Monday, August 03, 2026
جنگ سے وابستہ ناشنیدہ کہانیاں
جنگ سے وابستہ ناشنیدہ کہانیا
مزے کی بات یہ ہے کہ میں سنی ہوں۔
اس کی یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا کیونکہ اب تک اس نے جو کہانی بیان کی تھی اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ احمد حسین نہ صرف شیعان علی میں سے ہے بلکہ وہ موجودہ ایرانی ملا حکومت کا حمایتی ہے اور اسی وجہ سے اسے دبئی سے نکالا گیا ہے۔
تو پھر یہ سب کیسے ہوا؟ میں نے تعجب سے اس سے پوچھا۔
میں نو لاکھ روپے میں ویزا خرید کر دبئی گیا تھا۔ میں وہاں سیاحت کے پیشے سے وابستہ تھا۔ سیاحوں کو ڈیزرٹ سفاری کراتا تھا۔ رہائش دوستوں کے ساتھ تھی۔ تنخواہ بہت زیادہ تو نہیں تھی مگر میرا اچھا گزارا ہو رہا تھا۔ پھر سب کچھ ایک دم سے بدل گیا۔ جنگ شروع ہو گئی۔ وہ جنگ جو آپ لوگوں کے لیے صرف اخبار کی ایک خبر ہے۔
ایک دن میں باہر تھا۔ فون ایا۔ انگریزی میں مجھ سے پوچھا گیا کہ آر یو برادر احمد حسین؟ میں نے کہا یس۔ دوسری طرف سے کہا گیا، برادر احمد حسین پلیز رپورٹ ٹو دا پولیس اسٹیشن ان ہاف آور۔
ان کی اتنی بات سننے پہ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دبئی میں اس طرح کی کہانیاں گردش میں تھیں۔ اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہو چکا تھا، انہیں تھانے بلایا گیا اور پھر انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔ میرے پاس تھانے پہنچنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا اور مجھے ادھے گھنٹے کے اندر تھانے پہنچنا تھا۔ ایسا نہ کرتا تو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا۔ میں فورا گھر پہنچا، کپڑے تبدیل کیے، اور اپنے دوست سے کہا کہ وہ مجھے تھانے چھوڑ دے۔
مگر انہیں معلوم کیسے ہوا کہ تم کون ہو اور انہیں یہ شک کیسے ہوا کہ تم شیعہ ہو؟ میں نے اس کی بات کاٹ کر اس سے سوال کیا۔
معلوم تو انہیں سب ہوتا ہے۔ ان کے پاس سب غیرملکیوں کے ٹیلی فون نمبر ہوتے ہیں۔ جہاں تک شیعہ ہونے کا تعلق ہے، میں دو سال پہلے ایک مجلس سننے کے لیے دبئی میں ایک امام بارگاہ گیا تھا۔ جب اپ دبئی میں امام بارگاہ جاتے ہیں تو وہاں داخل ہوتے وقت اپ کا اماراتی شناختی کارڈ دیکھا جاتا ہے۔ بس وہیں سے ان کے پاس یہ ریکارڈ تھا کہ میں امام بارگاہ گیا تھا۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں یقینا شیعہ ہوں۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ میں تو ایک دن یوں ہی شوق میں مجلس سننے کے لیے امام بارگاہ پہنچ گیا تھا کیونکہ اس دن میرے پاس کرنے کے لیے کچھ اور نہ تھا۔
تم جب تھانے پہنچے تو کیا ہوا؟ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
میں تھانے پہنچا تو میرا شناختی کارڈ دیکھا گیا۔ پھر کمپیوٹر پہ کچھ دیکھنے کے بعد مجھے اندر جانے کے لیے کہا گیا۔ مجھے ایک ہال میں پہنچا دیا گیا جہاں ننگے فرش پہ پچاس، ساٹھ لوگ پہلے سے بیٹھے تھے۔ یہ سب پاکستانی تھے۔ حالانکہ ان میں سے کئی ایسے تھے جنہیں دیکھ کر مجھے خیال ہوا کہ یہ لوگ چینی ہیں۔ مگر پوچھنے پہ معلوم ہوا کہ وہ بھی پاکستانی تھے۔ ان کا تعلق شمالی علاقوں سے تھا۔
تو احمد حسین اگر تم تھانے نہ جاتے اور اپنا فون بند کر کے اس کی سم نکال لیتے تو کیا ہوتا؟ میں نے اپنے خیال کے گھوڑے دوڑائے۔
میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے سخت جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا۔ کچھ لوگوں نے ایسا کیا کہ جب پہلی دفعہ انہیں فون ایا تو انہوں نے جلدی سے اپنا فون مکمل طور پہ بند کر دیا تاکہ معلوم نہ ہو سکے کہ وہ کہاں ہیں۔ مگر دبئی میں ہر جگہ کیمرے لگے ہیں۔ انہوں نے کیمروں کی مدد سے معلوم کر لیا کہ جس شخص نے اپنا فون بند کیا ہے وہ اب کہاں ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مال سے بھی اٹھایا ہے۔
تو جب تم اندر ہال میں پہنچے تو کیا تم نے یہ سوال نہیں کیا کہ تمہیں وہاں کیوں بلایا گیا ہے اور اخر تمہارا قصور کیا ہے ۔ میں نے احمد حسین سے پوچھا۔
میں یہ سوال کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور آدمی نے وہاں کھڑے شرطے سے یہ بات انگریزی میں پوچھ لی کہ برادر، وائے آر وی ہئیر۔ شرطے نے منہ سے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس ڈنڈے سے اس آدمی کی پٹائی شروع کردی اور مار مار کر اس کا برا حال کر دیا۔ یہ دیکھ کر ہم لوگ ڈر گئے اور سہم کر بالکل چپ ہوگئے۔ وہاں ہم بے اختیار تھے۔ ہم ان کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتے تھےکہ نہ جانے انہیں کیا بات بری لگ جائے۔
وہاں پہنچنے کے بعد کیا تم نے اپنے گھر والوں کو فون کر کے بتایا کہ تم کہاں ہو اور تمہارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ میرے ذہن میں مختلف سوالات ابھر رہے تھے۔
نہیں ایسا میں نہیں کر سکتا تھا۔ تھانے پہنچنے پہ انہوں نے مجھ سے سب کچھ لے لیا تھا۔ ہمارے پاس وہاں سے باہر کسی سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ مگر مجھے میرے دوست نے وہاں تھانے چھوڑا تھا اور اس سے بات ہو گئی تھی کہ اگر میں ایک دو گھنٹے میں گھر نہ پہنچوں تو وہ میرے گھر والوں کو میرے بارے میں بتا دے۔
تو کیا اس ہال میں موجود سب لوگ شیعہ تھے؟
نہیں ایسا نہیں تھا۔ ان میں سنیوں کی بھی بڑی تعداد تھی۔ بس جس کے بھی نام یا حرکات سے انہیں شک ہوا کہ یہ شیعہ ہے اسے وہ دبئی سے ڈیپورٹ کرنا چاہتے تھے ۔
تو ڈیپورٹ ہونے سے پہلے تم نے کتنے گھنٹے وہاں رہے؟
گھنٹے؟ دن۔ میں وہاں دس دن رہا۔ ادھر ہی بیٹھے رہنا اور وہیں سو جانا۔ اور کبھی کبھی جب کھانا مل جائے تو کھانا کھا لینا۔ جب میں وہاں پہنچا تو چوبیس گھنٹے میں نے کچھ نہیں کھایا۔ میرا کھانا کھانے کا دل نہیں تھا۔ مگر پھر بھوک لگی اور جب بھوک برداشت سے باہر ہو گئی تو میں نے ان کا دیا ہوا کھانا کھایا۔ مگر اس کھانے میں نہ جانے کیا ملا تھا کہ ایک تو اس میں ڈیزل کی بو آ رہی تھی اور پھر کھانا کھانے کے فورا بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میرے جسم کی ساری توانائی نکل گئی ہو؛ مجھ پہ غنودگی چھا گئی۔ شاید کھانے میں کوئی ایسی دوا ملائی گئی تھی تاکہ ہم لوگ بے جان پڑے رہیں اور بھاگنے کی کوشش نہ کریں حالانکہ وہاں سے باہر بھاگنے کا کوئی سوال نہ تھا۔ وہاں تو کھڑکی بھی نہیں تھی۔ سورج کب نکل رہا ہے کب ڈوب رہا ہے، کچھ خبر نہ تھی۔
دس دن میں جب انہوں نے اپنی کاغذی کاروائی مکمل کر لی تو مجھ سے واپسی کے ٹکٹ کی رقم کا تقاضا کیا۔ میں نے پیسوں کا انتظام کیا اور انہوں نے میرا ٹکٹ خریدا۔ مجھے قیدیوں کی طرح دبئی ائیرپورٹ لے جایا گیا اور جہاز میں چڑھنے سے پہلے مجھے میرا پاسپورٹ میرے حوالے کیا گیا۔
دبئی بظاہر بہت صاف ستھرا، ماڈرن نظر اتا ہے اور لگتا ہے کہ جیسے وہاں ہر چیز بہت قاعدے قانون سے چل رہی ہے مگر اصل میں ایسا نہیں ہے۔ یہ سب شیخوں کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ اور شیخ جب چاہے اپنی مرضی سے جو قانون چاہے بدل دے۔
احمد حسین کی ٹیکسی نے مجھے میرے مقام تک پہنچا دیا تھا۔ میں یقینا احمد حسین سے کرید کرید کر اور بھی بہت سے سوالات کرسکتا تھا مگر کچھ فاصلے پہ جاری ایک جنگ کے مضمرات سمجھنے کے لیے اتنی گفتگو کافی تھی۔
Wednesday, June 03, 2026
غیرشرعی شگوفے: فصل اول
غیرشرعی شگوفے
فصل اول
شدید گرمی اور اوپر سے بجلی غائب۔ مرحوم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو پسینے سے شرابور تھے۔ مرحوم نے ہاتھ بلند کیے اور گڑگڑا کر دعا مانگی، یا اللہ کیا ہی اچھا ہو اگر تو میرا پسینہ خشک ہونے سےپہلے مجھے میری حوریں دے دے۔ مرحوم نے یہ کہہ کر آنکھیں بند کرلیں کہ جب کچھ دیر میں آنکھ کھولیں گے تو جانماز کےسامنے دو الڑھ حوریں پائیں گے جو مرحوم کی طرف ٹکر ٹکر دیکھ کرمسکرا رہی ہوں گی۔ کچھ دیر بعد مرحوم نے آنکھ کھولی تو حوروں کا نام و نشان نہ تھا۔ البتہ بجلی آچکی تھی اور زناٹے سے چلتا پنکھا مرحوم کا پسینہ خشک کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
Thursday, April 02, 2026
تالپوروں کے زمانے میں کراچی غلاموں کی منڈی تھی؟
سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ چل رہی ہے جس میں ایس ہارٹ نامی شخص کی کتاب کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ انگریزوں کے سندھ پہ قبضہ کرنے سے پہلے تالپور حکمرانوں کے دور میں کراچی غلاموں کی اہم منڈی تھی اور کراچی بندرگاہ پہ عمان سے غلام آتے تھے اور فروخت کیے جاتے تھے۔
یہ پوسٹ مکمل جھوٹ پہ مشتمل ہے۔ سندھ پہ انگریزوں کے قبضے سے پہلے کراچی کی اہمیت صفر کے قریب تھی۔ سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد تھا۔ کراچی کی موجودہ بندرگاہ انگریزوں کی تعمیرکردہ ہے۔
Was Karachi an important port in the slave trade?
Google Response on the referenced book
Based on the search results, there is no direct evidence of a book titled "Town and Port of Karachi" by an author named S. Hart.
Tuesday, March 31, 2026
جنگ اور سوشل میڈیا پہ ایران کے ہمدرد مبصر
جنگ اور سوشل میڈیا پہ ایران کے ہمدرد مبصر
خواہش اور خبر کے درمیان فرق مٹتا جارہا ہے۔
Friday, January 30, 2026
دائرے کے طور طریقے
ایک زمانے میں لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہورہے تھے۔ آج کل دائرہ اسلام کے دادا گیر لوگوں کو لات مار کر دائرہ اسلام سے خارج کررہے ہیں۔ اب امریکہ بھی دائرہ اسلام کے رخ پہ چل نکلا ہے۔
Thursday, December 04, 2025
طاقت ایمانی
طاقت ایمانی
ہمارے بزرگوں کی کرامات معجزے؛ دوسرے گروہوں کے بزرگوں کی کرامات کالا جادو
Monday, December 01, 2025
ستائیسویں ترمیم
ستائیسویں ترمیم کی پارلیمان سے منظوری جان کر نہ جانے کیوں جبری نکاح کا خیال آیا۔
Thursday, November 27, 2025
تھینکس گونگ بمقابلہ دس محرم
تھینکس گونگ [شکرانے کا دن] دس محرم سے سراسر مختلف تہوار ہے۔ دس محرم غم و غصے کا تہوار ہے۔ ہائے ہائے یہ کیا ہوگیا۔ ہم تباہ ہوگئے، برباد ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں تھینکس گونگ کا پیغام یہ ہے کہ جو ہوا اچھا ہوا۔ ہم آج زندہ ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں، اس پہ جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
