Friday, August 01, 2008
نیر زیدی کہاں ہیں؟

نیر زیدی کہاں ہیں؟
کئی دنوں سے معروف صحافی نیر زیدی صاحب کے متعلق عجیب و غریب خبریں اخبارات اور مختلف ویب سائٹ پہ گردش میں تھیں۔ نیر زیدی صاحب جب جنوری میں سان فرانسسکو بے ایریا آئے تھے تو ان سے ملاقات رہی تھی اور اس ذاتی راہ و رسم کی وجہ سے مجھے زیدی صاحب کی خیریت سے متعلق فکر تھی۔
چنانچہ آج صبح میں نے ادھر ادھر فون گھمائے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی نیر زیدی صاحب اس وقت کہاں ہیں۔
میں فون پہ نیر زیدی صاحب ..جن کا اصل نام سید حیدر کرار زیدی ہے، قلمی نام نیر زیدی ہے.. کا پتہ کرتے کرتے اسٹارک کائونٹی شیرف جیل کے دفتر تک پہنچا۔ اس دفتر میں میری بات فون پہ پیریز نامی افسر سے ہوئی۔ میری درخواست پہ افسر پیریز نے سید زیدی کے نام سے ریکارڈ کھنگالے اور بتایا کہ زیدی صاحب مارچ 23 کو گرفتار ہوئے تھے اور مارچ 26 کو رہا کر دیے گئے۔ افسر پیریز نے بتایا کہ ہر گرفتار ہونے والے شخص کا ریکارڈ اسٹارک کائونٹی کی ویب سائٹ پہ دیکھا جا سکتا ہے:
www.starkcjis.org
اور اس مخصوص کیس کا نمبر
2008CRA00614
ہے اور کیس کی تفصیلات یہاں ہیں:
https://www.starkcountycjis.org/cjis/list_index_frame
میسیلن عدالت اور فوجداری مقدمہ منتخب کریں-
چنانچہ حتمی بات یہ ہے کہ ہاں زیدی صاحب مارچ میں گرفتار ہوئے تھے، مگر وہ تین دن کے بعد ہی چھوٹ گئے۔ وہ اس وقت کہاں ہیں، اس بات کا جواب ان کے گھر والے ہی دے سکتے ہیں۔
The latest on Nayyar Zaidi’s detention
Ohio’s Stark County Sheriff Department says Syed Haider Karar Zaidi (who writes under the penname of Nayyar Zaidi) was arrested on March 23, 2008, but was released on March 26, 2008. Information on Zaidi’s case (Case number: 2008CRA00614) can be obtained from Stark Country Sheriff Department’s web site:
https://www.starkcountycjis.org/cjis2/docket/main.html
[Check ‘criminal’ records under ‘Massillon’ court.]
This correspondent talked to Officer Perez of the Stark Country Sheriff Department who said Zaidi was charged with “pandering obscenity involving a minor.”
So why are some news reports claiming Nayyar Zaidi is still being detained?
Labels: Daily Jang, Pakistani Journalist, Urdu Columnist, پاکستانی صحافی، کالم نویس،
