Thursday, June 23, 2016

 

نندی میں اپنے لوگ










ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چھیاسی

جون اٹھارہ، دو ہزار سولہ

نندی میں اپنے لوگ


علی حسن سمندطور

کیا آپ کو ویسی اور فجی میں کوئی مماثلت دکھائی [سنائی] دیتی ہے؟ دراصل برطانوی مہم جو کیپٹن کک کو یہی سنائی دیا تھا کہ بحرالکاہل کے ان جزائر پہ رہنے والے لوگ اپنے وطن کو ویسی نہیں بلکہ فجی کہہ رہے ہیں۔ آج دنیا میں بہت سے خطے ان ناموں سے نہیں جانے جاتے جن ناموں سے وہاں کے مقامی لوگ اپنے وطن کو کبھی جانتے تھے؛ ان خطوں کے نام بدیسیوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ جزائر فجی کا تعلق بھی ان ہی خطوں سے ہے۔ جزائر فجی سے جنوبی ایشیا کا وہی تعلق ہے جو جنوبی امریکہ کے ملک سرینام کا جنوبی ایشیا سے ہے۔
نندی نامی قصبہ جزائر فجی کے جس جزیرے پہ ہے اسی جزیرے پہ ان جزائر کا دارالحکومت سووا بھی ہے۔ نندی اس جزیرے کے مغرب میں ہے جہاں سمندر کا ساحل زیادہ خوب صورت ہے۔ اسی وجہ سے نندی سیاحوں میں سووا کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے اور یہاں کا ہوائی اڈہ بھی سووا کے ہوائی اڈے سے بڑا ہے۔ آپ نندی پہنچیں تو آپ کو ہوائی اڈے پہ اونچے عہدوں پہ وہ لوگ نظر آئیں گے جو اپنے آپ کو ان جزائر کا اصل مقامی باشندہ خیال کرتے ہیں۔ مگر آپ جیسے ہی ہوائی اڈے سے باہر نکلیں  تو آپ کو لگے گا کہ آپ جنوبی ایشیا کے کسی شہر میں آگئے ہیں۔ ہم اپنی طرف کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ہوائی اڈے سے ہوٹل تک پہنچے۔ فجی میں رہنے والے اپنی طرف کے یہ لوگ ہندی سے ملتی جلتی ایک زبان بولتے ہیں۔ یہ زبان ایسی ہے کہ جب یہ لوگ اس زبان میں آپس میں بات کرتے ہیں تو آپ کو خیال نہیں ہوتا کہ اردو یا ہندی بولی جارہی ہے۔ مگر جب یہ لوگ برصغیر سے آنے والے اردو یا ہندی بولنے والوں سے گفتگو کرتے ہیں تو اچانک اس لہجے میں بولنا شروع ہوجاتے ہیں جو بمبئی میں بننے والی ہندی فلموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی ہندی ان لوگوں نے ان ہی فلموں سے سیکھی ہے۔
دراصل نیوزی لینڈ سے فجی جاتے ہوئے مجھے یہی سوچ کر غصہ آرہا تھا کہ ہمارے لوگ تعلیم میں اس قدر پیچھے کیوں ہیں؟ ہمیں وہ ڈائری کیوں نہیں ملتی جس میں جنوبی ایشیا سے فجی جانے والے ایک شخص نے ہر روز کا حال لکھا ہو۔ کلکتہ سے چلنے والے بحری جہاز میں چڑھنے سے لے کر فجی تک پہنچنے کی پوری داستان سناءی ہو اور یہ بتایا ہو کہ فجی پہنچ کر کس قسم کی مشقت اٹھانی پڑی اور اس مزدور کے فجی کے مقامی لوگوں اور انگریز افسران سے کس طرح کے تعلقات تھے۔ مگر قسمت کی یہی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے وہ لوگ جو سب سے کٹھن اور [دوسروں کی نظروں میں] دلچسپ اور حیرت انگیز تجربات سے دوچار ہوتے ہیں، ان واقعات کو لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کی محیرالعقل داستان ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اگر کوءی اپنا شخص جان جوکھوں میں ڈال کر دوسری طرف سے زندہ باہر نکل آئے اور پھر اپنی بیتی کو کتاب کی صورت میں لکھے تو جان لیں کہ اس پہ مغرب کا اثر ہے۔ ذکر یقینا معظم بیگ کا ہورہا ہے۔
آپ ایک لمحے کو آنکھیں بند کر کے ۱۸۵۷ کی ناکام جنگ آزادی کے بعد کا جنوبی ایشیا خیال کیجیے۔ انگریز نئے طمطراق سے اس خطے پہ حکومت کررہے ہیں۔ انگریز مہم جوئوں کے بحری جہاز بحرالکاہل میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ دوسری یورپی نوآبادیاتی طاقتیں جزائر فجی کے آدم خور قبائل سے خوفزدہ ہیں مگر انگریز انہیں رام کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان جزائر پہ قبائل کے ایسے سردار ہیں جو آدم خوری میں ایک دوسرے سے مقابلے پہ ہیں۔ جس سردار نے پچاس، سو سے کم انسان کھائے ہوں اسے کسی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ انگریز ان ہی سرداروں سے معاہدہ کر کے ان جزائر کا انتظام سنبھال لیتے ہیں۔
انگریز جزائر فجی میں رہنا نہیں چاہتے۔ یہاں کی آب و ہوا ان کے حساب سے اچھی نہیں ہے۔ یہاں کی کڑی دھوپ گوری رنگت کی دشمن ہے، مرطوب ہوا تیکھے نقوش کو موٹا کرنے کا کام کرتی ہے۔ مگر انگریز ان جزائر کو اپنے استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔ خط استوا سے قریب ہونے کی وجہ سے ان جزائر پہ استوائی فصلیں اگائی جا سکتی ہیں، خصوصا یہ علاقہ گنے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ مگر مقامی لوگوں کو کھیتی باڑی پہ لگانا مشکل کام ہے۔ مقامی لوگ ایک اور طرح سے زندگی گزارتے ہیں۔ جب دل چاہتا ہے، جہاں دل چاہتا ہے سو جاتے ہیں۔ جب بھوک لگتی ہے تو جنگل میں جا کر کھانے کے قابل پودے تلاش کرتے ہیں یا کسی جانور کا شکار کرتے ہیں۔ غرض کہ مقامی لوگوں کی زندگی میں کام کاج کا حصہ بس اتنا ہے جس سے کسی طرح کھانے پینے کا سہارا ہوجائے۔
انگریزوں کو جنوبی ایشیا بہت پسند ہے۔ اس پسند کی بڑی وجہ یہاں کی آبادی ہے۔ جنوبی ایشیا کے لوگ نہ صرف یہ کہ ذہین ہیں بلکہ حکام بالا کی بات کو آسانی سے مان جاتے ہیں۔ انہوں نے انگریز کی حاکمیت کو قبول کرلیا ہے؛ اب انگریز جیسا کہے گا یہ ویسا ہی کریں گے۔
مگر انسان پہ حاکمیت سے متعلق مغربی ادوار تبدیل ہوئی ہیں۔ اب غلامی سے کراہیت آتی ہے۔ پھر جزائر فجی میں جنوبی ایشیا کے مزدوروں کی مدد سے گنے کے کھیت کیسے لگائے جائیں؟ آسان حل موجود ہے۔ کلکتہ سے جہاز چل رہا ہے۔ بے روزگار حضرات جہاز میں چڑھ جائیں۔ جہاز میں چڑھنے سے پہلے انگریزی میں لکھے ایک مختصر معاہدے پہ دستخط کریں۔ دستخط کرنے کے لیے معاہدے کی سمجھ ضروری نہیں ہے۔ اس معاہدے کی رو سے مزدور پانچ برس تک فجی میں معمولی تنخواہ پہ نوکری کرے گا۔ ان پانچ برس کے دوران مزدور فجی چھوڑ کر واپس جنوبی ایشیا نہیں آسکتا۔ ہاں پانچ برس کے بعد واپسی ممکن ہے۔ یہ غلامی نہیں ہے، یہ بالرضا مشقت ہے۔ اب جنوبی ایشیا کے معاشی حالات ایسے ہیں کہ لوگ خود بخود اس کٹھن مشقت کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں تو اس میں انگریز کا کیا قصور ہے؟
ایک دفعہ کوئی شخص اپنی جوانی کے پانچ سال کسی جگہ لگا دے تو پھر اس بات کا امکان کم ہوتا ہے کہ وہ اس جگہ سے ہل کر کہیں اور جائے گا۔
پانچ سالوں بعد اگر ان مزدوروں کو یاد آتا کہ اب معاہدے کی معیاد ختم ہوگئی ہے، اب یہ واپس جا سکتے ہیں تو وہ حیرت سے سوچتے کہ واپس جانے کا کیا مطلب ہے۔ اس جگہ واپس جانا جو ان کی غیر موجودگی میں بہت بدل چکی ہوگی کیسا ہوگا۔ وہ پانچ سال اس جزیرے پہ رہے ہیں۔ اب ان کے آس پاس جو لوگ ہیں، وہی ان کے پیارے ہیں۔ اب یہی جگہ ان کا وطن ہے۔ اب بقیہ زندگی یہیں گزارنی ہے اور یہیں مرنا ہے۔


Labels: ,


Thursday, June 16, 2016

 

کرائسٹ چرچ، آک لینڈ، نندی




ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو پچاسی

جون بارہ، دو ہزار سولہ

 

کرائسٹ چرچ کے بڑے زلزلے کو آئے چار سال سے اوپر ہوگئے تھے مگر مرکز شہر میں تعمیراتی کام زور و شور سے جاری نظر آتا تھا۔ لگتا تھا کہ کرائسٹ چرچ نے تہیہ کیا تھا کہ جو عمارتیں زلزلے میں تباہ ہوئی تھیں اس بار ان عمارتوں سے اونچی عمارتیں بنانا تھیں اور ساتھ ہی ان نئی عمارتوں کی تیاری زلزلے کے جھٹکوں کو مدنظر کرتے ہوئے کرنی تھی۔
سنہ ۲۰۰۵ کے کشمیر کے ہولناک زلزلے کے بعد میرا جانا بالاکوٹ ہوا تھا۔ میں جب وہاں پہنچا تو قصبے میں ملبے کو اٹھانے کا کام جاری تھا اور ایک آدھ عمارتیں ہی کھڑی نظر آتی تھیں۔ ایسی ہی ایک ایستادہ عمارت کی طرف اشارہ کر کے ایک مقامی آدمی نے مجھے بتایا تھا کہ اس عمارت کی ایک دکان میں ایک نائی ہے جس نے لوگوں کی داڑھی کاٹنے سے انکار کیا  ہوا ہے۔ اس آدمی کا کہنا تھا کہ اس نائی کی اسی نیکی کی وجہ سے وہ عمارت زلزلے کی تباہی سے بچ گئی تھی۔ میں اس شخص کی یہ بات سن کر سوچتا رہا کہ سائنس کی دھونی سے ہمارے لوگوں کے فرسودہ اعتقادات نکالنے میں ابھی کتنا وقت اور لگے گا۔
اب نیوزی لینڈ کا سفر ختم ہوچکا تھا۔ ہمیں کرائسٹ چرچ سے علی الصبح آک لینڈ کے لیے روانہ ہونا تھی۔ اور ہوائی جہاز پکڑنے سے پہلے کرائے کی گاڑی واپس کرنا تھی۔ جس جگہ سے کرائے کی گاڑی لی تھی وہ دفتر ہوائی اڈے سے دو میل دور تھا۔ ہم کرائسٹ چرچ دن کی روشنی میں پہنچے تھے اور اس وقت ہوائی اڈے سے کرائے کی گاڑی کے دفتر تک جانے کے لیے شٹل موجود تھی مگر پو پھٹنے سے پہلے یہ شٹل دستیاب نہ تھی۔ منہ اندھیرے کرائے کی گاڑی واپس کرنے کے بعد ہوائی اڈے کیسے پہنچیں؟ ایک ترکیب یہ تھی کہ کسی ٹیکسی سروس سے ایک رات پہلے بات کی جائے اور پھر صبح گاڑی واپس کرنے کے بعد اس جگہ ٹیکسی کا انتظار کیا جائے۔ اور اگر رات کو بات کرنے کے باوجود ٹیکسی والا صحیح وقت پہ صحیح جگہ نہ پہنچا تو کیا ہوگا؟ بات یہ سمجھ میں آئی کہ دو میل کی کیا بات ہے، گاڑی واپس کر کے ہم پیدل ہوائی اڈے چلےجائیں گے۔ اس طرح ٹیکسی کے پیسے یعنی بیس ڈالر بھی بچ جائیں گے۔ بات ہماری سمجھ میں تو آگئی مگر دوسرے مسافروں کے دل کو نہ لگی۔ تو پھر سویرے ایسا ہی ہوا۔ دوسرے مسافروں کو سامان سمیت ہوائی اڈے پہ چھوڑنے کے بعد ہم گاڑی لے کر پلٹے اور کرائے کی گاڑی کے دفتر پہنچے۔ وہاں کرائے کی گاڑی مقررہ جگہ کھڑی کی اور چابی مخصوص ڈبے میں ڈالنے کے بعد ہوائی اڈے کی طرف پیدل چلنا شروع ہوئے۔ اس دفتر سے ہوائی اڈے تک کا راستہ ہم نے انٹرنیٹ پہ دیکھ لیا تھا۔ رات کے اس پہر ہوائی اڈے جانے والی سڑک سنسان تھی۔ کافی دیر بعد کوئی گاڑی وہاں سے گزر جاتی تھی۔ ہم اس سناٹے میں ہوائی اڈے کی طرف چلتے رہے۔ اس راستے میں ایک ہائی وے بھی پڑتی تھی۔ ہائی وے پہ پہنچ کر کچھ دیر انتظار کیا اور پھر جب دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہ آئی تو بھاگ کر ہائی وے پار کی۔ اب ہم ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ وہاں اچھی روشنی تھی۔ ہم ضد آرکٹک مرکز کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہوائی اڈے کی عمارت میں داخل ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے فتح کا زوردار نعرہ لگایا۔ ہم بیس ڈالر بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
ہوائی جہاز کی ایک چھلانگ سے ہم کرائسٹ چرچ سے آک لینڈ پہنچے اور وہاں پہنچ کر ہمارا مقامی سفر ختم ہوگیا۔ آک لینڈ میں اس وقت ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی۔
نندی پہنچے تو ہم ایک بار پھر اپنے بچپن کے موسم میں پہنچ گئے تھے۔ فجی میں موسم گرم تھا۔ خط استوا سے قربت کا گرم موسم تو ہمیں برازیل میں بھی ملتا ہے۔ فجی کی خاص بات یہ تھی کہ انگریزوں کے پھیکے سیٹھے کھانوں سے ہماری جان چھٹ چکی تھی؛ اب ہمیں اپنی طرف کے مرچ مصالحوں والے کھانے دستیاب تھے۔


Labels: , ,


Thursday, June 09, 2016

 

ہاسٹ، تیمارو








ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چوراسی

جون پانچ، دو ہزار سولہ

ہاسٹ، تیمارو
 

اب پوناکائیکی سے ہاسٹ کا پانچ گھنٹے کا سفر درپیش تھا۔  ہم ہاسٹ جاتے ہوئے مستقل جنوبی قطب کی طرف سفر کر رہے تھے۔ سردی بڑھنے کا امکان تھا مگر ساتھ ہی  گزرتے وقت کے ساتھ جاڑوں کے دن بہار کے موسم میں بدل رہے تھے۔
نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے پہ مغربی ساحل کی سیر کرتے ہوئے ہم ایسی جگہوں سے گزر رہے تھے جو سیاحوں میں بہت مقبول تھیں۔ کہنہ مشق کھلاڑی اسی شکار کی گھات لگائے بیٹھے تھے۔  ہمیں رقم خرچ کرنے میں احتیاط سے کام لینا تھا۔

سیاحوں سے چھینا جھپٹی کا ایک مظاہرہ پوناکائیکی میں ہوا۔ ہم کمرے کی چابی واپس کرنے کے لیے ہوٹل کے استقبالیے پہ پہنچے تو وہاں موجود  فلیپینو عورت نے بتایا کہ ہمیں کمرے کا اضافی کرایہ دینا ہوگا کیونکہ کمرے میں مقرر تعداد سے زیادہ لوگ ٹہرے تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد تھا کہ ہوٹل کی بکنگ کرتے وقت ایسی کوئی بات نہیں بتائی گئی تھی۔ ہم نے اضافی رقم کے مطالبے پہ شدید احتجاج کیا۔ اچھا، میں تمھاری اصل ریزرویشن دیکھتی ہوں، یہ کہہ کر خاتون کمپیوٹر پہ مصروف ہوگئیں۔ کچھ دیر بعد انہوں نے فیصلہ سنایا کہ سب کچھ ٹھیک تھا اور ہم جا سکتے تھے۔

ہاسٹ کے راستے میں گرے متھ نامی بڑا قصبہ پڑتا تھا۔ ہم نے اس قصبے میں رک کر نیوایج گروسری اسٹور نامی دکان سے اشیائے خوردونوش خریدیں اور اگلے دو تین کا انتظام کرلیا۔ اس دکان میں جن خاتون نے ہمارا حساب کتاب کیا ان کا تعلق جنوبی ایشیا سے معلوم دیتا تھا مگر قمیض پہ لگے بلے پہ ان کا نام جمائما بتایا گیا تھا۔ کیا یہ اس کا اصل نام تھا یا وہ جمیلہ یا اس سے ملتے جلتے کسی دیسی نام کو بدل کر جمائما ہوگئی تھی؟

پوناکائیکی سے ہاسٹ جاتے ہوئے پھر سمندر اور پہاڑوں کا ساتھ تھا۔ اسی راستے میں دو مشہور گلیشئیر کا سامنا بھی ہونا تھا۔ سب سے پہلے فرانز جوزف گلیشئیر پڑا۔ چند دہائیوں پہلے تک فرانز جوزف گلیشئیر پہاڑوں سے اتر کر اتنے نیچے تک آتا تھا کہ ہاسٹ جاتے ہوئے راستے میں اسے باآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ بہت عرصے سے یہ گلیشئیر سکڑ رہا ہے اور اب اسے دیکھنے کے لیے پہاڑوں میں بہت آگے تک جانا ہوتا ہے۔ ہم ایک جگہ رک کر فرانز گلیشئیر کی تلاش میں ایک پگڈنڈی پہ بہت دور تک چلے مگر فرانز جوزف کو دیکھنے میں ناکام رہے۔

ہم انسان اپنی دنیا کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں دنیا کئی برفانی ادوار سے گزری ہے مگر دنیا میں ایک دم ٹھنڈک کیوں بڑھ جاتی ہے، اور پھر چند ہزار سال بعد دنیا پھر سے گرم کیوں ہوجاتی ہے، اس بارے میں ہم نہیں جانتے۔

مثلا ہم جانتے ہیں کہ پچاس ساٹھ ہزار سال پہلے ایک برفانی دور اپنے عروج پہ تھا اور اس وقت کے بعد دنیا مستقل گرم ہورہی ہے۔ مگر فی الوقت ہمیں جس عالمی گرمائش کا سامنا ہے کیا وہ اسی آخری برفانی دور کے اختتام کا ایک حصہ ہے، یا یہ گرمائش ہمارے کرتوتوں سے ہے؟ جس طریقے سے عالمی گرمائش تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس گرمائش کا تعلق ہماری صنعتی سرگرمی سے ہے۔

ہم ہاسٹ کے راستے میں اور آگے بڑھے تو فوکس گلیشئیر کا نشان نظر آیا۔ یہاں ہمیں کامیابی ہوئی اور کچھ فاصلے سے ہمیں وہ گلیشئیر نظر آگیا۔

ہاسٹ کے آس پاس خوبصورت ساحل تھا۔ مگر اس سردی میں وہ ساحل میلوں میل ویران پڑا تھا۔ شاید وہاں آنے والے سیاح پہاڑوں میں اسکی کررہے تھے۔

ہم ہاسٹ میں جس ہوٹل میں ٹہرے تھے وہاں استقبالیہ ایک افریقی نژاد عورت سنبھالے کھڑی تھی۔ ہم سوچتے رہے کہ کیا اس چھوٹے سے قصبے میں کہیں ایک افریقی نژاد مرد بھی تھا یا اس عورت کا جوڑی دار کوئی سفید فام شخص تھا۔

اگلے روز ہماری آنکھ کمرے کے باہر ہونے والے شور سے کھلی۔ چینی زبان بولی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں چینی سیاحوں کا ایک بڑا گروہ ہوٹل سے روانہ ہوگیا۔ بمشکل دس سال پہلے کی بات ہے،دنیا کی سیر کرتے بھانت بھانت کے سیاحوں میں چینی سیاح شاذ و نادر ہی نظر آتے تھے؛ مشرق بعید کا کوئی سیاح اگر ملتا تھا تو وہ لا محالہ جاپانی ہوتا تھا۔ مگر اب یہ منظر تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب چینیوں کے پاس پیسہ ہے اور چینی سیاح کثرت سے نظر آتے ہیں؛ اب بھی یقینا چینی سیاحوں کی تعداد دنیا میں چین کی آبادی کے تناسب سے کم ہے، مگر چند سال پہلے کے مقابلے میں یہ تعداد زیادہ ہے۔ غالبا سنہ دو ہزار تیس تک چینی سیاحوں کی یہ تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ لوگ سفید فام سیاحوں کو حیرت سے دیکھا کریں گے کہ اچھا آپ بھی گھومنے پھرنے نکلے۔

تیمارو جنوبی جزیرے کے مشرقی ساحل پہ ہے۔ ہمیں ہاسٹ سے تیمارو جاتے ہوئے پہاڑوں کے دوسری طرف جانا تھا۔ اس سڑک پہ چلتے ہمیں مستقل ایسی جگہیں ملیں جہاں آپ خوب صورت راستوں پہ گھنٹوں پیدل چل سکتے تھے۔ اس پورے علاقے میں لوگ قدرتی مناظر کو قریب سے دیکھنے کی خواہش میں پہاڑوں میں اسی طرح کے راستوں پہ چلتے ہیں۔

پہاڑ ہوں، وہاں پانی برسے یا برف گرے اور پھر برف پگھل کر رفتہ رفتہ پانی پہاڑوں کی ڈھلوان سے نیچے آئے تو آپ پانی کی اس طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک پھرکی گھما سکتے ہیں اور یوں بجلی بنا سکتے ہیں۔ تیمارو جاتے ہوئے ہمیں اسی طرح کا ایک بجلی گھر وائ تاکی میں نظر آیا۔

قدرت جب کبھی زور دکھائے چاہے ہوا سے یا پانی سے، آپ اس زور کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے بجلی بنا سکتے ہیں۔ کسی بھی خطے کے رہنے والے لوگوں کو بس یہی مشاہدہ کرنا ہے کہ وہاں قدرت کا زور کس انداز سے ہے۔ پینترا بدل کر اس زور کو بجلی میں تبدیل کرنا ہے اور بجلی اپنے استعمال میں لانی ہے۔ ہم اسی طرح کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں لوگ اپنے خطے کے منفرد حالات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنی ضروریات پوری کریں۔ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دور دراز کی جگہوں کے وسائل کا اور دوسروں کا محتاج رہنا ہرگز عقلمندی نہیں ہے۔


Labels: , , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?