Tuesday, June 04, 2013

 

موت، قسمت، گجرات، اور عمران خان


جون تین، دو ہزار تیرہ
ایک فکر کے سلسلے کا کالم
کالم شمار ایک سو چالیس

موت، قسمت، گجرات، اور عمران خان

میں ماہر مرگ ہونے کا دعوی تو نہیں  کر سکتا مگر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ موت میری فکری دلچسپی کا ایک اہم موضوع ہے۔ لوگ کیسے مرتے ہیں، یہ موضوع میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کسی شخص کا انتقال ہو جاءے تو میں ضرور یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ موت کیسے واقع ہوءی۔ موت کے بہت سے چہروں سے شناساءی کے بعد میرے ذہن میں موت کے مختلف خانے بن گءے ہیں۔ میں کسی نءی موت  کے بارے میں کریدوں تو وہ موت میرے ذہن میں پہلے سے موجود کسی نہ کسی خانے میں فٹ ہوجاتی ہے۔ طبعی موت کہ جب ایک لمبا عرصہ گزارنے کے بعد انسانی مشین جواب دینے لگتی ہے اور ایک دن اس کا کوءی بہت اہم حصہ بیٹھ جاتا ہے؛ ٹریفک کے حادثے کی موت ؛ پانی میں ڈوب کر واقع ہونے والی موت؛ آسمانی بجلی سے واقع ہونے والی موت، وغیرہ، وغیرہ۔ حشرات الارض سے لے کر انسان تک، زندگی کے ہر نمونے کی مستقل یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح موت کو ٹال دے۔ مگر کیا کیجیے کہ انسان کے پاس ایک خیال وارد ہوا جسےوہ  'قسمت' کے نام سےپکارتا ہے۔ جن علاقوں میں لوگ 'قسمت' پہ زیادہ یقین رکھتے ہیں وہاں بہت سے خطرناک کام یہ سوچ کر کیے جاتے ہیں کہ 'اگر قسمت میں موت لکھی ہے تو اسے کون ٹال سکتا ہے۔'  ہم جس جدید دنیا میں رہتے ہیں اس میں طرح طرح کے خطرات ہیں۔ اس جدید دنیا کے خدوخال ان لوگوں نے تشکیل دیے ہیں جو 'قسمت' پہ کم ہی بھروسا کرتے ہیں۔ تقدیر کے بجاءے تدبیر پہ بھروسا کرنے کی وجہ سے ان لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کو حفاظت سے استعمال کرنے کے طریقے بھی وضع کیے ہیں۔ جدید عمارتیں کس معیار سے تعمیر کی جاءیں گی، ان میں ایمرجنسی اخرج کے دروازے کہاں کہاں ہوں گے، بجلی کے تاروں پہ کام کرنے سے پہلے اور کام کے دوران کس طرح کے حفاظتی اقدامات کیے جاءیں گے، گیس کو کس طرح کے سیلنڈروں میں رکھا جاءے گا، اور اس جیسے سینکڑوں حفاظتی اصول اور قوانین اسی لیے تشکیل دیے گءے ہیں تاکہ لوگ جدید ٹیکنالوجی سے محفوظ طریقے سے استفادہ کر سکیں۔ مگر جب یہ جدید ٹیکنالوجی ان علاقوں میں جاتی ہے جہاں 'قسمت' پہ پورا بھروسا کیا جاتا ہے تو اس ٹیکنالوجی سے وابستہ حفاظتی تراکیب ایک طرف رکھ دی جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں جلد یا بدیر ایک خوف ناک حادثہ ضرور رونما ہوتا ہے جو بہت سہولت سے 'قسمت' کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ سنیچر مءی پچیس کو گجرات کے قریب سترہ بچوں کا ایک اسکول وین میں جل کر مرنا اتنا ہی افسوسناک اور غیرضروری تھا جتنا عمران خان کا کانٹا لفٹ سے گرنا۔ ان دونوں حادثات میں قدر مشترک حفاظتی اقدامات سے متعلق مکمل غفلت ہے۔ اسکول کے بچے وین میں جل کر اس لیے مرے کیونکہ وین کو چلانے کے لیے جو گیس سیلنڈر استعمال کیا جارہا تھا وہ غیر معیاری تھا۔ گیس سیلنڈر پھٹا اور شعلوں نے ذرا سی دیر میں وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وین میں آگ بجھانے کا سیلنڈر نہ تھا کہ آگ پہ قابو پایا جاتا۔ بچے آگ میں جلتے رہے اور ذرا سی دیر میں کوءلہ بن گءے۔ عمران خان کا کانٹا لفٹ سے گرنا بھی حفاظتی اقدامات سے بے احتیاطی کا نتیجہ تھا۔ کانٹا لفٹ سامان اٹھانے کے لیے بناءی گءی تھی، لوگوں کو پندرہ فٹ اوپر چڑھانے کے لیے نہیں۔ تعجب ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں سفر کرنے اور مغرب میں ایک عرصہ گزارنے کے بعد بھی عمران خان اس طرح کی بے احتیاطی کرتے ہیں۔ اور قابل تشویش بات یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایسے نادان لوگوں کی ٹیم رکھتے ہیں جو 'قسمت' پہ پورا بھروسا کرتے ہوءے اپنے لیڈر کو خطرناک کاموں میں دھکیل دیتی ہے۔ عمران خان کا پندرہ فٹ کی بلندی سے گرنا ایک حادثہ تھا اور لوگوں کا انہیں بازوءوں اور ٹانگوں سے اٹھا کر گاڑی تک لے کر جانا ایک دوسرا۔ عمران خان کے بے وقوف پرستاروں نے پورا انتظام کیا تھا کہ عمران خان کی جو ہڈیاں پندرہ فٹ کی بلندی سے گر کر نہ ٹوٹی ہوں انہیں اس طرح ڈنڈا ڈولی کر کے لے جانے میں ضرور ٹوٹ جاءیں۔ پاکستان کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو تدبیر پہ بھروسا کر کے قوم کو 'تقدیر' کے جال سے نکالیں۔ اگر پاکستان کو ایسے لیڈر نہیں ملتے تو ملک اپنی 'قسمت' سے جس دلدل میں پھنسا ہے، اسی میں پھنسا رہے گا۔

 

Labels: , , ,


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?