Saturday, July 04, 2020

 

سخت دھوپ اور دیسی کی رنگ و نسل کی تفریق کے خلاف مظاہرے میں شرکت



Thursday, June 18, 2020

 

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ کورونا









ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ کورونا

میں بلا کا شکی ہوں۔ نہ اخبارات پہ یقین ہے اور نہ ہی ٹی وی اور ریڈیو کی خبروں کا۔ اسی لیے کورونا کے سلسلے میں بھی  اب تک شک میں رہا کہ اللہ جانے اصل معاملہ کیا ہے۔ سوچتا تھا کہ کہیں کورونا نئے دور کا جن تو نہیں۔ جن صرف انہیں لوگوں کو نظر آتے ہیں جن کو یقین ہوتا ہے کہ جن ہوتے ہیں۔

مگر اب جب کہ جان پہچان کے دو لوگ کورونا کا شکار ہوئے ہیں میں بجھے دل سے کورونا پہ ایمان لانے کا اعلان کرتا ہوں۔
قریب کے ان دو لوگوں کی کورونا سے مڈبھیڑ کی داستان سن لیجیے۔ ایک دور پرے کے رشتے دار ہیں جن سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ صاحب بیس سال پہلے سرطان میں مبتلا ہوئے تھے۔ لمبے علاج کے بعد صحت یاب تو ہو گئے مگر سرطان کی کٹیلی دوائوں نے انہیں نحیف و کمزور کردیا۔ یہ حالت ہوگئی کہ منہ بہت مشکل سے کھلتا تھا۔ کھانا پینا تکلیف دہ عمل تھا اور ان کا زیادہ وقت بستر پہ گزرتا تھا۔ کورونا نے شکار بھانپ لیا۔ بیماری کے پہلے دو دن تو گھر پہ گزارے، پھر اسپتال پہنچا دیے گئے جہاں سے ان کی لاش کل واپس آئی اور فورا ہی تدفین ہوگئی۔ رحلت کے وقت ان کا سن نوے برس تھا۔

اب دوسرے کورونا گھائل کا حال سنیے۔ یہ قریبا چالیس سالہ خاتون جناح اسپتال، کراچی میں کام کرتی ہیں۔ یہ بخار میں مبتلا ہوئیں تو فورا کورونا کا ٹیسٹ ہوا۔ نتیجہ مثبت آیا۔ اس کے بعد سے یہ خاتون اپنے گھر میں مقید ہوگئیں اور عام استعمال ہونے والی بخار کی دوائیں کھانے لگیں۔ ہفتہ بھر گزرنے کے بعد اب روبہ صحت ہیں مگر چھاردہ دن گزارنے کے بعد ہی گھر سے نکلنا چاہتی ہیں۔

یوں وقت کے ساتھ ساتھ کورونا میرے قریب آرہا ہے اور مجھے وہ اعداد و شمار میسر آرہے ہیں جن پہ مجھے پورا یقین ہے۔

مستقبل کیا ہے؟  لگتا یہ ہے کہ فلو کے وائرس کی طرح اب کورونا وائرس بھی ہمیشہ انسان کے ساتھ رہے گا۔ ہم ہر سال وقفے وقفے سے اس وائرس سے جوجھتے رہیں گے۔ جب تک ہمارے بدن میں طاقت ہے ہم اس وائرس کو شکست دیتے رہیں گے اور جس دم ہم کمزور پڑے یہ وائرس ہمیں پٹخنی دے کر سیدھا قبر میں پھینک دے گا۔

Friday, March 20, 2020

 

کرونا لطیفے





اب راج کرے گا کورونا۔ جم جم کے جیتے کورونا۔
راشہ راشہ۔ کورونا راشہ۔




کورونا کا کہنا ہے، 'تیرا جسم، میری مرضی۔'


اس اسی سالہ سنیاسی باوا کی تلاش ہے جو وظیفہ پڑھ کر مریض کا کورونا اتار دے۔


اگر بندے پہ کورونا چڑھ ہی جائے، تو بندہ تسلی سے چمگادڑ کا سوپ پیے۔




مُک گیا تیرا کھیل کرونا
گو کرونا، گو کرونا



کرونا کی بربادی تک؛ انسان کی آزادی تک۔
جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔



اگر نہ مگر
یہ ہے کرونا نگر


سیانے کہتے ہیں، کبھی کے ایبولے بڑے اور کبھی کے کرونے۔

مجھ سے دور رہو۔ کہیں تمھارا کرونا اچھل کر میرے پاس نہ آجائے۔


خوف کا یہ عالم ہے کہ جب سے کورونا کا سنا ہے بیشتر لوگوں کی سانس ویسے ہی اکھڑی اکھڑی چل رہی ہے۔


وبائی مکالمے

آپ کا کرونا کیسا ہے؟
جی، بہت اچھا، اور آپ کا؟
جی وہ بھی بہت مزے میں ہے۔
اب تو بڑا ہوگیا ہوگا؟
جی ہاں، بولنے لگا ہے۔
ارے واہ۔-  عقیقہ کب ہوا آپ کے کرونا کا؟
عقیقہ تو ہم لوگ ہفتے بھر کے اندر ہی کردیتے ہیں۔
آپ کو تو اطلاع مل گئی ہوگی، ہمارے گھر ایک نئے کرونا کی آمد ہے۔
واہ بھئی واہ، بہت مبارک ہو۔
خیر مبارک۔

اس سال کفار نے مسلمانوں کو رمضان سے پہلے اعتکاف میں بٹھا دیا۔


وبائی مکالمے

کیسی ہیں آپ؟ بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی۔
میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ بتائیے کیسا ہے آپ کا کرونا؟
جی ہمارا کرونا اب اے لیول میں آگیا ہے۔
اوہ، اچھا، تو میٹرک، انٹر نہیں کروایا آپ لوگوں نے۔
نہیں، دراصل ہوا یہ کہ ہمارے کرونا کو انگلش فلمیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس نے خود ہی کہا کہ مجھے او لیول اے لیول کرنا ہے۔ یہ پہلے جس اسکول میں تھا وہاں کسی کو انگلش بولنا نہیں آتی تھی جبکہ ہمارے کرونا کی انگریزی اچھی ہے اور اسے انگلش بولنے والے دوسرے لوگ چاہیے تھے۔ اسی لیے پھر اس کا داخلہ بیکن ہائوس میں کروا دیا۔ وہاں یہ اب بہت خوش ہے۔ آپ کا کرونا ماشااللہ کس کلاس میں آیا؟
جی وہ انٹر کررہا ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ ہماری دکان ہے۔ کرونا کے ابو کہہ رہے تھے کہ آگے چل کر دکان تو کرونا کو ہی سنبھالنی ہے۔
جی اچھا۔ ہمارا کرونا تو کہتا ہے کہ اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے۔ وہ باہر جانا چاہتا ہے۔ شاید اے لیول کرنے کے بعد بی بی اے کرے، یا پھر سی اے کرے اور پھر باہر نکل جائے۔
اچھا، میں چلتی ہوں۔ کبھی لے کر آئیں نا آپ اپنے کرونا کو۔ چھوٹا تھا تو اس کی ہمارے کرونا سے بہت بنتی تھی۔
جی دراصل، ہمارا کرونا بہت مصروف رہتا ہے۔ اسکول سے آتا ہے تو کچھ ہی دیر گھر میں ہوتا ہے پھر سر فہیم سے ٹیوشن پڑھنے کے لیے چلا جاتا ہے۔
 

This page is powered by Blogger. Isn't yours?