Monday, March 09, 2020

 

کیا آپ کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوگی؟


کیا آپ کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوگی؟


پچھلے کئی دنوں سے کرونا وائرس پہ شائع ہونے والی مختلف رپورٹیں پڑھ رہا ہوں۔ اس وبا سے متعلق اردو میں جو مواد انٹرنیٹ پہ دستیاب ہے اس میں صراحت سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر آپ کرونا وائرس کی وجہ سے بیمار ہوئے تو بیماری کی کیا علامات ظاہر ہوں گی، اور اس بات کا کیا امکان ہے کہ آپ کچھ دن  بیمار رہنے کے بعد صحت یاب ہوجائیں۔ درج ذیل مضمون اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ طبی محققین سے تصحیح کی درخواست ہے۔ نقل ٹپو ڈاکٹر، بقراطی جھاڑنے سے پرہیز کریں۔ مخاطب وہ فراڈیے مرد و زن ہیں جو نزلے زکام کے مریض کو چار چار دوائیں لکھ کر دیتے ہیں اور ساتھ تاکید کرتے ہیں کہ 'چاول سے پرہیز کیجیے گا کیونکہ چاول کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔'

پہلی بات تو یہ سمجھنی چاہیے کہ وائرس سے پھیلنے والی  زیادہ تر بیماریوں کا کوئی علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔ یعنی ایک دفعہ وائرس آپ پہ حملہ کردے تو آپ کو کوئی ایسی دوا نہیں دی جاسکتی جس سے وائرس کو مارا جائے۔ واحد کام یہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ مدافعتی نظام اس وائرس کو مار سکے۔ اسی لیے وائرس سے پھیلنے والی اکثر بیماریوں کے ٹیکے ہوتے ہیں یعنی وہ دوا جو آپ کو بیمار ہونے سے محفوظ رکھ سکے۔ لیکن اگر آپ ایک دفعہ وائرس سے بیمار ہوگئے تو آپ جانیں اور آپ کا جسم۔

زیادہ تر جراثیم ہم تک سانس کے ذریعے پہنچتے ہیں اور وجہ سمجھنا آسان ہے۔ ہم کھانا کبھی کبھی کھاتے ہیں جب کہ سانس مستقل لیتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کی حفاظتی تراکیب ناکام ہوئیں تو بہت امکان ہے کہ کرونا وائرس بھی آپ تک سانس کے ذریعے ہی پہنچے گا۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص کرونا وائرس کے اثرات سے نڈھال نہ ہو، بظاہر تن درست نظر آئے مگر یہ وائرس اس کے جسم میں موجود ہوں۔ ایسے شخص کی سانس سے یہ وائرس آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔

جب یہ وائرس آپ تک پہنچے گا تو یہ عمل تنفس کے گرم اور گیلے ماحول میں اپنا گھر کرے گا اور آپ کے جسم کی توانائی استعمال کرتے ہوئے اپنی افزائش نسل شروع کر دے گا۔ اسی موقع پہ آپ کے جسم کا مدافعتی نظام حرکت میں آجائے گا اور اینٹی باڈیز اس وائرس کو ختم کرنے کے درپے ہوں گی۔ یعنی اب کھلی جنگ ہے۔ ایک طرف وائرس ہے جو آپ کے خلیات کو پہنچائی جانے والی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے تعداد میں مستقل بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف ہے آپ کے جسم کی اپنی فوج۔ اس وائرس کے نظام تنفس پہ حملے سے آپ کو گلا خشک محسوس ہوگا اور کھانسی آئے گی۔ وائرس اور جسم کے مدافعتی نظام کے درمیان جنگ کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس کا تعلق آپ کی عمر اور آپ کی صحت سے ہے۔ کیونکہ صحت کا بھی ایک تعلق عمر سے ہے اس لیے بات کو آسان کرنے کے لیے کوئی ایک عمر لے کر مریضوں کو دو خانوں میں بانٹ لیتے ہیں۔ فرض کریں کہ وہ عمر چالیس سال ہے۔ چالیس سال سے کم عمر والے صحت مند مریضوں کے اندر اتنی مدافعتی صلاحیت ہوتی ہے کہ ان کا جسم اس وائرس کو مزید آگے بڑھنے سے روک لے۔ ایسے مریض جسم میں بخار کی کیفیت محسوس کریں گے جو کہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ جسم کا دفاعی نظام فعال ہوگیا ہے، مگر ہفتے بھر کے اندر ایسے کسی مریض کی مدافعت جیت جائے گی اور مریض کرونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہوجائے گا۔ چالیس سال سے کم عمر افراد میں ایک فی صد سے کم ایسے ہوں گے جن کی موت اس وائرس سے واقع ہوگی اور یہ وہ لوگ ہوں جن کا مدافعتی نظام دوسری بیماریوں سے لڑنے میں پہلے سے مصروف رہا ہے۔ یعنی ایسے افراد جو پہلے ہی دوسری بیماریوں کا شکار ہیں؛ اب اس جنگ میں کرونا وائرس کا تازہ حملہ ان کے لیے کارگر ثابت ہوگا۔
اب بات کرتے ہیں چالیس سال سے اوپر کے مریضوں کی۔ یہ وہ مریض ہیں جن کا مدافعتی نظام بڑھتی عمر کے ساتھ کمزور پڑتا جارہا ہے۔ ان مریضوں میں وہ جو اچھی صحت رکھتے ہیں کرونا وائرس کے حملے کو سنبھال جائیں گے اور خشک گلے، کھانسی، بخار، اور جسم میں اینٹھن جیسے اثرات کے ساتھ ہفتہ بھر گزار کر صحت یاب ہوجائیں گے۔ وہ مریض جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے وائرس کے مزید اثرات دیکھیں گے۔ گلے میں خشکی اور کھانسی کے بعد کرونا وائرس کی موجودگی کا اگلا اثر پھیپھڑوں کی کمزوری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے مریض سانس لینے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک خراب صورتحال ہوتی ہے کیونکہ اچھی سانس سے اچھا خون بنتا ہے اور اچھے خون سے اچھا مدافعتی نظام۔ اگر اس مرحلے تک جسم کے مدافعتی نظام نے وائرس کے خلاف جنگ نہ جیتی تو مریض کے پھیپھڑے اتنے کمزور ہوسکتے ہیں کہ مریض کو ریسپریٹر یعنی مصنوعی تنفس پہ ڈالنے کی نوبت آجائے۔ مریض کو مصنوعی تنفس پہ ڈالنے کے بعد بھی صحت یابی کا اچھا امکان ہوتا ہے۔ اب تک کے اعداد و شمار کے حساب سے عمر رسیدہ مریضوں میں سے تقریبا پچانوے فی صد مریض کرونا وائرس سے لڑ بھڑ کر صحت یاب ہوگئے۔ جو لوگ مصنوعی عمل تنفس والے مرحلے تک پہنچ جائیں ان میں سے کتنے فی صد مرض جانبر ہوتے ہیں، یہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں مگر دوسری اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنوعی عمل تنفس کی ضرورت تک پہنچنے والے مریضوں میں سے بھی زیادہ تر افراد بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?