Monday, May 13, 2013
انتخابات کے بعد
مءی تیرہ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو سینتیس
انتخابات کے بعد
گیارہ مءی کو گزرے آج دوسرا روز
ہے۔ گیارہ مءی کی رات جہاں ایک طرف انتخابات کے نتاءج سامنے آءے وہیں دوسری طرف سوشل
میڈیا پہ دھاندلی کی ویڈیو بھی آنا شروع ہوگءیں۔ ان ویڈیو میں لوگوں کو بیلٹ پیپر
کے تھدے بیلٹ باکس میں ٹھونستے دکھایا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ بیلٹ پیپر کے ان
تھدوں پہ کس کو ووٹ دیا گیا ہے۔ کءی انتخابی حلقوں سے یہ شکایت سننے میں آءی ہے کہ
ایک شخص جب شام کو ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے نام سے تو
ووٹ پہلے ہی پڑ چکا ہے۔
یقینا ہر دفعہ انتخابات میں اس قسم
کی دھاندلی ہوتی ہوگی مگر اب فرق یہ ہے کہ ہر شخص کے ہاتھ میں ایک فون ہے جس سے
تصویر لی جا سکتی ہے یا ویڈیو بناءی جا سکتی ہے چنانچہ اب صرف دھاندلی کا الزام ہی
سننے میں نہیں آتا بلکہ ساتھ ہی اس کی ویڈیو بھی دکھاءی جاتی ہے۔
دھاندلی کے سلسلے میں ایم کیو ایم
پہ الزام ہے کہ اس نے کراچی میں خوب دھاندلی کی؛ پنجاب میں دھاندلی کی ایسی ہی
شکایات مسلم لیگ نواز شریف سے ہیں۔ دھاندلی کا الزام لگانے والوں میں تحریک انصاف
اور جماعت اسلامی آگے آگے ہیں۔ مگر صرف دھاندلی کا الزام لگانا کافی نہیں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جاءیں۔ سب سے موثر شواہد
ان ووٹروں کے سلسلے میں ہو سکتے ہیں جو انتخابات کے وقت ملک میں موجود نہیں تھے۔
اگر کسی بھی حلقے میں سو، دو سو ایسے لوگوں کی فہرست بناءی جا سکے جو مءی گیارہ کو
پاکستان میں موجود نہیں تھے مگر اس کے باوجود ان کے نام سے ووٹ ڈالے گءے ہیں تو یہ
شواہد دھاندلی کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو قاءل کرنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتے
ہیں۔
عمران خان ایک عرصے سے اپنے چاہنے
والوں کو ایسی سونامی کی نوید سنا رہے تھے جو شمال سے جنوب تک پورے ملک کو بہا کر
لے جاءے گی۔ اکثر مبصرین کو عمران خان کی اس پیش گوءی سے اختلاف تھا۔ انتخابات کے
نتاءج نے ثابت کیا کہ عمران خان غلط تھے اور مبصرین صحیح تھے۔ سونامی اوپر سے بہہ
کر نیچے تک نہیں آءی مگر خیبر پختوان خواہ میں ضرور آگءی۔ اگر دوسری جماعتیں خیبر
پختوان خواہ کے نو منتخب شدہ آزاد اراکین اسمبلی کو خریدنے میں ناکام رہیں تو
تحریک انصاف اس صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاءے گی۔ اور اس صورت میں عمران
خان کا اصل امتحان شروع ہوگا۔ ان پہ زور ہوگا کہ وہ امریکہ کی جنگ سے فوری طور پہ
علیحدگی اختیار کریں۔ یوں تو نواز شریف جن لوگوں کو ساتھ ملا کر انتخابات جیتے ہیں
ان کی طرف سے مسلم لیگ پر بھی ایسا ہی زور ہوگا مگر کیونکہ جنگ خیبر پختون خواہ
میں لڑی جا رہی ہے اس لیے اس جنگ کو رکوانے کے سلسلے میں عمران خان پہ زیادہ زور
ہوگا۔ ایسی صورت میں محاذ آراءی کی ایک کیفیت پیدا ہوسکتی ہے جس میں ایک صوبہ وفاق
سے یا پاکستانی فوج سے متصادم ہوگا۔ ایسی محاذ آراءی میں تحریک انصاف کو سیاسی
فاءدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ وقت ہی بتاءے گا کہ آیا تحریک انصاف محاذ آراءی کی
سیاست کرے گی یا خیبر پختوان خواہ کی معاشی حالت بہتر کر کے اپنی کارکردگی پورے
ملک کو جتلاءے گی۔
Tuesday, May 07, 2013
جمہوریت یا خلافت
مءی چھ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چھتیس
جمہوریت یا خلافت
جیسے جیسے پاکستان کے تاریخی انتخابات قریب آرہے
ہیں ویسے ویسے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہور رہا ہے۔ جہاں ایک طرف
تحریک طالبان پاکستان اے این پی اور ایم
کیو ایم کے دفاتر اور امیدواروں پہ حملے کر کے برملا ان وارداتوں کی ذمہ داری قبول
کر رہی ہے وہیں دوسری طرف مذہبی عناصر کی طرف سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا جارہا ہے کہ
جمہوریت ایک مغربی انداز حکومت ہے؛ جمہوریت نے مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا اور
مسلمانوں کا اصل نظام حکومت خلافت ہونا چاہیے۔ عام حالات میں آپ اس احمقانہ منطق کو
ہنس کر ٹال سکتے تھے مگر کیا کیجیے کہ ہوا کچھ یوں چل رہی ہے کہ بعض بظاہر پڑھے
لکھے نظر آنے والے افراد بھی اس پروپیگنڈے کو ذہنی طور پہ قبول کررہے ہیں۔ چنانچہ اس
دلیل ناتواں کا سنجیدگی سے جواب دینا ضروری ہوگیا ہے۔
اگر بعض مسلمانوں کو جمہوریت صرف
اس لیے ناپسند ہے کیونکہ وہ 'مغربی' ہے تو پھر ان لوگوں کو موجودہ دنیا سے کنارہ
کشی اختیار کر کے غاروں میں بیٹھ جانا چاہیے کیونکہ آج کی دنیا میں چھپے ہوءے قرآن
سے لے کر مولوی کے لاءوڈ اسپیکر تک سب کچھ ہی 'مغربی' ہے۔ جمہوریت کے متعلق اس
منطق کو سنتے ہوءے خیال آتا ہے کہ پندرہویں اور سولھویں صدی میں جب یورپ بیدار
ہونا شروع ہوا تھا اور عربی کتابوں کا دھڑادھڑ ترجمہ یورپی زبانوں میں ہو رہا تھا تو
یورپ میں یقینا چند ایسے نادان بھی ہوں گے جنہوں نے کہا ہوگا کہ اس نءے علم کا
یورپی تمدن سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے علم کو
یکسر نظرانداز کرتے ہوءے یورپ اپنی نءی راہ خود نکالے۔
علم اور ساءنس ایک انسانی تجربہ ہے
جس میں ہر روز فکر کے نءے چشمے مل رہے ہیں اور یہ دریا مستقل پھیلتا جا رہے ہے۔ ہر دور کے لوگوں نے
پرانے ادوار کے لوگوں کے علم سے فاءدہ اٹھاتے ہوءے بات کو آگے بڑھایا ہے۔ علم حاصل
کرنے میں 'میرا' اور 'تیرا' کیا معنی رکھتا ہے؟ اور یہی نوعیت سماجی تجربات کی بھی ہے۔ انسان
مستقل سیکھ رہا ہے کہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے ساتھ اور اس سے بھی بڑھ کر، دنیا
میں دوسرے نمونہ ہاءے حیات کے ساتھ کیسے مساوات سے رہا جاءے۔ ان ہی سماجی تجربات
میں نظام حکومت کا تجربہ بھی شامل ہے۔ ہم بہت طویل راستے پہ چلتے ہوءے جمہوریت تک
پہنچے ہیں۔ قباءلی طرز حکومت، پھر
خدا-بادشاہ، پھر ایسے بادشاہ جنہیں درباریوں اور مذہبی عالموں کی مشاورت حاصل تھی،
پھر مشاورت کے اور انداز حکومت جن میں خلافت بھی شامل تھی، اور پھر جدید دور کی
جمہوریت جس میں نسل در نسل حکمرانی کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے، رعایا خود فیصلہ
کرتی ہے کہ وہ کس گروہ کو مختصر عرصے کے لیے حکمرانی کا حق دینا چاہے گی۔
جن لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں
کو چاہیے کہ وہ جمہوریت کو رد کر کے واپس خلافت کی طرف لوٹ جاءیں وہ اس بات کا
جواب دینے سے کتراتے ہیں کہ خلافت کے اس نظام میں خلیفہ کس طرح چنا جاءے گا اور
کون لوگ خلافت کے اہل ہوں گے۔ اور اس کترانے کی وجہ یہ ہے کہ اس متعلق خود ان
لوگوں کے ذہنوں میں وضاحت نہیں ہے؛ رجعت پسند مذہبی عناصر نے ان کی سوچ گنجلک کرنے
کے علاوہ انہیں کچھ نہیں دیا۔
Monday, April 29, 2013
شغل اور شخصیت
اپریل انتیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو پینتیس
شغل اور شخصیت
اس نءے دور میں زیادہ تر لوگ جبر
کی زندگی گزارتے ہیں۔ جبر کی یہ زندگی غلامی کی زندگی سے صرف ایک درجہ بہتر ہے کہ یہاں
آپ کا مالک کوءی اور نہیں آپ خود ہیں اور آپ کی جبر کی زندگی خود آپ کی اختیار
کردہ ہوتی ہے۔ مگر ہوتی پھر بھی یہ جبر کی زندگی ہے کہ آپ زندگی کے شکنجے میں یوں
بری طرح گرفتار ہوتے ہیں کہ میکانیکی انداز سے زندگی کا ہر دن گزارتے ہیں۔ آپ ہفتے
میں پانچ دن اور کبھی چھ دن یا ساتوں دن صبح سے شام کام کرتے ہیں اور طویل عرصے تک
زندگی یوں ہی بسر کرتے جاتے ہیں کہ آپ کو سر اٹھانے کی فرصت نہیں ملتی کہ اپنی
زندگی پہ ایک نظر ڈال کر سوچیں کہ آپ کی سمت کیا ہے اور آپ اصل میں کہاں جانا
چاہتے ہیں۔ اور یوں جبر کی زندگی گزارتے لوگ نہ جانے کس دن کی تیاری میں عمر کا
بیشتر حصہ گزار دیتے ہیں۔ وہ کل کی تیاری میں آج کا دن گنوا دیتے ہیں۔ کالی داس کی
درج ذیل نظم 'اس دن کو دیکھو' زندگی پہ ایک لاجواب تبصرہ ہے۔
اس دن کو دیکھو، اس لمحے کو
پہچانو
کہ یہ دن زندگی ہے، زندگی کی
زندگی
کہ اس دن کے مختصر دورانیے میں
پنہاں ہیں تمہاری زیست کے تمام
انداز
بالیدگی کا لطف
عمل کی عظمت
فتح یابی کا سرور
یہی تو ہیں زندگی کے انداز
کل جو گزر گءی محض ایک یاد ہے
اور فردا محض ایک خیال
آج کا دن جو اچھا گزرے، وہ بن
جاتا ہے
گزری کل کی خوب صورت یاد
اور ایسا اچھا دن، فردا کو
بناتا ہے،
ایک پرامید خیال
بس پہچان لو اس لمحے کی طاقت
کو
یہی ہے ہر صبح نو کا پیام
پیشے انسان کی شخصیت پہ
اثرانداز ہوتے ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں؟
انسان جس شغل کو جس قدر وقت دیتا ہے وہ شغل اس شخص کی نفسیات پہ اسی قدر
اثرانداز ہوتا ہے۔ ایک منشی [اکاوءنٹنٹ] اگر صبح سے شام تک رقم کو جوڑنے گھٹانے کا
کام کرتا رہے گا تو یہ کام اس کے ذہن پہ یقینا اثرانداز ہوگا۔ اور یوں اپنے پیشے
پہ بہت زیادہ وقت لگانے والے لوگ اسی پیشے کے حساب سے ڈھل جاتے ہیں۔ اسی لیے انسان
کو کوءی بھی کام بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ ایک طرف تو وہ شخص وہ کام بنا رہا
ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ کام اس شخص کو
بنا رہا ہوتا ہے۔ کسی بھی طویل مدت والے کام کو شروع کرنے سے پہلے بغور جاءزہ لینا
غوروفکر کی وہ منزل ہوتی ہے کہ جہاں انسان خود اپنے طور پہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ
مستقبل میں وہ کس طرح کا روپ دھارنا چاہتا ہے۔
Monday, April 22, 2013
ذکر پرویز مشرف کی بے حساب دولت کا
اپریل بیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چونتیس
ذکر پرویز مشرف کی بے حساب دولت کا
پاکستان کے لوگ بہت غصے میں ہیں۔
انہوں نے یکے بعد دیگرے حکومتوں کی مسلسل ناکامی دیکھی ہے۔ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ
حکومت چاہے فوجی آءے یا جمہوری، ان کی پریشانیوں میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی
کے بے مہار اضافے اور اسلحے کی فراوانی نے نت نءے مساءل کو جنم دیا ہے۔ اس پہ طرہ
یہ کہ مواصلات کے انقلاب نے یہ آسان بنا دیا ہے کہ آپ اپنے خراب حالات میں بھی ٹی
وی پہ دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا میں دوسری جگہوں پہ لوگ کیسے سکون کی زندگی بسر کر
رہے ہیں۔ اس طرح کے مشاہدات سے پاکستانیوں کا اپنے حالات پہ عدم اطمینان اور
اضطراب اور بڑھ رہا ہے۔ پھر ایسے میں پرویز مشرف جو قریبا پانچ سال پہلے صدارت کی
کرسی سے ہٹے تھے، واپس پاکستان پہنچ گءے۔ لوگوں کو اپنا غم و غصہ نکالنے کے لیے
ایک آسان ہدف مل گیا۔ مشرف پہ مقدمات کی بوچھاڑ کر دی گءی ہے۔ اب پرویز مشرف ہی
پاکستان کی ہر خرابی کے ذمہ دار ٹہراءے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں کم لوگ ہیں جو
ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ پرویز مشرف پہ چلاءے جانے والے مقدمات میں انتقامی جذبات کا
کتنا بڑا دخل ہے۔
جہاں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو پرویز
مشرف سے کسی نہ کسی بات کا بدلہ لینا چاہتے ہیں وہیں دوسری طرف میڈیا میں ایسے
افراد ہیں جو عوامی جذبات کو بھڑکا کر اپنی دکان چمکا رہے ہیں اور حقاءق کو توڑ
مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ اخبارات میں پرویز مشرف کے اثاثوں کی جعلی فہرستیں شاءع
کی جار ہی ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ پرویز مشرف ارب پتی ہیں۔ اس سلسلے میں زرد
صحافت کے ان بدکار نماءندوں سے کوءی ثبوت بھی نہیں طلب کر رہا۔ اسی طرح چک شہزاد
میں پرویز مشرف کے پانچ ایکڑ کے فارم کو کہیں تین ہزار ایکڑ اور کہیں پانچ ہزار
ایکڑ کی زمین بتایا جا رہا ہے۔ ہوا کچھ ایسی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف ہر بات بلا
تصدیق قبول کی جارہی ہے۔ مشرف کی بے حساب دولت کے ان دعووں کے تناظر میں ذرا غور
کیجیے تو نظر آءے گا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف پہ تو مالی بے قاعدگیوں کے
درجنوں مقدمات رہے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پہ پرویز مشرف پہ لوٹ مار کا ایسا کوءی
مقدمہ موجود نہیں ہے۔
ان حالات میں ان لوگوں کی گواہی کی
ضرورت ہے جو پرویز مشرف اور ان کے خاندان کو قریب سے جانتے ہوں۔
پرویز مشرف کے خاندان کے کچھ لوگوں
کے کیلی فورنیا منتقل ہونے پہ مجھے ان لوگوں کو قریب سے دیکھنے اور جانچنے کا موقع
ملا ہے۔ ان کے گھروں میں روپے پیسے کی وہ ریل پیل نظر نہیں آتی جو بھٹو خاندان یا
نواز شریف کے خانوادے میں نظر آتی ہے۔ جن پاکستانی حکمرانوں نے اپنے ملک کو دونوں
ہاتھوں سے لوٹا ہے ان کے گول گپے بچے یا تو لندن میں ان جاءیدادوں کے حساب کتاب
میں مصروف رہتے ہیں جو اس لوٹے ہوءے پیسے سے بناءی گءی ہیں، یا پاکستان اور دبءی
کے درمیان آرام سے گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ ایسے حکمرانوں کے بچے کیلی فورنیا میں نوکری کر
کے اپنا پیٹ نہیں پالتے۔ ایسے حکمرانوں کے
بچے سینٹا کلارا کے ایک موٹرمیکینک کی دکان پہ اپنی دس سالہ پرانی گاڑی کی مرمت
کرواتے نظر نہیں آتے۔
پھر پرویز مشرف کے 'اربوں ڈالر'
کہاں ہیں؟ شاءد یہ دولت محض مشرف کے دشمنوں کے ذہنوں میں ہے جہاں نفرت بھری ہر
سانس کے دم سے یہ خیالی اثاثے دن بہ دن پھولتے جا رہے ہیں۔
پرویز مشرف پہ داءر مقدمات کے
سلسلے میں بہت سے معصوم لوگوں کا خیال ہے کہ عدالت مشرف کے ساتھ انصاف کرے گی۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستانی عدلیہ آزاد
نہیں ہے۔ جواب واضح ہے۔ ہماری عدلیہ بیرونی دباءو سے یقینا آزاد ہے مگر اپنے
تعصبات سے آزاد نہیں ہے۔ عدلیہ 'آزاد' ہے مگر آزاد خیال نہیں ہے۔
پرویز مشرف پہ نومبر سات کی
ایمرجنسی لگانے کا مقدمہ بالکل جاءز ہے مگر ایک بغاوت کا مقدمہ چلانا اور دوسری
بغاوت کو بھول جانا کیونکہ اس بغاوت میں موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی
برابر کے شریک تھے، انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔
پرویز مشرف پہ داءر مقدمات کے
سلسلے میں مشرف کے وکلا کا موقف واضح ہونا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے وکلا
'عدالتی انصاف' کے جس جھانسے میں آگءے تھے، پرویز مشرف کے وکلا کو اس جھانسے میں مشرف
کو پھنسانے سے انکار کرنا چاہیے۔ مشرف کے وکلا کا واضح موقف ہونا چاہیے کہ جب تک
افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس کے عہدے پہ براجمان ہیں اور پاکستان کے عدالتی نظام
میں ان ججوں کی اکثریت ہے جو سنہ دو ہزار سات کی ایمرجنسی سے چوٹ کھاءی بیٹھی ہے اس
وقت تک پرویز مشرف کو پاکستانی عدالتوں سے انتقام تو مل سکتا ہے، انصاف نہیں۔
Monday, April 08, 2013
وہ داغ داغ اجالا
اپریل آٹھ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو بتیس
وہ داغ داغ اجالا
میں پاکستان بننے کے بہت بعد پیدا
ہوا۔ جیسے جیسے میں نے ہوش سنبھالا مجھے ادھر ادھر سے معلوم ہوا کہ سنہ سینتالیس
کے فسادات میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوءے تھے۔ پھر میں نے کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ میں
نے 'علی پور کا ایلی' پڑھی اور 'شہاب نامہ' پڑھا۔ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب
کے ساتھ ساتھ میں نے عبداللہ حسین کا ناول 'اداس نسلیں' پڑھا اور منٹو کے وہ
افسانے پڑھے جو 'صبح آزادی' کے وحشت ناک دنوں سے متعلق ہیں۔ اسی طرح میں نے
انگریزی میں لکھی جانے والی وہ کتابیں بھی پڑھیں جو جنوبی ایشیا کی انگریز سامراج سے
آزادی کے متعلق تھیں مثلا لیری کولنس اور ڈومینیک لاپءیغ کی 'فریڈم ایٹ مڈناءٹ'،
بپسی سدھوا کی 'آءس کینڈی مین' وغیرہ۔ مگر یہ سارا مواد پڑھنے کے باوجود سنہ
سینتالیس کے فسادات سے متعلق تجسس برقرار رہا۔ فسادات کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟ وہ
علاقے جو اس وقت پاکستان میں ہیں وہاں کن کن قصبوں اور دیہاتوں میں ہندو اور سکھ
اکثریت میں تھے؟ وہ کون فسادی تھے جنہوں نے زمین کے ان قدیم باسیوں کو مارا اور
ہجرت پہ مجبور کیا؟ اسی طرح وہ قصبے اور دیہات جو اس وقت ہندوستان کا حصہ ہیں وہاں
کن جگہوں پہ مسلمانوں کی اکثریت تھی اور فسادات نے کس طرح وہاں کے مسلمانوں کو نقل
مکانی پہ مجبور کیا؟ یہ سارے سوالات مستقل میرے تحت الشعور میں رہے۔ سنہ سینتالیس
کے فسادات ہماری حالیہ تاریخ کا ایک دردناک اور اہم باب ہے مگر تاریخ کی کتاب کے
اس خونی باب سے متعلق عام آدمی کی کہانیاں کسی نے نہیں جمع کی ہیں۔ میری طرح یقینا
اور لوگ بھی اس متعلق تشنگی محسوس کرتے ہوں گے لیکن ایک جوان لڑکی جس کا نام گنیتا
سنگھ بھلا ہے اس نے تشنگی محسوس کرنے پہ اکتفا نہ کی۔ سنہ سینتالیس کے فسادات میں
بلواءیوں نے گنیتا کے دادا کو اپنے آباءی شہر لاہور سے ہجرت پہ مجبور کیا تھا۔
گنیتا نے ان فسادات کی کہانیاں اپنے بچپن میں سنی تھیں۔ جاپان میں ایٹم بم کی
تباہی سے متعلق یادگار دیکھ کر گنیتا نے یہ بیڑا اٹھایا کہ وہ سنہ سینتالیس کے
فسادات سے متعلق عام لوگوں کی کہانیاں جمع کرے گی۔ اور اس طرح '۱۹۴۷ پارٹیشن
آرکاءیو' نامی منصوبے کا آغاز ہوا۔ جو لوگ سنہ سینتالیس میں عاقل و بالغ تھے اور
فسادات میں بچ گءے، ان میں سے زیادہ تر لوگ دنیا سے گزر چکے ہیں۔ جو بچے ہیں اس
وقت اسی یا اس سے اوپر عمر کے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس تاریخی دور کا مشاہدہ
کرنے والے وہ لوگ جو اب بھی زندہ ہیں ان کا جلد از جلد انٹرویو کیا جاءے اور ان کی
کہانی ریکارڈ کر لی جاءے۔ گنیتا سنگھ بھلا کا ادارہ بالکل یہی کام کر رہا ہے۔ اس
ادارے کے کارکنان ہندوستان، پاکستان، اور بنگلہ دیش میں ان لوگوں کا انٹرویو کر
رہے ہیں جنہوں نے سنہ سینتالیس کے فسادات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مگر کام بہت
بڑا ہے اور رضاکاروں کی نفری تھوڑی ہے۔ پچھلے سنیچر کے روز پارٹیشن آرکاءیو نے ایک
فنڈ ریزر کا اہتمام کیا۔ برکلی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کی مہمان خصوصی بپسی
سدھوا صاحبہ تھیں۔ تقریب کے ایک حصے میں دو ایسے لوگوں کی کہانیاں سنی گءیں جو سنہ
سینتالیس میں ہوش سنبھالنے کی عمر میں داخل ہوءے تھے۔ ان کہانیوں میں علی شان صاحب
کی کہانی ایسی غمناک تھی کہ اس کہانی کو سننے والا کوءی شخص ایسا نہ تھا جس کی
آنکھوں سے آنسو نہ رواں ہوگءے ہوں۔
اور اب اس کالم کے پڑھنے والوں سے
ہاتھ جوڑ کر ایک درخواست۔
اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں
جس نے سنہ سینتالیس کے فسادات خود دیکھے ہوں تو آپ سے درخواست ہے کہ آپ پہلی فرصت
میں ایک ویڈیو کیمرہ لے کر اس شخص کا انٹرویو کر لیں۔ اس انٹرویو میں اس شخص کی
پوری کہانی سنیں اور خاص دھیان تاریخ، مقامات، اور ناموں پہ دیں۔ مثلا اگرایک
مسلمان فسادات کی وجہ سے جالندھر سے اکھڑ کر موجودہ پاکستان میں آیا تو اس کی پوری
کہانی کے ساتھ یہ معلومات اہم ہے کہ وہ جالندھر میں کہاں رہتا تھا [محلے کا نام،
گھر کا پتہ]، کس تاریخ کو وہاں سے نقل مکانی پہ مجبور ہوا، اور وہ دوسرے مذہب کے
کن لوگوں کو جانتا تھا اور ان سے میل ملاپ رکھتا تھا۔ اس انٹرویو کو پارٹیشن
آرکاءیو کی ویب ساءٹ پہ ڈالا جا سکتا ہے۔ مگر انٹرویو کو شاءع کرنے کی بات ثانوی
ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وقت ضاءع کیے بغیر ان بوڑھے لوگوں کا انٹرویو کر
لیا جاءے جو سنہ سینتالیس کے فسادات سے متعلق معلومات رکھتے ہیں اور آپ کے آس پاس
موجود ہیں۔ اگر اس طرح کی معلومات رکھنے والا شخص اپنی بات ریکارڈ کیے بغیر اس
دنیا سے رخصت ہوگیا تو ہماری تاریخ کے اس اہم حصے سے متعلق ہماری معلومات ادھوری
رہ جاءے گی۔
Monday, April 01, 2013
شرم
اپریل ایک، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو اکتیس
شرم
اس وقت اس عورت کی عمرتیس سال سے
کچھ اوپر ہوگی۔ پچھلے ہفتے میں نے اسے اپنے گھر بلایا۔ وہ اپنی دو لڑکیوں کے ساتھ
میرے گھر آءی، ایک کتاب کی صورت میں۔ میں اس جوان عورت کی کہانی سننا چاہتا تھا؛
یہ جانتے ہوءے بھی کہ اس کی آپ بیتی دردناک ہے اور یہ کہانی مجھے شدید نفسیاتی
گھاءو لگاءے گی۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اس عورت کی کہانی سن کر میں اندر سے ٹوٹ گیا۔ یہ
داستان سن کر مستقل اپنے آپ سے یہ سوال کرتا رہا کہ آخر یہ ظلم اس عورت کے ساتھ
کیوں ہوا۔ جب میں کسی کی کہانی سنتا ہوں اور اس کہانی میں کوءی تاریخ بتاءی جاتی
ہے تو میں یہ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس دن میں خود کیا کررہا تھا۔ اس طرح
اس تاریخ پہ اپنی زندگی کو دیکھتے ہوءے مجھے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں بیک وقت
کیا کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ ہم اپنی اپنی زندگیوں میں یوں غرق ہوتے ہیں کہ جیسے دنیا
بھر میں اس سے زیادہ اہم بات تو کوءی ہو ہی نہیں رہی۔ میں جون سنہ اکیانوے میں
کہاں تھا؟ میں جنوبی کیلی فورنیا میں تھا اور ایک اہم امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔
وہ بے فکری کا زمانہ تھے۔ باقاعدہ تعلیم ختم ہوچکی تھی اور نوکری سے اچھے پیسے مل
جاتے تھے۔ میں امتحان کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ہی ایک لمبے سفر کے لیے رقم
جمع کر رہا تھا۔ اس وقت اس جوان عورت کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔ یہ ساءوتھ لیک
ٹاہو میں اپنی ماں اور سوتیلے باپ کے ساتھ رہ رہی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد گرمیوں کی
چھٹیاں ہونے والی تھیں اور وہ گیارہ سالہ لڑکی ان چھٹیوں میں مصروفیت کی منصوبہ
بندی کر رہی تھی۔ ان ہی باتوں کو سوچتے ایک دن وہ گھر سے نکل کر سڑک کے اس کنارے
تک جا رہی تھی جہاں اسکول بس رکتی تھی کہ اچانک ایک گاڑی اس کے پاس آکر رکی۔ بچی
سے پتہ پوچھنے کے بہانے اسے گاڑی کے قریب بلایا گیا اور پھر جانوروں کو بجلی کا
جھٹکا دینے والی اسٹن گن سے اس بچی پہ وار کیا گیا۔ یہ بچی بجلی کا جھٹکا کھاکر
ادھر ہی فٹ پاتھ پہ گر پڑی۔ گاڑی چلانے والے آدمی نے ذرا سی دیر میں بچی کو اٹھا
کر پچھلی سیٹ کے سامنے فرش پہ ڈال دیا۔ بچی پہ کمبل ڈال دیا گیا۔ یہ آدمی لڑکی کو
لے کر اطمینان سے فرار ہوگیا اور گاڑی چلاتا ہوا ایک سو ساٹھ میل دور اینٹیوک میں
اسے اپنے گھر لے آیا۔ اس عورت کی بقیہ کہانی اٹھارہ سالوں پہ محیط ہے۔ ایک گیارہ
سالہ بچی جو جنسی تشدد کا نشانہ بنی، اسی قید میں بلوغت تک پہنچی، اور پھر ماں
بنی۔ ایک گیارہ سالہ بچی کو کوءی کچھ بھی
بتا سکتا ہے؛ وہ اپنی معصومیت میں اس بات کا یقین کرجاءے گی۔ اس بچی کو یہ سمجھا
دیا گیا کہ جو کچھ بھی خفیہ طور سے اینٹیوک کے اس گھر میں ہورہا تھا وہ بہت شرم کی
بات تھی اور بہتر یہی ہے کہ وہ ان باتوں کو راز رکھے۔ اس بچی نے اٹھارہ سال تک اس
بات کو راز رکھا۔ وہ اپنے اغواکنندہ کو بچا کر رکھتی رہی۔ وہ لڑکی اس شخص سے اتنی
مانوس ہوگءی کہ جب اسے آزادی سے گھر میں گھومنے پھرنے کی آزادی ملی بھی تو وہاں سے
فرار نہیں ہوءی۔ ایک خیال تو اس لڑکی کے ذہن میں یہ تھا کہ اس کے اغوا کی بات
پرانی ہوگءی ہے، اب بھلا کون اس کو تلاش کررہا ہوگا؛ وہ فرار ہوکر کہاں جاءے گی۔ وہ جو شاعر نے کہا تھا کہ، اتنے مانوس صیاد سے
ہو گءے، اب رہاءی ملے گی تو مر جاءیں گے۔ اور پھر دوسرا خیال یہ تھا کہ اس کی
کہانی ایک شرمناک راز ہے جو کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ایک دن یہ راز فاش
ہو گیا۔ پھر خیرخواہوں کو ایک وقت لگا اس لڑکی کو یہ بات سمجھانے میں کہ اس کے
ساتھ ہونے والی زیادتی میں لڑکی کے لیے کوءی شرم کی بات نہیں ہے۔ شرم تو اس شخص کو
آنی چاہیے جس نے اس درندگی کا مظاہرہ کیا۔
اس عورت کی کہانی ختم ہوچکی ہے مگر میں اپنے ذہن سے اس کہانی کو نکالنے سے
قاصر ہوں۔ اس کہانی کے مختلف باب مستقل میرے ذہن میں دوڑتے رہتے ہیں۔ میں ملک شام
میں ہونے والی جنگ کے بارے میں پڑھوں تو مجھے ان چھوٹی چھوٹی بچیوں کا خیال آتا ہے
جو اس طواءف الملوکی میں بے سہارا ہوگءی ہوں گی اور موقع غنیمت جان کر درندے انہیں
لے اڑے ہوں گے۔ میں بنگلہ دیش میں دلاور حسین سیدی کی حراست کے بارے میں پڑھوں تو
مجھے سنہ ستر اکہتر کی شورش کا خیال آتا ہے۔ افراتفری کے ان دنوں بھی نہ جانے
چھوٹے چھوٹے بچوں پہ کیا ظلم و ستم ہوا ہوگا۔ اور پھر سنہ سینتالیس کی غدربود کی
طرف بھی ذہن جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ایسی عورت کا حال پڑھا تھا جو سنہ
سینتالیس میں ایک سکھ گھرانے میں چھوٹی سی بچی تھی۔ اب وہ عورت ایک مسلمان گھر میں
دادی اور نانی بنی ہوءی ہے۔ سنہ سینتالیس کی افراتفری میں سکھ گھر کی ایک بچی کسی
مسلمان گھر کیسے پہنچی ، اس بارے میں آپ بھی میری طرح قیاس آراءی کر سکتے ہیں۔ اور
اسی ضمن میں جماعت اسلامی کے امیر منورحسن صاحب کا ایک انٹرویو بھی غور طلب ہے۔ اس
انٹرویو میں منورحسن صاحب کا فرمانا تھا کہ زنا ایک شرمناک جرم ہے اور بہتر یہ ہے
کہ اس جرم کو مشتہر نہ کیا جاءے اور اگر کوءی ایسی بات ہو بھی جاءے تو اسے چھپا
لیا جاءے۔ شکر ہے کہ منورحسن صاحب کا انٹرویو کرنے والا شخص ایک مرد تھا اور
منورحسن کے سامنے مختاراں ماءی نہ تھی۔ مجھے تعجب نہ ہوتا کہ اگر مختاراں ماءی
منورحسن کو گریبان سے پکڑ لیتی اور کہتی کہ تمھارے جیسے دو ٹکے کے راہ نما یہ
چاہتے ہیں کہ مرد جو چاہے زیادتی کرتا رہے اور عورت 'شرم' کی اوٹ میں مرد کے جراءم
پہ پردے ڈالتی رہے۔ عورتوں پہ ہونے والے
ظلم کے شرم کو وہاں پہنچانا ضروری ہے جہاں اس شرم کا اصل مقام ہے۔
Monday, March 25, 2013
چھ وعدے
مارچ چوبیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو تیس
چھ وعدے
نہ جانے کس واءرس کا حملہ تھا کہ جمعرات
سے بستر پہ پڑا تھا۔ کل رات سوتے میں پسینہ آنے کے ساتھ بخار اترا ہے اور اب اس
قابل ہوا ہوں کہ کچھ دیر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ سکوں۔ مگر موجودہ عہد کا کمال ہے
کہ بستر پہ پڑے پڑے بھی پاکستان کی خبروں پہ نظر رکھنے کی سہولت موجود تھی۔ علالت
کے ان دنوں کی سب سے بڑی خبرعمران خان کا تءیس مارچ کا جلسہ تھا۔ اس جلسے میں عمران خان نے زوردار بارش کے دوران
اپنے حامیوں سے چھ وعدے کیے۔ تحریک انصاف کے کارکنان ان وعدوں کو تاریخی چھ نکات
کے طور پہ پیش کر رہے ہیں۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ عمران خان کے یہ چھ وعدے انتہاءی غیر
تاریخِی، پھسپھسے اور بے جان تھے۔ عمران خان اپنی دولت ملک کے اندر رکھیں یا باہر،
پاکستان میں بسنے والوں کو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے۔ پاکستان کا ووٹر تو اس وقت
عمران خان اور دوسرے سیاستدانوں سے وہ وعدے چاہتا ہے جن کا اثر نہ صرف یہ کہ براہ
راست عوام پہ پڑے بلکہ عوام کو یہ اثر پڑتا ہوا نظر بھی آءے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ
عمران خان قوم سے درج ذیل چھ وعدے کرتے۔
۱۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نوے
دن میں امن عامہ کی صورتحال بہتر کروں گا۔
نوے دن مکمل ہوتے ہوتے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں اکا دکا ہی رہ جاءیں گی اور
دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی واضح کمی ہوگی۔
یہ وعدہ کرنے کے بعد عمران خان
مجمع کو سمجھاتے کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں جراءم پہ قابو پانے کے لیے کیا
تدابیر کریں گے۔
۲۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار
میں آنے کے بعد بجلی اور گیس کی ترسیل میں آسانی لاءوں گا۔
یہ وعدہ کرنے کے بعد عمران خان
مجمع کو سمجھاتے کہ ملک میں کتنی بجلی بنتی ہے، اس کی کھپت کتنی ہے، اور کتنے فی
صد بجلی چوری ہوتی ہے۔ پھر عمران خان بتاتے کہ وہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کس
طرح کریں گے اور بجلی کے چھوٹے اور بڑے چوروں کو کس طرح بل دینے پہ مجور کریں گے۔
اسی طرح عمران خان ملک میں نکلنے والی قدرتی گیس کے بارے میں بتاتے اور لوگوں کو
یہ بھی سمجھاتے کہ کونسا صوبہ کتنی گیس پیدا کرتا ہے اور گیس کے صارف کہاں کہاں ہیں۔
گیس کی پیداوار اور کھپت سے متلعق پوری موجودہ صورتحال سمجھانے کے بعد عمران خان
مجمع کو سمجھاتے کہ وہ کس طرح گیس کی لوڈ شیڈنگ کو کم کریں گے۔ معمولی پڑھا لکھا
انسان بھی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ پاکستان میں پیداوار اور کھپت کی موجودہ صورتحال
میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ یکایک ختم کردینا مشکل نہیں ناممکن ہے اور لوڈ
شیڈنگ کے ایسے کسی خاتمے کے لیے چند ماہ کی مہلت سے زیادہ کا عرصہ درکار ہے مگر
لوگ یہ ضرور توقع رکھتے ہیں کہ جو سیاستدان عوام کے مساءل حل کرنے کا ٹھیکہ لے رہے
ہیں وہ خود گہراءی سے ان مساءل کو سمجھتے ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے ایک ٹھوس
حکمت عملی رکھتے ہیں۔
۳۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ پورے ملک میں صاف پانی کی ترسیل کو یقینی بناءوں
گا۔ دو سال کے اندر فلاں فی صد کو اور چار سال کے اندر فلاں فی صد کو پینے کا صاف
پانی میسر ہوگا۔
یہ وعدہ کرنے کے بعد عمران خان
پینے کا صاف پانی فراہم کرنے سے متعلق اپنی حکمت عملی عوام کے سامنے پیش کرتے۔
۴۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ روزگار کے
مواقع بڑھاءوں گا اور اس بات کو یقینی بناءوں گا کہ دو سال میں بیروزگاری کی شرح
گر کر دس فی صد سے نیچے چلی جاءے۔
یہ وعدہ کرنے کے بعد عمران خان
مجمع کو سمجھاتے کہ وہ حکومتی سطح پہ کیا اقدامات کریں گے جن سے بیروزگاری میں کمی
واقع ہوگی۔
۵۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار
میں آنے کے بعد ایسے اقدامات کروں گا جن سے ملک میں تعلیم بڑھے۔ میری پوری کوشش
ہوگی کہ دو سال کے اندر پراءمری سطح پہ اسکول جانے والے بچوں کی تعداد کو بڑھا کر
اسی فی صد کردوں۔
۶۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ حکومت
بنانے کے بعد ایسے اقدامات کروں گا جن سے پورے ملک میں صحت عامہ کا ایک بہترین
نظام یکسانیت سے قاءم ہو۔
یہ وعدہ کرنے کے بعد عمران خان
اپنے چاہنے والوں کو اپنی حکمت عملی سمجھاتے کہ وہ کس طرح صحت عامہ کا ایک اچھا
ہمہ گیر نظام ملک بھر میں قاءم کرنا چاہتے ہیں۔
درج بالا وہ چھ وعدے ہیں جن کی
توقع عمران خان سے تھی۔ ایسے واضح اور اظہر من الشمس نتاءج دکھانے والے وعدے نہ کر
کے عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ یا تو وہ خود مساءل کو نہیں سمجھتے یا ان اصل
مساءل سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت اپنے اندر نہیں پاتے۔ اقتدار میں آکر کسی سرکاری
رھاءش کو لاءبریری میں تبدیل کردینا اچھا وعدہ ہے مگر یہ وہ دوا نہیں ہے جس کی اشد
ضرورت اس بیمار ملک کو ہے۔
Monday, March 18, 2013
ان کا اسلام، ہمارا اسلام
مارچ اٹھارہ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو انتیس
ان کا اسلام، ہمارا اسلام
پاکستان میں آپ کسی بھی موضوع پہ
بات کریں کچھ دیر بعد آپ کو یہ جملہ سننے کو ضرور ملے گا کہ، "اسلام میں اس
بات کی اجازت نہیں ہے" ۔ جو شخص ایسی بات کہتا ہے وہ دراصل یہ کہنا چاہتا ہے
کہ 'میرے اسلام' میں اس بات کی اجازت نہیں ہے۔ آپ اس شخص سے پلٹ کر پوچھ سکتے ہیں
کہ 'کیوں بھءی، قرآن میں یہ کہاں حکم ہے کہ ہم تمھیں اسلام کے ٹھیکیدار کے طور پہ
قبول کریں اور تمھارے حساب سے چلیں کہ اسلام میں کس بات کی اجازت ہے اور کس بات کی
نہیں؟' پاکستان کی ریاست جس وقت سے مذہب
کے معاملے میں کودی ہے اس وقت سے پاکستان نے اسلام کو بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں
دیا۔ کوءی غیرملکی اگر پاکستان جاءے اور وہاں جگہ جگہ لگے کوڑے کے ڈھیر دیکھے اور
اسے سڑکوں پہ بہتے گٹر کے پانی سے گزرنا پڑے تو آپ خود خیال کر سکتے ہیں کہ وہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام میں جمہوریہ پاکستان کے ساتھ موجود سابقے کے بارے
میں کیا خیال کرے گا۔ پاکستان میں آج اسلام کے نام پہ جو فساد مچا ہوا ہے اسے دیکھ
کر کفار اگر اسلام کا نام سن کر دور بھاگیں تو کچھ بعید نہیں۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کو ان کا
اسلام پسند نہیں ہے تو بتاءیے کہ آپ کا اسلام کیا ہے۔ ہمارا اسلام حقوق العباد سے
شروع ہوتا ہے اور ہم اس شخص کو سب سے بہتر مسلم خیال کرتے ہیں جس کے اعمال اور
افکار سے اس کے اطراف لوگ خوش ہوں۔ ہمارے اسلام میں صفاءی نصف ایمان کا مطلب یہ ہے
کہ ہم جہاں رہیں صفاءی سے رہیں، ہمارے محلے میں جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر نہ لگے ہوں،
ہمارے علاقے میں لوگ ان بیماریوں کا شکار نہ ہوں جو گندگی سے پھیلتی ہیں۔ جب کہ
روایتی مولوی کے اسلام میں صفاءی نصف ایمان کا مطلب یہ ہے کہ صرف اپنے طور پہ غسل
شدہ، باضو رہو، باقی سب کا بیڑا غرق بھی ہوجاءے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کا اسلام
یہ ہے کہ کسی ریستوراں کے صاف ستھرے غسلخانے میں جاءو، وہاں اپنا پاءوں سنک میں
ڈال کر وضو کرو اور وضو کے چھینٹوں سے پورے غسلخانے کی ایسی کی تیسی کر دو کہ
غسلخانہ استعمال کرنے والا اگلا شخص وہاں جاءے تو حیران ہو کہ آخر یہ کس نے اپنے
کتے کو سنک میں نہلایا تھا۔ ان کا اسلام
یہ ہے کہ پیشابدان [یورینل] استعمال کرنے سے پہلے ٹاءلٹ پیپر ہاتھ میں لے کر وہاں
پہنچو اور پیشابدان کے استعمال کے بعد استنجا کے لیے استعمال کیا جانے والا ٹاءلٹ
پیپر پیشابدان میں پھینک دو اور اس طرح پیشابدان کے نکاسی کے پاءپ کو اڑا دو اور
پیشابدان استعمال کرنے والے اگلے شخص کو حیران کرو کہ اس سے پہلے یہ پیشابدان کس
جانور نے استعمال کیا تھا۔
ہمارا اسلام یہ ہے کہ غور و فکر سے
اپنی راہ تلاش کرو اور اگر دوسرے کسی اور طرح کے خیالات رکھتے ہیں تو ان کو اپنے
خیالات کے ساتھ جینے دو۔ جب کہ ان کا اسلام یہ ہے کہ صرف ان لوگوں کو صحیح جانو جو
بالکل ان کی طرح سوچتے ہیں۔ جو اپنے عقاءد میں ذرہ برابر بھی ان سے جدا ہیں، کافر
ہیں؛ ان کی جان کے درپے ہوجاءو ۔
ہمارا اسلام یہ ہے کہ جس جگہ رہو امن
سے رہو۔ سب سے بااخلاق طریقے سے پیش آءو۔ جب کہ ان کا اسلام گھیراءو جلاءو کا
اسلام ہے۔ ہمارا اسلام یہ ہے کہ کوءی پھبتی کسے تو اسے نظر انداز کردو۔ ان کا
اسلام یہ ہے کہ پہلے انٹرنیٹ پہ وہ مواد تلاش کرو جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوسکیں۔
پھر اس مواد کو خوب مشتہر کرو۔ پھر نماز جمعہ کے بعد ایک ہجوم کی شکل میں نعرے
لگاتے مسجد سے نکلو، سڑک کے کھمبے توڑ ڈالو، اور لوگوں کی ذاتی جاءداد کو نظر آتش
کردو۔
ہمارا اسلام لا اکراہ فی الدین کا
اسلام ہے کہ لوگوں کو صحیح راہ ضرور دکھاءو مگر انہیں ڈنڈے کے زور پہ کسی مخصوص
راہ پہ چلانے کی کوشش نہ کرو۔ لوگوں کو سمجھاءوکہ شراب پینا اور جوا کھیلنا برا
ہے۔ لیکن اگر کوءی شخص یہ ہدایت قبول کرنے کو تیار نہیں ہے تو اسے اس کے حال پہ
چھوڑ دو۔ جب کہ ان کا اسلام یہ ہے رمضان میں ڈنڈے کے زور پہ غیرمسلموں کو بھی فاقہ
کرنے پہ مجبور کرو۔
ہمارا اسلام یہ ہے کہ اسلام کے
غنڈے نہ بن جاءو کہ سب پہ دھونس چلاءو کہ ہمارے عقاءد ہی صحیح اسلام ہیں؛ اور
ریاست کو کسی مخصوص گروہ کے عقاءد کے ساتھ نہ ملاءو۔ جب کہ ان کا اسلام یہ ہے کہ اپنے آپ
کو اسلام کا چوکیدار تصور کرو؛ ریاست کو مرد بچہ سمجھو اور اس کی 'ختنہ' کر کے اس
کا نام اسلامی جمہوریہ فلاں فلاں رکھ دو۔ ریاست کے ساتھ اسلام کا نام چپکانے کے
بعد ریاست میں اس قدر غلاظت کرو اور وہاں اس قدر فسار برپا کرو کہ لوگ اسلام کے
نام سے متنفر ہوجاءیں۔
Tuesday, March 12, 2013
ناکام ریاست کا عذاب
مارچ گیارہ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو اٹھاءیس
ناکام ریاست کا عذاب
زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ بات
سمجھ میں آتی جا رہی ہے کہ پاکستان بڑی حد تک ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔ صدارتی
محل اور آرمی ہیڈکوارٹر کے باہر چند ہی جگہیں بچی ہیں جہاں حکومت کی رٹ اب تک قاءم
ہے۔ ورنہ قاتل، لٹیرے، اور دہشت گرد آزاد ہیں۔ جس کو چاہیں ماریں، جس کو چاہیں
لوٹیں، اور جہاں چاہے دھماکہ کریں۔ آءین اور قانون معاشرے کے سب سے کمزور عوام کو
طاقتور خواص کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں۔ جب ریاست ناکام ہو جاءے تو قانون کا سایہ
کمزور کے سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اسی لیے ایک ناکام ریاست میں سب سے بڑا قہر معاشرے کے
کمزور لوگوں پہ ٹوٹتا ہے۔ جسمانی طور سے معذور افراد، کم حیثیت لوگ، چھوٹے مذہبی
گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ناکام ریاست کا عذاب ان ہی کمزور سروں پہ گرتا
ہے۔ پاکستان میں ریاست کی ناکامی نے تین راستوں سے طواءف الملوکی کو ہوا دی ہے۔
شمار ایک وہ لوگ ہیں جو ریاست کی ناکامی کا فاءدہ اٹھاتے ہوءے لوٹ مار میں مصروف
ہیں۔ ان لوگوں میں ڈاکوءوں سے لے کر اغوا براءے تاوان کے مجرم اور نشانچی قاتل
[ٹارگٹ کلر] تک شامل ہیں۔ یہ جراءم پیشہ لوگ دھڑلے سے اس لیے وارداتیں کرتے ہیں
کیونکہ ان کو اچھی طرح علم ہے کہ انہیں کچھ نہیں کہا جاءے گا، ان کا بال بھی بیکا
نہ ہوگا۔ شمار دو اور تین وہ افراد اور
گروہ ہیں جو مذہبی بہکاوے میں ہیں۔ ان میں اول الذکر گروہ وہ ہے جس کو سمجھایا گیا
ہے کہ اسلام کے اصل پاسبان وہ ہیں؛ دوسرے فرقے اور بالخصوص شیعہ دین میں فساد
پھیلا رہے ہیں اور اسلام کی برگزیدہ ہستیوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔ یہ گروہ اپنا
دینی فرض سمجھ کر باقی گروہوں پہ تواتر سے حملے کر رہا ہے اور اپنے تءیں ثواب کما
رہا ہے۔ اس گروہ کے افراد کو بھی ریاست کی ناکامی کا اچھی طرح علم ہے چنانچہ انہیں
ذرہ برابر بھی ڈر نہیں ہے کہ انہیں پکڑا جاءے گا۔ آخر الذکر گروہ وہ ہے جس میں ملک
کے بیشتر مسلمان شامل ہیں۔ ماضی میں ریاست نے مذہبی معاملات میں کود کر ان لوگوں کو
مذہب کے نام پہ جاری فساد کی طرف لگا دیا ہے۔ توہین رسالت جیسے جھوٹے، کالے اور
مکار قوانین اب گلی کوچے کے ہر گمراہ کو اکسا رہے ہیں کہ وہ جس سے چاہے توہین
رسالت کا بدلہ چکاءے اور قانون کی دھجیاں اڑا دے۔ ہفتے کے روز لاہور کی جوزف
کالونی میں سینکڑوں لوگوں کے ہاتھوں ہونے والا شرمناک کام بھی اسی سلسلے کی ایک
کڑی ہے۔ اصل توہین رسالت کے مرتکب یہ لوگ بھی ریاست کی ناکامی کو سمجھتے ہیں۔
انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ لوٹ مار اور آگ لگانے کے دوران لی جانے والی ان کی
تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں پھیل بھی گءیں تو کیا ہوا، ان
کے خلاف کوءی کارواءی نہ کی جاءے گی۔
پاکستان میں اتنا طویل عرصہ آمریت
رہی ہےکہ لوگ جمہوریت کی طاقت نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جن لوگوں کو
منتخب کر کے عوام نے ایوانوں میں بھیجا ہے وہ منتخب نماءندے دراصل عوام کے نوکر
ہیں اور ہر موقع پہ عوام کو جوابدہ ہیں۔ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے منتخب
نماءندوں سے مل کر پوچھ سکتے ہیں کہ، 'بتاءو، یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے۔ ہمارے علاقے
میں فلاں فلاں جرم کی واردات ہوءی تو تمھاری ماتحت پولیس نے کیا تفتیش کی۔'
اس مضمون کے آخری حصے میں موضوع
بدلتے ہیں۔ سان فرانسسکو بے ایریا میں اتنی بڑی تعداد میں دیسی رہتے ہیں کہ ہر
اختتام ہفتہ پہ عام دلچسپی کے کءی پروگرام ہو رہے ہوتے ہیں۔ اتوار، مارچ دس بھی
ایک ایسا ہی روز تھا۔ اس روز صبح دس بجے آرگناءزیشن آف پاکستانی پروفیشنلز یعنی
اوپن کا ایک پروگرام ڈاکٹر خورشید قریشی
کے اعزاز میں تھا۔ خورشید قریشی صاحب مشی گن میں رہتے ہیں مگر ہر سال اپنی تنظیم
ڈاءس کے توسط سے پاکستان کی کسی ایک جامعہ میں ایسی نماءش کا اہتمام کرتے ہیں جس
میں طلبا اپنی نت نءی ایجادات لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اوپن کی تقریب میں
خورشید قریشی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں صنعتوں کا جامعات سے کچھ اس
طرح کا رشتہ بن جاءے کہ طلبا کی طرف سے پیش کی جانے والی کوءی بھی کارآمد
ٹیکنالوجی فوری طور پہ استعمال کی جا سکے اور صارفین کے کام آءے۔
اتوار کے روز ہی سان فرانسسکو بے
ایریا کے مایہ ناز صحافی عبدالستار غزالی صاحب کی کتاب 'اسلام اینڈ مسلمز ان پوسٹ
ناءن الیون امریکہ' کی تقریب رونماءی تھی۔ مغرب میں اسلام کو بہت پہلے سے شک کی
نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے مگر نو گیارہ کے واقعے کے بعد تو سارے تکلفات اٹھ چکے
ہیں۔ یہ بھی عجیب واقعہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس ملک کے جاپانی شہریوں کے
لیے نظربندی کیمپ قاءم کیے گءے تھے اور ان کیمپوں کی دردناک یادیں اب تک بہت سے
لوگوں کے دلوں میں ہیں۔ اگر دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی امریکیوں کو اس طرح
ظلم کا نشانہ نہ بنایا جاتا تو نو گیارہ
کے بعد بہت امکان تھا کہ مسلمان امریکیوں کو ہراستی کیمپوں میں بند کرنے کا کام
کیا گیا ہوتا۔
اتوار کی رات مہران ریستوراں میں
تحریک انصاف کی ایک تقریب تھی۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی تحریک انصاف کی قاءد فوزیہ
قصوری صاحبہ تھیں۔ فوزیہ قصوری نے اپنی تقریر میں کہا کہ چند ماہ میں آنے والے
پاکستانی انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کیا پاکستان صحیح راستے پہ چلنا
شروع ہوگا یا مستقل پستی کی طرف ہی جاتا رہے گا۔ فوزیہ قصوری کی تقریر کے بعد
عمران خان کے دستخط شدہ کرکٹ بلوں اور گیندوں کی فروخت ہوءی۔
Monday, March 04, 2013
عباس ٹاءون کراچی
مارچ چار، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو ستاءیس
عباس ٹاءون، کراچی
مارچ تین سے چند روز پہلے میں نے
فیس بک کی ویب ساءٹ کھولی تو حسب معمول وہی سوال سامنے آیا کہ ، "آپ کیا سوچ
رہے ہیں؟" کوءٹہ کے دھماکے کو چند ہفتے گزر چکے تھے اور میڈیا مرنے والوں کو
اور مرنے والوں کے لواحقین کو بھول چکا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب پاکستان میں
شیعہ آبادی کا اگلا قتل عام کب ہوگا۔ فیس بک کے سوال کے جواب میں کہ آپ کیا سوچ
رہے ہیں میں یہی بات لکھنا چاہتا تھا مگر پھر میں ٹہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ شاید
فروری سولہ کو کوءٹہ کا قتل عام شیعہ خون ریزی کا آخری واقعہ تھا۔ کہ شاید اب
حکومتی مشینری اور فوج حرکت میں آچکے ہیں اور ملک بھر میں خفیہ طور پہ لشکر جھنگوی
کے دہشت گردوں کے خلاف کارواءیاں ہورہی ہیں۔ مگر کراچی کے عباس ٹاءون میں تین مارچ
کو ہونے والے دھماکے نے ثابت کیا کہ میں غلطی پہ تھا۔ آج اگر دنیا پاکستان کو ایک
ناکام ریاست کہہ رہی تو غلط نہیں کہہ رہی۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اس ناکام ریاست
سے متعلق بین الاقوامی تشویش بھی بے جا نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت اور فوج ملک کے
اندر دہشت گردی کی وارداتوں کو روکنے میں مستقل ناکام رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ
دہشت گرد اتنے طاقتور ہیں کہ فوج اور حکومت میں شامل لوگ اور باہر بیٹھے سیاستدان
ان دہشت گردوں سے ڈرتے ہیں۔ ایک ناکام ریاست وہ ہوتی ہے جو ریاستی اثر صرف کمزور
پہ استعمال کر سکے۔ پاکستان آج ایک ایسی ہی ناکام ریاست ہے۔ اگر آپ پاکستان میں
رہتے ہیں اور کمزور ہیں تو آپ پہ تمام قوانین لاگو ہوتے ہیں اور کسی بھی قانون کو
توڑنے پہ آپ کو فورا جیل میں بند کردیا جاءے گا۔ لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو جو
چاہیں کریں، لوٹ مار بھی کریں اور قتل و غارت گری بھی کریں، آپ کو کوءی نہ پوچھے
گا۔
تین مارچ کے قتل عام کے بعد ایک
دفعہ پھر پاکستانی اخبارات تبصروں سے بھر گءے ہیں۔ ٹی وی مبصرین بھی اپنی اپنی
دکانیں چمکا رہے ہیں۔ مگر اہل تشیع میڈیا
کے اس راگ کے بہلاوے میں نہ آءیں۔ اسی طرح گانے والوں کے کسی بینڈ نے اگر شیعہ قتل
عام پہ ایک دلدوز گانا بنا بھی دیا تو کیا
ہوا؟ ان تبصروں سے، ہمدردی کے ان کلمات سے، ان غمگین گانوں سے اہل تشیع پہ ہونے
والا حملے نہیں رکیں گے۔ اہل تشیع تو یہ
فکر کریں کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے اگلے حملے سے کیسے بچیں کہ جس کا منصوبہ اس
وقت بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے دھماکہ خیز مواد بھی موجود ہے اور خود کش حملہ آور
بھی۔ اور اہل تشیع جان لیں کہ ان پہ حملہ کرنے والے لوگ بہت سفاک ہیں اور اپنے
تءیں مذہبی فرض کے تحت اہل تشیع پہ حملے کر رہے ہیں۔ یہ بھٹکے ہوءے لوگ سمجھتے ہیں
کہ وہ اہل تشیع کو مار کر جو ثواب کما سکتے ہیں وہ شاید حج کر کے بھی نہیں کما
سکتے۔ ایسے سفاک اور پرعزم دشمن کے حملے سے بچنے کے لیے بہت تدبیر کی ضرورت ہے۔ پاکستان
میں رہنے والے اہل تشیع کو اس وقت ایسے اداروں کی ضرورت ہے جن کا اہتمام عموما
ریاست کرتی ہے۔ ایسی تنظیم جو اہل تشیع کے علاقوں میں حفاظت کا ذمہ لے سکے۔ اس
تنظیم کے لوگ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے علاقے میں ہونے والی مشتبہ سرگرمیوں
پہ نظر رکھیں۔ فوج اور پولیس سے فارغ ہونے
والے اہل تشیع افراد کے ایسے گروہ جو جاسوسی کا کام کریں اور ان جگہوں تک پہنچ
جاءیں جہاں اہل تشیع پہ ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور کارواءی کے
انتظامات کیے جاتے ہیں۔ جرم کی ہر واردات اپنے پیچھے متعدد سراغ چھوڑ جاتی ہے۔
پاکستان کی ناکام ریاست شیعہ قتل عام کے ہر واقعے کے بعد جاءے واردات پہ موجود
سراغوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ اہل تشیع کے اندر سے اٹھنے والے گروہ اس بات کی
یقین دہانی کریں گے کہ ہر سراغ کا پیچھا کیا جاءے گا اور معاملے کی تہہ تک پہنچا
جاءے گا۔ واردات میں کونسا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا، یہ مواد کہاں بنتا ہے
اور دہشت گردوں تک کیسے پہنچتا ہے؟ دہشت گردی میں استعمال کی جانے والی گاڑی یا
ٹرک کہاں سے حاصل کیا گیا؟ دہشت گردی کی واردات میں کون لوگ ملوث تھے اور کون ان
کو احکامات جاری کر رہے تھے؟ سراغ رسانی میں ایسی دیدہ ریزی کے ذریعے دہشت گرد
تنظیموں کے اندر تک پہنچا جا سکتا ہے اور ان کا قلع قمع کرنے کی صورت نکالی جا
سکتی ہے۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اگر اہل تشیع نے اب بھی تدبیر کے بجاءے گریہ
وزاری اور داد وفریاد کا راستہ اپناءے رکھا تو قتل عام کے اگلے واقعے میں مرنے
والوں کاخون اہل تشیع کے قاءدین کے ہاتھوں پہ بھی دیکھا جا سکے گا۔
Monday, February 25, 2013
اسلامی جمہوریہ نہیں صرف جمہوریہ پاکستان
فروری پچیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چھبیس
اسلامی جمہوریہ نہیں صرف جمہوریہ
پاکستان
سال بھر پہلے میرا کراچی جانا ہوا تو میں نے
گھر میں موجود پرانے البم میں لگی ان تصاویر کو جن کے سفید کنارے وقت گزرنے کے
ساتھ پیلے پڑتے جا رہے تھے، البم سے نکال
کر اسکین کروالیا۔ اس طرح یہ تصاویر عددی [ڈیجیٹاءز] ہونے کے ساتھ محفوظ ہوگءیں۔
ان تصاویر میں میرے بچپن کی ایک تصویر ہے جو غالبا میری بسم اللہ کی تقریب پہ لے
گءی تھی۔ اس تصویر میں میری بہن اور میں ایک کھلے قرآن پہ انگلی رکھ کر ادب سے
بیٹھے ہیں۔ اس تصویر کو دیکھ کر مجھے خیال ہوتا ہے کہ بسم اللہ کی اس تقریب پہ
میری عمر پانچ برس رہی ہوگی۔ اس تقریب کے بعد مجھے مستقل قرآن پڑھایا گیا حتی کہ
میں نے قریبا نو سال کی عمر میں قرآن ختم کر لیا۔ یقینا اس موقع پہ آمین کی تقریب
بھی ہوءی ہوگی مگر اس تقریب کی کوءی تصویر موجود نہیں ہے۔ قرآن ختم کرنے کے بعد
میں گاہے بگاہے قرآن خوانی کی محفلوں میں شرکت کرتا رہا۔ ایسی محفلوں میں قرآن کسی
گزر جانے والے کے ایصال ثواب کے لیے پڑھا جاتا ہے۔ قرآن کے تیس پارے کمرے میں ایک
میز پہ رکھے ہوتے ہیں۔ قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے جیسے جیسے محفل میں آتے ہیں اس
وقت تک نہ پڑھے جانے والے سیپاروں میں سے ایک اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں حتی
کہ سارے سیپارے پڑھ لیے جاتے ہیں۔ اگر پڑھنے والے زیادہ ہوں تو قرآن کو ایک سے
زاءد بار ختم کیا جاتا ہے اور بہت فخر سے بتایا جاتا ہے کہ اس محفل میں کتنے قرآن
ختم ہوءے۔ قصہ مختصر یہ کہ میں نے بہت
دفعہ قرآن پڑھا مگر بغیر سوچے سمجھے۔ سچ پوچھیے تو آپ قرآن پڑھنے میں ایسی مہارت حاصل
کر سکتے ہیں کہ تیزگام کی رفتار سے قرآنی
آیات پڑھتے رہیں اور اپنے ذہن میں دوسرے ہی معاملات کو حل کرتے رہیں۔ پھر بہت وقت
گزر گیا اور میں نے قریبا تیس سال کی عمر میں از سرنو قرآن کو پڑھا۔ اب کی بار میں
نے قرآن کو اس علمی جستجو سے پڑھا جس جستجو سے میں نے گیتا پڑھی، یا افلاطون کی
ریپبلک اور میکیاویلی کی دی پرنس پڑھی۔ اور قرآن کے اسی مطالعے سے میں نے اس کے
متعلق ایک آزاد راءے قاءم کی، کسی مبلغ، کسی مولوی، کسی امام کی تفسیر سے متاثر
ہوءے بغیر۔ اس مطالعے سے مجھے یہ بات سمجھ میں آءی کہ قرآن اپنے موضوعات کی وسعت
کے حساب سے ایک بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں بہت سے تاریخی واقعات ہیں جن کو بیان
کرنے کا مقصد لوگوں کو عبرت دلانا اور ہوشیار کرنا ہے۔۔ تاریخی واقعات کے ساتھ
قرآن ایک ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ اللہ تعالی کن اعمال کو
پسند کرتا ہے اور کن باتوں کو پسند نہیں کرتا۔ کسی بھی مسلمان کی زندگی کا اصل
مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ یہ سمجھنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن وہ نسخہ کیمیا ہے
جو مسلمانوں کو اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونے کے طریقے بیان کرتا ہے۔ مگر ان
سب باتوں کے باوجود قرآن ایک واضح ہدایت کی کتاب نہیں ہے بلکہ عمومی ہدایت کی کتاب
ہے۔ مثلا اس ہدایت کے بارے میں غور کیجیے کہ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں
کرتا۔ یہ ایک بہت واضح ہدایت نہیں ہے کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ ظلم کی تعریف کیا
ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کا خیال ہو کہ ظلم کی تعریف سب پہ واضح ہے چنانچہ یہ
سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ظلم کیا ہوتا ہے۔ مگر میں اس راءے سے اختلاف کروں گا
اور یہ باور کروں گا کہ الفاظ کے معنی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔
ضروری نہیں کہ چودہ سو سال پہلے ظلم کے جو معنی تھے، آج بھی ظلم کے وہ معنی ہوں۔
ایک مثال سے اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ موجودہ عہد کی اخلاقی اقدار کے حساب
سے کسی انسان کا دوسرے انسان کو غلام بنا کر رکھنا بہت بڑا ظلم ہے۔ عقل حیران ہوتی
ہے کہ ان ظالموں کے ذہن کیسے بنتے ہیں کہ وہ اپنے جیسے ایک دوسرے انسان کو بغیر
اجرت دیے اپنا غلام بنا کر رکھیں، اس غلام کو اپنی ذاتی ملکیت خیال کریں اور غلام
کو کوءی ایسا موقع فراہم نہ کریں کہ وہ مالک کے چنگل سے نکل کر بھاگ جاءے۔ مگر آج
کی اخلاقی اقدار کے مقابلے میں چودہ سو سال پہلے کی اخلاقی اقدار کچھ اور تھیں۔ اس
وقت غلام رکھنا اور ان کی تجارت کرنا کوءی ظلم نہ تھا۔ اگر اس وقت غلامی کو ظلم
سمجھا جاتا تو یقینا قرآن میں جہاں شراب پینے کی ممانعت کی گءی ہے وہیں غلام بنانے
اور رکھنے کو بھی ممنوع قرار دیا جاتا۔ مختصرا یہ کہ قرآن ہدایت کی ایک واضح کتاب
نہیں ہے۔ اس بات کا بہت امکان ہے کہ اس میں موجود کسی ہدایت کو میں ایک نظر سے
دیکھوں اور آپ کے لیے اس کے معنی کچھ اور ہی ہوں۔ اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں بہت
سے فرقے ہیں۔ ان سب فرقوں کا قرآن ایک ہے۔ وہ جو تیس سیپاروں پہ مشتمل ہے، سورہ
فاتحہ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ الناس پہ ختم ہوتا ہے۔ مگر ایک قرآن پہ اتفاق کے
باوجود ان لوگوں کے نماز پڑھنے کے طریقے مختلف ہیں اور ان کے نزدیک اسلام کے حساب
سے زندگی گزارنے کے معنی بھی جدا ہیں۔ اس بات پہ یقینا شکر ادا کرنا چاہیے کہ
مسلمانوں کے سارے فرقے قرآن کی موجودہ ترتیب پہ متفق ہیں حالانکہ نہ قرآن میں یہ
بتایا گیا ہے کہ قرآن کو کس طرح ترتیب دیا جاءے اور نہ ہی رسول پاک نے اپنی زندگی
میں قرآن کو کسی خاص ترتیب سے پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔ واضح رہے کہ قرآن کی موجودہ
ترتیب اس کی نزولی ترتیب سے بالکل مختلف ہے؛ موجودہ ترتیب رسول پاک کی وفات کے بعد
بننا شروع ہوءی اور تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان ابن عفان کے دور حکومت میں اس
حتمی شکل میں پہنچی جس شکل میں آج ہم اسے پڑھتے ہیں۔ مختصرا یہ کہ قرآنی احکامات
کی عمومی نوعیت کو جانتے ہوءے آپ یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد اور خاص
طور سے احکامت شریعت سے متعلق مختلف اماموں کی منفرد تشریحات کے بعد دنیا میں کوءی
غیر متنازعہ اسلامی ریاست قاءم نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہ کی زندگی میں تو یہ سہولت موجود تھی کہ آپ ان سے
کسی بھی اسلامی حکم کی تفصیل معلوم کر سکتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد یہ آسانی
ختم ہوگءی۔ اب ہر فرقہ اپنی جگہ اپنے آپ کو بالکل ٹھیک خیال کرتا ہے۔ چنانچہ آج ہر
شخص جو کہہ رہا ہے کہ وہ 'اسلامی نظام' چاہتا ہے دراصل اپنی مرضی کا یا اپنے مسلک
کے حساب سے اسلامی نظام چاہتا ہے۔ دوسرے فرقوں کے لوگ بھلا ایک خاص مسلک کے حساب
سے بناءی گءی "اسلامی" ریاست میں کیوں رہنا چاہیں گے؟
آج پاکستان میں بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہاں
موجود مذہبی شدت پسندی کو کیسے ختم کیا جاءے۔ لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے برداشت
کیسے پیدا ہو؟ جواب بہت مشکل نہیں ہے۔ ہمیں تاریخی طور پہ دیکھنا ہو گا کہ ملک کی
سمت کب تبدیل ہونا شروع ہوءی اور ریاست مذہبی معاملات میں کب کودی۔ پاکستان کو
اسلام سے نتھی کرنے کا کام محمد علی جناح کی وفات کے بعد قرارداد مقاصد سے شروع
ہوا۔ معاملات بتدریج خراب ہوتے گءے۔ بات اور آگے بڑھی اور ریاست لوگوں کے سچے اور
جھوٹے مسلمان ہونے کے متعلق فیصلے کرنے لگی۔ ریاست کا نام بھی تبدیل ہوکر اسلامی
جمہوریہ پاکستان ہوگیا۔ پھر ریاست اس جھگڑے میں پھنسی کہ کن باتوں سے کس کے مذہبی
جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ ملک اس طرح
کی یا اس طرح کی "اسلامی ریاست" بن جاءے۔ اس کے مقابلے میں خاموش اکثریت
وہ ہے جو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد کوءی ریاست غیرمتنازعہ
'اسلامی ریاست' نہیں بن سکتی۔ اس لیے اس سراب کے پیچھے بھاگنا فضول ہے۔ پاکستان
میں ریاست کو مذہب سے الگ کرنا ہوگا اور ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان سے صرف
جمہوریہ پاکستان بنانا ہوگا۔
سان فرانسسکو بے ایریا میں اردو اکادمی کی ماہانہ نشست کیوں بند ہورہی ہے؟
سان فرانسسکو بے ایریا میں اردو اکادمی کی ماہانہ نشست کیوں بند ہورہی ہے؟
اب تک سان فرانسسکو بے ایریا میں اردو ادب کے شاءقین کے لیے اردو ادبی محفلوں میں شرکت کے دو راستے تھے۔ ایک وہ سہ ماہی یا چہار ماہی اردو محفل جو حمیدہ بانو چوپڑہ صاحبہ انڈیا کمیونٹی سینٹر میں باقاعدگی سے منعقد کراتی ہیں اور دوسری وہ ماہانہ ادبی نشستیں جن کا اہتمام اردو اکادمی کرتی ہے۔ اردو اکادمی کی محافل چاندنی ریستوراں میں منعقد کی جاتی ہیں۔ اردو اکامی کا انتظام تاشی ظہیر، خالد رانا، ڈاکٹر طاہر محمود، احمر شہوار، اور دوسرے ساتھی چلاتے ہیں۔ ان دونوں محافل میں یعنی انڈیا کمیونٹی سینٹر میں منعقد کی جانے والی محافل اور اردو اکادمی کی ماہانہ نشستوں میں شرکت کا کوءی ٹکٹ نہیں ہوتا۔ حاضرین سے کسی قسم کی رقم وصول نہ کرنے کے باوجود یہ محافل باقاعدگی سے ہوتی ہیں اور ان میں مہمانوں کی خاطر چاءے سموسے وغیرہ سے کی جاتی ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ان محافل کے اخراجات کیسے نکلتے ہیں۔ جواب آسان ہے۔ انڈیا کمیونٹی سینٹر کی اردو ادبی محافل کو اشرف حبیب اللہ صاحب کی مالی سرپرستی حاصل ہے۔ اشرف حبیب اللہ ایک کامیاب انجینءیرنگ کمپنی کے مالک ہونے کے ساتھ فنون لطیفہ کے دلدادہ بھی ہیں۔ وہ اپنی خوشی سے انڈیا کمیونٹی سینٹر میں منعقد کی جانے والی ہر اردو محفل کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ یہ اخراجات قریبا ڈھاءی سے تین ہزار ڈالر فی محفل ہوتے ہیں۔ چنانچہ بھاگ دوڑ اور مواد کی تیاری کی محنت حمیدہ بانو صاحبہ اور انل چوپڑہ صاحب کی ہوتی ہے اور پیسہ اشرف حبیب اللہ صاحب کا لگتا ہے۔ ہر محفل میں ڈیڑھ سو سے ڈھاءی سو لوگ شریک ہوتے ہیں، اچھی شاعری سن کر، سموسے کھا اور چاءے پی کر چلے جاتے ہیں۔ اکا دکا ہی ہوتے ہیں جو ہمدردی میں حمیدہ بانو صاحبہ سے پوچھتے ہیں کہ آخر یہ محافل کب تک اشرف حبیب اللہ کا احسان لیتی رہیں گی اور اخراجات پورا کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ انڈیا کمیونٹی سینٹر کی اردو محافل کے مقابلے میں اردو اکادمی کی محافل کو کسی ایک متمول شخص کی سرپرستی حاصل نہیں ہے۔ بہت عرصے تک تو تاشی ظہیر صاحب، خالد رانا صاحب اور ان کے دوسرے ساتھی اپنی جیب سے ان محافل کے اخراجات پورے کرتے رہے۔ پھر یہ محافل چاندنی ریستوراں میں منعقد کی جانے لگیں۔ وہاں ان محافل کو چاندنی ریستوراں کے مالک سید ثروت صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ بیٹھنے کا انتظام بھی مفت تھا اور چاءے سموسے بھی ثروت صاحب کی مہربانی سے میسر تھے مگر اردو اکادمی کے منتظمین کے ذہنوں میں شروع سے یہ بات واضح تھی کہ ثروت صاحب کے اس احسان سے جلد از جلد نکل آنا ہے۔ اردو اکادمی کو اپنے پاءوں پہ یوں کھڑا کردینا ہے کہ اس میں باقاعدگی سے شرکت کرنے والے لوگ ماہانہ یا سالانہ چندہ دیں اور اس آمدنی سے چاندنی ریستوراں کو ماہانہ نشست کے اخراجات کی رقم دی جا سکے۔ مگر اب تک ایسا نہ ہو پایا ہے۔ گنتی کے تین یا چار لوگ اردو اکادمی کو باقاعدگی سے چندہ دیتے ہیں۔ ہر دفعہ قریبا سو لوگ اردو اکادمی کی محفل میں شرکت کرتے ہیں، اچھا اردو ادب سنتے ہیں اور چاءے سموسے سے استفادہ کر کے چلے جاتے ہیں۔ اس صورت میں اردو اکادمی کے منتظمین سید ثروت صاحب کا احسان براہ راست اپنے اوپر محسوس کرتے ہیں۔ یہ منتظمین اب اس صورت سے اردو اکادمی چلانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر لوگوں کا خیال ہے کہ اردو اکادمی کی ماہانہ نشست جاری رہنی چاہیے تو وہ آگے بڑھ کر اخراجات کا حساب کریں، مل کر رقم جمع کریں، اور اردو اکادمی کا مالی انتظام سنبھالیں۔
Labels: Dr. Tahir Mahmood, Khalid Rana, Tashi Zaheer, Why Urdu Academy of North America will no longer hold its monthly meetings
Monday, February 18, 2013
ہزارہ کے نام ایک کھلا خط
فروری اٹھارہ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو پچیس
ہزارہ کے نام ایک کھلا خط
اے کوءٹہ کے ہزارہ لوگو، آپ کو ایک
عرصے سے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سالوں سے یوں ہوتا ہے کہ موٹرساءیکل
پہ سوار دو مسلح افراد آتے ہیں اور آپ میں سے چند افراد کو موت کے گھاٹ اتار کر
اطمینان سے فرار ہوجاتے ہیں۔ جب ان ظالموں کی پیاس ایک دو قتل سے نہیں بجھتی تو یہ
دھماکہ خیز مواد کا پورا ٹرک آپ کے محلے میں لاتے ہیں اور دھماکہ کر کے کبھی
درجنوں اور کبھی سینکڑوں لوگوں کو ایک ساتھ موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔ قتل و غارت
گری کی ہر واردات کے بعد یہ اطمینان سے کسی اخبار، کسی ٹی وی اسٹیشن کو فون کر کے
خون ریزی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ آپ کے قاتل ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یہ لشکر
جھنگوی، سپاہ صحابہ، جماعت الدعوی جیسی تنظیموں کے لوگ ہیں جو کھل کر کہتے ہیں کہ
وہ پاکستان سے شیعہ کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔ ان تنظیموں کے کارکنوں کو اگر کبھی
پکڑ بھی لیا جاتا ہے تو کچھ ہی دنوں میں یہ چھٹ جاتے ہیں اور پہلے سے زیادہ سفاکی
سے آپ پہ حملے کرتے ہیں۔
اس ظلم و ستم کے جواب میں آپ انصاف
مانگنے کا ہر وہ طریقہ اپنا چکے ہیں جو مہذب لوگ اپنا سکتے ہیں۔ آپ نے صدر
پاکستان، وزیر اعظم، چیف جسٹس، جواءنٹ چیف آف آرمی اسٹاف سمیت پاکستان کے تمام
باثر لوگوں کو خط لکھے اور ان سے مدد کی درخواست کی۔ ان درخواستوں سے آپ کے حالات
میں کیا تبدیلی آءی؟ کچھ نہیں۔ آپ نے ہر
قتل کے بعد مظاہرے کیے، دھرنے دیے۔ آپ کی حمایت میں پاکستان کے کءی شہروں میں اور
مغربی دنیا کے کءی شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوءے۔ ان مظاہروں سے، ان دھرنوں سے آپ کو کیا
ملا؟ کچھ نہیں۔ جنوری دس کے جڑواں دھماکوں
کے بعد آپ اپنے سو سے زیادہ پیاروں کی لاشوں کو لے کر شدید سردی میں کوءٹہ کی
سڑکوں پہ کءی دن بیٹھے رہے؛ آپ کا مطالبہ تھا کہ نااہل صوباءی حکومت کو چلتا کیا
جاءے۔ اپنی معصومیت میں آپ کا خیال تھا کہ صوباءی حکومت کے ہٹتے ہی آپ کے دن پھر
جاءیں گے۔ آپ کے مطالبے کی حمایت میں پورے پاکستان میں مظاہرے ہوءے۔ اسلم رءیسانی
کی نام نہاد صوباءی حکومت کی چھٹی کر دی گءی اور بلوچستان میں گورنر راج قاءم
ہوگیا۔ مگر اس گورنر راج سے آپ کو کیا ملا؟ کچھ نہیں۔ کیا گورنر راج سے آپ پہ ہونے
والے حملے بند ہوگءے؟ ہرگز نہیں۔ اس کے برعکس فروری سولہ کے روز آپ پہ جنوری دس کے
حملے کے مقابلے میں زیادہ بڑے دھماکہ خیر مواد کے ساتھ حملہ کیا گیا۔ آپ ایک دفعہ
پھر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر آپ اپنے پیاروں کی لاشوں کو لیے سڑکوں پہ
بیٹھے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ آپ مرنے والوں کو اس وقت تک نہیں دفناءیں گے جب تک کہ
کوءٹہ پاکستانی فوج کے حوالے نہیں کر دیا جاتا۔ یہ مطالبہ اچھا ہے اور اس طرح
آءندہ ہونے والی کسی دہشت گردی کی واردات کی ذمہ داری پوری طور پہ پاکستانی فوج پہ
ہوگی۔ مگر آپ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ کوءٹہ فوج کے زیرانتظام آنے کے بعد آپ کی
زندگیوں میں سکون آجاءے گا۔ اس وقت بھی بلوچستان عملی طور پہ فوج کی تحویل میں ہی
ہے۔ اس انتظام سے آپ کو کیا مل رہا ہے؟ کچھ نہیں۔ اور اسی طرح کراچی، لاہور، اسلام
آباد، اور دنیا بھر میں موجود اپنے حامیوں کی ہمدردیوں سے؛ یا فلانا سیاست داں کے
مذمت کے بیان سے اور ڈھمکانا خان کی پریس کانفرینس سے بھی آپ کو کچھ نہیں ملنے
والا۔
وقت آپ سے کچھ اور تقاضہ کر رہا
ہے۔ اور وہ تقاضہ یہ ہے کہ آپ پہلی فرصت میں ملک و حکومت و فوج پہ اپنا اعتماد
بالکل ختم کردیں۔ یا تو یہ لوگ بالکل نااہل ہیں یا دراصل یہ خود ہی آپ کے دشمنوں
سے ملے ہوءے ہیں۔ ان سے دادرسی بالکل بیکار ہے۔ جہاں اس تازہ ترین دھماکے نے سینکڑوں
لوگوں کی جانیں لی ہیں وہیں دھماکے کی آواز نے ملک کی تباہی اور آپ کی آزادی کا
اعلان کر دیا ہے۔ کسی بھی ریاست کا سب سے بنیادی مقصد ریاست کے اندر رہنے والے
لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ جو ریاست اس سب سے بنیادی مقصد میں ناکام ہے وہ
دراصل اپنے وجود کا حق کھو چکی ہے۔ آپ کی حفاظت میں واضح اور مسلسل ریاستی ناکامی
کے بعد اب آپ ایک آزاد قوم ہیں۔ آپ آزاد قوم کی طرح سوچیں اور اپنے تمام انتظامات
خود کریں- شکستہ سیاسی و ملکی ڈھانچے پہ
انحصار کرنا چھوڑ دیں۔ وہاں سے آپ کو سواءے ناامیدی کے کچھ نہیں ملے گا۔ اور اپنی
اس نءی آزادی کو آپ ریاست سے بغاوت ہرگز خیال نہ کریں۔ آپ کے دشمن ریاست کے ہر
قانون کو توڑتے ہوءے اپنی بغاوت کا اعلان بہت پہلے کر چکے ہیں۔ پھر آپ کو شکستہ
خوردہ سیاسی نظام سے وفادار رہنے کی کیا ضرورت ہے؟
اب اپنے لوگوں کے لیے آپ کو وہ
سارے کام خود کرنے ہیں جو کوءی بھی مہذب حکومت و ریاست کرتی ہے۔ ان کاموں میں
اولین کام اپنے لوگوں کی حفاظت ہے۔
آپ اپنے لوگوں میں سے ایک جماعت
چنیں جو ہزارہ افراد کی بہبود کا کام کرے۔ آپ کو محنت سے، رقم خرچ کر کے، اپنے
علاقے کے گرد چہاردیواری کھینچ کر، جگہ جگہ کمیرے لگا کر، فاصلے فاصلے سے چوکیاں
بنا کر اپنی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ آپ کو اپنے لوگوں میں سے چن کر اپنے علاقے
میں پولیس کا انتظام کرنا ہے۔ آپ کو اس طرح سے قلعہ بند ہو کر رہنا ہے کہ آپ کے
علاقے میں آپ کی مرضی کے بغیر نہ کوءی گاڑی آسکے اور نہ کوءی فرد۔ آپ کو اپنے ہم خیال شیعہ اور سنی گروہوں سے
رابطے بڑھانے ہیں تاکہ ان رابطوں سے آپ اپنے دشمنوں کے گروہوں کے اندر تک پہنچ
سکیں اور اپنے خلاف ہونے والی کسی سازش کو پہلے ہی دریافت کر لیں۔ یہ کام مشکل ہے
مگر کسی بھی ناکام ریاست میں صرف ان لوگوں کو جینے کا حق ملتا ہے جو ہر مشکل سے
گزرتے ہوءے اپنے جینے کا سامان کرتے ہیں۔
قصہ مختصر اب تنگ آمد، بجنگ آمد کی صورتحال ہے۔ مستقل
کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جانے سے بہتر ہے کہ اپنے لوگوں، اپنے علاقے کا انتظام آپ خود
سنبھالیں اور اپنی گردن کی طرف بڑھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ دینے کی طاقت پیدا کریں۔
Wednesday, February 13, 2013
بنانا ایٹم بم اور کھانا گھاس
فروری گیارہ، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چوبیس
بنانا ایٹم بم
اور کھانا گھاس
میں نے اب تک بریگیڈیر فیروز حسن
خان کی کتاب "ایٹنگ گراس" [گھاس کھانا] نہیں پڑھی ہے۔ کل اس کتاب کی
تقریب رونماءی فریمونٹ کے ہوٹل میریاٹ میں ہوءی تھی۔ اس محفل کا انتظام صباحت رفیق
اور نوید شیروانی نے کیا تھا۔
فیروز حسن خان کی کتاب پاکستان کے
ایٹمی پروگرام پر ہے اور اس موضوع پہ یہ ایک کتاب گراں قدر اضافہ ہے کیونکہ
پاکستان کے جوہری پروگرام پہ لکھی بیشتر کتابیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے
ہیں۔ یہ کتابیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کچھ ایسے بگاڑ کر پیش کرتی ہیں کہ
معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک لالچی ساءنسدان ہیں جنہوں نے ایٹمی راز
مغرب سے چراءے، ان کی مدد سے پاکستان کے لیے ایٹم بم بنایا، اور پھر اس ٹیکنالوجی
کو دوسرے ملکوں کو بیچ کر کماءی کرنا شروع کردی۔
کل کی تقریب میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ شریک ہوءے تھے۔ کافی دیر استقبالیے کا
دور چلا جس میں لوگ سموسے اور بولانی کھاتے رہے اور فیروز حسن خان صاحب لوگوں کی
خریدی گءی کتابوں کو اپنے دستخط سے سنوارتے رہے۔ کتاب کی تقریب رونماءی کی نظامت
صباحت رفیق صاحبہ نے کی۔ انہوں نے 'ایٹنگ گراس' کا ایک جامع تعارف پیش کیا اور
صاحب کتاب کا تعارف بھی کرایا۔ فیروز حسن خان صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اس
کتاب کی تصنیف کا خیال انہیں اس وقت آیا جب ایک موقع پہ انہوں نے پرویز مشرف سے
سوال کیا کہ پرویز مشرف کی زندگی میں سب سے مشکل دور کونسا تھا۔ اس وقت پرویز مشرف
پاکستان کی باگ ڈور سنبھالے ہوءے تھے۔
پرویز مشرف کی آسانی کے لیے فیروز خان نے مشرف کے سامنے آنے والے پانچ مشکل
مرحلوں کی نشاندہی پہلے ہی کردی۔ یہ پانچ مراحل تھے: کارگل کی جنگ، سنہ اٹھانوے کی
فوجی بغاوت، نوگیارہ کا واقعہ اور اس سے متعلق پاکستان پہ امریکی دباءو، سنہ دو
ہزار دو میں ہندوستان کا اپنی بیشتر فوج پاکستان کی سرحد پہ لگادینا، اور ڈاکٹر
عبدالقدیر خان سے متعلق سامنے آنے والا اسکینڈل۔ فیروز خان کا کہنا تھا کہ پرویز
مشرف نے فورا جواب دیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اسکینڈل ان کی زندگی کا سب سے
مشکل دور تھا۔ فیروز خان نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام پہ ایک
ایسی کتاب لکھنی چاہیے جو تمام واقعات کا احاطہ کرے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام
کو بالکل شروع سے موجودہ دور تک بیان کرے۔ اپنی تقریر میں فیروز خان نے اعتراف کیا
کہ ان کی کتاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اسکینڈل کو خاص جگہ نہیں دے گءی ہے۔
فیروز خان کے مطابق اس موضوع پہ پہلے ہی کءی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اس لیے انہوں
نے اس پہ اور کچھ لکھنا اور اپنی کتاب میں شامل کرنا ضروری محسوس نہیں کیا۔ فیروز
حسن خان نے بتایا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام سنہ ترانوے میں فوج کے حوالے کیا
گیا تھا اور اس وقت سے فیروز خان اس پروگرام سے وابستہ رہے۔ فیروز حسن خان کی
تقریر کے بعد سوال و جواب کا دور شروع ہوا۔ سوال و جواب کے مرحلے میں ڈاکٹر سید
رفعت حسین صاحب کی موجودگی سے بھی استفادہ کیا گیا۔ رفعت حسین پاکستان کے مایہ ناز
سیکیورٹی ایکسپرٹ ہیں اور اس وقت جامعہ اسٹینفرڈ میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے
فراءض انجام دے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں فیروز خان نے اعتراف کیا کہ پاکستان
نے سنہ اٹھانوے میں کیے جانے والے ایٹمی دھماکوں کا صحیح فاءدہ نہیں اٹھایا۔ ایٹمی
ہتھیاروں کی موجودگی نے پاکستان کے دفاع کو ناتسخیر بنا دیا تھا۔ اس صورت میں
پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ دفاع سے قریبا بے فکر ہو کر اپنی معاشی ترقی پہ بھرپو
توجہ دیتا۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اس وقت پاکستان اندر سے ایک نہایت کمزور
ریاست ہے۔ فیروز خان کا کہنا تھا کہ ایک تعداد کے بعد مزید ایٹمی ہتھیار بنانا بے
وقوفی ہے کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کو سنبھال کر رکھنے پہ بڑی رقم خرچی ہوتی ہے اور
زیادہ بڑی تعداد میں موجود ایٹمی ہتھیاروں کو سنبھا کر رکھنا نہایت مہنگا عمل ہے۔ فیروز
خان کا کہنا تھا کہ سنہ اٹھانوے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا پاکستانی فوج پہ
دباءو تھا کہ پاکستانی فوج براہ راست ان سمندر پار پاکستانیوں سے عطیات وصول کرے
اور ان عطیات کی مدد سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھاءے۔ ان لوگوں کو
پاکستان کی سویلین حکومت سے زیادہ پاکستانی فوج پہ اعتماد تھا۔ فیروز خان کے مطابق فوج نے یہ پیشکش ٹھکرادی اور
کہا کہ عطیات جمع کرنے کا کام سویلین حکومت کا ہے۔ اسی وقت سویلین حکومت نے ڈالر
اثاثے مجنمد کیے جس کی وجہ سے زرمبادلہ ملک کے اندر آنے کے بجاءے باہر جانے لگا۔ فیروز
خان کا کہنا تھا کہ اس کی برعکس صورتحال ہندوستان میں تھی جہاں ملک سے باہر رہنے
والے ہندوستانیوں کو اپنی حکومت پہ اعتماد تھا اور انہوں نے اپنے ملک کے ایٹمی
پروگرام کی مدد کی نیت سے عطیات ہندوستان بھیجے۔
Labels: Book on Pakistan's Nuclear Program, Brigadier Feroz Hassan Khan, Eating Grass, Fremont, Naveed Sherwani, Sabahat Rafiq
Tuesday, February 05, 2013
اداس ہونے کے دن
فروری چار، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو تءیس
اداس ہونے کے
دن
معروف
شاعرہ نوشی گیلانی کی ایک کتاب 'اداس ہونے کے دن نہیں ہیں' کے عنوان سے ہے۔ مجھے اس
کتاب کا عنوان اچھا لگتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مختصر سی زندگی میں اداسی میں
وقت کھونے کا کیا فاءدہ؟ اور اسی وجہ سے میں بہت محنت سے خوشیاں جھور کر رکھتا
ہوں۔ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ساتویں آسمان پہ چلتا رہتا ہوں۔ صبح چھلانگ مار کر بستر سے نکلتا ہوں اور اپنے
من پسند کاموں میں جٹ جاتا ہوں۔ نوکری نہیں کرتا کہ میں کسی نوکری میں خوش نہیں رہ
سکتا۔ غرض کہ پوری کوشش سے مختصر حاجات
والی ایسی زندگی گزارتا ہوں جس میں زیادہ سے زیادہ خوش رہ سکوں۔ مگر کیا کیجیے کہ
کبھی کبھی کراچی کا کوءی اخبار آءن لاءن پڑھ لیتا ہوں۔ اگر یہاں امریکہ میں رہتے
ہوءے آپ کو پانی اور بجلی کی فراہمی میں کوءی دقت نہ ہو، ٹریفک کے تمیز سے چلنے پہ
آپ خوش ہوں، اور یہ سمجھ کر بھی خوش ہوں کہ اس ملک میں جو سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہوتی
رہتی ہے اس میں تشدد کا کوءی دخل نہیں ہے، مگر چاہیں کہ غم کی ماری دنیا کی طرف
بھی ایک نظر کر لیں تو بس تھوڑی دیر کے لیے پاکستان کا کوءی اخبار پڑھ لیں۔ ذرا سی
دیر میں غموں کی بوچھاڑ برچھیوں کی تیز انیوں کی طرح آپ کی روح میں پیوست ہو جاءے
گی۔ دو دن پہلے جنگ کراچی میں یہ خبر
پڑھی۔
کراچی میں فاءرنگ کے مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگءے۔ تفصیلات کے مطابق
پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹاءون سیکٹر ساڑھے گیارہ رحمت چوک کے قریب
نامعلوم ملزمان کی فاءرنگ سے ۳۵ سالہ نیر شہاب ولد شہاب الدین ہلاک ہوگیا۔ پولیس
کے مطابق مقتول اپنی بیٹی کو اسکول چھوڑ کر واپس گھر جارہا تھا جب اسے فاءرنگ کا
نشانہ بنایا گیا۔
یہ خبر پڑھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں سارا دن ایک معصوم بچی کے چہرے کو اپنے
ذہن سے نہ ہٹا پایا جو اسکول میں یہ جانے بغیر پڑھ رہی تھی کہ اس کے باپ پہ گولیاں
برساءی گءیں ہیں۔ نیر شہاب کو نہ جانے کتنی گولیاں ماری گءیں؟ نہ جانے نیر شہاب
زخموں سے تیزی سے خون بہنے کی وجہ سے جاءے واردات پہ ہی مر گیا یا اسے زخمی حالت
میں اسپتال لے جایا گیا اور اس نے اسپتال جا کر دم توڑا؟ نیر شہاب اپنی بچی کے
اسکول سے کتنے فاصلے پہ تھا جب اسے مارا گیا؟ کیا فاءرنگ کی آواز اسکول میں سنی
گءی؟ کیا فاءرنگ کی آواز سن کر استانیوں
نے جلدی سے کمروں کے دروازے بند کر لیے اور بچے بچیوں کو کلاس سے باہر جانے سے روکا؟
کیا استانیوں نے سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے کہا کہ 'اللہ خیر کرے، نہ جانے کون ان
گولیوں کا نشانہ بنا ہے؟' وہ جو ساحر نے حاکم وقت سے سوال کیا تھا کہ،' یہ کس کا
لہو ہے، کون مرا؟' پھر نیر شہاب کی بچی کو
یہ کب بتایا گیا ہوگا کہ تھوڑی دیر پہلے جو فاءرنگ ہوءی تھی اس میں تمھارا باپ
مارا گیا ہے؟ اور اب اس بچی کا کیا بنے گا؟ وہ چھوٹی سی بچی اتنا بڑا غم کیسے
برداشت کرے گی؟ اور اس بچی کو سمجھانے والے لوگ کن الفاظ میں بچی کو سمجھاءیں گے
کہ اس کے باپ کو کیوں مارا گیا؟
کوءی ہے جو ان گھروں میں جا کر پیچھے رہ جانے والوں کا حال احوال معلوم کرے،
جن گھروں کے کفیل کو بے دردی سے ہلاک کر دیا گیا ہے؟ پھر ٹارگٹ کلنگ کے نہ تھمنے والے واقعات کے
ساتھ ساتھ بم دھماکے بھی ہیں۔ ان بم دھماکوں میں ایک ساتھ کتنے ہی خاندانوں کے
چراغ گل کر دیے جاتے ہیں۔ کوءی ان کو بھی پوچھنے والا ہے؟ بم دھماکوں کی وارداتوں
میں جڑواں دھماکوں کے واقعات سب سے زیادہ موذی ہیں۔ جڑواں دھماکوں میں پہلے ایک
نسبتا چھوٹا دھماکہ کیا جاتا ہے۔ جب اس دھماکے کے رد عمل میں مدد کرنے والے لوگ،
پولیس کا عملہ، ہنگامی طبی امداد کا عملہ، اور صحافی دھماکے کی جگہ پہ پہنچتے ہیں
تو دوسرا بڑا دھماکہ کیا جاتا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ جڑواں دھماکوں کے واقعات نے لوگوں کے دلوں میں
یقینا ایسا خوف بھر دیا ہوگا کہ وہ ایک دھماکے کی خبر سن کر جاءے واردات پہ جانے
سے گریز کریں گے کہ نہ جانے کتنے وقفے کے بعد ابھی اس جگہ دوسرا دھماکہ بھی ہونا ہے۔ تو ایسی صورت میں پولیس، طبی امداد کا عملہ،
اور صحافی کیا کریں؟ کیا پہلے دھماکے میں مرنے والوں اور زخمیوں کو جاءے واردات پہ
ہی چھوڑ دیں؟ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور
دہشتگردی کے واقعات جس تواتر سے ہو رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس ناکارہ
ہے اور مجرم بے خوف۔ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے کہ ہر جرم کی واردات اپنے پیچھے
بہت سارے اشارے اور نشانیاں چھوڑ جاتی ہے۔ ان نشانیوں کی مدد سے اگر مجرم تک نہ
بھی پہنچا جاءے تو کم ازکم ایسے اقدامات ضرور کیے جاتے ہیں کہ آءندہ اس جیسی
واردات ہونا مشکل ہو جاءے۔ مگر کراچی میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں تواتر سے بالکل ایک
طرح کی وارداتیں ہوتی ہیں اور کوءی نہیں پکڑا جاتا۔ تو پھر ایسے میں کیا کیا
جاءے؟ ایسی صورت میں کہ جب حکومت امن عامہ
قاءم رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کا انتظام خود
کریں۔ اور حفاظت کا یہ انتظام انفرادی طور پہ نہ ہو بلکہ محلے کی سطح پہ ہو۔ جہاں
اور اخراجات کرتے ہیں وہاں سرویلینس کیمروں پہ بھی رقم خرچ کریں۔ قاتلوں کا چہرہ
کھل کر سامنے آجاءے۔ پہلے مرحلے میں اتنا تو ہو؛ اتنا کرنا تو شہریوں کے بس میں ہے۔ قاتلوں کو پکڑنے کا
اور انہیں سزا دینے کا مرحلہ پھر آگے آءے گا۔
Labels: Nayyar Shahab killed near Rehmat Chowk in Sector-11½ of Orangi Town
Tuesday, January 29, 2013
سفر پاکستان سے چند مشاہدات
جنوری اٹھاءیس، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو باءیس
سفرپاکستان سے
چند مشاہدات
بہت پہلے کسی جگہ لکھا تھا کہ اگر جہانگردی
کا شوق ہو تو آپ کی عمر تو پوری ہو سکتی ہے، آپ سے دنیا پوری نہیں ہوسکتی۔ آپ کبھی
یہ دعوی نہ کرپاءیں گے کہ آپ نے دنیا دیکھ لی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قریبا
پانچ سال میں ہر جگہ بدل کرایک نیا روپ دھار لیتی ہے۔ چنانچہ ایک ملک کو دیکھ کر
جب آپ آگے بڑھ جاءیں گے تو پانچ سال میں وہ ملک پھر سے ایک نیا ملک بن جاءے گا۔ میں تقریبا ہر سال ہی پاکستان جاتا ہوں مگر
کراچی میں پلنے بڑھنے کے باوجود اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ آج کا کراچی وہ کراچی نہیں
ہے جو میرے ماضی کا تھا۔ آج کا کراچی دنیا کی خطرناک ترین جگہوں میں سے ایک ہے
جہاں اسلحے کی فراوانی ہے اور ہر بے روزگار کے پاس ایسے مواقع موجود ہیں کہ وہ
باآسانی اسلحہ حاصل کرے اور اپنے روزگار کا انتظام خود کر لے۔ میں یہ تو نہیں کہوں
گا کہ میں کراچی جاتا ہوں تو گھر میں مقید ہو کر رہتا ہوں مگر ایسا ضرور ہے کہ
باہر نکلتے ہوءے کءی بار سوچتا ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ باہر جانے کی ضرورت کم سے کم
پڑے اور اگر باہر جانا ہو بھی تو ایک محفوظ جگہ سے نکل کر جلد از جلد دوسری محفوظ
جگہ پہنچ جاءوں۔ یعنی میری یہ آزادی کہ کھل کر آوارہ گردی کروں اور رات گءے تک
سڑکیں ناپتا رہوں، اب ماضی کا حصہ بن گءی ہے۔ مگر پورا پاکستان کراچی جیسا خطرناک
نہیں ہے۔ پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں کہ خیبر میل سے میرپور ماتھیلو گیا تھا۔
میرپور ماتھیلو میں اپنے جگری دوست غلام نبی کے گھر ٹہرا تھا۔ وہ فوجی کھاد فیکٹری
میں کام کرتے ہیں اور اسی کی ٹاءون شپ میں رہتے ہیں۔ فیکٹری کی وہ ٹاءون شپ
پاکستان کا بہترین رہاءشی علاقہ ہے۔ وہاں پانی اور بجلی ہمہ وقت موجود ہے اور
ٹاءون شپ کے اندر آپ کو کسی قسم کا ڈر نہیں ہے۔ غلام نبی نے مجھے اپنی گاڑی میں
صادق آباد کے بس اڈے پہ چھوڑ دیا تھا۔ اس سفر میں ہم نے سندھ اور پنجاب کی سرحد
پار کی اور اس خطرناک راستے سے گزرے جو راہ زنوں میں مقبول ہے۔ میں صادق آباد سے
ڈے وو کی بس سے بذریعہ بہاولپور ملتان پہنچا۔ ملتان میں ایک ہوٹل میں رات گزاری
اور اندازہ ہوا کہ گرد، گدا، گرما، گورستان کا شہر جنوری کے مہینے میں انتہاءی سرد
بھی ہوسکتا ہے۔ ہوٹل کے کمرے میں مجھے بجلی کا ایک ہیٹر دیا گیا تھا مگر اس رات
درجہ حرارت نقطہ انجماد کو چھو رہا تھا اور میں ساری رات سردی سے ٹھٹھرتا رہا۔ ملتان پہنچ کر اپنا سامان ہوٹل کے کمرے میں ڈھیر
کرنے کے بعد میں دو کیمرے لے کر اندرون شہر گیا تھا۔ وہاں گھنٹہ گھر کی تصاویر
کھینچیں اور پھر رکن الدین عالم کے مزار پہ گیا۔ اس زیارت سے نکلنے کے بعد میں نے
ایک رکشہ لیا اور رکشے والے سے کہا کہ وہ مجھے کھانے کے لیے کسی اچھی جگہ لے جاءے۔
اس نے مجھے ٹیسٹی ریستوران پہنچا دیا۔ ٹیسٹی کا بالاءی ہال، جو یقینا آرام دہ
ہوگا، آل و عیال والوں کے لیے مخصوص تھا۔ چھڑے حضرات نیچے سردی میں کھانا کھا رہے
تھے۔ مجھے بھی وہیں بیٹھنا پڑا۔ یوں تو ٹیسٹی کے پاس انواع واقسام کے کھانے تھے مگر
بدون گوشت طعام کا انتخاب محدود تھے۔ میں نے شاہی دال نان کے ساتھ کھاءی اور ساتھ
چاءے پی۔ ٹیسٹی ریستوراں پہنچنے سے پہلے میں نے رکشے والے سے پوچھا تھا کہ آیا
ملتان میں اس طرح رات کے وقت آوارہ گردی کرنے میں کوءی خطرہ تو نہیں ہے۔ اس کا
کہنا تھا کہ ملتان میں اس قسم کی کوءی لوٹ مار نہیں ہے جیسی کراچی میں ہے۔ اگلے
روز ملتان سے لاہور جانا تھا مگر میں نے بارہ بجے والی جس بس کا ٹکٹ لیا تھا وہ
میرے بس اڈے پہنچنے سے بہت پہلے نکل چکی تھی۔ یہ قصہ یوں ہے کہ صبح ناشتہ کمرے میں
کرنے کے بعد میں ایک دفعہ پھر سیر کے لیے نکلا۔ ملتان کی مرکزی لاءبریری گھنٹہ گھر
کی عمارت میں منتقل ہوچکی ہے۔ پہلے اس لاءبریری کو اچھی طرح دیکھا۔ وہاں قطار در
قطار اسلامی کتب تھیں۔ اسلام کا سیکشن ختم ہوا تو اقبالیات کا سیکشن شروع ہوگیا
اور بس کہانی ختم۔ منتظم سے پوچھا کہ آیا شہر کے اس سب سے بڑے کتب خانے میں اسلام
اور اقبالیات کے علاوہ بھی کتابیں ہیں۔ کوءی طبیعیات، کوءی کیمیا، کوءی ارضیات پہ
کتاب ہو تو دکھاءو۔ اس نے بتایا کہ ایسی کتابیں مقبول نہیں ہیں۔ اسلام اور اقبال
ہی کی مانگ ہے۔ دنیا کے جھمیلوں والی وہ فضول کتابیں کتب خانے کے پچھلے بند کمروں
میں موجود تھیں۔ گھنٹہ گھر سے نکلنے کے بعد باغ قاسم کی طرف چلا۔ پہاڑی پہ واقع
رکن الدین عالم اور دوسرے مزاروں کو باہر سے دیکھا، ساتھ ہی ملبے کے اس ڈھیر کو
بھی دیکھا کہتے ہیں کہ جہاں کبھی ایک خوب صورت ہندو مندر ہوا کرتا تھا۔ وہاں سے
نیچے اترا اور پیدل چلتا ہوا شمس تبریزی سبزواری کے مزار پہ پہنچ گیا۔ اس مزار پہ
مجھے ایک قوال مل گیا۔ مجھے اس کی آواز پسند آءی چنانچہ میں نے اس کی ویڈیو بنانا
شروع کی۔ پھر کیا تھا وہ اور جذباتی ہو گیا اور اس نے مجھے ایک کے بعد ایک مقبول
عام قوالی سناءی۔ اب جو گھڑی دیکھی تو گیارہ سے اوپر کا وقت تھا۔ شمس تبریزی سے
نکلنے کے بعد ایک رکشہ پکڑا اور ہوٹل کی طرف چلا۔ مگر ملتان چھوڑنے سے پہلے ملتان
کی سوغات یعنی سوہن حلوہ خریدنا بھی ضروری تھا۔ سوہن حلوہ خرید کر ہوٹل پہنچا،
کمرے سے سامان اٹھایا اور ڈے وو بس اڈے کی طرف چلا۔ مگر کچہری روڈ سے بس اڈے تک
پہنچتے پہنچتے سوا بارہ ہوگءے۔ شمس تبریزی کے مزار والے قوال نے میری بس نکلوا دی
تھی۔
