Monday, October 06, 2014

 

دسواں سالانہ این ای ڈی المناءی کنوینشن






اکتوبر چار،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو نو


پاکستان کے وہ کالج اور جامعات جو کسی مخصوص شعبے میں چار سالہ پروگرام کراتے ہیں اپنا جدا مزاج رکھتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں وساءل کی فراوانی کی وجہ سے طلبا کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی اور آسانی کے حساب سے مختلف کلاسیں لے سکیں۔ پاکستانی کالجوں میں ایسی سہولت نہیں ہوتی اور کسی ایک سال میں کالج میں داخلہ لینے والے طلبا اگلے چار سال تک ایک ساتھ کلاسیں لیتے ہیں۔ چار سال بڑی مدت ہوتی ہے۔ اگر ملک کے سیاسی حالات خراب ہوں یا ملک حالت جنگ میں ہو تو کالج میں گزارے جانے والے یہ چار سال، پانچ اور چھ سال بھی بن جاتے ہیں۔ جب طلبا اتنا عرصہ ساتھ رہتے ہیں تو ان کے درمیان دوستی کے جو بندھن قاءم ہوتے ہیں وہ ساری زندگی کا ساتھ بن جاتے ہیں۔
یہ کہانی اس لڑکے کی ہے جو اٹھارہ سال کی عمر میں کراچی کی جامعہ این ای ڈی پہنچا تھا۔ وہ لڑکا پڑھنا تو تاریخ اور فلسفہ چاہتا تھا مگر بزرگوں نے مشورہ دیا تھا کہ تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ تو غیرنصابی شکل میں بھی کیا جا سکتا ہے؛ اسےایسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جس سے روٹی کمانا آسان ہوجاءے۔ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے لوگ بہت حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ مشورہ صاءب تھا۔۔ اگر اس لڑکے نے تاریخ، فلسفہ، اور عمرانیات میں سند حاصل کی ہوتی تو زندگی یوں مشکل ہوسکتی تھی کہ روز چکی کی مشقت میں اتنا وقت نکل جاتا کہ ذہنی نشونما کے راستے محدود ہوسکتے تھے۔
جامعہ این ای ڈی اس لڑکے کے لیے نامانوس جگہ نہ تھی کہ جب وہ ڈی جے کالج میں پڑھتا تھا تو تقریری مقابلوں میں شرکت کرنے یا انہیں سننے کے لیے کءی بار این ای ڈی گیا تھا۔ جب اس لڑکے کا داخلہ جامعہ این ای ڈی میں ہوا تو بہت سے لڑکے جو ڈی جے کالج میں اس کے ہم جماعت تھے اب این ای ڈی میں بھی اس کے ساتھ موجود تھے۔
سنہ اکیاسی کی جامعہ این ای ڈی ایک دلچسپ جگہ تھی۔ وہاں بہت چھوٹے پیمانے پہ، طلبا سیاست میں، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری سردجنگ کے مضمرات دیکھے جاسکتے تھے۔ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام کے درمیان یہ کشمکش پاکستان کے دیگر کالجوں اور جامعات میں بھی جاری تھی۔ سنہ اکیاسی میں این ای ڈی کی طلبا سیاست میں ترقی پسند طلبا کا ٹولہ حاوی تھا۔  این ای ڈی کے مقابلے میں جامعہ کراچی پہ داءیں بازو کی طلبا تنظیموں کا قبضہ تھا۔ جب یہ لڑکا بارہویں جماعت میں تھا تو حسین حقانی نامی ایک شعلہ بیاں مقرر جامعہ کراچی کی طلبا یونین کا صدر منتخب ہوا تھا۔ حسین حقانی سے پہلے شفی نقی جامعی جامعہ کراچی طلبا یونین کے صدر رہے تھے۔
یہ وقت افغان 'جہاد' کی شروعات کا دور تھا۔ سوویت یونین کو افغان جہاد کے ذریعے ناکوں چنے چبوانے کے منصوبے پہ عملدرآمد کی وجہ سے پاکستان میں جنرل ضیاالحق کا اقتدار پہ قبضہ مضبوط ہوچکا تھا۔ اشتراکی ممالک کا منڈی کے میدان میں سرمایہ داری نظام رکھنے والے ممالک سے مقابلہ کرنا مشکل تھا۔ سوویت یونین نے کراچی کے قریب اسٹیل مل کی تعمیر میں مدد سے پاکستان کو رام کرنے کی کوشش کی تھی مگر مغربی دنیا کے پاس رشوت دینے کے لیے زیادہ بڑا مال تھا۔ سرد جنگ کے دوران بھی دنیا میں روبل نہیں ڈالر چلتا تھا۔
واپس سنہ اکیاسی کی این ای ڈی کی طرف آتے ہیں۔ جس وقت یہ لڑکا این ای ڈی پہنچا، اس وقت راشد علی بیگ این ای ڈی طبا یونین کے صدر تھے، امان اللہ حنیف ان کے سیکریٹیری جنرل تھے۔ اس سے پہلے فرحت عادل یونین کے  صدر اور محمد حسین جنرل سیکریٹیری رہے تھے۔ محمد حسین بلا کے مقرر تھے۔ اس لڑکے کے این ای ڈی میں داخل ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی طلبا یوین کے انتخابات ہوءے۔ جمعیت طلبا اسلام کے دو طلبا قاءدین، الطاف شکور اور مسعود محمود این ای ڈی میں بہت مقبول تھے۔ یہ دونوں بالترتیب صدر اور جنرل سیکریٹیری منتخب ہوءے۔ نیچے کے تمام عہدوں پہ، ماسواءے ایک کے، پی ایس ایف کے نماءندے منتخب ہوءے۔ یہ وہ دن تھا جب کسی بات پہ طلبا گروہوں میں گرما گرمی ہوءی اور خوب گولیاں چلیں۔
آج تینتیس سال بعد یہ ساری باتیں خواب لگتی ہیں۔ این ای ڈی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ایک بہت بڑی تعداد اب شمالی  امریکہ میں رہتی ہے۔ دس سال پہلے معین خان اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی روایت کی بنیاد رکھی جو وقت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اور وہ روایت سال میں ایک بار این ای ڈی المناءی کنوینشن کا انعقاد ہے۔ ہر سال یہ کنوینشن شمالی امریکہ کے کسی نءے شہر میں ہوتا ہے۔ سنہ ۲۰۱۴ کا کنوینشن شمالی کیلی فورنیا میں ہورہا ہے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے این ای ڈی کے سابق طلبا نوارک کے ڈبل ٹری باءی ہلٹن ہوٹل میں ٹہریں گے اور تینوں دن، یعنی جمعہ، اکتوبر دس سے اتوار، اکتوبر بارہ تک کے، تمام پروگرام ہلٹن ہوٹل کے سامنے واقع چاندنی ریستوراں میں ہوں گے۔
ہرسال ہونے والا یہ المناءی کنوینشن این ای ڈی کے سابق طلبا کے لیے بہت جذباتی موقع ہوتا ہے۔ لوگ پرانے دوستوں سے گلے ملتے ہیں اور این ای ڈی میں گزارے گءے اپنے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں۔ ان لطیفوں اور چٹکلوں پہ قہقہے لگاتے ہیں جو بہت دفعہ مزے لے لے کر سناءے جا چکے ہیں، جن پہ بہت بار ہنسا جاچکا ہے، مگر جو ہمیشہ سدابہار رہتے ہیں۔
کہنے کو تو این ای ڈی المناءی کنوینشن، این ای ڈی کے سابق طلبا کو دوبارہ سے ایک دوسرے سے ملانے کا بہانہ ہے مگر اصل میں اس کنوینشن سے ملحق کانفرینس ہر خاص و عام کے لیے کھلی ہوتی ہے اور اس پروگرام میں این ای ڈی کے سابق طلبا کے علاوہ بھی بہت سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس سالانہ پروگرام کا سب سے قابل ذکر حصہ سنیچر کی رات کا کھانا اور میوزک پروگرام ہوتا ہے۔ اس سال سنیچر کے پروگرام میں دو مشہور گانے والے، جواد احمد اور شجاعت علی خان، اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
این ای ڈی المناءی کنوینشن کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درج ذیل ویب ساءٹ ملاحظہ فرماءیے:



 

نیلم احمد بشیر اور 'وحشت ہی سہی'






ستمبر اٹھاءیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو آٹھ


ادب زبان کے ایک خاص نشے کا نام ہے۔ اچھا ادب پڑھ کر، سن کر ایک خاص قسم کا خمار ذہن پہ چڑھتا ہے۔ میں ایسے ہی مخمور ذہن کے ساتھ آج کی اردو اکیڈمی کی محفل سے پلٹا ہوں۔ اس محفل کی مہمان خاص مشہور افسانہ نگار نیلم احمد بشیر صاحبہ تھیں۔  نیلم احمد بشیر موجودہ عہد میں اردو افسانے کا ایک بڑا نام ہے۔

نیلم احمد بشیر کے افسانوں کے لیے بعض ناقدین نے 'چونکا دینے والی کہانی' کا کلمہ استعمال کیا ہے۔ نیلم احمد بشیر کے افسانے ان لوگوں کے لیے چونکا دینے والے ہیں جو غفلت کا شکار ہیں، جنہوں نے جان بوجھ کر اپنی آنکھوں پہ فرسودہ اخلاقی اقدار کے پردے چڑھاءے ہوءے ہیں۔ نیلم احمد بشیر کے افسانے نءے دور کی کہانیاں ہیں۔ یہ اس دور کی کہانیاں ہیں جس میں تمام انسانی حاجات بے دھڑک زیر بحث آتی ہیں۔
نیلم احمد بشیر کی فن کہانی کو سمجھنے کے لیے اس افسانہ نگار کے اجزاءے ترکیبی کو سمجھنا ہوگا۔ اس سفر کا سب سے اول جز ایک ایسا بچپن ہے جہاں اپنے وقت کے بڑے بڑے قلمکار آس پاس نظر آتے ہیں، جہاں ادب کی کتابیں باآسانی دستیاب ہیں اور خوب مطالعے میں ہیں۔ پھر اس سفر کی اگلی منزل نیلم احمد بشیر کا شادی کے بعد باءیس سال کی عمر میں امریکہ آنا اور یہاں چودہ سال رہنا ہے۔ اس مدت میں کہانی نویس مغربی دنیا اور تہذیب کا بغور مطالعہ اور اپنے تمدن سے مستقل موازنہ کرتا ہے۔ پھر ایک اور جز امریکہ سے واپس جا کر پاکستان میں رہنے کا تجربہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں رہنے کا تجربہ جو پے درپے ناکام حکومتوں کے عتاب سے مستقل تنزلی کی طرف ماءل ہے۔ پھر سفر کی اگلی منزل نوگیارہ کی دہشت گردی کے واقعات اور اس کے ردعمل میں آنے والی عالمی تبدیلیاں ہیں۔ یہ وہ تمام تجربات اور مشاہدات ہیں جن سے نیلم احمد بشیر کا جمالیاتی حس بنا ہے اور یہی وہ ملغوبہ ہے جس سے ان کی تمام کہانیاں کشید ہوءی ہیں۔
نیلم احمد بشیر پچھلے چالیس سالوں سے لکھ رہی ہیں۔ ان کی افسانہ نویسی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول، ابتدا، جب ایک بیس اکیس سال کی لڑکی کہانیاں لکھنا شروع کرتی ہے اور اپنی نگارشات کو اساتذہ ادب کے سامنے پیش کرتی ہے۔ دور دوءم، جس میں قلم رک گیا ہے اور کہانی نویس کے سامنے ایک ساتھ ہزاروں ایسی کہانیاں آگءی ہیں جن کو افسانہ نگار اپنے احساس میں جذب کررہا ہے۔ اور پھر تیسرا دور جو اول اور دوءم دورکی ارتقاءی منزل ہے کہ جب کہانی نویس گھریلو ذمہ داریوں سے نسبتا آزاد ہے اور اسکا قلم بے تکان چل رہا ہے۔ ہم اس وقت نیلم احمد بشیر کے فن کے اسی تیسرے دور سے بہرہ مند ہورہے ہیں۔
یوں تو نیلم احمد بشیر نے کءی کتابیں لکھی ہیں؛ گلابوں والی گلی، جگنوءوں کے قافلے؛ لے سانس بھی، ستمگر ستمبر؛ ایک تھی ملکہ؛ اور چار چاند؛ مگر اردو اکیڈمی کی ستمبر محفل بالخصوص نیلم احمد بشیر کی تازہ کتاب 'وحشت ہی سہی' کی تقریب تعارف تھی۔
اس تقریب تعارف کا آغاز اردو اکیڈمی کے بانی اور روح رواں تاشی ظہیر صاحب نے نیلم احمد بشیر کے فن اور شخصیت پہ لکھے گءے ایک مختصر مضمون سے کیا۔ سان فرانسسکو بے ایریا کی جانی پہچانی کہانی نویس مریم تراب اور ماضی کی ٹی وی اداکارہ صحاب ہمدانی نے وحشت ہی سہی کی بعض کہانیوں پہ اپنے تبصرے پیش کیے۔
نیلم احمد بشیر کی کہانیاں پڑھنے والا نیلم احمد بشیر کی صاف گوءی سے متاثر ہوءے بغیر نہیں رہ سکتا۔ نیلم احمد بشیر نہایت سچاءی سے ان تمام حقیقتوں کو کہانیوں کے روپ میں بیان کردیتی ہیں جو ان کو اپنے آس پاس نظر آتی ہیں۔
نیلم احمد بشیر کے افسانے جدید دور کے افسانے ہیں۔ یہ افسانے ان روایتی کہانیوں سے جدا ہیں جن میں کہانی اپنے کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہے۔ روایتی کہانیوں کا اختتام یوں ہوتا ہے کہ شہزادے اور شہزادی کی شادی ہوجاتی ہے اور رعایا ہنسی خوشی رہنے لگتی ہے، یا ایک سیلابی ریلا آتا ہے اور سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ نیلم احمد بشیر کی کہانی نویسی کسی ایک قوی مشاہدے کو تخیل کا تڑکا لگا کر قصے کا لبادہ اوڑھانے سے عبارت ہے۔ کہانی نویسی کے اس انداز کو نیلم احمد بشیر کے افسانے 'اندر کا رنگ' پڑھ کر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس افسانے میں کرنل سبحان اپنے اردلی کو مستقل ڈانٹتے ڈپٹتے رہتے ہیں۔ جب اردلی بازار سے تربوز لاتا ہے اور تربوز کاٹنے پہ اندر سے لال نہیں نکلتا تو کرنل سبحان اردلی کو سخت سست کہتے ہیں جس پہ کرنل سبحان کی بیوی بہت کڑھتی ہیں۔ یہ تربوز اندر سے لال نہ نکلنے والا واقعہ کءی بار ہوتا ہے اور ایک دن اردلی غصے میں چھری کرنل سبحان کے پیٹ میں گھونپ دیتا ہے۔ "کیوں کرنل صاحب، تربوز کو اتنا لال ہونا چاہیے۔۔۔بتاءیے کرنل صاحب۔ اندر کا یہ رنگ ٹھیک ہے نا؟" اردلی ہذیانی کیفیت میں چیختا جاتا ہے اور وار کرتا جاتا ہے۔ کہانی یہیں ختم ہوجاتی ہے۔
اسی افسانے میں ایک جگہ کرنل سبحان کی بیوی کا دل جوان اردلی پہ آیا تھا اور قاری کو بعد میں بتایا جاتا ہے کہ کرنل سبحان کی بیوی کا نام زلیخہ اور اردلی کا نام یوسف ہے مگر یہ قاری کا کام ہے کہ وہ اس کہانی کا منطقی انجام تلاش کرنے کی کوشش کرے کہ آیا اردلی کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد کرنل سبحان کو زلیخہ اور یوسف نے مل کر وہیں گھر کے پچھواڑے میں دفن کردیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے، یا اردلی کو پولیس پکڑ کر لے گءی۔
سچاءی اور آزاد خیالی جو نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں جگہ جگہ نظر آتی ہے اس کی مثال 'عشق کی ایک جست' نامی افسانے میں صاف نظر آتی ہے۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولاءینا کی مسلمان طالبات اپنے طور پہ مذہبی روایات اور جدید دور کے تقاضوں کی گتھی سلجھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایک مسلمان عالمہ ان کو بتاتی ہے کہ عشق ایک وقتی جذبے کا نام ہے، مرد اور عورت کے درمیان شادی زیادہ مضبوط بندھن ہے۔ مگر پھر یہ لڑکیاں 'سیونگ فیس' نامی ڈاکیومینٹری دیکھتی ہیں جس میں شوہر اپنی بیویوں کے منہ پہ تیزاب ڈال رہے ہیں، اور ساتھ ہی کولوراڈو کے ایک سینما ہال میں قتل و غارت گری کا وہ واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک مسلح ذہنی مریض ایک سینما ہال میں داخل ہو کر لوگوں پہ گولیاں برسانا شروع کرتا ہے۔ فلم بینوں میں کءی جوڑے ہیں۔ ان میں سے کءی مرد چھلانگ لگا کر اپنی محبوبہ کے سامنے آ جاتے ہیں تاکہ ان کی محبوبہ گولیوں کی زد سے محفوظ رہے اور اس عمل میں  یہ نوجوان اپنی جان دے دیتے ہیں۔ عشق کی اسی جست کو دیکھ کر یہ طالبات ایک فکری جست میں عشق اور شادی کی حقیقتیں سمجھ جاتی ہیں۔
وحشت ہی سہی کا ایک افسانہ 'حاجت روا' بھی ایسی ہی کہانی ہے جو آپ کو زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرے گی۔ ایک حاجی صاحب اپنے لنگر سے غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں، اور ان ہی غریبوں میں ہیجڑے بھی شامل ہیں۔ حاجی صاحب ایک اور حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں اور وہیں انتقال کرجاتے ہیں۔ ان کے انتقال پہ سوگ کا اعلان ہوتا ہے اور ہیجڑے بھی سوگ میں ناچنا بند کردیتے ہیں۔ مگر پھر کچھ ہی دن میں پیٹ پالنے کے لیے ناچنا گانا پھر شروع ہوجاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ حاجی صاحب حج پہ روانہ ہونے سے پہلے اپنے پسندیدہ ہیجڑے الماس کو سلیکون کی چھاتیاں لگوا گءے تھے۔
نیلم احمد بشیر کی کہانیوں میں آپ اکثر ایسے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جو آپ کو اپنے آس پاس نظر آءیں گے۔ امریکہ میں رہنے والوں کے لیے نیلم احمد بشیر کا افسانہ، 'کھڑکی کا منظر' ایک ایسا ہی افسانہ ہے۔ قدیر اور شہناز ریاست نیویارک میں رہتے ہیں اور بہت محنت سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے علاقے میں ایک بڑا گھر لے لیا ہے، مگر اپنی اپنی نوکریوں میں مصروفیت کی وجہ سے انہیں گھر کے کام کاج کا وقت نہیں ملتا۔ پھر بہت کوشش سے قدیر کی ماں ان کے پاس امریکہ آجاتی ہے۔ اب ماں گھر کی صفاءی ستھراءی کا کام کرتی ہے اور کھانے بناتی ہے۔ اماں گھر کے کام کاج مکمل کر کے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہیں جہاں انہیں اکثر ایک بوڑھا نظر آتا ہے جو اپنے گھر سے صرف ڈاک لینے اور کوڑا باہر پھینکنے کے لیے نکلتا ہے۔ ایک دن وہ بوڑھا سڑک پہ گرجاتا ہے۔ اماں گھر سے باہر نکل کر بوڑھے کی مدد کے لیے دوڑتی ہیں۔ گھر کا دروازہ کھلنے پہ گھر کا الارم بول اٹھتا ہے؛ پولیس آجاتی ہے۔ شام کو قدیر اور شہناز اماں سے گھر کا الارم بجنے اور پولیس کے آنے پہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔
نیلم احمد بشیر کمال کی مزاح نگار بھی ہیں۔ سب سے اعلی پاءے کے مزاح نگار وہ ہوتے ہیں جو قاری کو اپنے آپ یعنی مزاح نگار پہ ہنساتے ہیں۔ نیلم احمد بشیر کی اعلی مزاح نگاری کا ایسا ہی ایک نمونہ چار چاند نامی کتاب میں 'تھوڑا سا گلہ بھی' کے عنوان سے ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر آپ ہنس ہنس کر دہرے نہ ہوجاءیں تو سمجھ جاءیے گا کہ آپ حس لطیف سے محروم ہیں۔
نیلم احمد بشیر کے تعارف میں اکثر بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق فلاں خاندان سے ہے یا یہ کہ نیلم احمد بشیر فلاں کی بہن ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نیلم احمد بشیر کو اپنی شناخت کے لیے ایسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ نیلم احمد بشیر کی شناخت ان کا قلم ہے۔ وہ اپنے مضبوط قلم اور جدا اسلوب کے سہارے بہت اونچاءی پہ کھڑی ہیں۔
اردو اکیڈمی کی ستمبر اٹھاءیس کی محفل میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ شریک ہوءے۔ اس محفل کی آڈیو ریکارڈنگ یہاں ملاحظہ کیجیے۔




 

شکیل اوج اور ہوان کارلوس





ستمبر اکیس،  دو ہزار چودہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار دو سو سات



اعتقاد اور ساءنس میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اعتقاد میں سوال کرنے کی گنجاءش نہیں ہوتی۔ جو بتایا جا رہا ہے اس کو چپ چاپ مانو۔ اعتقاد کے مقابلے میں ساءنس انسانی نفسیات سے قریب تر ہے۔ انسان کا ذہن آزاد ہے۔ ذہن میں کبھی ایک خیال آتا ہے اور کبھی دوسرا۔ ذہن پرانے، مانے گءے اعتقادات پہ بھی سوال کرتا ہے۔ یہ انسان کا چوکڑیاں مارتا ذہن ہے جو کسی بھی مذہب میں مختلف مکتبہ فکر پیدا کرتا ہے۔ آگے چل کر یہی مکاتب فکر جدا فرقے بناتے ہیں اور پھر ان فرقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ فرقے کی بنیاد میں موجود اصل آزاد خیالی سے انحراف کرتے ہوءے سخت تقلید اور اعتقاد کا راستہ اپناتے ہیں۔
 مدرسوں میں اعتقادات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں سوال کرنے کی آزادی نہیں ہوتی۔ جدید دور کی جامعات میں ساءنسی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تعلیم میں کوءی اعتقاد، کوءی مذہب، کوءی خدا، کوءی پیغمبر سوال کی پہنچ سے باہر نہیں خیال کیا جاتا۔ چند روز قبل جامعہ کراچی کے پروفیسر شکیل اوج کا قتل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جہاں پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے اور آزادی راءے کی جگہ تنگ ہورہی ہے وہیں ہر جامعہ کو مدرسہ بنانے کی کوششیں بھی  جاری ہیں۔ اس ناگفتہ بہ صورتحال میں اصلاح کی صورت یوں نظر نہیں آتی کہ معاشرے کے زیادہ تر لوگ اعتقاد پسند ہیں اور فتنہ پرور مذہبی راہ نماءوں کی اخلاقی قیادت تسلیم کرتے ہیں۔ معاشرے کے بہت سے لوگ نہایت اطمینان سے ان 'مذہبی علما' کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں جو اپنے سے اختلاف راءے رکھنے والوں پہ واجب القتل ہونے کے فتوے جاری کرتے ہیں اور معاشرے میں فساد کا اصل منبع ہیں۔
اب کراچی پہ کتنا دل خراب کیجیے۔ کچھ پرانی باتیں ہوجاءیں۔
ہوان کارلوس کو دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ اگر ہوان مجھے انڈونیشیا یا ملاءیشیا کے کسی بازار میں نظر آتا تو میں ذرہ برابر بھی یہ خیال نہ کرتا کہ ہوان کوءی مقامی نہ تھا بلکہ اس کا تعلق جنوبی امریکہ کے ملک پے رو سے تھا۔ میں پے رو کے شہر پونو کے جس ہوٹل میں ٹہرا ہوا تھا اس کا انتظام ہوان کارلوس اور اس کا خاندان چلاتا تھا۔
انسان کی افریقہ سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل جانے کی کہانی اب محض ایک ساءنسی تھیوری نہیں رہی بلکہ مضبوط فوسل ریکارڈ کی بنیاد پہ کھڑی ہوکر اب یہ ایک مستند تاریخ بن گءی ہے۔ جب تک انسان اس دنیا میں نمودار ہوا برا عظم شمالی اور جنوبی امریکہ  افریقہ سے ٹوٹ کر دور جا چکے تھے۔ انسان افریقہ سے نکلا اور شکار کی تلاش میں مستقل آگے بڑھتا بڑھتا ہزاروں سال میں یورپ اور ایشیا کے دور دراز علاقوں میں پہنچ گیا۔ قریبا چالیس ہزار سال پہلے کے برفانی دور میں سمندروں کی سطح کم ہوگءی تھی اور قطبین پہ برف کے تودے بڑھ گءے تھے۔ روسی علاقے ساءبیریا اور امریکی ریاست الاسکا کے بیچ میں آج جو آبناءے  بیرنگ ہے اس میں پانی نہ ہونے کے برابر تھا اور آپ ساءبیریا سے پیدل چلتے ہوءے الاسکا پہنچ سکتے تھے۔ چالیس ہزار سال پہلے کا انسان اسی زمینی راستے سے چلتا ہوا ایشیا سے شمالی امریکہ پہنچا تھا۔ یہ زمینی راستہ کءی ہزار سال کھلا رہا مگر برفانی دور ختم ہونے پہ زیرآب آگیا۔ اس موقع پہ امریکین [شمالی اور جنوبی امریکہ] کا انسان ایشیا-افریقہ-یورپ کے انسان سے کٹ گیا۔ کولمبس کی دریافت سے پہلے اگر پرانی دنیا کے لوگوں کا کوءی واسطہ 'نءی دنیا' سے پڑا تو وہ منظم اور باقاعدہ نہ تھا۔ مثلا کہا جاتا ہے کہ موجودہ گرین لینڈ سے لوگ شمالی امریکہ آءے، یا پولینیشیا جزاءر سے لوگوں کا جانا جنوبی امریکہ ہوا تھا مگر قوی قیاس یہی ہے کہ اگر پرانی دنیا سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کا رابطہ امریکین کے لوگوں سے ہوا تو ایسا محض حادثاتی تھا۔

انسان کے بستیوں کی صورت میں بس جانے کے بعد پرانی دنیا میں مضبوط تجارتی راستے قاءم ہوگءے تھے، جن کی وجہ سے خیالات اور ٹیکنالوجی پرانی دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے تھے۔ پرانی دنیا اور امریکین کے درمیان ایسے کوءی تجارتی راستے نہ تھے۔ چنانچہ قریبا دس ہزار پہلے موجودہ انڈونیشیا میں مرغی کو سدھانے کے بعد مرغ بانی کی ٹیکنالوجی رفتہ رفتہ پورے ایشیا اور پھر یورپ اور افریقہ میں پھیل گءی۔ مگر یہ فن امریکین نہ پہنچ پایا۔ چنانچہ پرانی دنیا میں تو پچھلے آٹھ دس ہزار سال سے لوگ صبح کے ناشتے میں انڈے کھاتے ہیں مگر امریکین میں یہ کھاجا نیا ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گءی۔ بات ہورہی تھی ہوان کارلوس اور اس کے چینی نقوش کی۔ ہوان کارلوس کو دیکھ کر یہ خیال آتا تھا کہ آخر چین کی مٹی میں ایسی کیا خاصیت ہے کہ وہاں سے بیس تیس ہزار سال پہلے آنے کے باوجود آج بھی اس مٹی کا اثر امریکین کے مقامی باشندوں کی شکلوں میں نظر آتا ہے۔

پونو سے کچھ ہی فاصلے پہ سیوستانی کھنڈرات ہیں جو ایمارا تہذیب کی نشانی ہیں۔ سیوستانی کھنڈرات دراصل قبرستان ہیں، ایک ایسا قبرستان جس میں مردے کو ایک مینار میں اس حالت میں اتارا جاتا تھا جس شکل میں بچہ بطن مادر میں ہوتا ہے، یعنی دونوں گھٹنے پیٹ سے لگے ہوءے اور سر آگے کی طرف جھکا ہوا۔ ایمارا لوگ مردے کو اس پیش ولادت شکل میں اس لیے 'دفن' کرتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ مردہ موت کے بعد ایک اور دنیا میں پیدا ہوگا۔ ایمارا کے اعتقاد میں تین طرح کی دنیاءیں ہوتی ہیں۔ ایک تاریک دنیا جس میں انسان پیداءش سے پہلے موجود ہوتا ہے۔ ایک یہ دنیا جس میں آپ اور میں چل پھر رہے ہیں اور ایمارا کے اعتقادات کی بات کررہے ہیں۔ اور تیسری آسمانی دنیا جس میں انسان اس زندگی سے گزر جانے کے بعد پہنچتا ہے۔

سیوستانی جانے والی جس ٹور بس نے ہمیں ہوٹل پاچا سے اٹھایا وہ کافی دیر تک شہر میں چکر لگا کر مسافروں کو جمع کرتی رہی۔ ہم نے ہوان کارلوس سے مول تول کر کے سیوستانی ٹور کی قیمت طے کی تھی۔ بس میں بیٹھے ہم یہ سوچ رہے تھے کہ  بس کے دوسرے مسافر نہ جانے اس ٹور کی کیا قیمت دے رہے تھے۔ جب بس سیوستانی جانے والے مسافر جمع کرچکی تو اس نے کھنڈرات کے راستے میں ایک ایسے گاءڈ کو اٹھایا جو مختلف زبانیں جانتا تھا۔ اس گٹھے قد کے گاءڈ نے پہلے ہسپانوی میں ایک چھوٹی سی تقریر کی اور پھر انگریزی میں اس کا ترجمہ کیا۔ 'سیاحوں کو اس سے زیادہ تنگ نہیں کرنا چاہیے، اس لیے اب میں خاموش ہوجاتا ہوں تاکہ کھنڈرات پہنچنے کا آپ لوگ قیلولہ کرسکیں،' اس نے سیاحوں سے مذاق کیا اور پھر اپنے ہی مذاق پہ خوب ہنسا۔ کچھ لوگ اس کی دل جمعی میں اس کے ساتھ ہلکا سا ہنسے۔
سورج آسمان میں چڑھا ہوا تھا اور جن لوگوں نے صبح کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے جیکٹ پہنی تھی، اب ان جیکٹوں کو آگے سے کھول لیا تھا۔ بس پونو سے نکل کر اونچاءی پہ چڑھی تو جھیل تیتیکاکا کے مغربی حصے کا منظر نظروں کے سامنے آگیا۔ ہم کچھ دور اس ہاءی وے پہ چلے جس پہ چلتے ہوءے ایک روز پہلے پونو پہنچے تھے اور پھر مشرق کی طرف مڑ گءے۔ اب آبادی خال خال نظر آتی تھی۔ کوءی گھر سڑک کے قریب نظر آتا تو ہم اس کا حتی الامکان معاءنہ کرکے لوگوں کا رہن سہن دیکھنے کی کوشش کرتے۔ یورپیوں کے آنے سے پہلے مقامی لوگ یاما نامی جانور کی گلہ بانی کرنے تھے۔ سیوستانی جاتے ہوءے ہمیں بہت سے گھروں میں پالتو یاما نظر آءے۔


This page is powered by Blogger. Isn't yours?