سے عرض کیا کہ جس وقت کوءی اسلحہ لے کر آپ کے سامنے کھڑا ہے تو وہ لمحہ تو آپ کی کمزوری کا لمحہ ہے اور آپ یقینا اس وقت کچھ خاص نہیں کر سکتے، بلکہ کمزوری کے اس معاملے میں تو مزاحمت کا خیال بھی دل سے نکال دیں، مگر واقعے سے پہلے اور واقعے کے بعد آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ واقعے سے پہلے ایسے انتظامات کریں کہ ڈاکو آپ کی طرف بڑھتے ہوءے سو بار سوچیں۔ مثلا اگر آپ نے محلے کی سطح پہ ایسے انتظامات کیے ہوں کہ بہت سے کیمروں کی آنکھیں ہر آنے جانے والے پہ نظر رکھیں اور اس معلومات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھیں تو اس بات کا امکان ہے کہ اسی فی صد لٹیرے آپ کی طرف بڑھتے ہوءے ڈریں گے۔ بیس فی صد ایسے لٹیرے جو یا تو بے وقوف ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ ان کی تصاویر مستقل اتاری جا رہی ہیں یا ایسے دیدہ دلیر ہیں کہ انہیں اس شناخت کی ذرا پرواہ نہیں، آپ کی حفاظتی تراکیب کے باوجود اپنا کام کریں گے، مگر کم از کم آپ اسی فی صد لٹیروں سے تو محفوظ رہے۔ پھر جب کبھی ایسا ناپسندیدہ واقعہ آپ کے ساتھ ہو جاءے تو آپ خاموش نہ بیٹھیں کیونکہ جرم کے خلاف خاموش رہنا جرم کی معاونت کرنے کے مترادف ہے۔ جراءم پیشہ افراد کی یہی تو خواہش ہوتی ہے کہ وہ لوٹ مار کرتے جاءیں اور کوءی چوں چرا نہ کرے۔ آپ ان مجرموں کی ایسی خواہش پوری کر کے ان کے لیے اگلی واردات کرنے کی راہ کیوں آسان کرنا چاہیں گے؟

Labels:


Tuesday, December 20, 2011

 

امراءو طارق، زرداری کی علالت، ، اور نشتر پارک




دسمبر گیارہ، دو ہزار گیارہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ترسٹھ



امراءو طارق، زرداری کی علالت، اور نشتر پارک

علی حسن سمندطور

میرے استاد، میرے محسن، امراءو طارق علالت کے کءی سال گزارنے کے بعد دسمبر آٹھ کو دنیا سے کوچ کر گءے۔ میرا دل بجھ گیا۔ نوے کی دہاءی کے وسط میں انجمن ترقی اردو کے دفتر میں امراءو طارق کا کمرہ کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں میری درس گاہ تھی۔ "تم سرشار صدیقی سے ضرور ملو اور ان سے اپنی کتاب پہ تبصرہ لو"، وہ مختلف اہل قلم کے نام گنواتے اور پھر ساتھ ہی اپنی ٹیلی فون ڈاءری اٹھاتے اور مجھے بتلاءے گءے لوگوں کے فون نمبر لکھواتے۔ امراءو طارق کے توسط ہی سے میں فردوس حیدر، ڈاکٹر یونس حسنی، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، سحر انصاری، سرشار صدیقی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، اور ڈاکٹر ممتاز احمد خان جیسے نقاد اور سخنوران سے ملا۔ چند ماہ پہلے مجھ تک امراءو طارق کی علالت کی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ اب کی دفعہ کراچی گیا تو اپنے محسن کی تیمارداری کروں گا اور ساتھ ہی ان پہ ایک مختصر فلم بناءوں گا۔ مگر سارے ارادے دھرے دھرے کے رہ گءے اور وہ عمدہ قلمکار اور شفیق استاد اس دنیا سے آگے بڑھ گیا۔ امراءو طارق کے انتقال کی خبر سننے کے بعد میں اب تک کف افسوس مل رہا ہوں کہ کاش مجھے ان کے ساتھ گزارنے کے لیے کچھ اور وقت مل جاتا۔ ایک خوش خیال دل میں رکھتا ہوں کہ شاید موت ایک ایسا دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان بلند آگہی کی ایک ایسی منزل تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس کاءنات کے وہ بہت سے راز و اسرار جو دنیاوی زندگی میں سمجھ نہیں آءے ہوتے اچانک آشکار ہو جاتے ہیں۔
پچھلے ہفتے آصف علی زرداری غیر متوقع طور پہ دبءی پہنچے تو پاکستانی میڈیا طرح طرح کی افواہوں سے بھر گیا۔ ٹی وی پہ بہت سے ایسے 'صحافی' ہیں جو زرداری سے بلا کا بغض رکھتے ہیں؛ زرداری کی علالت سے ان لوگوں کے دلوں میں لڈو پھوٹنے لگے اور انہوں نے قیاس آراءی کہ کہ بس اب زرداری مستعفی ہوا ہی چاہتے ہیں۔ آصف علی زرداری خراب شہرت کے مالک ہیں۔ بد اچھا، بدنام برا۔ چنانچہ زرداری سے کسی قسم کی ہمدردی رکھنا ذرا مشکل کام ہے مگر زرداری سے وفاداری نہ رکھنے کے باوجود جمہوری عمل سے وفاداری رکھنی چاہیے اور اس بلند تر وفاداری کے تحت سوچنے سمجھنے والے لوگوں کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور اگلے انتخابات ٹھیک وقت پہ ہوں۔ جہموریت کی گاڑی ایک دفعہ چل پڑی اور جمہوری ادارے مضبوط ہو گءے تو رفتہ رفتہ کر کے چیزیں صحیح ڈگر پہ آنا شروع ہو جاءیں گی۔ مگر ایک شخص سے بغض رکھ کر اس بات کی خواہش اور کوشش کرنا کہ حکومت ختم ہو جاءے اور غیر جمہوری ادارے ملک کا نظام سنبھال لیں، انتہاءی حماقت کی بات ہے۔
اگلے انتخابات کی بات آءی ہے تو اس پچیس دسمبر کو کراچی میں ہونے والے عمران خان کے جلسے کا تذکرہ نہ کرنا ممکن نہی ہے۔ خبر ہے کہ عمران خان کا یہ جلسہ نشتر پارک میں ہوگا اور اس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ پچھلے کالم میں جلسے جلوسوں کے حوالے سے پاکستان کے موجودہ حالات کے حساب سے لاحق خطرات کے متعلق لکھا تھا۔ اسی سلسلے میں آج جلسے جلوسوں کے ایک اور پہلو کے متعلق بات کرنا چاہوں گا۔ امید ہے کہ نشتر پارک کے جلسے کی تیاریوں میں تحریک انصاف کے کارکنان صرف اپنے قاءد عمران خان کی حفاظت ہی پہ توجہ نہیں دے رہے ہوں گے بلکہ شرکا کی حفاظت کی طرف بھی دھیان دے رہے ہوں گے۔ ہمارا ملک جس کم تر شرح خواندگی کا حامل ہے اس کا مظاہرہ سڑکوں پہ، بازاروں میں، اور ہر رش کی جگہ پہ بار بار نظر آتا ہے۔ ہم قطار بنانے کے عادی نہیں ہیں اور جھمگٹا لگا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ عمران خان کے لاہور کے جسلے سے متعلق ایک شکایت سننے میں آءی تھی کہ جلسے میں پہلے آنے والے لوگ پھنس کر رہ گءے تھے۔ یعنی اگر جلسہ گاہ کے درمیان میں موجود ایک شخص کسی وجہ سے نکلنا چاہتا تو وہاں سے باہر نکلنے کا کوءی طریقہ نہ تھا۔ یہ بہت تشویشناک بات ہے۔ زیادہ لوگوں کے مجمعے میں اس بات کی گنجاءش ہونی چاہیے کہ اگر کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہو تو نہ صرف یہ کہ لوگوں کے بیچوں میں بیچ موجود ایک شخص تک ہنگامی امداد پہنچاءی جا سکے بلکہ اگر کسی وجہ سے جلسہ گاہ اچانک خالی کرنا پڑے تو لوگ تمیز سے بغیر بھگدڑ مچاءے باہر نکل سکیں۔ جہاں جہاں بڑے مجمعے میں ان بنیادی باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا وہاں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ مجمعے میں بھگدڑ سے لوگ زخمی یا ہلاک ہو جاءیں گے۔ عمران خان کیونکہ تحریک انصاف چلا رہے ہیں اس لیے انہیں چاہیے کہ اس تحریک کے نام کا خیال رکھتے ہوءے اپنے کارکنوں کو نظم و ضبط کی تربیت دیں۔ عمران خان بریڈفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، انہوں نے دنیا دیکھی ہے اور یقینا اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ مغرب میں کھیلوں کے مقابلوں یا موسیقی کے کانسرٹ کے موقع پہ جمع ہونے والوں کو کس طرح نظم و ضبط سے ایک دوسرے سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ امید ہے کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو اس بات کی تعلیم دی ہوگی کہ جلسہ گاہ میں چونے سے قطاریں بناءی جاءیں۔ ایک صف میں بیس لوگوں سے زیادہ نہیں کھڑے ہوں، آگے پیچھے دو صفوں کے درمیان تین فٹ کا فاصلہ ہو اور برابر برابر دو صفوں کے درمیان پانچ فٹ چوڑی راہ داری ہو تاکہ کسی بھی صف سے کوءی شخص نکل کر جلسہ گاہ سے باہر نکل سکے یا اس تک ہنگامی امداد پہنچاءی جا سکے۔

Labels: , ,


 

فوجی مداخلت، نامنظور




میمو گیٹ نامی جھوٹا طوفان کا زور پاکستان میں تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ دراصل اس طوفان کو کھڑا کرنے والے وہ مخصوص لوگ ہیں جو پی پی پی سے عمومی اور آصف علی زرداری سے خصوصی عناد رکھتے ہیں۔ پاکستان ٹی وی میڈیا میں شامل چند نام نہاد صحافی میموگیٹ پہ مستقل تبصرہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ جب زرداری کسی وجہ سے پاکستان سے دبءی پہنچے تو انہیں صحافیوں نے شور مچا دیا کہ زرداری ملک سے فرار ہو گءے ہیں۔ یہ افواہ اڑاءی گءی کہ زرداری استعفی دینے والے ہیں اور اب وہ واپس پاکستان قدم بھی نہیں رکھیں گے۔ پچھلے کالم میں اس بارے میں بات ہوءی تھی کہ اگر فوج کے زور پہ زرداری سے استعفی لیا گیا تو ایسا عمل پاکستان میں جمہوریت کے لیے مضر ہوگا۔ آج اسی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
کہی بات کا اثر ہوتا ہے اور اسی لیے ذراءع ابلاغ اپنے اندر زبردست طاقت رکھتے ہیں۔ وہ جس طرح حالات کا نقشہ پیش کرتے ہیں، بہت سے لوگ اس نقشے کو من و عن قبول کر لیتے ہیں۔ چنانچہ پاکستانی میڈیا کے چند غیرذمہ دار صحافیوں نے میموگیٹ کے حوالے سے جو شور مچایا اس کا اثر ان لوگوں نے قبول کیا جو مستقل پاکستانی ٹی وی دیکھتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہمارے ایک دوست نے جو پاکستان کے سیاسی حالات پہ گہری نظر رکھتے ہیں جب اپنے سر کو داءیں باءیں ہلا کر ہمیں بتایا کہ بس اب حکومت گءی تو ہم نے پوچھا کہ ان کی یہ بات ایک پیش گوءی ہے یا دلی خواہش؟ آخر اچھے بھلے، پڑھے لکھے لوگ ایسی خواہش کیوں رکھتے ہیں کہ پاکستانی فوج ڈنڈے کے زور پہ جس منتخب نماءندے کو چاہے چلتا کرے؟ اچھا یہ ہوا کہ جب جمہوریت مخالف قوتوں نے میموگیٹ کے جھوٹے طوفان کا زیادہ شور مچایا تو بالاخر دوسری طرف کے لوگ بھی کھڑے ہوءے۔ محنت کشوں کے نماءندوں اور دانشوروں نے کل ایک بیان کے ذریعے باور کیا کہ پاکستان کےعام لوگ جمہوری عمل کی رکاوٹ میں کسی بھی فوجی مہم جوءی کو برداشت نہیں کریں گے۔ اور اب تھوڑی دیر پہلے خبر آءی ہے کہ آصف علی زرداری واپس کراچی پہنچ گءے ہیں۔ زرداری کی واپس پاکستان آمد سے یقینا میڈیا میں شامل بہت سے لوگوں کے منہ لٹک گءے ہوں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ زرداری یا تو یونہی صدارت کی کرسی پہ موجود رہیں گے، یا اگر انہیں کرسی سے ہٹانے کی کوشش کی گءی تو وہ جمہوری عمل سے کی جاءے گی نا کہ فوج کے ڈنڈے کے زور پہ۔ امید ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو بھی یہ بات سمجھ میں آچکی ہوگی کہ وہ زمانے گزر گءے جب پاکستانی فوج کی جمہوری حکومت سے بغاوت پہ چند لوگ خوشیاں مناتے تھے اور بازاروں میں مٹھاءیاں تقسیم کرتے تھے۔ پاکستانی فوج پاکستانی حکومت کے بہت سے اداروں میں سے ایک ادارہ ہے۔ اس ایک ادارے کو ہرگز یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پہ فیصلہ کرے کہ پاکستان کے 'وسیع تر مفاد' میں کیا ہے اور کیا نہیں۔
میموگیٹ کا طوفان جھوٹا طوفان کیوں ہے؟ اس لیے کہ منصور اعجاز کے توسط سے منظر عام پہ آنے والے اس میمو میں کوءی جان نہیں ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حسین حقانی اور زرداری تو براہ راست امریکی فوجی قیادت سے ملتے رہے ہیں؛ وہ اتنی اہم بات کہنے کے لیے منصور اعجاز کا سہارا کیوں لیں گے اور براہ راست یہ بات امریکی چیف آف اسٹاف سے کیوں نہیں دیں گے؟ دوسرا سوال یہ کہ آخر امریکی فوج کا پاکستانی فوج پہ کیا زور چلتا ہے۔ کیا امریکی فوج پاکستانی فوج کی قیادت کے بازو مروڑ کر اسے اس بات پہ راضی کر سکتی ہے کہ وہ عوامی حکومت کی بالادستی کو قبول کرے اور اس کے سامنے چوں بھی نہ کرے؟ اور سب سے آخری سوال یہ کہ کیا حسین حقانی اور زرداری کو یہ حقیقت اظہرمن الشمس نظر نہیں آرہی کہ امریکی فوج کے پاکستانی فوج سے براہ راست روابط ہیں، کہ پاکستانی جرنیل مسقل امریکہ کے چکر لگاتے رہتے ہیں، کہ امریکی فوج کو پاکستانی فوج سے یہ براہ راست تعلق بہت پسند ہے، کہ امریکی انتظامیہ جمہوری حکومتوں سے روابط نہیں چاہتی، وہ تو ہر جگہ براہ راست فوج سے معاملہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ فوج سے مضبوط روابط امریکی انتظامیہ کے وسیع تر مفاد میں ہوتے ہیں؛ جمہوری حکومت تو پل میں تولہ، پل میں ماشہ ہوتی ہے۔ تو یہ ساری باتیں جانتے بوجھتے حقانی یا زرداری امریکی فوج تک ایسا میمو کیوں پہنچاءیں گے جسے محض ظریف تحریر پڑھ کر ہنسا ہی جا سکتا ہے۔

Labels: , , ,


Sunday, November 27, 2011

 

حسن نثار کا عمران خان کو مفت مشورہ

نومبر ستاءیس، دو ہزار گیارہ




حسن نثار ایک نامی گرامی کالم نویس ہیں اور وسیع مطالعہ رکھنے کی وجہ سے بہت سے دیگر پاکستانی کالم نویسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذکی اور ترقی پسند ہیں۔ حسن نثار نے حال میں ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان ہے 'بن مانگے مفت مشورے۔' اس کالم میں حسن نثار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں سیاسی میدان میں عمران خان سینچری بناءے بغیر ننانوے کے اسکور پہ نہ آءوٹ ہو جاءیں۔ حسن نثار کا کہنا ہے کہ اب عمران خان کو صرف عمران خان مار سکتا ہے۔ اس کالم کا اول حصہ ایسا پیچیدہ ہے کہ آپ سمجھتے ہی رہ جاءیں کہ آخر حسن نثار صاحب کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آخر عمران خان اپنے آپ کو کیسے مارے گا؟ مگر کالم کے آخر میں بات واضح ہوتی ہے کہ حسن نثار عمران خان کو تنظیم سازی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ حسن نثار کی راءے میں عمران خان کو ان لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جو عمران خان کے آس پاس موجود ہیں اور پارٹی میں نءے آنے والوں کے لیے مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔ حسن نثار کا خیال ہے کہ عمران خان کو پارٹی کے ہر رکن سے ذاتی رابطہ رکھنا چاہیے۔ حسن نثار کے عمران خان کو یہ مشورے یقینا پرخلوص ہیں اور واضح ہے کہ حسن نثار کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف ایک مضبوط سیاسی جماعت بن جاءے اور اگلے انتخابات میں ملک گیر کامیابی حاصل کرے۔

یوں تو پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں مگر ایک پارٹی جو اپنے آپ کو تحریک انصاف کہے اس سے لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے مختلف ہوگی۔ کہ اس پارٹی میں شخصیت پرستی کو چھوڑ کر ادارہ سازی پہ زور دی جاءے گی۔ انسان فانی ہے اور تھوڑا سا دم خم دکھا کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے مگر ادارے قاءم رہتے ہیں؛ اسی لیے اداروں کو مضبوط بنانا اچھا ہوتا ہے۔ جہاں ادارے مضبوط ہوں اور ادارے میں بہت سے لوگ قیادت کی مختلف سیڑھیوں پہ موجود ہوں وہاں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ خدانخواستہ ادارے کا سب سے بڑا قاءد نہ بھی رہا تو ادارہ قاءم رہے گا،نءی قیادت معاملات کو سنبھال لے گی اور ادارہ ان خطوط پہ چلتا رہے گا جس کا خاکہ گزر جانے والے قاءد نے پیش کیا تھا۔ تحریک انصاف سے اس عوامی امید کے باوجود اب تک تحریک انصاف کے واحد نامور قاءد عمران خان ہی ہیں۔ کاش حسن نثار اپنے دوست عمران خان کو یہ مشورہ دیتے کہ وہ تنظیم سازی کے دوران اپنی جماعت میں نءی قیادت کو ابھارنے کے لیے بھی کام کریں۔ تحریک انصاف کے اندر مستقل ایسی ورکشاپ ہو رہی ہوں جن میں کارکنوں کی قاءدانہ صلاحیت کو پروان چڑھایا جاءے، ان لوگوں کو بتایا جاءے کہ انہیں تحریک انصاف کے منشور کو سامنے رکھتے ہوءے اپنی تقریر میں کس طرح کی باتیں کرنی ہیں، جماعت میں نظم و ضبط کیسے لانا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ ممکن ہے کہ عمران خان اپنے کارکنوں کو واقعی یہ باتیں روز بتاتے ہوں مگر ایسی خبر اب تک عوام تک نہیں پہنچی ہے۔

کوءی بھی شخص جو ملک کے حالات سے عاجز ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ وہ سیاسی طور پہ مضبوط بن کر انتخابات کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرے اور پھر ملک کی باگ دوڑ سنبھال کر ملک کو صحیح رخ پہ لاءے، اسے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ اس کے اصل اہداف کیا ہیں اور ان اہداف تک جلد از جلد کس طرح پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر ایک شخص مقبول ہے اور لوگ جوق در جوق اس کے پیچھے آرہے ہیں تو اس کے پاس پہلے ہی بڑی قوت موجود ہے۔ وہ اپنے حمایتیوں کی طاقت استعمال کرتے ہوءے اپنے اہداف پا سکتا ہے۔

ہم، جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگ، جذباتی واقع ہوءے ہیں۔ جس کے پیچھے چل پڑے سو چل پڑے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا، اور مکان کا نعرہ لگایا تو پاکستان میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو یہ نعرہ اچھا لگا اور وہ بھٹو کے پیچھے دیوانہ وار چلنا شروع ہو گءے۔ مگر بھٹو اس عوامی حمایت کا فاءدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ اسی طرح سنہ پچاسی میں کراچی کے بہت سے لوگ الطاف حسین کے پیچھے چل پڑے۔ اس وقت الطاف حسین کے حمایتی، جذبات میں اس قدر بہے جا رہے تھے کہ اگر الطاف حسین انگلی کے اشارے سے ایک خالی میدان کی طرف اشارہ کرتے کہ، 'کل یہاں ایک بہترین اسکول ہونا چاہیے جہاں مفت تعلیم دی جاءے' تو اس بات کا امکان تھا کہ ان کے چاہنے والے راتوں رات اس جگہ ایک اسکول کھڑا کر دیتے۔ مگر افسوس کہ الطاف حسین نے بھی عوامی حمایت کا مثبت فاءدہ نہ اٹھایا اور اس راہ پہ چل دیے جہاں قاءد کو درخت کے پتوں پہ اپنی شبیہ نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ آج کے پاکستان میں لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ جہموری نظام ان کے لیے وہ نسخہ کیمیا نہیں بن سکا ہے جس کی کہ انہیں امید تھی۔ نہ صرف یہ کہ آج بہت سے پڑھے لکھے لوگ عمران خان کی طرف امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں بلکہ بہت سے جذباتی نوجوان عمران خان کے پیچھے دیوانہ وار چل پڑے ہیں۔ یہ وقت ہے عوامی حمایت کو صحیح طور پہ استعمال کرنے کا۔ یہ وقت ہے سوچنے کا کہ اصل اہداف کیا ہیں اور عوامی حمایت استعمال کرتے ہوءے ان اہداف تک جلد از جلد کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان اپنے حمایتیوں سے کہہ دیں کہ وہ گلیوں اور محلوں کی سطح پہ منظم ہو جاءیں، کہ تحریک انصاف کے کارکن اپنے اپنے محلے کو جرم سے پاک کر دیں، کہ جہاں عمران خان کے ماننے والے لوگ موجود ہیں وہاں لوگ صفاءی ستھراءی سے رہیں گے اور اس محلے میں جگہ جگہ کچرا نظر نہ آءے گا، کہ جہاں تحریک انصاف کا زور ہے وہاں عورتوں پہ کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا، وہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا، وہاں مذہب کے نام پہ فتنہ نہ پھیلایا جاءے گا اور ہر شخص کو آزادی ہوگی کہ وہ اپنے مذہب و مسلک پہ بلاخوف چل سکے، کہ تحریک انصاف کے اثر والے محلے میں لوگ اس بات کی یقین دہانی کریں گے کہ کوءی شخص بھوکا نہ سوءے گا۔ کاش کہ عمران خان اپنی سیاسی جماعت کو واقعی ایسی تحریک انصاف بنا دیں جو اس سطح پہ بنیادی انصاف لے کر آءے جو عام لوگوں پہ سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اور جس کا تعلق حکام اعلی کے کرتوت سے محض واجبی ہے۔

Labels: , , ,


 

میموگیٹ کا جھوٹا طوفان


نومبر بیس، دو ہزار گیارہ


مولا تیرا شکر ہے


ایک زمانہ تھا کہ مجھے ماں کا دن، باپ کا دن، شکریے کا دن، وغیرہ کے مختص کرنے کا معاملہ سمجھ میں نہ آتا تھا۔ ماں کا احسان، باپ کا احسان تو ہر روز ماننا چاہیے، اور اسی طرح ہر لمحے اور ہر حال میں مولا کا شکرادا کرنا چاہیے تو پھر ان معاملات میں دنوں کے اختصاص کی کیا ضرورت ہے؟ میں اپنے آپ سے سوال کرتا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یہ بات سمجھ میں آءی کہ اس اختصاص کی یقینا اہمیت ہے۔ ٹھیک ہے کہ ہر وقت اپنے اوپر برسنے والی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے مگر اس کے ساتھ اگر سال میں شکرانے کا ایک دن مختص کیا جاءے تو اس میں کوءی حرج نہیں ہے کہ شاید کچھ لوگ ایسے ہوں جنہیں ہر حال میں شکر کرنے کا موقع نہ ملتا ہو۔ ایسے ناشکرے اس مخصوص دن ہی سب کے ساتھ اپنے رب کے شکرگزار ہو جاءیں۔ سنہ ۲۰۰۴ کے تھینکس گونگ دن کے موقع پہ لکھا جانے والا ایک خیال حاضر خدمت ہے۔ ہزار برکتیں، لکھوکھا احسانات۔ زندگی کی دوڑ میں بہت آسان ہے کئی واضح باتیں بھلا دینا۔ یہ بھول جانا کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں، کہ ہم پہ ہزارہا برکتوں کی بارش مستقل ہو رہی ہے، کہ نہ جانے کتنے لوگ ہیں جن کے احسانات کا سہارا لیے ہم آج اس مقام پہ پہنچے ہیں۔ بہت آسان ہے یہ ساری باتیں بھلا دینا اور پھر قسمت سے گلہ کرنا کہ ہمیں وہ کچھ نہیں ملا جو ہم نے چاہا تھا۔ بہت آسان ہے شکایت کرنا اور ان ساری چیزوں کی خواہش کرنا جو ہماری دسترس سے بہت دور ہیں۔

میں مستقل برکتوں کی بارش میں جیتا ہوں۔ میں نے مستقل لوگوں سے ان کے احسانات کی بھیک مانگی ہے۔ اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جو میرے بھیک مانگنے سے پہلے مجھے اپنی محبت سے نوازتے ہیں۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ برکتوں کا ساون گزر گیا اور لوگوں نے مجھے اپنی مہربانی کی بھیک ڈالنا بند کر دی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔ میں ڈرتا ہوں ایسی خشک سالیء الفت کے موسم سے۔

ایک پراسرار خط۔

آج کل ایک پراسرار خط پاکستانی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے اور اس پراسرار خط سے زبردستی اٹھاءے جانے والے سیاسی طوفان کو میموگیٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس خط پہ کوءی تاریخ درج نہیں ہے مگر عبارت سے واضح ہے کہ یہ خط اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے تین چار دن کے اندر لکھا گیا تھا، گویا مءی چار یا اس کے آس پاس۔ اس پراسرار خط پہ کسی کے دستخط بھی موجود نہیں ہیں مگر یہ واضح ہے کہ یہ خط اس وقت کے امریکی جواءنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ماءک ملن کے نام ہے۔ اس خط میں ماءک ملن سے درخواست کی گءی ہے کہ وہ جنرل کیانی کو تنبیہ کریں کہ وہ سویلین حکومت کو دھمکیاں نہ دیں۔ اس کے ساتھ ملن کو تجویز پیش کی گءی ہے کہ وہ پاکستانی فوج پہ دباءو ڈالیں اور نیشنل سیکیورٹی کونسل میں تبدیلیاں لاءی جاءیں اور اس میں ایسے لوگ شامل کیے جاءیں جو امریکی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ اس پراسرار خط کو پاکستانی فوج کےخلاف ایک بغاوت کے طور پہ پیش کیا جارہا ہے اور جب سے یہ خط منظر عام پہ آیا ہے پاکستان کا مادر پدر آزاد میڈیا صبح و شام اس خط کا تجزیہ کر رہا ہے اور مختلف حکومتی عہدیداروں کو ہٹانے کے مطالبات کر رہا ہے۔ اس خط کو عام کرنے والے شخص کا نام منصور اعجاز ہے جو پاکستانی نژاد امریکی ہے۔ آپ خود اس خط کو پڑھیے اور پھر اپنا سر دھنیے کہ نہ جانے اس حماقت بھرے خط کو اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے؟ یہ خط یقینا ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو اچھا لکھنے کے فن سے نابلد ہے۔ پھر اس خط کے متن میں جو تجویزات ہیں ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ وہ کون احمق ہے جس کا خیال ہے کہ ماءک ملن اگر جنرل کیانی کو سختی سے تنبیہ کریں گے تو کیانی ان کے سامنے بھیگی بلی بن کر ان کی ہر بات ماننے کو تیار ہو جاءیں گے؟ کوءی اور ملک ہوتا تو اس قسم کے فراڈ خط کو ذرا اہمیت نہ دی جاتی اور ایسے خط کو میڈیا میں پیش کرنے والے شخص کو نوسر باز اور سستی شہرت کا طالب ہی سمجھا جاتا مگر پاکستانی میڈیا میں بہت سے لوگ ہیں جن کو آصف علی زرداری ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ یہ لوگ زرداری اور ان کے ساتھیوں کو بدنام کرنے کا کوءی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس خط کی شکل میں ان لوگوں کو ایک نیا شوشہ میسر آیا ہے چنانچہ صبح و شام اس حماقت بھرے خط کو ٹی وی پہ آنے والے مختلف اینکر اچھال رہے ہیں۔ اتنا کافی تھا کہ ماءک ملن سے پوچھا جاتا کہ آیا تمھیں یہ خط حسین حقانی نے بھیجا تھا؛ وہ جواب دیتے کہ نہیں تو بس بات ادھر ہی ختم کر دی جاتی۔ کہ منصور اعجاز نامی بہت سے لوگ ہیں جو اپنے روپے پیسے کی وجہ سے اہم لوگوں کے قریب آ سکتے ہیں اور پھر کسی کے نام سے بھی ایک خط لکھ کر کسی اہم عہدیدار تک پہنچا سکتے ہیں۔ صبح و شام میموگیٹ کا راگ الاپنے والے یہ نام نہاد صحافی اپنی صحافیانہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر وہ منصور اعجاز کو غیراہم اور چال باز سمجھ کر نظرانداز نہیں کر سکتے تو کم از کم اس شخص سے تیڑھے ترچھے سوالات ہی کریں۔ اس سے پوچھیں کہ اگر تم حسین حقانی کے اتنے قریبی ساتھی تھے کہ حقانی نے ماءک ملن تک یہ خط پہنچانے کے لیے تمھیں استعمال کیا تھا تو آج تم اس خط کو میڈیا میں اچھال کر اپنے 'حلیفوں' کو کیوں بدنام کر رہے ہو؟ اس کے ساتھ اس شخص سے ہر بات کا دستاویزی ثبوت مانگا جاءے کہ تمھیں پاکستانی سفارت خانے کے کن لوگوں سے کس طرح کی تحریری ہدایات ملی تھیں۔ اسی قسم کے بے باک سوالات سے ذرا سی دیر میں معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے مگر اتنی تکلیف برداشت کرنے کے لیے یہ صحافی تیار نہیں ہیں۔

Labels:


 

عمران خان کا تاریخی جلسہ

نومبر تیرہ، دو ہزار گیارہ


عمران خان نے تیس اکتوبر کے روز لاہور میں مینار پاکستان کے مقام پہ ایک کامیاب جلسے سے خطاب کیا۔ تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ اس جلسے میں ایک لاکھ سے اوپر لوگ شریک ہوءے۔ اس جلسے کے بعد پاکستانی ذراءع ابلاغ میں ایک زور دار شور مچا۔ یوں تو ایک عرصے سے عمران خان پاکستانی میڈیا کے چہیتے رہے ہیں مگر ان کے حالیہ جلسے نے تو انہیں پاکستانی میڈیا کی آنکھوں میں اوتار کا درجہ دے دیا۔ پاکستان کے مختلف ٹی وی چینل پہ نظر آنے والے مبصرین کو سنیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسےعمران خان نے لاہور میں کامیاب جلسہ کر کے اگلے انتخابات جیت لیے ہیں اور وہ پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ اکتوبر تیس کے جلسے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں شریک ہوءے، اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ لوگ نہ جانے تجسس میں وہاں پہنچے، یا تفریح کے اور مواقع نہ میسر ہونے کی وجہ ان کی جلسے میں شمولیت کا سبب بنی، یا پھر وہ عمران خان کو ایک نظر دیکھنے کے لیے وہاں پہنچے، یا وہ واقعی تحریک انصاف نامی سیاسی جماعت کو دل و جان سے چاہتے ہیں اور اگلے انتخابات میں عمران خان کی تحریک انصاف کو جیتتا دیکھنا چاہتے ہیں، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ میں اور لوگوں کے بارے میں جانوں یا نہ جانوں، اپنے بارے میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں اگر اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کے کسی امیدوار کو ووٹ دوں گا تو اس لیے نہیں کہ مجھے عمران خان کے سیاسی نظریات سے مکمل اتفاق ہے بلکہ میں ایسا اس لیے کروں گا کیونکہ دوسری جماعتوں کے قاءدین کے مقابلے میں عمران خان کا دامن صاف نظر آتا ہے۔

مگر آج کے اس کالم کا مقصد عمران خان کی اندھی مدح سراءی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد عمران خان کو تنقیدی نظر سے دیکھنا ہے۔ عمران خان پہ سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ وہ مطلق العنان ہیں اور کسی قسم کی مشاورت میں یقین نہیں رکھتے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں ہیں جن کا اپنے بارے میں خیال ہے کہ، مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ اور اسی لیے ان کی تحریک انصاف میں صرف وہی کارکن کام کر سکتے ہیں جو عمران خان کو اپنا خدا مانیں اور ان کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم کریں۔ وہ لوگ جو عمران خان کے سحر میں گرفتار ہوں اور ان کی موجودگی میں اس قدر ڈرے، سہمے اور سحر زدہ ہوں کہ منہ کھولنے کی جسارت نہ کریں۔ جب تک آپ عمران خان کی ہر بات پہ آمنا و صدقنا عمل کرتے رہیں آپ تحریک انصاف میں کامیابی سے چلتے رہیں گے۔ اگر آپ نے عمران خان سے اختلاف کیا تو تحریک انصاف میں آپ کے لیے کوءی انصاف نہیں ہے۔

تحریک انصاف بننے کے بعد اس میں کءی مقتدر سیاسی شخصیات نےشمولیت اختیار کی مگر کچھ ہی عرصے میں یہ لوگ عمران خان سے اختلافات کی وجہ سے تحریک انصاف سے مستعفی ہو گءے ۔ ان ممتاز سیاسی راہ نماءوں میں جو تحریک انصاف میں شامل ہوءے اور پھر عمران خان سے اختلاف کی بنا پہ تحریک سے علیحدہ ہوءے، معراج محد خان کا نام بہت بلند ہے۔

بات سمجھنے کی یہ ہے کہ گیارہ نوجوانوں کی ایک ٹیم کو تو مطلق العنانی سے چلایا جا سکتا ہے؛ ایک خیراتی اسپتال کے بورڈ کے کرتا دھرتا بن کر اس اسپتال کے انتظام کو چلانا بھی اتنا مشکل نہیں ہے؛ مگر اٹھارہ کروڑ لوگوں کے ایک ملک کو چلانے کے لیے بہت سے صاحب الراءے افراد کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ کسی ملک کی سربراہی کے کام میں اکڑفوں کو ایک طرف رکھ مشاورت کی راہ اپنانی ہوتی ہے۔ جو لوگ جمہوری عمل سے اقتدار میں آءیں، جمہور ان سے توقع کرتی ہے کہ وہ من مانی نہیں کریں گے بلکہ عوام کی مرضی سے قدم آگے بڑھاءیں گے۔

Friday, November 11, 2011

 

سامان سو برس کا ہے

وال اسٹریٹ پہ قبضہ نامی تحریک نیو یارک سے شروع ہوءی، امریکہ کے مختلف شہروں میں پہنچی اور اب مغربی دنیا کے بیشتر شہروں میں پھیل چکی ہے۔ یہاں کیلی فورنیا میں اور دوسرے شہروں کے مقابلے میں اوک لینڈ پہ قبضہ والی مہم اوک لینڈ پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے عالمی سطح پہ مشہور ہو گءی ہے۔ ان قبضہ تحریکوں کے ناقدین کا اعتراض ہے کہ قبضہ تحریک چلانے والوں کے سامنے کوءی واضح سمت نہیں ہے۔ کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ لوگ اپنی اس تحریک کے ذریعے حکومت سے کیا منوانا چاہتے ہیں۔ بڑا میڈیا جو بڑے کاروبار کا حصہ ہے اور اس مالی سانجھے میں شامل ہے جس کے خلاف یہ قبضہ تحریک ہے، پوری کوشش کرتا نظر آرہا ہے کہ قبضہ تحریک کے متعلق شک و شبہات عام لوگوں کے ذہنوں میں رہیں۔ عوام کو قبضہ تحریک کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہوں اور اگر کچھ معلوم ہو بھی تو صرف منفی خبروں کے حوالے سے۔ کوشش ہے کہ قبضہ تحریک کو یہ کہہ کر بدنام کیا جاءے کہ اس تحریک میں شامل لوگ جراءم پیشہ ہیں اور محض لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں قبضہ تحریک میں شامل لوگوں پہ فرض ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی تحریک کے اغراض و مقاصد عام لوگوں تک پہنچاءیں۔ اس سلسلے میں یقینا کام ہو رہا ہے مگر تحریک چلانے والے ان لوگوں کے پاس ٹی وی کی طاقت نہیں ہے کہ اپنی آواز ذرا سی دیر میں امریکہ کے گھر گھر پہنچا دیں، اس لیے موثر خبررسانی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔

قبضہ تحریک دراصل غم و غصے کی تحریک ہے۔ اس وقت امریکہ کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی جو شرح ہے ایسی روزگاری تاریخ میں کبھی نہ رہی۔ لوگوں کو غصہ اس بات پہ ہے کہ امریکہ کی جمہوریت پہ بڑے کاروبار نے قبضہ کر کے اسے ایک مذاق بنا دیا ہے۔ یہ جمہوریت ایک فراڈ بن گءی ہے جس میں کوءی کم پیسے والا شخص انتخابات جیت ہی نہیں سکتا۔ انتخابات جیتنے کے لیے بڑے کاروبار کے مالی تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور بڑا کاروبار انتخابی چندہ ان امیدواروں کو دیتا ہے جو منتخب ہونے کے بعد بڑے کاروبار کا ساتھ دیں اور بڑے بیوپاری مالدار سے مالدار ہوتے جاءیں۔ چنانچہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن کاروباروں کی وجہ سے ملک کی معیشت کسادبازاری کا شکار ہوءی ہے،آج ان ہی بیوپار کو حکومت مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ جب کہ غریب آدمی اس وقت کے انتظار میں ہے جب حکومت کی جانب سے خرچ کیا جانے والا یہ پیسہ رستا رستا نیچے اس تک پہنچے گا۔

اگر موجودہ سرمایہ داری نظام کی تہہ تک جاءیے تو پورا نظام لالچ کے جذبے پہ چل رہا ہے۔ لالچ کے کوڑے سے لوگ بگٹٹ بھاگتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات پوری ہونے کے بعد بھی دولت کے انبار لگاتے جاتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اتنا کچھ مال جمع کر لیتے ہیں کہ ان کی اگلی دس پشتیں بھی بیٹھ کر کھاءیں تو ان کا خزانہ کم نہ ہو۔ لوگوں کی ہوس دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ وہ زندگی کی بے ماءیگی کو نہیں پہچانتے۔ سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں۔ اسٹیو جابز ارب پتی شخص تھا مگر ایک دن وہ بھی مر گیا۔

مغربی دنیا میں جو ٹیکس کا نظام راءج ہے اس میں ٹیکس آمدنی پہ لگتا ہے، جمع پونجی پہ نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جو لوگ کسی طرح اپنا خزانہ وسیع کرتے جاتے ہیں انہیں فکر نہیں ہوتی کہ ان کے جمع شدہ خزانے کا ذرا سا حصہ بھی حکومت کی طرف جاءے گا۔ لوگ اپنی جمع پونجی کو اپنا تحفظ خیال کرتے ہیں اور لالچ کے جذبے کے تحت اس نام نہاد تحفظ کو پختہ سے پختہ کرتے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ٹیکس کے انتظام میں بنیادی تبدیلی لاءی جاءے اور ٹیکس آمدنی کے بجاءے یا آمدنی کے ساتھ جمع پونجی پہ لگایا جاءے۔ واضح رہے کہ اسلام میں ٹیکس کا نظام ان ہی خطوط پہ کام کرتا ہے۔ جمع پونجی پہ ٹیکس لگانے سے لالچ کے اس جذبے پہ جس میں انسان دولت کے انبار لگاتا چلا جاتا ہے ضرب لگے گی۔ اس وقت امریکی عوام ذہنی طور پہ نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے تیار ہیں۔ قبضہ تحریک کے مطالبات میں دھن پہ ٹیکس کا مطالبہ برمحل بھی ہوگا اور موجودہ حالات میں اس مطالبے کی کامیابی کے امکانات بھی روشن نظر آتے ہیں۔


Labels: , , ,


 

پاکستان کے غیر ملکی مسیحا



سان فرانسسکو بے ایریا میں بسنے والے بیشتر پاکستانی نہ صرف یہ کہ اصحاب ثروت ہیں بلکہ دل میں انسانیت کا درد بھی رکھتے ہیں۔ بہت مختف وجوہات کی وجہ سے اس سال پاکستان میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریاں ٹی وی، اخبارات، اور انٹرنیٹ کی زینت اس طرح نہ بنیں جس طرح پچھلے سال کے سیلاب کی خبریں بنیں تھیں۔ مگر میڈیا میں اس خبر کی شدت میں کمی کے باوجود سیلاب سے وابستہ پریشانیوں کی شدت متاثرین میں بھرپور طریقے سےموجود ہے۔ بڑھتے پانی کے ریلے سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو گءے ہیں۔ سیلاب سے بے گھر متاثرین کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔ پریشانی کی اس حالت میں یہ لوگ سوالیہ نظروں سے باقی پاکستانیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ سان فرانسسکو بے ایریا کے پاکستانیوں نے ان سوالیہ نظروں کی چبھن محسوس کی ہے۔ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک اتفاق ہی تو ہے کہ وہ ایسی کسی قدرتی آفت سے بچے ہوءے ہیں ورنہ مصیبت آنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ یہ محض اتفاق ہی تو ہے کہ وہ ایک نسبتا پرسکون زندگی گزار رہے ہیں ورنہ زندگی کی بازی پلٹنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ سیلاب سے متاثر اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے کءی بااثر افراد اور فلاحی ادارے اکھٹا ہوءے اور سیلاب زدگان کے لیے چندہ اکھٹا کیا گیا۔ پھر ایک ایسی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں چندہ دینے والے بیشتر لوگ شریک ہوءے۔ واضح رہے کہ ساءتھ ایشیا ریلیف کے جھنڈے تلے چلنے والی اس مہم میں چندہ کسی ایک فلاحی تنظیم کو نہیں دیا گیا تھا بلکہ چندے کے لیے فلاحی اداروں کی ایک فہرست متمول افراد کو فراہم کر دی گءی تھی کہ وہ جس تنظیم کو چاہیں چندہ دیں۔ سنیچر، اکتوبر ۲۹ کو کمپیوٹر ہسٹری میوزیم میں جو تقریب منعقد کی گءی اس کا مقصد لوگوں کو ایک بار پھر سیلاب کی آفات سے مطلع کرنا تھا۔ اس تقریب کی نظامت عمر خان نے کی۔ اس محفل میں شاءن ہیومینٹی نامی ایک فلاحی تنظیم کے روح رواں ٹاڈ شے مہمان اعزاز تھے۔ تقریب میں جب ٹاڈ شے کا تعارف یہ کہہ کر کرایا گیا کہ اب ٹاڈ کی انتہاءی دلچسپ داستان سنیے تو ایک لمحے کو میرا دل ڈوب گیا۔ میرا دھیان فورا گریگ مورٹینسن کی طرف گیا۔ ان کا تعارف بھی قریبا ایسے ہی الفاظ سے کیا جاتا تھا کہ، آءیے اب گریگ مورٹینسن سے ان کی انتہاءی حیرت انگیز اور قابل ستاءش کہانی سنیے۔ سنیچر کی تقریب میں ٹاڈ شے ماءکروفون تک پہنچے تو دل میں خیال آیا کہ دلچسپ داستانیں تو ہم سنتے ہی آءے ہیں، کاش یہ ساری کہانیاں سچی ہوتیں۔ ٹاڈ شے نے تصویروں کے ذریعے حاضرین کو اپنے فلاحی کاموں کے بارے میں بتایا اور خوب داد وصول کی۔ مگر مجھے ان کی اس دیانت نے متاثر کیا جس کا اظہار انہوں نے اپنی تقریر کے آخر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ، "میں بہت سے ایسے پاکستانیوں سے ملا ہوں جو پچھلے تیس چالیس سال سے اپنے ہم وطنوں کی خدمت کر رہے ہیں مگر ان کے کام کا چرچا نہیں ہوتا، نیویارک ٹاءمز ان کے کارناموں کی خبر نہیں لگاتا اور نہ ہی وہ عاطف اسلم کے دوست ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ گورے نہیں ہیں اور ان کا تعلق امریکہ سے نہیں ہے۔ مگر ان کا کام اہم ہے اور انہوں نے میرے مقابلے میں کروڑ گنا زیادہ کام کیا ہے۔ اس لیے میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ ان لوگوں کو بھی سراہیں اور ان کی مدد کریں۔"

ٹاڈ شے کے یہ مشاہدات برمحل ہیں۔ یقینا ایسا ہی ہے۔ امریکہ میں بسنے والے بہت سے پاکستانی یقینا پاکستان کے غیرملکی مسیحاءوں کو ملکی مسیحاءوں پہ ترجیح دیتے ہیں۔ جب گریگ مورٹینسن کا جادو چڑھ کر بول رہا تھا تو پاکستانیوں کا ایک بڑا گروہ مورٹینسن کو اپنا پیر سمجھتا تھا اور مستقل ان کے آگے پیچھے لگا رہتا تھا۔ مورٹینسن کے بہت سے معتقدین ایسے تھے جن سے پوچھا گیا کہ تم نے مورٹینسن کے بناءے ہوءے کتنے اسکولوں کا دورہ کیا ہے۔ اس سوال کا جواب تھا، صفر۔ مگر اس کے باوجود مورٹینسن ایک سفید فام امریکی تھا اس لیے ان لوگوں کی نظروں میں واقعی سچا تھا۔ جھوٹ تو یہ کالے پیلے لوگ بولتے ہیں۔ یہاں یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ فلاحی کام کسی رنگ و نسل کا مرد یا زن کرے اس میں کسی قسم کا حرج نہیں ہے اور ہمارے دل میں ہر طرح کے اچھے لوگوں کے لیے مساوی عزت ہونی چاہیے۔ مگر لوگوں کے رنگ و نسل سے متاثر ہو کر سوال کرنے کی طاقت کھو دینا مناسب نہیں ہے۔ اس کالم کے قاری جب کسی فلاحی تنظیم کو چندہ دینا چاہیں تو چندے کا چیک کاٹنے سے پہلے فلاحی تنظیم کے متعلق یہ بنیادی سوال کریں۔ کیا یہ فلاحی تنظیم اس جگہ اتنی ہی مقبول ہے جتنی مقبول یہ چندہ جمع کرنے والوں کے درمیان ہے؟ مثلا، گریگ مورٹینسن کی شہرت پاکستان کے مقابلے میں امریکہ میں کہیں زیادہ تھی اور پاکستان میں ڈھونڈے سے ایسے لوگ نہ ملتے تھے جو مورٹینسن کے فلاحی کاموں کی وجہ سے انہیں جانتے ہوں۔ کیا مقامی میڈیا (مغربی میڈیا نہیں) نے اس فلاحی تنظیم کا ذکر کسی خبر یا اخباری رپورٹ میں کیا ہے یا یہ فلاحی تنظیم خود ہی اپنے 'کارناموں' کی تصویریں کھینچتی ہے اور پھر جگہ جگہ جا کر ان تصویروں کو دکھا کر چندہ اکٹھا کرتی ہے؟ وہ لوگ کہاں ہیں جنہیں اس تنظیم کے فلاحی کاموں سے براہ راست فاءدہ پہنچا ہے اور ان لوگوں کی اس تنظیم کے بارے میں کیا راءے ہے؟

Labels: , , , ,


 

حب الوطنی کیا ہے؟

حب الوطنی کیا ہے؟ اس سوال سے متعلق موجود گنجلک سوچیں ایک دفعہ پھر ایک گفتگو میں سامنے آءیں۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ ایک ملک کے اندر موجود تمام لوگوں کو بیک وقت خوش نہیں کیا جا سکتا مگر حب الوطنی کا تقاضہ ہوتا ہے کہ اکثریت جس طرح ملک کو چلانا چاہ رہی ہے اس طرح ملک کو چلانے دیا جاءے اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے معترضین خاموشی سے ایک طرف بیٹھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حب الوطنی کیا شے ہے اور اس خیال سے وابستہ وفاداری اور طرح کی وفاداریوں سے کیوں بلند تر ہے۔ میں اپنی حب الوطنی کا تعلق اپنے لوگوں کے ساتھ جوڑتا ہوں۔ میں کراچی میں پیدا ہوا اور وہاں پلا بڑھا۔ مجھے وہ شہر بہت پسند ہے۔ مگر اس شہر سے محبت میں میری اصل انسیت وہاں کے لوگوں کے ساتھ ہے۔ اگر اس جگہ سے آپ سارے لوگوں کو نکال کر محض عمارتیں اور سڑکیں میرے سامنے کر دیں تو میں اس شہر سے تعلق نہ جوڑ پاءوں گا۔ حب الوطنی کی اس تعریف میں اصل وفاداری لوگوں کے ساتھ ہے نہ کہ وطن جیسے پیچیدہ نظریے کے خیال کے ساتھ۔ لوگ ہیں تو وطن ہے ورنہ پانی، مٹی، دریا، پہاڑ، وغیرہ تو ہر جگہ قریبا ایک جیسے ہی ہیں۔ اگر حب الوطنی کی اس تعریف کو اصل مانا جاءے تو سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پھر یہ خیال دل میں نہیں آتا کہ 'حب الوطنی' کے جذبے کے تحت اکثریت اقلیت کو دبا لے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں۔ دارالحکومت دہلی کے قریب رہنے والے ایک شخص کے لیے یہ کہنا بہت آسان ہوگا کہ بھارت سے 'حب الوطنی' میں یہ جاءز ہے کہ کشمیریوں کی کوءی بات نہ سنی جاءے، یا ماءوسٹ تحریکوں کو کچل کر رکھ دیا جاءے، لیکن ایسی بات حب الوطنی کی صحیح تعریف کے تحت لغو ہوگی کیونکہ لوگوں کے کسی بھی گروہ کو کچل کر 'وطن' سے محبت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر پرانے دنیا کے کءی جمہوری ملک پھنس جاتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جمہوریت کے تحت ان لوگوں سے کس طرح معاملہ کریں جو ایک ملک میں باقی لوگوں کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے۔ یہاں حب الوطنی کا پتہ کھیلا جاتا ہے۔ اکثریت پہ باور کیا جاتا ہے کہ جو لوگ آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو لوگ اپنے خطے کو ملک سے الگ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ دراصل محب الوطن نہیں ہیں، چنانچہ حب الوطنی کا تقاضہ یہی ہے کہ ملک توڑنے کی خواہش رکھنے والے ان لوگوں کو سختی سے کچل دیا جاءے۔ حب الوطنی کا ترپ کا یہ پتہ بالکل بے محل ہے۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیا جاءے۔ اگر لوگوں کا ایک گروہ کسی جغرافیاءی خطے کی آزادی چاہتا ہے تو ان کو آزاد کر دیا جاءے۔ پرانی دنیا کے بہت سے ممالک جو نوآبادیاتی تسلط سے آزاد ہوءے ہیں انہیں ایسے موقعوں پہ اپنی آزادی کی جدوجہد یاد کرنی چاہیے۔ انہیں یاد کرنا چاہیے کہ ان کے دل میں آزادی کی کیسی امنگ تھی، وہ کس طرح نوآبادیاتی طاقت کو اپنے سر سے ہٹانا چاہتے تھے۔ پھر ایک دن ان کی خواہش پوری ہوءی اور وہ آزاد ہو گءے۔ اب اگر ان کے درمیان ایسے گروہ ہیں جو کسی خطے میں اکثریت رکھتے ہیں اور اس خطے کی آزادی چاہتے ہیں تو کیا آزادی کی یہ خواہش آزادی کی اس خواہش سے مختلف ہے جو نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہونے والے اس ملک کی قیادت کے دل میں تھی؟

Labels: , ,


 

گھر لوٹ جاءو





بعض تقاریر چونکا دیتی ہیں۔ حال میں پرسیپینی، نیو جرسی میں منعقد ہونے والے این ای ڈی المناءی کنوینشن ۲۰۱۱ میں ایسی ہی ایک چونکا دینے والی تقریر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون نے کی۔ مگر سفیر صاحب کی تقریر کے بیان سے پہلے کچھ حال این ای ڈی کنوینشن کا ہوجاءے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں این ای ڈی کنوینشن منعقد کرنے کا یہ سلسلہ قریبا چھ برس پہلے شروع ہوا۔ ایک تعلیمی ادارہ جو ایک چھوٹے سے کالج کی صورت میں ۱۹۲۰ میں شروع ہوا تھا، بڑھا، ایک جامعہ بنا اور پھر وہاں سے نکلنے والے لوگ رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گءے۔ این ای ڈی سے فارغ التحصیل طلبا شمالی امریکہ کے مختلف شہروں میں بکھرے ہوءے ہیں۔ معین احمد نامی ایک صاحب نے خیال پیش کیا کہ امریکہ میں موجود این ای ڈی کے سابق طلبا ہر سال ایک کنوینشن کی شکل میں جمع ہوں۔ پہلا کنوینشن سنہ ۲۰۰۵ میں ہیوسٹن میں ہوا۔ اور اب ہر سال یہ کنوینشن کسی نءی جگہ منعقد ہوتا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کنوینشن بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کونینشن میں شرکت کرنے والے زیادہ تر لوگ میری طرح ہیں جو گزرے وقت کو یاد کرنے کے لیے اکٹھا ہوتے ہیں۔ یہ کنوینشن ایک عجیب موقع ہوتا ہے۔ فضا میں ایک جادو ہوتا ہے۔ ہم سب ایک پرانے دور میں پہنچ جاتے ہیں۔ جب سوچیں سادہ تھیں، خواہشات بہت کم تھیں، اور امنگیں جوان تھیں۔ میں ان لوگوں کے درمیان ہوتا ہوں جن کی شکلیں میں صبح و شام دیکھا کرتا تھا۔ پھر وہی موسیقی فضا میں بلند ہوتی ہے جو میرے زمانہ طالب علمی میں گونجا کرتی تھی۔ غرض کہ ایک سحر کن ماحول بن جاتا ہے اور ہم سب اپنے حال کو بھول کر کچھ دیر کے لیے ماضی میں پہنچ جاتے ہیں۔ گو کہ پرسیپینی میں منعقد ہونے والا کنوینشن جمعے کی شام شروع ہوا اور اتوار کی صبح ختم ہوا مگر کنوینشن کا اصل دن سنیچر کا روز تھا۔ ہفتے کی صبح مختلف تقاریر ہوءیں جن میں نءے خیالات پیش کیے گءے اور اپنی شناخت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پہ بات ہوءی۔ صبح کے پروگرام کی نظامت راشد علی بیگ نے کی۔ پہلی تقریر سلمان صدیقی کی تھی جنہوں نے دنیا میں تواناءی کے بحران پہ روشنی ڈالی اور اپنی بات اس تجویز پہ ختم کی کہ کس طرح این ای ڈی کی چھت پہ فوٹو وولٹیک پینل لگا کر این ای ڈی کے لیے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور اپنی مادر علمی کو تواناءی میں خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ سلمان صدیقی کی تقریر کے بعد چار مبصرین--حسام احمد، خالد ملک، سلمان صدیقی، اور صفوان شاہ--نے نءے کاروبار شروع کرنے کے موضوع پہ اپنے خیالات پیش کیے۔ اس گفتگو کی راہ نماءی تنویر عالم ملک نے کی۔ جامعہ این ای ڈی کے ایک پرانے استاد ڈاکٹر سید فراست علی نے این ای ڈی المناءی کی ذمہ داریوں کے موضوع پہ تقریر کی۔ ڈاکٹر فراست علی کی تقریر کے بعد ایک اور گفتگو ہوءی جس کا موضوع 'سماجی اور سیاسی میدان میں این ای ڈی المناءی کا کردار' تھا۔ اس گفتگو کے شرکا اکبر انصاری، انور حسن، ابوالسلام اور خالد منصور تھے، جب کہ گفتگو کی پیشواءی امیرالسلام نے کی۔

شام کے پروگرام میں محمد علی شیھکی اور عالمگیر کے زوردار گانوں سے پہلے، ضیا محی الدین کی سحر کن ادب خوانی سے پہلے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون نے کلیدی تقریر کی جس نے بہت سے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیا۔ حسین ہارون نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ واضح ہے کہ امریکہ انحطاط کا شکار ہے۔ امریکہ کے اچھے دن واپس نہ آنے کے لیے جا چکے ہیں۔ اور یہ کوءی اچھنبے کی بات نہیں۔ کوءی بھی ملک، کوءی قوم ہمیشہ دنیا میں اول نہیں رہتی۔ قوموں کا عروج و زوال تاریخ کا سبق ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک ایسا وقت ہے کہ جب امریکہ سمیت پوری مغربی دنیا میں غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ پاکستان کے حالات بھی کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں۔ لیکن اگر غیریقینی ہرطرف ہے تو امریکہ میں بسنے والےپاکستانی کیوں نہ واپس پاکستان جانے کے بارے میں سوچیں؟ اگر مغرب میں رہنے والے پاکستانیوں کو اپنا پیسہ سرمایہ داری کے لیے کہیں نہ کہیں لگانا ہے تو کیوں نہ وہ یہ سرمایہ پاکستان میں کسی کام پہ لگاءیں؟ سفیر صاحب نے کہا کہ ماہرین معاشیات سے گفتگو میں انہوں نے یہ جانا ہے کہ آج کے ان غیر یقینی حالات میں اگر سرماءے پہ کہیں سب سے زیادہ فاءدہ مل سکتا ہے تو وہ ترقی پذیر دنیا ہے۔ مغرب میں رہنے والے پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ واپس اپنے وطن جاءیں اور وہاں رہ کر اپنا پیسہ وہاں لگاءیں۔ سفیر صاحب کی اس ولولہ انگیز تقریر کے دوران کءی موقعوں پہ حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجاءیں اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

زندگی کے اول مراحل میں انسان کے پاس تجربہ محدود ہوتا ہے مگر تواناءی بے انتہا ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کا علم اور تجربہ بڑھتے جاتے ہیں، مگر اس کے ساتھ اس کے اندر کچھ کرنے کے لیے تواناءی کم ہوتی جاتی ہے۔ اور پھر عمر کا وہ آخری دور آتا ہے جب علم اور تجربہ تو بہت زیادہ ہوتا ہے مگر عمل کے لیے تواناءی بہت کم ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں آ کر بس جانے والے ہمارے لوگ مستقل تذبذب کا شکار رہتے ہیں کہ آیا وہ اس نءی جگہ پہ رہتے رہیں یا اپنے پرانے وطن لوٹ جاءیں۔ وہ سارے لوگ جو اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر، ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، وہ موقع تلاش کر رہے ہوتے ہیں جب ان کے تجربے اور تواناءی کے درمیان ایک طلاءی توازن قاءم ہو چلا ہوگا کہ اس موقع پہ اگروہ واپس پلٹ جاءیں اور اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر کام کریں تو منہ کی مار نہ کھاءیں گے بلکہ پنپ جاءیں گے۔ علم اور تواناءی کے درمیان وہ سنہری توازن کہ اگر انہوں نے کچھ وقت تردد میں گزارا تو سوءی توازن کے کانٹے سے پرے ہوجاءے گی اور ان کے جسم میں اتنی تواناءی باقی نہ رہے گی کہ وہ اپنی زندگی میں کوءی بڑی تبدیلی لا سکیں۔ عبداللہ حسین ہارون نے اپنی تقریر سے ایسے ہی لوگوں کو للکارا ہے کہ انتظار کیسا، بس فیصلہ کرو اور گھر لوٹ جاءو۔

Labels: , , , , , ,


 

لیکن میرا دل


نیو جرسی میں منعقد ہونے والے سالانہ این ای ڈی کنوینشن کے لیے لکھی جانے والی ایک تحریر۔

موسیقی طاقت رکھتی ہے۔ اتنی طاقت کہ یہ آپ کو گھسیٹ کر ماضی میں لے جا سکتی ہے۔ جس وقت میرا داخلہ جامعہ این ای ڈی میں ہوا اس وقت پاکستان کی موسیقی پہ نازیہ حسن کا راج تھا۔ اور آج بھی میں نازیہ حسن کا گیت 'لیکن میرا دل' سنوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں انیس سال کا ایک لڑکا ہوں جو این ای ڈی کے آڈیٹوریم میں داخل ہوا ہے جہاں یہ گانا زور زور سے چل رہا ہے۔ اس آڈیٹوریم میں نءے آنے والے طلبا کے لیے اورینٹیشن پروگرام کی تیاری میں صفاءی ہو رہی ہے۔ باہر گرمی ہے چنانچہ آڈیٹوریم کا اے سی سسٹم بہت خوشگوار احساس دے رہا ہے۔ طبیعت میں جولانی ہے۔ یہ دن بے فکری اور موج کے دن ہیں۔ سب کچھ آسان معلوم دیتا ہے۔ امنگیں جوان ہیں اور دل مشکل سے مشکل منزل سر کرنے کے لیے تیار۔ زندگی خوب صورت ہے۔

این ای ڈی کے ان اولین دنوں میں جامعہ سے، اس سے متعلق اصطلاحات سے، اور لوگوں سے تعارف ہو رہا ہے۔ یونین کی اہمیت اور طاقت نظر میں بڑھتی جا رہی ہے۔ یونین کے لوگ ہر کام میں آگے آگے نظر آتے ہیں۔ این ای ڈی میں اس وقت راشد علی بیگ کی یونین ہے۔ راشد یونین کے صدر ہیں، ان کے جنرل سیکریٹیری امان اللہ حنیف ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد یونین کے انتخابات ہوں گے جن میں نءے سال کے لیے عہدیداروں منتخب کیے جاءیں گے۔ سیاسی عزاءم رکھنے والے طلبا کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے فارغ التحصیل ہو جانے والے طلبا راہ نماءوں کے ناموں سے بھی واقفیت ہو گءی ہے۔ ان ناموں میں فرحت عادل، محمد حسین، سردار حنیف، اور امیر نقوی وغیرہ شامل ہیں۔ محمد حسین سے تعارف ایک اخباری رپورٹ کے ذریعے ہوا تھا۔ این ای ڈی کے ایک طالب علم کو بلوچستان میں واقع اپنے گھر سے کوءی بری خبر ملی تھی؛ اسے فورا گھر جانا تھا مگر سواری کا کوءی انتظام نہیں تھا۔ محمد حسین نے واءس چانسلر کے کمرے سے این ای ڈی کی ایمبولینس کی چابی اٹھا کر اس لڑکے کو دے دی تھی۔ وہ لڑکا ایمبولینس پہ بلوچستان روانہ ہو گیا تھا۔ محمد حسین پہ چوری کا جو مقدمہ درج ہوا تھا نہ جانے اس مقدمے کا کیا بنا۔

یہ وہ وقت ہے کہ اچھا بولنے والے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ کراچی کے اکثر تعلیمی اداروں میں مباحثے اور تقریری مقابلے ہوتے ہیں۔ ان مقابلوں میں ایک سے بڑھ کر ایک مقرر شریک ہوتے ہیں۔ یہ لوگ الفاظ کے جادوگر ہیں، بیان کے ساحر ہیں۔ این ای ڈی میں بھی اچھے مقررین کی کوءی کمی نہیں۔ فیاض الحسن فارغ التحصیل ہو رہے ہیں مگر آشکار داور، وصی صدیقی، زاہد قمر، صفوان شاہ، امیرالسلام،اور شاہد محمود موجود ہیں۔ این ای ڈی سے باہر اچھا بولنے والوں میں اسلامیہ لاء کالج کے ن م دانش ایک بہت بڑا نام ہیں۔ ن م دانش کے ساتھ مکرانی طلبا کا ایک گروہ چلتا ہے۔ یہ لوگ محض ن م دانش کا دل بڑھانے کے لیے ہی نہیں ہیں بلکہ موقع آنے پہ ان کا 'ریکارڈ' لگانے سے بھی باز نہیں آتے۔ ڈاءو میڈیکل کالج میں ہونے والا ایسا ہی ایک تقریری مقابلہ ہے جس میں ن م دانش اسٹیج پہ آءے ہیں اور ان کے ساتھ آنے والا گروہ نعرے بازی کر رہا ہے۔

ن م دانش، ننھا منھا دانش؛ ن م دانش، ننھا منھا دانش۔

این ای ڈی کیونکہ جامعہ کراچی سے متصل ہے اس لیے این ای ڈی میں رہتے ہوءے جامعہ کراچی سے بھی واقفیت بڑھ رہی ہے۔ اس وقت جامعہ کراچی میں یونین کے صدر محمود غزنوی ہیں۔ وہ بلا کے مقرر ہیں۔ ان سے پہلے جامعہ کراچی کے طلبا راہ نماءوں میں حسین حقانی اور شفیع نقی جامعی کے نام بھی سننے میں آتے ہیں۔

پہ ضیاالحق کا دور ہے، بھٹو کو پھانسی چڑھے کچھ عرصہ ہو چلا ہے۔ ہنرمند لوگوں کا عرب ریاستوں میں جانے اور وہاں کام کرنے کا جو سلسلہ قریبا دس سال پہلے شروع ہوا تھا اب بھی زور و شور سے جاری ہے۔ باہر کام کرنے والے یہ لوگ جب وطن واپس آتے ہیں تو اپنے ساتھ سوفینی کا کپڑا، سینٹ کی بوتلیں، اور وی سی آر ضرور لاتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی پلاسٹک کے دیدہ زیب اور مضبوط بیگ بھی آرہے ہیں۔ ہم ان پلاسٹک بیگوں کو غور سے دیکھتے ہیں کہ اب تک ہم سودا سلف کے لیے کاغذ کے لفافے استعمال کرتے رہے ہیں۔

پہلے سیمسٹر کی پڑھاءی شروع ہو چکی ہے۔ بعض مضامین ذرے پلے نہیں پڑ رہے۔ ہم سینءیر طلبا سے مدد لیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک قابل سینءیر قیصر شاہ خان ہیں۔ وہ چھٹی کے روز جامعہ کراچی کے ایک لیکچر ہال میں ہمیں پڑھاتے ہیں۔ ان کو بات سمجھانے کا فن آتا ہے۔

بہت سے طلبا کی طرح میں بھی پواءنٹ سے این ای ڈی پہنچتا ہوں۔ لوگ ان بسوں کو کبھی ان کے علاقوں اور کبھی ان کے ڈراءیور اور کنڈیکٹر کے ناموں سے پہچانتے ہیں، مثلا ظہور کا پواءنٹ، نیازی کا پواءنٹ۔ بس جہاں آ کر کھڑی ہوتی ہے وہاں ہر صبح طلبا راہ نما پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہر شخص سے گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ ان لوگوں میں مسعود محمود اور الطاف شکور آگے آگے ہیں۔

پھر ایک یاد ہے ایک گرم دن کی کہ جب میں سورج کی تپش سے بچنے کے لیے لاءبریری کے کوریڈور میں چلتا ہوا آگے تک آتا ہوں اور پھر تیزی سے پلازا کا بے سایہ ٹکڑا پار کر کے سول ڈیپارٹمنٹ کے کوریڈو کی چھاءوں میں آجاتا ہوں۔ اچانک سامنے سے امیرالاسلام آتا نظر آتا ہے۔ اس کے منہ پہ یوں ہواءیاں اڑ رہی ہیں کہ جیسے اس نے کوءی بھوت دیکھ لیا ہو۔

"بھاگو، تھنڈر اسکواڈ آرہا ہے،" وہ مجھ سے کہتا ہے۔ میرے لیے یہ نءی اصطلاح ہے۔

"یہ تھنڈر اسکواڈ کیا ہوتا ہے؟" میں اس سے پوچھتا ہوں۔

"جمعیت کا تھنڈر اسکواڈ۔" وہ جلدی سے جواب دیتا ہے، اور ساتھ ہی مجھ سے ہمدردی میں مجھے دھکا دے کر دوسری طرف روانہ کرتا ہے۔ امیرالسلام کیونکہ کراچی یونیورسٹی میں کچھ وقت گزار کر آیا ہے اس لیے وہ وہاں کی سیاست سمجھتا ہے۔ کچھ دیر بعد میں لاءبریری میں بیٹھا ہوا کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں تو ایک عجیب منظر نظر آتا ہے۔ کچھ لوگ شلوار قمیضیں پہنے، مختلف نوع کا آتشیں اسلحہ لیے چھتوں پہ دوڑ رہے ہیں۔

کچھ دیر بعد نعرے بازی ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جامعہ کراچی سے اسلامی جمعیت طلبا کا عسکری گروہ تھنڈر اسکواڈ طاقت کا مظاہرہ کرنے این ای ڈی آیا تھا مگر ان اسلحہ بردار اجنبیوں کو این ای ڈی میں دیکھ کر بلوچ اور پٹھان طلبا تیزی سے اپنے ہاسٹل کی طرف گءے اور اسلحہ نکال کر لاءے۔ مگر اتنی دیر میں تھنڈر اسکواڈ این ای ڈی سے روانہ ہو چکا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے اس قدر اسلحہ یوں کھلے عام دیکھا ہے۔ طلبا کے پاس یہ جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟ مجھے اس وقت اس سوال کا جواب نہیں ملتا مگر بعد میں راز کھلتا ہے کہ سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جہاد شروع ہونے کے ساتھ پاکستان میں اسلحے کی فراوانی کا دور بھی شروع ہو چکا تھا۔

اس واقعے کے بعد دین محمد بورو اور شیرین خان سمیت کءی بلوچ اور پٹھان طلبا پلازا کے فوارے کے ساتھ اسلحے کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں۔

یونین کے انتخابات قریب آرہے ہیں۔ گہما گہمی بڑھ رہی ہے۔ این ای ڈی میں ایک عرصے سے پی ایس ایف جیتتی آ رہی ہے مگر اب کی دفعہ جمعیت نے بہت کام کیا ہے اور پی ایس ایف کی طرف سے یونین کی صدارت کے لیے کھڑےے ہونے والے امیدوار آفتاب صدیقی کے مقابلے میں الطاف شکور اور ان کے ناءب مسعود محمود زیادہ مقبول نظر آتے ہیں۔ پی ایس ایف کے پینل پہ بیرون کراچی طلبا کی بھی نماءندگی ہے۔ یہ نماءندگی پی ایس ایف کے پیچھے کام کرنے والے کراچی کے دماغ کو بلوچ اور پٹھان زور بازو فراہم کرنے کے صلے میں ہے۔ انتخابات ہوتے ہیں اور وہی ہوتا ہے جس کا خیال تھا۔ تین عہدیداران جمعیت کے منتخب ہوتے ہیں اور بقیہ پی ایس ایف کے۔ پی ایس ایف کے ایک امیدوار ظفر گچکی کا ہارنا بلوچ طلبا کو ذرا پسند نہیں آتا۔ ابھی طلبا کا الطاف شکور اور مسعود محمود سے مبارک سلامت کا سلسلہ جاری ہے کہ زوردار فاءرنگ شروع ہوجاتی ہے۔ ہم سب بھاگ اٹھتے ہیں۔ معصومیت کا ایک دور ختم ہوا۔ طلبا سیاست میں تشدد اور قتل و غارت گری کا دور شروع ہو رہا ہے۔

اور بھی بہت کچھ ہے لکھنے کے لیے مگر یہ ساری باتیں بہت پرانی ہیں۔ زندگی کا جہاز کھلے پانی میں بہت آگے آگیا ہے۔ اتنی دور کہ یہاں سے این ای ڈی میں گزارا جانے والا وقت ایک چھوٹا سا نقطہ معلوم دیتا ہے۔ لیکن میرا دل۔۔۔۔

Labels: , , , , , , , , , , ,


Sunday, October 02, 2011

 

دو موضوعات: ممتاز قادری اور فلسطینی ریاست





ممتاز قادری
ممتاز قادری کو عدالت نے سزاءے موت سناءی ہے۔ میں ہر سزاءے موت کے خلاف ہوں، اسی لیے ممتاز قادری کی سزاءے موت کے بھی خلاف ہوں۔ دراصل میں جرم و سزا کے رواءیتی نظام ہی سے مطمءن نہیں ہوں۔ ہر انسان بہت سی صلاحیتوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے اور خود سے وابستہ لوگوں کے مستقبل کے لیے بہت سے امکانات رکھتا ہے۔ تو پھر کسی شخص کے ایک عمل کو جواز بنا کر مختلف صلاحیتوں کے اس پورے مجموعے کو سزا دینا کہاں کا انصاف ہوا؟ ایک قاتل ہی کو لے لیجیے۔ قتل تو قاتل کا محض ایک عمل ہے؛ اس گھناءونے فعل کے باوجود وہ شخص ایک کارآمد شہری، ایک اچھی اولاد، ایک اچھا بھاءی، ایک اچھا شوہر، اور ایک اچھا باپ ہو سکتا ہے۔ جب ایک قاتل کو سزاءے موت دی جاتی ہے تو اس کی زندگی کے اور پہلوءوں کو نظرانداز کر کے محض اس کے ایک جرم پہ اس شخص کی زندگی ختم کرنے کا پروانہ جاری کر دیا جاتا ہے۔ مجھے اس سزا میں انصاف کا پہلو نظر نہیں آتا۔ ممتاز قادری نے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کر کے بہت برا کام کیا۔ اپنے اس عمل سے ممتاز قادری نے معاشرے میں ماوراءے عدالت کارواءیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی؛ اس گھٹیا انسان نے معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی؛ یہ کوشش کی ہم سب مستقل خوف کے ماحول میں رہیں کہ نہ جانے کب کسے خیال ہو جاءے کہ ہم نے کوءی غلط کام کیا ہے اور کون گھات لگا کر ہم پہ وار کرے اور ہماری زندگی کا خاتمہ کر دے۔ مگر قتل کی اس واردات کے باوجود ممتاز قادری کی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ صحیح نہیں ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے میرا اصولی اختلاف ہے۔

آزاد فلسطین
کچھ روز پہلے میں نے چند لوگوں کے سامنے اس بات پہ خوشی کا اظہار کیا کہ محمود عباس کی حکومت اقوام متحدہ میں آزاد فلسطینی ریاست کو منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک دوست نے خیال ظاہر کیا کہ یہ سب سیاست ہے؛ عباس کی حکومت اپنی ساکھ بچانے کے لیے یہ سیاسی بازی گری دکھا رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے سوچا کہ نہ جانے لوگ اس قدر قنوطی کیوں ہوتے ہیں۔ بالفرض محال اگر محمود عباس محض دکھاوے کے لیے یہ کارواءی کر رہے ہیں تو کیا آزاد فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ سے منوانے میں فلسطین کے کسی دوست کو کوءی براءی نظر آتی ہے؟ دو فریقین میں کسی جھگڑے کو نمٹانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہوں اور ایک فریق کسی عمل کی تجویز پیش کرے اور اس تجویز پہ دوسرا فریق چراغ پا ہو جاءے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس تجویز میں پہلے فریق کا فاءدہ پوشیدہ ہے۔ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کروانے کے سلسلے میں جب سے کام شروع ہوا ہے اسراءیل اور امریکی انتظامیہ کی برہمی واضح ہے۔ کیا اسراءیل اور امریکی انتظامیہ کے یہ بگڑتے تیور ظاہر نہیں کرتے کہ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کروانے میں فلسطینیوں کا فاءدہ ہے؟ دنیا بھر کی نظروں میں فلسطین کو آزاد ریاست منوانے کے بہت سے فاءدے تو بالکل واضح ہیں۔ یہ آزاد ریاست ہر موقع پہ احتجاج کرے گی کہ ایک دوسرا ملک یعنی اسراءیل مستقل اس کے معاملات میں ٹانگ اڑا رہا ہے۔ اسراءیل کو بار بار عالمی عدالت میں گھسیٹا جاءے گا۔ آزاد فلسطین مطالبہ کرے گا کہ غزہ کی بندرگاہ آزاد ہو تاکہ فلسطین براہ ریاست دنیا سے تجارت کر سکے۔ رفاع کا بارڈر دو آزاد ممالک یعنی مصر اور فلسطین کے درمیان ایک آزاد بارڈر بن جاءے۔ اور اردن اور فلسطین کے درمیان سفر کرنے والے لوگ حسین ایلن باءی پل سے کیوں داخل ہوں کہ جس پہ اسراءیل کا قبضہ ہے۔ دریاءے اردن کو کشتی سے کیوں نہ پار کیا جاءے کہ اردن سے آنے والے لوگ براہ راست فلسطینی ریاست میں داخل ہوں؟ اس آزاد فلسطینی ریاست میں ہواءی اڈہ کیوں نہ ہو کہ جہاں بیرونی دنیا سے آنے والے جہاز براہ راست اتر سکیں؟ فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پہ تسلیم کر لیا گیا تو دوسرے آزاد ممالک مطالبہ کریں گے کہ انہیں آزاد فلسطین سے آزادانہ تجارت کرنے کی آسانی ہو۔ غرض کہ امکانات کا ایک طوفان ہے جس کا تعلق فلسطین کو آزاد ریاست ماننے سے ہے۔
فلسطینیوں کو اقوام متحدہ سے انصاف حاصل کرنے سے دور رکھنے کے لیے ان کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ کی طرف سے ان کی مالی مدد بند کر دی جاءے گی۔ امید ہے کہ فلسطینیوں کو یہ بات سمجھ میں آتی ہوگی کہ ان کو مالی مدد کی ضرورت اسی لیے تو پڑ رہی ہے کیونکہ وہ ایک آزاد ریاست نہیں ہیں اور دنیا سے معاملات کرنے میں اسراءیل کے رحم و کرم پہ ہیں۔ اگر فلسطین ایک آزاد ریاست بن جاءے تو وہ یقنیا ایک معاشی طور پہ مضبوط ریاست ہوگی اور اسے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
اسراءیل کا قیام امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ ہی سے ممکن ہو پایا ہے اور اب بھی اسراءیل کو کسی قسم کا خطرہ ہو تو اس کے راہ نما امریکہ سے مدد لیتے ہیں۔ چنانچہ آزاد فلسطین ریاست کے مطالبے کے جواب میں اوباما نے اقوام متحدہ میں تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ فلسطینیوں کو اقوام متحدہ سے اس قسم کے مطالبات نہیں منوانے چاہءیں۔ اوباما کا کہنا تھا کہ فلسطین اور اسراءیل کے درمیان امن اقوام متحدہ کی قراردوں سے حاصل نہ ہوگا بلکہ فلسطینیوں اور اسراءیلیوں کو ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے ہوں گے۔ اب کوءی بے انتہا بے وقوف فلسطینی ہی ہوگا جو امریکی انتظامیہ کے اس دھوکے میں آءے گا۔ فلسطینیوں پہ واضح ہے کہ اسراءیل ان سے مذاکرات کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسراءیل کی کوشش رہی ہے کہ فلسطینیوں کو مذاکرات کا جھانسہ دے کر زیادہ سے زیادہ وقت گزارا جاءے اور اس درمیان میں دریاءے اردن کے مغربی کنارے پہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے زیادہ سے زیادہ یہودی بستیاں بساءی جاءیں تاکہ آءندہ کبھی فلسطینیوں سے برابری کی سطح پہ مذاکرات کرنے بھی پڑیں تو فیصلہ فلسطینیوں کے حق میں جانا محال ہو۔ پھر یہ بات تو سب پہ واضح ہے کہ فلسطینیوں کی ساری مصیبت اسراءیل کے قیام ہی کی وجہ سے تو ہے۔ ان حالات میں فلسطینیوں کا اسراءیل سے مذاکرات کرنا وہی معاملہ ہے جس کا حوالہ میر نے اس شعر میں دیا تھا۔
میر کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوءے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

Labels: , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?