Friday, November 21, 2014

 

آدم اور ارتقا



نومبر سولہ،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو پندرہ


آدم اور ارتقا


پاپاءے روم نے حال میں فرمایا کہ نظریہ ارتقا اور عیساءی کیتھولک نظریات کے درمیان کوءی تضاد نہیں ہے۔ میں یہ خبر لے کر مرزا ودود بیگ کے پاس پہنچا تو بیگ صاحب آپے سے باہر ہوگءے۔ کہنے لگے، "میاں، فرانسسکو صاحب سے کہو کہ بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی۔ اب پاپاءے روم کو یہ بتانا ہوگا کہ ارتقا کے طویل عمل میں آدم اور حوا کہاں فٹ ہوتے ہیں؟" میں نے ڈرتے ڈرتے بیگ صاحب سے وضاحت طلب کی تو کہنے لگے کہ ساءنس داں ایک عرصے سے سنگواروں [فوسل] کے ثبوت کے ساتھ ارتقا کا مقدمہ مضبوط کررہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مذہب کے ٹھیکیدار ارتقا کے مقدمے میں اپنا مفصل جواب جمع کراءیں۔ مذہبی کتابوں میں انسان کی جو تاریخ بتاءی گءی ہے وہ بہت آگے تک نہیں جاتی۔ حضرت عیسی کا عہد محض دو ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ حضرت آدم اور حضرت عیسی کے درمیان وقت کو بہت زیادہ بھی پھیلاءیں تو یہ ساری کہانی بمشکل دس ہزار سال کی بنتی ہے۔ ساءنس انسان کی اس دنیا میں جو تاریخ بتارہی ہے وہ  مذہب کی بتاءی کہانی سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ لوسی کا پنجر ہی لے لو۔ یہ پنجر تین کروڑ سال پرانا ہے۔ مذہب کہتا ہے کہ جو بتایاجا رہا ہے اس کو چپ چاپ مانو جب کہ ساءنس کھلے ذہن کے ساتھ آگےبڑھ رہی ہے۔ ساءنس کی راہ پہ چلنے والوں کی اسی وسیع الخیالی کے سبب سنگواروں کی مدد سے انسانی تاریخ کی جو کہانی بنی ہے وہ بتاتی ہے کہ آج انسان جس شکل میں ہے، اس سے ملتی جلتی شکلوں کے انسان پچھلے پانچ کروڑ سالوں سے اس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اس کہانی کے حساب سے موجودہ شکل میں انسان افریقہ میں بنا اور پھر وہاں سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا۔ اس کہانی کے حساب سے انسان نے محض چھ لاکھ سال پہلے آگ پہ قابو پایا۔ اس کہانی کے حساب سے پتھر کا زمانہ لگ بھگ ایک لاکھ سال پہلے ختم ہوا۔ پتھر کا زمانہ وہ وقت تھا جب انسان پتھر کو اوزار کے طور پہ استعمال کرتا تھا۔ اس کہانی کے حساب سے کتے کو قریبا سولہ ہزار سال پہلے سدھایا گیا؛ اس وقت تک انسان نے زراعت ایجاد نہ کی تھی۔ اس کہانی کے حساب سے انسان شکار کی تلاش میں ایشیا سے امریکہ قریبا چالیس ہزار سال پہلے پہنچا۔ یہ نقل مکانی اس وقت ہوءی جب برفانی دور کی وجہ سے موجودہ آبناءے بیرنگ کے علاقے کو پیدل پار کیا جاسکتا تھا۔ قریبا باءیس ہزار سال پہلے جب وہ برفانی دور ختم ہوا، سمندروں کی سطح بلند ہوءی تو آبناءے بیرنگ پانی سے بھر کر اپنی موجودہ شکل میں آگءی۔ امریکین کے انسان کا پرانی دنیا کے انسان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ پھر یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ انسان کے یہ دو گروہ الگ الگ ارتقا کی ایک جیسی منزلیں طے کرتے رہے۔ ان دونوں گروہوں نے الگ الگ زراعت ایجاد کی، دھات پگھلانا سیکھا، اور جانور سدھاءے۔ اس کہانی کے حساب سے تمدن کا براہ راست تعلق زراعت سے ہے۔ اور زراعت محض پانچ سے آٹھ ہزار سال پرانی ایجاد ہے۔ زراعت ایجاد کرنے کے بعد انسان بستیوں کی صورت میں بسنا شروع ہوا۔ اسی وقت اس نے اپنی غذا کے لیے جانور بھی سدھاءے: گاءے، بکری، بھیڑ، وغیرہ۔ ان تمام جانوروں کی جنگلی شکلیں آج بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔  پانچ ہزار سال پہلے لکھاءی ایجاد ہوءی اور اس کے بعد قوانین تشکیل پاءے۔ اور پھر محض پانچ سو سال پہلے انسانوں کے دو بچھڑے ہوءے گروہ ایک دوسرے سے مل گءے۔ مادی ترقی میں پرانی دنیا کا انسان نءی دنیا کے انسان سے آگے تھا۔ نءی دنیا میں نہ گھوڑے تھے نہ بارود؛ کاغذ نہ ہونے کی وجہ سے لکھاءی کا معاملہ یہاں آگے نہ پہنچا تھا،اور اس وجہ سے تجارت کے معاملے میں بھی یہ لوگ ترقی یافتہ نہ تھا۔ اور یوں اپنی بہتر ٹیکنالوجی کی وجہ سے پرانی دنیا کا انسان نءی دنیا کے انسان پہ حاوی ہوگیا۔
آج جو نءے مذاہب دنیا میں ہیں ان کی کہانیاں، ان کی تعلیمات کتابی شکل میں لکھاءی میں ہیں۔ مگر یہیں ایسے مذاہب بھی ہیں جن کی کہانیاں اور تعلیمات محض زبانی شکل میں ہیں۔
میں بیگ صاحب کی بات سر جھکاءے غور سے سن رہا تھا۔ انہوں نے میرا شانہ ہلا کر کہا ، " پاپاءے روم سے کہیے کہ اگر مذہبی روایات اور ساءنسی تعلیمات میں کوءی اختلاف نہیں ہے تو ذرا آدم اور حوا کو اس کہانی میں تو فٹ کیجیے۔"

تصویر بشکریہ: 
 http://www.ncregister.com


Labels: , ,


Friday, November 14, 2014

 

ولی خان بابر، سلیم شہزاد، رضا رومی، اور حامد میر




نومبر نو،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو چودہ


ولی خان بابر، سلیم شہزاد، رضا رومی، اور حامد میر


طعنے مختصر ہوتے ہیں۔ ٹوءٹر پہ مختصر بات کی جاتی ہے۔ اس لیے ٹوءٹر طعنوں تشنوں کے لیے بہت موزوں ہے۔ اس تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آءی کہ حال میں رضا رومی نے اپنے فیس بک دوستوں کو بتایا کہ انہیں ٹوءٹر کے ذریعے سخت تنقید کا نشانہ بنا گیا ہے۔ انہیں طعنے دیے جارہے ہیں کہ وہ بزدل ہیں جو پاکستان سے بھاگ نکلے۔ رضا رومی سے کہا جا رہا ہے کہ وہ نڈر ہوتے تو پاکستان میں رہ کر حالات کا مقابلہ کرتے۔ فیس بک پہ رضا رومی کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اس دشنام طرازی پہ کان نہ دھریں۔ پاکستان میں ان کی جان کو سخت خطرہ ہے۔ رضا رومی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ عافیت سے امریکہ میں رہتے رہیں۔
پاکستان میں صحافیوں پہ حملہ کوءی نءی بات نہیں ہے مگر یہ جانچنا ضروری ہے کہ ولی خان بابر، سلیم شہزاد، حامد میر، اور رضا رومی پہ ہونے والے حملوں میں کیا فرق ہے۔ پہلی بات تو یہ جانیے کہ پاکستان کے ادارے اور سیاسی جماعتیں تقریبا مادر پدر آزاد ہیں۔ ان اداروں اور ان جماعتوں سے تعلق رکھنے چند لوگ اپنے طور پہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ کس کو راہ سے ہٹانا چاہیں گے اور اس فیصلے پہ عملدرآمد بھی کرسکتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کسی ادارے کو مورد الزام ٹہرانے میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بات وثوق سے  نہیں کہی جا سکتی کہ کسی پہ حملے میں کوءی پورا ادارہ یا کوءی پوری جماعت ملوث تھی۔ چنانچہ آپ کراچی میں کسی سے ولی خان بابر کے متعلق پوچھیں تو آپ کو بتایا جاءے گا کہ ولی خان بابر کو ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے افراد نے قتل کیا۔ اسی طرح سلیم شہزاد نے اپنے اغوا سے پہلے دوستوں سے بتایا تھا کہ انہیں پاکستان کے خفیہ اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے دھمکیاں ملی تھیں۔ حامد میر نے اپنے اوپر ہونے والے حملے سے پہلے اپنے بھاءی سے کہہ دیا تھا کہ اگر انہیں یعنی حامد میر کو اغوا یا قتل کیا جاءے تو حامد میر کے بھاءی جان لیں کہ ایسی کارواءی خفیہ ایجنسی آءی ایس آءی نے کی ہوگی۔ چنانچہ یہاں حامد میر پہ حملہ ہوا وہاں ان کے بھاءی جھٹ ٹی وی اسٹیشن پہنچ گءے۔ رضا رومی پہ ہونے والا قاتلانہ حملہ کچھ مختلف نوعیت کا تھا کہ انہیں کبھی براہ راست کوءی دھمکی موصول نہیں ہوءی تھی۔ البتہ سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں معلوم ہوتا رہتا تھا کہ کچھ لوگ رضا رومی کے آزاد خیالات اور ببانگ دہل شدت پسندوں  پہ ان کی سخت تنقید کی وجہ سے رضا رومی سے خوش نہیں تھے۔
ولی خان بابر اور شہزاد سلیم اس دنیا میں نہ رہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں صحافیوں کو جن تنظیموں سے خطرہ تھا، یہ ان کے ساتھ کس قسم کے مذاکرات کر کے اپنی جان بچا سکتے تھے، یا کس طرح کچھ مہلت حاصل کر کے ملک سے فرار ہوسکتے تھے۔ مگر حامد میر ہم سب کے سامنے ہیں۔ کراچی میں قاتلانہ حملے میں بچنے کے بعد وہ آج بھی اسلام آباد میں رہ رہے ہیں اور اپنا ٹی وی پروگرام کیپٹل ٹاک بھی کر رہے ہیں۔ حامد میر نے کس سے کس قسم کے مذاکرات کیے ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ رضا رومی کا معاملہ کچھ مختلف ہے کیونکہ ان پہ کیا جانے والا حملہ نادیدہ ہاتھوں نے کیا تھا۔ اندھیرے میں چھپے لوگوں سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔ جولوگ رضا رومی کو پاکستان واپس جانے پہ اکسا رہے ہیں وہ یقینا رضا رومی کے دوست نہیں ہیں، اور عین ممکن ہے یہ وہ لوگ ہوں جو رضا رومی کے زندہ بچ جانے پہ کف افسوس مل رہے ہوں۔  
اور صحافیوں ہی کا کیا، پاکستان میں کس کی جان و مال محفوظ ہے؟ جس ملک میں ایک سابق وزیر اعظم کا لڑکا دن دھاڑے اغوا ہوجاءے اور مہینوں بازیاب نہ ہو، جس ملک میں ایک سابق وزیراعظم کا قتل ہوجاءے اور قاتل کا کوءی سراغ نہ ملے وہاں ھما شما کس کھاتے میں ہیں؟
اپنی دگرگوں امن عامہ کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان ایک ناکام ریاست ہے جہاں حکومت کا زور چند شہری علاقوں میں وہاں کے کمزور لوگوں پہ، دن کی روشنی میں چلتا ہے۔ سورج غروب ہوتا ہے تو حکومت کی رٹ سکڑ کر اور بھی مختصر ہوجاتی ہے۔ ان بیس کروڑ لوگوں کی عظمت کو سلام جو اتنے خراب حالات میں بھی مستقل وہاں رہ رہے ہیں۔



Friday, November 07, 2014

 

دھرنا ختم، اور طہارت کی تاریخ



نومبر دو،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو تیرہ


دھرنا ختم، اور طہارت کی تاریخ

 
طاہر القادری کا اسلام آباد میں دھرنا ختم ہوا اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان اسلام آباد چھوڑ کر اپنے گھروں کو روانہ ہوءے تو اپنے پیچھے کوڑا اور غلاظت چھوڑ گءے۔ ایک دفعہ پھر وہ موقع آیا کہ ہم نے مرزا ودود بیگ کو گھیر لیا۔ ہمیں ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔ پھر جب وہ کراچی کی بازاری زبان میں سیاست پہ تبصرہ کرتے ہیں تو بیان کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ یار لوگوں نے پھر مرزا ودود بیگ سے استفسار کیا کہ آخر وہ لفظ انقلاب سے کیوں بغض رکھتے ہے۔
"آپ انقلاب لا کر کیا کریں گے؟ خرابی تو آپ کے لوگوں میں ہے۔ جب لوگ ہی ٹھیک نہ ہوں گے تو کسی قسم کی سیاسی تبدیلی سے حالات کیا خاک تبدیل ہوں گے؟" مرزا ودود بیگ نے اطمینان سے جواب دیا۔
یہ سن کر ایک نوجوان بھڑک اٹھا، "کس قسم کی فضول باتیں کررہے ہیں آپ؟ آخر کیا کمی ہے ہم لوگوں میں؟ ہم بھلا دنیا میں کس سے پیچھے ہیں؟"
مرزا ودود بیگ بھی کچھ بگڑے۔ کہنے لگے،
"ارے جانے دو صاحبزادے۔ ہگنے موتنے کی تو تمیز ہے نہیں زیادہ تر لوگوں کو۔ انقلاب سے آنے والی کونسی سیاسی تبدیلی لوگوں کو رہنے کا بنیادی قرینہ سکھاءے گی؟ کسی بھی اوپری سیاسی تبدیلی سے ان لوگوں میں تعلیم کیسے بڑھے گی؟ ان کو یہ تمیز کیسے آءے گی کہ صفاءی سے رہنے کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ انقلاب سے راتوں رات انہیں قطار بنانے کا سلیقہ کہاں سے آجاءے گا؟"
ہم سب مرزا ودود بیگ کا منہ دیکھتے رہے۔ بڑے میاں بات تو ٹھیک کررہے تھے۔ اس شام جب دوسرے ساتھی چلے گءے تو میں بہت دیر تک مرزا ودود بیگ کے ساتھ ان کے استدلال کے اول پہلو پہ بات کرتا رہا، یعنی طہارت کے موضوع پہ۔
مرزا ودود بیگ کا کہنا تھا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو جدید بیت الخلا کے استعمال کا طریقہ ہی نہیں آتا۔ انہوں نے مجھ پہ زور دیا کہ میں اس موضوع پہ ایک ویڈیو بناءوں۔ اس ویڈیو کا نام 'طہارت کی تاریخ' رکھوں۔ ان کا کہنا تھا کہ، "بات زمانہ قدیم سے شروع ہو، یعنی ارتقا کی پہلی منزل سے۔ ویڈیو میں دکھایا جاءے کہ بندر کس طرح طہارت کرتے ہیں؟ جواب آسان ہے اور وہ یہ کہ بندر طہارت نہیں کرتے۔ وہ بیٹھ کر فارغ ہوتے ہیں اور فارغ ہونے کے بعد، اپنی صفاءی کیے بغیر، بس اٹھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پہ بہت سے انسان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ تو پہلے مرحلے میں تو آپ کو ان انسان نما جانوروں کو انسان بنانا ہوگا۔ ان کو بتانا ہوگا کہ فارغ ہونے کے بعد اپنی صفاءی کرنا کیوں ضروری ہے۔ یہ بتانا ہوگا کہ طہارت اول خود اپنے لیے فاءدہ مند ہے کہ اگر آپ اپنی صفاءی نہ کریں تو آپ بیمار پڑ سکتے ہیں؛ دوءم، طہارت کی ضرورت اس لیے ہے کہ آپ کے پاس سے بدبو نہ آتی رہے۔
"اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخی طور پہ اپنی صفاءی کرنے کے کونسے طریقے راءج رہے ہیں۔ فارغ ہونے کے بعد اپنے جسم سے غلاظت کو صاف کرنے کے لیے انسان نے اپنے ماحول کے حساب سے طریقے اپناءے ہیں۔ سرد علاقوں میں لوگوں نے پتوں سے صفاءی کا کام لیا۔ گرم علاقوں میں جہاں پانی وافر دستیاب تھا، انسان نے پانی کو طہارت کے لیے استعمال کیا۔ ریگستان میں اور ان جگہوں پہ جہاں پانی بمشکل میسر تھا انسان نے ریت اور پتھروں سے اپنی صفاءی کی۔ قرون وسطی میں یورپ میں عوام صفاءی کے لیے پتے استعمال کرتے تھے اور بادشاہ اور خواص اون کا استعمال کرتے تھے۔ جب چین کی دریافت، کاغذ یورپ پہنچا اور بہت بعد میں بڑے پیمانے پہ بننا شروع ہوا تو سرد علاقوں کے لوگ طہارت کے لیے کاغذ استعمال کرنے لگے۔ چنانچہ آج کی دنیا میں صفاءی کے یہی دو طریقے راءج ہیں، کاغذ سے صفاءی، یا پانی سے صفاءی۔ ظاہر ہے کہ پاکستان میں ہماری تربیت ایسی ہوءی ہے کہ ہمیں پانی سے صفاءی، کاغذی کارواءی سے افضل معلوم دیتی ہے۔"
اپنی بات یہاں تک مکمل کرنے کے بعد مرزا ودود بیگ نے سمجھایا کہ مجھے طہارت سے متعلق اپنے تعلیمی ویڈیو میں بیت الخلا کی تاریخ بھی بتانی ہوگی۔ یہ بتانا ہوگا کہ جدید بیت الخلا ارتقا کے کن مراحل سے گزرا ہے۔ "انگریز کے جنوبی ایشیا آنے سے پہلے ہمارے شہری علاقوں میں کھڈیوں کا رواج تھا۔ یہ کھڈیاں ایک بیت الخلا میں بیرونی دیوار کے ساتھ بنی ہوتی تھیں۔  ان کھڈیوں پہ اکڑوں بیٹھ کر فارغ ہوا جاتا تھا۔ صفاءی کے لیے پانی سے بھرا لوٹا ساتھ رکھا جاتا تھا۔ فارغ ہونے کے بعد لوٹے کو داءیں ہاتھ میں پکڑ کر پانی ٹونٹی سے آہستہ آہستہ ڈالا جاتا تھا اور باءیں ہاتھ سے صفاءی کی جاتی تھی۔ اسی مناسبت سے پانی اور ہاتھ کے اس باہمی عمل کو آبدست کہا جاتا ہے اور صفاءی کا یہ طریقہ آج بھی راءج ہے۔ اچھی طرف صفاءی کرنے کے بعد مزید پانی سے فضلے کو بیرونی دیوار میں موجود سوراخ کے ذریعے دیوار کے دوسری طرف موجود نکاسی کی نالی میں دھکیل دیا جاتا تھا۔ جب اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جنوبی ایشیا پہ اپنا تسلط قاءم کرنا شروع کیا تو نءے دور کا برتن، جسے اب ڈبلیو سی یا واٹر کلوزٹ، کہتے ہیں اپنے ارتقاءی عمل کے اول دور میں تھا۔ مگر صدی بھر میں یہ فرق آیا کہ صنعتی انقلاب نے زور پکڑا؛ پاءپ بڑے پیمانے پہ بننے لگے؛ صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے لیے پاءپ کا استعمال عام ہوا؛ اور بیت الخلا کا برتن ارتقا کے مراحل طے کرتا ہوا وہ روپ اختیارکرگیا جسے فلش ٹاءلٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔"
اس موقع پہ ذرا سا رک کر مرزا ودود بیگ نے مجھ سے سوال کیا کہ میں شمالی امریکہ سے کراچی جانے کے لیے کونسا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ میں نے منمنا کر کہا کہ مشرق یا مغرب جس راستے سے مناسب ٹکٹ مل جاءے، اس راستے سے چلا جاتا ہوں۔ اس پہ بیگ صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ، "آپ نے کبھی اپنے آپ سے سوال کیا کہ لندن سے دبءی کی سات گھنٹے کی پرواز میں تو جہاز کے ٹاءلٹ صحیح کام کرتے ہیں، لیکن جب یہی جہاز دبءی سے کراچی کے لیے روانہ ہوتا ہے تو صرف دو گھنٹے کی اس پرواز کے پہلے آدھے پون گھنٹے ہی میں ہی جہاز کے کءی بیت الخلا کیوں خراب ہوجاتے ہیں؟"
پھر انہوں نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا کہ، "بات یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کو جدید ٹاءلٹ کے استعمال کی تربیت نہیں دی گءی ہے۔ مسافروں میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جو کھڈیوں سے اٹھ کر سیدھا نءے دور کے ٹاءلٹ تک پہنچ گءے ہیں اور انہیں اس جدید مشین کو استعمال کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔"
بیگ صاحب کا کہنا تھا کہ میں اپنے تعلیمی ویڈیو میں بیت الخلا کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ، ناظر کو جدید دور کے ٹاءلٹ کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی بتاءوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ناظر کو پہلا کلیدی نکتہ یہ سمجھایا جاءے کہ آپ کو ٹاءلٹ جس صاف حالت میں ملا ہے، آپ کو اسے استعمال کرنے کے بعد اسی صاف حالت میں یا اس سے بہتر صاف حالت میں اگلے شخص کے استعمال کے لیے چھوڑنا ہے۔
"جدید دور کے بیت الخلا کے کءی لوازمات ہیں۔ اکثر جگہ آپ کو بیت الخلا میں یہ چیزیں ملیں گی:برتن، نشست پوش، صفاءی کاغذ، اور صفاءی برش۔ اکثر جگہ آپ کو صفاءی کے لیے پانی نہیں ملے گا اور پانی کا انتظام آپ کو خود کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے برتن کے متعلق بتاءیے کہ جدید بیت الخلا میں برتن کرسی کی شکل کا ہوتا ہے۔ اس برتن پہ اوپر چڑھ کر نہیں بیٹھنا بلکہ اس طرح بیٹھنا ہے جس طرح کرسی پہ بیٹھا جاتا ہے۔ ممکن ہے آپ کا خیال ہو کہ اس کرسی کی نشست [سیٹ] صاف نہیں ہے۔ سیٹ کو ایک صارف سے دوسرے صارف کے درمیان صاف رکھنے کے لیے عموما نشست پوش [سیٹ کور] مہیا کیے جاتے ہیں۔ اگر کاغذ کے نشست پوش موجود ہیں تو نشست پوش کو نشست پہ بچھاءیے اور پھریوں بیٹھ جاءیے جس طرح کرسی پہ بیٹھا جاتا ہے۔ اگر نشست پوش موجود نہیں ہیں تو صفاءی کاغذ [ٹاءلٹ رول] سے نشست کو صاف کیجیے اور پھر نشست پہ بیٹھیے۔ نشست پہ پاءوں رکھ کر، اوپر چڑھ کر ہرگز نہ بیٹھیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو کءی مساءل پیدا ہوتے ہیں۔ اول، آپ کا پاءوں پھسل سکتا ہے، آپ کو چوٹ آسکتی ہے، اور ہڈی بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ دوءم، اس طرح اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے آپ کی طہارت متاثر ہوسکتی ہے۔ اتنی اونچاءی سے فضلہ گرنے پہ چھینٹے اڑ کر آپ پہ آسکتے ہیں۔ اور سوءم یہ کہ اس طرح اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے آپ نشست کو گندا کر کے اگلے صارف کے لیے مشکل پیدا کریں گے۔
"فارغ ہونے کے بعد پانی سے اپنے آپ کو صاف کیجیے اور احتیاط کیجیے کہ تمام پانی برتن کے اندر ہی گرے، باہر فرش پہ نہ گرے۔ پھر نشست سے اٹھنے کے بعد برتن کو فلش کیجیے۔ فلش کرنے سے برتن میں موجود فضلہ اور گندا پانی خارج ہوجاءے گا اور اس کی جگہ صاف پانی بھر جاءے گا۔ برتن فلش کرنے کے بعد یہ اطمینان کرنا ضروری ہے کہ تمام گندگی برتن سے خارج ہوگءی ہے۔ اگر کسی وجہ سے کچھ گندگی رہ گءی ہے تو برتن کو دوبارہ فلش کیجیے۔ جدید برتن اس طرح بناءے گءے ہیں کہ فلش کرنے پہ جو تازہ پانی برتن کے اندر آتا ہے وہ برتن کی دیواروں کو دھوتا ہوا اندر گرتا ہے اور اس طرح برتن کی دیواروں پہ لگی غلاظت صاف ہوجاتی ہے۔ مگر اس بات کا امکان رہتا ہے کہ آپ کے استعمال کے بعد برتن کی دیواروں پہ لگی تمام غلاظت صاف نہ ہو بلکہ فلش کرنے کے بعد بھی کچھ غلاظت برتن کی دیوار پہ لگی رہ جاءے۔ اس مسءلے سے نمٹنے کے لیے جدید بیت الخلا میں صفاءی برش رکھا جاتا ہے۔ اس برش کو استعمال کرتے ہوءے برتن کو صاف کریں اور پھر فلش کے دوران آنے والے تازہ پانی سے برش کو صاف کرنے کے بعد برش کو واپس اپنی جگہ پہ رکھیں۔ اگر بیت الخلا میں برش موجود نہیں ہے تو صفاءی کاغذ کی مدد سے برتن پہ موجود غلاظت صاف کر کے کاغذ برتن میں ڈال دیں اور پھر فلش کریں۔ صفاءی کاغذ کی جگہ پانی کی دھار سے بھی برتن کی دیوار پہ لگی غلاظت کو صاف کرنے کا کام کیا جاسکتا ہے۔ غرض کہ یہ صفاءی جس طرح بھی کریں بس یہ خیال رہے کہ برتن کو اتنی صاف حالت میں، یا اس سے زیادہ صاف حالت میں، اگلے صارف کے لیے چھوڑیں جس حالت میں وہ آپ کو ملا تھا۔
"برتن کو اپنی، استعمال سے پہلے والی، حالت میں لوٹانے کے بعد آپ کو اپنے ہاتھ صابن سے دھونے ہیں۔
"پھر آپ لوگوں کو یہ بھی بتاءیں کہ وہ پیشاب گاہ [یورینل] میں طہارت کا کاغذ نہ پھینکیں۔ پیشاب گاہ سے کسی ٹھوس شے کی نکاسی نہیں ہوسکتی۔ اگر کاغذ کا استعمال اتنا ضروری سمجھیں تو بہتر طہارت کے ساتھ دوسروں کی سہولت مدنظر رکھتے ہوءے چھوٹی حاجت کے لیے بھی عام بیت الخلا استعمال کریں۔"
میں بہت صبر سے بیگ صاحب کی تقریر سن رہا تھا۔ ان کی گفتگو میں وقفہ آیا تو میں نے پوچھا، "میرے لیے کوءی اور حکم۔"
"حکم کیسا؟ آپ انقلاب کا راستہ تلاش کرنے چلے ہیں تو میں آپ کو انقلابی لوگ تیار کرنے کا راستہ بتا رہا ہوں۔ طہارت کی ویڈیو بنانے کے بعد آپ کو لوگوں کو قطار بنانے کی تعلیم دینے کے لیے بھی ویڈیو بنانا ہے۔ اور اسی طرح کے ایک اور ویڈیو میں آپ کو مرد حضرات کو تعلیم دینی ہے کہ وہ خواتین سے کیسے پیش آءیں۔ یہ تمام تعلیمی ویڈیو صبح و شام پاکستان کے مختلف ٹی وی چینل پہ چلاءی جاءیں۔ جب اس طرح کی عمومی تعلیم معاشرے میں پھیلے گی تو انقلاب کی راہ خود بخود ہموار ہو گی۔"



This page is powered by Blogger. Isn't yours?