Saturday, October 28, 2006

 

امریکہ کی جنوبی سرحد پہ کھڑی کی جانے والی دیوار

امریکہ میں ہر سال لاکھوں افراد غیر قانونی طور پہ امریکہ کی میکسیکو سے لگنے والی سرحد سے داخل ہوتے ہیں۔ موجودہ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سرحد پہ باڑھ لگانا ضروری ہے ورنہ اس بات کا امکان ہے کہ تلاش معاش کے لیے آنے والے غیر قانونی افراد کے ساتھ دہشت گرد بھی ملک میں گھس آئیں گے۔ موجودہ حکومت شھریوں کو مستقل خوف میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ وہ سمجہتی کہ خوف کے اس ماحول میں اس کے لیے شھریوں کے ووٹ حاصل کرنا آسان ہوگا۔ میں یقینا عالمی دہشت گردی کے خطرے کو سمجھتا ہوں مگر اس کے ساتھ میں اس مستقل کھڑے کیے جانے والے ہوے کی حقیقت کو سمجھتا ہوں۔ امریکہ کی جنوبی سرحد پہ باڑھ اس لیے نہیں کھڑی کی جا رہی کہ وہاں سے دہشت گردوں کے داخلے کو نا ممکن بنایا جائے، بلکہ وہ دیوار اس لیے بنائ جا رہی ہے کہ اب اس ملک میں مزید مالیوں اور کم اجرت پہ کام کرنے مزدوروں کی کھپت نہیں رہی، کہ اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ غیر قانونی طور پہ وارد ہونے والے لوگ باروزگار ہوں اور شھری بے روزگار، کہ اہل اقتدار کو یہ ڈر ہے کہ کہیں امریکہ میں ہسپانوی بولنے والے لوگ اس قدر نہ بڑھ جائیں کہ وہ جمہوری عمل سے اقتدار پھ قبضہ کر لیں۔ اور یہ آخری بات یقینا ایسی ہے کہ جس میں نسل پرستی کا رنگ نمایاں ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود میں جنوبی سرحد پہ مجوزہ باڑھ کے حق میں ہوں کیونکہ اول یہ کہ جب لوگ غیر قانونی طور پہ اس ملک میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اپنے لیے استحصال کے دروازے کھول لیتے ہیں اور دوئم ہہ کہ امیر ملکوں کو یہ حق بالکل حاصل نہیں کہ وہ غریب ملکوں سے کارآمد لوگ چھین لیں اور ان کی کم اجرت مزدوری پہ امیر سے امیر تر ہوتے جائیں۔

Comments: Post a Comment



<< Home

This page is powered by Blogger. Isn't yours?