Friday, August 22, 2025

 

کراچی میں سڑکوں پہ بانی کا بارش کیوں کھڑا ہوجاتا ہے؟


 

مکالمہ

کراچی میں سڑکوں پہ بانی کا بارش کیوں کھڑا ہوجاتا ہے؟ ترقی یافتہ ملکوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
کراچی میں سڑکوں پہ بارش کا پانی اس لیے کھڑا ہوجاتا ہے کیونکہ اس شہر میں سڑکوں کے ساتھ برساتی نالے نہیں بنے ہیں۔


برساتی نالوں کی کیا ضرورت ہے؟ بارش کا پانی گٹر لائن سے کیوں نہیں نکالا جاسکتا؟
برساتی نالوں کا مقصد بارش کے پانی کی نکاسی ہے جب کہ سیاہ پانی کی نکاسی کے لیے گٹر لائن استعمال کی جاتی ہے۔ بارش کا پانی براہ راست جھیل، دریا، یا سمندر میں ڈالا جاسکتا ہے۔ گٹر کے پانی کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔ آبی حیات کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے گٹر کے پانی کو چھاننے اور اس کی تیزابیت کو معتدل بنانے کے بعد اس پانی کو جھیل، دریا، یا سمندر میں ڈالا جاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے برساتی نالوں کو گٹر لائن سے الگ رکھنا ضروری ہے۔


کراچی میں سڑکوں کے ساتھ برساتی نالے کیوں نہیں بنائے جاتے؟
کراچی میں برساتی نالے بنانے کے تجربات مستقل ناکام ہوئے ہیں۔ عام دنوں میں برساتی نالے خشک پڑے ہوتے ہیں۔ جہاں کہیں سڑک کے ساتھ برساتی نالے بنائے گئے، لوگون نے عام دنوں میں ان نالوں کو خشک دیکھ کر ان میں کوڑا پھینکنا شروع کردیا اور یوں بارش کے موسم سے بہت پہلے یہ برساتی نالے کوڑے سے بھر گئے۔ پھر بارش ہوئی تو کوڑے سے بھرے برساتی نالوں کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔


لوگ برساتی نالوں میں کوڑا کیوں پھینکتے ہیں؟
اول یہ کہ اس شہر کی اکثریت جاہل ہے۔ یہ لوگ جدید دنیا کے نظام کو نہ تو سمجھتے ہیں اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں۔ دوئم یہ کہ ان لوگوں کی دنیا کے کاموں میں دلچسپی واجبی ہے؛ ان کی زیادہ دلچسپی جنت میں دودھ اور شہد کی نہروں کے سنگم پہ بیس مرلے کا گھر بنانے میں ہے۔
 


This page is powered by Blogger. Isn't yours?