Tuesday, February 13, 2018

 

گلبرگہ سے پاکستان


گلبرگہ سے پاکستان
بہت پرانے وقتوں میں شاہ آباد ایک شکار گاہ تھی جہاں بادشاہ ہرن اور دوسرے شکار کے لیے ایا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھی اور وہ جگہ شاہ آباد کے نام سے جانی گئی۔
ہمارا آبائی پیشہ سپہ گری تھا، کچھ لوگ زمیندار تھے۔ ہمارے والد سید غلام نبی خاندان کے پہلے شخص تھے جنہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور وکیل بنے۔
میں آٹھ نو برس کا ہوں گا جب شاہ آباد تک ریل کی پٹری بچھا دی گئی۔ دراصل انگریز نے بمبئی سے شعلہ پور تک ٹیکسٹائل مل لگائی تھیں۔ وہاں بہت اچھا کپڑا بنتا تھا۔ نظام حیدرآباد نے اپنی ریاست میں خود اپنے طور پہ ریل کی پٹری بچھائی تھی۔ اسے نظام اسٹیٹ ریلوے کے نام سے جانا جاتا تھا جبکہ شعلہ پور سے آگے گریٹ انڈین پیننسیولا ریلوے تھی۔ وہاڑی جنکشن پہ یہ دونوں ریلوے کے نظام ملتے تھے۔
گلبرگہ میں جو اور باجرہ کھانے کا رواج تھا۔ تھوڑا بہت گندم بھی ہوتا تھا اور چاول بھی کھائے جاتے تھے۔ مچھلی باجرے کی روٹی کے ساتھ کھائی جاتی تھی۔ ہم جہاں رہتے تھے وہاں پڑھے لکھے مسلمان گھرانوں میں اردو بولی جاتی تھی جبکہ دوسرے مسلمان اور ہندو کلڑی نامی مقامی زبان بولتے تھے۔ اس علاقے میں برج بھاشا سے اردو کا ارتقا کیسے ہوا اس بارے میں ڈاکٹر مسعود حسین خان نے اپنی کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے۔
گو کہ انگریز کی حکومت تھی مگر انگریز شاذ و نادر ہی نظر آتے تھے۔ شہروں سے آگے آبادیوں تک بجلی پہنچانے کا کام ہورہا تھا۔ کسی جگہ کی آبادی پچاس ہزار سے زیادہ ہوتی تو وہاں بجلی پہنچ جاتی۔ ہمارے علاقے میں بجلی یوں آئی کہ شاہ آباد کے اطراف ایک خاص قسم کا پتھر ہوتا تھا جس سے سمینٹ بن سکتی تھی۔ یہی دیکھ کر ٹاٹا نے وہاں ایک سیمنٹ فیکٹری لگائی۔ بجلی کو فیکٹری تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا اور اس طریقے سے ہم بھی بجلی سے مستفید ہونے لگے۔ اس سیمنٹ فیکٹری میں پانچ ہزار لوگ کام کرتے تھے اور آج بھی وہاں بننے والی سیمنٹ پورے ہندوستان میں پہنچائی جاتی ہے۔
اس وقت تک مسلمان علاقوں میں یہ رواج تھا کہ مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ ہوتا تھا۔ مسلمان بچے وہیں قرآنی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ مجھے گھر پہ تھوڑا بہت پڑھانے کے بعد مدرسے بھیجا گیا۔ مجھے وہ دن یاد ہے۔ والد صاحب کے ایک منشی مجھے اپنے ساتھ مدرسے لے گئے۔ میں وہاں جا کر بیٹھ گیا۔ وہاں پہلے سے کئی لڑکے موجود تھے اور پرانا سبق استاد کو سنا رہے تھے۔ ایک لڑکے نے سبق سنانے میں غلطی کی تو استاد نے کپڑے کی چھڑی [ہنٹر] سے اس کی پٹائی شروع کردی۔ وہ لڑکا مار کھا کر تڑپنے لگا اور زور زور سے رونے لگا۔ میں اسی وقت وہاں سے اٹھا اور گھر کی طرف دوڑ لگائی۔ منشی میرے پیچھے دوڑے مگر میں گھر پہنچ کر ہی رکا۔ میں نے وہاں جا کر کہہ دیا کہ میں آئندہ کبھی مدرسے نہیں جائوں گا۔ پھر جب کبھی مجھے مدرسے بھیجنے کا ذکر ہوتا تو میں رونا شروع کردیتا۔ اور یوں اگلے دو تین سال مجھے گھر پہ پڑھایا گیا۔ شاہ آباد مڈل اسکول کے ایک استاد امام دین نام کے تھے۔ وہ ہمارے گھر آتے اور مجھے اردو، انگریزی، ریاضی، اور تھوڑی بہت فارسی پڑھاتے تھے۔ امام دین صاحب کے آنے سے پہلے بھی میں نے گھر پہ اردو اور فارسی پڑھی تھی۔ مجھے گلستان اور بوستان پڑھائی گئی تھی۔
چھٹی کے دن ہمارے گھر ناشتے پہ بہت سے لوگ جمع ہوتے تھے۔ ناشتے میں پراٹھوں کے ساتھ بھنا گوشت کھایا جاتا تھا۔ زیادہ تر بکرے کا گوشت ہوتا تھا مگر کبھی کبھی گائے کا بھی ہوتا تھا۔ سالن، روٹی، پراٹھے، گھر کے اندر بنتے تھے جنہیں خواتین بناتی تھیں۔ جب کہ سیخ کباب اور بھنا گوشت گھر کے باہر لکڑی کے چولھے پہ باورچی تیار کرتے تھے۔
پانچویں جماعت سے اسکول میں میری باقاعدہ تعلیم کا انتظام ہوگیا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب ایک برہمن تھے، جو برٹش گرامر کے ماہر خیال کیے جاتے تھے۔ اسکول میں دو ہی مسلمان اساتذہ تھے؛وہ تاریخ اور جغرافیہ پڑھاتے تھے۔ میرا ایک دوست نارائن نام کا تھا۔ اس کا باپ ریلوے میں گارڈ تھا۔ نارائن کلاس میں مجھ سے اگے بیٹھتا تھا۔ طے یہ ہوا کہ اگر نارائن سے استاد نے کوئی ایسا سوال پوچھا جس کا جواب نارائن کو معلوم نہ ہو تو میں چپکے سے نارائن کو جواب بتا دوں گا۔ ایک آدھ دفعہ تو یوں کام چلا۔ پھر ایک دن استاد نے نارائن سے پوچھا کہ بتائو نور جہاں مرد تھا یا عورت۔ میں نے آہستہ سے کہہ دیا کہ 'نورجہاں جہانگیر کا شوہر تھا۔' نارائن نے یہی جواب استاد کو دیا۔ استاد نے کہا کہ، 'نارائن تم بہت قابل ہو۔ میٹرک پاس کرنے میں کم از کم دس سال تو لگائو گے۔'
ہمارے اسکول کے چاروں طرف خوب صورت کھیت تھے۔ ایک دفعہ کلاس جاری تھی کہ اچانک زوردار بارش ہوئی۔ پوری کلاس اٹھ کر باہر دوڑ گئی۔ استاد چیختے چلاتے رہ گئے۔ کافی دیر کھیتوں میں دوڑنے کے بعد سب لڑکے واپس کلاس میں آگئے۔ سب کو ڈانٹ پڑی اور سزا کے طور پہ آدھا گھنٹہ کھڑا رکھا گیا۔
ساتویں جماعت سے میں پڑھنے کے لیے گلبرگہ جانے لگا۔ وہاں محمد حسین نامی ایک استاد تاریخ پڑھاتے تھے۔ ایک دفعہ محمد بن تغلق کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تغلق بے وقوف تھا جو دارالحکومت دلی سے دولت پور لے گیا۔  انہوں نے غالبا یہ بات ازراہ تفنن کہی تھی۔ ایک آدھ دن کے بعد جب مجھے تغلق پہ مضمون لکھنے کو کہا گیا تو میں نے یہی لکھ دیا کہ دارالحکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کر کے تغلق نے اپنے پاگل پن کا ثبوت دیا۔ میرا یہ جملہ پڑھ کر محمد حسین غصے میں آگئے۔ انہوں نے بید سے میری پٹائی کہ ،'مسلمان ہوتے ہوئے ایک مسلمان بادشاہ کو پاگل کہہ رہے ہو۔' میں اس مار سے بہت متنفر ہوا۔ تاریخ اور جغرافیہ میں میری دلچسپی بالکل ختم ہوگئی اور ساتھ ہی ان اساتذہ کے خلاف ہوگیا جو طلبا کو مارتے تھے۔
اپنے اساتذہ میں مجھے میر جہانگیری علوی خان یاد ہیں جو آٹھویں جماعت میں ہمیں فارسی پڑھاتے تھے۔
ایک دفعہ حیدرآباد دکن شہر میں آل انڈیا اردو مقابلہ ہوا۔ یہ مقابلہ زمرد محل میں ہوا جو اس وقت ایک بہت بڑا آڈیٹوریم تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی بہادر یار جنگ تھے جو اس وقت مسلمانوں کے ایک بڑے لیڈر تھے۔ اتفاق سے بہادر یار جنگ کو کسی اور جگہ جانا تھا۔ وہ اپنی جگہ اپنے بھائی حسن یار جنگ کو بٹھا گئے۔ اس مقابلے میں مجھے اول آنے پہ سیرت النبی کا ایک سیٹ دیا گیا۔ [سیرت النبی لکھنے کا یہ کام مولانا شبلی نعمانی نے شروع کیا تھا۔ مولانا کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے شاگرد سلیمان ندوی نے مکمل کیا۔]
بہت سالوں بعد، پاکستان بننے کے بعد، حسن یار جنگ کراچی آگئے تھے۔ جس زمانے میں اسلامیہ کالج کلیٹن روڈ پہ ہوتا تھا حسن یار جنگ وہیں کالج کے پیچھے رہتے تھے۔ میری ان سے کراچی میں اچھی دوستی ہوگئی اور پھر میں ان کا وکیل بھی رہا۔
گلبرگہ میں بارہ جماعتیں مکمل کرنے کے بعد میں علیگڑھ چلا گیا مگر کچھ ہی ماہ بعد مجھے علیگڑھ چھوڑنا پڑا۔ دراصل علیگڑھ میں ملیریا پھیلا تھا۔ جس مچھر سے ملیریا پھیلا اسے گھوڑا مچھر کہا جاتا تھا۔ مجھے بھی ملیریا ہوگیا۔ ملیریا کی وبا دیکھتے ہوئے کالج بند کردیا گیا اور میں واپس گھر آگیا۔
میں نے سنہ چوالیس میں علیگڑھ سے بی اے پاس کیا، اور پھر انگریزی ادب میں ایم اے شروع کیا۔ ہمارے استاد ایف جے فیلڈ تھے جنہیں ڈاکٹر ضیا الدین خصوصی طور پہ آکسفورڈ سے علیگڑھ لائے تھے۔ ابھی ایم کے امتحان میں ایک دو ماہ باقی تھے کہ میں پاکستان آگیا۔
پروفیسر سید محمد نورالحسن کی ایک یادداشت
[جاری ہے]

Saturday, February 10, 2018

 

ریاست حیدرآباد میں ہندو مسلم تفرقے کا آغاز

ریاست حیدرآباد میں ہندو مسلم تفرقے کا آغاز
میرا آبائی وطن ہے گلبرگہ ہے جو ریاست دکن کا ایک ضلع تھا۔ میں وہیں سنہ انیس سو چھبیس میں پیدا ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ ریاست حیدرآباد میں ہندو مسلم مل جل کر رہتے تھے۔ میرے والد کے ایک گہرے دوست سدھاپہ نام کے تھے۔ ہم انہیں اکا کہتے تھے جو کناڈا زبان میں چچا کو کہا جاتا ہے۔ ریاست میں طاعون پھیلا تو سدھاپہ اکا بیمار پڑ گئے۔ اس زمانے میں جب چوہوں سے طاعون پھیلتا تھا تو لوگ اس جگہ سے دور چلے جاتے تھے جہاں طاعون پھیلا ہوتا تھا؛ جانے والے، بیماروں کو پیچھے چھوڑ جاتے تھے۔ اکا کے ساتھ بھی یہ ہوا۔ ان کے رشتہ دار انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر ہمارے والد نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ہمارے والد مستقل اپنے بیمار دوست سے ملنے جاتے تھے۔
مگر آہستہ آہستہ زمانہ بدلتا گیا۔ گاندھی نے اپنی توجہ حیدرآباد کی طرف کی۔ گاندھی ستیہ گرہ کے لیے شعلہ پور اور پونا سے کارکنوں کو بھرتی کرتا۔ یہ لوگ ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفر کر کے حیدرآباد پہنچتے تھے اور نظام دکن کے خلاف نعرے بازی کرتے تھے۔ ان واقعات سے ریاست کے مسلمانوں میں یہ تاثر ابھرا کہ کانگریس اور گاندھی ریاست کے مسلمان بادشاہ کو ہٹا کر ہندوءوں کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ جمہوریت کے لیے ایسی کوشش سیاسی نہ تھی بلکہ متعصبانہ تھی کیونکہ کشمیر میں ایک ہندو بادشاہ تھا مگر کانگریس کشمیر میں لوگوں کو بھیج کروہاں بادشاہت ختم کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تھی۔
مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے کہ قائداعظم بمبئی سے مدراس جا رہے تھے۔ پوری ٹرین مسلم لیگ کی تھی جس میں لیگ کے بڑے لیڈر موجود تھے۔ راستے میں ہمارا قصبہ شاہ آباد پڑتا تھا۔ ٹرین شاہ آباد میں کوءلہ بھرنے کے لیے رکی۔ تین بجے کا وقت تھا۔ قائداعظم کی آمد کی خبر آنا فانا  خبر پورے میں پھیل گئی۔ قصبے کے سارے مسلمان اسٹیشن پہ پہنچ گئے اور قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ لوگ قائداعظم کو دیکھنا چاہتے تھے اور ان کی تقریر سننا چاہتے تھے۔ اس وقت فاطمہ جناح ٹرین کے ڈبے سے باہر آئیں۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ قائداعظم بیمار ہیں، انہیں بخار ہے، اور وہ باہر نہیں آسکتے۔ فاطمہ جناح نے اپنی مختصر تقریر میں لوگوں کو بتایا کہ مسلم لیگ پاکستان بنانا چاہتی تھی۔ پھر مسلم لیگ کے دوسرے راہ نما بھی ڈبے سے باہر آءے اور انہوں نے بھی تقریریں کیں۔ ان لوگوں میں سردار عبدالرب نشتر اور آئی آئی چندریگر شامل تھے۔
میں جب علیگڑھ میں پڑھتا تھا تو وہاں نوابزادہ لیاقت علی خان آءے۔ انہوں نے بیس پچیس لڑکوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ وہ لڑکے فرنٹئیر جا کر تحریک پاکستان پہ کام کریں۔ میں ان لڑکوں میں شامل تھا۔ ہم لوگ پشاور پہنچے اور وہاں ایک بنگلے میں قیام کیا۔ اس وقت فرنٹئیر کے چیف منسٹر ڈاکٹر خان صاحب تھے جو سرحدی گاندھی کے بھائی تھے۔ ڈاکٹر خان صاحب کے دست راست ایک ہندو تھے۔ پشاور میں قیام کے دوران مجھے وہاں جو مواد ملا اس سے معلوم ہوا کہ یہ ہندو صاحب پشاور میں بیٹھ کر حیدرآباد دکن کے نواب کے خلاف کیا سازشیں کر رہے تھے اور کس طرح ریاست کے ہندوءوں کو نظام حیدرآباد عثمان علی خان کے خلاف اکسایا جارہا تھا۔
انہیں دنوں جمیل الدین صاحب علیگڑھ میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے اخبارات میں کالم لکھے کہ کانگریس اور گاندھی مسلمانوں کے خلاف یہ کام کررہے ہیں مگر مسلم لیگ کی توجہ اس طرف نہیں ہے۔ اسی طرح زیڈ اے سلیری ایک اچھا نوجوان تھا جس نے لاہور کے ایک اخبار میں اسی بارے میں لکھا۔
گاندھی بظاہر ہندو مسلم اتحاد چاہتا تھا مگر دراصل وہ ان دونوں گروہوں میں نفرت پیدا کرنے کا سبب بنا۔
پروفیسر سید محمد نورالحسن کی ایک یادداشت
[جاری ہے]


Saturday, October 28, 2017

 

جھول




ایک دوست کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ ہم دونوں ایک جگہ ٹھیلے سے پھل لینے کے لیے رکے۔ قیمت پہ مول تول شروع ہوئی۔ قیمت زیادہ تھی مگر ٹھیلے والے کا اصرار تھا کہ اس کا مال بہترین تھا اور واقعی اس کے آم عمدہ تھے۔ کچھ بحث و تکرار کے بعد میں آم خریدنے پہ راضی ہوگیا مگر میرے دوست نہ مانے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیلے والا انہیں ٹھگ رہا تھا۔  اسی سفر میں اس دوست کے کہنے پہ نماز کی ادائیگی کے لیے ایک مسجد پہ رکے۔ نماز پڑھ کر باہر نکلے تو ایک فقیر نے سوال کیا۔ ہمارے دوست نے فورا پانچ کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔ کچھ فاصلے سے ایک اور فقیر نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ بھی بھاگا بھاگا آیا اور ہمارے دوست کے سامنے گڑگڑانے لگا۔ دوست نے اس فقیر کو بھی پانچ روپے دے دیے۔ جب تک ہم لوگ گاڑی تک پہنچے وہاں چار پانچ فقیر اور پہنچ چکے تھے۔ ہمارے دوست نے نہایت فیاضی سے ان سارے فقیروں میں رقم تقسیم کی اور ہم لوگ آگے بڑھ گئے۔
اس رات بستر پہ لیٹے میں نے پورے دن کے بارے میں سوچا تو ان دونوں واقعات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا، یعنی ہمارے دوست کی پھل والے سے ایسی لیچڑ مول تول اور فقیروں کے ساتھ اس قدر فیاضی۔ ہماری اخلاقی اقدار کا جھول مجھ پہ واضح ہوگیا۔ ہمیں مال بیچنے والے غریب لوگ پسند نہیں ہیں، ہمیں وہ تنگدست غریب لوگ پسند ہیں جن کے پاس کچھ نہ ہو اور جنہیں ہم خیرات دے کر اپنے لیے جنت کما سکیں۔


This page is powered by Blogger. Isn't yours?