Monday, February 11, 2008


میں کس لیے جیا ہوں

میں کس لیے جیا ہوں
برٹرینڈ رسل
ترجمہ: سمندطور

تین جذبوں نے جو کہ بہت سادہ مگر بے انتہا طاقتور ہیں میری زندگی پہ حکومت کی ہے: محبت کی تلاش، علم کی جستجو، اور سسکتی انسانیت کے لیے رحم۔ ان تین جذبوں نے تیز آندھیوں کی مانند مجھے ایک پیچ دار راہ پہ اذیت کے وسیع سمندر کے پار، ناامیدی کے کنارے تک ، ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑایا ہے۔

میں نے محبت کو تلاشا ہے، اس لیے کہ، اول، اس میں لطف ہے—ایسا عمدہ لطف کہ میں مزے کے ان چند گھنٹوں پہ اپنی باقی ماندہ زندگی قربان کرنے کے لیے تیار رہا ہوں۔ اورمیں نے محبت کو اس لیے ڈھونڈا ہے کہ یہ تنہائی دور کرتی ہے۔۔وہ اذیت ناک تنہائی کہ جس میں ایک روح کپکپاتے ہوئے اس دنیا سے پرے بے کراں خلا کی سرد، بے جان گہرائی میں جھانکتی ہے۔ اور میں نے اس لیے محبت کی تمنا کی ہے کیونکہ عشق کے وصل میں، میں نے ایک چھوٹی سطح پہ،اس جنت کا نظارہ کیا ہے جس کا تصور سادھوئوں اور شاعروں نے باندھا ہے۔ میں نے اس محبت کو تلاش کیا ہے، اور گو کہ یہ بات کسی انسانی زندگی کے لیے ناقابل یقین نظر آتی ہے، میں نے، آخر کار، اس محبت کو پایا ہے۔

ایسے ہی ولولے سے میں نے علم کی جستجو کی ہے۔ میں نے لوگوں کے دلوں کو سمجھنے کی خواہش کی ہے۔ میں نے یہ جاننے کی تمنا کی ہے کہ ستارے کیوں جگمگاتے ہیں۔ اور میں نے فیثاغورث کی اس طاقت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جس سے ہندسے اپنی جگہ جمے کھڑے رہتے ہیں۔ اس علم کا بہت زیادہ نہیں، مگر کچھ حصہ میں نے پایا ہے۔

محبت اور علم نے، جس حد تک کہ ممکن تھا، مجھے آسمانوں کی طرف اٹھایا ہے۔ مگر تاسف مجھے واپس زمین پہ لایا ہے۔ درد سے ماری گئی چیخیں میرے دل میں گونجتی ہیں۔ بھوک سے مرتے بچے، جسمانی تشدد کا شکار لوگ، وہ بے یار و مددگار بوڑھے جو اپنے بچوں پہ بوجھ ہیں، اور تنہائی، غربت، اور آلام سے پر یہ دنیا زندگی کا مذاق بناتی ہے۔ میں نے اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، مگر میں ناکام رہا ہوں، اور میں نے خود تکلیف جھیلی ہے۔

یوں رہی ہے میری زندگی۔ میں نے اس زندگی کو جینے کے لائق سمجھا ہے، اور اگر مجھے زندگی پھر پیشکش کی گئی تو میں اسے ایک بار پھر خندہ پیشانی سے جی لوں گا۔

انگریزی اصل یہ ہے

What I Have Lived For
Bertrand Russell

Three passions, simple but overwhelmingly strong, have governed my life: the longing for love, the search for knowledge, and unbearable pity for the suffering of mankind. These passions, like great winds, have blown me hither and thither, in a wayward course, over a great ocean of anguish, reaching to the very verge of despair.
I have sought love, first, because it brings ecstasy - ecstasy so great that I would often have sacrificed all the rest of life for a few hours of this joy. I have sought it, next, because it relieves loneliness--that terrible loneliness in which one shivering consciousness looks over the rim of the world into the cold unfathomable lifeless abyss. I have sought it finally, because in the union of love I have seen, in a mystic miniature, the prefiguring vision of the heaven that saints and poets have imagined. This is what I sought, and though it might seem too good for human life, this is what--at last--I have found.
With equal passion I have sought knowledge. I have wished to understand the hearts of men. I have wished to know why the stars shine. And I have tried to apprehend the Pythagorean power by which number holds sway above the flux. A little of this, but not much, I have achieved.
Love and knowledge, so far as they were possible, led upward toward the heavens. But always pity brought me back to earth. Echoes of cries of pain reverberate in my heart. Children in famine, victims tortured by oppressors, helpless old people a burden to their sons, and the whole world of loneliness, poverty, and pain make a mockery of what human life should be. I long to alleviate this evil, but I cannot, and I too suffer.
This has been my life. I have found it worth living, and would gladly live it again if the chance were offered me.

[Sketch of Russell, courtesy of]

Labels: ,

Comments: Post a Comment

<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?