Wednesday, February 15, 2012

 

کراچی معاملات








جنوری ایک، دو ہزار بارہ



کل رات مجھے جلدی نیند آگءی تھی مگر پھر زوردار فاءرنگ کی آواز سے آنکھ کھل گءی۔ رات کے بارہ بجے تھے اور کراچی نءے سال کا استقبال اندھادھند فاءرنگ سے کر رہا تھا۔ یہ کون لوگ ہیں جو آدھی رات میں اسلحہ استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ان کی بندوقوں کا رخ آبادی سے ہٹ کر ہے؟ کیا اس بات کا امکان ہے کہ کوءی معصوم اس اندھادھند فاءرنگ کا نشانہ بن جاءے گا؟ میں نے بستر پہ لیٹے لیٹے سوچا۔ صبح مجھے ان سوالات کے جوابات مل گءے۔ نءے سال کے استقبال میں کی جانے والی فاءرنگ سے تین لوگ ہلاک ہوءے تھے۔ یوں تو دو کروڑ لوگوں کے شہر میں تین لوگوں کا ہلاک ہونا معمولی بات لگتی ہے مگر ان تینوں میں اگر آپ کا جاننے والا کوءی فرد ہو تو آپ کے جذبات اور ہوتے ہیں۔ کل خوشی کی فاءرنگ میں مارے جانے والوں میں ہمارے ایک عزیز کا سترہ سالہ لڑکا بھی شامل تھا۔ وہ نوجوان ایک اچھا طالب علم تھا۔ فاءرنگ کی آواز سن کر وہ اشتیاق میں بالکونی میں گیا اور وہیں ایک گولی سینے میں کھا کر گر پڑا۔ آج سال کے پہلے روز کا استقبال اس کے گھر والوں نے اپنے بچے کی تدفین سے کیا۔
کراچی ایک حیرت انگیز شہر ہے۔ اس کی آبادی مستقل بڑھ رہی ہے اور آبادی بڑھنے کے ساتھ جراءم بھی بڑھتے جا رہے ہیں مگر تعجب ہے کہ لوٹ مار، قتل و غارت گری کے مستقل واقعات کے باوجود لوگ بنیادی سبق نہیں سیکھ رہے۔ کیا آپ کو یہ جان کر حیرت نہ ہوگی کہ کراچی میں اکثر لین دین اب تک نقد میں ہوتا ہے۔ کچھ روز پہلے ایک ضیافت میں مجھے کراچی کے ایک بہت مشہور ریستوراں مدعو کیا گیا۔ وہ ریستوراں غالبا پاکستان کا سب سے مصروف ریستوراں ہے۔ اس دعوت میں بہت سے لوگ شریک تھے۔ کھانے کے بعد ایک لمبا چوڑا بل آیا جس کی اداءیگی نوٹوں کی گڈیوں سے کی گءی۔ اور یہ ریستوراں اسی طرح نقد پہ چل رہا ہے۔ اپنے ساتھ نقد لانے والے لٹنے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہیں اور ریستوراں چلانے والے بڑی بڑی نقد رقومات سے اپنے آڑھتیوں کا حساب کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ اور نقد سے متعلق خطرہ مول لینے کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ کسی کے دیے ہوءے چیک پہ کسی کو اعتبار نہیں ہے اور اگر ریستوراں گاہکوں کو کریڈٹ کارڈ سے اداءیگی کرنے پہ آمادہ کرے تو ریستوراں کی آمدنی کاغذ پہ آجاءے گی اور پھر ٹیکس دینے کے جھمیلے میں پڑنا پڑے گا۔
یوں تو کراچی بظاہر ایک چلتا پھرتا فعال شہر نظر آتا ہے مگر یہاں ہر دوسرے تیسرے شخص کے پاس اپنے لٹنے کی ایک کہانی موجود ہے۔ اسلحے کے زور پہ موباءل فون چھیننے کی وارداتیں عام طور پہ ہوتی ہیں۔ ہمارے ایک عزیز دو دفعہ اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ واضح رہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہیں تو موباءل فون یا لیپ ٹاپ کی چوری کی قریبا ہر واردات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ہر موباءل فون اور لیپ ٹاپ کمپیوٹر مواصلات میں اپنا ایک مخصوص کوڈ استعمال کرتا ہے جس سے اس مخصوص آلے کی شناخت ہو سکتی ہے۔ چوری ہونے کے بعد جب یہ موباءل فون یا کمپیوٹر پہلی بار استعمال ہوگا تو اپنے جاءے استعمال کا پتہ دے دے گا۔
کراچی میں ڈکیتی کی وارداتیں بھی باقاعدگی سے ہوتی ہیں مگر اب تک سرویلینس کیمرے کا استعمال بہت کم ہے۔ ایک عزیز جو ابھی حال میں ڈاکوءوں سے لٹے ہیں بے چارگی سے کہہ رہے تھے کہ کوءی پستول آپ کی کنپٹی پہ رکھ دے تو آپ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ان سے عرض کیا کہ جس وقت کوءی اسلحہ لے کر آپ کے سامنے کھڑا ہے تو وہ لمحہ تو آپ کی کمزوری کا لمحہ ہے اور آپ یقینا اس وقت کچھ خاص نہیں کر سکتے، بلکہ کمزوری کے اس معاملے میں تو مزاحمت کا خیال بھی دل سے نکال دیں، مگر واقعے سے پہلے اور واقعے کے بعد آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ واقعے سے پہلے ایسے انتظامات کریں کہ ڈاکو آپ کی طرف بڑھتے ہوءے سو بار سوچیں۔ مثلا اگر آپ نے محلے کی سطح پہ ایسے انتظامات کیے ہوں کہ بہت سے کیمروں کی آنکھیں ہر آنے جانے والے پہ نظر رکھیں اور اس معلومات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھیں تو اس بات کا امکان ہے کہ اسی فی صد لٹیرے آپ کی طرف بڑھتے ہوءے ڈریں گے۔ بیس فی صد ایسے لٹیرے جو یا تو بے وقوف ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ ان کی تصاویر مستقل اتاری جا رہی ہیں یا ایسے دیدہ دلیر ہیں کہ انہیں اس شناخت کی ذرا پرواہ نہیں، آپ کی حفاظتی تراکیب کے باوجود اپنا کام کریں گے، مگر کم از کم آپ اسی فی صد لٹیروں سے تو محفوظ رہے۔ پھر جب کبھی ایسا ناپسندیدہ واقعہ آپ کے ساتھ ہو جاءے تو آپ خاموش نہ بیٹھیں کیونکہ جرم کے خلاف خاموش رہنا جرم کی معاونت کرنے کے مترادف ہے۔ جراءم پیشہ افراد کی یہی تو خواہش ہوتی ہے کہ وہ لوٹ مار کرتے جاءیں اور کوءی چوں چرا نہ کرے۔ آپ ان مجرموں کی ایسی خواہش پوری کر کے ان کے لیے اگلی واردات کرنے کی راہ کیوں آسان کرنا چاہیں گے؟

Labels:


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?