Tuesday, March 12, 2013

 

ناکام ریاست کا عذاب




مارچ گیارہ، دو ہزار تیرہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم

کالم شمار ایک سو اٹھاءیس


ناکام ریاست کا عذاب



زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آتی جا رہی ہے کہ پاکستان بڑی حد تک ایک ناکام ریاست بن چکا ہے۔ صدارتی محل اور آرمی ہیڈکوارٹر کے باہر چند ہی جگہیں بچی ہیں جہاں حکومت کی رٹ اب تک قاءم ہے۔ ورنہ قاتل، لٹیرے، اور دہشت گرد آزاد ہیں۔ جس کو چاہیں ماریں، جس کو چاہیں لوٹیں، اور جہاں چاہے دھماکہ کریں۔ آءین اور قانون معاشرے کے سب سے کمزور عوام کو طاقتور خواص کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں۔ جب ریاست ناکام ہو جاءے تو قانون کا سایہ کمزور کے سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اسی لیے ایک ناکام ریاست میں سب سے بڑا قہر معاشرے کے کمزور لوگوں پہ ٹوٹتا ہے۔ جسمانی طور سے معذور افراد، کم حیثیت لوگ، چھوٹے مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ناکام ریاست کا عذاب ان ہی کمزور سروں پہ گرتا ہے۔ پاکستان میں ریاست کی ناکامی نے تین راستوں سے طواءف الملوکی کو ہوا دی ہے۔ شمار ایک وہ لوگ ہیں جو ریاست کی ناکامی کا فاءدہ اٹھاتے ہوءے لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ان لوگوں میں ڈاکوءوں سے لے کر اغوا براءے تاوان کے مجرم اور نشانچی قاتل [ٹارگٹ کلر] تک شامل ہیں۔ یہ جراءم پیشہ لوگ دھڑلے سے اس لیے وارداتیں کرتے ہیں کیونکہ ان کو اچھی طرح علم ہے کہ انہیں کچھ نہیں کہا جاءے گا، ان کا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔  شمار دو اور تین وہ افراد اور گروہ ہیں جو مذہبی بہکاوے میں ہیں۔ ان میں اول الذکر گروہ وہ ہے جس کو سمجھایا گیا ہے کہ اسلام کے اصل پاسبان وہ ہیں؛ دوسرے فرقے اور بالخصوص شیعہ دین میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اسلام کی برگزیدہ ہستیوں کی تذلیل کر رہے ہیں۔ یہ گروہ اپنا دینی فرض سمجھ کر باقی گروہوں پہ تواتر سے حملے کر رہا ہے اور اپنے تءیں ثواب کما رہا ہے۔ اس گروہ کے افراد کو بھی ریاست کی ناکامی کا اچھی طرح علم ہے چنانچہ انہیں ذرہ برابر بھی ڈر نہیں ہے کہ انہیں پکڑا جاءے گا۔ آخر الذکر گروہ وہ ہے جس میں ملک کے بیشتر مسلمان شامل ہیں۔ ماضی میں ریاست نے مذہبی معاملات میں کود کر ان لوگوں کو مذہب کے نام پہ جاری فساد کی طرف لگا دیا ہے۔ توہین رسالت جیسے جھوٹے، کالے اور مکار قوانین اب گلی کوچے کے ہر گمراہ کو اکسا رہے ہیں کہ وہ جس سے چاہے توہین رسالت کا بدلہ چکاءے اور قانون کی دھجیاں اڑا دے۔ ہفتے کے روز لاہور کی جوزف کالونی میں سینکڑوں لوگوں کے ہاتھوں ہونے والا شرمناک کام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اصل توہین رسالت کے مرتکب یہ لوگ بھی ریاست کی ناکامی کو سمجھتے ہیں۔ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ لوٹ مار اور آگ لگانے کے دوران لی جانے والی ان کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں پھیل بھی گءیں تو کیا ہوا، ان کے خلاف کوءی کارواءی نہ کی جاءے گی۔
پاکستان میں اتنا طویل عرصہ آمریت رہی ہےکہ لوگ جمہوریت کی طاقت نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جن لوگوں کو منتخب کر کے عوام نے ایوانوں میں بھیجا ہے وہ منتخب نماءندے دراصل عوام کے نوکر ہیں اور ہر موقع پہ عوام کو جوابدہ ہیں۔ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے منتخب نماءندوں سے مل کر پوچھ سکتے ہیں کہ، 'بتاءو، یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے۔ ہمارے علاقے میں فلاں فلاں جرم کی واردات ہوءی تو تمھاری ماتحت پولیس نے کیا تفتیش کی۔'
اس مضمون کے آخری حصے میں موضوع بدلتے ہیں۔ سان فرانسسکو بے ایریا میں اتنی بڑی تعداد میں دیسی رہتے ہیں کہ ہر اختتام ہفتہ پہ عام دلچسپی کے کءی پروگرام ہو رہے ہوتے ہیں۔ اتوار، مارچ دس بھی ایک ایسا ہی روز تھا۔ اس روز صبح دس بجے آرگناءزیشن آف پاکستانی پروفیشنلز یعنی اوپن کا ایک پروگرام ڈاکٹر  خورشید قریشی کے اعزاز میں تھا۔ خورشید قریشی صاحب مشی گن میں رہتے ہیں مگر ہر سال اپنی تنظیم ڈاءس کے توسط سے پاکستان کی کسی ایک جامعہ میں ایسی نماءش کا اہتمام کرتے ہیں جس میں طلبا اپنی نت نءی ایجادات لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اوپن کی تقریب میں خورشید قریشی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں صنعتوں کا جامعات سے کچھ اس طرح کا رشتہ بن جاءے کہ طلبا کی طرف سے پیش کی جانے والی کوءی بھی کارآمد ٹیکنالوجی فوری طور پہ استعمال کی جا سکے اور صارفین کے کام آءے۔
اتوار کے روز ہی سان فرانسسکو بے ایریا کے مایہ ناز صحافی عبدالستار غزالی صاحب کی کتاب 'اسلام اینڈ مسلمز ان پوسٹ ناءن الیون امریکہ' کی تقریب رونماءی تھی۔ مغرب میں اسلام کو بہت پہلے سے شک کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے مگر نو گیارہ کے واقعے کے بعد تو سارے تکلفات اٹھ چکے ہیں۔ یہ بھی عجیب واقعہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس ملک کے جاپانی شہریوں کے لیے نظربندی کیمپ قاءم کیے گءے تھے اور ان کیمپوں کی دردناک یادیں اب تک بہت سے لوگوں کے دلوں میں ہیں۔ اگر دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی امریکیوں کو اس طرح ظلم کا نشانہ نہ بنایا  جاتا تو نو گیارہ کے بعد بہت امکان تھا کہ مسلمان امریکیوں کو ہراستی کیمپوں میں بند کرنے کا کام کیا گیا ہوتا۔
اتوار کی رات مہران ریستوراں میں تحریک انصاف کی ایک تقریب تھی۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی تحریک انصاف کی قاءد فوزیہ قصوری صاحبہ تھیں۔ فوزیہ قصوری نے اپنی تقریر میں کہا کہ چند ماہ میں آنے والے پاکستانی انتخابات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کیا پاکستان صحیح راستے پہ چلنا شروع ہوگا یا مستقل پستی کی طرف ہی جاتا رہے گا۔ فوزیہ قصوری کی تقریر کے بعد عمران خان کے دستخط شدہ کرکٹ بلوں اور گیندوں کی فروخت ہوءی۔

Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?