Monday, July 21, 2025
کراچی، کوڑے کا ڈھیر
دوزخ میں سخت گرمی ہوگی اور جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ہوں گے۔
کراچی کے رہائشی دوزخ پہنچ کر اپنائیت محسوس کریں گے۔
کوڑے کی شکایت سب کرتے ہیں مگر کچرے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ کام بھی کرنے کو تیار نہیں ہیں جو ان کے اختیار میں ہیں۔
آپ کراچی میں کتنے لوگوں کو جانتے ہیں جو گھر سے اپنے تھیلے لے کر خریداری کے لیے نکلیں؟
آپ کتنے لوگوں کو جانتے ہیں جو اپنا گیلا کوڑا زمین میں گاڑتے ہوں اور اسے باہر نہ پھینکتے ہوں؟
پلاسٹک کی تھیلیوں سے متعلق ایک لطیفہ ہے جو میں اپنی حماقت کی سند کے طور پہ پیش کرتا ہوں۔
میں کچھ عرصہ کراچی سے باہر رہنے کے بعد واپس وطن پہنچا تو بہت کچھ تبدیل ہوچکا تھا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے کروڑ کے لگ بھگ اور لوگ کراچی میں آ بسے تھے۔ کوڑے کے ڈھیروں میں اضافہ ہوا تھا، ٹریفک بے ہنگم تر ہوگئی تھی اور زبان بھی بدل گئی تھی۔ ایک روز مجھے خیال آیا کہ گرم موسم کی مناسبت سے ایک آدھی آستین والی سفید قمیض خریدنا چاہیے۔ اس خریداری کی نیت سے صدر پہنچا۔ کپڑوں کی دکانوں کی طرف جاتے ہوئے پھلوں کا ایک ٹھیلا نظر آیا۔ اس سے کچھ پھل خریدے۔ اپنے ساتھ اپنا تھیلا لے جانا بھول گیا تھا اس لیے ناگواری کے احساس کے ساتھ اس کا پلاسٹک کا تھیلا قبول کیا۔ کچھ ہی دیر میں وہاں پہنچ گیا جہاں قطار سے کپڑوں کی دکانیں تھیں۔ ایک دکان میں داخل ہونے لگا تو اندر سے آواز آئی، 'شاپر باہر، شاپر باہر۔' میں ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا۔ سمجھ نہ آیا کہ دکان کے اندر جائے بغیر قمیض کیسے پسند کروں گا۔ باہر کھڑے کھڑے جھانک تانک کرتا رہا اور پھر آواز لگائی، وہ سامنے جو نیلے رنگ کی قمیض ٹنگی ہے، اس میں سفید رنگ دکھائیں۔ دکاندار نے مجھے تعجب سے دیکھا اور کہا، 'آپ اندر آئیں۔' میں نے اس سے زیادہ تعجب سے پوچھا، 'اندر آئیں؟ اپ نے تو کہا تھا کہ شاپر باہر۔'
'آپ کو نہیں کہا۔ آپ کے ہاتھ میں جو شاپر ہے اسے باہر رکھنے کو کہا ہے۔' اس نے جواب دیا۔
مجھے فورا اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا اور معلوم ہوا کہ میری غیر موجودگی میں کراچی کی انگریزی بہت آگے نکل گئی ہے اور میں بہت پیچھے رہ گیا ہوں۔
Sunday, July 06, 2025
مسائل اور خوشیوں کی از خود واقع ہونے والی موت
مسائل اور خوشیاں وقت کے ایک چھوٹے حصے میں قید ہیں۔ وقت کی سوئی اس حصے سے آگے نکل جائے تو گزر جانے والے حصے کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ اس حصے میں موجود مسائل اور خوشیاں اپنی موت آپ مرچکے ہوتے ہیں۔
مقدس کتابوں سے بلند ہوتی آوازیں
پنڈت جی کہہ رہے تھے، 'دھیان سے سنو۔ یہ میں نہیں کہہ رہا۔ یہ گیتا کہہ رہی ہے۔' اور یہ کہنے کے بعد پنڈت جی دیر تک بولتے رہے۔ بھگود گیتا کا ایک نسخہ میرے پاس بھی ہے۔ میں گیتا نکال کر لایا اور دیر تک کان لگائے سننے کی کوشش کرتا رہا کہ گیتا کچھ بولے۔ گیتا کچھ نہ بولی۔ پنڈت جی غلط کہہ رہے تھے۔ گیتا کچھ نہیں کہتی۔ کوئی کتاب کچھ نہیں کہتی۔ پڑھنے والے اس پڑھ کر جو کہنا چاہیں کہہ دیں، کتاب احتجاج نہیں کرسکتی۔