Monday, August 25, 2014

 

ہزارہاشجر


جولاءی ستاءیس،  دو ہزار چودہ



ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو  ننانوے


ہزارہاشجر



غزہ میں جاری قیامت پہ مستقل نظر رہتی ہے۔ اعداد و شمار دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ فلسطینی اور اسراءیلی ہلاکتوں کا تناسب بیس ایک سے اوپر ہے، یعنی اس جنگ میں بیس فلسطینیوں کی زندگیاں ایک اسراءیلی زندگی کے برابر ہیں۔ افسوس۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے کہ تاریخ کے اس لمحے جب یورپی نووارد فلسطین آنا شروع ہوءے تھے، فلسطینی غافل تھے اور انہوں نے اس تازہ مسءلے کو ہاتھ کے ہاتھ حل نہیں کیا۔
میں ایسے حالات میں اپنی زندگی پہ نظر ڈالتا ہوں تو اپنے اوپر برسنے والی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ  اپنی نااہلی پہ نادم ہوتا ہوں۔ اور یقینا ایسا نہیں ہے کہ دنیا ظالموں سے بھری ہے۔ دنیا  تو دراصل مہربان لوگوں سے بھری ہوءی ہے۔ اور اس بات کا اندازہ آپ کو سفر میں بخوبی ہوتا ہے۔
سانتا کروز دے لا سیارا نامی بولیویا کے شہر سے ہم صبح نکلے تھے مگر ارجنٹینا کی سرحد تک پہنچتے پہنچتے رات ہوچکی تھی۔ نہ جانے کیوں اس سرحد پہ دونوں ملکوں کی امیگریشن چوکیاں ساتھ ساتھ ارجینٹینا کی حدود میں ہیں۔ وہاں بولیویا سے خروج کی مہر ذرا سی دیر میں لگ گءی۔ اب جو ارجنیٹینا کے امیگریشن دفتر پہنچے تو انہوں نے ایک ایسے کاغذ کا تقاضہ کردیا جس کے بارے میں ہمیں خیال تھا کہ وہ صرف ہواءی جہاز سے ارجینٹینا میں داخل ہونے والوں کو چاہیے ہوتا ہے۔ کیا کیا جاءے؟ اس کاغذ کو حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ پہ کارواءی کرنی تھی اور اس پورے عمل میں کچھ وقت لگنا تھا۔ یہ ساری کاغذی کارواءی مکمل کرکے ارجینٹینا میں داخل ہوءے تو بہت رات ہوچکی ہوگی؛ اس وقت نہ جانے آگے جانے کی کیا سبیل ہو اور رات گزارنے کا کہاں ٹھکانہ ملے؟ طے پایا کہ ایک رات بولیویا کے یاکیوبا نامی سرحدی قصبے میں رک جایا جاءے۔ مگر بولیویا سے خروج کی مہر تو لگ چکی تھی، اب وہاں ٹہرنا تو غیرقانونی تھا۔ سب کچھ سوچ سمجھ کر یہی فیصلہ کیا کہ یاکیوبا میں رات گزاری جاءے؛ انٹرنیٹ پہ کاغذی کارواءی مکمل کی جاءے، اور پھر سویرے ارجینٹینا میں داخل ہوا جاءے۔ سرحد سے یاکیوبا مرکز شہر جانے کے لیے جو ٹیکسی لی اس کے ڈراءیور سے یاکیوبا میں معقول جگہ ٹہرنے کے بارے میں معلوم کیا۔ اس نے ہمیں اوتیل روہاز کے سامنے چھوڑ دیا۔ اس طرح رات کا قیام اوتیل روہاز میں ہوا۔ کمرے کے کراءے میں ناشتہ شامل نہ تھا اس لیے صبح کچھ وقت باہر جا کر ناشتہ کرنے میں لگا۔ غرض کہ سرحد تک پہنچتے پہنچتے دوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ ارجینٹینا کو جو کاغذ درکار تھا وہ ہمارے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے خوشی خوشی وہ کاغذ لیا مگر پھر انہوں نے کیڑا یہ نکالا کہ ہماری بولیویا سے خروج کی مہر پچھلے روز کی تھی۔ ان کو بتایا کہ گو کہ مہر ایک روز پہلے کی ہے، مگر بات دراصل صرف چند گھنٹے پرانی ہے۔ ہم خروج کی مہر لگوانے کے بعد واپس یاکیوبا گءے اور وہاں سے کاغذی کارواءی مکمل کر کے پلٹے ہیں۔ ہماری دلیل غور سے سنننے کے بعد اسے مسترد کردیا گیا؛ کہا گیا کہ ہم بولیویا والوں سے آج کی تاریخ کی مہر لگا کر واپس آءیں۔ اس مدعے کے ساتھ بولیویا کی چوکی پہ پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ ان کے حساب سے تو ہم ایک دن پہلے بولیویا سے روانہ ہوچکے تھے، اس لیے ہمیں ایک دفعہ پھر بولیویا میں آمد کی اور اس کے بعد بولیویا سے خروج کی مہر اپنے پاسپورٹ میں لگوانی ہوگی۔ غرض کہ اس پورے عمل میں کچھ وقت لگا اور وقت اس لیے بھی زیادہ لگا کہ بولیویا کے افسر آدھے گھنٹے کے لیے دفتر بند کر کے کھانے کے لیے روانہ ہوگءے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سارے قصے میں ان اشجار کا ذکر کہاں ہے جو راہ میں سایہ دار کیے ہیں۔ تو ذکر ایک مہربان خاتون کا یوں ہے کہ جب سرحد پار کر کے ارجینٹینا میں داخل ہوءے تو جیب میں ارجینٹینا کا ایک پیسو نہ تھا۔ معلوم کیا کہ ڈالر کہاں سے بھنواءے جاسکتے ہیں تو سب نے لاعلمی ظاہر کی۔ سالتا جانے کی بس لینے کے لیے ایک طرف چلے تو یونیفارم میں ملبوس ایک خاتون دوسری سمت سے آتی نظر آءیں۔ ان سے یہی سوال کیا کہ ڈالر دے کر ارجنیٹینا کے پیسو کہاں سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ رقم تبدیل کرنے کے تمام دفاتر سرحد کے اس پار بولیویا میں ہیں۔ سرحد کے اس پار سالوادور مازا یا پوسیتوز تو ایک چھوٹا سا گاءوں، پبلیتو، ہے۔ ان سے کہا کہ تم ہی کچھ مہربانی کرو اور کچھ رقم تبدیل کردو۔ اس پہ وہ ہنسیں اور انہوں نے ساتھ آنے کو کہا۔ ان خاتون کا تعلق ارجینٹینا کے کسٹم ادارے سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسٹم والوں سے بات کریں گی کہ ہمیں بغیر کسی کاغذی کارواءی کے تھوڑی دیر کے لیے بولیویا جانے دیا جاءے۔ پیدل چلتے واپس سرحدی چوکی پہنچے، وہاں ہمارے ساتھ آنے والی خاتون کی سفارش کام آءی۔ ہم نے اپنا سامان وہیں ڈھیر کیا اور بھاگ کر سرحد پار کی۔ واپس بولیویا میں داخل ہو کر آگے اس جگہ پہنچے جہاں قطار سے کاسا دے کامبیو تھے۔ وہاں ایک جگہ سے ڈالر دے کر ارجینٹینا کے پیسو حاصل کیے اور واپس سرحدی چوکی پہ پہنچے۔ اس وقت تک سرحد پہ کام کرنے والے اہلکار ہمیں اچھی طرح جان چکے تھے اس لیے ہمارے پاسپورٹ کی سرسری سی جھلک دیکھنے کے بعد ہمیں ارجینٹینا میں داخل ہونے دیا گیا۔ وہاں پہنچ کر کسٹم کی خاتون کا بہت شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہماری مشکل آسان کی۔ اور واقعی انہوں نے مشکل آسان کی تھی کہ سرحد کے اس پار ارجینٹینا کے اس گاءوں میں یا تو رقم تبدیل کرانے کی کوءی صورت نہیں تھی اور اگر نکل بھی آتی تو ڈالر سے ارجینٹینا پیسو کا نرخ بہت خراب ملتا اور ہمیں مالی نقصان ہوتا۔


Labels:


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?