Thursday, May 26, 2016

 

کرائسٹ چرچ فضائیہ عجائب گھر، شہباز تاثیر، جیسی ڈوگارڈ








ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو بیاسی

مئی بیس، دو ہزار سولہ

کرائسٹ چرچ فضائیہ عجائب گھر، شہباز تاثیر، جیسی ڈوگارڈ


علی حسن سمندطور

میں نے اس سے پوچھا تھا کہ تم پاکستان میں کیوں نہیں رہتے؟ اس نے کہا کہ اگر معاملے کو جذباتیت سے نہ دیکھا جائے، اگر ممالک کو انسانوں کی ماں دھرتی نہ سمجھا جائے بلکہ ایسی بسیں سمجھا جائے جو اپنے مسافروں کو کہیں لے کر جارہی ہیں تو بات زیادہ آسانی سے سمجھائی جاسکتی ہے۔ میں نے کہا چلو یوں ہی مان لیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پھر تو بات آسان ہے۔ میں جب پاکستان میں رہتا تھا تو پاکستان کو ایک ایسی بس کے طور پہ دیکھتا تھا جس کی سمت پہ مجھے کوئی اختیار نہ تھا۔ میں جہاں اس بس کو جاتا دیکھنا چاہتا تھا یہ اس کے مخالف سمت جارہی ہوتی تھی، اور پھر کچھ کچھ دیر بعد یہ بس کھڑی ہوجاتی تھی اور چلنا بالکل بند کردیتی تھی۔ تو میں پھر ایسی بس کا مسافر کیوں بنوں؟ میں اگر اس بس سے اتر کر کسی اور بس میں سوار ہوگیا تو کیا برا کیا؟ اس نے اپنا استدلال ایسی پختہ معروضی بنیاد پہ کھڑا کیا تھا جس میں میری مرضی شامل تھی۔ میرے پاس اس سے اتفاق کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔
میں اسی نوعیت کا سوال شہباز تاثیر سے کرتا ہوں۔ پہلے تمھارے انتہائی قابل باپ کو مارا گیا؛ پھر تمھیں اغوا کر کے تم پہ تشدد کیا گیا اور تمھیں پانچ سال قید میں رکھا گیا، اب آخر تم وہاں اور کتنا ذلیل و خوار ہونا چاہتے ہو؟ مگر یہ لڑکا نہیں مانتا۔ یہ کہتا ہے کہ جن لوگوں نے اس کے اور اس کے باپ کے ساتھ یہ سب کیا، یہ ملک ان لوگوں کے حساب سے نہیں چلنا چاہیے۔ یہ ملک دراصل  شہباز تاثیر کا اور اس کے ہم خیال لوگوں کا ہے، اور ایک دن ان ہم خیال لوگوں کی جماعت اپنے مخالف گروہ کو ہرانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ایک دن یہ بس اس سمت میں چلنے لگے گی جس طرف شہباز تاثیر اور اس کے ہم خیال لوگ اسے لے کر جانا چاہتے ہیں۔
میں لکھنے بیٹھا تھا کرائسٹ چرچ کے فضائیہ عجائب گھر کے بارے میں، مگر ذہن دوڑتے دوڑتے دوسری طرف نکل گیا۔ کرائسٹ چرچ کے اس عجائب گھر میں ایک نمائش دوسری جنگ عظیم کے کی وی جنگی قیدیوں اور ان کی کامیاب اور ناکام فرار کی داستانوں سے متعلق تھی۔ اس نمائش میں ایک عجیب ماحول تھا۔ وہاں روشنی دھیمی تھی اور کچھ کچھ دیر بعد خطرے کا سائرن بجتا تھا۔ آگے ایک جگہ چالیس کی دہائی کی مقبول موسیقی سنائی دے رہی تھی۔ وہ سب دراصل جنگ کا کلچر تھا۔ جنگ کا کلچر؟ ہاں جنگ کا بھی ایک کلچر ہوتا ہے۔ خطرے کا سائرن، آسمان میں منڈلاتے دشمن کے ہوائی جہاز، بمباری، راشن، اور اس وقت کی خاص موسیقی۔ یہ اور دوسری چیزیں وہ ماحول بناتی ہیں جسے جنگ کا کلچر کہا جاسکتا ہے۔ اس نمائش میں اسی کلچر کو یاد کیا جارہا تھا۔ وہ سپاہی جنہوں نے اپنی عمر کے بہترین سال جنگ کے دوران گزارے ہوں شاید اسی طرح جنگ کے کلچر میں کھو گئے ہوں گے۔ وہ شاید وہیں واپس پلٹ کر جانا چاہتے ہوں۔ وہ جنگ تھی۔ اس میں قتل و غارت گری تھی مگر وہ وقت ان کی عمر کے بہترین حصے کا رفیق تھا۔ شاید وہ اپنی زندگی کا بہترین حصہ واپس دیکھنا چاہتے ہوں، شاید وہ اس مخصوص وقت کے رفیق کو واپس دیکھنا چاہتے ہوں۔ شاید یہ عمل بھی اسٹاک ہوم سنڈرم سے ملتی جلتی کوئی چیز ہے۔
ایسی فلمیں بھی تو ہوتی ہیں جن کی تیاری کے لیے بہت بڑے بڑے سیٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ فلم بندی کا کام ان سیٹ پہ بہت عرصے تک چلتا رہتا ہے۔ اس سیٹ سے بندھے کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی کا بڑا حصہ وہی سیٹ ہوتا ہے۔ پھر ایک روز فلمبندی مکمل ہوجاتی ہے۔ اب اس سیٹ کو خیرآباد کہنے کی ضرورت ہے مگر اس سیٹ سے بندھے لوگ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ وہ اسی طرح اس سیٹ سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔
شہباز تاثیر کی قید کےدوران سب سے زیادہ دلچسپ واقعات اس متعلق ہیں جب شہباز کو قید میں رکھنے والوں پہ ڈرون سے حملے ہوئے یا ہوائی جہازوں کے ذریعے ان پہ بمباری کی گئی۔ ایسے موقعوں پہ شہباز تاثیر کے دوست وہ نہیں تھے جو شہباز تاثیر کو قید میں رکھنے والوں پہ حملہ آور تھے۔ ایسے موقعوں پہ شہباز تاثیر اور اس کے صیاد ایک کشتی کے مسافر تھے۔ ان لوگوں کو اپنی جان حملہ آوروں سے بچانی تھی۔ اسی معاملے کی ایک دوسری شکل کو شاعر نے صیاد سے مانوس ہونا کہا ہے۔
اور پھر صیاد سے انسیت یوں بھی ہوتی ہے کہ واقعی رہائی کا دل نہیں چاہتا۔ اس حقیقت کا بہترین بیان میں نے جیسی ڈوگارڈ کی کتاب میں پڑھا تھا۔ ڈوگارڈ انیس سال قید میں رہی۔ ان انیس سالوں میں اس کا نام بدل کر ایلیسا کردیا گیا۔ جب پولیس نے مجرم فلپ گریڈو کو گرفتار کیا اور انہیں شک ہوا کہ یہ عورت جو فلپ کے ساتھ ہے اور اپنا نام ایلیسا بتا رہی ہے، یقینا جھوٹ بول رہی ہے تو انہوں نے اس سے اس کا اصل نام پوچھا۔ جیسی بہت دیر تک سوچتی رہی۔ اس کی قید کو انیس سال ہوچکے تھے۔ جب اسے اغوا کیا گیا تھا تو اس کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔ وہ آزادی کی زندگی سے اتنی مانوس نہ تھی جتنی اپنے صیاد سے۔ اس وقت فلپ اور وہ ایک طرف تھے، اور پولیس دوسری طرف۔ وہ دیر تک پولیس سے بھڑتی رہی اور فلپ کی طرف داری کرتی رہی۔ مگر پولیس والوں اور والیوں نے بھی تحمل کا دامن نہ چھوڑا۔ وہ جیسی کو سمجھاتے رہے کہ وہ سچ سچ بتا دے کہ کیا معاملہ تھا، فلپ اس کا کیا لگتا تھا۔ وہ کہتے رہے کہ سچ کی طاقت جھوٹ سے بہت زیادہ ہے، تم سچ بول دو، سارے معاملات خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔ بالاخر جیسی نے سچ اگل دیا۔ وہ منہ سے نہ بولی مگر اس نے ایک کاغذ پہ اپنا اصل نام لکھ دیا: جیسی ڈوگارڈ۔ اس کا یہ لکھنا تھا کہ پورے امریکہ میں بھونچال آگیا۔ پورے ملک میں ٹی وی، ریڈیو،  اور اخبارات میں یہی خبر تھی کہ انیس سال پہلے اغوا ہونے والی ایک لڑکی بازیاب ہوگئی تھی۔ وہ تیس سالہ عورت اپنےصیاد سے انیس سالہ انسیت کو ٹھکرانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔




Labels: , ,


Thursday, May 19, 2016

 

ویلنگٹن، تورنگا، کرائسٹ چرچ








नई जीलैंड  का सफर नामा




ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اکیاسی

مئی پندرہ، دو ہزار سولہ

ویلنگٹن، تورنگا، کرائسٹ چرچ


ہم ویلنگٹن سے واپس آک لینڈ جارہے تھے مگر رات تورنگا نامی قصبے میں بسر کرنا تھی۔ یہ ممکن تھا کہ ویلنگٹن سے تورنگا اسی راستے سے جاتے جس راستے سے ویلنگٹن پہنچے تھے مگر جدت طلب ذہن نے ایسا کرنا گوارہ نہ کیا۔  ویلنگٹن سے نکلے توسیدھا شمال کی طرف جانے کے بجائے شمال مشرق کی جانب ہیسٹنگس کی طرف نکل گئے اور پھر وہاں سے تورنگا پہنچے۔ اس طرح شمالی جزیرے کے مشرقی حصے کو چلتے چلتے دیکھنے کا موقع مل گیا مگر راستے کی لمبائی کی وجہ سے تورنگا پہنچتے پہنچتے رات ہوگئی۔ نئی جگہ پہ دن کی روشنی میں راستہ تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے اندھیرے میں کام اور دشوار ہوگیا۔ مگر پھر وہی ہوا جو ایسے موقعوں پہ ہمارے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہماری مدد کے لیے ایک فرشتہ نازل ہوا۔ تورنگا میں جس جگہ ہماری رات کی بکنگ تھی وہ دراصل قصبے سے کسی قدر باہر تھی اور ہمارا جی پی ایس اس جگہ سے واقف نہ تھا۔ ہم قصبے سے باہر نکل کر ادھر ادھر راستہ تلاش کرتے رہے اور پھر جھنجھلا کر واپس قصبے میں پلٹ آئے۔ راستہ پوچھنے کی نیت سے ایک اسٹور میں داخل ہوئے۔ اسٹور میں کائونٹر کے پیچھے موجود نوجوان ہمارے علاقے کا معلوم ہوتا تھا مگر وہ نیوزی لینڈ کے مقامی لہجے میں انگریزی بول رہا تھا۔ ہم نے اپنے ہوٹل کا پتہ پوچھا تو وہ فورا کائونٹر کے پیچھے سے نکل کر سامنے آگیا۔ وہ ہمیں ساتھ لے کر اسٹور کے دوسری طرف ایک دیوار تک گیا۔ وہاں ایک بڑا اسکرین دیوار پہ نصب تھا۔ اس نے اسکرین کو ہاتھ لگایا تو اس پہ انٹرنیٹ نمودار ہوگیا۔ اس نے ہمارا بتایا ہوا پتہ انٹرنیٹ پہ ڈالا اور پھر جب اس جگہ جانے کا راستہ واضح ہوگیا تو اس نے بہت تفصیل سے سمجھایا کہ ہم اس پارکنگ لاٹ سے نکل کر کس طرف جائیں گے اور کس جگہ بائیں ہاتھ مڑیں گے۔ اس نے یہ ہدایات دہرائیں اور اچھی طرح یقین کر لیا کہ ہمیں راستہ سمجھ میں آگیا تھا۔ وہ ہمارے لیے بچھا جاتا تھا۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ چل پڑے اور ہمیں ہماری منزل تک چھوڑ کر ہی واپس پلٹے۔

جب ہم نے انٹرنیٹ کے ذریعے تورنگا کے میڈیٹرینین ریزارٹ کی بکنگ کرائی تھی تو وہ ہوٹل بہت مصروف جگہ معلوم دی تھی اور ہم اس نہایت ہردل عزیز ہوٹل میں جگہ پا کر خوش ہوئے تھے۔ اب جو قصبے سے نکل کر ایک نیم روشن ذیلی سڑک سے ریزارٹ تک پہنچے تو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ہمارے علاوہ اس ہوٹل میں کوئی اور مسافر نہ تھا۔

ہمارے ہوٹل کا مالک اور مینیجر گنتھر قریبا بیس سال پہلے جرمنی سے نیوزی لینڈ پہنچا تھا۔  اس کا کہنا تھا کہ جرمنی میں جب یورپی اتحاد کی ہوا چلی تو اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کا اب وہاں رہنا مشکل تھا۔ وہ نیوزی لینڈ پہنچا اور یہاں کی محبت میں گرفتار ہو کر یہیں کا ہورہا۔ اور اب اتنے سالوں بعد اس کے بچے بڑے ہوکر اپنی اپنی راہ نکل گئے تھے۔ بہت سال پہلے اس کی بیوی کو امریکی جزیرے ہوائی کا ایک آدمی مل گیا اور وہ اس کے ساتھ روانہ ہوگئی اور یوں گنتھر اب تنہا رہ گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کو جرمنی سے پینشن کی رقم ملتی ہے اور ریزارٹ سے آمدنی اضافی تھی۔

اس ریزارٹ میں ایک چینی نژاد جوان عورت صفائی کرتی نظر آتی تھی۔ ہم نے گنتھر کی اس عورت سے مختصر گفتگو سے اندازہ لگایا کہ وہ عورت گنتھر کے لیے محض ایک ملازمہ نہ تھی۔ گنتھر ایک اچھا کھجیارہ [کک] تھا۔ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے صبح کا ناشتہ تیار کیا۔ اس ناشتے میں وہ تمام چیزیں تھیں جو المانوی لوگ ناشتے میں رغبت سے کھاتے ہیں۔

تورنگا سمندر کے ساتھ واقع ہے مگر سردیوں کے اس روز صرف دور ہی سے سمندر سے لطف اندوز ہوا جاسکتا تھا۔ ویسے بھی تورنگا میں قیام کا واحد مقصد یہ تھا کہ ہم مختصر سفر کے بعد آک لینڈ پہنچ سکیں؛ گاڑی ہوائی اڈے پہ چھوڑیں اور جہاز لے کر کرائسٹ چرچ روانہ ہوجائیں۔

ہم تورنگا سے چلے تو راستے میں کسی جگہ رکے بغیر آک لینڈ پہنچ گئے۔ مگر وہاں پہنچتے پہنچتے ایک نئی صورتحال کا سامنا ہوگیا۔ ہمارا مثانہ پھٹا جارہا تھا اور اپنی حاجت رفع کرنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں مل رہا تھا۔  کرائے کی گاڑی حاصل کرتے وقت ہم دیکھ چکے تھے کہ اس رینٹل آفس میں کوئی ضرورت گاہ نہیں تھی۔ یقینا ہوائی اڈے پہ ہر طرح کی سہولت موجود تھی مگر کرائے کی گاڑی چھوڑ کر شٹل سے ہوائی اڈے پہنچنا تھا اور ہم اتنا انتظار نہیں کرسکتے تھے۔ ہم رینٹل آفس والی سڑک پہ آگے کی طرف گئے تو وہاں ایک بڑی فیکٹری کے باہر سنسان جھاڑیوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ ہم نے گاڑی وہیں روک لی۔ ہم وہاں اپنی کاروائی کر کے فارغ ہوئے تو فورا ہی ایک پولیس کی گاڑی وہاں نمودار ہوگئی۔ شاید کسی نے مشتبہ سرگرمی کی مخبری کردی تھی۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ ہم اس وقت تک گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ ہم نے فورا گاڑی آگے بڑھا دی اور بہت دیر تک سوچتے رہے کہ کیا پولیس والے نے جھاڑیوں میں جا کر یہ جاننے کی کوشش کی ہوگی کہ ہم وہاں کیا کررہے تھے۔


آک لینڈ سے کرائسٹ چرچ کی پرواز مختصر تھی مگر اس سفر میں ہمیں ایک خوب صورت تحفہ فورا ہی مل گیا۔ جہاز نے آک لینڈ سے اڑان بھری تو کچھ ہی دیر میں کھڑکی سے باہر قوس قزح کا ایک  دل فریب منظر ظاہر ہوا۔ یہ مکمل گول قوس قزح بہت دور تک جہاز کے ساتھ چلتی رہی۔ کرائسٹ چرچ کے راستے میں ایسا استقبال ہمیں اچھا لگا۔

Labels: , , ,


Thursday, May 12, 2016

 

ویلنگٹن











ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اسی

مئی آٹھ، دو ہزار سولہ

ویلنگٹن


صبح الارم سے آنکھ کھلی ہے۔ دیوار کے دوسری طرف شہر چلنا شروع ہوگیا ہے۔ کل رات روتوروا سے ویلنگٹن پہنچنے پہ گاڑی باہر روڈ پہ کھڑی کی تھی۔ ہوٹل کی پارکنگ بہت گراں تھی جب کہ باہر سڑک پہ صبح نو بجے تک گاڑی مفت کھڑی کی جاسکتی ہے۔ الارم سے سویرے اس نیت سے اٹھے ہیں کہ معمولات نمٹا کر ہوٹل کا کمرہ چھوڑ دیں اور نو بجے سے پہلے گاڑی اپنی جگہ سے ہٹا لیں۔ روتوروا سے ویلنگٹن آتے ہوئے راستے کی خوبی یہ تھی کہ ہم نے ایک پہاڑی سلسلہ پار کیا۔ اس پہاڑی سلسلے کے اونچے مقامات پہ خوب برف پڑی ہوئی تھی۔ اور یوں ہم نے جولائی میں برف میں کھیلنے کا شوق پورا کیا۔ کل رات جب سامان کمرے میں چھوڑنے کے بعد رات کے کھانے کی تلاش میں نکلے تو مرکز شہر کی بیشتر دکانوں کو بند پایا۔ سرد راتیں لوگوں کی جان ذرا جلدی نکال لیا کرتی ہیں۔ مگر ایک سڑک چھوڑ کر ہم نے ایک فوڈ کورٹ کھلا دیکھا۔ اس فوڈکورٹ میں ہرطرح کے بین القوامی کھانے دستیاب تھے۔ ہم اپنے جسم میں دال اور مرغ سالن کی کمی محسوس کررہے تھے اس لیے یہی کھانا کھایا۔

شام کی ڈائری
ویلنگٹن کو اپنے تے پاپا عجائب گھر پہ ناز ہے۔ تے پاپا میں ایک نمائش سے دوسری نمائش جاتے اندازہ ہوا کہ اب مغرب کے ہر بڑے شہر میں طبیعی تاریخ عجائب گھر [نیشنل ہسٹری میوزیم] کے ذریعےلوگوں کو اس دنیا کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ بتایا جاتا ہے اس کا محور تین اہم سائنسی تھیوری ہیں: بگ بینگ تھیوری، پلیٹ ٹیکٹانوکس، اور ارتقا۔ بگ بینگ تھیوری کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ ہم کائنات کی موجودگی کے بارے میں ماضی میں کس قدر پیچھے جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ پلیٹ ٹیکٹانوکس کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ زمین پہ مختلف براعظم کس طرح اپنی موجودہ جگہ پہنچے ہیں اور آئندہ کیا ہونے کا امکان ہے۔ اور ارتقا کی تھیوری کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ ہرقسم کے جاندار کس طرح وقت کے ساتھ اپنی ہئیت تبدیل کرتے ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؟ : بگ بینگ تھیوری، پلیٹ ٹیکٹانوکس، اور ارتقا کے بارے میں نہ بتایا جائے تو لوگوں کو ان کے اطراف کی دنیا کے بارے میں کیسے سمجھایا جائے؟ صرف سائنس ہی تو انسان کے بنیادی سوالات کا مدلل جواب دیتی ہے۔ اعتقادات بھی ہمارے بنیادی سوالات کے جوابات دیتے ہیں مگر آپ کو ان جوابات پہ سوال کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ اعتقاد کے دیے جوابات کو اپنے ایمان کا جز مان کر اسے من و عن قبول کرنا ضروری ہے۔ جب کہ سائنس میں زیادہ کسر نفسی ہے۔ سائنسداں شواہد آپ کے سامنے رکھ کر اپنی تھیوری بیان کرتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ ان شواہد کی بنیاد پہ ہم تو یہ سمجھے ہیں، اگر آپ کو کچھ اور سمجھ میں آرہا ہے تو وہ بیان کیجیے، شاید وہ سچ ہو۔
تے پاپا عجائب گھر میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ اچانک ہرجگہ سے زور زور الارم کی آواز آنے لگی۔ خطرے کی گھنٹیاں حاضرین کو مطلع کررہی تھیں کہ عجائب گھر کے کسی حصے میں آگ لگ گئی ہے۔ لوگ بہت اطمینان سے قطار در قطار سیڑھیوں کی طرف بڑھنا شروع ہوئے اور سیڑھیوں کے ذریعے نچلی منزل پہ پہنچ کر عمارت سے باہر آگئے۔ عمارت سے باہر نکل کر ہم نے جھانک تاک کی کہ کہیں سے دھواں اٹھتا نظر آئے مگر ہمیں  آگ کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ گھنٹیوں کے شور سے کچھ دیر پہلے ہم نے یونیفارم پہنے ایسے لوگوں کو دیکھا تھا جو کسی ٹھیکے دار کے کارندے معلوم دیتے تھے۔ ہمیں خیال ہوا کہ ان ملازمین نے عمارت کا فائر الارم نظام چیک کرنے کے دوران کسی غلط جگہ ہاتھ مار دیا اور یوں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ یہ بھی ممکن تھا کہ یہ پورا عمل ایک مشق کا حصہ تھا اور ہم نہ جانتے ہوئے اس مشق میں شامل ہوگئے تھے۔ ہم کافی دیر باہر کھڑے رہے اور جب انتظامیہ کی طرف سے اندر جانے کا اشارہ ملا تو کافی وقت گزر چکا تھا۔ وہ عجائب گھر اس قدر عمدہ تھا کہ اگر ہم اس وقت اندر جاتے تو پھر عجائب گھر کا وقت ختم ہونے تک وہاں سے باہر نہ نکلتے۔ جب کہ ہمیں رات ویلنگٹن اور آک لینڈ کے راستے میں تورنگا نامی قصبے میں بسر کرنا تھی۔ ویلنگٹن خوب صورت تھا، ویلنگٹن مسافر نواز تھا، مگر ہمیں اب ویلنگٹن کو الوداع کہنا تھا۔


Labels: , ,


Thursday, May 05, 2016

 

روتوروا











ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو اناسی

مئی ایک، دو ہزار سولہ

روتوروا

 
اگر آپ نیوزی لینڈ کے قصبے روتوروا میں چہل قدمی کرتے ہوئے مستقل گٹر کی بو کی شکایت کریں تو سمجھ جائیں کہ آپ نے روتوروا کے بارے میں سطحئی طور پہ پڑھا ہے اور آپ گٹر کی بو کا روتوروا کی شہرت سے تعلق نہیں جوڑ پارہے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔

کاپ ثورن ہوٹل مرکز شہر سے میل بھر کے فاصلے پہ تھا۔ ہم ہوٹل کے کمرے میں سامان دھرنے کے بعد پیدل مرکز کی طرف چلے جارہے تھے اور مسقل حیران تھے کہ نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک میں روڈ کے ساتھ چلتے ہمیں گٹر کی بو کیوں سونگھنے کو مل رہی تھی۔

ہمارا تعلق جس جگہ سے ہے وہاں برسوں کی خراب حکمرانی پورے طمطراق سے آپ کے حواس پہ حملہ آور ہوتی ہے۔ آپ قیادت کی نااہلی کے نتائج دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں، سونگھ سکتے ہیں، چکھ سکتے ہیں، اور چھو سکتے ہیں۔ جگہ جگہ پھیلا کچرا اور ہرجگہ سے اٹھتی گٹر کی بو آپ کے حواس خمسہ پہ اسی حملے کے دو انداز ہیں۔  نیوزی لینڈ کے اس قصبے میں کچرے کے ڈھیر تو نہیں تھے مگر گٹر کی بو بہت تیز تھی۔ ہم مستقل ناک پہ رومال رکھے چل ہے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہاں ٹہلتے ہوئے دوسرے لوگ اس بو کا ذرا برا نہیں منا رہے تھے۔
ہم اس بو سے اس وقت تک پریشان رہے جب تک اپنے ذہن میں اچانک نمودار ہونے والے ایک خیال سے روتوروا کے گندھک کے چشموں کا تعلق اس بو سے نہ جوڑ پائے۔ یہ بات سمجھ میں آنے پہ ہم نے فورا رومال ناک سے ہٹا لیا۔ قدرتی ہائڈروجن سلفائڈ زندہ باد، انسانی ہائڈروجن سلفائڈ نامنظور۔

وطن میں جگہ جگہ اٹھنے والی گٹر کی بو کا سوچ کر ہمیں خیال آیا کہ کس طرح ان انتہائی کارآمد لوگوں کو جو وطن میں کوڑے اور گند کے اس ناقص نظام کو کسی نہ کسی چلا رہے ہوتے ہیں، حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صفائی کرنے والے وہ لوگ اسی کام کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور وہ یہ کام بہت شوق سے کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ آنے والے یورپی نوواردوں نے مقامی لوگوں کو بہت بعد میں انسان کے خانے میں ڈالا تھا۔ مائوری کو انسان سمجھنے کے بعد ہی ان کی زبان کو اہمیت دی گئی اور نئے آنے والوں کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ مائوری جن ناموں سے اس جزیرے کے مقامات کو جانتے ہیں، ان ناموں کو یورپی ناموں سے بدلنا ضروری نہیں ہے۔  اسی وجہ سے نیوزی لینڈ میں آپ کو ساحلی شہروں کے نام انگریزوں کے رکھے ہوئے ملیں گے جب کہ آپ اندرون قصبوں کے نام مقامی پائیں گے۔ روتوروا بھی ایسا ہی ایک مقامی نام ہے۔

روتوروا کے آس پاس جگہ جگہ گرم پانی کے چشمے ہیں۔ بعض چشموں سے پانی دھیرے دھیرے نکلتا نظر آتا ہے جب کہ دوسرے پوری طاقت سے گرم پانی کو فضا میں اچھالتے ہیں۔
دور دور تک پھیلی ہریالی جس میں سرخس [فرن] کی فراوانی اور پھر اس ہرے کینوس پہ جگہ جگہ بھاپ اڑاتے پانی کے گرم چشمے نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔

کاپ ثورن ہوٹل کے استقبالیہ پہ موجود ایک مینیجر مشرقی پنجاب سے تعلق رکھتا تھا مگر وہ پنجابی بول نہیں سکتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں والدین کے ہمراہ نیوزی لینڈ آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ چند ماہ میں پہلی بار چھٹیاں منانے مشرقی پنجاب جا رہا تھا۔

کاپ ثورن ہوٹل میں امریکی بچوں کا ایک بڑا گروپ ٹہرا ہوا تھا۔ وہ سب غالبا نویں دسویں کے طلبا تھے؛ وہ اکثر ہوٹل کی لابی میں بیٹھے نظر آتے تھے، شاید اس وجہ سے کہ لابی میں انٹرنیٹ کا استعمال مفت تھا۔ ان طلبا کے ساتھ دو اساتذہ بھی تھے۔

ہوٹل کے سوئمنگ پول میں گرم پانی کسی قدرتی چشمے سے حاصل کیا جاتا تھا۔ سوئمنگ پول کے استعمال کے بعد استقبالیہ سے اضافی تولیے مانگنا ان طلبا کا خاص مشغلہ تھا۔ استقبالیہ اضافی تولیے دینے میں تردد کرتا مگر یہ طلبا ثابت قدمی سے وہاں کھڑے رتے اور تولیہ حاضل کر کے ہی استقبالیہ کی جان چھوڑتے۔

اس روز میں ہوٹل کی لابی میں بیٹھا انٹرنیٹ استعمال کررہا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہاں بیٹھے طلبا میں سے ایک لڑکے کی طبیعت خراب تھی۔ ایک استانی لڑکے کے پاس بیٹھی تھی اور یہ طے پارہا تھا کہ لڑکے کو کب ڈاکٹر کو دکھایا جائے۔ اتنے میں ایک کھلبلی مچی۔ میں نے اس طرف دیکھا تو نظر آیا کہ بیمار لڑکا الٹیاں کررہا تھا۔ اس کی اول واردات تو سامنے میز پہ پھیلی نظر آرہی تھی مگر پھر برابر بیٹھی استانی نے سرعت سے میز پہ پڑا ایک خالی گلاس سامنے کردیا تھا اور لڑکے نے اپنے بقیہ پیٹ کو اس گلاس میں خالی کیا تھا۔ استانی لڑکے کی پیٹھ پہ ہاتھ پھیر رہی تھی اور لگتا تھا کہ لڑکے کا پیٹ اب مکمل طور پہ صاف ہوچکا تھا۔

استقالیہ پہ موجود مینیجر یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔ لابی اور اطراف کی صفائی دو آدمیوں کے ذمے تھی، ایک سفید فام تھا اور دوسرا دیسی۔ اس وقت دیسی اہلکار وہاں موجود تھا۔ مینیجر نے اہلکار کو اشارہ کیا کہ وہ لابی میں پھیلائی جانے والی گندگی کو صاف کرے۔ دیسی اہلکار ایک بالٹی اور کوچی لے کر فورا جائے واردات پہ پہنچ گیا۔ اس نے میز پہ پھیلی گندگی کو کاغذ سے صاف کیا اور پھر فرش پہ پھیلی گندگی کو کوچی سے اٹھایا۔ یہ صفائی کرنے کے بعد وہ اہلکار بالٹی، کوچی، اور گندگی سے بھرا گلاس لے کر روانہ ہوگیا۔

کچھ دیر بعد مجھے اس دیسی اہلکار کی سفید فام اہکار سے گفتگو سننے کو ملی۔ طلبا میرے دائیں جانب تھے جب کہ یہ اہلکار میرے بائیں طرف غلام گردش میں باتیں کررہے تھے۔ سفید فام اہکار نے دیسی اہلکار سے کہانی کا اول حصہ سنا جس سے وہ واقف نہ تھا۔ پھر یہ شخص دیسی اہکار پہ ناراض ہونے لگا کہ اس نے میز اور فرش کی صفائی کے دوران دستانے کیوں استعمال نہیں کیے۔ جب کہ دیسی اہلکار کا کہنا تھا کہ اس نے دستانے پہننے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ شاید وہ سفید فام اہل کار دیسی اہل کار کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہا تھا کہ دوسروں کی گندگی صاف کرنے کے دوران یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ گندگی طوعا و کرہا صاف کی جارہی ہے اور اس صفائی میں صفائی کرنے والے کو ذرا مزا نہیں آرہا ہے۔ اپنے انداز سے اس احساس کی وضاحت نہ کرنا نقصان کا سودا ثابت ہوسکتا ہے خاص طور پہ اس صورت میں جب معاملہ کرنے والے یہ دو لوگ نسلی طور پہ بالکل جدا ہوں۔



Labels: , , ,


This page is powered by Blogger. Isn't yours?