Monday, May 14, 2012

 

ماوءں کے لیے چند گزارشات




مءی تیرہ،  دو ہزار بارہ


ایک فکر کے سلسلے کا کالم
  
اتوار کا روز ہے۔ مءی کی تیرہ تاریخ۔  ابھی کچھ دیر پہلے اسکاءپ پہ اپنی والدہ سے تفصیلی بات چیت ہوءی۔ یہ ٹیکنالوجی کی مہربانی ہے کہ یہاں کیلی فورنیا میں رہتے ہوءے ہر روز اپنی والدہ سے کراچی میں بات کرتا ہوں۔ آج ماں کا دن منایا گیا۔ ماں کے دن کا تجارتی پہلو بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے مگر سال میں ایک روز ماں کا دن منانا اس لیے ضروری ہے کہ جو لوگ روز اپنی ماں کا دن منانا بھول جاتے ہیں وہ کم از کم سال میں ایک دفعہ تو ایسا کر لیں۔  آج کے دن اس سلسلے میں دنیا بھر کی ماءوں کے سامنے چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ بات کچھ عجیب معلوم دیتی ہے، ماں کے دن پہ ماں پہ تنقید۔ مگر خرابی لفظ تنقید کی تندی میں ہے ورنہ جو بات کہی جارہی ہے وہ اتنی نامعقول نہیں ہے۔ بہت پہلے کہیں انگریزی کا یہ جملہ پڑھا تھا کہ 'ایوری مدر از اے ورکنگ مدر' یعنی 'ہر ماں کام کرنے والی عورت ہے۔' یہ نعرہ دراصل اس سوال کے جواب میں تھا جو عورتوں سے پوچھا جاتا تھا کہ، کیا آپ کام کرتی ہیں؟ اور سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ معلوم کیا جاءے کہ جس عورت سے یہ سوال پوچھا جارہا ہے کیا وہ عورت گھر سے باہر کسی دفتر، کسی کاروبار میں کام کرتی ہے۔ یہ سوال ان عورتوں کو بہت برا لگا جو گھر سے باہر تو کام نہ کرتی تھیں مگر گھر میں بچے پالنے کے کام میں صبح سے شام تک جٹی رہتی تھیں۔ کیا بچوں کی پرورش کرنا کام نہیں ہے؟ کیا بچوں کی تربیت کرنا، ان کا خیال کرنا، اور ان کو بنیادی تعلیم دینا ایک بہت بڑی مصروفیت نہیں ہے؟ اور اسی وجہ سے بچے پالنے والی عورتوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہر ماں ایک کام کرنے والی عورت ہوتی ہے۔ بچے پالنے والی عورت کو اس نظر سے نہ دیکھا جاءے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر کام نہیں کرتی اس لیے وہ کسی طور پہ ان عورتوں سے کم تر ہے جو مردوں کی طرح باہر دفاتر اور کارخانوں میں کام کرتی ہیں۔ بات بہت مناسب ہے۔ کہ اس بات کا کیا فاءدہ کہ وہ عورت جو بچے پال رہی ہے گھر سے باہر کسی دفتر یا کارخانے میں کام کر کے پیسے کماءے اور اس رقم سے کسی اور شخص کو نوکری دے جو اس عورت کے بچے پالے۔ وہ عورت یہ کام خود کیوں نہ کر لے؟ کیا کوءی بھی شخص کسی بچے کی تربیت بچے کے والدین سے بہتر کر سکتا ہے؟  مگر بچے پالنے والی ماءوں کے اس استدلال کو ماننے کے ساتھ ان سے گزارش یہ ہے کہ وہ بچے پالنے کے علاوہ کسی اور شعبے کو ضرور اپناءیں کیونکہ بچے پالنے کو مکمل مصروفیت اور کل وقتی نوکری ضرور گردانا جا سکتا ہے مگر یہ نوکری مستقل نہیں ہے۔ یہ نوکری عارضی ہے جو چند سالوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اگر آپ نے اس عارضی نوکری کو پیشہ سمجھ کر اپنایا تو اپنے بچے بڑے کرنے کے بعد آپ نوکری سے محروم ہو جاءیں گی اور اس عمر میں کسی نءے پیشے میں کودتے ہوءے آپ کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اور اگر اپنے بچے بڑے کرنے کے بعد آپ نے کوءی اور مصروفیت تلاش نہ کی تو آپ مستقل بچوں کی زندگیوں میں اپنی زندگی تلاش کرتی رہیں گی، جب کہ بچہ بڑا ہو کر اپنی زندگی میں مشغول ہو جاءے گا۔  اچھا یہ ہوگا کہ بچے پالنے والی ماءیں بچے پالنے کے دوران کسی شعبے میں اپنی مصروفیت جاری رکھیں چاہے وہ مصروفیت مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ بچے بڑے ہو جاءیں تو آپ اس مصروفیت کو زیادہ وقت دے سکیں گی اور آپ کے سامنے زندگی کا ایک مقصد موجود رہے گا۔ کسی عورت کے لیے وہ زندگی بہت عمدہ نہیں ہے جس میں وہ ٹیلی فون کے ساتھ بیٹھے اپنے بچے کے فون کا انتظار کر رہی ہو یا بچے کی واپسی کے انتظار میں گھر کا دروازہ تک رہی ہو۔  شاید ایک بہتر دنیا وہ ہوگی جس میں ہر شخص وہ کام کرے جو وہ مرتے دم تک کرتے رہنا چاہتا ہے، کسی اور شخص کو اس کام کا مستقل حصہ بناءے بغیر؛ ایک ایسا کام جس سے ریٹاءرمنٹ کی کوءی خواہش نہ ہو۔ ایسا کام کرنے سے انسان کو اپنی 
زندگی کا ایک واضح مقصد مل سکتا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں کام اور زندگی مدغم ہو جاتے ہیں۔


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?