Tuesday, April 12, 2011

 

حشمت سہیل، ایک خطرناک شاعر







حشمت سہیل کی کتاب کرن کرن تبسم کءی اوصاف کی وجہ سے مزاحیہ شاعری کی اور کتابوں سے منفرد ہے۔ ایک انفراد تو یہ ہے کہ شاعری کی شاید ہی کسی اور کتاب میں آپ اس قدر بڑی تعداد میں نثری مضامین پاءیں گے جتنے حشمت سہیل کی کتاب میں ہیں۔ حشمت سہیل نے ان مضامین کو بہت سوچ سمجھ کر اپنی کتاب میں ترتیب دیا ہے۔ سب سے پہلا مضمون بیگم صاحبہ کا ہے۔ یہ بر محل ہے اور اس کے محل سے اندازہ ہوتا ہے کہ مزاح اپنی جگہ مگر حشمت سہیل ان سنجیدہ نکتوں کی آگہی رکھتے ہیں جو ازدواجی زندگی کی صحت کے ضامن ہیں۔
حشمت سہیل نے اپنی نظم کولسٹرول میں لکھا ہے
مری ہی طرح سے وہ بھی ذرا بیگم سے ڈرتے تھے
نہ دل چاہے مگر بیگم جو کہہ دیں بس وہ کرتے تھے
پھر کرن کرن تبسم کا دوسرا امتیاز ہاتھ سے بناءے حشمت سہیل صاحب کی والدہ اور والد کے اسکیچ ہیں۔ ان خاکوں کو دیکھ کر کتاب پڑھنے والا مستقل قیاس آراءی کرتا رہتا ہے کہ آیا حشمت سہیل کی شکل اپنی والدہ سے زیادہ ملتی ہے یا اپنے والد سے۔
اس کتاب کا تیسرا منفرد پہلو اس میں شامل رنگین تصاویر ہیں۔ یہ تصاویر ہوم لینڈ سیکیورٹی کی آسانی کے لیے ہیں تاکہ جب کبھی حشمت سہیل صاحب سے ان کی شرپسند سرگرمیوں کے متعلق پوچھ گچھ ہو تو نہ صرف یہ کہ تفتیشی افسر کو یہ معلوم ہو کہ حشمت سہیل مرزا غالب کا بہروپ بنا کر پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہو سکتے ہیں بلکل تفتیش کا داءرہ وسیع کرنے کے لیے کتاب میں روپذیر تصاویر میں موجود دوسرے احباب کو بھی قابو میں کیا جاءے کہ یہ سب لوگ حشمت سہیل کے جراءم میں یقینا معاون رہے ہوں گے۔
اور پھر کتاب کا چوتھا اور سب سے خطرناک وصف اس کے اندر موجود حشمت سہیل کی شاعری کے نمونے ہیں جو دراصل دہشت گردی کی ایک شکل ہیں۔ اس شاعری کو کتابی شکل میں چھاپنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ آپ اسے پڑھ کر اس قدر زور سے ہنسیں کہ آپ کی سانس رک جاءے اور آپ وہیں گر کر مر جاءیں۔

قصہ مختصر یہ کہ حشمت سہیل ایک خطرناک شاعر ہے اور اس کی کتاب کرن کرن تبسم مزاح کا وہ منبع ہے جس سے نکلی ہر کرن محفل میں تبسم بکھیرنے کی ہی طاقت نہیں رکھتی، بلکہ یہ شعاعیں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔


Labels: , , , , ,


Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?