Friday, November 17, 2006

 

پاکستان میں ہڈی توڑ بخار [ڈ ینگی بخار] کا وبائی حملہ



یہ ایک پرانا مضمون ہے جو چند ہفتے پہلے آزاد کراچی ریڈیو کے ایک پروگرام میں پڑھا گیا تھا۔
پچھلے چند ہفتوں میں پاکستان میں ہڈی توڑ بخار سے بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔ ماہرین صحت عامہ کے مطابق ہڈی توڑ بخار کی خاص علامت یہ ہے کہ مریض کو بخار کے ساتھ جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔ اور اگر مریض کی ناک یا کسی اور جگہ سے خون بہنا شروع ہو جائے تو بخار اپنی اگلی منزل یعنی دماغی بخار کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہڈی توڑ بخار ایک خاص قسم کے دھاری دار مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ اور مچھروں کی طرح یہ مچھر بھی گندگی میں افزائش کرتا ہے۔ ہڈی توڑ بخار سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ صاف ستھرے ماحول میں رہا جائے جہاں کوڑا ڈھانپ کر رکھا جاتا ہو اور فضلہ کھلے میں نہ بہے۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ تر وقت اندرون خانہ گزارا جائے جہاں کھڑکی دروازے مچھر محفوظ ہوں۔ سوتے وقت مچھر دانی کے اندر سویا جائے۔ اور بخار آنے کی صورت میں فوری طور پہ معالج سے رجوع کیا جا ئے۔
یہ تو تھے پاکستان میں پھیلنے والی اس وبا سے متعلق چند حقائق۔ اور اب تبصرہ۔
یوں لگتا ہے کہ غریب ہونا ایک جرم ہے۔ آپ غریب ملک کے شہری ہوں تو ہر مصیبت ایک قہر بن کر آپ پر نازل ہوتی ہے۔ پاکستان میں بارش نہ ہو تو لوگ خشک سالی کے خوف سے باران رحمت کی دعا مانگتے ہیں۔ اور جب بارشیں ہوں تو پورے ملک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ سیلاب آتے ہیں اور گائوں کے گائوں تباہ ہو جاتے ہیں۔
بات لے دے کر پھر وہیں پہنچتی ہے کہ لوگوں کے جان و مال کا ذمہ حاکم وقت پہ ہے۔ اگر حکام ملک کی صحیح سمت متعین نہیں کر سکتے، اگر وہ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر انہیں ملک پہ حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?