Sunday, November 27, 2011

 

میموگیٹ کا جھوٹا طوفان


نومبر بیس، دو ہزار گیارہ


مولا تیرا شکر ہے


ایک زمانہ تھا کہ مجھے ماں کا دن، باپ کا دن، شکریے کا دن، وغیرہ کے مختص کرنے کا معاملہ سمجھ میں نہ آتا تھا۔ ماں کا احسان، باپ کا احسان تو ہر روز ماننا چاہیے، اور اسی طرح ہر لمحے اور ہر حال میں مولا کا شکرادا کرنا چاہیے تو پھر ان معاملات میں دنوں کے اختصاص کی کیا ضرورت ہے؟ میں اپنے آپ سے سوال کرتا تھا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یہ بات سمجھ میں آءی کہ اس اختصاص کی یقینا اہمیت ہے۔ ٹھیک ہے کہ ہر وقت اپنے اوپر برسنے والی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے مگر اس کے ساتھ اگر سال میں شکرانے کا ایک دن مختص کیا جاءے تو اس میں کوءی حرج نہیں ہے کہ شاید کچھ لوگ ایسے ہوں جنہیں ہر حال میں شکر کرنے کا موقع نہ ملتا ہو۔ ایسے ناشکرے اس مخصوص دن ہی سب کے ساتھ اپنے رب کے شکرگزار ہو جاءیں۔ سنہ ۲۰۰۴ کے تھینکس گونگ دن کے موقع پہ لکھا جانے والا ایک خیال حاضر خدمت ہے۔ ہزار برکتیں، لکھوکھا احسانات۔ زندگی کی دوڑ میں بہت آسان ہے کئی واضح باتیں بھلا دینا۔ یہ بھول جانا کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں، کہ ہم پہ ہزارہا برکتوں کی بارش مستقل ہو رہی ہے، کہ نہ جانے کتنے لوگ ہیں جن کے احسانات کا سہارا لیے ہم آج اس مقام پہ پہنچے ہیں۔ بہت آسان ہے یہ ساری باتیں بھلا دینا اور پھر قسمت سے گلہ کرنا کہ ہمیں وہ کچھ نہیں ملا جو ہم نے چاہا تھا۔ بہت آسان ہے شکایت کرنا اور ان ساری چیزوں کی خواہش کرنا جو ہماری دسترس سے بہت دور ہیں۔

میں مستقل برکتوں کی بارش میں جیتا ہوں۔ میں نے مستقل لوگوں سے ان کے احسانات کی بھیک مانگی ہے۔ اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جو میرے بھیک مانگنے سے پہلے مجھے اپنی محبت سے نوازتے ہیں۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ برکتوں کا ساون گزر گیا اور لوگوں نے مجھے اپنی مہربانی کی بھیک ڈالنا بند کر دی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔ میں ڈرتا ہوں ایسی خشک سالیء الفت کے موسم سے۔

ایک پراسرار خط۔

آج کل ایک پراسرار خط پاکستانی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے اور اس پراسرار خط سے زبردستی اٹھاءے جانے والے سیاسی طوفان کو میموگیٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس خط پہ کوءی تاریخ درج نہیں ہے مگر عبارت سے واضح ہے کہ یہ خط اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے تین چار دن کے اندر لکھا گیا تھا، گویا مءی چار یا اس کے آس پاس۔ اس پراسرار خط پہ کسی کے دستخط بھی موجود نہیں ہیں مگر یہ واضح ہے کہ یہ خط اس وقت کے امریکی جواءنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ماءک ملن کے نام ہے۔ اس خط میں ماءک ملن سے درخواست کی گءی ہے کہ وہ جنرل کیانی کو تنبیہ کریں کہ وہ سویلین حکومت کو دھمکیاں نہ دیں۔ اس کے ساتھ ملن کو تجویز پیش کی گءی ہے کہ وہ پاکستانی فوج پہ دباءو ڈالیں اور نیشنل سیکیورٹی کونسل میں تبدیلیاں لاءی جاءیں اور اس میں ایسے لوگ شامل کیے جاءیں جو امریکی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ اس پراسرار خط کو پاکستانی فوج کےخلاف ایک بغاوت کے طور پہ پیش کیا جارہا ہے اور جب سے یہ خط منظر عام پہ آیا ہے پاکستان کا مادر پدر آزاد میڈیا صبح و شام اس خط کا تجزیہ کر رہا ہے اور مختلف حکومتی عہدیداروں کو ہٹانے کے مطالبات کر رہا ہے۔ اس خط کو عام کرنے والے شخص کا نام منصور اعجاز ہے جو پاکستانی نژاد امریکی ہے۔ آپ خود اس خط کو پڑھیے اور پھر اپنا سر دھنیے کہ نہ جانے اس حماقت بھرے خط کو اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے؟ یہ خط یقینا ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو اچھا لکھنے کے فن سے نابلد ہے۔ پھر اس خط کے متن میں جو تجویزات ہیں ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ وہ کون احمق ہے جس کا خیال ہے کہ ماءک ملن اگر جنرل کیانی کو سختی سے تنبیہ کریں گے تو کیانی ان کے سامنے بھیگی بلی بن کر ان کی ہر بات ماننے کو تیار ہو جاءیں گے؟ کوءی اور ملک ہوتا تو اس قسم کے فراڈ خط کو ذرا اہمیت نہ دی جاتی اور ایسے خط کو میڈیا میں پیش کرنے والے شخص کو نوسر باز اور سستی شہرت کا طالب ہی سمجھا جاتا مگر پاکستانی میڈیا میں بہت سے لوگ ہیں جن کو آصف علی زرداری ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ یہ لوگ زرداری اور ان کے ساتھیوں کو بدنام کرنے کا کوءی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس خط کی شکل میں ان لوگوں کو ایک نیا شوشہ میسر آیا ہے چنانچہ صبح و شام اس حماقت بھرے خط کو ٹی وی پہ آنے والے مختلف اینکر اچھال رہے ہیں۔ اتنا کافی تھا کہ ماءک ملن سے پوچھا جاتا کہ آیا تمھیں یہ خط حسین حقانی نے بھیجا تھا؛ وہ جواب دیتے کہ نہیں تو بس بات ادھر ہی ختم کر دی جاتی۔ کہ منصور اعجاز نامی بہت سے لوگ ہیں جو اپنے روپے پیسے کی وجہ سے اہم لوگوں کے قریب آ سکتے ہیں اور پھر کسی کے نام سے بھی ایک خط لکھ کر کسی اہم عہدیدار تک پہنچا سکتے ہیں۔ صبح و شام میموگیٹ کا راگ الاپنے والے یہ نام نہاد صحافی اپنی صحافیانہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر وہ منصور اعجاز کو غیراہم اور چال باز سمجھ کر نظرانداز نہیں کر سکتے تو کم از کم اس شخص سے تیڑھے ترچھے سوالات ہی کریں۔ اس سے پوچھیں کہ اگر تم حسین حقانی کے اتنے قریبی ساتھی تھے کہ حقانی نے ماءک ملن تک یہ خط پہنچانے کے لیے تمھیں استعمال کیا تھا تو آج تم اس خط کو میڈیا میں اچھال کر اپنے 'حلیفوں' کو کیوں بدنام کر رہے ہو؟ اس کے ساتھ اس شخص سے ہر بات کا دستاویزی ثبوت مانگا جاءے کہ تمھیں پاکستانی سفارت خانے کے کن لوگوں سے کس طرح کی تحریری ہدایات ملی تھیں۔ اسی قسم کے بے باک سوالات سے ذرا سی دیر میں معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے مگر اتنی تکلیف برداشت کرنے کے لیے یہ صحافی تیار نہیں ہیں۔

Labels:


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?